Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 90)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

بیڈ پر تکیہ سیٹ کرتے ہوئے ارمغان شاہ نے روباب کو بیٹھنے میں ہیلپ کی تھی ۔۔۔۔جبکہ اتنے سالوں بعد انہیں اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس عمر میں بھی انکا دل زوروں سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔

جسکا اندازہ ارمغان شاہ کو انکا سرخ چہرہ دیکھ کر ہی ہو گیا تھا ۔۔۔۔

جس سے انکے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔

پانی کے گلاس انکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے انکی میڈیسن نکال کر روباب کی طرف بڑھائی ۔۔۔۔

جسے جھکی نظروں سے تھام کر انہوں نے منہ رکھا اور پھر پانی کے ساتھ نگل گئیں ۔۔۔۔پتا نہیں کیوں لیکن انہیں ارمغان شاہ سے ایک جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔

جسے ارمغان شاہ بھی محسوس کر چکے تھے ۔۔۔

ارمغان شاہ نے گلاس انکے ہاتھ سے لے کر ٹیبل پر رکھا اور پھر مین لائٹ کو بجھا کر سائڈ لیمپ روشن کرتے ہوئے انکے قریب ہی بیڈ پر براجمان ہو گئے ۔۔۔۔

کیا ہوا روباب سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟

گھبراہٹ کی وجہ سے ٹھنڈے پڑ چکے انکے ہاتھوں کو نرمی سے تھام کر بہت محبت سے بولے ۔۔۔

جس پر انہوں نے جھکی نظروں کے ساتھ ہی سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

پھر آپ میری طرف دیکھ کیوں نہیں رہی ؟؟؟؟ ایک اور سوال ۔۔۔۔

پتا نہیں ۔۔۔۔ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو چھلکے تھے ۔۔۔۔

ارمغان شاہ نے فورا آگے بڑھتے انہیں اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔وہ شاید کچھ کچھ انکے اندر کی حالت سمجھ رہے تھے ۔۔۔اس لیے چپ کروانے کی بجائے انہیں کھل کر رونے دیا تاکہ وہ اپنے اندر کا غبار نکال سکیں ۔۔۔۔

لیکن جب وہ بہت دیر بعد بھی چپ نا ہوئیں تو انہوں نے خود ہی دھیرے الگ کیا ۔۔۔۔

اچھا مجھے بتائیں آپکو کیا چیز پریشان کر رہی ہے ۔۔۔انکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے پوروں سے صاف کرتے نرمی سے بولے ۔۔۔۔

وہ ،،،، وہ ،،،، میں

اپنے دل میں چھپے خدشات وہ کن الفاظ میں بیان کریں انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔

غنی میں وہ اتنے سال آپ سے دور رہی ،،،، اور کومہ میں بھی ،،،، اب اچانک اتنے سالوں بعد ہم ملے ،،،، تو آپ پوچھے گئے نہیں کہ میں کن حالات سے گزری ،،، میرے ساتھ کچھ ،،،،،

ہشش ” آپکو کچھ بھی کہنے یا بتانے کی ضرورت نہیں ،،،، اور نا ہی یہ سب سوچ کر پریشان ہونے کی مجھے ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔

میرے لیے تو یہی بہت بڑی بات ہے کہ آپ زندہ سلامت میرے سامنے میرے پاس موجود ہیں ۔۔۔۔

ابھی انکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب ارمغان نے انکے لبوں پر انگلی رکھتے خاموش کروایا تھا ۔۔۔

اور ساتھ ہی انکے ہاتھوں کو اوپر کرتے محبت چوما ۔۔۔۔

لیکن پھر بھی ۔۔۔۔

بس کہہ دیا آج کے بعد ہمارے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوگی ،،،، میرے لیے سب سے زیادہ آپ امپورٹنٹ ہیں ۔۔۔۔اس لیے آپ بھی یہ ساری باتیں بھولا کر زندگی کی ایک نئی شروعات کریں ۔۔۔۔ہممم”

مسکرا کر کہتے ہوئے نرمی سے چہرہ تھپتھپایا ۔۔۔جس پر وہ بھی نم آنکھوں ساتھ مسکرائیں تھیں ۔۔۔۔

چلیں اب آرام کریں ۔۔۔۔بیڈ سے اٹھتے ہوئے انہیں لیٹنے کو اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔

جسکی انہوں نے فورا تکمیل کی ۔۔۔ارمغان شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔

آپ بھی آ جائیں گے ۔۔۔۔انہیں ایسے کھڑے دیکھ کر اس بار مسکرا کر بولی ۔۔۔جس پر سر ہلاتے وہ بیڈ پر دوسری طرف سے آ کر براجمان ہوئے تھے ۔۔۔

جبکہ انکے لیٹتے ہی روباب نے آگے بڑھ کر انکے کندھے پر سر ٹکایا ۔۔۔۔جن کے گرد نرمی سے اپنا حصار کھینچے انکے بالوں میں انگلیاں سہلانے لگے ۔۔۔۔

جس پر سکون محسوس کرتیں وہ دھیرے سے آنکھیں بند کر گئیں اور دواوں کے زیر اثر جلد گہری نیند میں بھی چلی گئیں ۔۔۔

انکی گہری ہوتی سانسوں کو محسوس کرکے ارمغان شاہ نے بہت محبت سے انکی پیشانی پر بوسہ دیا اور انکے گرد اپنی گرفت مظبوط کرتے آسودگی سے آنکھیں موند گئے ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی ضارب شاہ کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔اور اپنے سینے پر سر رکھ کر سوتی ہوئی اپنی معصوم جان کے سرخ چہرے کو دیکھتے ایک بار پھر اس پر ڈھیر سارا پیار آیا ۔۔۔۔

لیکن وہ اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے اسکی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ابھی ہی کچھ دیر پہلے تو وہ اسکا جنون برداشت کر کے سوئی تھی ۔۔۔اور جس کنڈیشن میں وہ تھی ایسی حالت میں تو اسے آرام کی سخت ضرورت تھی ۔۔۔۔

اس لیے اسے نرمی سے بیڈ پر منتقل کرتے ہوئے پیشانی پر دھیرے سے بوسہ دیا ۔۔۔۔

اور بنا آواز پیدا کیے بیڈ سے اٹھ آیا ۔۔۔۔

ضارب شاہ نے ایک نظر اسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔پھر بیڈ کی بائیں سائڈ لگے ہوئے ریڈ بٹن کو دبایا ۔۔۔۔

جس سے دیواروں پر لگے پردے ایک چھتری کی صورت اختیار کرتے ہوئے شیشے کی چھت کو مکمل طور پر کور کر گئے ۔۔۔۔

اسکی نیند میں خلل ڈالنے والے آخری راستے کو بھی بند کرتے وہ مطمئن ہوتا ۔۔۔۔۔اسی طرف کی بائیں دیوار پر اپنا ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔جس سے وہ دو حصوں میں تقسیم ہوتی ایک دروازے کی طرح کھل گئی ۔۔۔۔

سامنے ہی ایک راہداری تھی ۔۔۔۔جو ضارب شاہ کے سپیشل روم کی طرف جاتی تھی ۔۔۔۔جس میں اس نے اپنے دشمنوں کا حساب کتاب اور ضروری فائلز رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔

اسکے اندر داخل ہوتے ہی وہ دیوار دوبارہ ایسے جڑ گئی جیسے کبھی کھلی ہی نا ہو ۔۔۔۔

ضارب کا پورا پورشن ہی ایسے ایک جال کی طرح بنا ہوا تھا ۔۔۔جس میں بہت سارے خفیہ کمروں کے ساتھ راہداریاں بنی تھی ،،،، جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتی تھیں ۔۔۔۔۔

راہداری سے گزر کر کمرے میں داخل ہوتے جو کہ ایک سٹڈی روم کی طرز پر بنا ہوا تھا ۔۔۔۔

ضارب شاہ نے سامنے ٹیبل پر رکھا ہوا ۔۔۔سپیشل فون اٹھایا ۔۔۔۔ اور نمبر ڈائل کرتے کان سے لگایا ۔۔۔

جسے پہلی رنگ ٹون پر ہی اٹھا لیا گیا تھا ۔۔۔۔

کام ہو گیا ؟؟؟؟

سرد و سپاٹ لہجے میں صرف دو حرفی سوال کیا ۔۔۔۔

جی سر ہو گیا ۔۔۔۔صرف دو دن اور اسکے بعد آپکا مجرم آپکے حوالے کر دیا جائے گا ۔۔۔۔

دوسری طرف کا جواب سنتے ضارب شاہ کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھی تھی ۔۔۔۔اور اس نے کال بند کرتے ہوئے فون دوبارہ اسی ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔

صرف دو دن ۔۔۔صرف دو دن موسی شاہ ۔۔۔۔اسکے بعد تمہارا اصل حساب کتاب شروع ہوگا ۔۔۔۔

ہم اپنے ماں باپ کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب لیں گے تم سے ،،،،، تمہاری زندگی کے ایک ایک لمحے کو جنہم بنا دیں گے ۔۔۔۔اتنا تڑپائے گے اتنا تڑپائے گے تم خود ہم سے ہاتھ جوڑ کر موت کی بھیک مانگو گے ۔۔۔لیکن وہ بھی تمہیں نصیب ہوگی ۔۔۔۔یہ ہمارا وعدہ ہے تم سے ۔۔۔۔

ایک ایک لفظ زور پر دے کر جملے ادا کرتا وہ غائبانہ موسی شاہ سے مخاطب تھا ۔۔۔۔اور آنکھوں میں اس وقت ایسی وحشت اور درندگی اتری ہوئی تھی جسے موسی شاہ اگر دیکھ لیتا تو اسکے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی خود کو ختم کر لیتا ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

واسم ابیہا کو ڈسچارج کروا کر حویلی واپس لے آیا تھا ۔۔۔۔جسکی خبر ہوتے ہی تقریبا پورا شاہ خاندان ہی اس وقت ان دونوں کے کمرے میں اسکا حال چال پوچھنے کیلئے موجود تھا ۔۔۔۔سوائے روباب کے کیونکہ فلحال انکی خود کی طبیعت ابھی مکمل ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔اس لیے ارمغان شاہ نے انہیں آرام کرنے کا بولا تھا ۔۔۔۔

ابرش اور زرمینے اس وقت دونوں اسے اپنے گلے سے لگائے زار و قطار بس روئے ہی چلے جا رہی تھیں ۔۔۔۔

جنکی محبت کو نم آنکھوں کے ساتھ دیکھتے ہوئے باقی گھر والے آسودہ سے مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔

البتہ واسم شاہ کو اب اس رونے دھونے سے کوفت سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔

اس لیے ابرش اور ابیہا کو اس نے ہلکا سا ڈپٹا تھا ۔۔۔جس پر وہ فورا خاموش ہوئی ۔۔۔جبکہ انکے برعکس زرمینے کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

جسے زرمینے کے ساتھ ساتھ باقی گھر والوں نے بھی شدت سے محسوس کیا ۔۔۔۔

لیکن اسے واسم شاہ کے اس رویے کی وجہ سمجھ نا آئی ۔۔۔۔

اسکی حرکت کو دیکھتے ضارب شاہ نے افسوس سے سر جھٹکا ۔۔۔اور آگے بڑھ کر فورا اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے آنسو صاف کیے ۔۔۔

جس پر واسم شاہ نے نحوست سے سر جھٹکا ۔۔۔۔

نجمہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو چھلکے تھے ۔۔۔۔

لالا “

جبکہ ضارب شاہ کے سینے میں سر چھپاتے ہوئے زرمینے نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔

بس گڑیا ” ہم ہیں نا ،،،، لیکن زرمینے تھی کہ جسکے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔۔ پتا نہیں یہ کونسا غبار تھا جو کہ آنسوؤں کی صورت میں باہر نکل رہا ،،،، شاید اپنے بچے کو کھونے کا یا پھر زارون شاہ کی بےرخی کا ،،،، جس نے ابھی تک پیچھے مڑ کر اسکا حال تک نہیں پوچھا تھا ۔۔۔۔

یا پھر اپنی ذات کی بےوقعتی کا جسکا احساس زارون شاہ کے ساتھ واسم کے اس رویے نے اسے شدت سے دلایا تھا ۔۔۔۔۔

زرمینے اگر آپ ہمیں دل سے اپنے لالا مانتی ہیں تو اسی وقت اپنے یہ آنسو پونچھ لیں ،،،،، اسے چپ نا ہوتے دیکھ اس نے نیا حربہ آزمایا ۔۔۔۔

جو کافی حد تک کامیاب بھی ٹھہرا ۔۔۔۔اس نے فورا اپنے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔

گڈ گرل اب ہم آپکو دوبارہ روتے ہوئے نا دیکھیں ۔۔۔۔کیونکہ ہم اپنی بہنوں کی آنکھوں میں آنسو بالکل برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔۔اسکے چہرے کو نرمی سے تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔۔۔جس پر وہ نا چاہتے وہ ہلکا مسکرائی ۔۔۔۔

جس پر کمرے میں موجود سبھی افراد مسکرائے تھے سوائے واسم شاہ کے جو ان دونوں ہی کو سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

البتہ زرمینے کو اتنے پیار سے چھپ کرواتے دیکھ ابرش کو اپنے سائیں پر ڈھیر سارا پیار آیا تھا ۔۔۔۔

جسکا اظہار وہ اپنے کمرے میں جانے کے بعد کرنے کا پکا ارادہ رکھتی تھی ۔۔۔

پیار تو ابیہا کو بھی بہت آیا تھا اپنے لالا پر جو ہر انسان اور رشتے کو اسکے مقام پر رکھنا اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔۔

تبھی مسکراتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی ۔۔۔۔

لالا پھر کیا فیصلہ کیا آپ نے تاشے اور رضا آئی میں رومان بھائی کے معاملے میں ؟؟؟؟؟

جس پر ضارب اور زرمینے کے ساتھ کمرے میں موجود باقی افراد بھی متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔

کیا مطلب کونسا فیصلہ ؟؟؟؟ اور تم کیوں ہر کسی سے رشتے داریاں بڑھانے چلی ہو ۔۔۔۔

واسم کیلئے تو زرمینے کو اپنے سامنے برداشت کرنا بہت مشکل تھا اور اب ابیہا کا رومان کو بھائی بولنا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا اس لیے ضارب کے کچھ کہنے سے پہلے ہی واسم شاہ غصے سے بولا ۔۔۔۔

واسم شاہ اپنا لہجہ درست کریں ؟؟؟؟؟

ضارب کو واسم کا ابیہا سے غصے سے بات پسند نہیں آیا تھا اس لیے سرد لہجے میں اسے ٹوک گیا ۔۔۔۔

میرے لہجے کو چھوڑو ،،،، اور تم دونوں بہن بھائی اندر ہی اندر کیا کھچڑی پکا رہے ہو ۔۔۔یہ بتاؤ ؟؟؟؟؟

ضارب کی بات کا اثر لیے بنا وہ اب بھی اونچی آواز میں بولا ۔۔۔۔

واسم “

ارمغان شاہ نے اسکے لہجے کو اونچا ہوتے دیکھ غصے سے ڈپٹا ۔۔۔۔

دادا سائیں ہم نے فیصلہ کیا ہے رومان اور زرتاشے کو بھی اپنے ساتھ اس گھر میں لیں آئیں ۔۔۔۔چاہے جو کچھ بھی ہے ۔۔۔ان دونوں کا بھی اس گھر سے رشتہ ہے ۔۔۔۔ویسے بھی رومان آرمی میں ہیں ۔۔۔۔جو آئے دن نئے مشن کے سلسلے میں گھر سے غائب رہتے ہیں ایسے میں تاشے کو ہاسٹل میں رہنا پڑتا ہے ۔۔۔۔

اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس گھر میں آ جائیں ۔۔۔۔اگر چھوٹی ماں کو کوئی اعتراض نا ہو تو ؟؟؟؟

اس نے واسم شاہ کو اگنور کرتے سیدھا حیدر شاہ کے سامنے اپنے مدعا بیان کیا جبکہ بات کے آخر میں نجمہ بیگم کی طرف سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔

تمہارا کہیں دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ؟؟؟؟

ضارب کی بات سنتے واسم کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا تھا ،،،،، جس شخص نے ہمارا پورا خاندان برباد کر دیا تم اسکی اولاد کو اپنے گھر میں لانا چاہتے ہو ،،،، تاکہ موقع ملتے ہی وہ ہمیں ڈنک مار سکے ۔۔۔۔

نجمہ بیگم نے اسکے لہجے سے چھلکتی حقارت کو دیکھتے نجمہ بیگم نے ایک نظر اپنی معصوم بیٹی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جو پریشان چہرے کے ساتھ انکی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

انہیں یکدم ہی اسکے مستقبل کی فکر ستانے لگی ۔۔۔۔کیونکہ سارا سچ کھلنے کے بعد واسم شاہ کا اگر یہ ری ایکشن تھا ،،،، کہ وہ اسے اپنے سامنے دیکھنے تک روادار نہیں تو زارون شاہ بھی تو اسی کا بھائی تھا ۔۔۔۔اگر اس نے بھی انکی زرمینے کو ٹھکرا دیا تو وہ کیا کرینگی ۔۔۔۔۔

واسم دیکھیں جو کچھ بھی ہوا ہے اسکا صرف ایک ہی شخص ذمہ دار ہے اس میں رومان اور تاشے کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔

وٹ ایور جو کچھ بھی ہے ۔۔۔لیکن تم لوگوں کو ان سے کیوں ہمدردی ہو رہی ہے ۔۔۔۔جہاں اتنے سال وہ رہیں ہیں ۔۔۔۔آگے بھی رہ لیں گے ۔۔۔۔

ایویں فضول میں ان سے رشتے داریاں جوڑ کر گھر میں لانے کی کیا تک بنتی ہے ۔۔۔۔

ضارب کی بات سننے کے بعد دوٹوک انداز میں بولا ۔۔۔۔

کیونکہ ہم لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اس سچ کو نہیں ٹھکرا سکتے کہ ان دونوں کا اس گھر سے رشتہ جڑا ہوا ہے ۔۔۔۔

ہم تو بس الجھے ہوئے رشتوں کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔۔

ضارب بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔

واسم کے جواب دینے سے پہلے اس بار حیدر شاہ بولے تھے ۔۔۔۔

دادا سائیں واسم نے حیرت سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

یہی سچ ہے بیٹا جسے آپ جتنی جلدی ایکسپٹ کر لیں اتنا ہی اچھا ہوگا ۔۔۔۔ہم لوگ موسی کے کیے سزا ان دونوں کو نہیں دے سکتے ۔۔۔۔

کیونکہ موسی شاہ کی وجہ سے نا صرف ہمارا خاندان برباد ہوا بلکہ ان دونوں بچوں نے ماں باپ کے بغیر محرومی بھری زندگی گزاری ہے ۔۔۔۔

اس لیے اب انکا بھی خوشیوں پر حق بنتا ہے ۔۔۔۔اور کہیں نا کہیں موسی شاہ کے ایسے بن جانے کے پیچھے ہمارے خاندان کا ہی ہاتھ ہے ۔۔۔۔

حیدر شاہ کے الفاظ کے ساتھ لہجے سے بھی گہری افسردگی جھلک رہی تھی ۔۔۔۔

کیا مطلب ؟؟؟؟ کیا کیا ہے بابا سائیں نے ؟؟؟؟ دادا سائیں آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں انکے بارے میں ؟؟؟؟ اور اس سارے معاملے سے تاشے اور اسکے بھائی کا کیا تعلق ہے ؟؟؟؟

کب سے انکی باتیں سنتی زرمینے نے پہلی بار لب کشائی کی تھی ۔۔۔۔

اسکے سوالوں کو سنتے نجمہ بیگم کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا ۔۔۔۔انہوں نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے نکلنے والی سسکاری کو روکا ۔۔۔۔

عظمی بیگم نے انکی حالت کو دیکھتے ہوئے فورا آگے بڑھ کر ساتھ لگایا ۔۔۔۔

جبکہ اپنی ماں کو ایسے پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھ کر زرمینے کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔

ماما ،،،، کیا ہوا ہے ؟؟؟؟ آپ ایسے ،،،،، کیوں رو رہی ہیں ؟؟؟؟ بابا سائیں کہاں ہیں ؟؟؟؟

زرمینے کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے تھے ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اسے موسی شاہ کی عدم موجودگی کا احساس ہوا ۔۔۔۔

ہم بتاتے ہیں ۔۔۔۔

تبھی کمرے میں حیدر شاہ کی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *