Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 43)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

کیا کر رہی ہو ؟؟؟؟؟

زرمینے جو کچن میں اپنے کھانے کیلئے نوڈلز بنا رہی تھی ،،،،، اچانک پیچھے سے اسے اپنے حصار لیتے ہوئے زارون سرگوشی نما آواز میں بولا ۔۔۔۔۔

جبکہ اس اچانک پڑنے والی افتاد پر وہ بھوکلا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔

اور ہاتھ میں پکڑا چمچ چھوٹ کر نیچے فرش پر گرا ۔۔۔۔۔

کیا کر رہے ہیں ،،،،،، زارون کوئی آ جائے گا ،،،،، چھوڑیں مجھے ،،،،،، وہ آس پاس دیکھتے ہوئے غصے سے بولی ۔۔۔۔۔

جسکا زارون پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ،،،، الٹا اس نے اپنی پکڑ کچھ مظبوط کی ۔۔۔۔۔

یار نکاح کے بعد جیسے تم مجھ سے چھپتی پھر رہی ہو ،،،،، میں تو اپنی بیوی کا حسین چہرہ دیکھنے کو ترس گیا ہوں ۔۔۔۔۔

اب ہاتھ آئی ہو تو اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑنے والا ۔۔۔۔۔

اسکے کان کے پاس جھکتے ضدی لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔

جس پر زرمینے کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں ،،،،،، جبکہ شرم چہرہ الگ سرخ ہو گیا ۔۔۔۔۔

زارون یہ کچن ہے کچھ تو خیال کریں کوئی آ جائے گا ،،،،، آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ،،،،،،، اسکی قربت پر بمشکل اپنی گھبراہٹ کو چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

تو کیا ہوا اپنی خود کی ہی بیوی سے رومانس کر رہا ہوں کسی پڑوسن سے تو نہیں ۔۔۔۔۔

نچلہ لب دبا کر شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ مسکرائی تھی ،،،،،، آپ شاید بھول رہے ہیں میں آپکی بیوی نہیں منکوحہ ہوں ،،،،،، جس کے ساتھ آپ یوں کھلے عام رومانس نہیں کر سکتے ۔۔۔۔

جس پر اس نے منہ بنایا تھا ،،،،،، یہ کونسی بڑی بات ہے دادا سائیں سے کہہ کر رخصتی کروا لیتے ہیں ۔۔۔۔

کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟

لیکن پھر اس کی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے بولا ۔۔۔۔۔

شاہ پلیز “

اس کی بات پر شرماتے ہوئے التجائی لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے خود کو شاہ پکارنے پر زارون نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجاتے اسکا رخ موڑا تھا ۔۔۔۔۔

جو سرخ چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے اسکے حصار میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

ابھی کیا کہا تم نے ؟؟؟؟

اسکے سوال پر نظریں اٹھا کر زرمینے نے اسکی طرف دیکھا ،،،،، یہی کہ تنگ مت کریں ۔۔۔۔۔

اسکے حیرت اور خوشی کو دیکھتے ہوئے وہ اسکی بات سمجھ تو گئی تھی کہ وہ کیا سننا چاہتا ہے ،،،،، لیکن انجان بن کر بولی ۔۔۔۔۔

یہ نہیں یار تم نے ابھی مجھے کیا پکارا ؟؟؟؟؟

میں نے کچھ بھی تو نہیں ،،،،،، اتنا کہتے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

جس پر زارون کا منہ بنا تھا ،،،،،، لیکن پھر اسکے مسکراہٹ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتے اس کی شرارت کو سمجھتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔۔۔

اچھا تو ایسی بات ہے ،،،،،، ابھی وہ کچھ سمجھتی جب وہ اچانک بنا اسے سمجھنے کا موقع دیئے جھکا تھا ،،،،، اور اسکے لبوں کو قید کرتا اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا ۔۔۔۔۔

جبکہ زارون کے اچانک انجام دیئے جانے والے اس عمل پر اس نے بھوکلا کر اسکی شرٹ کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ تو جھک کر جیسے پیچھے ہونا ہی بھول گیا ۔۔۔۔۔

زر نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی جسکا اس نے کوئی خاص اثر نہیں لیا ،،،،، الٹا اسکے مزاحمت کرتے ہاتھوں کو پکڑ کر پشت پر باندھا تھا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی اتنی شدت پسندی پر زرمینے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔۔۔

جسے اپنے چہرے پر محسوس کرتے وہ دھیرے سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اور اسکے سرخ بھیگے اپنی شدت سے سرخ ہوئے لبوں کو نرمی سے سہلایا ،،،،،، جس پر زر نے اپنی آنکھوں میں شکوہ بھر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے وہ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔۔

کچھ یاد آیا ،،،،، اسکے بہتے آنسو صاف کرتے اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتے گھمبیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں سے گھبرا کر وہ اسکا نرم حصار توڑ کر تھوڑا پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے خو*ن چھلکاتے چہرے کو دیکھتے زارون مسکرایا ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے وہ آگے بڑھ دوبارہ اسے اپنے حصار میں لیتا ،،،،، جب کچن میں داخل ہوتی ابیہا نے ان دونوں کو اتنا قریب کھڑے دیکھ کر گلا کھنکارتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر زارون تو نہیں البتہ زر ضرور بھوکلائی تھی ۔۔۔۔۔

کیا ہو رہا تھا یہاں ؟؟؟؟ زر کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

کچھ ،،،،،، کچھ بھی تو ،،،،، نہیں

زر ہڑبڑی میں بھوکلاتے ہوئے بولی تھی ،،،،، جس پر زارون کے ساتھ ساتھ ابیہا نے بھی اسے ایسی معنی خیز نظروں سے دیکھا کہ وہ دونوں کو گھورتی ہوئی کچن سے واک آؤٹ کر گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے تھے ۔۔۔۔۔

پھر کیا ارادے ہیں ؟؟؟؟؟ زر کے جانے کے بعد ابیہا زارون کی طرف متوجہ ہوتے بولی ۔۔۔۔۔

ارادے تو جلد رخصتی کے ہیں ۔۔۔۔۔

جس کے جواب میں وہ ایک آنکھ ونک کرتا شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

وہ تو تب ہوگی نا بیٹا جب آپ اس بار ایگزیمز میں پاس ہونگے ،،،،، ورنہ بڑے بابا کی د*ھمکی تو یاد ہی ہوگی ۔۔۔۔۔

وہ دانت نکالتے بولی ۔۔۔۔۔

جس پر زارون نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوگا تم دیکھنا اس بار صرف پاس ہی نہیں ہونگا بلکہ پوری کلاس میں ٹاپ کروں گا ۔۔۔۔۔

وہ کالر کھڑا کرتا سٹائل سے بولا ،،،،،، جس پر ابیہا نے مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔

یہ تو وقت ہی بتائے گا ،،،،، وہ اسے چڑاتی ہوئی کافی بنانے میں مصروف ہو گئی جس کیلئے وہ وہاں آئی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ زارون اسکی پشت کو گھورتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واسم کمرے میں لیپ ٹاپ پر آفس کا ضروری کام کر رہا تھا ،،،،، جب ابیہا ٹرے میں کافی کے دو کپ لیے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

ٹرے ٹیبل پر بالکل اسکے پاس رکھتے ،،،،،، اپنا کافی کا کپ اٹھا کر بیڈ پر براجمان ہو گئی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ واسم نے ایک نظر کافی کی طرف دیکھ کر اسے تھینکس بولا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔۔

اسکے برعکس ابیہا نے اپنی نظریں اسکے وجیہہ خوبصورت چہرے پر ٹکا رکھی تھی جو نیلی پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ ملبوس ،،، کشادہ پیشانی پر سنہرے بال لاپرواہی سے بکھرائے بہت پیارا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

کہ وہ چاہ کر بھی اس سے نظریں نہیں ہٹا پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

جب اپنے چہرے پر اسکی نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے واسم نے چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

جس پر سٹپٹاتے ہوئے وہ فورا نظریں جھکاتی گرم کافی کا کپ ہونٹوں سے لگا گئی ۔۔۔۔۔

جس کی وجہ اسکا منہ بری طرح جلا تھا ،،،،، اور وہ سی کر کے رہ گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ یہ سب دیکھتے ہوئے وہ مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ بات کرنی ہے ؟؟؟؟

اسکی جھکی نظروں کو دیکھتے خود سے مخاطب کرتے بات کا آغاز کیا ۔۔۔۔۔

جی نہیں ،،،،، جی ہاں

وہ خجالت مٹاتی جلد بازی میں سر ہاں ناں میں ہلاتے بولی ۔۔۔۔۔

جبکہ اپنی بیوقوفی پر خود کو دل میں کوسا تھا ۔۔۔۔۔

ہمم بولو میں سن رہا ہوں ،،،،،، کافی کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگاتے سنجیدگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

وہ میں وہ ہاں میرا تھرڈ ایئر کا رزلٹ آنے والا ہے ،،،،، اور بہت جلد نیو کلاسز بھی سٹارٹ ہو جائے گی ۔۔۔۔۔

جلد بازی میں جو بہانہ اسے سجھا وہ بول دیا تاکہ اسکی چوری پکڑی نا جائے ۔۔۔۔۔

کہ وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جس پر اس نے سر ہلایا ،،،،،، تو پھر “

تو میں اپنی سٹڈی کمپلیٹ کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔

یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔

وہ میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ آپکو کوئی اعتراض تو نہیں ۔۔۔۔۔

اس کی بات پر واسم نے حیرت سے چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

بھلا مجھے کیوں اعتراض ہوگا ،،،،،، بلکہ خوشی ہوگی ،،،،، اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتے اس بار مسکرا بولا ۔۔۔۔

جس پر وہ مطمئن سی مسکرائی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اسے ایک نظر دیکھنے بعد وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔

جب دوبارہ کچھ یاد آنے پر اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔۔

ابیہا “

جی “

کل شام میں ہماری فلائٹ ہے تو پیکنگ کر لینا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ،،،،، ہماری مطلب ہم دونوں کی ؟؟؟؟

ہاں

یک لفظی جواب ۔۔۔۔۔

لیکن ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟؟؟

ایک اور سوال ۔۔۔۔

ترکی “

جس کا مختصر جواب آیا تھا ۔۔۔۔۔

واو آپ مجھے گھمانے لے کر جا رہے ہیں ،،،،، وہ ایکسائٹڈ سی خوش ہو کر بولی ۔۔۔۔۔

یہی سمجھ لو ،،،،، میری بہت امپورٹنٹ بزنس میٹنگ تھی تو سوچا تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جاؤں ۔۔۔۔۔

ویسے بھی یہاں کیا کرو گی ۔۔۔۔۔

اس کے روکھے سوکھے جواب پر ابیہا کی ساری خوشی جھاگ کی طرح بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ یہ کھڑوس سپیشل میرے لیے کوئی پلین بنائے گا ،،،،،، امپورٹنٹ بزنس میٹنگ ،،،،، ہننہہ

غصے میں منہ بناتے دھیرے سے بڑبڑائی ۔۔۔۔

جسے محسوس کر کے واسم نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

کچھ کہا ؟؟؟؟

جس پر وہ نفی میں سر ہلاتی خالی کپ اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

جبکہ وہ سر جھٹکتے دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرش اداس سی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی ،،،،،، دو دن ہو گئے تھے اسے یہاں آئے ہوئے ،،،،، اور ان دونوں دنوں میں اس نے حویلی اور اس میں بسنے والے لوگوں کو شدت سے یاد کیا تھا ۔۔۔۔۔

ویسے تو وہ سارا دن وقفے وقفے سے سب کو کال کرتی رہتی تھی جس سے اس کا کچھ وقت خوبصورت گزر جاتا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اسکے بعد اسے یہ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی تھی ۔۔۔۔۔

ویسے بھی وہ بھرے پڑے خاندان میں رہنے والی لڑکی تھی ،،،،،، جہاں ہر وقت اسکی شرارتوں اور مستیوں پر سب کے قہقہے گونجتے تھے ۔۔۔۔۔

لیکن یہاں وہ یہ سب کس کے ساتھ انجام دیتی ۔۔۔۔۔

ضارب شاہ کے پاس تو وقت ہی نہیں تھا اس کیلئے ۔۔۔۔۔

وہ روز صبح اس کے اٹھنے سے پہلے ہی اپنے کام پر چلا جاتا تھا جبکہ رات کو بھی گھر لیٹ واپس آتا ،،،،، جب تک وہ سو چکی ہوتی ۔۔۔۔۔

ان دو دنوں میں اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اس نے پانچ منٹ بھی بیٹھ کر اس سے بات کی ہو ،،،،،، لیکن ہاں روزانہ صبح ملازموں کو اسکا خیال رکھنے کی ہدایت ضرور کرتا تھا ۔۔۔۔۔

جو وہاں کام کرتی ایک ملازمہ نے اسے بتایا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بےرخی سہتی اب اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ آج اس سے دو ٹوک بات کرنے کا ارادہ بنا چکی تھی ۔۔۔۔۔

یا تو وہ اسے ٹائم دے یا پھر اسے حویلی واپس چھوڑ آئے کیونکہ وہ ایسے یہاں اکیلی تن تنہا ملازموں کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔۔۔

وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب اسے باہر بادل گرجنے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔

جس پر اس نے چہرہ موڑ کر باہر بالکنی کی طرف دیکھا تھا ،،،،، جہاں بارش پورے زور و شور کے ساتھ برس رہی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے اسکے اداس چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

ویسے بھی بارش تو اسکی ہمیشہ سے کمزوری رہی تھی ،،،،،، اور اس وقت بھی وہ ساری باتوں کو پس پشت ڈال کر بنا سردی کا احساس کیے سردیوں کی پہلی بارش انجوائے کرنے نیچے لان کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی میں مصروفیت کی وجہ سے اسکا بہت سارا کام پینڈنگ میں چلا گیا تھا ،،،،،، جسکی وجہ وہ آجکل ابرش کو بالکل ٹائم نہیں دے پا رہا تھا ۔۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے یہاں لا کر بھول گیا تھا ،،،،،، یا پھر اس سے ناراض تھا ،،،،،،، اسکی ناراضگی تو اسی دن گاڑی میں ہی جب ابرش نے اسکے سینے کے ساتھ لگ کر سوری بولا تھا ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

بس در پے در ہونے والی میٹنگز اور دوسری فلاحی کاموں کی وجہ سے اسے وقت نہیں مل پا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

لیکن آج اپنا سارا کام ختم کرتے اس نے گھر جلدی جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن تیز برستی بارش اور راستے میں ٹریفک کی وجہ سے پھر بھی کچھ حد تک لیٹ ہو گیا ۔۔۔۔۔۔

رات کے آٹھ بجے اسکی گاڑیاں شاہ مینشن میں داخل ہوتے پورچ میں آ کر رکی تھی ،،،،،، جب خان نے فورا باہر نکلتے ہوئے اس کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔۔

اور وہ تھکا تھکا سا ایک ہاتھ میں کوٹ پکڑے اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ باہر نکلا ۔۔۔۔۔

ابھی اس نے اندر جانے کیلئے صرف چار قدم ہی لیے تھے ،،،،، جب اسے دائیں طرف لان سے ابرش کی کھلکھلانے کی آواز سنائی دی تھی ۔۔۔۔۔

جسے سنتے اس نے قدم اس طرف اٹھائے ،،،،،، البتہ اسے باہر کی طرف بڑھتے دیکھ خان فورا چھاتا لیتا پیچھے آیا جسے اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا ۔۔۔۔۔۔

جنوری کے مہینے میں جہاں ہڈیوں کو جما دینے والی سردی پڑ رہی تھی ،،،،، وہی سردیوں کی اس پہلی بارش نے اس میں کچھ اور اضافہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

اور ایسے ماحول میں ابرش اپنی آنکھیں بند کیے ۔۔۔گول گول گھومتے ،،،، آس پاس کے ماحول کو یکسر فراموش کیے صرف بارش کی بوندوں کو اپنی روح تک محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اگر یہ کہاں جائے تو بالکل غلط نہیں ہوگا کہ اس لڑکی کو بارش سے عشق تھا ۔۔۔ گھومتے گھومتے اچانک اسکا ہلکا سا پاؤں مڑا اس سے پہلے کہ وہ گرتی دو مضبوط بازوؤں نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ جو اس کی آواز سن کر دیکھنے کیلئے آیا تھا اسے گرتے دیکھ فورا سے پہلے اسے اپنے حصار میں لیا اور اب یک ٹک اس کا خوبصورت معصوم چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

خوبصورت بڑی بڑی گہری سمندر جیسی آنکھیں جو گرنے کے ڈر سے فلحال سختی سے میچ رکھی تھی ۔۔۔۔۔۔

چھوٹی سی ستواں ناک جس میں لونگ چمک رہا تھا جس نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا باریک گلاب کی پتیوں جیسے خوبصورت ہونٹ جو بارش میں بھیگنے اور کچھ سردی کی شدت کی وجہ سے اب نیلے ہو رہے تھے ۔۔۔

بیشک وہ بنانے والے کی تخلیق کا اعلی شہکار تھی ۔۔۔اور اسکے چہرے کی معصومیت جو اسے سب سے الگ بناتی تھی وہ اس میں بالکل کھو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

ان سب کے درمیان وہ خود بھی بری طرح بھیگ چکا تھا ۔۔۔جس کا اسے خود بھی اندازہ نا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے ابرش نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھی ۔۔۔جو اپنے سامنے ضارب اور خود کو اسکے حصار میں پاتے ہی فورا سے پہلے جھکا بھی لیں ۔۔۔۔۔۔۔

اور اپنی حالت کا احساس کرتے کپڑے جو بارش میں بھیگنے کی وجہ سے بدن سے بالکل چپک چکے تھے ۔۔۔

اسکے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا ۔۔۔

ضارب شاہ نے بہت مبہوت ہو کر اسکی اٹھتی گرتی پلکوں کا رقص اور چہرے پر بکھرے قوس و فزاں کے رنگ دیکھے تھے ۔۔۔نگاہیں آ کر اسکی شبنمی پتیوں پر ٹہریں بارش کی بوندوں پر رکی تھیں ۔۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ہی اسے شدید پیاس کا احساس ہوا تھا وہ سب کچھ بھلائے جھکا ایک ہاتھ اسکے سر کے پیچھے جبکہ دوسرے سے اسکی نازک مرمریں کمر کو جکڑے اپنے تشنا لب اسکے بھیگے لبوں پر رکھتے انہیں سخت گرفت میں لے گیا ۔۔۔۔۔۔

ضارب کی اس حرکت پر ابرش کا سانس کہیں میں ہی اٹک گیا تھا ،،، اس نے اس کے کالر کو مٹھیوں میں بھنچتے آنکھیں سختی سے بند کر لی ۔۔۔۔۔۔

پر وہ تو جیسے پیچھے ہٹنا ہی بھول گیا تھا ۔۔۔لیکن جلد ہی اس کی بند ہوتی سانسوں کا احساس کر کے اس نے اپنی گرفت ہلکی کی اور بہت چاہت اور توجہ سے اس کے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو محسوس کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا تکلف کیے بغیر اس میں اپنی سانسیں منتقل کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

ابرش جسے اپنی بند ہوتی سانسوں کے ساتھ اپنا آخری وقت قریب لگ رہا تھا ۔۔۔اچانک اپنے وجود میں ضارب شاہ کی اترتی گرم سانسیں اور کمر پر سہلاتے کھردرے ہاتھوں کا لمس محسوس کرکے اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ بیہوش ہوتی وہ دھیرے سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔جبکہ ابرش اپنا سر اس کے کشادہ سینے پر رکھے اب لمبے لمبے سانس لینے لگی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اسکا بھیگا وجود اب کپکپانے لگا تھا ،،،،،، جسے محسوس کرتے ضارب نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور قدم اندر کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *