Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 45)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

ماضی

شاہ سائیں کوئی احسن حیات صاحب آئیں ہیں اور آپ سے ملاقات کا پوچھ رہے ۔۔۔۔۔

لاؤنج میں یمان شاہ کے ساتھ بیٹھے حیدر شاہ کو مخاطب کرتے انکا خاص ملازم ادب سے گویا ہوا ۔۔۔۔

ہمم ” آپ نے پوچھا نہیں کہ وہ ہم سے کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔

سائیں پوچھا تھا ،،،،، لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ صرف آپکو ہی اپنا معاملہ بتائیں گے ۔۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے آپ انہیں مہمان خانے میں بٹھائے اور چائے ناشتے کا انتظام کروائیں ہم آتے ہیں ۔۔۔۔۔

اس کی بات پر سر ہلاتے نرمی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سر ہلاتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

بابا سائیں آپ جانتے ہیں احسن حیات کو ؟؟؟؟؟ یمان شاہ نے حیرت سے استفسار کیا ۔۔۔۔۔

کیونکہ اس نے یہ نام آج زندگی میں پہلی بار سنا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے جواب میں انہوں نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

چلیں دیکھ لیتے ہیں شاید کوئی ضروری کام ہو ،،،،،، اتنا کہتے حیدر شاہ اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔

اور پھر وہ دونوں باپ بیٹا حویلی کے ایک طرف بنے مہمان خانے کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام وعلیکم !!

اندر داخل ہوتے حیدر شاہ نے بلند آواز میں سلام کیا ،،،،،، جسے سنتے احسن حیات جو اس کمرے میں لگی اینٹیک پینٹنگز اور ہتھیاروں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔

پلٹ کر انکی طرف متوجہ ہوتے مسکرائے تھے ۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام ” ساتھ ہی آگے بڑھ کر پرشفق اور وجیہہ چہرے والے حیدر شاہ کو دیکھتے ادب سے مصافحہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

اور ساتھ مسکرا کر یمان شاہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ،،،،، جو ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ تھام گیا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد حیدر شاہ نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

جی تو برخوردار ہم آپکی کیا خدمت کر سکتے ہیں ؟؟؟؟؟ اونچے لمبے ہنڈسم اور با ادب احسن حیات کو دیکھتے مسکرا کر بولے ۔۔۔۔۔

انکی بات سن کر وہ مسکرائے تھے ۔۔۔۔

خدمت نہیں کروانی شاہ جی ،،،،، بلکہ میں تو آج سوالی بن کر آپ سے کچھ مانگنے کیلئے آیا ہوں اگر آپ ہاں کر دیں تو اس غریب کی جھولی اور آنگن خوشیوں سے بھر جائے ۔۔۔۔۔

وہ بہت ہی ادب کے ساتھ نظریں جھکا کر بولے ،،،،، جبکہ انکی عاجزی کو دیکھتے حیدر شاہ مسکرائے البتہ یمان شاہ نے متفرق نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جی جی بولیں ،،،،، اگر ہمارے بس میں ہوا تو ضرور ان شااللہ ۔۔۔۔۔

انکے پرشفق لہجے کو سنتے انہیں کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جی میں اپنے چھوٹے بھائی محسن حیات کیلئے آپکی بھتیجی حجاب شاہ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔

انکے چہرے کی طرف دیکھتے مسکرا کر اپنا مدعا بیان کیا ۔۔۔۔۔

البتہ ان کی بات سن کر ان دونوں باپ بیٹے کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی تھی ۔۔۔۔۔

یمان شاہ نے رخ موڑ کر ساتھ بیٹھے حیدر شاہ کی طرف ایک نظر دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے ہی وہاں سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے ری ایکشن کو دیکھتے ہوئے احسن حیات کو حیرت کے ساتھ تشویش بھی لاحق ہوئی ،،،، لیکن پھر بھی دل کو تسلی دیتے عاجزانہ لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔۔۔

کیا ہوا شاہ جی میں نے کچھ غلط بول دیا کیا ؟؟؟؟؟

نہیں ایسی بات نہیں لیکن ” وہ ایک پل کیلئے رک کر ان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگے جو انہیں ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔

آپ ہمارے گھر عزت سے رشتہ لے کر آئے ،،،،، آپ کے اخلاق اور ادب و آداب کو دیکھتے ہوئے ہم بہت متاثر بھی ہوئے اور یقینا آپکے بھائی بھی آپ ہی کی طرح سلجھے ہوئے انسان ہونگے لیکن “

لیکن کیا شاہ جی ۔۔۔۔۔

لیکن بیٹا ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم آپکی یہ خواہش پوری نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔

انکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھتے بہت نرمی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔

لیکن کیوں شاہ جی ؟؟؟؟؟

میرے بھائی میں کوئی کمی نہیں ہے ،،،،،، اخلاق و آداب کے ساتھ شکل و صورت اور سیرت و کردار میں بھی بےمثال ہے میرا بھائی ۔۔۔۔۔

اور عزت و شہرت سٹیٹس میں بھی ہم آپ لوگوں سے زیادہ کم نہیں ۔۔۔۔۔

پھر کیا وجہ ہے اس رشتے سے انکار کی ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ کا یوں صاف انکار کر دینا انہیں بالکل اچھا نہیں لگا تھا اور نا ہی انکی انا کو یہ بات منظور تھی کہ وہ ایسی جگہ دوبارہ بات کرتے ۔۔۔۔

لیکن کہتے ہیں نا جن سے آپکو محبت ہو انکی خوشیوں کیلئے کسی کے قدموں میں بھی بیٹھنا پڑے تو منظور ہوتا ہے ۔۔۔۔

یہاں بھی وہی بات تھی ،،،،، اتنے صاف لفظوں میں انکار سننے کے بعد بھی صرف اور صرف اپنی بھائی کی خوشیوں کیلئے اپنی انا کو ایک سائڈ رکھتے دوبارہ عاجزی سے سوال گو ہوئے ۔۔۔۔۔

نہیں بیٹا یہ بات نہیں ہے ،،،،، یقینا آپکے بھائی بہت اچھے ہونگے اور اسکا اندازہ ہمیں آپ سے مل کر ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔

لیکن پہلی بات تو یہ کہ ہم خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے ،،،،،، دوسرا آپ جن کا رشتہ مانگ رہے ہیں وہ بچپن سے ہی ہمارے چھوٹے بیٹے یمان شاہ کے ساتھ منسوب ہیں ۔۔۔۔۔

ہم مجبور ہیں بیٹا ہم آپکی یہ خواہش پوری نہیں کر سکتے ،،،،، ہماری طرف سے معذرت ہے ۔۔۔۔۔

اتنا کہتے ہی وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے تھے ،،،،، جس کے بعد احسن حیات کے پاس کوئی جواز نہیں بنتا تھا وہاں بیٹھنے کا اس لیے وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔۔۔۔

آپ ہمارے گھر پہلی بار آئے ہیں کچھ چائے ناشتہ تو کر کے جاتے ۔۔۔۔۔ انہیں اٹھتے دیکھ کر حیدر شاہ مہمان نوازی نبھاتے بولے ۔۔۔۔۔

نہیں بہت شکریہ اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ایک نظر انکی طرف دیکھ کر سپاٹ سے لہجے میں بولتے وہ دوبارہ مصافحہ کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی محبت کا نام کسی اور کے ساتھ آتے ہی یمان شاہ کی رگوں میں شرارے پھوٹنے لگے تھے ۔۔۔۔۔

احسن حیات کا یوں منہ اٹھا کر اپنے بھائی کیلئے حجاب کا رشتہ مانگنا اسے انگاروں پر لٹا گیا ۔۔۔۔۔

جب ملازمہ کے ساتھ چائے اور دوسرے لوازمات لے کر آتی حجاب پر اسکی نظر پڑی ،،،،،، جو اسکے غصے میں مزید اضافے کا سبب بنا تھا ۔۔۔۔۔

آپ یہ سب کہاں لے کر جا رہی ہیں ؟؟؟؟؟

لب بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرتا دبے دبے لہجے میں بولا ،،،،، اور ساتھ ہی ملازمہ کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا تھا

جس کے جاتے دوبارہ اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔

مان وہ تایا سائیں کے مہمان آئیں ہیں ،،،،، تو بس ان کیلئے یہ چائے “

آپ سے کس نے کہا یہ سب کرنے کو ہاں ،،،،، اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ دھاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی دھاڑ پر وہ جی جان سے لرزی تھی ،،،،، اور ساتھ ہی فورا گہری سبز آنکھوں میں نمی بھرنے لگی ۔۔۔۔۔

جائیں اپنے کمرے میں ،،،،، وہ اسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھتا غصے سے بولا ۔۔۔۔۔

آپ بہت برے ہیں میں کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی ،،،،،، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ نم لہجے میں بولتی منہ پر ہاتھ رکھ کر بھاگی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھ کر اسے اپنے لہجے کا احساس ہوا تھا ،،،،، لیکن وہ کیا کرتا اس وقت احسن حیات کی باتیں یاد کر کے دماغ میں غصے سے لہرے اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس لیے اسے بعد میں منانے کا سوچتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ آج شام میں ہی اپنے اور حجاب کے رشتے کے بارے میں حیدر شاہ سے دو ٹوک بات کرنے کا پکا ارادہ باندھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

حال

واسم شاہ کے ساتھ ترکی کے شہر استنبول کے ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی ابیہا کے چہرے کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی ۔۔۔۔۔

اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا ،،،،، کہ وہ جہان سکندر کے شہر میں کھڑی تھی ،،،،،، جہاں جانا ہر ناول پڑھنے والی لڑکی کا خواب تھا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے برعکس ابیہا کی مسکراہٹ دیکھتے واسم حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ،،،،،، وہ جیسے آنکھیں کھول کھول کر آس پاس کی چیزوں اور انسانوں کو اشتیاق سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اسے کوئی عجوبہ ہی لگی ،،،،،، بیوقوف

تم نے کبھی پہلے انسان نہیں دیکھے کیا ؟؟؟؟؟ اس کے کھلے ہوئے منہ کو دیکھتے ہوئے وہ لوگوں کی نظروں سے ایمبریسمینٹ فیل کرتا طنزیہ بولا ۔۔۔۔۔

جس پر ابیہا کی مسکراہٹ فورا سمٹی تھی ۔۔۔۔۔

دیکھیں ہیں کیوں ؟؟؟؟

ناسمجھی سے بولی ۔۔۔۔۔

تو پھر انہیں گھور کیوں رہی ہو بیوقوف ” جبکہ اسکی بات پر ابیہا نے اسے غصے سے گھورا تھا ۔۔۔۔۔

جس کا بنا کوئی اثر لیے اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے ،،،،،، اسکے قدموں کے ساتھ قدم ملانے کیلئے ابیہا کو تقریبا بھاگنا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔

ایئرپورٹ سے باہر آتے اسکے بزنس پارٹنرز نے اسے پہلی بار اپنی بیوی کے ساتھ آنے پر اسکا شاندار استقبال کیا تھا ۔۔۔۔۔

جسکا وہ مسکرا کر شکریہ ادا کرتا ،،،،، جلد میٹنگ میں ملنے کا بولتے اس کیلئے لائی گئی گاڑی میں سوار ہوا تھا اور ابیہا کہ بیٹھتے ہی گاڑی آگے بڑھائی گئی تھی ۔۔۔۔۔

اور ان سب کے دوران ابیہا خاموش تماشائی بنی رہی ،،،،، لیکن سفر سٹارٹ ہوتے اسکی توجہ استنبول کی خوبصورت عمارتوں اور نظاروں نے اپنی طرف مبذول کی تھی ۔۔۔۔۔

جنہیں اشتیاق سے دیکھتے ہوئے وہ ساتھ بیٹھے واسم شاہ کو بالکل فراموش کر گئی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

عام طور پر وہ جب بھی کہیں میٹنگ کیلئے جاتا تھا ،،،،، تو وہاں کے ہوٹلز میں سٹے کرتا تھا ،،،،،لیکن اس بار ابیہا کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس نے خاص طور پر شہر کے باہر خاموش کونے میں پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت کاٹیج کا انتظام کیا تھا ۔۔۔۔۔

جہاں وہ ہر پریشانی اور شور شرابے سے دور اسکے ساتھ کچھ کوالٹی ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن ابیہا کیلئے فلحال یہ سرپرائز ہی تھا کیونکہ اسے صرف واسم شاہ کی بزنس میٹنگ کے بارے میں پتا تھا ،،،،، جس کے فورا بعد انہوں نے واپس جانا تھا ،،،،، لیکن واسم شاہ اسکے بعد دو دن اور ادھر رکنے کا ارادہ رکھتا تھا ،،،،، جس سے وہ فلحال انجان تھی ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *