Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 56)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 56)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ضارب آج گاؤں جا رہا تھا ۔۔۔۔حالانکہ شہر میں اسکے بہت سے کام پینڈنگ پر تھے ۔۔۔۔۔
لیکن حیدر شاہ نے اسے فون کر کے خاص ایک پنچایت کیلئے بلایا تھا ۔۔۔۔
ویسے تو اسکے پیچھے حیدر شاہ اور موسی مل کر پنچایت کے کام وغیرہ دیکھ لیتے تھے ۔۔۔۔اور یہ مسئلہ بھی کوئی اتنا بڑا نہیں تھا ۔۔۔۔
لیکن ضارب کے سیاست میں مصروفیات اور ابرش کی بگڑتی حالت اور دن با دن بڑھتی خاموشی نے انہیں پریشان کر دیا تھا ۔۔۔۔
اس لیے اسے فون کرتے سختی سے حویلی آنے کا بولا ۔۔۔۔اور یہ بھی کہ اگر ذمہ داری لی ہے تو اچھے سے نبھائے ۔۔۔۔اب اس عمر میں ان سے یہ سب کام نہیں دیکھے جاتے ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ دوسری بات سنے بنا ہی کال کاٹ چکے تھے ۔۔۔۔۔
شہر سے سیدھا وہ لوگ پنچایت میں پہنچے تھے ۔۔۔۔
یہاں سربراہی کرسیوں پر پہلے سے ہی باقی کے پنچ براجمان تھے ۔۔۔۔۔” جبکہ درمیان والی کرسی خالی تھی ۔۔۔۔
جب وہ اپنی سحر طاری کرنے والی شخصیت کے ساتھ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا حیدر شاہ کے قریب آ کر رکا ۔۔۔۔
السلام وعلیکم ۔۔۔”
جس پر انہوں نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔نا پہلے کی طرح گلے سے لگایا اور نا ہی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔۔
جو انکی ضارب شاہ سے شدید ناراضگی کا اظہار تھا ۔۔۔۔
جبکہ انکے روٹھے ہوئے چہرے کو دیکھتے ضارب مسکرایا تھا ۔۔۔۔وہ انکی ناراضگی اور غصے کی وجہ اچھے سے سمجھ رہا تھا ۔۔۔
انکی لاڈلی پوتی ۔۔۔۔جس سے وہ بےپناہ پیار کرتے تھے ۔۔۔۔اسکی بگڑتی حالت کا وہ اسے ذمہ دار سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔
جو سو فیصد سچ تھا ۔۔۔۔اسے ابرش کا احساس تھا ۔۔۔لیکن وہ بھی اپنی جگہ مجبور تھا ۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی حویلی آنے کیلئے وقت نا نکال سکا ۔۔۔۔
اور جو حالات چل رہے تھے ان میں بہت ضروری تھا کہ فلحال ابرش سے دور ہی رہتا ۔۔۔۔ لیکن اسکا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسکا احساس نہیں ۔۔۔۔
ان گزرے ہوئے دنوں میں اس نے اپنی باربی کو بہت مس کیا تھا ۔۔۔۔ کوئی لمحہ کوئی گھڑی ایسی نہیں تھی ۔۔۔۔
جب اسے ابرش کی یاد نا آئی ہو ۔۔۔۔لیکن فلحال اپنے دل سے زیادہ اپنی فیملی کے بارے سوچنا تھا ۔۔۔۔
آخر کون تھا جو ان دونوں کی آپس کی ان بن کو اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔۔۔ انہیں آپس میں لڑوا کر ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا کر ایک دوسرے کی نظروں میں گرانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اسکا اصل مقصد کیا تھا ؟؟؟؟؟
وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا ؟؟؟؟؟
ایسے بہت سے سوال تھے ۔۔۔۔جن کا جواب اسکے پاس نہیں تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ وہ جو بھی ہے ۔۔۔۔شاہ فیملی کو توڑنا چاہتا ہے ۔۔۔۔
حیدر شاہ کے شیرازے کو بکھیرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ جس کیلئے وہ ہر وقت ان پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔اس لیے واسم کے بےقصور ہونے پر مکمل یقین کے باوجود اس نے جان بوجھ کر ایسی شرط رکھی تھی ۔۔۔۔
جس سے وہ غصہ ہوتا ۔۔۔۔کیونکہ وہ اسکے نیچر کو اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔۔ اور وہ دشمن کے سامنے یہی ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا ہے ۔۔۔۔
اور حویلی سے اتنی دن کی دوری بھی اسی مقصد کا حصہ تھی ۔۔۔۔چاہے وہ اپنے کاموں میں جتنا مرضی مصروف ہو جاتا لیکن اپنے اپنوں کیلئے وقت نکال ہی لیتا تھا ۔۔۔۔
حیدر شاہ کے خود کو اگنور کرنے پر اس نے مسکرا کر انکے خوبصورت شفیق مگر ناراض چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اسکا دل تو کر رہا تھا کہ فورا انہیں اپنے سینے سے لگا کر اپنا دل کھول کر انکے سامنے رکھ دے ۔۔۔۔
انہیں تمام حقائق سے آگاہ کر کے اتنے دنوں سے جس پریشانی نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا تھا اس سے آزاد ہو جائے ۔۔۔۔
لیکن ایک تو ان سب کا وقت نہیں آیا تھا دوسرا یہ جگہ بھی مناسب نہیں تھی ۔۔۔اس لیے مسکرا کر وہاں موجود باقی سب کو سلام کرتا اپنی جگہ براجمان ہو گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
سارا معاملہ پنچائیت کے سامنے کھول کر رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔
جس میں ایک معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ اسکا شوہر کسی اور کے کیے کی سزا اسے دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور اس سارے معاملے میں نا تو اس لڑکی کا کوئی حصہ تھا اور نا ہی وہ قصوروار تھی ۔۔۔۔۔
سائیں میں مانتا ہوں میرے بیٹے کی غلطی ہے ۔۔۔۔۔اس نے اپنے بہنوئی کے ساتھ دھوکا کیا ۔۔۔۔اسکے کاروبار کو نقصان پہنچایا اور پھر اس کی بہن کے ساتھ بھی بد سلوکی کی ۔۔۔۔
اور پھر فرار ہو گیا ۔۔۔۔
لیکن ان سب میں میری بیٹی کا تو کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔ آخر کو غلطی میرے بیٹے کی ہے اسے وہ یہ جو چاہے سزا دلوائے ،،،، اپنے سامنے گردن اکڑائے کھڑے داماد کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔
بلکہ میں شرمندہ ہوں ۔۔۔۔کہ ایک ایسی اولاد کا باپ ہوں جو انسان کہلانے کے لائق نہیں ہے ۔۔۔۔
لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اسکی اعمال کی سزا میری معصوم بیٹی کو دی جائے ۔۔۔۔اس سے اسکی اولاد چھین لی جائے ۔۔۔۔اسے اپنے ہی گھر سے دربدر کر دیا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے ۔۔۔۔۔
میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں ۔۔۔۔میری بیٹی کا گھر اجڑنے سے بچا لیں ۔۔۔۔
ضارب کو اس بےبس باپ پر بےساختہ رحم آیا تھا ۔۔۔۔
جس کے بیٹے نے بڑھاپے میں اسکا سہارا بننے کی بجائے اسے زمانے بھر میں رسوا کر دیا تھا ۔۔۔۔ اور یہی نہیں اپنی بہن کے گھر اجاڑنے کا بھی سبب بن رہا تھا ۔۔۔۔
ایسے انسان کو تو ایسی سزا ملنی چاہیے تھی ۔۔۔۔ کہ وہ دوبارہ ایسی حرکت انجام دینا تو دور کی بات سوچتے ہوئے بھی کانپ جاتا ۔۔۔۔
اسکے بارے میں سنتے ہی ضارب نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔
اس نے انکی بات سننے کے بعد اسکے داماد کی طرف دیکھا ،،،، جو اس بےبس مجبور انسان کو تمسخر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
سپاٹ نظروں سے اسے دیکھتے بولنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
سائیں سارا معاملہ یہ آپکو پہلے ہی کھل کر بتا چکے ہیں ۔۔۔۔آپ خود سوچیں کیا ایسے لوگ رشتہ داری رکھنے کے قابل ہیں ۔۔۔۔
چلیں ایک وقت کیلئے میں اپنے کاروبار میں ہوا نقصان بھول بھی جاؤں لیکن جو اسکے بھائی نے میرے بہن کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔۔۔۔ کیا اسکے بعد یہ عورت میرے گھر میں رہنے کا حق رکھتی ہیں ۔۔۔۔
آپ خود ہی سوچیں جسکا بھائی ایسا فراڈی اور بدکردار ہو ۔۔۔۔ اسکی بہن کیسی ہو گی ۔۔۔۔
اسکی بات پر پہلی بار اس لڑکی نے سر اٹھا کر اپنے شوہر کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اور کیا بات کہی ہے کہ وہ تو اس سارے معاملے کے بارے میں جانتی ہی نہیں اسکا کوئی قصور ہی نہیں ۔۔۔۔
جب اسے اپنے بھائی کی فطرت کا پتا تھا تو کیوں مجھ سے کہہ کر اسے کام پر رکھوایا ۔۔۔۔
میرے گھر میں بٹھا کر اسے کھانا کھلواتی رہی اور وہ میرا ہی کھا کر میری ہی عزت پر بری نظر ڈالتا رہا ۔۔۔۔
اور یہ اتنی بےخبر رہی کہ اسے کچھ پتا نہیں چل سکا ۔۔۔۔
حیرت کی بات نہیں ۔۔۔۔۔
آخر کسے پاگل بنا رہے ہیں یہ لوگ میں تو کہوں گا کہ یہ ان سب میں برابر کی شریک ہے ۔۔۔۔
جیسا بھائی ویسی بہن ۔۔۔۔
اصل میں تو یہی گنہگار ہے ۔۔۔۔کیا پتا اپنے بھائی کی طرح یہ بھی بدکردار ہو ۔۔۔۔میں تو سارا دن گھر نہیں ہوتا مجھے کیا پتا پیچھے یہ ۔۔۔۔۔۔
بس ۔۔۔۔” آگے ایک لفظ نہیں بولیں گے آپ ۔۔۔۔۔خبردار “۔۔۔۔۔ خبردار اگر آپ نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی ۔۔۔۔مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔
میں آپکی ہر بات برداشت کر سکتی ہوں لیکن کوئی میرے کردار پر انگلی اٹھائے یہ مجھے برداشت نہیں ۔۔۔۔
چیخ کر غصے سے بولی ۔۔۔۔
بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ میں ہی گنہگار ہوں ۔۔۔۔یہ سب کچھ میری ہی شہہ پر ہوا ہے ۔۔۔۔تو ابھی تک اپنے نام کے ساتھ کیوں جوڑ رکھا ہے ۔۔۔۔دے دیں مجھے طلاق ۔۔۔۔۔دیتے کیوں نہیں ۔۔۔۔
اپنے بہتے ہوئے آنسو ایک جھٹکے سے صاف کرتی طنزیہ بولی ۔۔۔۔
جس پر اس نے خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔” اور اسکے علاوہ ضارب کے ساتھ باقی سارے گاؤں والوں کی نظریں بھی اس چھوٹی سی لڑکی پر ٹکیں ہوئی تھیں ۔۔۔۔
جو اپنے کردار پر بات آتے ہی شیرنی بن کر دھاڑ اٹھی تھی ۔۔۔۔
ارے آپ کیا مجھے طلاق دیں گے اب میں خود آپکے ساتھ نہیں رہنا چاہوں گی۔۔۔۔کیونکہ جس انسان کو اپنی بیوی کے کردار اور اسکی ذات پر ہی یقین نا ہو ۔۔۔۔تو پھر وہ چاہے ساری زندگی ہی کیوں نا اس کی خدمت کر لے ۔۔۔۔وہ کبھی اسکی قدر نہیں کرے گا ۔۔۔۔
اس نے جیسے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔
سائیں مجھے کوئی انصاف نہیں چاہیے ۔۔۔۔اب اس کا رخ ضارب شاہ کی طرف تھا ۔۔۔۔۔
بس میرا بیٹا مجھے واپس دلوا دیں ۔۔۔۔۔ میں صدا آپکی مشکور رہوں گی ۔۔۔۔۔
آنکھوں میں آنسو بھر کر التجا کی تھی ۔۔۔۔۔
آپ کچھ کہنا چاہیں گے ؟؟؟؟ ضارب نے اس آدمی کی طرف دیکھتے سوال کیا ۔۔۔۔
سائیں میں اپنا بیٹا کسی طور پر اس لڑکی کو نہیں دوں گا ۔۔۔۔ یہ مجھ سے طلاق لینا چاہیے شوق سے لے ۔۔۔۔بہت جلد طلاق کے کاغذات اسکے گھر پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔
لیکن میں اپنی اولاد کبھی بھی اسے نہیں دوں گا ۔۔۔۔
ہممم “۔۔۔۔۔ آپکی اولاد ۔۔۔۔”
کیا ثبوت ہے کہ یہ آپکی اولاد ہے ؟؟؟؟
ضارب نے طنزیہ مسکراتے سوال کیا ۔۔۔۔
جس پر وہ حیرت سے منہ کھول کر اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔
حیران تو سارے گاؤں والے بھی تھے کہ آخر یہ ضارب شاہ کیا بولنا چاہ رہا ہے ۔۔۔۔
البتہ حیدر شاہ کے ساتھ وہ لڑکی اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ اسکی بات کا کیا مطلب تھا ۔۔۔۔۔
اس میں ثبوت دینے والی کونسی بات ہے مجھے پتا ہے کہ وہ میرا ہی خون ہے ۔۔۔
جس پر ضارب مسکرایا ۔۔۔۔
ہم پھر وہی سوال دوہرائے گئے کہ آپکے پاس کیا ثبوت ہے ۔۔۔۔۔
سائیں کہنا کیا چاہتے ہیں وہ میرا خون ہے جس کیلئے مجھے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں کیونکہ میں اپنی بیوی کو اچھے سے جانتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ جلد بازی میں اس کی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے بولا ۔۔۔۔لیکن بعد میں اپنے لفظوں کا ادراک ہوتے ہی شرمندگی سے نظریں جھکا گیا ۔۔۔۔
بہت افسوس کی بات ہے ،،،،، آپ صرف اپنی بیوی کو جانتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں ۔۔۔۔۔ آپکو پتا ہے کہ کسی کے اوپر جھوٹی تہمت لگانے والے کی کیا سزا ہے ۔۔۔۔” یقینا نہیں جانتے ۔۔۔۔
ہمارے پیارے نبی ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نے فرمایا “
جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی یعنی الزام لگایا ،،،،، تہمت یا جھوٹی بات منسوب کی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں تو اللہ یعنی الزام لگانے والے ،،، تہمت لگانے والے ،،، جھوٹا الزام منسوب کرنے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا ۔۔۔۔ اور وہ آخرت میں اسی کا مستحق رہے گا ۔۔۔۔
یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اس حرکت سے باز آ جائے ،،، یعنی رک جائے اور اللہ سے توبہ کر لیں ۔۔۔پھر ممکن ہے کہ اللہ تعالٰی اسے معاف کر دیں ۔۔۔۔
(مسند احمد 7/204 ) ( صحیح الترغیب 2248 )
جبکہ اسکی بات سن کر اس آدمی کو اپنا آپ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔
ہم مانتے ہیں آپکے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ بہت غلط تھا ۔۔۔۔لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسکا غصہ اپنی بےقصور بیوی پر نکالے ،،،،، جو اصل میں گنہگار ہے اسے سزا دینے کی بجائے ،،،، اپنی پاکباز بیوی کے کردار پر کیچڑ اچھالے ۔۔۔۔
کیونکہ ایسا کر کے آپ انکے نہیں بلکہ اپنے خود پر کیچڑ اچھالیں گے ،،،،،، وہ آپکا لباس ہیں ۔۔۔۔آپکی عزت ،،،،، آپکے ہی وجود کا حصہ ۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی نے آپکو انکا محافظ بنا کر بھیجا ،،،،، آپ انکے سائبان ہیں اور اگر آپ ہی ان پر ظلم کرنا شروع کر دے تو انکی کیا زندگی رہ جائے گی ۔۔۔۔۔
نبی پاک کا فرمان ہے کہ اگر کسی نے ایک پاک باز عورت پر جھوٹا الزام لگایا ،،،، اور پھر توبہ نہیں کی ،،،،، اور اسکے بعد وہ سو سال تک بھی مصلہ پر بیٹھا رہے ،،،، تو اللہ تعالٰی اس کے اعمال بنا تولے ہی اسے جہنم میں ڈال دے گا ۔۔۔۔
معاف کر دیں سائیں غلطی ہو گئی ۔۔۔۔
شرمندگی سے سر جھکا کر بولا ۔۔۔۔۔
آپکو معافی ہم سے نہیں بلکہ اپنی بیوی سے مانگنی چاہیے ۔۔۔۔
جس پر اس نظریں اٹھا کر اسکی لڑکی کی طرف دیکھا جو سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
اس نے غصے میں آ کر اسکے ساتھ سچ میں زیادتی کی تھی ۔۔۔۔
میں شرمندہ ہوں ۔۔۔۔مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔
جس کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔۔
جب ضارب شاہ نے اسے پیار سے مخاطب کیا ۔۔۔۔
بیٹا آپ کیا کہنا چاہیں گی ۔۔۔۔انہیں معاف کر کے اپنے گھر جانا چاہیں گی یاں پھر طلاق لینا چاہیں گی جو کہ اللہ تعالٰی کی نظر میں سب سے ناپسندیدہ عمل ہے ۔۔۔۔
آپ پر کوئی بھی دباؤ نہیں ہے آپ جو بھی فیصلہ لیں گی ہم اس میں آپکے ساتھ کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات سن کر اس نے پھوٹ پھوٹ رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
میرا صرف ایک سوال ہے سائیں ،،،،، یہاں موجود سب مردوں سے ۔۔۔۔۔
کہ ہر جرم کی سزا صرف ایک عورت کو ہی کیوں دی جاتی ہے ؟؟؟؟
چاہے گناہ کسی نے بھی کیا ہو ،،،،،
مجرم کوئی بھی ہو ،،،،،
کیا کسی بھائی کی بہن یا بیٹی ہونا اتنا بڑا گناہ ہے ؟؟؟؟؟
کیا عورت کی اپنی کوئی پہنچان نہیں ہوتی ؟؟؟؟
کیوں انکے کیے کی سزا ہمیشہ انکی بےقصور بہنوں اور بیٹیوں کو بھگتنی پڑتی ہیں ؟؟؟؟
کیوں ہمیشہ عورت کے ہی وجود اور عزت کو پامال کیا جاتا ہے ؟؟؟؟
آخر اصل گنہگار کو سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟؟؟؟
کیا ایک عورت ہونا بہت بڑا جرم ہے ؟؟؟؟؟
کیوں ہمیشہ بیٹیاں ہیں بےمول ہوتی ہیں ؟؟؟؟
ہر عمل کی جوابدہ ہوتی ہیں ؟؟؟؟؟
آخر مرد کیوں نہیں ؟؟؟؟
کیا عورت ذات کی کوئی عزت نہیں ہوتی ؟؟؟؟
مرد اسکی عزت نفس کو پیروں تلے روندتے ایک بار نہیں سوچتا ؟؟؟؟
کیوں ہمیشہ عورت سے ہی معافی کی توقع رکھی جاتی ہے ؟؟؟؟
کیوں ہر بار ایک عورت کو ہی جھکنا پڑتا ہے ؟؟؟؟؟
کیوں ،،،،، کیوں ،،،،، آخر ایک عورت ہی کیوں مرد کیوں نہیں ؟؟؟؟؟
اپنے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو سختی سے رگڑتے ہوئے سوال کیا تھا ۔۔۔۔
جس نے وہاں موجود تمام مردوں کی زبانوں پر تالے لگا دیئے تھے ،،،،، جبکہ عورتوں کی آنکھوں سے آنسو بےمول ہو کر زمین پر گرے ۔۔۔۔
کیونکہ اللہ تعالٰی نے عورت کو ایسی مٹی سے بنایا ہے ،،،،،، کہ اپنے اندر تمام غم سمیٹ لینے کے باوجود بھی سامنے والے کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے ۔۔۔۔
جو ایک مرد کے اندر بالکل بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔
ایک عورت کا دل موم کی طرح ہوتا ہے جو جلدی پگل جاتا ہے اور اسکے مقابلے میں مرد کا پتھر جیسا ۔۔۔۔جسکے گرد انا اور غرور کی دیواریں کھڑی ہوتی ہیں جو اسے جھکنے نہیں دیتی ۔۔۔۔
لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ عورت کی کوئی عزت نہیں وہ بےمول ہوتی ۔۔۔۔
اگر ایسا ہوتا تو ہمارے نبی پاک ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کبھی یہ نا فرماتے ۔۔۔۔
خداوند عالم عورتوں پر مردوں سے زیادہ مہربان ہے ۔۔۔اور اگر کوئی مرد اپنی محرم خواتین میں سے کسی کا دل خوش کرے گا تو خداوند عالم روز قیامت اسکا دل شاد کرے گا ۔۔۔۔
بیٹی کی ذات اگر مقدس نا ہوتی تو اللہ کبھی ہمارے نبی پاک ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کی اولاد کا سلسلہ حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہ ) سے شروع نا کرتا ہے ۔۔۔۔
نبی پاک کا فرمان ہے ۔۔۔۔۔
کہ بیٹے نعمت اور بیٹیاں نیکی ہیں اللہ پاک نعمتوں پر حساب لیتا ہے جبکہ نیکیوں پر ثواب عطا فرماتا ہے ۔۔۔۔
تو آپ بتائیں پھر بیٹی کی ذات بےمول کیسی ہوئی ۔۔۔۔۔
رسان سے سمجھاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
جس کے بعد کچھ پل کیلئے وہاں خاموشی چھا گئی تھی ۔۔۔۔
سائیں میں فلحال ان کے ساتھ نہیں جانا چاہتی ۔۔۔۔مجھے کچھ وقت چاہیے فیصلہ کرنے کیلئے ۔۔۔۔لیکن پلیز ان سے کہیں کے مجھے میرا بیٹا لٹا دیں ۔۔۔
بس اتنی سی التجا ہے ۔۔۔۔۔
جس پر ضارب نے آگے بڑھ کر اسکی سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔
جیسی آپکی مرضی ،،،،، آپکے ساتھ کوئی بھی کسی بھی قسم کی زبردستی نہیں کی جائے گی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ پہلی بار مسکرائی ۔۔۔۔
جس کے بعد ضارب نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے بچے کو ماں کے حوالے کرنے کا بولا ۔۔۔۔
اور اس آدمی کا جو بھی نقصان ہوا تھا اسکی بھرپائی کی بھی ہامی بھری تھی ۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ اس سارے معاملے میں جو اصل گنہگار تھا اسے ڈھونڈ کر سزا دینے کا بھی وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے فیصلے کو پورے گاؤں والوں نے سہرایا تھا ۔۔۔۔
حیدر شاہ اپنے پوتے کی سمجھداری پر اندر سے خوش تو تھے لیکن چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔
کیونکہ اتنا سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس نے ابرش کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔۔۔
جس پر وہ اسے آسانی سے معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں بڑی بی بی کنا چنگا ( کتنا پیارا ) فیصلہ کیتا ہے جی سردار سائیں نے ۔۔۔۔
ایک عورت دی (کی) ذات کنی ( کتنی ) مقدس ہوندی اے اے دسیا اے (ہوتی ہے یہ بتایا ہے )،،،، پنچائیت وچ (میں) موجود سارے مردوں کی آنکھیں کھول دی ہیں جی ۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی ساڈے سردار سائیں نوں لمبی عمر دیویں ۔۔۔۔ اوناں نوں صدا ساڈے سراں تے سلامت رکھے آمین ۔۔۔۔۔
( اللہ تعالٰی ہمارے سردار سائیں کو لمبی عمر دیں ۔۔۔۔انکو صدا ہمارے سر پر سلامت رکھے آمین )
رشیدہ (کام والی) آج کی پنچائیت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتی خوشی سے بولی ۔۔۔۔۔
جس پر اماں سائیں نے مسکراتے ہوئے دل سے آمین بولا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ انکے برعکس انکے ساتھ بیٹھی ہوئی ابرش نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔۔۔۔
یہ سب کچھ سن کر بھی وہ ایسے بیٹھی تھی جیسے کچھ سنا ہی نا ہو ۔۔۔۔۔
ضارب کے اس عمل پر اس کے اندر کوئی خوشی کا احساس نہیں جاگا تھا ۔۔۔۔
بلکہ وہ تو ایسے تھی جیسے وہاں موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔۔
البتہ ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ضرور تھی جو انکی زندگی میں آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھی ۔۔۔۔۔۔
