Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 91)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 91)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
تاشے “
دروازہ ہلکا سا ناک کرتے رومان کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
اور وہ جو کتابوں میں سر دیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔اپنے بھائی کو اتنے دنوں بعد سامنے دیکھتے بھاگ کر اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی ۔۔۔۔
بھائی آپ کہاں چلے گئے تھے ؟؟؟؟
آنکھوں میں آنسو لیے سوال کیا ۔۔۔۔
جس پر رومان دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔
میں کہاں جاؤں گا گڑیا بس ایک ضروری کام آ گیا تھا اس کی وجہ سے گھر آنے کا ٹائم نہیں ملا ۔۔۔۔
بہت نرمی سے اسکے آنسو صاف کر کے مجبوری بتاتےنفی میں سر ہلا کر رونے سے منع کرنے لگا ۔۔۔۔
میں نے آپکو بہت مس کیا اوپر سے آپکا فون بھی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔بس اسی لیے پریشان ہو گئی تھی ۔۔۔۔
اپنی بہن کی اتنی محبت پر رومان کو ٹوٹ کر پیار آیا ۔۔۔۔
جس پر اس نے بہت محبت سے تاشے کی پیشانی پر شفقت سے بوسہ دیا ۔۔۔۔
اچھا بھائی آپ کچھ کھائیں گے میں بنا کر لاوں ؟؟؟؟
رومان سے الگ ہوتے ہی اسے نئی فکر لاحق ہوئی تھی ۔۔۔پتا نہیں اسکے بھائی نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں ۔۔۔۔
نہیں گڑیا فلحال مجھے بھوک نہیں آپ ادھر آئے میرے پاس مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اسے بھی ساتھ بیٹھایا ۔۔۔۔
تاشے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
تاشے آپکو پتا ہے نا میں آرمی میں ہوں ۔۔۔
تاشے کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔اس نے زور و شور سے سر ہلایا ۔۔۔۔
اور آئے دن کام کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتا ہوں ۔۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔۔
اور مجھے فخر ہے کہ میں آپ کی بہن ہوں ۔۔۔جو اپنے آرام اور جان کی پرواہ کیے بنا اپنے ملک کیلئے اس میں رہنے والے لوگوں کیلئے دن رات محنت کرتے ہیں ۔۔۔
اس ملک کی حفاظت اور بےگناہوں کو انصاف دلانے کیلئے اپنی جان پر بھی کھیل جاتے ہیں ۔۔۔تاکہ انہیں تحفظ فراہم کر سکیں ۔۔۔۔
اسکی سمجھداری والی باتیں سن کر رومان دھیما سا مسکرایا ۔۔۔
میری گڑیا بڑی ہو گئی ہے بھئی بڑی سمجھداری والی باتیں کرنے لگی ہے ۔۔۔
آپکو آج پتا چلا ہے میں تو شروع سے ہی سمجھدار ہوں ۔۔۔۔رومان کی بات پر وہ اترائی ۔۔۔۔
جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔اور پھر اسکے ہاتھ کو نرمی سے تھامتے ہوئے اصل بات کی طرف آیا ۔۔۔۔
لیکن آپکو پتا ہے اس بار مجھے جس مشن پر بھیجا گیا تھا ۔۔۔۔جسے کامیابی سے حل کرتے مجھے ایسا لگا جیسے میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا ہو ۔۔۔۔ اتنے سالوں سے جو ایک بوجھ میں اپنی روح اور دل پر لیے پھر رہا تھا اس سے مجھے نجات حاصل ہو گئی ۔۔۔۔کیونکہ یہ مشن نا صرف میرے ملک بلکہ اتنے سالوں سے تڑپتی میری ماں کی روح کو بھی انصاف دلانے کا سبب بنا ۔۔۔۔
رومان کی اس بات پر تاشے نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
تاشے ہماری ماں کا گنہگار اور نام نہاد باپ فائنلی آج اپنے مقام کو پہنچ گیا ۔۔۔۔
سچی بھیا ۔۔۔۔
جی میری جان ۔۔۔۔اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے ان دونوں بہن بھائی کے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔
تاشے آپ جاننا چاہیں گی کہ وہ انسان کون تھا ۔۔۔جس نے نا صرف ہماری ماں کی زندگی برباد کی بلکہ اسکی موت کی بھی وجہ بنا اور اس کے ساتھ ہم دونوں کو بھی محرومی بھری زندگی گزارنے کیلئے زمانے کی ٹھوکروں پر چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔
اور تاشے کی تو جیسے دلی مراد بھر آئی تھی ۔۔۔۔جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا بارہا رومان سے اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تھا ،،،،، جس پر اس نے اپنی ماں پر گزرنے والی قیامت کے بارے میں تو اسے بتا دیا ۔۔۔۔لیکن ان سب کو انجام دینے والے اس شخص کے بارے میں نہیں ۔۔۔۔اس وقت اسکے پاس صرف ایک جواب ہوتا تھا ۔۔۔۔سہی وقت آنے پر بتاؤں گا ۔۔۔
اور آج جیسے وہ وقت آ گیا تھا ۔۔۔۔
آج وہ اس شخص کے بارے میں جاننے والی تھی ۔۔۔۔جس سے ہوش سنبھالنے کے بعد سے لے کر آج تک نفرت ہی کرتی آئی تھی ۔۔۔کیونکہ وہ شخص اسکی ماں کا گنہگار تھا ۔۔۔۔
لیکن پھر بھی اس شخص کے بارے میں جاننا چاہتی تھی جسکا خون اسکی رگوں میں دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔
اس چیز کا احساس ہوتے ہی اسکا دل زوروں سے دھڑکا ۔۔۔۔
تم اسے جانتی ہو ۔۔۔۔اور شاید مل بھی چکی ہو ۔۔۔۔اسکی بات پر تاشے نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
میں مل چکی ہوں ۔۔۔لیکن کیسے ؟؟؟؟؟
موسی شاہ کو جانتی ہو ؟؟؟؟؟
نام سننے کے بعد پل وہ گہری سوچ میں چلی گئی ۔۔۔۔
موسی شاہ ،،،، زرمینے کے بابا ۔۔۔۔
بےساختہ اسکے ہونٹوں سے پھسلا ۔۔۔۔
تو کیا ،،،،، تاشے کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ۔۔۔۔جسے دیکھتے رومان نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے زمین پر گرتا بےمول ہو گیا ۔۔۔۔
اور پھر دھیرے دھیرے وہ اسے مختصر لفظوں میں سب بتاتا چلا گیا ۔۔۔۔
موسی شاہ کے ماں باپ کی وفات سے لے کر شاہ خاندان کی تباہی کی مکمل ایک ایک بات تفصیل کے ساتھ ۔۔۔۔
جسے سن کر تاشے کی زبان تالوں سے چپک گئی اسکے ہونٹوں سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔
اسکا مطلب زرمینے ہماری بہن ہے ۔۔۔۔۔
بہت دیر بعد جا کر وہ کہیں بولنے کی قابل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اسے بےساختہ ہی زارون اور ابیہا کے مذاق میں کہے جانے والے جملے یاد آئے تھے ۔۔۔
تم دونوں تو میلے میں بچھڑی ہوئی بہنیں لگتی ہو ،،،، کہیں ایسا تو نہیں تم دونوں جڑواں بہنیں ہو اور ماموں جان تمہیں ہاسپٹل میں بھول آئے ۔۔۔۔
اسکی بات پر رومان نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
اور تاشے کے اندر ایک عجیب سی بےچینی پھیل گئی تھی ۔۔۔۔اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسے یہ بات سن کر خوش ہونا چاہیے یا پھر دکھی ۔۔۔۔
اور اب ۔۔”
رومان ایک پل کیلئے بات کرتے ہوئے رکا ۔۔۔۔
اور اب کیا بھائی ۔۔۔۔تاشے نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔حیدر شاہ اور ضارب شاہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ انکی حویلی میں رہیں ۔۔۔۔کیونکہ موسی شاہ کی وجہ سے ہی سہی لیکن ہمارا انکے ساتھ ایک رشتہ جڑ چکا ہے ۔۔۔۔
لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟؟
تاشے کیلئے یہ بات بہت شاکنگ تھی ۔۔۔۔
ہم تو انکے دشمن کے بچے ہیں ۔۔۔۔انہیں تو ہم سے نفرت کرنی چاہیے اور وہ ہمیں اپنے گھر میں کیسے رکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔مطلب کوئی اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟؟
اس کے لہجے میں حیرت ہی حیرت بول رہی تھی ۔۔۔۔
جس پر رومان دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔
یہی سوال میں نے بھی ضارب شاہ سے کیا تھا ۔۔۔۔پھر پتا ہے انہوں نے کیا جواب دیا ؟؟؟؟
کیا ؟؟؟؟
چاہے موسی شاہ نے انکے ساتھ جو کچھ بھی کیا ۔۔۔لیکن حیدر شاہ نے انہیں دل سے اپنا بیٹا مانا تھا ۔۔۔اسی لحاظ سے انہیں انکی اولاد بھی بےحد عزیز ہے ۔۔۔اور انکے اس فیصلے کے پیچھے ایک وجہ زرمینے بھی ہے ۔۔۔جسکے ہم سگے نا سہی لیکن بہن بھائی تو ہیں ہمارا خون ایک ہے اور وہ ہمیں ایک ساتھ جوڑ کر مکمل خوشحال فیملی کی شکل دینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔
پھر آپ نے کیا جواب دیا ؟؟؟؟
اسکی بات مکمل سننے کے بعد تاشے نے اگلا سوال کیا ۔۔۔۔جبکہ دل میں ضارب شاہ کے ساتھ پوری شاہ فیملی کیلئے عزت اور مان مزید بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔
سچ بتاؤں گڑیا تو مجھے یہ سب پہلے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن پھر جب تمہارے بارے میں سوچتا ہوں تو یہ سب ٹھیک لگنے لگتا ہے ،،،، آخر کب تک تم یوں ہاسٹل میں تن تنہا زندگی گزارو گی ۔۔۔۔
ایسا نہیں ہے کہ میں تمہیں اکیلا تحفظ نہیں دے سکتا ۔۔۔۔لیکن جیسی میری جاب ہے وقت کا کچھ بھروسہ نہیں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔اور اگر ان سب کے دوران مجھے کچھ ہو گیا تو کم از کم اتنا اطمینان تو ہوگا نا کہ تم محفوظ ہاتھوں میں ہو ۔۔۔۔
اللہ نا کرے بھائی ۔۔۔۔رومان کے منہ سے ایسی باتیں سن کراسکی سانسیں رکنے لگی ۔۔۔۔خوبصورت سرمئی آنکھوں سے فورا آنسو بہہ نکلے ۔۔۔۔
ارے پگلی ۔۔۔۔اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔۔۔ایک دن سب نے اس دنیا سے چلے ہی جانا ہے ۔۔۔۔تو اچھا نہیں کے اپنی یہ جان ہم اپنے ملک پر وارتے جام شہادت نوش فرمائیں ۔۔۔۔
جو ہر فوجی کا خواب ہوتا ہے ۔۔۔۔
پلیز ایسی باتیں نا کریں ورنہ آپ سے پہلے آپکی یہ بہن مر جائے گی ۔۔۔آخر میرا ہے ہی کون اس دنیا میں آپکے سوا ۔۔۔۔
نم لہجے میں کہتے اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔
جس پر نفی میں سر ہلاتے رومان نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔اچھا نہیں کرتا ایسی باتیں ،،،، لیکن تم رونا تو بند کرو یار ۔۔۔
تمہیں پتا ہے نا تمہارا بھائی تمہاری آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔
بہت محبت سے اسکے آنسو صاف کرتے ۔۔۔۔سر پر بوسہ دیا ۔۔۔۔
تاشے نے فورا اپنے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔جسے دیکھتے رومان نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔
تو پھر کیا فیصلہ کیا ۔۔۔چلو گی نا میرے ساتھ شاہ حویلی ۔۔۔۔بھائی یہ آپکا آخری فیصلہ ہے ؟؟؟؟
ہاں گڑیا ۔۔۔جتنے مان کے ساتھ ضارب شاہ نے ہمیں حویلی بلایا ہے ۔۔۔۔میں چاہ کر بھی انہیں منع نہیں کر پایا ۔۔۔۔اور کہیں نا کہیں اس کے پیچھے میرا خود کا بھی فائدہ چھپا ہوا ہے ۔۔۔۔
تمہیں ایک محفوظ مقام اور مکمل شناخت دینے کا ۔۔۔۔
تم بتاؤ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ۔۔۔۔
بات کے آخر میں رومان نے اسکی رائے بھی جاننی چاہی ۔۔۔۔جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
آپکا ہر فیصلہ مجھے دل و جان سے قبول ہے ۔۔۔
لیکن ایک بات ہے جو مجھے پریشان کر رہی ہے ۔۔۔۔
کیا ؟؟؟؟
کیا زرمینے ہم دونوں کو قبول کر لے گی ؟؟؟؟
پتا نہیں یہ تو وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہوگا ۔۔۔۔
تاشے کی بات سننے کے بعد رومان خود بھی پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔لیکن کوئی بھی اندازہ لگانے سے بہتر اس نے سب آنے والے وقت پر ہی چھوڑ دینا بہتر سمجھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
نہیں ماما ،،،،، ایسے کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
میرے بابا سائیں ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔دادا سائیں پلیز کہہ دیں یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔
نفی میں سر ہلاتے زر نے پہلے اپنی ماں اور بعد میں حیدر شاہ کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔
کاش بٹیا یہ سب جھوٹ ہوتا ۔۔۔۔لیکن ہم چاہ کر بھی اس سچائی کو نہیں بدل سکتے ۔۔۔۔بات اگر صرف ہمارے خاندان کی ہوتی تو ہم اسے معاف بھی کر دیتے لیکن ۔۔۔۔وہ تو ہمارے پورے ملک کا دشمن نکلا ۔۔۔۔
اسے نرمی کے ساتھ اپنے ساتھ لگاتے وہ دکھی لہجے میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔
دادا سائیں انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟؟ آپکو انہیں روکنا چاہیے تھا نا انہیں بتانا چاہیے تھا یہ سب غلط ہے ۔۔۔ جیسے بچپن میں ہم سب کو بتاتے تھے آپ نے انہیں کیوں نہیں بتایا ۔۔۔۔
حیدر شاہ کی طرف دیکھتے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔
بیٹا کیا کرتے ہم ابراہیم کی قسم کی بندش میں بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ہم نے تو ہمیشہ انہیں اپنے بیٹوں کی طرح محبت کی ۔۔۔۔
ہمیں کبھی پتا ہی نہیں چل سکا کہ وہ اپنے اندر ہمارے خلاف اتنا زہر رکھتے ہیں ورنہ بہت پہلے ہی ہم انہیں ساری حقیقت کھول کر بتا دیتے ۔۔۔۔
اسے پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھ حیدر شاہ کی خود کی آنکھیں بھی اس وقت نم تھیں ۔۔۔۔
دادا سائیں اب آگے کیا ہوگا ۔۔۔۔کیا آرمی والے میرے بابا سائیں کو ہمیشہ کیلئے مجھ سے دور کر دیں گے ؟؟؟؟؟
ایک اور معصومانہ سوال ۔۔۔۔
حیدر شاہ نے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اسکی پیٹھ سہلائی ۔۔۔۔
صبر کریں ہماری بچی ۔۔۔۔ کیونکہ اب صبر کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ۔۔۔۔کیونکہ جو جرم وہ انجام دے چکے ہیں انہیں اسکی سزا سے بچا پانا اب ناممکن ہے ۔۔۔۔۔
انکی بات سن کر زرمینے کے بہتے ہوئے آنسوؤں میں مزید روانی آئی تھی ۔۔۔۔جبکہ حیدر شاہ اسے مسلسل چپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔
یہ لوگ اس وقت حیدر شاہ کے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔جہاں انکے ساتھ اماں سائیں کے ساتھ نجمہ بیگم بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اور اپنی بیٹی کو یوں ٹوٹ کر روتے دیکھ انکے آنسو بھی روانی سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
جس پر اماں سائیں نم آنکھوں کے ساتھ انہیں صبر کی تلقین کر رہی تھیں ۔۔۔۔
یہ سارا سچ ان کیلئے بھی بہت تکلیف دہ تھا کیونکہ انہوں نے بھی ہمیشہ موسی کو یمان اور ارمغان کی طرح محبت کی تھی ۔۔۔۔اور موسی شاہ کی سچائی نے انہیں بھی اندر سے مکمل طور پر توڑ دیا تھا ۔۔۔۔
لیکن پھر بھی صبر اور حوصلے کے ساتھ خود پر کنٹرول کر کے بیٹھی تھیں ۔۔۔کیونکہ انہیں اپنے بچے ہوئے خاندان کو بھی سنبھالنا تھا ۔۔۔آخر گھر کی بڑی تھیں ۔۔۔اگر وہ ہی ہمت ہار جاتیں تو چھوٹوں کو کون سمجھاتا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
سم چھوڑیں مجھے نیچے اتاریں کوئی دیکھ لیں گا ۔۔۔۔
تو دیکھنے دو میں کسی سے ڈرتا ہوں کیا ؟؟؟؟ اسکی آنکھوں میں دیکھتےوہ تمسخرانہ لہجے میں بولا ۔۔۔۔
مجھے پتا ہے آپ کسی سے نہیں ڈرتے ۔۔۔۔لیکن کچھ تو شرم کریں ۔۔۔۔گھر میں بڑے بھی موجود ہیں ۔۔۔۔
شرم وہ کیا ہوتا ہے مسز ؟؟؟؟
واسم نے ایک پل کیلئے رک کر سوال کیا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھتے ابیہا نے اسے گھورا ۔۔۔لیکن اندر سے اسکے بدلے رنگ ڈھنگ دیکھ کر وہ کافی خوش بھی تھی ۔۔۔
کیونکہ اپنی پوری زندگی میں اس نے واسم شاہ کو اتنا خوش اور پرسکون کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
اچھا مجھے یہ تو بتا دیں کہ آپ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں ؟؟؟؟
ابیہا نے اسے سیڑھیوں سے نیچے اترتا دیکھ کر عاجزی سے سوال کیا۔۔۔۔
تمہیں بتایا تھا نا کہ گھر جانے پر تمہیں ایک سرپرائز دوں گا بس وہی دکھانے لے جا رہا ہوں ۔۔۔۔
واسم کے چہرے سے سچی خوشی جھلک رہی تھی جبکہ ہونٹوں پر خوبصورت مسکان تھی ۔۔۔۔
جسے دیکھ کر ابیہا نے دل میں ہی اسکی نظر اتاری تھی ۔۔۔
واسم شاہ کے قدم ارمغان شاہ کے کمرے کے باہر آ کر رکے تھے ۔۔۔۔اور اس نے ابیہا کو دھیرے سے بہت احتیاط کے ساتھ نیچے اتارا ۔۔۔۔
سرپرائز یہاں ہے کیا ؟؟؟؟؟
سامنے اپنے تایا سائیں کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ کر اس نے سوال کیا ۔۔۔
جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔
تو آپ یہ مجھے پہلے بھی بتا سکتے تھے میں آپکے ساتھ چل کر آ جاتی ،،،،، بھلا اس میں گود میں اٹھانے والی کونسی بات تھی ۔۔۔اگر گھر میں کوئی دیکھ لیتا تو کتنی شرمندگی اٹھانی پڑتی ۔۔۔۔
جبکہ اسکی سوئی وہی اٹکی دیکھ کر واسم نے گہرا سانس کھینچا تھا ۔۔۔۔کیونکہ فلحال آپکی جو کنڈیشن ہے ،،،، اس میں آپکو ایکسٹرا کیئر کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
کیا مطلب کونسی کنڈیشن ؟؟؟؟
ابیہا نے ناسمجھی سے سوال کیا تھا ۔۔۔۔
کچھ نہیں تمہیں گولی لگی تھی بس اسی کے بارے میں بات کر رہا تھا ۔۔۔بات کو گول مول گھماتے اس نے دروازے پر دستک دی تھی ۔۔۔
کیونکہ ابیہا کی پریگنیسی والی بات وہ اسے ایسے نہیں بتانا چاہتا ۔۔۔اس کیلئے اس نے کچھ سپیشل پلان کر رکھا تھا ۔۔۔۔
آ جائیں ۔۔۔
اندر سے نسوانی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔
جس پر واسم نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا ۔۔۔البتہ ابیہا اس آواز کو سنتے کچھ چونکی تھی ۔۔۔کیونکہ یہ کمرہ تو اسکی بڑی ماں کا تھا ۔۔۔لیکن یہ آواز انکی تو بالکل نہیں تھی ۔۔۔
آخر واسم اسے کس سے ملوانے لایا تھا ۔۔۔۔
تجسس کا شکار ہوتے اس نے قدم اندر کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔جہاں بیڈ پر تکیوں سہارے روباب آنکھیں موندے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
پھر واسم کو آتے دیکھ مسکراتی ہوئے سیدھی ہوئی ۔۔۔
واسم نے آگے بڑھ کر انکی پیشانی پر پیار کیا تھا ۔۔۔۔کیسی ہیں ماما ؟؟؟؟؟اب آپکی طبیعت کیسی ہے ؟؟؟؟
ساتھ ہی نرمی سے سوال کیا ۔۔۔۔
میں بالکل ٹھیک الحمدللہ ۔۔۔۔آپ کل سے کہاں غائب ہیں ۔۔۔میں نے کتنی بار غنی سے پوچھا ،،،، لیکن انہوں نے بولا ضروری کام سے گیا ہے ۔۔۔۔
انہیں اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بہت محبت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔آخر اتنے سالوں بعد اپنے بچے سے ملی تھیں اتنی جلدی ممتا کی پیاس تو نہیں بجھ سکتی تھی نا ۔۔۔۔
جبکہ انکی شکایت پر وہ دھیرے سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔
وہ میں آپکی بہو کو لینے گیا تھا ،،،، جسکی تھوڑی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہاسپٹل میں تھی ۔۔۔۔
نرمی سے کہتے اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔
جہاں ابیہا حیرت سے منہ کھولے معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
بیڈ پر براجمان ہستی کو دیکھتے زمین نے جیسے اسکے قدم جکڑ لیے تھے ۔۔۔۔کہ آیا وہ جو دیکھ رہی ہے وہ سچ میں حقیقت ہے ۔۔۔۔
روباب کو پہچاننا اس کیلئے کچھ مشکل تو نا تھا ۔۔۔۔آخر ساری زندگی اسی شکل کی تصویر کو سینے سے لگائے بڑی ہوئی ۔۔۔۔
جسے دیکھنے کے بعد اسے ایسا لگا جیسے اسکی اپنی ماما سامنے موجود ہو ۔۔۔لیکن واسم کا انہیں ماما پکارنا اور انکی آنکھوں کا رنگ دیکھتے اسے سمجھنے میں دیری نہیں لگی تھی ۔۔۔کہ یہ ہستی کون ہے ۔۔۔۔کیونکہ حیدر شاہ کی زبانی اسے اتنا تو پہلے ہی پتا چل چکا تھا ۔۔۔کہ اسکی ماما کی ایک بہن اور بھی تھی ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف واسم کے اشارے پر روباب نے بھی دروازے کی طرف دیکھا تھا اور اپنے ہی جیسے نین نقوش لیے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ کر انہیں پہنچاننے میں دیری نہیں لگی تھی ۔۔۔۔
جسکے بارے میں نجمہ بیگم اسے کل ہی بتا چکیں تھیں ۔۔۔۔
ابیہا ۔۔۔۔”
انہوں نے بہت محبت سے پکارتے اسے اپنے بلایا تھا ۔۔۔۔جبکہ حیرت کے پیش نظر وہ ابھی تک اپنی جگہ سٹل کھڑی تھی ۔۔۔۔
ابیہا “
جبکہ اسے اپنی جگہ سے ہلتے نا دیکھ واسم خود اٹھ کر اسکے قریب آیا تھا ۔۔۔۔
شاید وہ اسکی حالت سمجھ رہا تھا اس لیے نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔
سم یہ “
اس نے حیرت سے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
میری ماما اور تمہاری آنی ۔۔۔۔ابیہا کی آنکھوں سے آنسو چھلکے ۔۔۔۔
ابیہا کیلئے یقین کر پانا بہت مشکل تھا اس نے ایک بار پھر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔
واسم اسکا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ پر روباب کے قریب لے کر آیا تھا ۔۔۔جس نے بہت محبت سے اس کیلئے بانہیں پھیلائی ۔۔۔۔
جن میں سماتے ہی ابیہا نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
بس میری بچی ۔۔۔۔
اسکا خوبصورت چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بہت محبت سے چوما تھا ۔۔۔جس پر ایک خوبصورت مسکان نے ابیہا کے ہونٹوں کا احاطہ کیا ۔۔۔۔
مجھے تو ابھی تک یقین ہی نہیں آ رہا ۔۔۔آپ تو بالکل ماما جیسے ہو ۔۔۔ایسا لگ رہا جیسے وہی میرے سامنے بیٹھی ہیں ۔۔۔۔
روباب سے الگ ہو کر نم لہجے میں بولی ۔۔۔۔جس پر انہوں نے ایک بار پھر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
جس سے ایک سکون سا ابیہا کو اپنے رگ و جان میں اترتا محسوس ہوا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
رات کے تقریبا دو بجے کے قریب اس نے حویلی میں اپنے قدم رکھے ۔۔۔پچھلے دو دنوں میں کیس کی ساری ڈیٹیلز اور ادھوری کاروائیوں کو مکمل کرتے سارے ثبوت اپنے سینئرز کو ہینڈاوور کرنے کے چکر میں اسے ایک پل کیلئے سر کھجانے کا وقت بھی نہیں ملا تھا ۔۔۔۔
جس کے چلتے روباب کو گھر چھوڑنے کے بعد سے ہی وہ حویلی سے غائب تھا ۔۔۔۔
وہ جو روباب سے ملنے اور اس سے ڈھیر ساری باتیں کرنے کا ارادہ رکھتا ،،،، اس نے گھڑی میں وقت کو دیکھتے نفی میں سر ہلایا اور پھر ان سے صبح ملنے کا فیصلہ کرتے قدم اندر کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔
جب حویلی کے مین دروازے کے قریب پہنچتے اسے کسی کی مدہم سسکیوں کی آواز سنائی دی تھی ۔۔۔۔
اس نے حیرت سے پیچھے مڑتے آس پاس نظر دوڑائی لیکن کوئی دکھائی نہیں دیا ۔۔۔لیکن رونے کی ابھی تک آ رہی تھی ۔۔۔۔جو شاید حویلی کے دائیں طرف بنے لان سے آ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے اندر جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے ۔۔۔۔قدم اس طرف بڑھائے ۔۔۔۔
حویلی کے دائیں طرف بنے گازیبو میں جہاں ڈھیر سارے پھولوں کے درمیان خوبصورت جھولا رکھا تھا ۔۔۔۔اس جھولے پر سفید کپڑوں ملبوس زرمینے چہرہ گھٹنوں میں چھپائے سسکیوں کے ساتھ روتی اپنی قسمت کا ماتم منا رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ اس نے اپنے لمبے خوبصورت بالوں کو کھول رکھا تھا ۔۔۔۔جنہوں نے اسکی پشت کے ساتھ پورے وجود کو چھپایا ہوا تھا ۔۔۔۔
اسکا سفید دوپٹہ آدھا اسکے کندھے پر جبکہ آدھا جھولے سے نیچے لٹک رہا تھا ۔۔۔۔
اوپر سے ماحول میں پھیلی مختلف پھولوں کے ساتھ رات کی رانی کی خوشبو نے عجیب سما باندھا ہوا تھا جسکی وجہ سے پہلی نظر دیکھنے پر اس پر کسی آتما کا گھمان ہوتا تھا ۔۔۔۔
کہ اچھا بھلا انسان ڈر جائے ۔۔۔۔
لیکن چہرہ چھپا ہونے کے باوجود اسکے نازک وجود کو دیکھتے زارون پہلی نظر میں ہی اسے پہچان چکا تھا ۔۔۔
رات کے اس پہر اسے یوں اکیلے میں روتے دیکھ کر اسکا دل پسیجا ۔۔۔جس پر ناچاہتے ہوئے بھی وہ قدم اسکی طرف بڑھاتے قریب آ کر رکا ۔۔۔۔
جبکہ قدموں کے چاپ کی آواز اور کسی کو اپنے قریب آ کر رکتے محسوس کرتے زرمینے نے اپنا چہرہ اٹھایا تھا ۔۔۔
جو کہ مکمل آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔
اور اپنے سامنے زارون شاہ کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔پہلے تو اس کے چہرے پر بےساختہ ہی ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ ایکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ،،،، اور اس سے پہلے وہ اسکے سینے کا حصہ بنتی ،،،، یکدم اسکے کانوں میں زارون کے زہریلے جملے گونجے اور ساتھ ہی اسے اپنے ساتھ کیے جانے والا سلوک یاد آیا ۔۔۔۔اپنے بچے کو کھونے کا درد ،،،، زارون کے ہاتھوں ہونے والی تذلیل یاد آئی ۔۔۔۔
جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔اور اسکی سائڈ سے نکلتی ہوئی تیز قدموں سے حویلی کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
دوسری طرف زارون جو سب کچھ بھولا کر اسکی حالت کو دیکھتے اسے اپنے سینے سے لگانے لگا تھا ۔۔۔اسکے یکدم بدلتے چہرے کے تاثرات اور پھر اگنور کر کے بھاگنے پر پرسوچ نظروں سے اسکی پشت کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
زرمینے نے بھاگ کر اپنے کمرے میں آتے دروازے کو لاک لگایا اور اسکے ساتھ پشت ٹکا کر زمین پر بیٹھتی ہوئی ۔۔۔۔اونچی آواز میں رونے لگی ۔۔۔۔۔
اسے تو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس کس چیز کا غم منائے ۔۔۔۔اپنے باپ جس نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کر لی تھی اور ساتھ ساتھ اسکی اور اسکی ماں کی بھی ،،،،، جسکی سزا انہوں نے ساری زندگی دوسروں کی حقارت بھری نظریں جھیلتے بھگتنی تھی ،،،،، اپنے ہونے والے بچے کا جسکی جان اسکے خود کے باپ نے ہی اپنے غصے اور انتقام کی نظر کر دی ،،،،، یا پھر اپنی محبت کا جسکا گلا اسکی اوقات یاد دلاتے بہت بےدردی سے گھونٹا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ تو خود پر بھی حیران تھی کہ اتنا کچھ جھیلنے کے باوجود وہ اب تک زندہ کیسے تھی ۔۔۔۔اسے تو کب کا مر جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔
اگر خودکشی حرام نا ہوتی تو وہ کبھی اپنی جان دینے سے گزیر بھی نا کرتی ۔۔۔۔
کیونکہ جیسی زندگی وہ اس وقت گزار رہی تھی اس سے تو کئی گنا بہتر موت تھی ۔۔۔۔
