Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 95)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 95)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
کھڑکی کے زریعے کمرے میں داخل ہوتیں سورج کی کرنوں نے جس میں الگ سی تپش تھی اسکے خوبصورت چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔ جس پر کسمساتے ہوئے بھاری ہوتے سر کے ساتھ اس نے اپنی بند آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ۔۔۔ لیکن پلکوں پر بھوج اس قدر زیادہ تھا کہ وہ کھل کر ہی نہیں دے رہی تھیں ۔۔۔
ماما ۔۔”
اپنے دکھتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھتے اس نے نجمہ بیگم کو دھیرے سے پکارا ۔۔۔
لیکن وہ یہاں ہوتیں تو اس کی بات کا جواب دیتیں ۔۔۔
کوئی جواب نا ملنے پر اس نے بھاری ہوتی پلکوں کو جنبش دیتے دھیرے سے کھولا ۔۔۔
جب اسکی دھندلی سی نظر کمرے کی چھت پر پڑی تھی ۔۔۔لیکن آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھانے کی وجہ سے اس نے دوبارہ انہیں بند کر لیا تھا ۔۔۔
شاید کل رات زیادہ سٹریس کی وجہ سے اس نے جو میڈیسن کی ڈبل ڈوز لی تھی ۔۔۔یہ شایداسکاہی اثر تھا ۔۔۔
لیکن وہ معصوم نہیں جانتی تھی ۔۔۔میڈیسن سے زیادہ یہ کلوروفام کا اثر تھا ۔۔۔
جو اسکے شاہ نے اپنی ہی بیوی کو اغوا کرنے سے پہلے سونگھائی تھی ۔۔۔
کمرے میں بڑھتی ہوئی روشنی کے ساتھ گرمی نے اسے اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
وہ بنا آنکھیں کھولے ہی اٹھ کر بیٹھی اور اپنے گھومتے ہوئے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے ۔۔۔اس نے ایک بار پھر نجمہ بیگم کو اونچی آواز میں پکارا ۔۔۔
ماما ۔۔۔”
لیکن جواب ندارد ۔۔۔
لگتا ہے ابھی تک ناراض ہیں ۔۔۔نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے دوبارہ اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔
جو اس بار اپنے آپ کو ایک انجان جگہ پر پاتے مکمل کھل گئیں تھیں ۔۔۔
اس نے حیرت سے اپنی آنکھوں کو بڑا کرتے ایک نظر پوری اس جگہ پر دوڑائی ۔۔۔یہ ایک لکڑی کا بنا ہوا چھوٹا مگر کشادہ اور خوبصورت سا ہٹ تھا ،،، جسکی دائیں طرف ایک کھڑکی تھی ۔۔۔ جو لکڑی کے ساتھ شیشے کی بنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اس پر ہرے پتوں کی بیلیں لٹکی ہوئی تھی ۔۔۔
جبکہ اس جگہ پر کوئی خاص سامان موجود نہیں تھا ۔۔۔سوائے ایک میٹریس کے جس پر وہ اس وقت بیٹھی ہوئی ۔۔۔
اور بائیں طرف دیوار پر لٹکتی کالی ہڈ کے ۔۔۔جسکے بیک پر lion کا سمبل تھا اور درمیان میں انگلش کے دوا ایلفا بیٹس لکھے تھے ZS
زرمینے نے بہت غور سے اس ہڈ کو دیکھا ۔۔۔جس پر اسکے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا ۔۔۔
اور اسے بےساختہ ہی وہ دہشت گرد یاد آیا ۔۔۔کیونکہ یہ ہڈ بالکل ویسی ہی تھی جیسی وہ نقاب پوش پہنتا تھا ۔۔۔
تو کیا مجھے اس دہشت گرد نے اغوا ۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ۔۔۔جس سے ایک بار پھر اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا ۔۔۔لیکن وہ سر جھٹکتے ہوئے ۔۔۔تیز قدموں سے اس ہڈی کے قریب گئی اور اسے دیوار سے اتار کر دیکھنے لگی ۔۔۔
جس کے بعد شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی تھی ۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔وہ مجھے ایسے کیسے کڈنیپ کر سکتا ہے ۔۔۔میں نے تو کسی کو اس کے بارے میں نہیں بتایا ۔۔۔پھر ۔۔۔
بہت سارے سوال ایک ساتھ اسکے دماغ میں گردش کرنے لگے ۔۔۔اور ساتھ ہی ڈر کی وجہ سے اسکا نازک وجود کانپنا بھی شروع ہو گیا ۔۔جبکہ آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے تھے ۔۔۔
لیکن اس سب کے دوران ایک چیز تھی جسے وہ مکمل فراموش کر گئی تھی ۔۔اور وہ تھی اس ہڈ سے اٹھتی ہوئی زارون شاہ کی خوشبو ۔۔۔
اگر وہ غور کرتی تو اسے ضرور پتا چل جاتا لیکن اس دہشت گرد کا ڈر اس قدر حاوی تھا اسکے دماغ پر کہ زرمینے کا دھیان اس طرف بالکل نہیں گیا ۔۔۔
اس نے کسی اچھوت کی طرح اس ہڈی کو خود سے دور پھینکا تھا ۔۔۔پھر تیز قدموں سے ہٹ کے دروازے کی طرف بڑھی ۔۔۔
جسے کھولنے کے بعد اسے ایسا نظارہ دیکھنے ملا تھا ۔۔کہ زرمینے کو زمین اپنی آنکھوں کے سامنے گھومتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
یہ ہٹ دو پہاڑوں کے بالکل درمیان میں موجود جگہ پر سطح زمین سے کئی فٹ کے اونچائی پر بنایا گیا تھا ۔۔۔
جہاں سے دیکھنے پر حد نگاہ تک پہاڑوں کے علاوہ زمین پر اونچے بڑے بڑے درخت اور اسکے ساتھ بس پانی ہی پانی دکھائی دیتا تھا ۔۔۔
جو ان پہاڑوں کے درمیان سے بہتا ہوا ۔۔۔زمین کے بیچوں بیچ موجود جھیل میں گرتا تھا ۔۔۔جسکا رنگ اس قدر گہرا نیلا تھا جیسے اس میں رنگ گھول رکھا ہو۔۔۔
جبکہ پہاڑ سرمئی اور سفید ہونے کے ساتھ ساتھ ہلکے سنہرے آتشی رنگ کے دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔
وہ لوگ اس وقت ایک آئی لینڈ پر موجود تھے جسکا نام اومیٹپ تھا ۔۔جہاں زارون اسے پرائیویٹ ہیلی کاپٹر میں لے کر آیا تھا ۔۔۔
تاکہ ان دونوں کے درمیان تیسرا کوئی مداخلت نا کر سکے ۔۔۔
یہ اومیٹپ جزیرہ نکاراگوا جھیل جنوبی امریکہ میں واقع ہے۔۔
جس کہ دونوں اطراف دو آتش فشاں ہیں۔۔
تبھی فضاء میں آس پاس پانی ہونے کے باوجود گرمی کی تپش زیادہ تھی ۔۔
اسلا ڈی اومیٹائپ نکاراگوا پر واقع ہے ۔ 276 کلومیٹر کے رقبے کا مطلب یہ ہے کہ یہ میٹھے پانی پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جزیرہ ہے ۔۔
اومیٹپ جزیرہ ، نہوتل اصلیت کا ایک لفظ جس کا مطلب ہے اومی: ڈوس ، اور ٹیپیٹل: پہاڑیوں ، دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ۔۔۔
جسکا نظارہ دیکھنے میں بہت خوبصورت اور آنکھوں کو خیرا کر دینے والا تھا ۔۔لیکن زرمینے کی جو حالت تھی ۔۔۔اس نے اسکے ڈر میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔
مطلب یہاں وہ دور دور تک کسی کو اپنی مدد کیلئے بلا بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
یا اللہ ۔۔”
بےساختہ ہی اس کے ہونٹوں سے ادا ہوا تھا ۔۔۔
جبکہ بہتے ہوئے آنسوؤں میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔بابا مجھے بچا لیں ۔۔۔اس نے آس پاس دیکھتے ہوئے موسی شاہ کو پکارنا چاہا ۔۔۔
لیکن یکدم ہی ان کے کیے ہوئے گناہ یاد آئے ۔۔۔آج وہ جس حالت میں تھی کہیں نا کہیں اس سب کے ذمہ دار وہی تو تھے ۔۔۔
زندگی میں پہلی بار اسکے اندر موسی شاہ کیلئے نفرت کی لہر دوڑی تھی ۔۔۔
نہیں میں انہیں نہیں بلاوں گی ۔۔۔
زارون ۔۔” وہ تو ۔۔۔ پتا نہیں کہاں ہونگے ۔۔
اب میں کیا کروں ،،، یا اللہ مجھے اس درندے سے بچا لے ۔۔۔وہ گھنٹوں کے بل زمین پر بیٹھتی اپنے اللہ کو پکارتے اونچی آواز میں رونا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
تبھی زارون جو نیچے جھیل کے کنارے کیمپ لگا بورن فائر کا انتظام کرنے گیا تھا ۔۔۔ہٹ کے قریب پہنچتے ہی اسے زر کی رونے کی آواز سنائی دی ۔۔۔وہ تیز قدموں سے لکڑی کی سیڑھیاں چڑھتا اندر داخل ہوا ۔۔۔
اور اسے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر روتے دیکھ ۔۔۔فورا آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔
زر کیا ہوا جان ایسے کیوں رو رہی ہو ۔۔۔
اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بہت محبت سے گویا ہوا ۔۔۔
زارون ۔۔۔”
و ،،،، وہ دہشت گرد ۔۔۔
ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بولتے ۔۔۔اسے اپنے قریب دیکھ کر فورا اسکے سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔
اس دہشت گرد کا ڈر اس قدر اسکے سر پر سوار تھا ۔۔کہ چند پل کیلئے زارون شاہ سے اپنی ناراضگی بھی وہ بالکل بھول چکی تھی ۔۔
کون دہشت گرد ۔۔ابھی وہ سوچ رہا تھا جب اسکی نظر نیچے زمین پر پڑی اپنی ہڈی پر پڑی اور وہ سارا معاملہ سمجھ گیا ۔۔۔
جبکہ اپنی بہادر بیوی کو یوں ڈرتے دیکھ اسکے لب مسکرائے تھے ۔۔۔
زندگی اس جگہ ہم دونوں کے علاوہ کوئی دوسرا وجود موجود نہیں ۔۔
اسکا چہرہ اپنے سینے سےنکال کر کان کے قریب جھکتے ہوئے گھمبیر سرگوشی کی ۔۔۔
زرمینے نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
اس نے زرمینے کے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔
جبکہ اسکے بھیگے نینا رونے سے سرخ ہوئے ناک کپکپاتے ہوئے لب اور نرم و نازک گالوں پر ٹھہرے آنسوؤں کو دیکھتے ان پر جھکنے لگا ۔۔۔
جس پر وہ کچھ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔اور اس سے پہلے کہ زارون کے لب اسے چھوتے وہ دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھتی پیچھے کی طرف دھکیل کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
اسکا مطلب آپ مجھے یہاں لے کر آئیں ہیں ۔۔۔
بالکل کوئی شک ۔۔۔
زرمینے کے لہجے کی درشتگی کو محسوس کرنے کے باوجود وہ انتہائی پرسکون لہجے میں مسکرا کر گویا ہوا ۔۔۔
کتنے بڑے دھوکے باز اور گرے ہوئے انسان ہیں ۔۔۔جب پتا چل گیا کے گھر میں مجھ پر آپکی زور زبردستی نہیں چلے گی ۔۔۔
تو یہ راستہ نکالا آپ نے ۔۔۔مجھے کڈنیپ کر کے یہاں لے آئے آپکو کیا لگتا ہے ۔۔۔ایسا کرنے پر ۔۔۔میں آپکو معاف کرتے ساتھ رہنے پر تیار ہو جاؤں گی ۔۔
تو یہ بھول ہے آپکی ۔۔۔
اسے مسکراتے دیکھ کر وہ استہزائیہ بولی ۔۔۔
جس پر زارون شاہ کے لبوں کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی ۔۔۔
لیکن اسکے برعکس آنکھوں کا رنگ تو کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا تھا ۔۔جسے دیکھ کر ایک پل کیلئے زرمینے کا دل کانپا ۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ خود کو مظبوط ظاہر کرتی ۔۔ڈٹ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ۔۔۔
زارون نے قدم اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔
زرمینے کے قدم بےساختہ ہی پیچھے کی طرف اٹھے ۔۔۔
زارون ون سائڈڈ طنزیہ مسکرایا ۔۔پیچھے ہوتے ہوتے زرمینے کی پشت دیوار کے ساتھ ٹکرائی ۔۔۔
جبکہ پیچھے راستہ ختم ہوتے دیکھ زرمینے نے آنکھوں میں خوف لیے زارون کی طرف دیکھا ۔۔۔پھر سائڈ سے ہو کر نکلنا چاہا ۔۔۔
جب زارون نے اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر تمام راستوں کو مسدود کیا ۔۔۔
پہلی بات بیوی ۔۔۔ تمہارے قریب آنے سے تو مجھے تم خود بھی نہیں روک سکتی۔۔۔ اس لیے گھر والوں کی تو بات ہی نا کرو ۔۔۔
اور رہی بات منانے اور معاف کرنے کی تو بھلا دل میں رہنے والوں کو بھی منانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔۔
بہت چاہت سے کہتے اسکے گلابی گال پر اپنی بئرڈ رب کی ۔۔۔
جس سے زرمینے کے نازک وجود میں سرسراہٹ سی ہوئی ۔۔۔لیکن پھر خود کو کمپوز کرتے اسکی باتوں کو یاد کر کے تلخی سے مسکرائی ۔۔۔
دل میں رہنے والوں کی تذلیل بھی نہیں کی جاتی زارون شاہ ۔۔اور نا ہی انہیں کسی اور کے گناہوں کی سزا دی جاتی ہے ۔۔۔
زارون نے اس سے دور ہو کر نرم نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔جسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا ۔۔۔
میں مانتا ہوں زندگی ۔۔۔میں نے غلط کیا ۔۔۔لیکن تم بھی تو میری سچویشن سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔
نہیں سمجھنا مجھے کچھ ،،،، میں صرف اتنا جانتی ہوں ۔۔۔جن سے محبت کی جائے ۔۔۔وقت پڑنے پر ان سے نظریں نہیں پھیریں جاتی ۔۔۔جیسا کہ آپ نے میرے ساتھ کیا ۔۔۔آپ نے تو اپنے رویے سے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔کیا میری ذات اتنی ہی ارزاں تھی آپ کیلئے ۔۔۔کہ بابا سائیں کے انجام دیئے فعل اور گناہوں کی سزا آپ نے مجھ سے میرا بچہ چھین کر لی ۔۔۔
کیا فرق رہ گیا آپ میں اور بابا سائیں میں ہاں ۔۔۔
خبردار زرمینے مجھے دوبارہ اس گھٹیا انسان سے نا ملانا ۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔
خود کو موسی شاہ سے ملائے جانے پر وہ غصے چلایا ۔۔۔
کیوں سچ کڑوا لگا ۔۔۔ اگر میرے بابا سائیں اپنوں کے گنہگار ہیں ۔۔۔تو معصوم آپ بھی نہیں ۔۔۔گنہگار ہیں آپ میرے ۔۔۔ قاتل ہیں میرے بچے کے ۔۔۔
زارون کے غصہ ہونے پر وہ بھی دوبدو چلائی ۔۔۔
زارون نے آگے بڑھ کر زرمینے کا بازو دبوچا ۔۔۔جس پر وہ تکلیف سے سسکی ۔۔۔اسے زارون شاہ کی کھردری انگلیاں اپنی جلد میں کھبتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
نہیں ہوں میں تمہارے باپ جیسا ۔۔۔اور نا ہی کبھی ہو سکتا ہوں ۔۔۔وہ صرف ہمارے خاندان ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا دشمن تھا ۔۔۔قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ زانی اور غدار تھا ۔۔۔
میں نے تمہارے ساتھ کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔۔جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔وہ صرف ایک ایکسیڈنٹ تھا ۔۔۔اور وہ اس دوران اپنی گرفت اسکے بازو پر نرم کر چکا تھا ۔۔۔
واہ اپنی غلطی پر کتنی آسانی سے آپ نے پردہ ڈال دیا ۔۔۔اسکے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے زرمینے نے استہزائیہ تالی بجائی ۔۔۔
زرمینے ۔۔۔
اپنا ہاتھ جھٹکے جانے پر زارون نے غصے سے اسکی طرف دیکھا
کیا زرمینے ہاں ۔۔۔
میں نے پہلے بھی بولا تھا مجھے ہاتھ مت لگائیے ۔۔۔کیونکہ مجھے چھونے کا حق آپ کھو چکے ہیں ۔۔۔لیکن آپکو میری بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔
زارون شاہ اپنا رویہ میرے ساتھ آپ بھول سکتے ہیں میں نہیں ۔۔۔نہیں بھول سکتی میں وہ تذلیل جو آپ کے بولے گئے الفاظ سنکر مجھے محسوس ہوئی ۔۔۔آپکی حقارت بھری نظریں ۔۔۔جن سے آپ نے مجھے دیکھا ۔۔۔
آپ انجان تو نہیں تھے ۔۔۔میری حالت سے ۔۔۔
کیسے بھول جاؤں میں وہ لمحہ جب سب جانتے بھوجتے کہ میرے وجود میں ہمارے پیار کی نشانی پل رہی ہے حقارت سے مجھے دھکیلا ۔۔۔
اور آج کتنی آسانی سے آپ اسے ایکسیڈنٹ کا نام دے رہے ہیں ۔۔۔پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اسکی حرکت کا احساس دلانا چاہا ۔۔۔
جس پر وہ کچھ نرم پڑا ۔۔اور گہرا سانس کھینچ کر اسکے قریب ہوا ۔۔۔
دیکھو زر میری بات سنو ۔۔۔
زارون نے نرمی سے کہتے ہوئے اسکا چہرہ تھامنا چاہا ۔۔۔جب زرمینے نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ۔۔۔
اسے پیچھے کی طرف دھکیلا ۔۔۔
نہیں سننا مجھے کچھ بھی اور نا ہی کچھ دیکھنا ہے ۔۔۔مجھے بس اپنے گھر جانا ہے ۔۔۔اور خبردار مجھے دوبارہ چھونے کی کوشش بھی مت کیجئے گا ۔۔۔ورنہ ۔۔۔
ابھی اسکے الفاظ مکمل نہیں ہوئے تھے جب زارون نے آگے بڑھ کر اسکے ہونٹوں پر قفل لگایا تھا ۔۔۔
اور شدت بھرا عمل انجام دیتے ۔۔۔اسے اسکے بولے گئے الفاظ کی سزا دینے لگا ۔۔۔
زرمینے نے زبردست مزاحمت کرتے اسے پیچھے کی طرف دھکیلنا چاہا ۔۔۔لیکن زارون نے اسکے ہاتھوں کو قابو کر کے پشت پر باندھا ۔۔۔اور اپنے عمل میں مزید شدت لاتے اسے تڑپنے پر مجبور کر گیا۔۔۔
جسکے بدلے میں زرمینے نے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کو جاری رکھتے ہوئے ۔۔۔اسکے نچلے لب کو اتنی زور سے اپنے دانتوں تلے چبایا تھا ۔۔کہ زارون شاہ کو اپنے حلق میں خون کا ذائقہ گھلتے ہوئے محسوس ہوا ۔۔۔
زرمینے کی سوچ یہ تھی کہ ۔۔۔ایسا کرنے پر وہ پیچھے ہو جائے گا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف زارون شاہ اسکی حرکت اور لبوں سے اٹھتے میٹھے درد کو محسوس کرتے دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔
اور اپنے عمل میں دگنی شدت لے آیا ۔۔۔یہاں تک کہ زرمینے سے سانس لینا مشکل ہو گیا ۔۔۔
اور جب اسے لگا اب وہ سانس نہیں لے پا رہی تو دھیرے سے اسکے لبوں کو آزادی دیتے ہوئے گردن میں جھکتے شدت بھرا لمس بکھیرنے لگا ۔۔۔
زرمینے نے سانسوں کو آزادی ملنے پر گہرا سانس کھینچتے نم آنکھوں کے ساتھ اسکے گھنے بالوں والے سر کو دیکھا ۔۔۔
چھوڑیں ،،،، مجھے ۔۔۔
اپنے ہاتھوں کو کھینچ کر آزاد کرانے کی کوشش کرتی ۔۔پھولتی سانسوں کے دوران بمشکل بولی ۔۔۔
جسے سن کر بھی زارون نے ان سنا کیا ۔۔جبکہ اسکی مزاحمت کو دیکھتے گردن پر لبوں کی جگہ اپنے دانت گاڑھے ۔۔۔
جسکی تکلیف کو برداشت نا کرتے اسکے ہونٹوں سے سسکی برآمد ہوئی ۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا ۔۔۔
لیکن زارون شاہ نے اپنا کام ہنوز جاری رکھا ہوا تھا ۔۔۔پتا نہیں یہ اسکی محبت تھی ،،، جدائی کی تڑپ تھی یا زرمینے کے اسے اگنور کرنے اور بار بار جھٹکنے کا غصہ ۔۔۔
جو وہ خود پر سے کنٹرول کھوتے اپنے لمس سے اسے تکلیف پہنچا رہا تھا ۔۔۔
اور وہ لب بھینچ کر برداشت کر رہی تھی ۔۔۔
لیکن آخر کب تک ،،،، جب بات زرمینے کی برداشت سے باہر ہوئی تو ۔۔۔اس نے اونچی آواز میں پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔۔۔
جس پر زارون شاہ نے اسکی گردن سے سر اٹھایا ،،،، البتہ اسے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا ۔۔۔
اور بہت غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔۔
جو مسلسل رونے اور اسکی قربت کی وجہ سے لال ٹماٹر ہو رہا تھا ۔۔۔پھر ایک نظر اسکی گردن پر جہاں اسکی شدتوں کے نشان واضح تھے ۔۔۔
زارون نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے انہیں دھیرے سے چھوا ۔۔۔جس پر جلن محسوس کرتے زرمینے کے بہتے ہوئے آنسوؤں میں مزید روانی آئی ۔۔۔
زارون نے نفی میں سر ہلاتے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔زرمینے نے اسکی گرفت سے نکلنے کیلئے ایک بار پھر مزاحمت شروع کی ۔۔۔
زندگی کیوں مجھے مجبور کر رہی ہو ۔۔کہ میں تم پر سختی کروں ۔۔۔اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اس بار تھوڑا غصے سے بولا ۔۔۔
اب بھی کچھ باقی رہ گیا ہے زارون شاہ ہاں ۔۔۔مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا کہ میں اب تک زندہ ہی کیوں ہوں ۔۔۔
پتا نہیں اوپر والے نے میرا نصیب کیسا لکھا ہے ۔۔۔ایک طرف میرا باپ تھا زانی اور قاتل ۔۔۔دوسری طرف نام نہاد شوہر ،،، حوس پرست جس کیلئے صرف اور صرف اپنی ذات ہی اہم ہے دوسرا جائے بھاڑ میں ۔۔۔
پتا نہیں لوگ بیٹیوں کو پیدا ہی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔شاید اپنے کیے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کیلئے ۔۔۔
اگر مجھے یہی سب کچھ جھیلنا تھا ،،، تو پہلے کیوں اتنی محبت جتائی ۔۔۔جب دنیا کی ٹھوکروں میں ہی پھینکنا تھا تو کیوں اتنے لاڈ پیار سے رکھا ۔۔۔اچھا تو یہ ہوتا کہ وہ خود جیل جانے سے پہلے میرا گلا گھونٹ جاتے ۔۔۔کم از کم آپ جیسے جانور کی دردنگی کا نشانہ تو نا بنتی ۔۔۔
ارے مجھ بدنصیب کو موت بھی نہیں آتی ۔۔۔کم از کم آپ سے تو میری جان چھوٹ جاتی ۔۔۔
چلا کر کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر روتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف زارون نے دنگ نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
زرمینے کے لفظوں نے اسے اندر سے بالکل توڑ دیا تھا ۔۔۔آخر وہ اسے کیسا انسان سمجھتی تھی ۔۔۔ اس نے لہو رنگ ہوئی آنکھیں اٹھا کر ایک نظر اسکے ہچکیاں کھاتے وجود کی طرف دیکھا ۔۔۔
پھر طیش میں تیز قدم لیتے اسکی طرف بڑھا ،،، اور اسے بازوؤں سے تھامتے ہوئے اپنے مقابل کھڑا کیا ۔۔۔
سمجھتی کیا ہو تم خود کو ہاں کیا سمجھتی ہو ؟؟؟ اسکے نازک بازوؤں میں اپنی سخت انگلیاں گاڑھتے غصے سے چلایا ۔۔۔جبکہ اسکو غصے کی انتہا پر پہنچا دیکھ ،،، زرمینے کی آنکھوں میں خوف نے اپنے ڈیرے جمائے ۔۔۔ سینے میں دھڑکتا دل سہم سا گیا ۔۔۔
جب چاہو میری کردار کشی کر سکتی ہو ۔۔۔اور میں چپ چاپ برداشت کر لوں گا ۔۔۔ہاں ۔۔۔بتاؤ مجھے آج تک کتنی بار میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے ؟؟؟ کتنی بار تمہاری مرضی کے بنا تمہیں چھوا ؟؟؟ ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔ہمیشہ تمہاری رضامندی کے ساتھ ہوا ۔۔۔تو کیوں ہمیشہ تم مجھ پر ہی ہر الزام ڈال دیتی ہوں ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے آئینہ دکھایا ،،، جس پر زرمینے نے نظریں چرائی تھیں ۔۔۔
جس پر تلخ مسکراہٹ نے زارون کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔
اور جس بچے کا تم رونا رو رہی ہو ۔۔۔تو وہ کیا صرف تمہاری ہی اولاد تھی ۔۔۔نہیں زرمینے موسی شاہ ،،، وہ صرف تمہارا ہی نہیں میرا بھی خون تھا ۔۔۔اسے کھونے کا درد جتنا تمہیں ہوا اتنی ہی تکلیف میں نے بھی جھیلی ۔۔۔لیکن تمہاری طرح رو رو کر اپنے ماتھے پر مظلومیت کا اشتہار نہیں لگایا ۔۔۔
کیونکہ شاید میرے اللہ کو یہی منظور تھا ۔۔۔اس نے ہی ہمیں اس نعمت سے نوازا تھا اور پھر اپنی مرضی سے واپس بھی لے لی ۔۔۔چاہے اس کیلئے ذریعہ جس کو بھی بنایا ۔۔۔
بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔۔۔اسکی مرضی کے بنا ایک پتا بھی نہیں ہلتا ۔۔
اگر ہماری اولاد کی زندگی لکھی ہوتی تو چاہے کچھ بھی ہو جاتا وہ اس دنیا میں ضرور آتی۔۔۔
میں نے پڑھا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں عطا کر کے بھی آزماتا ہے اور اسی عطا کردا نعمت کو وآپس لے کر بھی آزماتا ہے ۔۔۔۔۔
واہ زرمینے موسیٰ شاہ کیا ہی اللّٰہ تعالیٰ کی آزمائش پر پورا اتری ہو تم واہ ۔۔۔
اللہ تعالٰی کی مرضی سمجھتے ہوئے اس پر صبر کرنے کی بجائے تم نے مجھے میرے ہی بچے کا قاتل بنا کر مجھے میری ہی نظروں میں گرانا چاہا۔۔۔
مجھے حوس پرست ،، جانور اور درندہ قرار دے دیا ۔۔۔ہاں ہوں میں جانور لیکن مجھے ایسا بنانے والا بھی تمہارا ہی باپ ہے ۔۔۔
زارون کی بات پر زرمینے نے حیرت سے سر اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو غصے کی زیادتی کی وجہ سے حد سے زیادہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔جبکہ کالی گھٹاؤں میں اس قدر وحشت اتر آئی تھی ۔۔۔جسے دیکھ کر وہ روح تک لرز گئی ۔۔۔
تم جانتی ہی کیا ہو میرے بارے میں ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔تم سب نے آج تک مجھے صرف ہنستے ہوئے اور دوسروں کو ہنساتے دیکھا ہے ،،، لیکن تمہیں کیا پتا ان مسکراہٹوں کے پیچھے کتنا درد چھپا ہوا ہے ۔۔۔
تم جان سکتی ہو ۔۔۔ وہ تکلیف کہ ایک سات سال کا بچہ ،،، جسے ٹھیک سے اپنے ہاتھ سے کھانا کھانا بھی نہیں آتا تھا ۔۔۔کیونکہ اسکی ماں نے اسے اپنے ہاتھ سے کھلانے کی عادت ڈالی تھی ۔۔۔جسے ہمیشہ اپنی ماں کے آنچل میں رہنے اور سونے کی عادت تھی ۔۔۔
جسکی پوری زندگی ہی اسکی ماں تھی ۔۔۔ایکدم سے اس سے چھین لی گئی ۔۔۔
سمجھ سکتی ہو اس بچے کی عزیت جسکی معصومیت کو بچپن میں ہی اس سے چھین لیا گیا ۔۔۔
دردنگی کی انتہا کرتے اسکے ننھے وجود کو پورے ایک ہفتے تک اتنی بےدردی سے نوچا گیا ۔۔۔
کہ اسکے وجود میں چند سانسوں کے سوا کچھ نہیں بچا ۔۔۔
تم سے تو یہ ایک اپنے بچہ کھونے کی تکلیف برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔میرے درد کا اندازہ کیسے لگاو گی ۔۔۔
درد کی انتہا پر پہنچتے وہ چلایا تھا جبکہ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ بکھرے تھے ۔۔
جسے دیکھ کر زرمینے تڑپ کر قریب ہوئی تھی ۔۔۔
شاہ ۔۔۔”
زارون نے اسکے ہاتھوں کو جھٹکتے خود سے دور دھکیلا ۔۔۔زرمینے نے شدت سے روتے بےبسی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
جو اسے تنبیہ نگاہوں سے دیکھتے خود سے دور رہنے کا بول رہا تھا ۔۔۔
آزادی چاہیے نا تمہیں مجھ سے مل جائے گی ۔۔۔خود کو سنبھالتے ہوئے بےدردی سے اپنے بہتے ہوئے آنسوؤں کو رگڑا ۔۔۔
زرمینے نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
بہت دور چلا جاؤں گا تمہاری زندگی سے ۔۔۔
وعدہ ہے یہ میرا تم سے زندگی میں تمہیں دوبارہ کبھی اس جانور کی شکل نہیں دیکھنی پڑے گی ۔۔۔
مسکرا کر کہتے ہوئے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے تھے ۔۔۔
