Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 57)Part 2
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 57)Part 2
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
اسکے ری ایکشن کو دیکھ کر ابرش کی چیخ بےساختہ تھی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ ابھی سنبھل بھی نہیں پائی تھی جب ضارب نے بیڈ پر پڑا بلینکٹ اٹھا کر زمین پر پھینکا اور اسے بالوں سے پکڑ کر اپنے مقابل کرتے جب بولا تو ابرش کو روح تک لرزہ گیا ۔۔۔۔۔
آپ نے صرف ہمارا نرم رویہ دیکھا ہے ۔۔۔۔۔جس دن آپ ہمارے اصل روپ سے روشناس ہوئی یقین مانیے گا آپکی یہ چلتی ہوئی دھڑکنیں رک جائیں گی ۔۔۔۔
یہاں تک کہ آپکی سانسیں تھم کر آپکا وجود بےجان ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
آپ کے منہ سے یہ نکلے ہوئے لفظ ہم صرف اس لیے برداشت کر گئے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ کہیں نا کہیں ہمیں لگتا تھا کہ ہم نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے ۔۔۔۔۔
لیکن اب اگر دوبارہ آپ نے کچھ الٹا سیدھا بولا یا پھر ہمارے بچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو یاد رکھیے گا ۔۔۔۔۔
ضارب شاہ آپکو اسکی ایسی بھیانک سزا دے گا ۔۔۔۔۔کہ آپ نا زندوں میں رہیں گی نا مردوں میں ۔۔۔۔
آپ نے صرف ضارب کو جانا ہے ابھی سمجھا نہیں ۔۔۔۔۔
کیونکہ اگر آپ ہمیں سمجھتیں تو کبھی اپنے منہ سے یہ الفاظ نکالنے کی غلطی نا کرتیں ۔۔۔۔
ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولتا اسے ایک جھٹکے سے بیڈ پر دھکیلتے کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
پیچھے تکلیف کے آثار سے ابرش نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔” کیونکہوہ ہمیشہ اسے اپنے نرم لمس سے نوازتا آیا تھا آج غصے کی انتہا میں اسے درد دینے کا سبب بن گیا تھا ۔۔۔۔
ابرش نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔کہ اس نے اپنی نادانی میں کتنی بڑی غلطی کر دی تھی ۔۔۔۔۔
وہ جو اپنے اندھیروں کو بھولا کر اسکی محبت کے ننھے جگنوؤں کی روشنی کو دیکھ اسکی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔
اپنے تلخ اور تکلیف دہ ماضی کو فراموش کر کے اپنی باربی کے سنگ خوشیوں بھری زندگی گزارنے کے سپنے سجانے لگا تھا ۔۔۔۔۔
جسے حقیقت بننے سے پہلے ہی اس نے توڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے اپنے لفظوں کے نشتر سے اسکے پہلے سے زخم زخم دل کو مزید لہو لہان کیا تھا ۔۔۔۔۔
جس کی تکلیف پر اب کہ وہ تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔۔
اور وہ جو اسکا ساتھ پاتے بدلنے لگا تھا ،،،،، زندگی کو بھوج سمجھ کر صرف گزارنے نہیں بلکہ کھل کر جینے لگا تھا ۔۔۔۔” صرف دکھاوے کیلئے ہی نہیں بلکہ دل سے مسکرانے لگا تھا
ابرش نے اسے واپس انہی اندھیروں میں دھکیل دیا ۔۔۔۔
اسکے اندر کے سوئے ہوئے حیوان کو جگایا ۔۔۔۔” اسے بار بار دھتکارتے اسکی انا کو ٹھیس پہنچائی تھی ۔۔۔۔”
وہ نہیں جانتی تھی کہ اپنی بیوقوفی میں کس طوفان کو چھیڑ بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔” جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جانی کی طاقت رکھتا تھا ۔۔۔۔۔
ضارب شاہ اپنوں کیلئے ٹھنڈی چھاؤں جیسا تھا ۔۔۔۔جبکہ دشمنوں کیلئے بارود کی آگ جیسا جو پل میں سب کچھ جلا کر راکھ کر دے ۔۔۔۔
اور یہ بیوقوف لڑکی اس سے الجھنے نکلی تھی ۔۔۔۔
ابرش کی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے ۔۔۔۔۔اس نے نفرت سے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا ۔۔۔۔۔ اسے ضارب شاہ کے وجود سے نفرت ہونے لگی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا ۔۔۔۔ کہ اپنے وجود سے اسکے لمس کو نوچ کر اتار دیتی ۔۔۔۔
اسکی محبت اسکی طلب جو اسکی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگی اس سے چھٹکارا حاصل کر سکتی ۔۔۔۔وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔”کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی اپنے دل سے اسکی محبت نہیں نکال سکتی ۔۔۔
اسکا نام اپنے نام جدا نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
کہنے کو تو اس نے بول دیا تھا کہ وہ اس سے طلاق لے گی ۔۔۔۔لیکن یہ تو اسکا دل ہی جانتا تھا یا پھر اسکا خدا کہ اندر سے کیسے وہ اپنے ہی لفظوں پر تڑپ اٹھی تھی ۔۔۔۔
لیکن جو یہ کچھ بھی تھا اسے اپنی عزت نفس سے بڑھ کر عزیز بالکل نہیں تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ کسی بھی قسم کا کمپرومائز نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔
وہ ضارب شاہ کو اسکے لفظوں کی سزا دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔اسے تڑپانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ٹھہری تھی ۔۔۔۔
لیکن ساتھ ساتھ اسکی تکلیف پر نا چاہتے ہوئے خود بھی تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔اندر سے گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہی تھی ۔۔۔۔ اسے اپنی بےبسی پر اب غصہ آنے لگا تھا ،،،،، لیکن وہ کسی بھی قیمت پر ضارب کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی ۔۔۔۔
لیکن ضارب نے جو اسکا مان توڑا تھا اسکی بےرخی اور اپنی ذات کی بےوقتی اسکی آنکھوں میں آنسو لے آتی تھی جس پر اسکا اختیار نہیں تھا ۔۔۔۔
میں آپکو کبھی معاف نہیں کروں گی ضارب شاہ ۔۔۔۔۔” کبھی نہیں ۔۔۔۔”
اور اب بھی اسکی سخت باتوں کو یاد کرتے اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ دوبارہ اپنے گھٹنوں میں چہرہ چھپا کر زار و قطار رونے لگی ۔۔۔۔
جب اسکے لمبے خوبصورت گھنگھریالے بال کھل کر اسکی کمر اور باقی وجود کو مکمل چھپا گئے ۔۔۔۔۔
اب کیا لکھے ہم کاغذ پر
اب لکھنے کو کیا باقی ہے ۔۔۔
اک دل تھا وہی ٹوٹ گیا
اب لکھنے کو کیا باقی ہے ۔۔۔
اک شخص کو ہم نے چاہا تھا
اک ریت پر نقش بنایا تھا
ان ریت کے ذروں کو ہم نے
پھر اپنے دل میں بسایا تھا
وہ ریت تو کب کی بکھر گئی
وہ نقش کہاں اب باقی ہے ۔۔۔
اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر
اب لکھنے کو کیا باقی ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کہہ رہے ہو شہیر خان کیا یہ بات سچ ہے ۔۔۔۔۔” حیدر شاہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے خوشی سے بولے ۔۔۔۔
جی شاہ سائیں ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
آپ پردادا بننے والے ہیں والے ہیں ۔۔۔۔ ویسے تو آپکو یہ بات سردار سائیں خود بتاتے لیکن مجھ سے صبر نہیں ہوا اس لیے فورا آپکو فون کر دیا ۔۔۔۔
بہت اچھا کیا آپ نے ۔۔۔۔ہم بتا نہیں سکتے آپکو یہ خبر سن کر ہمیں کتنی خوشی ہوئی ہے ۔۔۔۔
آپکے سردار سائیں کہاں ہیں ذرا ہم سے بات کروائیں انکی تاکہ ہم انہیں مبارکباد دے سکیں ۔۔۔۔
جی وہ اپنے کمرے میں بی بی سائیں کے پاس ہیں ۔۔۔۔انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے انکا خاص خیال رکھنے کا بولا ہے ۔۔۔۔بس اسی لیے ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔
چلیں ٹھیک ہیں ۔۔۔۔ہم ان سے بعد میں بات کر لیں گے ۔۔۔۔بلکہ ایک کام کرتے ہیں خود وہاں آ کر انہیں سرپرائز دیتے ہیں ۔۔۔۔
آپ بھی انہیں مت بتایئے گا ہمیں پتا چل چکا ہے ۔۔۔۔ہم یہ خبر روبرو آ کر ان کے لبوں سے سنے گے ٹھیک ہے ۔۔۔۔
جو حکم ۔۔۔”
اور شہیر خان کوئی جشن وشن کا انتظام کروائیں ۔۔۔۔ آخر اتنی بڑی خوشخبری ملی ہے ۔۔۔ہم بھی پہنچتے ہیں کچھ دیر میں ۔۔۔۔
جو حکم شاہ سائیں ۔۔۔
اسکی بات سن کر حیدر شاہ نے فون رکھا تھا ۔۔۔۔اور پھر اپنے کمرے سے باہر کی طرف بڑھے تاکہ سب کو یہ خوشخبری سنا سکیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
خان حیدر شاہ کے پہنچنے سے پہلے تمام انتظامات مکمل کر چکا تھا ۔۔۔۔ جسکی ابھی تک ضارب کو بھنک نہیں پڑی تھی ۔۔۔۔
وہ تو ابرش کی باتوں سے دل برداشتہ گھر سے ہی باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔لیکن جلد بازی میں ایک ضروری فائل گھر پر ہی بھول گیا ۔۔۔۔۔
جسے خان کو گھر سے لانے بھیجا ۔۔۔۔کیونکہ اس کے علاوہ وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی وہ راستے میں ہی تھا ۔۔۔۔” جب راستے میں اسے ایک گاڑی کھڑی نظر آئی ۔۔۔۔جس میں بیٹھی لڑکی نے اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
شاید نہیں بلکہ یقینا وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔
اسکے ہاتھوں اور گاڑی کو دیکھتے ہوئے اسے کسی کا گھمان گزرا ۔۔۔۔” شاید وہ اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔
شاید وہ لڑکی کسی پریشانی میں تھی ۔۔۔۔ جسے محسوس کر کے اس نے نا چاہتے ہوئے بھی بریک لگائی ۔۔۔۔۔
اور گھڑی میں ٹائم دیکھا جس پر شام کے پانچ بجے تھے ۔۔۔۔۔ اگرچہ یہ راستہ زیادہ سنسان نہیں تھا لیکن بہت زیادہ آباد بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
جو ایک لڑکی ایسے گاڑی روک کر بیٹھی رہتی تھی ۔۔۔۔
اس نے اپنے گاڑی پیچھے لیتے اسکے قریب لا کر روکی ۔۔۔۔ اور باہر نکلتے ہوئے سیدھا اسکی گاڑی کا شیشہ بجایا ۔۔۔۔
جس سے لڑکی نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے ۔۔۔۔” اور حیرت سے شیشے کے باہر دیکھا ۔۔۔۔
جس کے چہرے کو دیکھتے پہلی نظر میں ہی اسے پہنچان گیا تھا ۔۔۔۔
وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ زرتاشے تھی ۔۔۔۔۔
پہچان تو زرتاشے بھی اسے گئی تھی ۔۔۔۔جس پر یکدم اپنے آنسو صاف کرتے خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے آپ ایسے راستے میں گاڑی روک رو کیوں رہی ہیں ۔۔۔۔ اینی پروبلم ؟؟؟؟
اسکے روئے روئے سنہری رنگت والے چہرے کو دیکھتے جس میں سرخیاں سی گھلی ہوئی تھیں نرمی سے سوال کیا ۔۔۔۔۔
جس کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔
محترمہ میں آپ سے ہی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔
خان نے دوبارہ اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔
وہ ،،،،، وہ میری ،،،، گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔
نم لہجے میں اپنی پروبلم بتائی ۔۔۔۔
حد ہے تو اس میں رونے والی کیا بات ہے گاڑی سے باہر نکل کر چیک کر لیتی جا پھر کسی کو فون کر کے بلا لیتی ۔۔۔۔
ایسے گاڑی میں بیٹھ کر رونے کا کیا جواز بنتا ہے بیوقوف ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے ڈانٹنے پر زرتاشے کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو پھسلے تھے ۔۔۔۔
جس پر اس نے گہرا سانس لیا ۔۔۔اور اسکے معصوم چہرے سے نظریں چراتے جو اسکے سنہرے گندمی حسن کو دیکھتے بھٹکنے لگی تھیں ۔۔۔۔
نفی میں سر ہلاتے بونٹ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
اور پندرہ بیس منٹ تک اس کے ساتھ دماغ کھپانے کے بعد اسے گاڑی سٹارٹ کرنے کا بولا ۔۔۔۔
جس پر اس نے اپنے آنسو صاف کرتے فورا چابی گھمائی ۔۔۔۔
ایک بار ،،،، دو بار ،،،، تین بار
لیکن جب گاڑی سٹارٹ نا ہوئی تو خان گاڑی کا بونٹ بند کرتے دوبارہ گاڑی کی کھڑکی کی طرف آیا ۔۔۔۔
زرتاشے نے امید بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
یہ ٹھیک نہیں ہو رہی مجھے لگتا ہے کوئی مسئلہ ہے ۔۔۔۔ جسے مکینک ہی ٹھیک کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔ ایسا کریں آپ میرے ساتھ آئیں میں آپکو گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔
گاڑی میں کسی سے ٹھیک کروا کر آپکے گھر پہنچا دوں گا ۔۔۔۔
آ جائیں ۔۔۔۔
لیکن زرتاشے نے اسکی بات پر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
جس پر خان کو اب غصہ آیا ۔۔۔۔
آپ کہیں پاگل واگل تو نہیں ہو گئی ۔۔۔۔میں کہہ رہا ہوں کہ میں آپکو گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔ویسے بھی ابھی کچھ ہی دیر میں اندھیرا ہو جائے گا ۔۔۔۔
ایسے میں آپکا یوں اکیلے گاڑی میں بیٹھے رہنا سیو نہیں ۔۔۔۔
جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔البتہ دوبارہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔
خان کو اب تشویش کے ساتھ پریشانی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔
کیونکہ پچھلی ملاقات میں اس نے زرتاشے کو جتنا جانا تھا وہ ایسی تو نہیں تھی کہ صرف گاڑی خراب ہونے پر ایسے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دے ۔۔۔۔
ضرور بات کچھ اور تھی ۔۔۔۔
اچھا اچھا چپ جائیں ۔۔۔۔مجھے بتائیں کیا پروبلم ہے ہو سکتا ہے کہ میں آپکی کچھ ہیلپ کر دوں ۔۔۔۔
اب کے پیار سے سمجھاتے بولا ۔۔۔۔
جس پر اس نے اپنے سے ہاتھ ہٹائے ۔۔۔۔آپ ،،،، میری مدد ،،،، نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
اٹکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
سفید دوپٹے کے ہالے میں چمکتے اسکے سنہری چہرے اور خوبصورت بھیگی پلکوں کو دیکھتے ہوئے خان کے دل کو اب کچھ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن آپ مجھے بتائیں تو سہی آخر ہوا کیا ہے ۔۔۔۔
میں نے بولا نا آپ کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔پلیز آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔۔
سرخ نم چہرے کے ساتھ عاجزی سے بولی ۔۔۔۔
نہیں میں آپکو ایسے اکیلے تو کبھی بھی نہیں چھوڑ کر جا سکتا ۔۔۔۔ اور وقت تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔جبکہ آپ اپنی پروبلم بھی مجھے نہیں بتا رہی ۔۔۔۔
جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔
خان نے گہرا سانس لیتے غصے کو کنٹرول کیا ۔۔۔۔
ایسا کریں مجھے اپنے بھائی کا نمبر دیں ۔۔۔۔میں انہیں فون کر کے بلاتا ہوں ۔۔۔۔اور پھر آپ انکے ساتھ چلی جانا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے فورا نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔
آخر آپکے ساتھ مسئلہ کیا ہے ۔۔۔کیوں پریشان کر رہی ہیں ۔۔۔۔مجھے اپنی پروبلم بتا نہیں رہی اور اپنے بھائی کو بھی نہیں بلانے دے رہی ۔۔۔۔
آپکو کیا مسئلہ ہے ۔۔۔۔میں نے تو نہیں کہا نا آپکو پریشان ہونے کو۔۔۔۔۔ آپ چلیں جائیں میں خود چلی جاؤں گی ۔۔۔۔
اسکے غصے سے بات کرنے پر اب کہ وہ بھی غصے سے بولی ۔۔۔۔جبکہ اسکی آنکھوں سے بھی آنسو روانی سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
جو خان کی پریشانی کی اصل وجہ تھے ۔۔۔۔
آپ ایسے نہیں مانے گی ۔۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولتے ہوئے ۔۔۔۔زرتاشے کا بازو پکڑ کر اسے باہر کھینچا تھا ۔۔۔۔
جس سے وہ اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے اچانک عمل پر زرتاشے کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا ۔۔۔۔
اس نے سٹپٹاتے ہوئے اس سے اپنی کلائی آزاد کروائی اور گاڑی کے ساتھ اپنی پشت جوڑ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔
جبکہ اپنا سفید دوپٹہ اچھی طرح اپنے گرد پھیلا لیا ۔۔۔۔
خان نے حیرانی سے اسکے عجیب و غریب رویے کو دیکھا ۔۔۔۔۔
جب اسکی بےساختہ نظر گاڑی کے اندر ڈرائیونگ سیٹ پر پڑی تھی ۔۔۔۔
جسے دیکھتے خان کی سفید دودھ جیسی رنگت میں سرخیاں گھلی ۔۔۔۔اس نے فورا نگاہوں کا زاویہ بدلہ ۔۔۔۔اور ایک نظر اسکے سفید لباس کو دیکھتے اسکی سچویشن کو سمجھتے ہوئے فورا اپنا کالا کوٹ اتارا ۔۔۔۔
اور اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔۔ زرتاشے نے شرمندگی سے اپنی نظریں جھکائیں ۔۔۔۔۔
جس پر وہ مجبور ہوتے خود آگے بڑھا اور ایک ہاتھ سے اسے گاڑی سے الگ کرتے ہوئے ہاتھ پیچھے سے گزار کر کوٹ کے بازو آگے اسکی کمر کے گرد باندھے ۔۔۔۔
جبکہ ان سب کے دوران وہ اپنی آنکھیں سختی سے بند کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
خان نے اسکے معصوم چہرے کو قریب سے بہت غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔
رنگت بھلے ہی گندمی تھی لیکن نقوش دل لوٹ لینے والے تھے ۔۔۔۔
اسکے نازک وجود سے اٹھتی بینی بینی خوشبو ۔۔۔خان کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔” اسکی بند آنکھوں پر لرزتی ہوئی پلکیں ۔۔۔۔” شرمندگی سے سرخ ہوا چہرہ ۔۔۔۔” رونے کی وجہ سے کپکپاتے لب ۔۔۔۔”
پہلی بار دل پر قیامت گری تھی ۔۔۔۔۔جس پر وہ گھبرا کر پیچھے ہوا ۔۔۔۔
آ جائیں گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔
اب کہ نظریں جھکا کر بولا اور بنا وقت ضائع کیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
جس کی پشت کو زرتاشے نے جھکی پلکیں اٹھا کر دیکھا ۔۔۔۔ پھر مجبوری کے تحت اسکے پیچھے قدم بڑھائے ۔۔۔۔۔
خان نے گاڑی اسکے گھر قریب آ کر روکی ۔۔۔۔جس پر وہ اسے تھینکس کہہ کر اترنے لگی جب خان نے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔۔
وقت اور حالات سے لڑنا سیکھے ۔۔۔۔” کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے آپکی مصیبت ٹل نہیں جائے گی ۔۔۔۔۔” اور نا ہی بچوں کی طرح رونے سے مسئلے حل ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کیلئے آپکو خود کو مظبوط بنانا ہوگا ۔۔۔۔
جب کبھی دوبارہ ایسی مصیبت میں پھنس جائیں تو رونے کی بجائے ۔۔۔۔اس مسئلے کا حل سوچیں ۔۔۔۔آپکی گاڑی خراب تھی موبائل فون نہیں ۔۔۔۔۔رو کر وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی کسی فرینڈ کو کال کر کے بلا سکتیں تھیں جو آپکی ہیلپ کر دیتی ۔۔۔۔۔
آپ لڑکی ہیں یہ سوچ کر خود کو کمزور مت سمجھیں ۔۔۔۔ بلکہ وقت اور حالات کا مقابلہ کرنا سیکھیں ۔۔۔۔
جیسے وہاں آپ گاڑی روک کر رو رہی تھیں ۔۔۔۔اگر کوئی اس بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا تو ۔۔۔۔۔
سمجھ رہی ہیں نا میں کیا کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
یہ میں آپکو کوئی طنز نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔ میری بات کو غلط وے میں مت لیجئے گا ۔۔۔۔۔صرف سمجھا رہا ہوں ۔۔۔۔
اپنا رخ اسکی طرف کر کے آنکھیں جھکا کر نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر زرتاشے نے پہلی بار اسکی طرف غور سے دیکھا ۔۔۔۔یہ شخص کردار اور سیرت سے ہی نہیں شکل و صورت میں بھی لاجواب تھا ۔۔۔۔
جی میں سمجھ گئی ۔۔۔۔بہت شکریہ ۔۔۔۔
مسکرا کر کہتے گاڑی سے اترتی ۔۔۔۔ایک نظر اسے دوبارہ دیکھنے کے بعد اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے جاتے ہی خان نے اپنی جھکی نظریں اٹھائی اور ایک نظر اسکے گھر کی طرف دیکھتے ہوئے گہرا سانس کھینچا پھر نفی میں سر ہلاتے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھنا جنگل جس میں بہت ساری کانٹے دار جھاڑیاں تھیں ۔۔۔۔
اور انکے درمیان میں ایک راستہ تھا ۔۔۔۔۔جس پر ایک خوبصورت ننگے سر اور ننگے پاؤں کے ساتھ بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
کانٹوں نے اسکے نازک وجود کو جگہ جگہ سے زخمی کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
جن سے اب خو**ن رسنا بھی شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ آگے پیچھے دیکھے بغیر بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔
بھاگتے بھاگتے وہ ایک کھلے میدان میں آ گئی ۔۔۔۔۔
لیکن اب اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کس طرف جانا ہے ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے بالکل پیچھے ایک چھوٹا سا دس گیارہ سال کا بچہ بھی بھاگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اس عورت کو ایک جگہ پر رکتے دیکھ کر اس نے اونچی آواز میں اسے پکارا ۔۔۔۔
ماما ۔۔۔۔”
لیکن شاید اس عورت نے سنا نہیں ۔۔۔۔
اور ایک سمت کا تعین کرتے دوبارہ بھاگنا سٹارٹ کیا ۔۔۔۔۔جب یکدم جنگلی درندوں نے اسے چاروں طرف سے گھیرہ ۔۔۔۔
اس بچے نے پریشانی سے ان درندوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اسکی ماں ان کے گھیرے میں کھڑی تھی ۔۔۔۔پریشان ڈری سہمی ۔۔۔۔وہ اسے بچانا چاہتا تھا ۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے ہی وہ سارے درندے اسکی ماں پر حملہ آور ہو گئے ۔۔۔۔۔
سم ۔۔۔۔”
سم ۔۔۔۔”
کہیں بہت دور سے آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔
سم ۔۔۔”
پھر سے پکارا ۔۔۔۔
جس پر اس نے ایک جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔
