Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

وہ آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا ۔۔۔بلیک شلوار قمیض کے اوپر بلیک ہی کوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔ کالے خوبصورت بالوں کو جیل لگا کر ایک طرف سیٹ کیا گیا تھا ۔۔۔
کشادہ پیشانی ، گہری سبز آنکھیں جن میں ہمہ وقت سرخی چھائی رہتی تھی ،،، کھڑی ستواں ناک ، خوبصورت عنابی لب جو سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے کناروں سے ہلکے کلیجی مائل ہو گئے تھے ،،بڑھی ہوئی شیو اور گھنی مونچھیں ،،، سرخ و سفید مضبوط کلائی میں (Sveston) کی مہنگی گھڑی پہنے ،،،وہ مکمل وجاہت کا شہکار لگ رہا تھا ۔۔۔
اپنے اوپر پرفیوم سپرے کرتے ایک آخری نظر اپنی تیاری پر ڈالی تھی ۔۔۔اور ہاتھ کے اشارے سے خان کو بس کرنے کا بولا جو اسے اسکی تیاری میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے آج کا شیڈول بھی بتا رہا تھا ۔۔
خان اسکا خاص آدمی تھا ،،، سیکورٹی ہیڈ ہونے کے ساتھ اسکے پرسنل سیکرٹری کا کام بھی وہی انجام دیتا تھا ۔۔۔
الیکشن کی وجہ سے آج کل اسکی روٹین کافی ٹف ہو گئی تھی ۔۔۔جسکی وجہ سے وہ سہی سے نیند بھی نہیں لے پا رہا تھا ۔۔۔اس نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے نو بجا رہی تھی ۔۔۔
پورے دس بجے پارٹی ممبران کے ساتھ اسکی بہت اہم میٹنگ تھی ۔۔۔اپنی تیاری سے مطمئن ہوتے اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔ اور پیچھے ہی اس کی ضروریات کی چیزیں اٹھاتا جھکے سر کے ساتھ خان بھی نکلا تھا ۔۔۔
وہ جب نیچے آیا تو ملازم ناشتہ لگا چکے تھے ،،، کیونکہ وہ اپنے مالک کی نیچر سے اچھی طرح واقف تھے اگر ان سے ذرا بھی دیری ہو جاتی تو سب کی شامت آ جانی تھی ۔۔۔
خان نے آگے بڑھ کر اس کیلئے کرسی کھنچی تھی ۔۔۔ اسکے بیٹھتے ہی ملازم نے ناشتہ سرو کرنا شروع کیا ۔۔۔ابھی اس نے پہلا نوالا ہی لیا تھا کہ اسکا پرسنل فون رنگ ہوا تھا ۔۔۔
جسے سن کر وہ ہلکے سے مسکرایا تھا شاید اسے پتا تھا کہ فون کس کا ہوگا ۔۔۔اور جب اس نے موبائل کی سکرین پر نظر ڈالی تو توقع کے عین مطابق اوپر دادا سائیں کالنگ لکھا آ رہا تھا ۔۔۔
السلام و علیکم دادا سائیں !! اس نے فون اٹینڈ کرتے ہوئے ادب سے سلام کیا تھا ۔۔
وعلیکم السلام کیسے ہیں برخوردار ۔۔۔ انہوں نے سلام کا جواب دیتے اسکا حال احوال پوچھا تھا ۔۔۔
الحمدللہ ہم بالکل ٹھیک ہیں ،،، آپ سنائیں کیسے ہیں ۔۔۔ وہ اپنے لہجے میں شائستگی اور نرمی سموتے محبت سے بولا تھا ۔۔۔
ہم بھی ٹھیک ہیں ۔۔۔پھر کیا ارادہ ہے حویلی کا چکر کب تک لگائیں گے ۔۔۔اس بار آپ نے کچھ زیادہ ہی دن لگا دیئے ۔۔۔انہوں نے جیسے ہلکا سا شکوہ کیا تھا ۔۔۔
جی دادا سائیں بس الیکشن کمپین میں بالکل ٹائم نہیں مل سکا ،، ورنہ ہم ضرور آتے ۔۔۔ آپ جانتے ہیں ہم آپ سے زیادہ دن دور نہیں رہ سکتے ۔۔۔
اسکی بات پر وہ مسکرائے تھے ۔۔اچھا چلیں پھر آج جلسے کے بعد گھر کا ایک چکر لگا لیں ۔۔۔اس کے بعد تو آپکی مصروفیت اور بڑھ جانی ہیں ۔۔۔
جی بہتر !! ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ وقت نکال کر آ سکیں ۔۔۔
اس کے بعد اس نے الیکشن کے بارے میں چند ضروری باتیں کرکے اور انکی ہدایات سن کر الوداعی کلام کہے ۔۔۔اور اپنا ناشتہ مکمل کرتے قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔
اسکے باہر آنے سے پہلے ہی ساری گاڑیاں گارڈز سمیت تیار تھیں ،،، خان نے آگے بڑھ کر اس کیلئے دروازہ کھولا تھا ۔۔اور اسکے بیٹھتے ہی دراوزہ بند کرتے ،،، خود ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔جبکہ اس نے سگریٹ سلگائی تھی ۔۔۔
شاہ مینشن سے ایک ساتھ قطار در قطار گاڑیاں نکلی تھیں ،،، آگے پیچھے گارڈز جبکہ درمیان والی میں سردار ضارب شاہ موجود تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *