Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 51)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 51)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
کس کے ساتھ آئی ہو گڑیا ؟؟؟؟؟
رضا جو ٹیرس سے خان کو اسے گھر چھوڑتے ہوئے دیکھ چکا تھا اسے سیدھا اپنے کمرے میں جاتے دیکھ پیچھے سے مخاطب کرتا سوالیہ بولا ۔۔۔۔
جبکہ اسکے سوال پر زرتاشے نے اپنی آنکھیں سختی سے مینچی ۔۔۔۔ کیونکہ اسے پتا تھا اسکے بھائی کو یہ سب چیزیں نہیں پسند ۔۔۔۔۔
یا اللہ پاک آج بچا لینا ،،،،، دل میں دعا کرتے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
وہ ،،،،، وہ بھائی راستے میں میری گاڑی خراب ہو گئی تھی ،،،،،، تو میں پیدل گھر آ رہی تھی ،،،،، وہ ایک پل کیلئے رکی
تو ؟؟؟؟
تو مجھے اکیلا دیکھ کر کچھ غنڈے میرے پیچھے لگ گئے تھے ۔۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو نا تمہیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا انہوں نے ؟؟؟؟ وہ یکدم اسکے قریب آ کر اسکا چہرہ دونوں میں تھامتے پریشانی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
بھائی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
اسے پریشان ہوتے دیکھ نرم لہجے میں بولی ۔۔۔۔
اس نے یکدم اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔۔ شکر اللہ پاک کا کہ تم ٹھیک ہو ،،،، تم تو میری زندگی ہو ،،،،، میرے زندہ رہنے کی وجہ ،،،،، اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو تمہارا بھائی بھی مر جاتا ۔۔۔۔
وہ اسکی پیشانی پر پیار کرتے بولا ۔۔۔۔
ایسے باتیں نا کریں بھائی اللہ پاک آپکو میری بھی زندگی لگا دیں ۔۔۔۔
اسکے نم لہجے کو سنتے اسکے ہونٹوں پر خوبصورت مسکان آئی تھی ۔۔۔۔۔
پاگل ایسے نہیں بولتے ۔۔۔۔ باری باری نم پلکوں کو ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔۔۔
اچھا چلو کمرے میں فریش ہو کر او میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہا تھا ،،،،، ساتھ ڈنر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
بھائی آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ۔۔۔۔۔
اسکے نرم رویے کو دیکھ ججھک کر بولی ۔۔۔۔۔ نہیں میری جان میں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں ۔۔۔۔
لیکن آئندہ کبھی بھی ایسی سچویشن بنے تو آپ نے سب سے پہلے اپنے بھائی کو فون کرنا ہے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سوتے ہوئے کروٹ بدلی ،،،،، اور بند آنکھوں سے ہی ساتھ پڑے ہوئے وجود کو قریب کرنا چاہا ۔۔۔۔۔
لیکن خالی بیڈ محسوس کر کے پیشانی پر بل ڈالتے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔
ابیہا “
جواب ندارد
شاید وہ باہر تھی ۔۔۔۔۔
واسم نے اپنی آنکھیں دوبارہ بند کر کے کھولیں ۔۔۔۔۔
جبکہ گزرے ہوئے لمحات کو سوچتے آنکھوں میں خماری اور ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ رقص کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
پھر نفی میں سر ہلاتے اٹھ کر فریش ہونے واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
دوسری طرف ابیہا کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی ،،،،، اسکے بھیگے بال کمر پر پڑے تھے جس میں سے ابھی بھی پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں ۔۔۔۔
بلیک خوبصورت شورٹ فراک میں ملبوس اسکا نازک بھیگا سراپا چاندی کی طرح دمک رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ جلدی جلدی مہارت سے ہاتھ چلاتی ساتھ ساتھ کچھ گنگنا بھی رہی تھی ۔۔۔۔
جب واسم شاہ فریش سا کچن میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔
دوپٹے سے بے نیاز اسکا مہکتا نازک وجود اسے چند پل کیلئے مہبوت کر گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی موجودگی کو محسوس کر کے ابیہا کا دل زوروں سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر ایک نظر اسکی طرف دیکھا ،،،،، سنہری اور نیلی آنکھوں کا زبردست تصادم ہوا ۔۔۔۔۔
ابیہا نے گھبرا کر نظریں جھکائیں پھر پلٹ کر اپنا کام کرنے لگی ۔۔۔۔۔
واسم شاہ نے قدم اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔۔۔
اسکے بڑھتے ہر قدم کے ساتھ ابیہا کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھی ،،،،، وہ اس سے ایک قدم کی دوری پر رکا ۔۔۔۔۔
جھک کر اسکے بھیگے بالوں میں گہرا سانس کھینچا ۔۔۔۔۔
پھر انہیں ایک سائڈ کرتے جھک کر گردن پر اپنے دہکتے ہوئے لب رکھے ،،،،، جس پر وہ لرزی تھی ۔۔۔۔
جبکہ سہارے کیلئے کچن کی سلیب کو پکڑا ۔۔۔۔۔
واسم شاہ کے لب مسکرائے ،،،،،، اتنی جلدی اٹھ گئی تم ؟؟؟؟ اسکی کان کی لوں پر اپنے لب سہلاتے دھیرے سے بولا ۔۔۔۔۔
اسکے گدگداتے لمس کو محسوس کر کے وہ کسمسائی ۔۔۔۔۔
وہ ،،،،، وہ مجھے بھوک ،،،،، لگی تھی ۔۔۔۔۔
اٹک اٹک کر منمناتے بولی تھی ۔۔۔۔۔
وہ تو مجھے بھی لگی ہے ۔۔۔۔۔ اسکا رخ موڑتے معنی خیزی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔
ابیہا نے جھکی نظریں اٹھائیں ۔۔۔۔۔
میں ناشتہ تیار کر چکی ہوں آپ بیٹھے میں ابھی ” وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر پائی تھی ۔۔۔۔۔
ابیہا نے اسکی شرٹ کے کالر کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں بھینچا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر اسکی سانسوں کو محسوس کرنے کے بعد وہ دھیرے سے الگ ہوا ،،،،، ابھی وہ سانس بھی ٹھیک سے نہیں لے پائی تھی کہ جب اسکے بالوں سے پکڑ پیچھے کی طرف جھکایا اور اسکی گردن میں جھکتے ہوئے وہاں اپنے لمس سے سلگانے لگا ۔۔۔۔۔
ابیہا کیلئے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا ۔۔۔۔
واسم
وہ پھولی سانسوں کے درمیان تڑپ کر پکار گئی ،،،،، اس نے سر اٹھایا ۔۔۔۔
مجھے ،،،، بھوک لگی ہے ۔۔۔۔۔
اسکی نم آنکھوں اور تھرتھراتے لبوں کو دیکھ کر واسم کے لب مسکرائے ۔۔۔۔۔
اس نے نرمی سے دوبارہ اسکے بھیگے لبوں کو چھوا ۔۔۔۔۔
پھر اسے اپنے حصار سے آزاد کرتے شرافت سے جا کر چیئر پر براجمان ہو گیا ۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنی تیز دھڑکنوں کو سنبھالتی ،،،،، چپ چاپ ٹیبل پر ناشتہ لگانے لگی ۔۔۔۔۔
واسم کی پر شوق نظریں اسکے چہرے پر ہی ٹکی تھی ،،،،، جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔۔۔۔۔
اسے سرو کرنے کے بعد وہ اپنی چیئر کی طرف بڑھنے لگی جب واسم نے اسے کھینچ کر اپنی گود میں بٹھایا ۔۔۔۔۔
اسکے عمل پر ابیہا سٹپٹائی ،،،،، اسکا حصار توڑ کر اٹھنا چاہا لیکن اس نے گرفت مظبوط کر لی ۔۔۔۔۔
ابیہا نے بےبسی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
جب اس نے فورک میں آملیٹ کا چھوٹا سا پیس اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
کوئی راستہ نظر نا آتے دیکھ اس نے دھیرے سے لب کھولے ۔۔۔۔کیونکہ اب اسکی بھوک سے بس ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ ایسے ہی اسے گود میں بٹھائے اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی ناشتہ کروا رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہم واپس کب جائیں گے ؟؟؟؟؟
خاموشی کا دورانیہ بڑھنے اور اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں سے گھبرا کر ابیہا نے سوال کیا ۔۔۔۔۔
تم جانا چاہتی ہو ؟؟؟؟
بلیک کافی کا سپ لیتے سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔۔
ساتھ کپ اسکی طرف بڑھایا ،،،،، جس پر اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔۔۔۔۔کچھ ٹائم ایک دوسرے کی سنگت میں گزار لیتے ہیں ،،،،، کافی کا کپ ٹیبل پر رکھتا کمر پر دونوں ہاتھوں سے گرفت مظبوط کرتے اسکی گردن میں چہرہ چھپاتے گھمبیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔
ابیہا نے آنکھیں بند کرتے اسکے کندھوں کو تھاما ۔۔۔۔
اور اس سے پہلے وہ بہک کر وہاں اپنے لب رکھتا اسکا فون رنگ ہوا ،،،،،، اس نے بدمزہ ہوتے ٹیبل پر رکھے اپنے فون کی طرف دیکھا ،،،،، جس پر اس کے پی اے کا نمبر بلنک ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
ابیہا نے اسکے بنے ہوئے منہ کو دیکھتے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر واسم نے اسے گھورتے کال اٹینڈ کر کے فون کان سے لگایا ۔۔۔۔۔
جبکہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اسکے لبوں پر جھکتے شدت بھری جسارت کی ،،،،، اور وہ تڑپ کر رہ گئی ۔۔۔۔
ہیلو ،،،،، ہیلو سر
دوسرے طرف اس کے پی اے نے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔
ہممم سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ سر ،،،،،،
وٹ “
وہ جو ابیہا کے سرخ چہرے کو دیکھتے نرمی سے دھیرے دھیرے اسے لبوں سے چھو رہا تھا دوسری طرف اپنے پی اے کے الفاظ سن کر یکدم اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا دھاڑا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت پر ابیہا بمشکل گرتے گرتے بچی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن ،،،،، اوکے ہم بس نکل رہے ہیں ۔۔۔۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟؟ اسکی پریشانی کو دیکھتے سوالیہ بولی ۔۔۔۔
جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
ہمیں نکلنا ہوگا ۔۔۔۔۔ تم پیکنگ کرو جلدی اتنا کہہ کر اسنے دوبارہ فون ملایا تھا جبکہ ابیہا بنا دوسرا سوال کیے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیا پر یہ بات چلتے ہی پورے ملک میں جیسے بھونچال آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
لوگ واسم شاہ کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے ،،،،، اور یہ نہیں اسکے ساتھ ساتھ ضارب شاہ اور پورے شاہ خاندان کے بارے میں نجانے کیا کیا باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
یہ خبر حویلی میں پہنچتے ہی حیدر شاہ ارمغان اور موسی شاہ کو لیتے ضارب کے پاس چلے آئے تھے جبکہ زارون کو گھر چھوڑا تھا باقی سب کا خیال رکھنے کیلئے ۔۔۔۔۔
ارمغان شاہ نے یہ خبر سنتے سب سے پہلے واسم شاہ کو فون ملایا تھا لیکن انکا اس سے رابطہ نہیں ہو پایا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن اسکے پی اے نے بتایا تھا کہ دوپہر دو بجے تک ان شااللہ وہ پاکستان پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔۔
واسم شاہ کوئی عام انسان نہیں تھا ،،،،، جس پر کوئی ایسے بنا ثبوت کے ہاتھ ڈال دیتا ۔۔۔۔۔
اور جب تک ضارب شاہ اقتدار میں تھا ایسا کر پانا تقریبا نامکمن ہی تھا ۔۔۔۔
سب جانتے تھے کہ وہ اپنی فیملی کے معاملے میں کتنا پازیسو تھا ۔۔۔۔ اسکے ہوتے ان پر ہاتھ ڈالنا مطلب اپنی موت کو آواز دینے کے مترادف تھا ۔۔۔۔
لیکن دشمن نے اس بار ایسا پکا انتظام کیا تھا ،،،،، کہ اسکے درمیان میں پڑنے کے باوجود بھی پولیس محکمے کے بڑے افسران نے ایک بار واسم شاہ سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی درخواست کی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر نا چاہتے ہوئے بھی حیدر شاہ کے کہنے پر اس نے ہامی بھری تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو ابیہا کو لے کر سیدھا حویلی جانا چاہتا تھا ،،،،، لیکن ارمغان شاہ نے اس سے رابطہ کرتے اسے شاہ مینشن بلایا تھا ۔۔۔۔۔
اور اس وقت سب لوگ لاؤنج میں آمنے سامنے صوفوں پر براجمان تھے ۔۔۔۔۔
یہاں واسم نے ساری بات ان سب کو مختصر لفظوں میں بتا دی تھی ۔۔۔۔۔
واسم ہمیں لگتا ہے بیٹا کہ اس میں سراسر آپکی غلطی ہے ۔۔۔۔۔ دشمن کو کمزور جانتے آپکو اتنی ڈھیل ہی نہیں دینی چاہیے تھی ،،،،، بلکہ پہلے ہی اسکے خلاف ایکشن لے لینا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے سر ہلایا ۔۔۔۔۔
لیکن دادا سائیں میرے پاس ان کیخلاف کافی ثبوت ہیں آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔
ویسے بھی کسی کے کہہ دینے سے مجھ پر یہ الزام ثابت تو نہیں ہو جائے گا اس کیلئے انہیں ٹھوس ثبوت کی ضرورت پڑے گی ۔۔۔۔۔
اور جب میں پاکستان میں موجود ہی نہیں تھا اس کے قتل کا الزام مجھ پر کیسے ڈال سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے طنزیہ بولا ۔۔۔۔۔
انکے پاس ٹھوس ثبوت ہی ہیں ۔۔۔۔۔
خاموش بیٹھے ضارب شاہ نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا ۔۔۔۔
جس پر اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اس لڑکی کی پورسموٹم رپورٹ جو یہ صاف بتا رہی ہے کہ اس لڑکی کی موت تین دن پہلے ہوئی ہے ۔۔۔۔
اور آپ اس وقت یہی پاکستان میں موجود تھے ،،،،،، سیکنڈ اسکی لاش آپکے پی اے کے اپارٹمنٹ سے ملی ہے ۔۔۔۔۔
تیسرا اور سب سے بڑا ثبوت اس لڑکی کے گلے میں پہنا ہوا پینڈٹ ،،،،، جس سے گلا گھونٹ کر اسکا قتل کیا گیا ۔۔۔۔
اس پر آپکی انگلیوں کےنشان ۔۔۔۔۔
وٹ نانسینس میری انگلیوں کے نشان ۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ،،،،، اور بنا ٹیسٹ کیے ہی تم لوگوں کو کیسے پتا چل گیا کہ وہ میری ہی انگلیوں کے نشانات ہیں ۔۔۔۔۔
وہ طنزیہ بولا ۔۔۔۔۔
شاید آپ بھول رہیں ہیں ۔۔۔۔۔
پاکستان میں رہنے والے ہر باشندے کا ریکارڈ آئی ڈی کارڈ کے ذریعے پاکستان حکومت کے پاس موجود ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ جس میں انگلیوں کے نشانات بھی شامل ہیں ۔۔۔۔۔
اور یہ ہم نے خود ٹیسٹ کروایا ہے ۔۔۔۔ رپورٹ میچ کرتی ہے ۔۔۔۔۔
لیکن لالا ،،،،، اس سے پہلے واسم اسکی بات کے جواب میں کچھ کہتا ابیہا نے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔۔
سب کی سوالیہ نظریں اسکی طرف اٹھیں ۔۔۔۔۔
اس لڑکی کی موت تین دن پہلے کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔ جبکہ کل اس نے میرے فون پر کال کی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے آپکو کال کی تھی ؟؟؟؟
جی
اس نے ہاں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے فورا کال ہسٹری نکالتے اپنا فون اسکے حوالے کیا تھا ۔۔۔۔۔
اس نمبر سے مجھے کال آئی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس نے آپکو کیوں کال کی تھی ؟؟؟؟
ایک اور سوال ۔۔۔۔
جس پر ابیہا نے نظر اٹھا کر واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
وہ یہ کہنے کیلئے کہ واسم مجھے دھوکا دے رہیں ہیں ،،،،، جبکہ اصل میں اس سے پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔
اور یہ بھی کہ انہوں نے اسے اپنے پی اے کے اپارٹمنٹ میں یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
اور اس سے زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔
جس پر ضارب نے سر ہلایا ۔۔۔۔
اگر تو یہ کال واقعی ہے اس لڑکی نے کی تھی تو اس سے ہمارا کیس اور مظبوط ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
لالا سب ٹھیک تو ہو جائے گا نا ۔۔۔۔۔
ہاں ہماری جان آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ،،،،، ہمارے ہوتے ہوئے آپکو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
ہم سب سنبھال لیں گے ۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔۔
لیکن مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
یہ میرا مسئلہ ہے اور میں اسے خود ہینڈل کر لوں گا ،،،،، تم اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔۔۔
اسکی باتیں سنتا کب سے خاموش کھڑا واسم بدتمیزی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔
یہ صرف آپکا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ہماری بہن کی زندگی بھی جڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اور اپنی بہن کے معاملے میں بولنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا آپ بھی نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسکے مقابل آتا ،،،،، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔۔۔۔
یہ بہن کے آڑ میں چھپ کر جو تم مجھ پر احسان کر کے مجھے اپنا سامنے دبانا چاہتے ہو ،،،،، تو بھول ہے تمہاری کہ واسم شاہ تمہارا احسان لے کر تمہارے سامنے جھکے گا ۔۔۔۔۔۔
دوبدو سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
واسم یہ کیسے بات کر رہے ہو تم ضارب سے بھولو مت کہ تمہارا بڑا بھائی ہے وہ ،،،،، ارمغان شاہ درمیان میں مداخلت کرتے غصے سے ڈپٹتے بولے ۔۔۔۔۔
ہننہہ بڑا بھائی ” جو بھی ہے ڈیڈ بھائی وائی وٹ ایور ،،،،، اسے بولیں میرے معاملے سے دور رہے ،،،،، میں کوئی بچہ نہیں ہوں ،،،،، اپنے معاملات خود ہینڈل کر سکتا ہوں ۔۔۔۔
واسم “
اس بار لہجے میں تنبیہ تھی ۔۔۔۔
جس کا اس نے کوئی خاص اثر نہیں لیا تھا ۔۔۔۔وہ اب بھی سپاٹ چہرے سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
چلو ابیہا “
ابیہا کہیں نہیں جائیں گی ۔۔۔۔۔
پھر ابیہا کو مخاطب کرتے پلٹنے لگا جب ضارب شاہ کی بات سن کر رک کر اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
اور تم کون ہوتے ہو اسے روکنے والے ۔۔۔۔۔
ہم بڑے بھائی ہیں انکے ،،،،،، اور آپ جب تک اپنی بےگناہی سب کے سامنے ثابت نہیں کر دیتے وہ یہی پر رہیں گی ۔۔۔۔۔
لیکن لالا “
ابیہا نے کچھ کہنا چاہا جب ضارب نے ترچھی نظروں سے اسکی طرف دیکھا ،،،،، اور وہ وہی خاموشی سے لب بھینچ گئی ۔۔۔۔۔۔
ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے پھر میری بہن بھی تمہارے گھر نہیں رہے گی ۔۔۔۔۔
ابیہا کو سر جھکاتے دیکھ کر سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
ابرش جو ایک طرف کونے میں خاموش کھڑی سب کی باتیں سن رہی تھی ،،،، اپنے نام پر پہلی بار حیرت سے چہرہ اٹھا کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ بات بڑھتے دیکھ کر ارمغان شاہ نے درمیان میں مداخلت کی ۔۔۔۔۔
یہ کیا فضول بات کر رہے ہو ان سب میں ابرش کا کیا تعلق ۔۔۔۔۔
تو پھر اس حساب سے ابیہا کا بھی کوئی تعلق نہیں بنتا ،،،،، یہ کیوں روک رہا ہے ۔۔۔۔۔
غصے سے چیختے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
واسم شاہ تعمیز سے بات کریں ۔۔۔۔۔
ضارب مٹھیاں بھینچ کر اسکی بدتمیزی برداشت کرتا ضبط سے بولا ۔۔۔۔
بھاڑ میں گئی تمہاری تعمیز اپنے کام سے کام رکھو ۔۔۔۔
چلو ابرش “
نہایت ہی سرد و سپاٹ لہجہ ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر ابرش نے آنکھوں میں آنسو لے کر ضارب شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
پھر نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔۔
نہیں لالا میں نہیں جاؤں گی ،،،،،
اور چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ضارب کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔۔
سائیں ” دھیرے سے پکارا ۔۔۔۔
ضارب نے اسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ فلحال غصے میں ہے لیکن اسکی بات ضرور مان لے گا ۔۔۔۔۔اور اسے واسم پر بھی یقین تھا یہ بھی جانتی تھی ۔۔۔۔
آپکو یقین ہے نا کہ واسم لالا بےقصور ہیں پھر کیوں انکے ساتھ یہ سب کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
بیا کو انکے ساتھ جانے دیں ایسے تو ہمارے رشتے خراب ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔
ڈرتے ڈرتے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
ہم جو کر رہیں ہیں بہت سوچ سمجھ کر رہیں ہیں ۔۔۔۔۔
اور اگر آپ اپنے بھائی کے ساتھ جانا چاہتی ہیں تو جا سکتی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔
نہایت ہی سپاٹ لہجہ ۔۔۔۔۔
جسے سن کر ابرش کے کب کے رکے ہوئے آنسو ٹوٹ کر نرم و نازک گالوں پر بہہ نکلے ۔۔۔۔۔
