Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 15)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

اسے جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو اپنے کمرے میں موجود پایا اس نے جب اس پاس نظر پھیر کر دیکھا تو اس کی دائیں طرف سرہانے اس کے بابا سائیں موسی شاہ اس کے پاس بیٹھے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

جب کہ اس کی ماں نجمہ بیگم بائیں طرف بیٹھیں قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے اس پر پھونک رہی تھی دادا سائیں سمیت گھر کے باقی سب افراد بھی یہی موجود تھے۔۔۔۔۔۔

سوائے اماں سائیں کے کیونکہ اس کا کمرہ سیکنڈ فلور پر تھا ان کے گھٹنے میں درد ہونے کی وجہ سے وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔

اس لئے وہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھی اس کے لیے دعا کر رہی تھی جب اسے ہوش میں آتے دیکھ گھر والوں کو تھوڑا سا سکون ہوا تھا ۔۔۔۔۔ زر بیٹا کیسی طبیعت ہے اب آپ کی دادا سائیں نے آگے بڑھ کر شفقت سے گویا ہوئے تھے۔۔۔۔۔

جب کے ہوش کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اس کے ذہن کے پردے پر دوپہر کا ہولناک واقعہ پوری اپنی دل دہلا دینے والی حقیقت کے ساتھ بیدار ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

جس کی وجہ سے اس کے چہرے کا رنگ ایک بار پھر تبدیل ہوا ،،،،،،، جب کے اسے ایسے دیکھ کر نجمہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا تھا ان سے اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ ان کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر اس کے بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔

پریشان تو موسیٰ بھی ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا میری جان ،،،،،طبیعت ٹھیک ہے آپکی ؟؟ نجمہ بیگم اسکا سر اپنے سینے سے لگاتے محبت سے گویا ہوئی تھیں ۔۔۔۔وہ ابھی تک اسی ڈر کے زیرے سایہ تھی لیکن پھر اپنی ماں کی بھیگی آواز سنتی ،،،،، گھر والوں کے پریشان چہرے دیکھتی جلد ہی خود کو کمپوز کر گئی ۔۔۔۔۔

بھلا کیا ضرورت تھی آپ کو پیپرز کی اتنی ٹینشن سر پر سوار کرنے کی۔۔۔۔۔۔

جس کی وجہ سے کچھ بھی کھائے پئے بنا آپ سارا دن بھوکی رہی اور اپنی حالت ایسی کر لی آپ جانتی ہو نا کے آپ میں ہماری جان بستی ہے پھر آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں ۔۔۔۔۔نجمہ بیگم نے اسے دھیرے سے خود سے الگ کرتے ہوئے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے مصنوعی غصے سے ڈانٹا تھا۔۔۔۔۔

جبکہ ان کی بات پر وہ حیرانی سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

لیکن پھر اس کی نظر زارون پر پڑی تھی جو اسے آنکھوں سے کچھ اشارہ کر رہا تھا جسے سمجھتے ہوئے وہ مطمئن سی مسکرائی ۔۔۔۔

کچھ نہیں ماما بس ویسے ہی سوچا تھا کے بعد میں کھا لوں گی لیکن ٹائم ہی نہیں ملا ۔۔۔۔۔

وہ مسکرا کر کہتی نے انہیں سینے سے لگا گئی ۔۔۔۔۔

پھر بھی بیٹا پڑھائی اپنی جگہ لیکن سب سے پہلے آپ کو اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے تھا اور آئندہ میں آپ کو ایسے بے احتیاطی کرتے ہوئے نہ دیکھو اس کی صبیح پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیتے وہ پیار سے بولی تھی۔۔۔۔

زرمینے بیٹا اب کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔ میں اب بالکل ٹھیک ہوں دادا سائیں ،،،،، حیدر شاہ کے دوبارہ پوچھنے پر اس نے ادب سے جواب دیا تھا۔۔۔۔

جیتی رہیں ۔۔۔۔۔جس پر وہ شفقت سے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتے باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔

لیکن جاتے ہوئے موسی شاہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرگئے تھے۔۔۔۔۔

جب وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے زر بیٹا پلیز اپنا دھیان رکھا کریں۔۔۔۔ آپ جانتی ہیں نا آپ ہماری کل کائنات ہیں آپ کی ذرا سی تکلیف آپ کے بابا سائیں برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔

اپنی خاطر نہیں تو ہماری خاطر اپنا خیال رکھا کریں ۔۔۔۔۔

وہ اسے اپنے سینے سے لگاتے محبت سے گویا ہوئے۔۔۔۔۔۔

جب کے ان کی اتنی محبت پر زر کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جنہیں اس نے بمشکل خود پر کنٹرول ہوتے باہر نکلنے سے روکا تھا۔۔۔۔۔

ایک پل کے لیے تو اس نے سوچا کے کالج میں رونما ہونے والا واقعہ اپنے بابا کے گوش گزار کر دے کہ کیسے ایک وحشی درندے نے اس کی آنکھوں کے سامنے دو بے قصور لوگوں کا قتل کردیا لیکن پھر اس کے کانوں میں اس کی سرسراتی ہوئی سرگوشی سنائی دی۔۔۔۔۔

جس پر وہ ایک جھرجھری لے اٹھی ۔۔۔۔۔

میں بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہوں بابا آپ کے بنا آپ کی زر کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔

آپ دونوں ہی میری زندگی ہیں۔۔۔۔۔

وہ ان دونوں کے ہاتھوں پر باری باری بوسہ دیتی ایک ساتھ گلے لگا گئی۔۔۔۔۔

چلے اب آپ آرام کریں ۔۔۔۔۔

ہم چلتے ہیں موسی شاہ محبت سے اس کے سر پر بوسہ دیتے اٹھ گئے تھے۔۔۔۔۔ جس پر وہ مسکرا کر سر ہلا گی۔۔۔۔۔

جبکہ ان کے جاتے ہی ابیہا اور ابرش نے اس پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیز ،،،،، تم نے تو ہماری جان ہی نکال دی تھی اگر اتنی ہی بھوک لگی تھی تو مجھے بتا نہیں سکتی تھی اپنی طبیعت خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔

ابرش اسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ جب کے اتنے پیار پر وہ انہیں اپنے سینے میں بھینچ گئی وہ انہیں کیسے بتاتی ایک پل کے لئے وہ کتنا ڈر گئی تھی اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اس وقت مو*ت ناچتی ہوئی نظر آ رہی تھی اسے لگا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو اب کبھی نہیں دیکھ پائے گی۔۔۔۔۔۔

جیسے اس وحشی نے اس کے گلے پر چا*قو رکھا تھا اسے اپنا آخری وقت قریب لگ رہا تھا اس نے تو دل میں کلمہ پڑھنا بھی شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔

لیکن پھر اس کے دھمکی دینے کے بعد چھوڑ دینے پر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی باہر کی طرف بھاگی تھی اور ان سب میں اس کے سر پر اس درندے کا اتنا ڈر حاوی ہوگیا تھا کہ وہ اپنے حواس قائم نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔۔۔

لیکن وہ یہ سب اپنے گھر والوں کو بتا کر انہیں نئی پریشانی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے وہ ان دونوں سے مسکرا کر الگ ہوتی ابرش کو مصنوعی گھوری سے نواز گئی۔۔۔۔

جبکہ ان کے نوک جھونک کو دیکھتے نجمہ اور عظمی بیگم محظوظ ہو رہی تھی۔۔۔۔

اچھا زر مجھے بتائیں کے کیا کھائیں گی آپ میں اپنی بیٹی کے لئے اپنے ہاتھوں سے بنا کر لاتی ہوں ،،،، اس کی بھوک کا احساس کرتے نجمہ بیگم محبت سے گویا ہوئی تھی۔۔۔۔۔

ماما آپ جو بھی بنا دیں گی میں وہ شوق سے کھا لوں گی وہ فرمانبرداری سے بولی تھی

جس پر وہ خوش ہوتی ایک بار پھر اس کے سر پر بوسہ دیتیں اٹھ گئی تھی جس کے پیچھے ہی عظمی بیگم بھی اسے پیار کرتی چلی گئی پیچھے اب کمرے میں بس اس کے ساتھ ابرش ابیہا کے ساتھ زارون رہ گئے تھے۔۔۔۔۔

جب اسے اپنے چہرے پر زارون کی لوہ دیتی نظریں محسوس ہوئی۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو اسے آپ نے دوپہر کی حرکت یاد آئی

جس کی وجہ سے اس کا چہرہ پورہ سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔

زارون جو اس کے چہرے کی طرف ہی دیکھ رہا تھا اس کا اپنی طرف دیکھ کے نظر جھکانا اور پھر اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھتا معاملے کی تہہ تک پہنچ کر لب دباتا مسکراہٹ چھپا گیا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر اسے زرمینے کا دوپہر کو پھوٹ پھوٹ کر رونا یاد آیا جس سے اس کے مسکراتے لب فورن سکڑے تھے

وہ گھر میں کسی کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی۔۔۔۔

لیکن بعد میں زر سے پوچھنے کا ارادہ ضرور رکھتا تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا جو اس کی حالت اس حد تک خراب ہوگئی۔۔۔۔۔

لیکن فی الحال اپنے دماغ سے ہر برا خیال جھٹکتے ہوئے زر کے معصوم چہرے کو اپنی نگاہوں میں سماتے باہر کی طرف بڑھ گیا تاکہ عظمی اور نجمہ بیگم سے اپنے لیے بھی کچھ بنواکر کھا سکے۔۔۔

کیوں کے اس کی ٹینشن میں اس نے بھی دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا اور اب سب کچھ ٹھیک ہوتے ہیں اس کی بھوک بھی جاگ اٹھی تھی۔۔۔۔۔

********

رات کا دوسرا پہر ہر طرف خاموشی کا راج سر سراتی ہوئی یک بستہ ٹھنڈی ہوائیں ۔۔۔۔۔

کالے آسمان پر سرخ بادلوں نے چادر اوڑھ رکھی تھی۔۔۔۔

جبکہ ہوا کے زور پر کھڑکی کے پردے پھڑ پڑا رہے تھے۔۔۔۔۔

ایسے میں وہ اپنے نرم آرام دہ بستر پر محو خواب تھی۔۔۔۔۔

جب اسے اپنے اوپر ایک بھوج سا محسوس ہوا یکدم جیسے سانس بند ہونا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

وہ اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا وجود جیسے ساکت تھا وہ چاہ کر بھی حرکت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

جب اسے اپنے کان پر انجانا سا لمس محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

جیسے کوئی اس کے کان کے بالکل قریب لب رکھ کر سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا بس اسے اس وجود کی سلگتی ہوئی سانسیں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

” یو آر مائن “

بس اس ایک لفظ کے جسے اس کے کان میں بہت شدت سے ادا کیا گیا تھا اور پھر بار بار دہرایا گیا

جیسے اسے باور کرایا گیا ہو۔۔۔۔۔۔

کہ وہ صرف اس کی ہے۔۔۔۔۔۔

اور پھر یکدم اس سے سارا بوجھ اتر گیا جیسے کسی نے اپنی گرفت سے آزاد کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے بیدار ہوتی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

نائٹ لیمپ کی روشنی میں اس کاخوبصورت سراپا گہری سانسیں بھر رہا تھا

جبکہ فل اے سی کی کولنگ میں بھی اس کی پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے کمرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی تھی۔۔۔۔۔ لیکن وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔

بس ہوا کے زور پر کھڑکی کے ہلتے پٹ اور اڑتے پردے اس گہری خاموشی میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اٹھ کر کھڑکی کے باہر دیکھا لیکن وہاں اندھیرے اور خاموشی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا پھر اس نے اسے بند کرتے پردے برابر کر دیے تھے ۔۔۔۔۔۔

وہ آس پاس نظریں ڈوراتی۔۔۔۔۔ اسے اپنا ایک خواب سمجھتے ہوئے سر جھٹک کر دوبارہ بستر پہ لیٹ گئی لیکن اس بار نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔۔

*********

زر حویلی کے لیفٹ سائیڈ میں یہاں جھولا رکھا گیا تھا جس کے اطراف میں مختلف پھولوں کی بیلیں لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

اداس سی بیٹھی تھی وہ چاہ کر بھی کل کے واقعے کو اپنے ذہن سے نہیں جھٹک پا رہی تھی۔۔۔۔۔

اور مجبوری توں یہ تھی کہ وہ اس بارے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔

جب ابیہا وہاں آئی تھی۔۔۔۔۔

کیا ہوا زر ایسے کیوں یہاں بیٹھی ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری،،،،،، جس پر وہ یکدم چونکی تھی۔۔۔۔

ہاں طبیعت ٹھیک ہے میری بس ویسے ہی ،،،،،، اتنا کہتے ہی وہ خاموش ہو گئی جب کہ اس کی آواز میں اداسی گھلی ہوئی تھی جس سے ابیہا نے شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔۔

ابھی وہ اسے کچھ کہتی جب زارون وہاں آیا تھا۔۔۔۔۔

“ہے گرلز واٹس اپ”

کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔ جبکہ اس کے ہشاش بشاش لہجے پر ابیہا نے مسکرا کر جواب دیا تھا لیکن زر چاہ کر بھی مسکرا نہ سکی۔۔۔۔۔۔

سب کچھ ٹھیک ہے جب کہ اس کے جواب نہ دینے پر اس نے حیرت سے استفسار کیا تھا۔۔۔۔۔

لیکن جواب اب بھی نداد تھا۔۔۔۔۔

اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میرے پاس تم لوگوں کے لیے ایسا سرپرائز ہے جسے سنتے ہی تمہاری اداسی دور ہو جائے گی۔۔۔۔

اچھا اور وہ کیا ہے ابیہا اشتیاق سے گویا ہوئی تھی۔۔۔۔

ضارب لالہ نے الیکشن جیتنے پر ہمیں ٹریٹ دینے کا جو وعدہ کیا تھا۔۔۔۔۔

تم لوگوں کو یاد تو ہوگا ہی جو ہمارے ایگزامز کی وجہ سے درمیان میں ہی رہ گئی تھی۔۔۔۔

ابھی ان سے ہی بات کر کے آ رہا ہوں۔۔۔۔۔ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر آج انہوں نے ہمیں شہر بلایا ہے۔۔۔۔۔

اس لیے جلدی جلدی تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔۔ ہمیں ابھی کچھ دیر میں نکلنا ہے۔۔۔۔۔

جب کہ اس کی بات سنتے زر اور ابیہا خوشی سے کھل اٹھی تھیں۔۔۔۔۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے تم نے ابرش کو بتایا۔۔۔۔ ابیہا جوش سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔

نہیں ابھی تو نہیں بتایا سب سے پہلے آپ لوگوں کو ہی بتایا ہے۔۔۔۔

آپ لوگوں اسے بھی بتادو اور جلدی سے تیار ہوجاؤ ہمیں کچھ دیر میں نکلنا ہے وہ اتنا کہتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا تیار ہونے کیلئے ۔۔۔ پیچھے زر اور ابیہا نے ابرش کے کمرے کی طرف دوڑ لگائی تھی۔۔۔۔

********

یہ لوگ تقریبا دوپہر کے بارہ بجے کے قریب شاہ مینشن پہنچے تھے۔۔۔۔۔

یہاں ضارب شاہ ان کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔

ابیہا تو جاتے ہیں اس کے گلے کا ہار بنی تھی۔۔۔۔ جس پر وہ مسکراتا اس کے سر پر محبت سے بوسہ دیتا سینے میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔

کیسا ہے ہمارا بچہ اسے آرام سے خود سے الگ کر کے پیار سے پوچھا تھا۔۔۔۔

میں بالکل ٹھیک ہوں آپ بتائیں آپ کیسے ہیں ۔۔۔۔۔

ہم بھی بالکل ٹھیک۔۔۔۔۔

اسے محبت سے جواب دیتے زارون کی طرف اپنا رخ کیا جو اس سے ملنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔

اس سے گلے ملتے اور ابرش زرمینے کے سلام کا جواب دیتے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے صوفے پر براجمان ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔

جب کہ ملازمین چائے کے ساتھ دوسرے لوازمات ٹیبل پر سجانے لگے تھے جن کا اس نے انہیں ان کے پہنچنے سے پہلے ہی حکم دے رکھا تھا۔۔۔۔۔۔

جس سے فارغ ہو کر ان لوگوں نے باہر چلنے کا شور مچانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔

اچھا ٹھہرے پہلے ہمیں بتائیں تو سہی کہ آپ لوگ کہاں جانا چاہتے ہیں ہیں۔۔۔۔۔

لالہ سب سے پہلے ہم شاپنگ پر جائیں گے اس کے بعد اچھے سے ریسٹورنٹ میں لنچ کریں گے اور اس کے بعد آئس کریم۔۔۔۔ اس کے سوال کے جواب میں ابیہا پر جوش نے بولی تھی۔۔۔۔

جس کی تائید میں زر نے بھی زور و شور سے سر ہلایا تھا۔۔۔۔۔ البتہ ان سب میں ابرش خاموش تھی۔۔۔۔

وہ تو یہاں آنا بھی نہیں چاہتی تھی ابیہا اور زرمینے کے زبردستی کرنے پر مجبوری میں تیار ہوئی تھی کیونکہ ان لوگوں نے اسے ناراض ہونے کی دھمکی دی تھی۔۔۔۔

جبکہ ان کی ڈیمانڈ سن کر زارون کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھی اس نے تو بس باہر کھانے کا سوچ رکھا تھا لیکن یہ لڑکیاں تو بہت آگے کی چیز تھی۔۔۔۔۔۔

مطلب اچھی خاصی ضارب شاہ کی جیب خالی کروانے کا پلین بنا رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ابیہا کے عجلت میں جواب دینے پر ضارب مسکرا کر سر ہلا گیا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے جیسے آپ لوگوں کی خواہش ۔۔۔۔۔ لیکن یہ شاپنگ والا کام ہمارے لئے تھوڑا مشکل ہے۔۔۔۔۔

اور ہمارے پاس زیادہ ٹائم بھی نہیں پورے تین بجے بہت امپورٹ میٹنگ میں پہنچنا ہے۔۔۔۔

لیکن لنچ کے بعد ہم آپ کو اپنا کریڈٹ کارڈ دے دیں گے آپ اپنی مرضی سے زارون کے ساتھ جاکر شاپنگ کر لیجئے گا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔

وہ لوگ تو اس کے مان جانے پر ہی خوش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ زارون کا ان کے ساتھ شاپنگ پر جانے کا سن کر ہی منہ بن گیا تھا۔۔۔۔۔

مطلب وہ آج اچھا خاصا ان کے پیچھے خوار ہونے والا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن ضارب کے سامنے انکار کرنے کی اس میں ہمت ناپید تھی۔۔۔۔۔

*********

ضارب شاہ نے انہیں شہر کے سب سے مہنگے ہوٹل میں اپنی جیت کی ٹریٹ دینے تھی ۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد سب نے اپنے اپنے فیورٹ فلیور کی آئسکریم منگوائی تھی۔۔۔۔۔

سوائے ضارب شاہ کے کیونکہ اسے میٹھا کھانا زیادہ پسند تھا ۔۔۔۔۔البتہ کھانے کے بعد سگریٹ ضرور سلگا لی تھی ۔۔۔۔

جسے دیکھتے ابرش نے دل میں ہی ناک منہ چڑھائی تھی ۔۔۔اسے ایک اور وجہ مل گئی تھی ۔۔۔ضارب سے خار کھانے کی ۔۔۔۔

ضارب نے سپیشلی ان لوگوں کے لئے فیملی کیبن بک کروایا تھا تاکہ وہ لوگ ریلیکس ہو کر انجوائے کر سکے۔۔۔۔۔

اور کچھ ضارب شاہ کے پہلی بار فیملی کے ساتھ آنے پر ہوٹل کے اونر نے انہیں سپیشل پروٹوکول دیتے ہوئے شاندار استقبال کیا تھا۔۔۔۔۔

یہ لوگ جس کیبن میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔ اسے جگہ جگہ ریڈ روز ز بکیز کے ساتھ سجایا گیا تھا۔۔۔۔

ابھی وہ لوگ آئس کریم انجوائے کر رہے تھے جب زرمینے کا ہاتھ لگنے کی وجہ سے ابیہا کےکپڑوں پر تھوڑی سی آئس کریم گر گئی ۔۔۔۔۔

وہ جو بلیک حجاب کے ساتھ کالی پاؤں کو چھوتی فراک میں ملبوس تھی۔۔۔۔۔ فورا کپڑوں کو جھٹکتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔

سوری یار میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔۔۔۔ زر نے شرمندہ ہوتے فورن معذرت کی تھی۔۔۔۔

کوئی بات نہیں وہ اپنے کپڑوں کو ٹشو سے صاف کرتی مسکرا کر کہتی واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اپنے کپڑوں کو اچھے سے صاف کرکے بیوہ کی طرف جا رہی تھی جب راستے میں سامنے سے آتے وجود سے ٹکرا گئی۔۔۔۔۔۔

سوری ،،،،،سوری،،،،، وہ فورا معذرت کرتی ابھی اس کے چہرے کی طرف دیکھتی کہ پیچھے سے آتی ابرش کی آواز نے اس کا دھیان اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔۔۔

وہ سامنے موجود وجود کو بنا دیکھے ہی ایک بار پھر معذرت کرتی ہوئی اس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

جبکہ اسے دیکھتے ہی سامنے والا تو جیسے ساکت ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اس کی جھکی ہوئی نظریں معذرت کے لیے ہلتے لب سامنے والے کو مہبوت کر گئے تھے۔۔۔۔

اور سب سے بڑھ کر اس کا خوبصورت چہرہ اسے کسی کی شدت سے یاد دلا گیا تھا۔۔۔۔

جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری تھی۔۔۔۔۔

اس کے سامنے سے ہٹتے ہی وہ کسی ٹرانس کی کیفیت سے باہر نکلا تھا اور پھر پرسوچ نظروں سے اس کی پشت کو دیکھنے لگا جو کہ ابرش کے ساتھ واپس کیبن کی طرف بڑھ رہی تھی اس کی چمکتی آنکھوں نے اسکے کالے آنچل کو دروازے کے پیچھے گم ہونے تک دیکھا تھا۔۔۔۔

اس کے چہرے پر تھوڑی عجیب مگر معنی خیز سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔

پھر وہ کچھ سوچتا ہوا اپنی ٹیبل کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔ یہاں اس کے بزنس پارٹنرز اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔

********

جب وہ لوگ فری ہو کر باہر نکلے تو تقریبا ڈھائی بجے سے اوپر کا ٹائم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

ضارب جس نے پورے تین بجے بہت اہم میٹنگ میں پہنچنا تھا۔۔۔۔۔ انہیں ادھر سے ہی الوداع کہتا زارون کے ہاتھ میں اپنا کریڈٹ کارڈ دیتے انہیں شاپنگ کروا کر حفاظت سے حویلی لے جانے کی تاکید کرتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

ابیہا جب سے ظاہر آئی تھی اسے اپنی پشت پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

جس پر وہ بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتی لیکن کوئی بھی اسے اپنی طرف متوجہ نظر نہیں آتا۔۔۔۔

لیکن پھر وہ اسے اپنا وہم سمجھتی ہوئی زرمینے کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر براجمان ہوگی۔۔۔۔

جس کے بیٹھتے ہی زارون نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔۔۔ ابرش بھی ابھی دروازہ کھول کر اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے ہی والی تھی جب اسے سڑک کے بیچوں بیچ ایک بلی کا بچہ نظر آیا تھا اور ساتھ ہی اس کی طرف بڑھتی ہوئی تیز رفتار گاڑی بھی ۔۔۔۔۔

اس نے بیٹھنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے فورا اس طرف دوڑ لگائی تھی تاکہ اس بلی کے بچے کو محفوظ کر سکے۔۔۔۔

لیکن ان سب میں وہ یہ بھول گئی کہ اسے بچانے کے چکر میں اس کی اپنی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔۔۔۔

اس نے جب تک وہاں پہنچ کر اس بلی کے بچے کو اٹھایا تب تک وہ گاڑی اس کے بالکل قریب آ چکی تھی جسے بالکل سامنے دیکھتے ہی وہ بجائے پیچھے ہونے کے ڈر کر کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کر گئی۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ گاڑی اس سے ٹکراتی کسی نے اسے بازو سے پکڑتے پوری شدت سے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔

جس سے وہ سیدھا سامنے والے کے کشادہ سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *