Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 99)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 99)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
پیر شاہ سائیں آپ اور ہمارے غریب خانے میں ؟؟؟؟
ظفر خان اگر اس محل جیسے گھر کو غریب خانہ کہتے ہیں تو پھر غریبوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔۔۔
حیدر شاہ نے ہلکے پھلکے لہجے میں مسکرا کر بولتے ظفر خان ( شہیر خان ) کے بابا جو انکے گھٹنوں کو چھونے کیلئے جھکے تھے ۔۔۔ کندھوں سے تھام کر اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
جس پر وہ بھی قہقہہ لگا کر ہنسے تھے ۔۔۔
اور ان سے بغلگیر ہوتے انکا حال دریافت کرتے انکے ساتھ آئے ضارب شاہ سے ملتے لے کر اندر کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔
آج اتوار کا دن تھا جب ضارب شاہ نے رشتے کی بات طے کرنے کیلئے شہیر خان کے گھر جانے کا پروگرام بنایا ۔۔۔
باقی ساری باتیں تو وہ پہلے ہی فون پر رابطہ کرتے انہیں بتا چکا تھا ۔۔۔
لیکن شہیر خان کے ساتھ روبرو بیٹھ کر بات آج ہونے والی تھی ۔۔۔یہاں تک کہ حیدر شاہ اور وہ اسکے گھر آنے والے ہیں یہ بھی چھپایا تھا ۔۔۔
جی آیا نوں ،،، مرشد سائیں
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی شہیر خان کی والدہ نے ان دونوں کا والہانہ استقبال کرتے حیدر شاہ کے سامنے سر جھکایا تھا ۔۔۔
جس پر اپنا دست شفقت رکھتے انہوں نے انہیں صدا خوش رہنے کی دعا دی اور ساتھ ہی انکا حال دریافت کیا تھا ۔۔۔
اللہ سوہنے کا بڑا کرم ہے مرشد سائیں ۔۔
مسکرا کر جواب دیتے وہ ایک سائڈ ہوئیں تھیں ۔۔۔اور حیدر شاہ باوقار چال چلتے وہاں رکھے صوفے پر شان سے براجمان ہو گئے ۔۔۔
تبھی آگے بڑھتے ضارب نے انکے سامنے پیار کیلئے اپنا سر جھکایا تھا ۔۔۔
جس پر بہت محبت سے دونوں ہاتھ پھیرتے ڈھیروں دعاؤں سے نوازا ۔۔۔
اور کیا حال چال ہے ماں سا ۔۔۔
اللہ پاک کا شکر ہے سردار سائیں آپ سنائیں ۔۔۔
ہم بالکل ٹھیک الحمداللہ ۔۔۔
مسکرا کر جواب دیتے وہ بھی حیدر شاہ کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔جس کے بیٹھنے کے بعد ہی وہ دونوں میاں بیوی جو انکے احترام میں اب تک کھڑے تھے صوفوں پر براجمان ہوئے ۔۔۔
جبکہ ملازمین نے چائے کے ساتھ ڈھیروں انواع ٹیبل پر سیٹ کرنے شروع کیے ۔۔۔
جنکے جاتے ہی شہیر کی والدہ نے خود انہیں چائے سرو کی تھی ۔۔۔
ظفر خان آپکو ہماری یہاں آمد کے پیچھے کی وجہ کا علم تو ہے ہی ۔۔۔کہ ہم یہاں اپنی پوتی زرتاشے موسی شاہ کا رشتہ آپکے بیٹے شہیر خان کیلئے مانگنے آئیں ہیں ۔۔
چائے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد حیدر شاہ سیدھا مدعے کی بات پر آئے تھے ۔۔۔
خوش قسمتی ہے ہماری پیر سائیں ۔۔۔جو آپ نے ہمیں اس لائق سمجھا ۔۔۔
مسکرا کر نہایت ادب سے گویا ہوئے ۔۔۔
تو ہم پھر اس رشتے کیلئے ہاں سمجھیں ۔۔۔
یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے پیر سائیں ۔۔۔آپ حکم کریں کب ہم اپنی امانت لینے کیلئے آئیں ۔۔۔
حیدر شاہ کی بات کے جواب میں وہ عاجزی سے بولے تھے ۔۔۔
یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن آپ ایک بار شہیر خان سے بھی تو پوچھ لیں ۔۔۔آخر زندگی تو انہوں نے ہی گزارنی ہے ۔۔۔
جس پر ساتھ بیٹھے ضارب شاہ نے بھی تائید میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
ہمیں نہیں لگتا خان کو بھی مسئلہ ہوگا اس رشتے سے لیکن پھر بھی اگر آپ کہتے ہیں تو ۔۔۔
وہ ابھی بات کر ہی رہے تھے جب انکی آمد کا علم ہونے پر حیران سا خان وہاں داخل ہوا تھا ۔۔۔
یہ لیں آ گیا ہے ،،، آپ خود ہی پوچھ لیں ۔۔۔
شہیر کی طرف دیکھتے مسکرا کر بولے ۔۔۔
جبکہ وہ اب تک حیرت سے انکی طرف دیکھتا بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
سردار سائیں سب خیریت ؟؟؟؟
حیدر شاہ کو سلام کرنے کے بعد اس نے ضارب سے سوال کیا تھا ۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر وہاں موجود سبھی افراد نرمی سے مسکرائے تھے ۔۔۔
جی خیریت ہی ہے ۔۔۔
بیٹھیں ہمیں آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
اسکی بات کا نرمی سے جواب دیتے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
جس پر وہ کچھ حیران اور کچھ پریشان سا صوفے پر ایک سائیڈ ٹک گیا ۔۔۔
بات یہ ہے شہیر خان کہ ہم نے آپ کیلئے ایک لڑکی پسند کی ہے ۔۔۔اور آج اسی سلسلے میں آپ سے اور آپکے والدین سے بات کرنے کیلئے آئیں ہیں ۔۔۔
جبکہ اپنی شادی کی بات پر خان نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ،،،
میرے لیے ۔۔۔
یہ دو لفظ بمشکل ہی اسکے حلق سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔
جی آپ کیلئے ۔۔۔
آپ جانتے ہیں ہم نے ہمیشہ آپکو اپنا چھوٹا بھائی ہی سمجھا ہے ۔۔۔
بس اسی حق سے آپ کیلئے یہ رشتہ لائیں ہیں ۔۔۔لڑکی خوبصورت ہونے کے ساتھ پڑھی لکھی اور سمجھدار ہے ۔۔۔
جو آپ کیلئے ہمیں بہت مناسب لگیں ۔۔۔
آگے آپ ہمیں بتا دیں ۔۔۔
ضارب نے ساری بات بتاتے فیصلہ کا حق اسے سونپا ۔۔۔
لیکن سردار سائیں میں ۔۔۔
شہیر خان نے شش و پنج کا شکار ہوتے کچھ کہنا چاہا جب اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ضارب نے اگلا سوال کیا تھا ۔۔۔
آپ کسی کو پسند کرتے ہیں ؟؟؟؟
جس پر ایک سایہ سا شہیر کے چہرے پر لہرایا ۔۔۔
جسے ضارب شاہ کے ساتھ وہاں موجود سبھی افراد نے بھی محسوس کیا ۔۔۔
نہی ،،،، نہیں ایسی ،،، تو کوئی بات ،،،، نہیں
تو پھر کیسی بات ہے ۔۔۔
اسے اٹکتا دیکھ ضارب نے بمشکل اپنے تاثرات سنجیدہ کرتے سوالیہ پوچھا ۔۔۔
وہ سردار سائیں ،،، میں نے ابھی شادی کے بارے میں سوچا نہیں کچھ بس اسی لیے ۔۔۔
ضارب کے سوال پر خود کو کمپوز کرتے اس نے عاجزی سے جواب دیا ۔۔۔
تو اب سوچ لیں ۔۔۔
ضارب نے اسکی حالت کو انجوائے کرتے دوبدو جواب دیا تھا ۔۔۔
جبکہ باقی افراد نے ادھر ادھر دیکھتے بمشکل اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکا تھا ۔۔۔
کیونکہ آنے سے پہلے ضارب نے سب کو سارا معاملہ اچھے سے سمجھا دیا تھا اور ساتھ یہ تاکید بھی کی تھی کہ نکاح سے پہلے تک کسی نے خان کے سامنے دلہن کا نام نہیں لینا ۔۔۔کیونکہ وہ نکاح والے دن اسکی زندگی کی سب سے بڑی خوشی دینا چاہتا تھا اسکی محبت اسکی جھولی میں ڈال کر ۔۔۔
لیکن سردار سائیں ۔۔۔
دیکھیں شہیر خان مرد جتنا بھی شریف ہو لیکن فرشتہ نہیں ہوتا ۔۔۔اسے کبھی نا کبھی عورت کے وجود کی ضرورت پڑتی ہی ہے ۔۔۔
آپ نے شادی کبھی نا کبھی تو کرنی ہی ہے نا ۔۔۔اور ایسے کام جتنی جلدی اور صحیح وقت پر ہو جائیں اتنے ہی مناسب ہوتے ہیں ۔۔۔
جس پر چند پل کیلئے شہیر خان نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا اور جس مان سے وہ اسے دیکھ رہا تھا وہ چاہ کر بھی اسے منع نہیں کر پایا ۔۔۔
جی سائیں جیسے آپکو مناسب لگے ۔۔۔
اسکے اقرار پر ایک خوشی کی لہر وہاں موجود تمام افراد کے چہرے پر دوڑ گئی ۔۔۔
تو پھر کب ملاقات کرنا چاہیں گے آپ لڑکی سے ہمیں بتا دیں ۔۔۔
نہیں سائیں اسکی ضرورت نہیں آپ ماں سا اور بابا سائیں سے ملوا دیں ۔۔اگر انہیں پسند ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔
ضارب کی بات پر زبردستی مسکراتے اس نے ظفر خان اور اپنی والدہ کی طرف دیکھا ۔۔۔
بھئی ہم نے تو لڑکی دیکھ رکھی ہے ،،،، جو ہمیں تو پسند ہے ،،،، اور اب آپ نے بھی ہاں کر دی ہے تو ہم لوگ جا کر نیگ کے پیسے رکھ آئیں گے بہو بیٹی کے ہاتھ پر ۔۔۔
اور شادی کی تاریخ بھی طے کر لیں گے ۔۔۔
شہیر خان نے چونک کر اپنے والد صاحب کی طرف دیکھا تھا جو ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے تھے۔۔۔
وہ انہیں کیسے بتاتا کہ ابھی وہ شادی کیلئے تیار نہیں ۔۔۔پہلے اپنے دل میں بس رہے تاشے کے عکس کو تو مٹا لے۔۔۔اسکی یادوں کو دل کے کسی کونے میں دفن کرتے اپنی محبت کی قبر بنا لے ۔۔۔
تاکہ آنے والی کے ساتھ کوئی ناانصافی نا ہو ۔۔
لیکن پھر ضارب اور حیدر شاہ کا خیال کرتےخاموشی میں ہی عافیت جانی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
دونوں طرف سے رضامندی ملنے کے بعد ،،،، شہیر خان کے والدین نا صرف تاشے کے ہاتھ میں اسکی نام کی انگوٹھی ڈال گئے تھے ۔۔۔
بلکہ ساتھ ہی شادی کی تاریخ بھی طے کر گئے تھے ۔۔۔
اور یہ سارے معاملات شاہ خاندان کے ساتھ رومان شاہ اور احسن حیات کی موجودگی میں طے پائے گئے تھے ۔۔۔
کیونکہ رومان شاہ نے صاف لفظوں میں سب سے بول دیا تھا ۔۔۔احسن حیات ان دونوں کیلئے والد کی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔
انکے بابا ہیں ۔۔۔جنہوں نے انہیں اس وقت سہارا دیا ۔۔۔جب اس دنیا میں انہیں اپنا کہنے والا کوئی نہیں تھا ۔۔۔
اور آج اپنی بہن کی زندگی کے اس اہم موقع پر انہیں قطع فراموش نہیں کر سکتا ۔۔۔
جس پر حیدر شاہ نے اسکے جذبات کی قدر کرتے ہوئے انہیں سب فنکشنز میں شامل ہونے کی اجازت دے دی تھی ۔۔۔
جبکہ یہ سب معاملات طے ہوتے ہی ایک بار پھر حویلی میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے تھے ۔۔۔
جن میں ابرش ابیہا سمیت زرمینے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی ۔۔۔
چاہے جو کچھ بھی تھا ۔۔۔لیکن تاشے اسکی بہن تھی ۔۔۔اسکی رگوں میں بھی وہی خون دوڑ رہا تھا جو زرمینے کے ۔۔۔
اور وہ چاہے لاکھ کوشش کر لیتی لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتی تھی کہ وہ آج بھی موسی شاہ سے اتنی ہی محبت کرتی تھی ۔۔۔
جتنی اس کڑوی جان لیوا حقیقت کے کھلنے سے پہلے ۔۔۔
انکی جدائی اس کیلئے کسی سزا سے کم نہیں تھی ،،،، موسی شاہ کا خیال ہروقت اسکے ساتھ ساتھ رہتا تھا ۔۔۔
بس وہ زیادہ شو نہیں کرواتی تھی ۔۔۔کیونکہ وہ ایک رشتے کے پیچھے باقی اتنے پیار کرنے والے رشتوں کو دکھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔خاص طور پر اپنی ماما کو جو موسی شاہ کی حقیقت کھلنے کے بعد زیادہ تر بیمار رہنے لگیں تھیں ۔۔۔
وہ گھر والوں کے درمیان بھی کم ہی بیٹھتی تھیں ۔۔۔بےقصور ہونے باوجود بھی انہیں اپنا آپ گنہگار سا لگتا تھا ۔۔۔جس کے پیچھے کی وجہ موسی شاہ سے جڑا انکا رشتہ تھا ۔۔۔
وہ لاکھ جھٹلانے اور گھر والوں کے سمجھانے کے باوجود بھی کہ ان سب میں انکا کوئی قصور نہیں ۔۔۔اس گلٹ کو اپنے اندر سے نہیں نکال پا رہی تھیں کہ شاہ خاندان کی بربادی کے پیچھے انکے شوہر کا ہاتھ تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
مہندی ہے رچنے والی ۔۔۔
ہاتھوں میں گہری لالی ۔۔۔
کہیں سکھیاں اب کلیاں ہاتھوں میں کھلنے والی ہیں
تیرے من کو جیون کو نئی خوشیاں ملنے والی ہیں
او ہریالی بنو ۔۔
آنے والے ہیں سیاں
پکڑے جو تیری بیاں
گونجے گی شہنائی انگنائی انگنائی
مہندی ہے رچنے والی
ہاتھوں میں گہری لالی
پوری حویلی کو ایک بار پھر دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا ۔۔ہر سو پھیلے خوشیوں کے رنگ ،،، ہنستے مسکراتے چہرے ،،، لہراتے ہوئے آنچل ہوئے ۔۔۔
حویلی کے ہی وسیع لان میں سٹیج لگا کر اسے فیری لائٹس کے ساتھ گیندے اور گلاب کے پھولوں کے ساتھ سجایا گیا تھا ۔۔۔
جسکے بالکل درمیان میں خوبصورت جھولا رکھا ہوا تھا ۔۔۔جس پر اس وقت تاشے اپنے سوگوار حسن کے ساتھ براجمان تھی ۔۔۔
پیلے رنگ کے خوبصورت شرارہ کرتی کے ساتھ زری گوٹے سے سجا گلابی ڈوپٹہ سر کی زینت بنا ہوا تھا ۔۔۔
ہاتھوں میں موتیے اور گلاب کے گجرے جنکی مہکتی خوشبو چار سوں پھیلی ہوئی تھی ۔۔
صبیح پیشانی پر سجا مانگ ٹکا اسکے معصوم حسن میں چار چاند لگا گیا تھا ۔۔۔
مہکتے پھولوں کے خوبصورت آویزے کانوں کی زینت بنائے وہ سادگی میں بھی قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ اسکے بالکل سامنے سٹیج پر گدے بچھا کر ڈھولکی رکھی گئی تھی ۔۔۔جسکی تال پر ابرش ابیہا ،،، زرمینے سمیت گاؤں کی عورتوں کے ساتھ خاندان کی لڑکیاں مختلف مہندی کے گیت گاتے سما باندھ رہی تھیں ۔۔
یہ سراسر زنانہ محفل تھی ۔۔جس میں مردوں کا آنا منع تھا ۔۔
اس لیے سب بےفکری سے بیٹھی مختلف بولیوں میں ایک دوسرے کو چھیڑتے قہقہے لگا رہی تھیں ۔۔۔
جب زارون شاہ نے اچانک سے وہاں اینٹری ماری ۔۔۔
جسے دیکھتے ہی ہر سوں خاموشی چھا گئی تھی ،،،، اور سب لڑکیوں سمیت گاؤں کی بزرگ عورتیں حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگیں ۔۔۔
کیا ہوا بھئی تم لوگوں نے گانا کیوں بند کر دیا ۔۔۔اور ایسے کیوں گھور رہے ہو سب مجھے ،،،، جیسے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ہو ۔۔۔
لڑکیوں کے درمیان آرام سے براجمان ہوتے بےتکلفی سے بولا تھا ۔۔۔
اچھا اچھا پہلے کبھی اتنا ہینڈسم بندہ نہیں دیکھا ہوگا اس لیے ،،،، لیکن اس میں تم لوگوں کا بھی کوئی قصور نہیں ،،، اب کیا کریں بھئی میری تو پرسنیلٹی ہی ایسی ہے ۔۔۔جو ایک بار دیکھے وہ دیکھتا ہی رہ جائے ۔۔۔
انکے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ خود کی تعریفوں کے پل باندھنے لگا ۔۔۔
جس سے مرعوب ہونے کی بجائے ان لوگوں نے اسے مزید گھورا تھا ۔۔۔
بس کر دو ان پیاری نگاہوں سے دیکھنا نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا مجھے ۔۔۔زارون لب دانتوں تلے دبا کر شرمانے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔۔۔
جسے دیکھ کر لڑکیوں کے قہقہے گونج اٹھے تھے ۔۔۔
زرمینے نے تیز نظروں سے سب کو گھورا جس سے انکی ہنسی تھمی اور پھر زارون شاہ کی طرف متوجہ ہوئی جو اسے ہی محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
شاہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟
اسے سب لڑکیوں کے درمیان میں بیٹھا دیکھ ذرا غصے سے بولی ۔۔۔
اپنی شاہنی کو دیکھنے آیا ہوں ۔۔۔
وہ بنا جھجھکے سب کے سامنے اسکا خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بسائے محبت سے گویا ہوا ۔۔۔
جسے سنتے فضاء میں لڑکیوں کی دبی دبی کھلکھلاہٹیں گونج اٹھی تھیں،،، جبکہ زرمینے کا چہرہ سب کے سامنے اسکی بےباکی پر شرم سے سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔
اس نے زارون شاہ کو تیکھی نگاہوں سے گھورا ۔۔۔
آپ کو پتا ہے نا یہ لڑکیوں کا فنکشن ہے تو ،،،، تو کیا میں کوئی غیر تھوڑی ہوں میری بہن کی شادی ہے مجھے پورا حق ہے کہ اسکی تمام رسموں میں حصہ لوں ۔۔
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے وہ درمیان میں اسکی بات کاٹتا تاشے کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔جیسے اپنی بات کی حمایت چاہتا ہو ۔۔۔
تاشے جو خاموش بیٹھے خالی نگاہوں سے سب کو تک رہی تھی ۔۔۔زارون کی آمد اور اسکی باتوں پر اسکے لب بھی بےساختہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔۔۔
تبھی زارون کے پوچھنے پر اس نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔۔۔
چپ کرو تمہیں کیا پتا ۔۔۔۔اور آپ اٹھیں یہاں سے ۔۔۔اپنا ہو یا پرایا لیکن ہم اس محفل میں کسی مرد کو بیٹھنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے ۔۔۔
تاشے کو ڈانٹنے کے بعد زر نے اسے اٹھنے کا بولا جس کی تائید میں ابرش ابیہا نے بھی سر ہلایا تھا ۔۔۔
زارون نے اسکے دوٹوک انداز کو دیکھتے منہ بنایا اور پھر بیچارگی سے وہاں بیٹھی روباب اور عظمی کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
جو ان دونوں کی نوک جھونک کو لبوں پر نرم مسکراہٹ سجائے انجوائے کر رہی تھیں ۔۔۔
ماما ۔۔۔”
وہ لڑکیوں کے درمیان سے اٹھتا ان دونوں کے قدموں میں جا کر بیٹھ گیا جو سٹیج پر رکھے صوفوں پر براجمان تھیں ۔۔۔
دونوں نے اسکی معصوم شکل کو دیکھتے ہوئے باری باری محبت سے پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا بیٹھنے دو ہمارے بیٹے کو بھی یہاں ۔۔۔دونوں ایک ساتھ مسکرا بولی تھیں ۔۔۔
جہاں ان کی حمایت پر زرمینے کا منہ بنا تھا ۔۔۔وہی اپنے شرارتی پوتے کی چلاکی اور بہووں کے بیوقوف بن جانے پر اماں سائیں نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
دیکھیں میاں یہ خاصہ زنانہ محفل ہے اس میں مردوں کا کوئی کام نہیں اس لیے شرافت سے اٹھ کر یہاں سے غائب ہو جائیں ورنہ ہمیں مجبوری میں آپکے بابا سائیں کو بلانا پڑے گا ۔۔۔
اماں سائیں نے اسے جانے کا بولتے ساتھ دھمکی بھی لگائی تھی ۔۔۔
دادو ۔۔۔
جبکہ انکے کورے جواب پر زارون کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ۔۔۔
لیکن اماں سائیں ۔۔۔
روباب اور عظمی نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔جب عمائمہ بیگم نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروایا ۔۔۔
آپ لوگوں کو تو آپکا یہ بیٹا سب سے زیادہ شریف اور معصوم لگتا ہے ۔۔۔لیکن اصل میں یہ کتنے شریف ہیں ۔۔۔ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔۔۔اس لیے بنا وقت ضائع کیے اٹھنے کی کریں ۔۔۔
اسکے سرے عام زرمینے کے ساتھ محبت کے نظاروں کو یاد کرتے انکا اپنا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
جسے دیکھ کر زارون شاہ کے لبوں پر حسین اور شریر مسکراہٹ آئی ۔۔۔ جسے لب دبا کر چھپاتا اٹھ کر انکے قریب آیا تھا ۔۔۔
ہائے یہ آپ کی شرماہٹ ،، لبوں کی ہنسی اور آپکے یہ گلابی رخسار
دیکھنے والوں کو ایک نظر میں گھائل کر دیں کٹیلے نینوں کے تیکھے وار
انکا ہاتھ تھام کر دل پر رکھتا نہایت لوفرانہ انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔۔جس پر وہ سر تا پیر مکمل سرخ ہوئیں تھیں ۔۔۔
جبکہ زارون شاہ کے شعر اور اماں سائیں کے ری ایکشن پر محفل زعفران بنی۔۔۔
جب اس نے ڈھولکی پر بیٹھی لڑکی کو اشارہ کیا تھا بجانے کا اور ساتھ ہی اماں سائیں کو اٹھا کر گھمبیر آواز میں گانا شروع کیا ۔۔۔
اے میری ظہرہ جبین ،،،، تجھے معلوم نہیں
توں ابھی تک ہے حسین اور میں جوان
تجھ پہ قربان میری جان میری جان
عمائمہ بیگم سے نظریں اٹھانا مشکل ہو گئیں انہوں نے سر پر لیے ڈوپٹے سے اپنا سرخ ہوتا چہرہ چھپا لیا ،،،، جسے دیکھ زارون شاہ سمیت وہاں موجود عورتوں اور لڑکیوں نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔
دیر رات انکی یہ محفل جمی رہے جس میں زارون شاہ نے اپنی چلبلی نیچر اور گھائل کر دینے والی پرسنیلٹی کے ساتھ سب کو اپنا دیوانہ بناتے کبھی زرمینے کے ساتھ نوک جھونک کبھی ابرش ابیہا کو واسم ضارب کے نام سے چھیڑتے تو کبھی جھولے پر بیٹھی تاشے کو اپنے انداز میں دعائیں دیتے ایسا سما باندھا تھا کہ یہ رات وہاں موجود لوگوں کے ذہنوں میں صدیوں تک زندہ رہنے والی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
آج خان اور تاشے کی بارات کا دن تھا ۔۔۔
جسکی صبح ہوتے ہی شاہ حویلی کے ساتھ خان ولا میں بھی افراتفری مچ گئی تھی ۔۔۔لیکن جنکی خوشی کا یہ دن تھا ۔۔۔ان دونوں کا دل ہر خوشی سے خالی اور چہرے جذبات سے عاری تھے ۔۔۔
وہ صرف اپنے گھر والوں کی خوشی کی خاطر ایک رسم نبھا رہے تھے ۔۔۔
انکی خواہش کو اپنا فرض سمجھتے ادا کر رہے تھے ۔۔۔
اپنی محبت کو ہمیشہ کیلئے اپنے اندر ہی کہیں دفن کرتے آنے والے امتحان کیلئے خود کو تیار کر رہے تھے ۔۔۔
جہاں تاشے تک نارسائی کا غم مناتے شہیر خان کا دل اداس تھا ۔۔۔وہی اپنی محبت کے دھتکارے جانے اور اپنے کردار کی تذلیل پر تاشے کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی ۔۔۔
شہیر خان کے سرد رویے کو یاد کرتے تاشے کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔۔۔جبکہ آنے والی زندگی کا سوچتے الگ ٹینشن نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا تھا ۔۔جسکے چلتے شدید سر درد کے ساتھ اسے بخار نے جا لیا تھا ۔۔۔
لیکن اس نے کسی کو بھی بتانا ضروری نا سمجھا ۔۔۔
اور اس وقت مکمل دلہن کے روپ میں آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے عکس کو گھورتے اپنی قسمت کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔
آخر کیا ملا اسے آج تک ،،، سوائے ایک بھائی کے ،،، کوئی بھی خوشی مکمل نصیب نہیں ہوئی تھی ۔۔۔اسکے پیدا ہونے سے پہلے اسکا باپ ماں کو طلاق دے کر چلا گیا اور پیدا ہوتے ہی ماں منوں مٹی تلے جا سوئی ۔۔۔
ساری زندگی نوکروں کے ہاتھ پلتے اس نے اکیلے ہاسٹل میں نکال دی ۔۔۔لیکن اس نے کبھی اپنے رب سے شکوہ نہیں کیا ۔۔۔۔
پوری زندگی میں اپنے لیے صرف ایک چیز کی خواہش کی اور وہ تھی شہیر خان کی محبت ۔۔۔لیکن وہ بھی اسکی بدقسمتی کی نظر ہو گئی ۔۔۔
آخر کیا تھی اسکی زندگی ۔۔۔
اسے تو اپنی زندگی کا کوئی مقصد سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔اسکی ذات کسی کیلئے بھی تو اہم نہیں تھی ۔۔۔پھر کیوں اللہ تعالٰی نے اسے اس دنیا میں بھیجا ۔۔۔
بہت سی لایعنی سوچوں نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا تھا ۔۔۔جسے سوچ سوچ کر اسکی طبیعت مزید خراب ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
لیکن وہ خود پر کنٹرول کیے بےحس و حرکت بیٹھی تھی ۔۔۔جیسے اسے کوئی بھی تکلیف محسوس ہی نا ہو رہی ہو ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
روباب چلیں ہم لوگوں کو ہال پہنچنے میں بھی وقت لگے گا ،،،، جبکہ وہاں ہال میں بارات ،،،
ارمغان شاہ جو جلد بازی میں تیار ہوتے ڈریسنگ روم سے باہر آئے تھے ۔۔۔
آئینے میں نظر آتے روباب کے عکس کو دیکھتے چند پل کیلئے وہی ٹھہر گئے ۔۔۔
جو انکے من پسند رنگ میں سجی کھڑیں انکے دل کی دھڑکن بڑھا گئیں تھیں ۔۔۔
جی بس ہو گئیں ہوں تیار ۔۔۔ہاتھوں میں جوڑے کے ہمرنگ چوڑیاں پہنتے ہوئے وہ انکی نگاہوں سے یکسر انجان اپنے دھیان میں بولیں تھیں ۔۔۔
جب ارمغان شاہ نے آگے بڑھتے انہیں اپنے حصار میں لیا ۔۔۔روباب نے انکی حرکت پر چونک کر آئینے میں نظر آتے دونوں کے عکس کو دیکھا ۔۔۔
آپ تو دن با دن اور بھی حسین ہوتیں جا رہی ہیں ۔۔۔انکی خوشبو میں گہرا سانس لیتے بہت محبت سے گویا ہوئے تھے ۔۔۔
جس پر ایک شرمیلی مسکراہٹ نے انکے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔
اب ہم لیٹ نہیں ہو رہے کیا ۔۔۔آگے بندھے انکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے وقت کا احساس دلانا چاہا ۔۔۔
جو انکی خوبصورتی میں کھوتے وہ بالکل فراموش کر بیٹھے تھے ۔۔۔
نہیں ۔۔۔
انکی گردن پر نرمی سے اپنے ہونٹ رکھتے یک لفظی جواب دیا تھا ۔۔۔
روباب نے سرخ پڑتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
غنی ہم لیٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔تاشے کی بارات ہے ۔۔۔انہیں حد سے بڑھتے دیکھ وہ نرمی سے انکا حصار توڑتی پیچھے ہوئی تھیں ۔۔
آہ یہ ظلم ہے ہم پر بیگم ۔۔۔چلے کوئی بات نہیں ۔۔۔ باقی کا رومانس بارات سے واپسی پر ادھار رکھ لیتے ہیں ۔۔۔
گہرا سانس کھینچ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل سے گھڑی اٹھا کر پہنتے زومعنی انداز میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔
جس پر نفی میں سر ہلاتے وہ انکے قریب ہوئیں تھیں ۔۔۔
غنی آپ بھول رہے ہیں آپ نے مجھ سے کچھ وعدہ کیا تھا ۔۔۔انکے پہنے ہوئے کوٹ کے بٹنوں کو سیٹ کرتے انہیں اپنا وعدہ یاد دلانا چاہا ۔۔۔
ارمغان نے انکی بات پر کچھ چونک کر روباب کی طرف دیکھا ۔۔۔جنکی آنکھوں میں ایک التجا تھی ۔۔۔
جس پر مسکرا کر انہوں نے محبت سے انکی پیشانی کو چھوا تھا ۔۔
مجھے یاد ہے بیگم اور میں اپنا وعدہ نبھانے کی پوری کوشش کروں گا ۔۔۔
مسکرا کر کہتے انہیں یقین دلایا تھا جس پر وہ بھی نرمی سے مسکرائی تھیں ۔۔۔
اب چلیں اگر تیار ہو گئیں ہیں تو ۔۔۔
ہاں بس جوتے پہننا باقی ہے آپ چلیں باقی سب کو دیکھیں میں دو منٹ میں پہن کر آئی ۔۔۔
نرمی سے کہتے ہوئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔
جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی طرف ۔۔۔
ابھی وہ اپنے کمرے سے باہر نکلے تھے جب عجلت میں اس طرف آتیں عظمی سے ٹکرا گئے ۔۔۔
معاف کیجئے گا جلدبازی میں میں نے آپکو دیکھا نہیں ۔۔۔دراصل میں آپ لوگوں کو بلانے کیلئے ہی آ رہی تھی میرج ہال جانے کیلئے سب لوگ تیار ہو کر لاؤنج میں اکٹھے ہو چکے ہیں ۔۔۔
اگر تیار ہیں تو آ جائیں ۔۔سادہ سے لہجے میں بولتے ہوئے وہ پلٹنے لگیں ،،،، جب ارمغان شاہ نے انکا ہاتھ تھامتے انہیں روکا ۔۔۔
جس پر حیرت سے پلٹتے انہوں ایک نظر انکے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر انکے ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھ کو ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف زندگی میں پہلی بار ارمغان شاہ نے انکے پہنے ہوئے لباس کا جائزہ لیا تھا ،،، جو سیم ٹو سیم روباب کے پہنے سوٹ سے میچ کرتا تھا ۔۔۔
اور بلاشبہ روباب کی طرح عظمی بھی اس لباس میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ۔۔۔
سائیں آپکو کوئی کام تھا ؟؟؟؟
انکے ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھ کو چھڑوانے کی کوشش کرتیں سوالیہ دیکھنے لگیں ۔۔۔
عظمی کی گھبراہٹ اور ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کو دیکھتے ارمغان نے انکے ہاتھ کو چھوڑ آگے ہو کر نرمی سے انکے کندھوں کو تھاما اور پھر شوہر ہونے کا پہلی بار اپنا حق استعمال کرتے جھک کر انکی صبیح پیشانی پر بوسہ دیا تھا ۔۔۔
جبکہ پہلی بار انکے لمس کو پاتے عظمی کا نازک وجود شدت سے کانپا تھا گرنے کے ڈر سہارے کیلئے انکے ہاتھ خود با خود ارمغان شاہ کے پہنے ہوئے کوٹ کے کالر پر آئے تھے ۔۔۔
آنکھیں حیرت سے پھیلتے بڑی ہو گئیں تھیں ۔۔۔جبکہ شرم و حیا سے سرخ و سفید نازک گال دہک اٹھے تھے ۔۔۔
انکے وجود کی لرزش کو محسوس کرتے ارمغان شاہ کے لب دھیرے سے مسکرائے ۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ ۔۔۔
انکے کان کے قریب جھک کر دھیمی سرگوشی کرتے دھیرے سے انکے سرخ گال کو چھوا ۔۔۔
اور پھر مسکرا کر الگ ہوتے ایک نظر حیرت سے پھیلی انکی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔
جبکہ پیچھے وہ انکے لمس میں کھوئی مٹی کا بت بنے حیرت زدہ سی کھڑی رہ گئیں ۔۔۔
