Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 86)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 86)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
دھک دھک کرتی تیز دھڑکنوں لرزتے ہوئے وجود اور ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ وہ کوریڈور میں بھاگنے کے انداز میں چل رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ کانوں میں ابھی تک احسن حیات کے الفاظ گونج رہے تھے ۔۔۔۔
مجھے معاف کر دیجئے گا شاہ جی میں بہت زیادہ خود غرض ہو گیا تھا ۔۔۔۔خدا کے فیصلوں کو ماننے کی بجائے ،،،، اپنے بھائی کے موت کا آپ کو ذمہ دار سمجھتے ہوئے ،،،، بدلہ لینے چلا تھا ۔۔۔
میرا یقین جانیں ،،،،، میرا مقصد ہرگز بھی آپ کے خاندان کو نقصان پہنچانے کا نہیں تھا ،،،، بس میں اس وقت موسی کی باتوں میں آ گیا ۔۔۔۔
یا یہ کہہ لیں اس وقت میری عقل پر پردے پر گئے تھے ۔۔۔۔میرا بھائی جس سے میں اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتا تھا ،،،، وہ مجھے تن تنہا اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جس کی وجہ سے میں اندر سے بہت ٹوٹ گیا تھا ،،، بہت بےبس ہو گیا تھا ۔۔۔
میری اسی بےبسی اور لاچاری کا اس نے فائدہ اٹھایا تھا ۔۔۔
اور میں اپنے بھائی کی محبت میں اسکا ساتھ دینے کی ہامی بھر گیا ۔۔۔۔
لیکن میں چاہ کر بھی موسی جتنا بےحس نا بن سکا ۔۔۔۔ یمان شاہ حجاب کا قتل کا پلان موسی نے ہی بنایا تھا اور اسکے بعد آپکی بڑی بہو کو گھر سے اٹھانے کا بھی ،،،، میرا جرم صرف اتنا ہے کہ یہ سب غلط ہے جانتے بھوجتے بھی میں نے اسے نہیں روکا ۔۔۔۔
شاید کہیں نا کہیں میرے اندر موجود بھائی کی محبت نے ،،،، اسے صحیح جانا ۔۔۔۔
اور آج اسی بات پر پچھتا رہا ہوں ۔۔۔۔
شرمندگی سے کہتے وہ حیدر شاہ کے سامنے ہاتھ جوڑ گئے تھے ۔۔۔۔
جنہیں انکی شرمندگی کو دیکھتے حیدر شاہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما ۔۔۔
البتہ وہاں موجود ضارب واسم اور زارون انہیں سنجیدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
احسن حیات نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا ۔۔۔۔۔
اسکے قدم ایک کمرے کے سامنے آ کر رکے تھے ،،،، جسکے اندر اسکی زندگی موجود تھی ۔۔۔۔اس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ مرر ڈور کے ہینڈل پر رکھے ۔۔۔۔
جبکہ کانوں میں ایک بار پھر احسن حیات کے جملے گونجے ۔۔۔۔
آپ کی بڑی بہو زندہ شاہ جی ،،،، حیدر شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ اس بار مسکرا کر گویا ہوئے ۔۔۔
اس انکشاف پر حیدر شاہ کے ساتھ ان تینوں نے بھی حیرت سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
کہنا کیا چاہتے ہو تم ؟؟؟؟ اگر یہ جھوٹ ہوا نا تو اس بار میں تمہیں پچھتانے کا موقع بھی نہیں دوں گا ،،،، واسم نے فورا آگے بڑھ کر انکے گریبان کو تھاما ۔۔۔۔
جسے دیکھتے رومان آگے بڑھنے لگا جب احسن نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔۔۔۔
واسم “
حیدر شاہ نے ڈپٹا ۔۔۔۔جسے وہ نظر انداز کر گیا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بےچینی کو دیکھتے وہ مسکرائے تھے ،،،، میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔
انکی آنکھوں میں سچائی کو دیکھتے واسم کے ہاتھ خود با خود انکے گریبان سے نیچے آ گئے تھے ۔۔۔۔
اس کیلئے اس بات پر یقین کر پانا انتہائی مشکل تھا کہ اسکی ماں جسے وہ دیوانوں کی طرح محبت کرتا تھا ،،،، جس کے جانے کے بعد وہ اس دنیا سے ہی نہیں بلکہ خود سے بھی روٹھ گیا تھا ۔۔۔
وہ زندہ تھی ۔۔۔۔
کہاں ہیں وہ ؟؟؟؟
اسکا لہجہ اب بھی بےیقین سا تھا ۔۔۔۔۔ یہی اسی ہاسپٹل میں ۔۔۔۔ایک اور انکشاف ۔۔۔۔
جسے سننے کے بعد واسم کے قدم ڈگمگائے ۔۔۔۔
اس پر یکدم ہی مرگ بسمل جیسی کیفیت طاری ہو گئی تھی ۔۔۔۔جبکہ ضارب زارون کے ساتھ حیدر شاہ الگ اپنی جگہ ششدر کھڑے تھے ۔۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔
زارون نے آگے بڑھ کر ایک بار پھر یقین دہانی چاہی ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
آپ سچ کہہ رہی ہیں مجھے آج چھٹی مل جائے گی ۔۔۔۔
انہوں نے مسکرا کر امید بھری نظروں سے نرس کی طرف دیکھا ،،،، جو انکے بال سنوار کر انکے سر پر دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔
جی میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔اب آپ بالکل ٹھیک ہو چکی ہیں تو ڈاکٹرز نے آپ کو گھر جانے کی اجازت دے دی ہے ۔۔۔۔
انکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتے وہ بھی مسکرا کر بولی ۔۔۔۔جسے سن کر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے انکے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔۔
تبھی کسی نے دروازے کے ہینڈل پر دباؤ بڑھاتے دھیرے سے اسے کھولا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ دونوں ایک ساتھ اس طرف متوجہ ہوئی تھیں ۔۔۔۔
آنے والے نے بےیقینی کے ساتھ سامنے بیٹھی ہستی کو دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر اسکی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے آنسو جو کب سے چھلکنے کو تیار تھے ،،،، پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔
ہے مسٹر آپ جہاں کیسے آئے ؟؟؟؟ احسن حیات نے جو نرس روباب کی دیکھ بھال کیلئے بہال کی تھی ،،،، ایک اجنبی کو اندر داخل ہوتے دیکھ غصے سے بولی ۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس روباب اس اجنبی کے چہرے کو بہت غور سے دیکھتے پہنچاننے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔۔
انکی نظریں پیشانی پر بکھرے ہوئے اسکے سنہری بالوں سے ہوتیں ،،،، اپنی ہم رنگ گہری سمندر جیسی نم آنکھوں پر آئی تھیں ۔۔۔۔اور پھر اسکی تیکھی ناک کے ساتھ باقی چہرے کے وجیہہ نقوش پر جو اسے شدت سے کسی کی یاد دلا گئے تھے ۔۔۔۔
واسم “
روباب کے لب بےآواز پھڑپھڑائے تھے ۔۔۔۔
ماما “
اسکے برعکس واسم کی آواز کافی اونچی تھی ۔۔۔۔نرس نے حیران نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
آپ واسم ہو ؟؟؟؟
روباب نے سوال کیا ۔۔۔۔جبکہ روباب کے خود کو پہچان لینے پر واسم کی خوشی دیدنی تھی ۔۔۔۔
اس نے فورا نم آنکھوں کے ساتھ بچوں کی طرح سر اوپر نیچے ہلایا تھا ۔۔۔۔
جس پر روباب کی آنکھوں سے آنسو بےساختہ چھلکے تھے ۔۔۔۔
انہوں نے اپنے بازو پھیلاتے اسے قریب بلایا تھا ۔۔۔۔
واسم نے فورا قدم انکی طرف بڑھائے ،،،، جبکہ اسکی آنکھیں اب بھی بےیقین سی تھی ۔۔۔۔
کہیں یہ ایک خواب نا ہو اور روباب کو چھونے پر وہ غائب ہو کر اس سے دور نا چلی جائیں ۔۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی اسکے قدم زمین پر جکڑے تھے ۔۔۔
کیا ہوا میرے پاس آئیں ۔۔۔۔اس کے ایک جگہ پر رک جانے پر وہ پیار سے بولی تھیں ۔۔۔۔
نہیں یہ خواب نہیں تھا اسکی ماما سچ میں اسکے سامنے تھیں ۔۔۔۔اور اسے اپنے پاس بلا رہی تھی ۔۔۔۔اس بات پر یقین کر لینے کے بعد وہ انکے قریب آ کر رکا تھا ۔۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے آنسو ہنوز جاری تھے ۔۔۔۔
واسم کے انکے قریب آ جانے پر وہ نرس خود با خود ایک سائڈ پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
روباب نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسکے خوبصورت وجیہہ چہرے کو تھاما ۔۔۔۔اسکی پیشانی پر بکھرے سنہری بالوں کو اپنی نرم انگلیوں سے سنوارتے ۔۔۔۔جیسے بچپن میں ہمیشہ وہ سنوارا کرتی تھی اسکے ایک ایک نقش کو پوروں سے محسوس کرتے ہوئے انکے ہاتھ واسم کے جوان توانا کندھوں پر آئے تھے ۔۔۔۔
اپنے معصوم سے بچے کو یوں اپنے سامنے ایک بھرپور جوان مرد کے روپ میں دیکھتے ،،،، روباب کی اس وقت کیا کیفیت تھی لفظوں میں بیان کر پانا مشکل تھا ۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ آپ ہی میرے واسم ہو ،،،، کتنے بڑے ہو گئے ہو ۔۔۔۔
نم آنکھوں کے ساتھ مسکراتے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
ماما “
یقین کر لیں ماما میں ہی آپکا واسم ہوں ۔۔۔۔آپکا غصیلہ کھڑوس بےبی ” انکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے دھیما سا مسکرایا ۔۔۔۔
جس پر وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائی تھیں ۔۔۔پھر اسکے چہرے کو تھامتے تھوڑا اپنی طرف جھکا کر پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔۔
میرا معصوم بچہ میری جان ۔۔۔۔
اسکے ایک ایک نقش کو محبت سے چومتے سینے سے لگایا ۔۔۔۔واسم کے آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ کر روباب کا کندھا بھگونے لگے ۔۔۔۔جبکہ روباب کے اسکی پہنی ہوئی سفید شرٹ کو ۔۔۔۔
مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا آپ میرے پاس ہو ۔۔۔۔میرے اللہ نے میری دعائیں سن لی ۔۔۔۔
کیا اللہ پاک اپنے بندوں پر ایسے بھی مہربان ہو جاتے ہیں ۔۔۔
روباب کو خود سے الگ کرکے اسکی پیشانی پر لب رکھتا بےیقینی سے بولا ۔۔۔۔
مجھے بھی اسکا چہرہ دوبارہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ایک بار پھر نرمی سے چوما ۔۔۔۔
اور یہ نظارہ اتنا دلکش اور پیارا تھا۔۔۔۔
کہ حیدر شاہ کے ساتھ ضارب ،، زارون اور احسن حیات جو ان دونوں کے ملن کو نم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے سب دھیرے سے مسکرائے ۔۔۔
ماما “
روباب نے واسم کو پیار کرنے کے بعد پیشانی اسکے سینے پر ٹکائی تھی ۔۔۔جب زارون نے نم لہجے میں انہیں پکارا ۔۔۔۔
انہوں حیرت سر اٹھا کر نظریں کمرے میں موجود باقی افراد پر دوڑائی ۔۔۔۔
اور انہیں پہنچاننے کی کوشش کرنے لگیں ۔۔۔۔جس میں انہیں زیادہ دقت درپیش نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
تایا سائیں ۔۔۔
سب سے پہلے حیدر شاہ کا نام ان کے لبوں پر آیا ۔۔۔
جنہوں نے واسم کے پیچھے ہوتے ہی آگے بڑھ کر انہیں اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔اور انکا سہارا ملتے ہی انہوں نے پھوٹ پھوٹ رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔
بس ہماری بیٹی تو اتنی مظبوط ہیں ،،،، اتنے بڑے بڑے طوفانوں سے گزر آئی ،،،، اب ایسے روتے ہوئے بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہیں ۔۔۔۔
انہیں خود سے الگ کر کے نرمی سے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔تایا سائیں وہ لالا ۔۔۔۔
موسی شاہ کا ذکر کرتے انکے لہجے میں ایک خوف در آیا تھا ۔۔۔۔جسے کمرے میں سبھی افراد نے محسوس کیا ۔۔۔۔واسم ضارب اور زارون نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی ۔۔۔۔
ہم سب جانتے ہیں آپکو بتانے کی ضرورت نہیں اور نا ہی گھبرانے کی وہ اپنے انجام تک پہنچ چکے ہیں ۔۔۔
نرمی سے بولتے انکا ڈر ختم کرنا چاہا ۔۔۔۔جس پر وہ کچھ پرسکون ہوئی تھیں ۔۔۔۔
جب انکی نظر پیچھے کھڑے ہوئے ضارب شاہ پر پڑی تھیں ۔۔۔۔اور اپنی حجاب کی ہم رنگ آنکھیں جبکہ چہرے سے جھلکتے ہو بہو یمان شاہ کے عکس کو دیکھتے وہ اسے ایک لمحے میں پہچان گئیں ۔۔۔
آپ ضارب ہیں ؟؟؟؟
جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔
ماشاءاللہ “
اسکی وجاہت کو دیکھتے بےساختہ انکے منہ سے پھسلا تھا ۔۔۔۔
بالکل ہمارے مان جیسے ہیں ،،،،، حیدر شاہ کی طرف دیکھتے تصدیق چاہی ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے بھی مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
انہوں نے محبت سے اس کیلئے بھی بانہیں پھیلائی تھیں ۔۔۔۔جن میں سماتے ایک الگ سا سکون ضارب شاہ کی رگ و جان میں اترا تھا ۔۔۔شاید اس لیے کہ انکے چہرے میں اسے اپنی ماں کا عکس نظر آیا ۔۔۔
ایک بےنام سا آنسو اسکی پلکوں کی باڑ توڑ کر روباب کے کندھے پر گرا تھا ۔۔۔۔
جسے محسوس کر کے روباب نے اسے خود سے الگ کیا اور اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے اسکی کشادہ پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔۔
جس کے بدلے ضارب نے انکے سر بوسہ دیتے دوبارہ اپنے سینے بھینچا ۔۔۔۔
ماما مجھ سے نہیں ملے گی ؟؟؟؟؟
روباب کو ضارب سے پیار کرتے دیکھ زارون نے انکا دھیان اپنی طرف دلانا چاہا ۔۔۔۔
آپ کون ہیں ؟؟؟؟
ضارب کے سینے سے سر اٹھا کر انہوں زارون کی طرف دیکھتے سوال کیا ۔۔۔
جس پر زارون کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔۔۔
ماما آپ نے مجھے نہیں پہنچانا ؟؟؟؟ وہ شوکڈ کے عالم میں بولا ۔۔۔۔
روباب نے فورا نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
جبکہ لبوں پر بھینچی بھینچی سی مسکراہٹ رینگ رہی تھی ۔۔۔۔جسے وہ ضارب کی آڑھ میں ہو کر چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔۔
انکی شرارت سمجھ کر ضارب واسم اور حیدر شاہ نے اپنی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔
میں آپ کا چھوٹا بیٹا زارون شاہ ،،،،، آپ مجھے کیسے بھول سکتی ہیں ؟؟؟؟؟
زارون نے رونی صورت بنائی ۔۔۔۔
جسے دیکھتے روباب کے ساتھ کمرے میں موجود باقی افراد کا بھی قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔۔
زارون نے خود کا مذاق بنائے جانے پر ناراضگی سے رخ پھیرا ۔۔۔۔
زارون ۔۔۔”
روباب نے بہت محبت سے پکارا ۔۔۔۔انکی آواز پر زارون نے پلٹ کر انکی طرف دیکھا جو اپنے دونوں بازو پھیلائے اسے اپنے پاس بلا رہی تھیں ۔۔۔۔
میں ناراض ہوں آپ سے ۔۔۔۔
انہیں اپنے سینے سے لگاتے ساتھ اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کر گیا ۔۔۔۔
سوری ۔۔۔”
انہوں نے محبت سے اسکے دونوں کان پکڑے ۔۔۔۔
مجھے تو یقین نہیں آ رہا میرا چھوٹا سا روتو بچہ بھی اتنا بڑا ہو گیا ۔۔۔۔نرمی سے اسکے گال کھینچتے ہوئے اسکے چہرے پر پیار کیا ۔۔۔۔
زارون نے مسکراتے ہوئے انکی پیشانی محبت سے بوسہ دیا۔۔۔۔۔جس پر روباب مسکرائی تھیں ۔۔۔۔
اتنے سالوں بعد اپنے بچوں اور تایا سائیں کو اپنے سامنے دیکھتے وہ اندر سے کافی پرسکون ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔
اب بس انتظار تھا تو اپنی جان سی پیاری گڑیا اور اپنے مزاجی خدا اور اپنی محبت سے ملنے کا ۔۔۔۔ لیکن کہیں نا کہیں انکے اندر یہ ڈر اب بھی کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ پتا نہیں ارمغان شاہ انہیں اتنے سالوں بعد اپنے سامنے دیکھتے کیسا ری ایکشن دینگے ۔۔۔۔
انہیں قبول کریں گے بھی یا نہیں ۔۔۔۔
بھلے ہی آج بھی وہ کسی شفاف شبنم کے پہلے قطرے کی طرح صاف اور پاک تھیں ۔۔۔۔لیکن درمیان میں جو یہ عرصہ گزرا تھا ،،،، اگر انہوں نے انکے کردار پر سوال اٹھایا تو کیا جواب دیں گی ۔۔۔۔
اور کیا وہ انکی بات پر یقین کر لیں گے ۔۔۔۔۔بہت سی لایعنی سوچوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ماما سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔انکے اچانک خاموش ہو جانے پر واسم نے قریب آتے بےچینی سے سوال کیا ۔۔۔۔
جی میری جان سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔اسکی پریشانی کا خیال کرتی وہ دھیما سا مسکرائی تھیں ۔۔۔
