Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Last Episode)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

وحشت کے کالے اندھیروں سے بھرا ہوا وہ کوٹھری نما کمرہ ،،،، جس میں سورج کی ایک کرن تک کو آنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔

اس میں ایک لاغر وجود اپنی زندگی بھر کے انجام دیئے جانے والے گناہوں کی سزا کاٹ رہا تھا ۔۔۔

کب رات ہوتی ہے کب سویرہ اب تو اس نے اسکا حساب لگانا بھی چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

بس ہر وقت گزرے ہوئے اچھے وقت کی یادیں اور اپنے انجام دیئے جانے فعل کو یاد کرتے ہوئے پچھتاوں کے ناگ اسے ڈستے رہتے تھے ۔۔۔

کیا نہیں تھا اس کے پاس ۔۔اچھا گھر ،،،، خوبصورت بیوی ،،،، پیار کرنے والے خوبصورت رشتے اور جان سے بھی پیاری ایک بیٹی ۔۔۔

سب کچھ کتنا مکمل تھا ۔۔۔

لیکن اس نے کیا کیا ۔۔۔

اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی ہنستی بستی دنیا اجاڑ دی ۔۔۔بچپن سے اسے اپنا کہنے والا سگا خون کا رشتہ تو کوئی نہیں تھا اسکے پاس سوائے ایک ماں کے ۔۔۔

جو ایک حادثے کا شکار ہوتے اس دنیا سے چلی گئی ۔۔

لیکن جنہوں نے غیر ہو کر بھی اسے اپنوں سے بھی بڑھ کر چاہا ،،، مان دیا ،،،، عزت دی ،،،، محبت دی اس نے انکے ساتھ کیا کیا ۔۔۔

خود اپنے ہاتھوں سے انکی محبت کا گلا گھونٹ دیا ۔۔۔

انکے اعتبار اور مان کو حسد و کینہ کی آگ میں جلاتے انہیں تکلیف پہنچانے کا سبب بنا ۔۔۔

اپنی زندگی کی ساری خوشیوں کو بدلے کی نظر کرتے ،،،، نا صرف اپنی زندگی برباد کی بلکہ آخرت میں بھی سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا ۔۔۔

کیا ملا یہ سب انجام دے کر ۔۔۔جنہیں برباد کرنا چاہتا تھا وہ تو اب بھی آباد تھے ۔۔۔

انکے چہروں پر تو اب بھی مسکراہٹیں تھیں ۔۔۔

اگر وہ خود بدلہ لینے اور برائی کا راستہ اپنانے کی بجائے اپنا معاملہ اللہ کی سپرد کر دیتا تو آج اس حال میں نا ہوتا ۔۔۔

اگر شاہ خاندان گنہگار ہوتا تو ہر حال میں انہیں سزا مل کر رہتی ۔۔۔

کیونکہ “بیشک اللہ بہتر بدلہ لینے اور انصاف کرنے والا ہے ۔۔۔”

لیکن اس نے اللہ پر توکل کرنے کی بجائے ،،، خود خدا بننا چاہا ،،،، اور آج نتیجہ اسکی قسمت میں عمر بھر کے پچھتاوے ،،، اسکے گناہوں کے جیسے کالے اندھیرے اور تنہائی لکھ دی گئی ۔۔۔

اور آج وہ انہی کالے اندھیروں میں ڈوبا اپنی موت کی دعائیں مانگ رہا تھا ،،،، لیکن ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ بھی اس سے روٹھ گئی تھی۔۔۔

تبھی تو ڈوبتی سانسوں میں اس کے قریب آنے کے باوجود بھی اپنی آغوش میں لینے کے بجائے ہمیشہ نظریں چرا کر واپس چلی جاتی ۔۔۔

اور وہ اپنے لاغر و معذور وجود کے ساتھ بےبس نگاہوں سے اسے دیکھتا رہ جاتا ۔۔۔

وہ اس گھٹن زدہ کمرے میں کتنے دنوں یا مہینوں سے بند تھا اب تو اسکی گنتی بھی اسے بھول چکی تھی ۔۔۔

روشنی کسے کہتے ہیں اسکا تصور بھی اسکے ذہن سے محو ہو چکا تھا ۔۔بس یاد تھا تو اپنے گناہ اور اپنی جان سے پیاری بیٹی ۔۔۔

جو کس حال میں خوش بھی تھی یا پھر اسکے گناہوں کی سزا بھگت رہی تھی کچھ معلوم نہیں تھا ۔۔۔

اور نا ہی اسے کوئی بتانے والا تھا ۔۔۔

کتنے مہینوں سے اس نے کسی انسان کی آواز نہیں سنی تھی ۔۔۔خود سے باتیں کرتے اور جامد خاموشی میں گونجتی وحشتوں کو محسوس کر کے اسکا ذہنی توازن بھی آدھے سے زیادہ خراب ہو چکا تھا ۔۔

باقی اگر کوئی احساسات کی حس بچی تھی تو اس میں صرف اپنی ہنستی ہوئی بیٹی کی تصویر تھی ۔۔۔

جو اس درد اور تکلیف دہ ماحول میں رہتے ہوئے بھی اسکے پپڑی زدہ لبوں پر مسکراہٹ کی وجہ بن جاتی ۔۔۔

اسکی شرارتیں اور معصومیت کو یاد کرتے ۔۔۔

بےبس اور تھکن زدہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ۔۔۔

اسکی بگڑتی حالت کو دیکھتے ضارب شاہ کے بندوں نے اسے جسمانی تکلیف دینا تو بند کر دی تھی ۔۔۔

لیکن ذہنی عزیت ۔۔۔وہ آج بھی ہنوز قائم تھی ۔۔۔

جو جسمانی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ تھی ۔۔۔

اس کال کوٹھڑی کی دیوار کے ساتھ زمین پر چٹائی بچھا کر اسکے لاغر وجود کو لاوارثوں کی طرح پھینکا گیا تھا۔۔۔

کیونکہ خود سے اب اس میں اٹھنے بیٹھنے کی ہمت نہیں رہی تھی ۔۔۔

پیروں کے زخم خراب ہونے اور دوا نا ملنے پر کینسر کا روپ دھاڑتے باقی وجود کو بھی خراب اور گلانے کا سبب بن رہے تھے ۔۔۔

جسکے چلتے اسکے دونوں پاؤں کو ہمیشہ کیلئے اسکے وجود سے جدا کر دیا گیا تھا ۔۔۔

تاکہ کہیں وقت سے پہلے ہی وہ اسکی موت کا سبب نا بن جائیں ۔۔۔

اور اسکو موت کی صورت اس سزا سے رہائی مل جائے ۔۔۔

زمین پر لیٹے آنکھوں کو بند کیے جن سے اس وقت بھی آنسو بہہ رہے تھے وہ روز کی طرح اپنے احتساب میں مصروف تھے ۔۔۔

جب اچانک سے اس کال کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا ۔۔۔کیونکہ اب وہ ان سب چیزوں کے اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ آنے جانے والوں کو خود مخاطب کرنا بھی چھوڑ چکے تھے ۔۔

انہیں اتنا اندازہ تو ہو ہی چکا تھا کہ وہ جتنی مرضی کوشش کر لیتے ان پتھر کی مورتوں نے اپنی زبان نہیں کھولنی تھیں ۔۔۔

لیکن آج کچھ الگ تھا ،،، آج اس کال کوٹھڑی کا دروازہ کھولنے کے بعد دوبارہ بند نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔

بلکہ کمرہ کھولنے کے بعد اس میں ایئر فریشنیس کا استعمال کیا گیا ۔۔تاکہ کمرے کی حبس اور بدبو سے چند پل کیلئے ہی سہی نجات حاصل کی جا سکے اور اسکے ساتھ کمرے میں روشنی کا انتظام بھی کیا گیا تھا ۔۔۔

جو انہیں اتنے مہینے اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے بند آنکھوں کے ساتھ بھی چبھی تھی ۔۔۔

انہوں نے فورا اپنی آنکھوں پر اپنا کانپتا ہوا ہاتھ رکھ کر اس سے بچنے کی کوشش کی ۔۔۔

تبھی انکے کانوں کے میں بھاری قدموں کی آواز ٹکرائی ۔۔۔

جو ایک انسان سے زیادہ کئی انسانوں کے آنے کی پہچان تھی ۔۔۔

اور یہ آواز بالکل انکے قریب آ کر رکی تھی ۔۔۔

اور پھر کمرے میں ایک بھاری آواز گونجی جس نے انہیں آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔

اور وہ آواز تھی ضارب شاہ کی ۔۔۔

کیسے ہو موسی شاہ ؟؟؟

خوبصورتی سے مسکرا کر سوال کیا گیا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگاتے لبوں میں دبائی ۔۔۔

اسکے بندوں نے فورا آگے بڑھ کر اسے چیئر پیش کی تھی ۔۔۔

جس پر شان سے براجمان ہوتے ضارب شاہ نے اپنی وحشت زدہ آنکھیں انکے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے لاغر وجود پر ٹکائی تھیں ۔۔۔

اپنی آنکھوں کو جھپک جھپک کر روشنی سے مانوس کرتے ہوئے انہوں نے اندر دھنس چکیں اپنی تھکن زدہ آنکھیں اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

اور پھر ایک نظر اسکے دائیں بائیں اور پیچھے کھڑے وجود کو ۔۔۔انہوں نے خالی ہو چکے ذہن کے ساتھ کافی دیر ان چہروں کو گھورا ۔۔۔پھر جیسے انکے دماغ میں جھماکا سا ہوا تھا ۔۔۔

ضا ،،،،، ضارب انہوں نے اسے پہنچانتے ہوئے جیسے تصدیق چاہی ۔۔۔

ضارب نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

حیرانی کی بات ہے موسیٰ شاہ تم مجھے کیسے بھول سکتے ہو بھلا کوئی اپنی موت کو بھی بھولتا ہے ۔۔۔

استہزائیہ کہتے لبوں سے دھواں ہوا میں اڑایا ۔۔۔

میں ،،، نہیں بھولا ہوں تمہیں ،،، بھلا کیسے بھول سکتا ہوں ،،، تمہاری وجہ سے ہی تو آج اس حال میں پہنچا ہوں ۔۔۔

اپنی حالت کی طرف دیکھتے ایک بار پھر انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے ۔۔۔

غلط ،،، غلط بول رہے ہو تم ۔۔۔

تم میری وجہ سے نہیں بلکہ اپنے گناہوں کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہو ۔۔۔

تم نے جو ظلم کیے ہیں ان پر تمہاری پکڑ ہوئی ہے ۔۔۔

ضارب نے اپنی دائیں بائیں کھڑے واسم زارون کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں اپنا ظلم یاد دلانا چاہا ۔۔۔

ہاں سچ کہتے ہو ،،،، سچ کہتے ہو تم ،،،، لیکن تم تو رحم دل ہو نا مجھے معاف کر دو ۔۔۔

یکدم ہی اپنی جگہ سے رینگتے ہوئے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ اسکے قدموں پر رکھنے چاہے ،،،، جس پر ضارب نے اپنے پاؤں پیچھے کرتے ہوئے انکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔۔

معاف کر دو مجھے ،،،، مجھ سے یہ تکلیف اور نہیں سہی جاتی ۔۔۔مجھے اس قید سے آزاد کرتے دو ،،،، چھین لو یہ سانسیں جو مجھے ایک پل چین نہیں لینے دیتیں ۔۔۔مجھے سکون چاہیے ،،،، ہاں مجھے سکون چاہیے جو ان چلتی سانسوں کے ساتھ ممکن نہیں ،،،، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں انہیں بند کر دو ،،،، بند کر دو انہیں ،،، بند کر دو ۔۔

زمین پر اپنی پیشانی ٹکاتے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہ ایک ہی الفاظ بار بار دوہرائے جا رہے تھے ۔۔۔

نا نا سسر جی اتنی آسانی سے کیسے ؟؟؟؟

انکے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زارون شاہ انکی شرٹ سے پکڑ کر اوپر اٹھاتا ہوا استہزائیہ لہجے میں بولا ۔۔۔

موسی شاہ نے نم پلکیں اٹھا کر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

ز ،،، زارون

انکے لب بےآواز پھڑپھڑائے ۔۔۔

ہاں زارون شاہ ،،،،وہی زارون شاہ جس پر تم نے اپنے ظلم و بربریت کی انتہا کر دی تھی ۔۔۔

جسکے صرف جسم ہی نہیں روح کو بھی تم نے تکلیف پہنچائی ،،،، جسکی معصومیت تم نے بچپن میں ہی چھین لی ۔۔۔جسے اتنا تڑپایا کہ ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑا وہ گیارہ سال کا معصوم بچہ تکلیف کو برداشت نا کرتے اپنی موت کی دعائیں مانگتا تھا ۔۔۔

خود پر کیے گئے موسی کے ظلموں کو یاد کرتے زارون کا لہجہ سخت سے سخت ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔

بالکل ایسے ہی تمہارے آدمیوں کے قدموں میں گرتے میں نے اور لالا نے ان سے رحم کی بھیک مانگی تھی ۔۔۔لیکن انکے لبوں پر صرف ایک لفظ تھا کہ اگر ہم نے تم پر رحم کیا تو ہمارا مالک ہم پر رحم نہیں کرے گا ۔۔۔

تو تم آج کس امید پر ہم سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہو ۔۔۔

تم نے رحم کھایا تھا ۔۔۔موسی شاہ

ضارب لالا اور بیا پر ،،،، جب تم انکے ماں باپ کو مار رہے تھے ۔۔۔بولو رحم آیا تھا تمہیں تم جب ہماری جنت ہم سے دور کر رہے تھے ۔۔

کھایا تھا تم نے رحم جب ایک معصوم بچے کو درندوں کے حوالے کر رہے تھے ۔۔۔

نہیں موسی شاہ نہیں ۔۔۔

تم نے رحم نہیں کیا تھا ،،،، اور آج جب وقت نے بساط پلٹی ہے تو ہم تم پر رحم نہیں کھائیں گے ۔۔۔

کل وقت تمہارا تھا موسی لیکن آج وقت ہمارا ہے ۔۔۔

وہ انہیں ایک جھٹکے سے زمین پر پھینکتے ہوئے دوبارہ کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔

جبکہ اسکے برعکس واسم نے اسکی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا ،،، وہ تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتا تھا ،،، کہ اگر اپنے خاندان کے گنہگار کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا تو قتل کیے بنا نہیں رہے گا ۔۔۔

لیکن پھر ضارب کے کہنے پر کہ اس نے جو سزا موسی کیلئے منتخب کی ہے ۔۔وہ موت سے بھی کہیں زیادہ بدتر ہے ۔۔۔خود جا کر دیکھ لے تو صرف اسکی بات کا مان رکھنے کیلئے ساتھ چلا آیا ۔۔۔

یعنی تم بھی میری والی غلطی دوہرانا چاہتے ہو ؟؟؟

خبردار موسی ہمیں خود سے مت ملانا ورنہ ،،،،، موسی کا انہیں خود سے کمپیئر کرنا واسم شاہ کے اندر آگ لگا گیا ۔۔۔

اس لیے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھاڑا ۔۔۔

جس پر ضارب نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا ،،،، ورنہ اپنے غصے میں وہ موسی کی جان لینے سے بھی گزیر نہیں کرتا ۔۔۔

اس نے لب بھینچ کر غصے کو کنٹرول کرتے ۔۔۔ضارب کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچا ۔۔۔

جبکہ اسکی حرکت پر ضارب نے گہرا سانس لیتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

ہم کیا کر رہے ہیں اور کیا نہیں یہ سہی ہے یا غلط ہمارا اللہ جانتا ہے ،،،، تمہیں ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔

تم اپنے بارے میں سوچو ۔۔۔تم نے کیا ،، کیا ،،،کیا ہے ۔۔۔جسکی آج تم یہ سزا بھگت رہے ہو ۔۔۔

ہم چاہتے تو تمہیں ایک جھٹکے میں بھی ختم کر سکتے تھے ۔۔۔لیکن اس سے تمہارے گناہوں کا احتساب نہیں ہوتا اور نا ہی کبھی تمہیں اپنے کیے گئے ظلموں کا احساس ۔۔۔

سوچو موسی شاہ سوچو ،،،، تم نے اپنی زندگی میں کون کون سے گناہ کیے ہیں جنکی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے ۔۔۔

بہت وقت ہے تمہارے پاس ،،،، گنتی کرو اپنے ایک ایک ظلم ایک ایک گناہ کی ،،،، اور معافی طلب کرو ہم سے نہیں اس خدا سے جس کے بندوں کو تم نے عزیت پہنچائی ۔۔۔

باقی رہی بات اس قید سے رہائی کی تو یہ اب ناممکن ہے ۔۔۔

کیونکہ اس قید سے رہائی تو تمہیں صرف ایک ہی صورت میں مل سکتی ہے ،،،،اور وہ

بات کرتے کرتے وہ ایک پل کیلئے رکا تھا ۔۔

موسی شاہ نے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔

اور وہ ہے موت ،،،، جو کب آئے گی کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔۔۔

اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

نہیں ،،،، نہیں تم مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ،،،، مجھ سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہوتی ،،،، ضارب شاہ مجھے اس تکلیف سے رہائی دو ،،، تمہیں تمہارے ماں باپ کا ،،،،،

اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتے ،،،، واسم نے آگے بڑھ کر انکے منہ پر اپنے پاؤں کی ایک ٹھوکر رسید کی تھی ،،،، جس سے وہ اچھل کر دیوار کے ساتھ ٹکرائے ۔۔۔

اور انکا سر پھٹنے سے اس سے خون بہنے لگا ۔۔۔

تمہاری ہمت کیسی ہوئی کہ تم میرے چاچو اور آنی کا نام اپنی گندی

زبان پر لائے ۔۔۔میں جان لے لوں گا تمہاری ۔۔۔

واسم ۔۔۔”

ابھی واسم آگے بڑھ کر انہیں مزید مارتا ،،،، ضارب نے تنبیہ سے کہتے اسے غصے سے ڈپٹا ،،،، جس پر وہ لب بھینچتا مزید کوئی بات کیے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔

ضارب نے افسوس سے موسی شاہ کے سر کو دیکھا جس سے خون روانی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔

ہم تمہیں اس تکلیف سے رہائی نہیں دے سکتے موسی ۔۔۔کیونکہ ہم اتنے اعلی ظرف نہیں جو اپنے ماں باپ کے قاتل کو معاف کر دیں ۔۔۔تمہیں رہائی چاہیے تو اس خدا سے مانگو ۔۔۔

کیونکہ وہ اپنے بندوں کی بات کبھی نہیں ٹھکراتا ،،،، چاہے وہ کتنے بھی گنہگار کیوں نا ہو ۔۔۔

سپاٹ سے لہجے میں کہتے اس نے اپنے بندوں کو اشارہ کیا تھا کہ انکی مرہم پٹی کروائیں اور پھر پلٹ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔

پیچھے زارون اور شہیر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور روتے ہوئے موسی کو دیکھتے وہاں سے جانے لگے جب موسی کی بات نے انکے قدم جکڑے ۔۔۔

زارون زرمینے بہت معصوم ہے ،،،،، میرے گناہوں کی سزا میری بچی کو مت دینا ۔۔۔یہ بےبس باپ تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہے ۔۔۔

زارون نے پلٹ کر انکے لاغر وجود کی طرف دیکھا جو زمین پر اوندھے منہ پڑے اسکے آگے ہاتھ جوڑ رہے تھے ۔۔۔

ایک پل کیلئے اسے ترس سا آیا ۔۔۔دل کیا کہ وہ انہیں بتا دے کہ انکی بیٹی تو زارون شاہ کی زندگی ہے ،،،، اسکے جینے کی وجہ ،،،، وہ بھلا اسے کوئی تکلیف کیسے پہنچا سکتا ہے ۔۔۔ لیکن پھر انکے گناہ اور خود پر کیے انکے ظلم کو یاد کر اس ترس پر انکی نفرت غالب آ گئی ۔۔۔

اور وہ بنا انہیں کوئی جواب دیئے ،،،، پلٹ کر نکلتا چلا گیا ۔۔۔جس کے جاتے ہی موسی نے اپنا سر زمین پر ٹکایا ،،،،، جسے دیکھتے شہیر خان کو افسوس نے گھیرہ ،،،، اور ساتھ تاشے کی یاد بھی آئی ،،،، وہ بھی تو انکی ہی بیٹی تھی جسکے بارے میں شاید وہ جانتے بھی نہیں تھے ،،،،کتنے بدقسمت باپ تھے ،،،، لیکن اس معاملے میں وہ انکی کوئی ہیلپ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔آج وہ جس مقام پر تھے یہ انکے خود کے کیے گئے گناہوں کی سزا تھی ۔۔۔

جو انہوں نے اپنی آخری سانس تک یونہی بھگتنی تھی ۔۔۔

شہیر نے افسوس سے سر ہلاتے ۔۔۔وہاں موجود ضارب کے بندوں کو انکا خیال رکھنے کی ہدایت کرتے باہر کی راہ لی ۔۔۔

جسکے جاتے ہی وہ روشنیوں بھرا کمرہ ایک بار پھر اندھیرے میں ڈوب گیا ۔۔

بالکل موسی شاہ کے نصیب کی طرح ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

چند سال بعد ۔۔۔

بالاج شاہ آپ نے میرے ساتھ زیادتی ہے ،،،، کیا کیا ہے میں نے بولو کیا کیا ہے ؟؟؟

یہ میری ڈول تھوڑی دیر پہلے میں باہر لان میں ٹیبل پر رکھ کر اندر ماما کی بات سننے گئی تھی ۔۔۔

تب لان میں صرف آپ کھیل رہے تھے ۔۔۔

اور مجھے پکا یقین ہے کہ میری ڈول کا یہ حشر آپکے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا ۔۔۔

اپنی ہاتھ میں پکڑی ڈول جو اسکے بابا نے اسکی فرمائش پر لا کر دی تھی ۔۔۔

بالاج کے سامنے لہراتے ہوئے بولی ۔۔۔

جسکے سر پر اب بال کا نام و نشان بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔جبکہ پورے چہرے پر مارکر سے مختلف ڈیزائن بنائے گئے تھے ۔۔۔

جاو جاو ہانی تانی ۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔

اس نے ہانی کی شربتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے صاف جواب دیا تھا ۔۔۔

بالاج شاہ جھوٹ مت بولیں ۔۔۔

یہ آپکا ہی کام ہے ،،،، شرافت سے مان جائیں ورنہ ۔۔۔اپنی چھوٹی سی انگلی اسکی طرف اٹھاتے دھمکی والے انداز میں بولی ۔۔۔

ورنہ کیا ہانیہ شہیر خان ورنہ کیا ،،،، کیا کر لو گی تم ۔۔۔ہاں میں نے کیا ہے تمہاری ڈول کا یہ حال ۔۔۔اور نیکسٹ اس سے بھی زیادہ برا کرونگا ۔۔۔

جو کر سکتی ہو کر لو ۔۔

اپنی شورٹس کی پاکٹس میں دونوں ہاتھ پھنساتے وہ لاپرواہی سے بولا ۔۔۔انداز بہت ہی شاہانہ تھا ۔۔۔

اب آپ دیکھے میں آپکے ساتھ کرتی کیا ہوں ۔۔۔آپ کی شکایت میں بابا سائیں سے لگاؤں گی ۔۔۔

اپنی ڈول کا یہ حشر دیکھ کر ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔وہ رندھے ہوئے لہجے میں بولتی تیز قدموں سے شاہ حویلی کے اندر بڑھی تھی ۔۔۔

جبکہ پیچھے بالاج جو اکڑ کر کھڑا تھا ارمغان شاہ کے نام پر فورا سیدھا ہوا ۔۔۔

خبردار ہانیہ اگر تم نے ڈیڈ سے میری شکایت لگائی ۔۔۔بہت برا حشر کرونگا تمہارا وہ اسکے پیچھے بھاگتا تقریبا چیخا ۔۔۔

لیکن ہانیہ ان سنی کرتی ۔۔۔تیز قدموں سے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی تھی جہاں اس وقت شاہ خاندان کے سبھی افراد محفل سجائے بیٹھے تھے ۔۔۔

بابا سائیں ۔۔۔

ڈرائنگ روم کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہانیہ نے نم لہجے میں انہیں پکارا ۔۔۔

جس پر نا صرف ارمغان شاہ ۔۔۔بلکہ انکے ساتھ بیٹھیں روباب اور دوسرے افراد بھی متوجہ ہوئے ۔۔۔

جب وہ آنسوؤں کے ساتھ روتی انکے قریب آئی ۔۔۔بابا سائیں یہ دیکھیں ۔۔۔بالاج نے میری ڈول کا کیا حشر کیا ہے ۔۔۔

ہاتھ میں پکڑی ڈول انہیں دکھاتے ہوئے بالاج کی شکایت لگائی ۔۔۔

بالاج شاہ ادھر آئیں فورا ۔۔۔

روتی ہوئی ہانیہ کو اپنے ساتھ لگاتے ۔۔۔بالاج کو اندر بلایا جو ڈرائنگ روم کے دروازے کی اوٹ میں کھڑا ہانیہ کو شکایت لگاتے سن رہا تھا اور ساتھ غصے سے اپنی چھوٹی چھوٹی مٹھیاں بھی بھینچ چکا تھا ۔۔۔

ارمغان شاہ کی آواز پر سیدھا ہوتا سپاٹ نظروں سے ہانیہ کو دیکھتے اندر داخل ہوتے انکے قریب آیا ۔۔۔

میں جان سکتا ہوں یہ کیا حرکت ہے بالاج شاہ ؟؟؟؟

وہ ڈول اسکے سامنے کرتے غصے سے بولے تھے ۔۔۔بالاج نے انکی بات کا جواب دینے کی بجائے ہانیہ کو گھورا ۔۔۔

جو اس وقت اسکے ڈیڈ کے حصار میں بہت معصوم بن کر کھڑی تھی ۔۔۔

بالاج میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔

اسکے جواب نا دینے پر اب کے وہ دھاڑے تھے ۔۔۔جس سے ایک پل کیلئے بالاج ہی نہیں ساتھ بیٹھیں روباب اور انکے حصار میں کھڑی ہانیہ بھی لرزی ۔۔۔

غنی آرام سے بچہ ہے ۔۔۔

روباب نے دبے دبے لفظوں میں اس کی سائڈ لینی چاہی ۔۔۔

جس پر انہوں نے بالاج کے ساتھ انہیں بھی گھورا تھا ۔۔۔

ڈیڈ یہ اتنی سیدھی نہیں ہے ،،،، اس نے سکول میں ٹیچر سے میری شکایت لگا کر مجھے مار پڑوائی تھی ۔۔۔ حالانکہ میری اس میں کوئی غلطی بھی نہیں تھی ،،،، سو ڈیٹس وائی ۔۔۔

بالاج نے ہامی بھرتے ساتھ یہ سب کرنے کے پیچھے کی وجہ بھی بتائی ۔۔

جبکہ اس بار بات کھلنے پر ہانیہ بھی کچھ سہمی تھی ۔۔۔

اگر آپکو مجھ پر یقین نہیں ہے تو زاور سے پوچھ لیں یہ بھی وہی تھے ۔۔۔

ارمغان شاہ کو خاموش دیکھ کر وہ ایک جگہ الگ تھلگ بیٹھے زاور زارون شاہ کی طرف اشارہ کرتا مزید بولا ۔۔۔

جو اپنی نوٹ بک پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

جس کے بعد سب لوگوں کی نظریں زاور کی طرف چلی گئیں تھیں ۔۔۔

اپنا نام آنے پر زاور نے اپنا جھکا سر اٹھایا ۔۔۔

اور سب کو اپنی طرف دیکھتے پاکر صرف دو حرفی جواب دیا ۔۔۔

یس ہی از رائٹ ۔۔۔

اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔۔۔

زارون شاہ نے ایک پل کیلئے اپنے کھڑوس بیٹے کے جھکے سر کو دیکھا ،،،، جو پتا نہیں کس پر گیا تھا ،،،، ہر وقت خاموشی ہر وقت غصہ ،،،، بولتا بھی ایسے تھا جیسے دوسرے بندے پر احسان کر رہا ہو ۔۔۔ اسے چند پل گھورنے کے بعد ساتھ بیٹھی زرمینے کی طرف دیکھا ۔۔۔

جیسے ایسے بچے کے پیدا کرنے پر افسوس کر رہا ہو ۔۔۔

بدلے میں زرمینے نے بھی اسے ڈبل گھوری سے نوازا ۔۔۔جس پر وہ فورا سیدھا ہوا ۔۔۔

تو اسکا کیا مطلب آپ اب بدلہ لینگے یہ تربیت کی ہے ہم سب نے آپکی ؟؟؟؟

اب کے وہ خاموش ہی رہا تھا ،،،،، “سے سوری ٹو ہر”

میں آپ سے کچھ کہہ رہا ہوں ۔۔۔اسے لب نا کھولتے دیکھ انہوں تنبیہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔

سوری ڈیڈ بٹ اٹس امپوسیبل ،،،،، بالاج شاہ بنا غلطی کے کسی سے سوری نہیں بولتا ۔۔۔

ایکسکیوز می ۔۔۔

صاف لفظوں میں جواب دیتے یہ جا وہ جا ۔۔۔

جبکہ اسکی بدتمیزی پر وہ خون کے گھونٹ بھر کر رہ گئے تھے ۔۔۔اور پھر ساتھ بیٹھی روباب کی طرف دیکھا جو انہیں التجائی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔

آپکی اور آپکے لاڈ صاحب کی ( واسم ) بےجا حمایت کا نتیجہ ہے جو یہ آج اپنے باپ کے منہ پر صاف جواب دے کر گئے ہیں ۔۔۔

غصے سے بولتے ہوئے وہ ہانیہ کی طرف متوجہ ہوئے تھے جو انہیں غصے میں دیکھ کر سچ مچ سہم گئی تھی ۔۔۔

سوری بیٹا میں آپ سے بالاج کی طرف سے معذرت کرتا ہوں ،،،،اور ہماری بٹیا رانی کو اداس ہونے کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔

آپکے بابا سائیں اس سے بھی زیادہ اچھی ڈول لاکر دیں گے ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔

اسے سہمتے دیکھ نرمی سے اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر بولے ۔۔۔ اس نے بھی ہلکا سا مسکراتے سر ہلایا اور ساتھ دل میں رب کا شکر ادا کیا کہ اسے ڈانٹ نہیں پڑی ۔۔۔

چلیں آپ جا کر کھیلیں ،،،، اور اس بدتمیز سے دوبارہ مخاطب ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔

نرم لہجے میں بولتے ایک بار پھر بالاج کی بدتمیزی کو یاد کرتے انہیں غصہ آیا تھا ۔۔۔

جس پر ہانیہ مسکراتی ہوئی باہر بھاگی تھی ۔۔۔جبکہ اپنے بیٹے کو بدتمیز بلائے جانے پر روباب نے ارمغان شاہ کو گھورا تھا ۔۔۔

جسے انہوں نے سرے سے اگنور کیا ۔۔۔

تبھی ملازمہ کے ساتھ چائے اور سنیکس وغیرہ لے کر عظمی اندر داخل ہوئیں تھیں ۔۔۔

اور ٹیبل پر چیزوں کو سیٹ کرتے ملازمہ کے جانےکے بعد ارمغان سے مخاطب ہوئیں ۔۔۔

کیا ہوا یہ بالاج اتنے غصے میں کیوں باہر نکلے ہیں ؟؟؟؟ اور جب میں نے بلایا تو کوئی جواب بھی نہیں دیا ۔۔۔

سب کو چائے سرو کر کے ارمغان کے ساتھ براجمان ہوتیں پریشانی سے بولیں ۔۔۔

کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔جب دماغ سیٹ ہو جائے گا ،،،، تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گی آپکی بدتمیز اولاد ۔۔۔

انہیں ابھی تک بالاج کی حرکت پر بہت غصہ تھا اس لیے انہیں بھی غصے سے جواب دیا ۔۔۔

سائیں ۔۔۔”

عظمی کو انکا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔

کیا سائیں ،،،، نا ہی باپ کا لحاظ ہے نا ہی رشتوں کا ،،،، پتا نہیں بڑے ہو کر کیا کریں گے ۔۔۔

کیا کیا ہے انہوں نے ؟؟؟ ارمغان کے انداز سے انہیں اتنا تو پتا چل گیا تھا کہ بالاج نے بدتمیزی کی ہے اس لیے اس بار تھوڑا آرام سے بولیں ۔۔۔

کچھ نہیں کیا ہے عظمی ،،،، بچے ہیں اونچ نیچ ہو ہی جاتی ہے ،،،،غنی تو بس ۔۔۔

ہاں اب بات اپنے بیٹے پر جو آئی ہے تو آپ ایسے ہی بولے گی ۔۔۔

روباب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ارمغان نے انہیں گھورا ۔۔۔جس پر انہوں نے منہ بناتے خاموشی اختیار کی ۔۔۔

جبکہ عظمی انکی نوک جھونک پر نرمی سے مسکرائیں تھیں ۔۔۔

آہہہہہہ ڈیڈ ۔۔” یو ہیو ٹو آف دی موسٹ بیوٹیفل وومنز ان دی ورلڈ سیٹنگ ایٹ لیفٹ رائٹ ،،،،” وٹ آ لکی مین یو آر ،،،،” اور ہم ٹھنڈا سانس کھینچتے بس گزارا ۔۔۔ ماحول میں پھیلی کشیدگی کو دور کرنے کیلئے ارمغان کے ارد گرد بیٹھیں عظمی روباب کا حوالے دیتے زارون نے چٹکلا چھوڑا ۔۔۔

جبکہ اینڈ میں زرمینے کی طرف دیکھتے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔

اس کے کمپلیمینٹ پر جہاں عظمی روباب مسکرائیں تھیں ،،،، وہی زرمینے نے حیرت سے منہ کھول کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

ہاں بیٹا جی یہ تو میں جانتا ہوں نا کہ یہ خوش نصیبی ہے یا سزا ،،،، سر جھٹک کر کہتے چائے کا کپ لبوں سے لگایا ۔۔۔

سائیں ،،،، غنی دونوں ایک ساتھ چلائیں ۔۔۔۔

کیا ۔۔۔”

انہوں نے دونوں کی طرف باری باری دیکھتے آبرو اچکائی ۔۔۔

اب آئیے گا ہمارے پاس پھر بتائیں گے سزا کیا ہوتی ہے ۔۔۔جبکہ انکی دھمکی پر ارمغان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھلکی ۔۔۔

جسے دیکھتے وہ دونوں ہی جل بھن گئیں تھیں ۔۔۔

میں گزارا ہوں ۔۔۔”

کافی دیر گزر جانے کے بعد بمشکل زرمینے کے حلق سے یہ لفظ ادا ہوئے ۔۔۔

جس پر زارون اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔

یہاں میں آپکے بچے پیدا کر کر کے مرنے والی ہوئی ہوں ،،، اور آپ کہہ رہے ہیں آپ صرف گزارا کر رہے ہیں ۔۔۔

سرمئی نینوں سے آنسو چھلکے ۔۔۔

زرمینے زاور کے بعد ایک بار پھر امید سے تھی ،،،، اور اس بار ڈاکٹر نے ٹونز بتائے تھے ۔۔۔نتیجہ پانچویں ماہ میں اس کی حالت ایسی تھی جیسے لاسٹ منتھ چل رہا ہو ۔۔۔خود اکیلے ٹھیک سے چلا بھی نہیں جاتا تھا ۔۔۔جس نے اسے کافی حد تک چڑچڑا بھی کر دیا تھا ۔۔۔

تو کیا بیوی کوئی احسان کر رہی ہو ۔۔۔

زارون کو اسکی بات سن کر ہنسی اور ترس ایک ساتھ آیا تھا لیکن پھر اسے چڑانے کیلئے جان بوجھ کر ذرا رعب سے بولا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

زرمینے نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

پہلے اپنی اولاد تو دیکھ لو ۔۔۔جو مجھے پیدا کر کے دی ہے ۔۔۔بچہ کم اور روبورٹ زیادہ لگتا ہے ۔۔۔

ڈیڈ اٹس انف ۔۔۔”

خود کی ذات پر بات آنے پر زاور شاہ نے سپاٹ لہجے میں ٹوکا ۔۔۔

لو دیکھ لو اس انگریز کی اولاد کو ۔۔۔ڈیڈ اٹس انف ۔۔۔زارون نے منہ بنا کر اسکی نکل اتاری ۔۔۔

جس پر منہ نیچے کر کے زرمینے نے امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکا ۔۔۔

جبکہ عظمی ارمغان اور روباب کھل کر ہنسے تھے ۔۔۔زاور نے زارون کو شروع ہوتے دیکھ اپنی نوٹ بک اٹھائی اور اسے اگنور کرتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔

زاور شاہ کے ایٹیٹیوڈ کو دیکھتے زارون نے نا صرف اسکی پشت کو گھورا ،،،، بلکہ ساتھ بیٹھی زرمینے کو بھی آنکھیں دکھائی تھیں ۔۔۔

اس میں میری کیا غلطی ہے ۔۔۔میں تھوڑی بولا ہے اسے ۔۔۔کہ آپ کے ساتھ ایسا بیہیو کرے ۔۔۔

تربیت کس کی ہے ؟؟؟؟

شاہ ۔۔۔”

بچے کی تربیت میں صرف ایک ماں کا ہی ہاتھ نہیں ہوتا۔۔۔کچھ ذمہ داریاں والد پر بھی عائد کی جاتی ہیں ۔۔۔

اور ویسے بھی زاور میں جو ایٹیٹیوڈ ہے اس میں تربیت سے زیادہ گھٹی کا ہاتھ ہے ۔۔۔

کس نے بولا تھا واسم لالا سے گھٹی دلوانے کو آپکو ہی شوق تھا نا ،،،، اب بھگتے ۔۔۔

مجھے یاد کیا کسی نے ؟؟؟؟

زارون کے اسکی تربیت پر سوال اٹھانے پر وہ چڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔جب یکدم سے وہاں واسم شاہ کی آواز گونجی ۔۔۔

اور پھر چاروں طرف سناٹا چھا گیا ۔۔۔

زرمینے جس نے ابھی اسکا نام لیا تھا ،،،، واسم کی آواز سنتے اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔۔

اس نے اپنی زبان دانتوں تلے دبا کر آنکھیں سختی سے میچیں ۔۔۔

جبکہ اسکی پتلی ہوئی حالت کو دیکھتے زارون نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔

بھلے ان سب کے رشتوں میں وقت گزرنے کے ساتھ بہت سدھار آ گیا تھا ،،،اور ابرش کی طرح زرمینے اور زرتاشے بھی اس سے بہت فرینک ہو گئیں تھیں ۔۔۔

لیکن واسم شاہ کا رعب اور دبدبہ آج بھی پہلے دن کی طرح قائم تھا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اسکی شخصیت میں مزید سختی در آئی تھی ۔۔۔

جس کی وجہ سے یہ لوگ کم ہی اسکے سامنے فضول باتیں منہ سے نکالتیں تھیں ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

واسم میری جان ۔۔۔

اتنے دنوں بعد اپنے بیٹے کو روبرو دیکھتے روباب نے مسکراتے ہوئے اپنے بازو واں کیے تھے ۔۔۔

جن میں سماتے ہوئے واسم نے روباب سے انکا حال دریافت کیا تھا ۔۔۔

ماما کیسی ہیں آپ ؟؟؟؟

کیسی ہو سکتی ہوں اپنے بیٹے کے بغیر ،،،، اسکی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے وہ پیار سے بولیں ۔۔۔

جس پر وہ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔

آپکو پتا ہے ضروری میٹنگ تھی ورنہ میں کبھی نا جاتا ۔۔۔میں جانتی ہوں میری جان اللہ پاک تمہیں مزید کامیابیوں سے نوازے ۔۔۔آمین

روباب سے ملنے کے بعد وہ ارمغان کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔جو ان ماں بیٹے کی محبت کو مسکراتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

کیسے ہیں ڈیڈ ؟؟؟؟

الحمداللہ آپ سناؤ کیسی رہی میٹنگ ؟؟؟؟ ایزیوزول زبردست ۔۔۔مسکرا کر کہتے ایک نظر ساتھ بیٹھیں عظمی کی طرف دیکھا ۔۔۔

جو اسے مسکراتیں نظروں سے تو دیکھ رہی تھیں ،،، لیکن اسے مخاطب کرنے سے گریز ہی کیا ۔۔۔

ان سے نظریں ہٹا کر واسم نے دوبارہ ارمغان کی طرف دیکھا جو اسے ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

ویسے تو ان گزرے سالوں میں کافی کچھ بدل چکا تھا ۔۔روباب کے آنے کے بعد واسم کے عظمی کے ساتھ بیہیویر میں کافی فرق آیا تھا ۔۔۔اب وہ پہلے کی طرح ان سے بدتمیزی نہیں کرتا تھا ،،،، بلکہ اگر وہ بلا لیتیں تو نارمل انداز میں جواب دے دیتا تھا ۔۔۔

لیکن پھر بھی دونوں کے درمیان آج بھی ایک اجنبیت کی دیوار حائل تھی ۔۔۔جسے گرانے کی ارمغان شاہ سالوں سے کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

چلو اپنی ماں کے برابر درجہ نا سہی ۔۔۔لیکن کم از کم انکی بیوی کی حیثیت سے وہ انہیں عزت و احترام تو دے ہی سکتا تھا ۔۔۔

انہیں اپنی فیملی کا حصہ مانتے نرمی سے بات کر سکتا تھا ۔۔۔

اس کے خاموشی سے نظریں پھیر لینے پر عظمی کے دل میں ہوک سی اٹھی تھی ۔۔۔لیکن پھر سر جھٹکتے ہوئے اس کیلئے کافی کا انتظام کرنے کیلئے اٹھ کر وہاں سے جانے لگیں ۔۔۔

جب زندگی میں پہلی واسم شاہ نے انکا ہاتھ تھام کر خود سے انہیں روکا ۔۔۔عظمی نے حیرت سے پلٹتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ اور پھر واسم شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

جو سپاٹ نظروں سے انکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اور وہ ایک حرفی لفظ ۔۔۔

جو شاید ہی کبھی اسکے لبوں سے نکلا ہو ۔۔۔ادا ہوا ۔۔۔

سوری ۔۔۔”

البتہ چہرے کے تاثرات اب بھی سپاٹ تھے ۔۔۔ بےساختہ ہی عظمی کی آنکھیں چھلکیں تھیں وہ دونوں کے درمیان کا فاصلہ مٹاتے اسکے سینے سے آ لگیں ۔۔۔

واسم نے انکے گرد نرمی سے حصار بناتے ہوئے انکے سر پر دھیرے سے اپنے لب رکھے ۔۔۔

جبکہ ایک ماں بیٹے کے اس خوبصورت ملن پر وہاں موجود سبھی افراد آسودگی سے مسکرائے تھے ۔۔۔

میرا چیمپ کدھر ہے ؟؟؟

کچھ دیر بعد نرمی سے ان سے الگ ہوتا مسکرا کر بولا ۔۔۔

جس پر وہ نم آنکھوں کے ساتھ نرمی سے مسکرائیں ۔۔۔آپکے چیمپ کچھ دیر پہلے ہی آپکے ڈیڈ سے ناراض ہو کر یہاں سے نکلے ہیں ۔۔۔شاید اپنے کمرے میں ہوں ۔۔۔

بالاج کے ذکر پر جہاں واسم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلی تھی وہی ناراضگی والی بات سن کر اس نے سوالیہ ارمغان کی طرف دیکھا ۔۔۔

نام مت لیجئے اس بدتمیز کا میرے سامنے ۔۔۔

ڈیڈ ۔۔۔”

مجھے تو ساری اولاد ہی نکمی ملی ہے ،،،، بیٹے ایک سے بڑھ کر ایک بدتمیز ۔۔۔

واسم کو آنکھیں دکھاتے انہوں نے نخوت سے سر جھٹکا ۔۔۔

یہ تو غلط بات ہے بابا میں نے آج تک آپ سے بدتمیزی نہیں کی ۔۔۔

سب کو ایک ہی لائن میں کھڑا کرتا دیکھ زارون شاہ نے اپنی تعریف کرنا ضروری سمجھا ۔۔۔

بیٹا جی میرا منہ نا کھلواو تو ہی آپ کیلئے اچھا ہے ۔۔۔ نکمے پن اور میری بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے والوں میں آپ پہلے نمبر پر آتے ہو ۔۔۔

جبکہ اتنی صاف بےعزتی پر زارون نے منہ بنایا تھا جسے دیکھتے ہوئے وہاں سب کے قہقہے گونجے تھے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *