Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 53)Part 2
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 53)Part 2
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
شام کا وقت تھا ۔۔۔۔
روباب اور نجمہ بیگم سبھی بچوں کو (سوائے واسم شاہ کے) لان میں لے کر بیٹھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔
باتوں کے ساتھ ساتھ چائے ناشتے کا دور بھی جاری تھا ۔۔۔۔۔
ضارب کی گود میں ایک سالا ابیہا بیٹھی تھی جسے وہ محبت سے کھیلا رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ نجمہ اور روباب کی گود میں انکی بیٹیاں ابرش اور زرمینے تھیں ۔۔۔۔۔
البتہ زارون پاس ہی لان میں فٹبال سے کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔
چونکہ زرمینے سو چکی تھی تو نجمہ بیگم اسے لیٹانے کیلئے اندر کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔۔۔
جب روباب کو یاد آیا کہ اس نے اماں سائیں کو میڈیسن نہیں دی جو وہ اکثر شام کے وقت چائے سے پہلے لیتی تھیں ۔۔۔۔۔
ابیہا جو ایک سال کی تھی اب ہلکا ہلکا اپنے قدموں پر چلنے لگی تھی اب بھی ضارب کی گود سے اتر کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی زارون کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
جو اپنی دونوں بانہیں پھیلائے ۔۔۔۔ اسے اپنی طرف بلا رہا تھا ۔۔۔۔۔
ضارب بیٹا آپ کچھ دیر ابرش کو سنبھالیں گے ۔۔۔۔۔
میں ابھی اماں سائیں کو انکی دوائی دے کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔
جی آنی ۔۔۔۔
مسکرا کر کہتے دونوں ہاتھ بڑھائے ۔۔۔۔۔
روباب ایک ماہ کی ابرش کو اسکی گود میں دیتے مسکرا کر اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
جب وہ اس چھوٹی سی گڑیا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔
جو اپنی اوشن بلو آئز کھول کر ٹکر ٹکر اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسکے معصوم نقوش اور پھولے گالوں کو دیکھتے بےساختہ ضارب کو اس پر پیار آیا اور اس نے جھک کر اسکے دائیں گال ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔۔
لیکن یہ بات شاید اس پرنسز کو پسند نہیں آئی تبھی وہ گلا پھاڑ کر رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے ری ایکشن پر وہ گھبرا کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اور اسے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے سنبھالتے کندھے کے ساتھ لگاتا چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔
لیکن وہ تھی کہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔۔
لٹل پرنسز ” چپ ہو جائے ۔۔۔۔
وہ اسکی پیٹھ تھپتھپاتے پچکارتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
جو اب بھی روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہے لٹل باربی ” یہ دیکھیں ہم اپنی گڑیا کو یہ چاکلیٹ دیں گے اگر آپ چپ ہو گئی تو ۔۔۔۔۔
وہ اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال کر اسکی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے بولا ،،،،، جس پر وہ حیران ہو کر ایک پل کیلئے اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
اور پھر دوسرے ہی سیکنڈ دوبارہ رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔
جس پر ضارب نے گہرا سانس کھینچا ابھی وہ اسے چپ کروانے کی کوئی ترکیب سوچ ہی رہا تھا ۔۔۔۔۔
جب واسم شاہ نے وہاں آتے ایک جھٹکے سے ابرش کو اسکی گود سے کھینچا ۔۔۔۔
جس سے اسکے رونے میں روانی آئی تھی ۔۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں ،،،،، اگر وہ گر جاتیں تو ؟؟؟؟؟
وہ فکرمندی سے اس معصوم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جسے وہ اپنے کندھے سے لگا چکا تھا ۔۔۔۔۔
یہ میری بہن ہے مجھے پتا کہ مجھے اسکے ساتھ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ۔۔۔۔
تم آئندہ اسے ہاتھ لگانے کی غلطی مت کرنا ۔۔۔۔
ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔
اسکی بات سن کر ضارب نے غصے سے اپنے لب بھینچے ۔۔۔۔
پہلی بات ہم سے تعمیز سے بات کریں ۔۔۔۔ اور رہی گڑیا کو ہاتھ لگانے کی بات یہ ہماری بھی بہن ہیں اور آپ انہیں ہم سے دور نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
نہیں ہے یہ تمہاری بہن یہ صرف میری گڑیا ہے ۔۔۔۔
وہ رہی تمہاری بہن تمہیں جتنا بھی پیار ہے اس پر جا کر لٹاو ،،،، زارون کے ساتھ کھیلتی ابیہا کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
آئندہ میری بہن قریب مت آنا ،،،، اور نا اسے اٹھانے کی کوشش کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔
سمجھ آئی میری بات ۔۔۔۔
نہایت بدتمیزی سے کہتے وہ روتی ہوئی ابرش کو لے کر اندر حویلی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے زندگی میں پہلی بار کول مائنڈڈ ضارب شاہ کو واسم شاہ پر شدید غصہ آیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے گیارہ بجے ،،،،، غور اندھیری سی رات ،،،،، آج تو آسمان سے چاند بھی غائب تھا ۔۔۔۔۔
سنسان سڑک جسکے دونوں اطراف میں بڑے بڑے درخت تھے ،،،،، اندھیرے میں گونجتی مختلف جانوروں کی آوازیں جو ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
ایسے میں دو گاڑیاں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھیں ۔۔۔۔۔
اگلی گاڑی میں مان اور حجاب بیٹھے تھے جبکہ انکے پیچھے گارڈز کی گاڑی تھی ۔۔۔۔
جنہیں حیدر شاہ نے انکی حفاظت کیلئے ساتھ بھیجا تھا ۔۔۔۔۔
ویسے تو مان کا آج رات وہی رکنے کا ارادہ بن رہا تھا ،،،،، لیکن حجاب کے کہنے پر کہ اسے اپنے بچوں کے بغیر اچھا نہیں لگ رہا ،،،،، وہ تقریب ختم ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکل آئے ۔۔۔۔۔
جس کا اسکے دوست نے گلا بھی کیا ۔۔۔۔
لیکن وہ مسکرا کر معذرت کرتا حجاب کو لے کر نکل آیا ۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے حجاب ہم بس پہنچنے ہی والے ہیں ۔۔۔۔۔چلیں اپنا موڈ ٹھیک کریں اب ۔۔۔۔۔
اسکو پریشان دیکھ کر نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی زبردستی مسکرائی ۔۔۔۔
اصل میں اسکا دل صبح سے ہی بہت گھبرا رہا ،،،، عجیب وسوسے سے دل میں آ رہے ۔۔۔۔ایسا لگ رہا جیسے کچھ بہت غلط ہونے والا ہے ۔۔۔۔
بس وہ جلد از جلد اپنے بچوں کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
ویسے آپکو ایک بات بتاؤں ۔۔۔۔۔
اسکو خاموش دیکھ کر دوبارہ مخاطب کیا ۔۔۔۔۔
جی “
حجاب نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
یار وہاں تقریب میں نکاح کی دلہن سے زیادہ تو تم پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔
قسم سے میرا دل کر رہا تھا کہ ایک بار پھر میں تمہیں دلہن بنا کر تم سے شادی کر لوں ۔۔۔۔۔
پھر اسکے بعد دوبارہ ہنی مون منانے چلتے ۔۔۔۔
وہ ایک آنکھ دبا کر شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔
جس پر وہ شرمائی تھی ۔۔۔۔۔
تھوڑی شرم کر لیں مان آپ دو بچوں کے باپ ہیں ۔۔۔۔۔
تو پھر کیا ہوا ۔۔۔۔
جن کے بچے ہو جائیں کیا وہ لوگ دوبارہ ہنی مون پر نہیں جا سکتے ۔۔۔۔
اور ویسے بھی مجھے لگتا ہے ہمیں ایک کوشش اور کرنی چاہیے ،،،،، تمہیں نہیں لگتا ضارب اور ابیہا کا ایک بھائی بہن اور آنا چاہیے اس دنیا میں ؟؟؟؟
نہایت ہی سنجیدگی سے غیر سنجیدہ بات کہتا اسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔
وہ کانوں کی لوں تک سرخ پڑ گئی۔۔۔۔۔
نہیں مجھے ایسا نہیں لگتا اور اب چپ چاپ ڈرائیونگ کی طرف دھیان دیں ۔۔۔۔
مجھے اپنے بچوں کے پاس پہنچنا ہے جلد از جلد ۔۔۔۔
وہ اسکا دھیان سامنے کی طرف کرواتی مسکراہٹ چھپا کر بولی ۔۔۔۔۔
یار بچوں کے پاس بھی چلیں جائے گے پہلے بچوں کے باپ پر تو دھیان دے لو ۔۔۔۔
مان “
اسے شرارت سے باز نا آتے دیکھ کر اب کہ غصے سے بولی ۔۔۔۔
جبکہ اسکو غصے سے اپنی طرف دیکھتے پا کر مان نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔
گاڑی اپنی رفتار سے چل رہی تھی ۔۔۔۔ وہ ابھی اپنے گاؤں سے چند کلومیٹر ہی دور تھے کہ مان کو سڑک کے بالکل درمیان میں ایک ہیولا نظر آیا ۔۔۔جسکی وجہ سے اسے اچانک بریک لگانی پڑی ۔۔۔۔
جس کی وجہ سے انکے پیچھے آتے گارڈز کی گاڑی بھی رک چکی تھی ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتے یا دیکھتے سڑک کے دونوں اطراف سے کچھ مسلح افراد نکلے جو ہتھیا*روں سے لیس تھے ۔۔۔انہوں نے اندھادھند فائر*نگ سٹارٹ کر دی ۔۔۔۔
مان حجاب اور گارڈز کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا ۔۔۔۔۔
اور پوری فضاء گو*لیو*ں کی آواز سے گونج اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
مان نے حجاب کو نیچے کی طرف جھکاتے اسے بچانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکا اپنا وجود کچھ گولیوں اور کچھ گاڑی کے ٹوٹے ہوئے کانچ سے لہو لہان ہو چکا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس سے پہلے ایک گو*لی حجاب کے پہلو میں پیوست ہوتی اسے بری طرح زخمی کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ سسکی “
مان نے اسے اپنے سینے میں چھپاتے ،،،، مزید زخمی ہونے سے بچایا جبکہ خود رخ پلٹ کر اپنی پشت اوپر کر دی ۔۔۔۔۔
کئی گو*لیاں ایک ساتھ آ کر اسکے وجود میں پیوست ہوئی ۔۔۔۔۔
مان کو اپنے حواس گم ہوتے محسوس ہوئے ۔۔۔۔۔
جبکہ درد کی تاب نا لاتے حجاب تو پہلے ہی اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی ۔۔۔۔
مان نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اپنے سینے میں چھپے وجود کو ایک نظر دیکھنا چاہا لیکن اسکا وجود مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
پورے بدن میں درد کی شدت اس قدر تھی کہ وہ اسے پکارنے کی چاہ میں پھڑپھڑاتے لبوں کے ساتھ لہرا کر گاڑی کی سیٹ پر گرا ۔۔۔۔
اور ساتھ اسکے سینے پر خو*ن سے لت پت حجاب پڑی تھی ۔۔۔۔۔
وہ مسلح افراد اپنا کام تمام کر کے جس خاموشی سے آئے تھے اسی سے واپس چلے گئے ۔۔۔ جبکہ پیچھے سڑک پر بس خوفناک خاموشی رہ گئی اور حبس زادہ فضاء میں محسوس کی جانے والی خون کی بو ۔۔۔۔
مان “
حیدر شاہ ایک خوفناک خواب کے زیر اثر ایک جھٹکے سے بیدار ہوئے تھے ۔۔۔۔
انکی ایک کتاب کے مطالعے کے دوران چیئر پر بیٹھے بیٹھے ہی آنکھ لگ گئی تھی ،،،،، لیکن جو خواب انہوں نے دیکھا تھا اس نے انکا آرام سکون سب کچھ چھین لیا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ فورا مان کو فون ملانے لگے ۔۔۔۔۔
جسکی بیل تو جا رہی تھی ،،،،، لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
حتی کہ اسکے ساتھ گئے گارڈز کے فون بھی بند تھے ۔۔۔۔۔
جس نے انکی پریشانی میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ فورا سٹڈی روم سے نکل کر تیز قدموں سے ارمغان شاہ کے کمرے کی طرف بڑھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال
زارون نے اپنی زندگی کے چہرے کی طرف دیکھا ،،،،، جو بکھری سی حالت میں اسکے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ۔۔۔۔۔
جب اسکی نظر وال کلوک پر گئی ،،،،، جو صبح کے چار بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسے یکدم وقت کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں سب گھر والے بیدار ہو جاتے ۔۔۔۔۔
اور وہ اس سے پہلے پہلے اسے اسکے کمرے میں پہنچا دینا چاہتا ۔۔۔۔۔۔
تاکہ کسی کو بھی اسکی ذات پر انگلی اٹھانے کا موقع نا ملے ۔۔۔۔۔
زر “
بہت محبت سے پکارا ۔۔۔۔۔
جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا البتہ اسکی کمر کے گرد بازو کی گرفت اور مظبوط کی ۔۔۔۔۔
زر میری جان “
دھیرے سے گال کو تھپتھپاتے ہوئے دوبارہ جگانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔
جس پر جھنجھلائی ۔۔۔۔۔
اوں ہوں ،،،،، کیا ہے شاہ ؟؟؟؟ سونے دیں ۔۔۔۔۔
سینے میں چہرہ چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
زارون کے لب مسکرائے ۔۔۔۔۔۔
شاہ کی جان صبح ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔ اور اگر کسی نے آپکو میرے ساتھ اس وقت دیکھ لیا تو پھر پتا ہے نا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر اس نے پھٹ سے اپنی سرمئی آنکھیں کھولیں ،،،،، جن میں اسکی قربت کی سرخیاں گھلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
اسے یکدم ہی اپنی پوزیشن کا خیال ہوا ،،،،، اور وہ فورا اس سے دور ہونے لگی ۔۔۔۔
لیکن زارون نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔۔۔۔
اب کیا ہوا ؟؟؟؟ اور نہیں سونا کیا ؟؟؟؟؟؟
اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے تکیے پر منتقل کرتا گردن میں شرارت سے ناک سہلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
کیا ،،،،،، کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟
پلیز جانے دے ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کوئی جاگ جائے ۔۔۔۔۔
اسکی بےباکیوں پر بمشکل اٹکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
لیکن اس نے کوئی اثر نہیں لیا اور اسے دھیرے دھیرے لبوں سے چھونے لگا ۔۔۔۔
شاہ پلیز “
اسے دوبارہ بہکتے دیکھ التجائی پکارا ۔۔۔۔۔
کیا یار بندہ اپنی بیوی سے کھل کر رومانس بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔
منہ بنا کر بولتا اسے چھوڑ کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر زرمینے کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ۔۔۔۔۔
اور جو مجھے ساری رات ایک پل کیلئے سکون نہیں لینے دیا وہ کیا تھا ؟؟؟؟؟
وہ رومانس تھا کیا ؟؟؟؟؟
اسکی بات پر شرارت سے سوال گو ہوا ۔۔۔۔
زرمینے کو اپنی بات کا ادراک ہوا ،،،،، اور وہ سرخ پڑتی خاموشی اختیار کر گئی ۔۔۔۔۔
زارون نے بےساختہ جھکتے اسکے سرخ بھرے بھرے لبوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لیا ۔۔۔۔۔
اور چند پل اس کی سانسوں کو محسوس کرنے کے بعد دور ہوا ۔۔۔۔۔
میرا دل تو نہیں کر رہا ،،،،، تمہیں ایک پل کیلئے بھی خود سے دور بھیجنے کا لیکن فلحال مجبوری ہے ۔۔۔۔۔
ساتھ ہی دھیرے سے اسکی ٹھوڑی پر لب رکھے ۔۔۔۔
تم ایک منٹ رکو میں ذرا دیکھ کر آوں کے راستہ کلیر ہے جا نہیں ۔۔۔
ٹھیک ہے اسکی گال تھپتھپاتے پیار سے بولا ۔۔۔۔۔
زرمینے نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔
پھر اٹھ کر اپنی شرٹ پہننے لگا ،،،، جب زرمینے نے اسے روکا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟؟؟
سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔
زرمینے اپنے کپڑے درست کر کے اٹھ کر بیٹھی اور اسکا رخ پلٹ کر اسکی پشت کو بہت غور سے دیکھنے ۔۔۔۔۔
اور اپنے کپکپاتے ہاتھ اسکی پشت پر کندھے کے نزدیک موجود گہرے زخم کے نشان پر رکھے ۔۔۔۔
یہ کیا ہوا ہے ؟؟؟؟؟
کپکپاتے لہجے میں بولی ۔۔۔۔
جس پر زارون کی آنکھوں کا رنگ یکدم بدلہ ۔۔۔۔۔
جسے اگر زرمینے دیکھ لیتی تو روح تک لرز جاتی ۔۔۔۔۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں ۔۔۔۔۔
پھر لبوں پر مسکراہٹ سجاتے پلٹا ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا میری جان ،،،،، لیکن زارون یہ نشان تو ایسا ہے جیسے کسی نے آپ پر کسی تیز دھار چیز سے وار کیا ہو ۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے ،،،،، یہ بچپن میں میں ایک بار گر گیا تھا اسی چوٹ کا نشان ہے ۔۔۔۔
لیکن “
میں کہہ رہا ہوں نا ۔۔۔۔۔یکدم اسکا لہجہ تیز ہوا ۔۔۔۔۔
اسکی بات درمیان میں کاٹتے بولا ۔۔۔۔۔
اور اسکا انداز اس قدر سرد تھا ،،،،،، کہ زرمینے کی ہمت نہیں ہوئی دوبارہ سوال کرنے کی ۔۔۔۔۔
اور چپ چاپ سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
گڈ گرل ۔۔۔۔۔
میں آتا ہوں ابھی ،،،،، سپاٹ سے لہجے میں کہتے شرٹ پہنتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
پیچھے اسکی پشت کو زرمینے نے پرسوچ نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔
زرمینے کی آنکھوں کے آگے ایک بھیانک منظر چھن سے لہرایا ۔۔۔۔
وہ زارون “
نہیں ۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلاتے اپنے دماغ میں آتے خیالات کی نفی کی تھی ۔۔۔۔۔۔
