Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 17)Part 2
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 17)Part 2
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
اصل میں دادا سائیں کا ابیہا کیلئے واسم کا انتخاب اسے کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ جس نیچر کا مالک تھا ۔۔۔۔۔وہ قطع بھی ایسے انسان سے اپنی بہن کو نہیں بیاہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
ضارب نے اپنے ماں باپ کے جانے کے بعد بیا کو بہت ہی پیار سے پالا تھا۔۔۔۔
کسی نازک گلاب کے پھول کی طرح ۔۔۔۔۔ اس لیے وہ چاہتا تھا کہ اسے ہم سفر بھی ایسا ملے جو اس کا اس سے بڑھ کر خیال رکھ سکے۔۔۔۔
اور واسم کے نیچر سے کون واقف نہیں تھا وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا ٹیمپر لوز کرنے والا شخص کیا اس کی بہن کے لیے نرم خو اور محبت کرنے والا بن سکتا تھا۔۔۔۔
قطع نہیں”
اسے واسم سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی ۔۔۔۔ نا ہی اس کی نیچر اور غصے سے کوئی مطلب ،،،،، بس وہ اپنی بہن کے لیے ایسا شخص چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
جو اس کی بہن کو سمجھ سکے ،،،،،، جبکہ واسم حاکم طبیعت کا مالک تھا۔۔۔۔۔
حکم چلانے والا بس اپنی کرنے والا۔۔۔۔۔
اس رشتے میں صرف اور صرف ایک بات اچھی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ یہ کہ اگر ابیہا کی شادی واسم کے ساتھ ہو جاتی تو وہ ہمیشہ اسکی آنکھوں کے سامنے رہتی۔۔۔۔۔
لیکن وہ بس اس ایک بات کے لئے وہ باقی چیزوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
اور سب سے زیادہ جو امپورٹنٹ بات تھی وہ تھی ابیہا کی رضامندی ،،،،،، اس لیے وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس سے بھی پوچھ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اور پھر کیا جواب دیا اس نے آپ کو دادا سائیں ،،،،،، اس نےاپنے تمام اندیشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے دادا سائیں سے واسم کے بارے میں پوچھا تھا۔۔۔۔۔
ابھی تو انہوں نے کوئی خاص جواب نہیں دیا ،،،،، بس کچھ وقت مانگا ہے فیصلہ کرنے کے لئے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے جب وہ جواب دے دیں تو ہمیں بتا دیجئے گا تب تک ہم ابیہا سے بھی بات کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔
ان کی مرضی جاننے کے بعد ہی ہم کوئی حتمی فیصلہ کر پائیں گے ۔۔۔۔۔
جس پر وہ سر ہلا گئے تھے۔۔۔۔۔
اس کے بعد کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ انہیں شب بخیر کہتا وہاں سے اٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
جس کا محبت سے جواب دیتے انہوں نے اس کے سر پر پیار دیا تھا ۔۔۔۔۔ جس کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا دن بہت مصروفیت بھرا تھا ۔۔۔۔۔ لگاتار ہونے والی میٹنگز نے اسے بہت تھکا دیا تھا۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اب تو سر میں ہلکا ہلکا درد بھی شروع ہو چکا تھا۔۔۔
اور ابھی کچھ دیر بعد ہی ایک بہت امپورٹنٹ میٹنگ تھی لیکن اس میں ابھی تھوڑا سا وقت تھا اس لیے وہ پرسکون ہونے کے لئے آفس روم میں چلا آیا ۔۔۔۔
اور فری ہوتے ہی جیسے دماغ تھوڑا سا ریلیکس ہوا ویسے ہی ایک بار پھر دادا اور بابا سائیں کی باتیں اس کے دماغ میں گونجنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
ابیہا سے اس کی بحث اور اس کا اسے جواب دینا اسے ایک بار پھر اشتعال دلا گیا۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی ابہیا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب دروازہ ناک کرتے معروف اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ میں بھاپ اڑاتا گرم کافی کا کپ تھا ،،،،،، جو اس نے ہی منگوایا تھا۔۔۔۔۔
تاکہ میٹنگ سے پہلے اس سر درد سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔۔۔۔۔
“رکیے مس حسن”
وہ جھکی نظروں کے ساتھ کافی کا کپ ٹیبل پر اس کے سامنے رکھتی ،،،،،، بنا کچھ کہے ویسے ہی واپس جا رہی تھی جب اس نے پیچھے سے اسے مخاطب کیا تھا۔۔۔۔۔
یس سر “
جب کہ وہ جو یہاں سے بھاگنے کے لیے پر تول رہی تھی اس کے یوں بلانے پر گھبراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
اسے لگا اس سے کوئی غلطی ہوگئی ہے ،،،،، اور اب اس نے شاید اسے کچھ کھڑی کھوٹی سنانے کے لئے روکا ہے۔۔۔۔۔
بیٹھ جائیے مس حسن “
جبکہ اس کے ڈر کو سمجھتے ہوئے اب کے بار وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف واسم کے اتنی نرمی سے بولنے پر وہ اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
آپ ہی سے کہہ رہا ہوں بیٹھ جائیے ۔۔۔۔۔
جس پر وہ فورا عمل کرتی ،،،،،، اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
اب میں آپ سے جو بھی سوال پوچھوں گا اس کا صحیح صحیح جواب دیجیے گا۔۔۔۔۔۔
جب کہ اس کی بات پر اس نے سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا۔۔۔۔۔۔
آپ کے گھر میں کون کون ہے ؟؟؟
جی “
میں نے پوچھا آپ کے گھر میں کتنے افراد ہیں؟؟؟
اپنے لفظوں میں کچھ ردوبدل کرتے دوبارہ سے اپنا سوال دہرایا تھا۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی گرم کافی کا سپ بھی لیا۔۔۔۔۔۔
جی ،،،،، سر میں،،،،،اور میرا ماں بس ،،،،،،
اور خاندان میں آگے پیچھے کوئی ؟؟؟
کوئی نہیں۔۔۔۔۔ اس کے مختصر سوال کا مختصر ہی جواب آیا تھا۔۔۔۔
جس پر وہ سر ہلا گیا۔۔۔۔۔
“ہممم سہی”
آپ کسی کے ساتھ انگیجڈ ہیں یا نہیں؟؟؟۔۔۔۔اسکے چہرے پر اپنی نظریں ٹکائے ایک بار پھر سوال گو ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جی “
اس نے ایک بار پھر حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔۔۔۔
میں پوچھ رہا ہوں کہ آپ کی کوئی منگنی وغیرہ یا پھر کہیں رشتہ وغیرہ طے ہوا کہ نہیں ؟؟؟۔۔
“نہیں سر”
اس نے نفی میں سر ہلا کر جواب دیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن واسم کے اتنے پرسنل سوال پوچھنے پر وہ کافی حیران ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
ہمم سہی”
ابھی اس سے وہ کچھ اور بھی کہتا جب اچانک دروازہ ناک ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
“یس کمینگ”
سر وہ عاطف حمدانی صاحب آگئے ہیں۔۔۔۔۔ اور ساتھ دوسرے بورڈ ممبرز بھی میٹنگ روم میں موجود ہیں۔۔۔۔۔
اور اب آپ کا انتظار ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
اجازت ملتے ہی اس کا پی اے عجلت میں اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔اور اسے کچھ دیر میں ہونے والی میٹنگ کے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس پر اس نے ایک نظر اپنی گھڑی کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
وقت تو سچ میں ہو گیا تھا۔۔۔۔
اچھا تم چلو میں آتا ہوں۔۔۔۔۔ ایک نظر معروف کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اسے جانے کا بولا تھا۔۔۔۔۔
جس پر وہ خاموشی سے سر ہلاتا چلا گیا۔۔۔۔۔
مس حسن مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی لیکن ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔۔
اور میٹنگ ختم ہوتے تو کافی ٹائم ہو جائے گا اس لیے آپ کل صبح آفس آتے ہی سیدھا میرے روم میں آئیے گا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ اب آپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔
“اوکے سر”
وہ اس کی بات پر سر ہلاتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے جاتے ہی وہ بھی اپنی کافی ختم کرتا میٹنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا جہاں اس کا انتظار ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کے بعد ضارب اپنے ڈیرے جب کہ واسم آفس چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
جن کے جاتے ہی دادا سائیں نے ابرش اور ابیہا کو اپنے کمرے میں بلایا تھا۔۔۔۔۔
تاکہ وہ ان سے ان کی مرضی پوچھ سکیں۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اپنے پوتوں کا رشتے کی بات پر ری ایکشن دیکھ کر انہیں اپنی خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی بہنوں سے کچھ بات کرتے وہ انہیں اپنے اعتماد میں لے لینا چاہتے تھے۔۔۔۔۔
تبھی دروازہ ناک کرتے وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئی اور انہیں سلام کر کے ان کے دائیں بائیں بیٹھ گئی یہاں انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔۔
جی دادا سائیں آپ نے ہمیں بلایا ؟؟؟
جی بیٹا سائیں ہم نے آپ دونوں سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔۔۔۔۔۔۔
بلکہ کچھ پوچھنا تھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ ان کی پوچھنے والی بات پر ابیہا کے کان کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
اسے فورا واسم کے الفاظ یاد آئے تھے۔۔۔۔
ہم نے آپ دونوں کی زندگی کا ایک فیصلہ لیا ہے۔۔۔۔۔ اور وہ صرف ایک فیصلہ ہی نہیں بلکہ ہماری خواہش ہے جو ہم چاہتے ہیں کہ آپ دونوں پورا کریں۔۔۔۔۔۔
کیا آپ دونوں ہماری بات کا مان رکھتے ہوئے ہمارے اس فیصلے کو مانیں گی۔۔۔۔۔۔
وہ ان دونوں کے معصوم چہروں کو محبت سے دیکھتے شفقت سے گویا ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
ارے یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں دادا سائیں آپ کے لیے تو ہماری جان بھی حاضر ہے۔۔۔۔۔۔
آپ پوچھے نہیں بلکہ حکم دیں ۔۔۔۔۔ آپ کا ہر فیصلہ ہماری سر آنکھوں پر ،،،،،، ابرش لاڈ سے ان کے سینے سے لپٹتی بولی ۔۔۔۔۔۔۔
جب کہ ابیہا فلحال خاموش تھی ،،،،،، لیکن پھر ان کے دیکھنے پر ہلکے سے مسکرائی ۔۔۔۔
یہ دیکھتے انہیں کچھ حوصلہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
بیٹا ہم نے آپ دونوں کا رشتہ واسم اور ضارب کے ساتھ طے کیا ہے آپ دونوں کو کوئی اعتراض تو نہیں۔۔۔۔۔۔
ابیہا کو جس بات کا ڈر تھا آخر وہی بات نکلی ،،،،،، واسم کی بات سننے کے بعد اسے یہ تو پتہ تھا کہ دادا سائیں اس سے اس کی مرضی پوچھیں گے لیکن اتنی جلدی اسے اس بات کا اندازہ بالکل نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
دادا سائیں ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن شاید واسم لالہ کو ہے۔۔۔۔۔۔
کیونکہ کل شام میں ہی انہوں نے مجھ سے بات کی تھی کہ وہ یہ رشتہ نہیں چاہتے اس لئے میں انکار کر دو۔۔۔۔۔
شاید وہ کسی کو پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی سے شادی کرنا چاہتے لیکن شاید انہوں نے ابھی ان سے بات نہیں کی اس لئے کچھ وقت مانگ رہے تھے۔۔۔۔۔
اور میرے انکار کے بعد میں وہ انہیں مل جاتا ۔۔۔۔۔
دادا سائیں آپ میری ٹینشن نا لیں ،،،،،، واسم لالا کی جہاں خواہش ہے وہی ان کی شادی کر دیں ۔۔۔۔۔۔
تاکہ وہ خوش رہ سکیں۔۔۔۔۔۔
وہ فورا اپنے چہرے پر مسکینیت لاتی معصومیت سے بولی جیسے اس سے بڑا اسکا کوئی خیر خواہ ہی نہ ہو۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف ضارب سے اپنی شادی کا سن کر ابرش کا گلابی چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
اس کے کانوں میں کسی کی درد*ناک چینخ اور ساتھ ہی آنکھوں کے سامنے اس کی خو*ن میں لت پت لا*ش لہرائی تھی۔۔۔۔۔
اور یکدم ہی اسے وہاں گھٹن سی محسوس ہونے لگی۔۔۔۔۔
جبکہ دادا سائیں تو ابیہا کی بات سن کر ہی پریشان ہو چکے تھے ،،،،،، اس لئے اس کی بگڑتی حالت پر وہ دھیان نہیں دے سکے۔۔۔۔۔
کیا ہوا ابرش تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟؟؟۔۔۔
لیکن ابیہا جو اس کی طرف ہی رخ کر کے بیٹھی تھی اس کی زرد پڑتی رنگت کو دیکھ کر پریشانی سے بولی۔۔۔۔۔
اس کے بولنے پر اب کہ دادا سائیں بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔
کیا ہوا بیٹا آپ کی طبیعت کو۔۔۔۔۔
کچھ نہیں دادا سائیں بس اچانک سے دل تھوڑا سا گھبرانے لگا ہے۔۔۔۔۔
ان کی آواز سنتی وہ جیسے ہوش میں آ کر خود کو کمپوز کرتے ہوئے دھیرے سے بولی۔۔۔۔۔۔
ابیہا فورا اٹھ کر کمرے میں جگ سے اس کیلئے پانی لے آئی تھی ۔۔۔۔۔
جسے کانپتے ہاتھوں سے پکڑتے وہ لبوں سے لگا گئی ۔۔۔۔
جبکہ اماں سائیں جو ان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ان کی زیرک نگاہوں سے ضارب کے نام پر اسکی بگڑتی حالت پوشیدہ نا رہ سکی۔۔۔۔۔
ضارب کی موجودگی میں اس کا ڈرنا وہ پہلے بھی محسوس کر چکی تھیں لیکن وہ اسے اسکی شرم و حیا اور ضارب کے بڑے ہونے پر اسکی جھجک سمجھی تھیں ۔۔۔۔۔۔
لیکن اب انہیں معاملہ کچھ بڑا لگ رہا تھا۔۔۔۔ صرف ضارب کے نام پر ہی اسکی حالت کا اس حد تک بگڑنا انہیں تشویش میں مبتلا کر گیا۔۔۔۔۔
ابیہا بیٹی ہمیں ابرش کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ انہیں فی الحال ان کے کمرے میں لے جائیں ۔۔۔۔۔
ہم اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے۔۔۔۔۔ وہ اسکی حالت کو دیکھتے ہوئے رسان سے بولیں تھیں ۔۔۔۔۔
جس پر سر ہلاتے وہ فورا عمل کرتی ۔۔۔۔۔ اسے وہاں سے لے گئی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ ابرش نے بھی ان کی بات پر سکھ کا سانس لیا تھا اور چپ چاپ اٹھ کر ابیہا کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو شکر تھا کہ انھوں نے زیادہ سوال نہیں پوچھے تھے ورنہ وہ اپنی اس حالت کے پیچھے انہیں کیا جواب دیتی۔۔۔۔۔
جبکہ ان دونوں کے جانے کے بعد دادا سائیں اور اماں سائیں دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔۔۔
ان حالات میں ان کو یہ رشتے پایا تکمیل تک پہنچتے ناممکن نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رکو لڑکی کیا بولا ہے تم نے میرے بارے میں دادا سائیں سے۔۔۔۔۔۔
وہ اچانک اسے پیچھے سے مخاطب کرتا گویا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اور آپ مجھے بتانا پسند کریں گے کہ ایسا کیا کہا ہے میں نے جو آپ مجھ پر بن بادل برسات کی طرح گرج چمک رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اس کی دھاڑ پر ابیہا کا نازک سا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا لیکن پھر خود کو مضبوط کرتی ۔۔۔۔۔۔۔
پلٹ کر سپاٹ لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تمہیں رشتے سے انکار کرنے کا بولا تھا نہ کہ میری زندگی میں قیاس آرائیاں کرنے کو پھر کیا سوچ کر تم نے دادا سائیں سے وہ سب کہا۔۔۔۔۔
تم ہوتی کون ہو میری کردار پر بات کرنے والی۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے یو انجان بن جانے پر واسم کے غصے میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن پھر آپ نے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر خود کو کنٹرول کرتا دبے دبے غصے سے چلایا۔۔۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ پورا چہرہ بھی سرخ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔
جسے دیکھ کر ایک پل کے لئے تو ابیہا گھبرا گئی۔۔۔۔۔
ایسا بھی کچھ غلط نہیں بولا میں نے صرف سچ ہی تو بیان کیا ہے
ویسے بھی آپ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہے تھے جو مجھے نہ منظور تھا
آپ کی خاطر میں کیوں گھر والوں کی نظروں میں بری بنوں اس لئے جو حقیقت تھی وہ میں نے بیان کر دی۔۔۔۔۔۔۔
ویسے بھی اس رشتے سے اعتراض آپ کو ہے تو جواب بھی آپ ہی جا کر دیں مجھے ان سب میں شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اطمینان سے گویا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
” او آئی سی “
اب مجھے اصل بات سمجھ آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اصل میں میرا تمہیں ری جیکٹ کرنا پسند نہیں آیا۔۔۔۔
اس لیے اب تم میرے بارے میں ایسی باتیں بنا رہی ہوں تاکہ گھر والوں کے دباؤ میں آ کر میں تم سے شادی کر لو۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ آپ کی سب سے بڑی بھول ہے مس ابیہا کے واسم شاہ سے اس کی مرضی کے بغیر کوئی کام کروایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔
تم میرے سامنے پورا خاندان ہی کیوں نہ کھڑا کر دو پھر بھی تم سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراتا استہزائیہ لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔
جب کہ اتنی بےعزتی پر ابیہا کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
ویسے آپ نے اپنے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پال رکھی ہیں مسٹر واسم شاہ آپ میں ایسا ہے ہی کیا سوائے اس گوری چمڑی اور ڈریگن جیسی سرخ نیلی آنکھوں کے جو میں آپ سے شادی کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپناؤں ۔۔۔۔۔۔
آپ مجھے کیا ریجیکٹ کریں گے میں آپ کو اپنے قابل ہی نہیں سمجھتی میں جس سے شادی کروں گی وہ ایک آئیڈیل انسان ہوگا۔۔۔۔۔۔
ناکہ آپ جیسا اپنی انا پرست اور باطل و مغرور ،،،،،، خود کو مسٹر پرفیکٹ اور دوسروں کو زمین کا کیڑا سمجھنے والا۔۔۔۔۔
آپ دنیا کے آخری مرد بھی بچیں نا تب بھی میں آپ سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔
اس لیے اپنی خوش فہمیوں کے پہاڑ سے نیچے اتر آئیں ہر انسان شکل و صورت پر مرنے والا نہیں ہوتا انسان میں کچھ سیرت بھی ہونی چاہیے۔۔۔۔۔۔
جو آپ کے بیہیویر کو دیکھتے ہوئے مجھے آپ میں ناپید نظر آتی ہے۔۔۔۔۔
وہ بھی اسی کا لب و لہجہ اپناتے ہوئے طنزیہ بولی۔۔۔۔۔
اس بار چہرہ متغیر ہونے کی باری واسم شاہ کی تھی۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اس کے غصے کا گراف سوا نیزے پر پہنچا تھا۔۔۔۔۔
لڑکی بات اتنی کرو جتنی تم میں بعد میں برداشت کرنے کی ہمت ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کے بازو کو اپنی سخت گرفت میں لیتا ایک جھٹکے سے قریب کرتے ہوئے غرا کر بولا۔۔۔۔۔
میں نے صرف سچ ہی بیان کیا ہے اگر آپ کو برا لگا ہے تو یہ آپ کا سر درد ہے میرا نہیں آپ مجھے ایسے ڈرا دھمکا کر چپ نہیں کروا سکتے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بازو میں اس کی کھبتی سخت کھردری انگلیوں کا درد برداشت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ بنا ڈرے ڈٹ کر جواب دیتی گویا ہوئی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اپنےان الفاظ کا بھگتان بھرنے کے لیے تیار رہنا،،،،،،میں کس قابل ہوں یا کس قابل نہیں بہت جلد تمہیں بتاؤں گا۔۔۔۔۔
اب تمہیں ساری زندگی اسی انا پرست اور باطل و مغرور انسان کے ساتھ گزارنی ہوگی ۔۔۔۔۔
خود کو اچھے سے تیار کر کے آنا ۔۔۔۔۔کیونکہ واسم شاہ کو جھیلنا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ۔۔۔۔
تمہاری نازک جان پر بہت مہنگی پڑنے والی اس خونخوار ڈریگن کی قربت ۔۔۔۔۔
وہ اسکے چہرے کو اپنے چہرے کے قریب کرتا ذومعنی انداز میں بولتا اسے ایک جھٹکے میں چھوڑ کر ایک استہزائیہ نظر اسکے شرم و حیا اور غصے کے ملے جلے تا ثررات سے سرخ پڑے چہرے پر ڈالتا پلٹ گیا ۔۔۔۔
اور پیچھے ابیہا نے غصے کی انتہا سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔۔۔جبکہ اسکی بےباک باتوں پر چہرہ شرم سے پورہ سرخ تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آپ سے شادی کرے گی میری جوتی ،،،،،، وہ بھی اسکے پیچھے چلا کر کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واسم آفس سے جیسے ہی گھر آیا ،،،،،،، ارمغان شاہ نے فورا اپنے کمرے میں بلا کر اسکی کلاس لے ڈالی تھی ۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اسکی حرکت کے بارے میں دادا سائیں انہیں دوپہر میں ہی بتا چکے تھے ۔۔۔۔۔۔
وہ سخت برہم ہوئے تھے اسکی اس حرکت پر ،،،،،،، جس کے کے چلتے انہوں نے اسے اچھا خاصا ذلیل کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اسے ابیہا سے شادی نہیں کرنی تھی تو وہ انہیں کل رات ہی صاف صاف بتا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایسے اس سے بات کر کے ابیہا کی انسلٹ کرنے کا کوئی حق نہیں تھا اسے ۔۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی اس سے اس لڑکی کے گھر والوں کے بارے میں پوچھا تھا ،،،،، جسے وہ پسند کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تاکہ وہ ان سے مل کر جلد از جلد اسکا رشتہ وہاں طے کر سکیں ۔۔۔۔۔۔
جس کے جواب میں وہ اپنے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر کنٹرول کرتا ۔۔۔۔۔انہیں بنا کوئی جواب دیئے ہی اٹھ آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ اپنے کمرے کی طرف ہی جا رہا تھا ،،،،، جب اسے ابیہا نظر آئی ،،،،،، اور اسے دیکھتے ہی اس کے غصے سے ابلتے خون میں طغیانی آئی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ اسے پیچھے سے مخاطب کر بیٹھا ۔۔۔۔۔۔
اور اس لڑکی کی باتوں نے سچ میں اسکا دماغ گھما دیا تھا ۔۔۔۔۔جو اپنی نادانی میں اس کی انا پر کاری ضرب لگا گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس نے جو واسم شاہ کی بیعزتی کی تھی وہ اسے ساری زندگی نہیں بھولنے والا تھا اور نا اسے کبھی معاف کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
