Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 49)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 49)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
واسم ابیہا سپیشل ![]()
![]()
موسم کی خرابی کی وجہ سے اسے گھر واپس آتے کافی دیر ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
اور ایسے حالات میں جب ابیہا بالکل اکیلی تھی اسے اسکی فکر ستانے لگی ۔۔۔۔
موسم کے تیور تو صبح سے ہی خراب تھے گھنے کالے بادلوں کے ساتھ چلتی ٹھنڈی یک بستہ ہواؤں اور وقفے وقفے سے ہوتی سنو فال نے سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ۔۔۔۔۔
لیکن شام ہوتے ہی دھیمی چلتی ہواؤں نے زور پکڑا تھا اور شدید طوفان کا رخ اختیار کر گئی تھیں ۔۔۔۔۔
جس کے پیشے نظر اڑان بھرنے والی تمام پروازوں کو فلحال روک دیا گیا تھا ۔۔۔۔
واسم کا پی اے جو میٹنگ ختم ہوتے ہی واپس پاکستان کیلئے روانہ ہونے والا تھا ،،،، مجبوری میں یہی پھنس کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
ہوٹل سے نکلتے وقت شدید برف باری کو دیکھتے ہوئے ،،،، اس نے واسم کو بھی وہی رکنے کی تجویز دی تھی لیکن وہ کسی صورت بھی ایسے حالات میں ابیہا کو وہاں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔۔
اس لیے اس کے روکنے کے باوجود بھی گاڑی لے کر نکل آیا ۔۔۔۔
راستے میں اسکا کتنی بار ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا ،،،،، ایک تو چاروں طرف دھند کے بادل اوپر سے شدید تیز ہوا اور بارش کے ساتھ برستی برف نے تمام راستے بلاک کر دیئے گئے تھے ۔۔۔۔۔
اور جس جگہ پر انکا کاٹیج تھا ،،،،،، اس طرف جاتے راستے میں لینڈ سلائنڈنگ ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
ایک پہاڑ کے اوپر سے برف کا بڑا تودہ سڑک کے بیچو بیچ گرتا راستہ مکمل بلاک کر گیا تھا ۔۔۔۔ جسکی وجہ سے گاڑی آگے نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔۔۔
وہ گاڑی وہی چھوڑ کر جنگل کے راستے بمشکل کاٹیج تک پہنچا ،،،،، مائنس ڈگری سے بھی کئی پوائنٹ نیچے پہنچے ٹمپریچر نے اسکی کلفی جما دی تھی ۔۔۔۔۔
وہ تو شکر تھا کہ اس نے رین کوٹ پہن رکھا تھا ،،،،، ورنہ ابھی تک تو مکمل بھیگ چکا ہوتا ۔۔۔۔۔
لیکن گھر پہنچتے ہی جس چیز نے واسم کو ٹھٹھکنے پر مجبور کیا تھا وہ تھا کاٹیج کا کھلا ہوا دروازہ ،،،،، ابیہا اتنی لاپرواہ تو بالکل نہیں تھی کہ یوں اس طوفان میں گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتی ۔۔۔۔
اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا ۔۔۔۔۔ اور وہ اپنے قدموں میں تیزی لاتا جلدی سے اندر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
ابیہا “
وہ اسے پکارتے کمرے کی طرف بڑھا ،،،،، جسے خالی پا کر اس نے واشروم کا دروازہ ناک کیا ۔۔۔۔
ابیہا تم اندر ہو ۔۔۔۔
لیکن جواب ندارد ،،،، اس نے جھجھکتے ہوئے واشروم کا بند دروازہ کھولا ۔۔۔۔لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔
اب اصل طریقے سے اسکے اوسان خطا ہوئے تھے ۔۔۔۔
وہ اسے ایک جھٹکے سے بند کرتا باہر کی طرف بڑھا جب راستے سے گزرتے کچھ دیکھ کر ٹھٹھکا ۔۔۔۔
اوپن کچن میں رکھے ڈائنگ ٹیبل کے فرش پر دودھ گرا ہوا تھا ،،،،،،
ٹوٹے ہوئے گلاس کے کانچ کے ٹکڑے ۔۔۔۔
ساتھ ہی زمین پر ایک طرف ابیہا کا موبائل پڑا تھا ۔۔۔۔
واسم نے آگے بڑھ کر وہ فون اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔
اسکی پہلی نظر کال ہسٹری پر پڑی ،،،،،، یہ نمبر تو معروف کا ” مطلب ضرور اس نے ابیہا کو کوئی الٹی سیدھی بات کہی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر یقین کرتے اس نے ایسا ری ایکشن دیا ،،،،، اور گھر چھوڑ کر چلی گئی بیوقوف لڑکی “
لیکن ابھی ٹائم زیادہ نہیں ہوا تھا ،،،،، کال بند ہوئے ابھی تقریبا پچیس منٹ ہی ہوئے تھے ،،،،،، اور جتنا باہر شدید طوفان تھا اس میں وہ زیادہ دور نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔۔۔
فون وہی ٹیبل پر رکھتے اس نے باہر کی طرف دوڑ لگائی ۔۔۔۔۔
لیکن اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کس طرف جائے ،،،،، ابیہا کس طرف گئی ہوگی ۔۔۔۔۔
اسے تو یہاں کہ راستوں کا بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن پھر اسکی نظر برف پر بنے مٹے مٹے پاؤں کے نشان پر پڑی جو سامنے کی طرف جا رہے تھے ۔۔۔۔۔
اور اس طرف تو پہاڑوں کے درمیان میں گزرتے آبشاروں کی ندی بہتی تھی جو فلحال برف سے پوری طرح ڈھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ کہ غور سے دیکھنے پر بھی پتا نا چلے زمین کہاں پر ہے اور پانی کہاں پر ۔۔۔۔
اور اس موسم میں اس میں گرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا ۔۔۔۔
ابیہا یہ سوچ آتے اسکا دل بری طرح دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔ اور واسم نے اس طرف دوڑ لگائی ۔۔۔۔۔
ابیہا “
اسکی آواز چاروں طرف کھڑے بڑے بڑے پہاڑوں سے ٹکراتی پوری وادی میں گونجی ۔۔۔۔۔
ابیہا “
وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے مسلسل ساتھ پکار بھی رہا تھا ۔۔۔۔۔
دوسری طرف بیا اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ بنا آگے پیچھے دیکھے بس ایک طرف چلی جا رہی تھی ،،،،، اسے نہیں پتا تھا کہ یہ راستہ کس طرف جاتا تھا ۔۔۔۔
وہ بس اس بےوفا انسان سے دور بہت دور چلی جانا چاہتی تھی یہاں اسکی پرچھائی تک بھی اس تک نا پہنچ پاتی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ نہیں جانتی تھی وہ جس طرف قدم بڑھا رہی ہے وہ راستہ اسے موت کے قریب لیجا رہا ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس وقت پانی کے اوپر جمی برف کی پرت پر چل رہی تھی ۔۔۔۔
بھلے ہی ندی کے اوپر برف کی سخت پرت جم چکی تھی لیکن کسی کسی جگہ پر وہ بالکل کچی تھی اور ابیہا کا ایک غلط قدم اسے ٹھنڈے یک گہرے پانیوں کے کالے اندھیروں میں لے جاتا ۔۔۔۔۔
یہاں سے واپس آ پانا تقریبا نامکمن ہی ہوتا ۔۔۔۔۔
اور ہوا بھی وہی تھا اس نے بےدھیانی میں قدم آگے بڑھایا اور اسکا وزن پڑتے ہی برف درمیان سے ٹوٹی جس پر وہ خود کو سنبھال نہیں پائی اور سیدھا پانی میں گری ۔۔۔۔۔۔
ایک زور دار چیخ اسکے منہ سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔ اور پہاڑوں میں گونجی ۔۔۔۔
جو اس سے کچھ دوری پر موجود واسم نے صاف سنی ۔۔۔۔
ابیہا “
وہ اور تیزی سے اس طرف بھاگا جس طرف سے آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔
ابیہا کیلئے اتنے ٹھنڈے پانی میں سانس لینا مشکل ہو گیا تھا ،،،،، اسکے ہاتھ پاؤں تقریبا جم کر نکارہ ہو چکے تھے ،،،،،، اوپر سے پانی ٹھنڈا ہونے کے ساتھ بہت گہرا تھا اور وہ اس میں ڈوبتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
آخر وہی ہوا تھا جسکا اسے ڈر تھا ابیہا ندی کے گہرے پانی میں گر گئی تھی جس میں بنا کسی تیاری کے جانا تقریبا موت کے منہ میں جانے کے مترادف تھا ۔۔۔۔۔
لیکن وہ اسے چھوڑ بھی تو نہیں سکتا تھا اس لیے اپنا بھاری کوٹ اتار کر وہاں زمین پر رکھتا بنا سوچے سمجھے خود بھی پانی میں اتر گیا ۔۔۔۔۔
لیکن اس گہرے اندھیرے میں اسے کچھ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔
وہ مہارت سے تیرتا آس پاس اسے ڈھونڈھنے لگا تھا ،،،،، جب اسے نیچے گہرائی کی طرف ابیہا کے دوپٹے کی ایک جھلک دکھائی دی ۔۔۔۔۔۔
اور وہ تیزی سے اس طرف بڑھا ،،،،، جہاں ابیہا نیم بیہوش سی پانی ڈوبتی جا رہی تھی واسم نے اپنی رفتار تیز کرتے اسے دونوں ہاتھوں سے تھاما ۔۔۔۔۔
اور اسے سینے میں بھینچتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھا ،،،،،، اتنے ٹھنڈے پانی میں آہستہ آہستہ اسکا وجود بھی ساتھ چھوڑتا جا رہا تھا ،،،، لیکن اپنی ول پاور کے دم پر اس نے کوشش جاری رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ اسے لے کر اوپر آیا ،،،،، لیکن وہاں تو برف کی چھت بنی ہوئی ،،،،، اس نے ہاتھ لگا کر چیک کیا تو وہ بہت سخت تھی ،،،،، وہ اسے لے کر دوسری طرف بڑھا لیکن ہر طرف یہی حال تھا ۔۔۔۔۔
اب تو واسم کا اپنا سانس بھی ٹوٹنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ اور اگر تھوڑی دیر وہ اس پانی میں رہ جاتے تو یقینا ان دونوں نے مکمل جم کر اسی پانی میں دفن ہو جانا تھا ۔۔۔۔۔
اور انکے گھر والوں کو کبھی پتا نا چلتا کہ وہ کہاں گئے ۔۔۔۔۔
اس نے بےساختہ ہی دل میں اپنے رب کو پکارا تھا ،،،،، اور ستر ماوں سے زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرنے والا رب مشکل گھڑی میں انہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔۔۔
اچانک ہی اسکی نظر ایک طرف پانی میں تیرتی ہوئی کسی چیز پر پڑی جسکا باقی کا حصہ پانی سے باہر تھا ۔۔۔۔
مطلب وہاں باہر جانے کا راستہ تھا ۔۔۔
وہ اللہ کا شکر ادا کرتا تیزی سے اس طرف بڑھا ،،،،،، اور پانی سے باہر سر نکالتے ہی گہرا سانس لیا جو بری طرح پھول چکا تھا ۔۔۔۔۔
ابیہا کو باہر برف پر منتقل کرتے خود باہر نکلا ۔۔۔۔۔
پانی میں تیرتی ہوئی چیز کچھ اور نہیں بلکہ اسکے ہی کوٹ کا ایک بازو تھا جو جلد بازی میں اتار کر اس نے پھینکا تھا ۔۔۔۔
ایک نظر اسے دیکھ کر اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرایا ۔۔۔۔۔
پھر ابیہا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔
جو ان سب کے دوران مکمل نیلی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
ابیہا “
اس نے اسکا چہرہ تھپتھپایا ۔۔۔۔۔
اس نے ابیہا کے ناک کے قریب ہاتھ کرکے سانسیں چیک کرنی چاہی لیکن اسے کچھ محسوس نا ہوا ۔۔۔۔۔
واسم نے اسکے پیٹ پر دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈالتے ہوئے پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگا ،،،،، لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا ۔۔۔۔۔
اینڈ کوئی اور راستہ دکھائی نا دیتے ،،،،، اسکے لبوں کو کھولتے ہوئے اسے مصنوعی سانسیں دینے لگا ۔۔۔۔۔
اور لگاتار دو چار مرتبہ یہ عمل دوہرانے سے اسکی کوشش رنگ لائی تھی ،،،،، اسکے وجود نے ایک جھٹکا کھاتے گہرا سانس بھرا اور ساتھ ہی اسکے منہ سے پانی نکلا تھا ۔۔۔۔
لیکن اسکی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں ۔۔۔۔
لیکن واسم کیلئے یہی بہت تھا کہ وہ اب سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔
اپنا کوٹ اسے پہنا کر اسکے نازک وجود کو بانہوں میں بھرتے وہ تیزی سے کاٹیج کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اسے کاٹیج میں لانے تک اسکی اپنی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
یہ تو ابیہا کو لے کر بھاگنے کی وجہ سے خون کی روانی میں جو گردش تھی اسکی گرمائش اور کچھ اسکی ول پاور نے اسے گھر تک پہنچا دیا ،،،،، ورنہ باہر جو حالات تھے دونوں کہیں برف پڑے اب تک جم چکے ہوتے ۔۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے وہ سیدھا اسے کمرے میں لایا اور بیڈ پر ڈالتے گرم لحاف سے اچھے سے کور کرتا کاٹیج کا دروازہ کرتا اندر آ کر کمرے کی کھڑکیوں کو بند کرتے ہیٹر آن کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس سے دھیرے دھیرے روم کا ٹمپریچر معمول پر آنے لگا ۔۔۔۔۔
واسم نے اپنے سن ہوتے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر کھولیں ،،،،، پاؤں میں پہنے گیلے شوز اتار کر ایک طرف رکھے اور اپنی گیلی شرٹ اتار کر پھینکتے قدم اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔۔۔
واسم نے لحاف میں دبکے اسکے نرم وجود کو دیکھا جو اب بھی بالکل بےحس و حرکت پڑی تھی ۔۔۔۔۔
بلکہ اب تو چہرہ سردی کی وجہ سے پہلے سے زیادہ نیلا ہو رہا تھا ،،،،، جسے دیکھ کر وہ پریشان ہوا ،،،،، پھر اسکے سرہانے بیٹھتے کمفرٹ سے اسکا ہاتھ نکالتے اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر مساج کرنے لگا ۔۔۔۔۔
دونوں ہاتھوں کے ساتھ پاؤں پر یہ عمل دوہرانے کے باوجود اسکی حالت میں کوئی سدھار نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔
واسم کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اب کیا کرے ،،،،،، باہر جتنا موسم خراب تھا وہ اسے ہاسپٹل بھی نہیں لے کر جا سکتا ،،،،، اور راستے بند ہونے کی وجہ سے نا ہی کسی کو اپنی مدد کیلئے یہاں بلا سکتا تھا ۔۔۔۔۔
اور ایک ابیہا کی حالت تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ بگڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔اسے فوری علاج کی سخت ضرورت تھی ۔۔۔۔۔
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا جب اسکی توجہ اسکے وجود پر موجود بھیگے کپڑوں کی طرف گئی ۔۔۔۔۔ اسے تو گرمائش کی ضرورت تھی اور ایسے تو ” اسکے دماغ میں کچھ کلک ہوا ،،،،،، لیکن وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی ،،،،،
کہیں اسے ایسا نا لگے کے میں نے بیہوشی میں اسکا فائدہ اٹھایا ،،،،،
خود سے بڑبڑایا “
وہ تو پہلے ہی ناراض تھی ،،،،، لیکن اس وقت اسے بچانا سب سے زیادہ ضروری تھا ایک نتیجے پر پہنچتے وہ اسکے قریب بیڈ پر آ کر لیٹا ،،،،، اور لحاف اسکے وجود سے سرکاتے اپنے پہنائے ہوئے کوٹ کے بٹن کھولیں ۔۔۔۔۔
اسے اتار کر زمین پر پھینکتے ،،،،،، اس نے اپنی اوشن بلو آئز اسکے چہرے پر ٹکائیں ،،،،،
ابیہا “
اسکے گال کو نرمی سے سہلاتے ہوئے پکارا ،،،،،، کیونکہ وہ اسکی مرضی کے بغیر اسے نہیں چھونا چاہتا تھا ۔۔۔۔
لیکن جواب ندارد “
واسم نے گہرا سانس کھینچتے کمرے میں جلتی مین لائٹ بجھا کر چھوٹا بلب روشن کیا ،،،،۔ نیم اندھیرے میں اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتے آخری فیصلہ لیتا نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبا کر دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔۔۔
بہت نرمی سے اسے اوپر اٹھاتے کمر سے ڈریس کی زیپ کھولتے کندھے سے شرٹ سرکائی تھی ۔۔۔۔۔ اور دونوں پر بلینکٹ ڈالتے ہوئے دھیرے سے اس پر جھکتے ہوئے نرمی سے اسے چھونے لگا ۔۔۔۔۔
کمرے میں معنی خیز سے خاموشی کا راج تھا جس میں واسم شاہ کی تیز دھڑکنوں کے ساتھ دوسرے وجود کی دھیمی چلتی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
جن میں آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے روانی آتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
جسے محسوس کر کے واسم کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔
چند لمحے پہلے جو وجود سردی سے نیلا ہوا پڑا تھا اب اسکی قربت کی وجہ دہکنے لگا تھا ،،،،،، جسکی دلکشی اسے مزید بہکا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ خود پر ضبط کا خواہاں تھا ،،،،،، اسکی رعنائیوں میں کھوتے حدیں پھلانگنے لگا ۔۔۔۔۔
ابیہا کا سن ہوا دماغ آہستہ آہستہ ہوش کی دنیا میں قدم رکھنے لگا تھا ،،،،، اسے کسی لڑکی کا فون آنا واسم شاہ کی اصل حقیقت اسکا غصے سے گھر سے باہر نکلنا پھر پانی میں گرنا ،،،،، گہرا ٹھنڈا پانی گھپ اندھیرہ ،،،،، اسکا سانسوں کیلئے مچلنا تڑپنا ۔۔۔۔۔
سب واقعات باری باری آنکھوں کے پردے پر لہرائے ،،،،، جس سے خوف کھاتے اس نے ایک جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔
جو سیدھا نیم اندھیرے میں نظر آتی لکڑی کی چھت پر پڑی ،،،،، میں یہاں کیسے آئی ؟؟؟؟؟
دھیرے سے لب پھڑپھڑائے “
دوسری طرف واسم جو اس کا ہوش میں آنا محسوس کر چکا اسکی گردن کو نرمی سے چھوتے ہوئے ٹھوڑی پر لب رکھتا چہرے کی طرف آیا ۔۔۔۔۔
نیلی گہرے سمندر جیسی جذبات سے سرخ ہوئی آنکھیں ،،،،، اسکی سنہری آنکھوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔
جن میں اسے اپنے اتنے دیکھتے ہی شدید ناگواری اتر آئی تھی ۔۔۔۔۔
ابیہا نے اپنے دونوں ہاتھوں کا استعمال کرتے اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا ،،،،، جس میں وہ کامیاب نا ہو سکی ۔۔۔۔
البتہ اسے شرٹ لیس دیکھ کر اپنی پوزیشن کا ادراک شدت سے ہوا ،،،،، ایک نظر اپنی حالت پر ڈالتے دوسری نفرت بھری نظر اس پر ڈالی ۔۔۔۔۔
جو اسکے ہی چہرے کے پل میں بدلتے تاثرات غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور واپس جاتے ہی اس معروف کو اچھا سبق سکھانے کا دل میں پکا ارادہ باندھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
ابیہا نے سرخ چہرے کے ساتھ خود پر کمفرٹ لیتے جیسے خود کو چھپانا چاہا ،،،،، جسے دیکھتے واسم کو شرارت سوجھی تھی ۔۔۔۔۔
اب کیا فائدہ اب تو میں نے دیکھ لیا ۔۔۔۔
اسکے کان کے قریب جھکتے گھمبیرتا سے بولا ،،،،،، اسکی بےباک سرگوشی پر ابیہا کو شرم سے اپنے کانوں سے دھواں نکلتا ہوا محسوس ہوا ،،،،،
اور ساتھ ہی دل میں پلتی اسکی نفرت میں مزید اضافہ بھی ۔۔۔۔۔
بہت خوش ہیں کسی کی بےبسی کا فائدہ اٹھا کر ،،،،، آپ سے اور امید بھی کیا کی جا سکتی ہے ،،،،،، آپ جیسے لوگ تو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ،،،،، کہ کوئی بےبس لڑکی آپکے ہاتھ آئے جسکا فائدہ اٹھاتے آپ اپنی حوس پوری کر سکیں ۔۔۔۔۔۔
وہ جلتے دل کے ساتھ زہر خند لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ تلملا کر رہ گیا ،،،،،،
تم ہوش میں تو ہو ،،،،،، جانتی ہو کونسی بکواس کس کے سامنے کر رہی ہو ۔۔۔۔۔
اسکے چہرے کو غصے سے ایک ہاتھ میں دبوچتے دھاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
ابیہا نے نظریں اٹھا کر نفرت آمیز نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
بالکل ہوش میں ہوں ،،،،، حقیقت بیان کی ہے ،،،،، جو آپ سے برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی دوبدو چیختے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔۔
جسے سن غصے کی زیادتی سے واسم کی آنکھوں میں شرارے پھوٹنے لگے ۔۔۔۔۔
تم نے صرف نام سنا ہے آج میں تمہیں بتاؤں گا حوس پوری کرنا کسے کہتے ہیں ،،،،،، وہ غصے سے کہتا یکدم ہی اسکی گردن میں جھکا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہاں ہونٹوں کی جگہ سختی سے اپنے دانت گاڑے ۔۔۔۔۔
جسکی تکلیف سے ابیہا تڑپ اٹھی ،،،،، اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا ،،،،،، لیکن بدلے میں واسم نے اپنی پکڑ اور مظبوط کی تھی ۔۔۔۔۔
ابیہا کو شدید تکلیف کے احساس سے اپنے وجود سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے ۔۔۔۔۔
جبکہ اسے روتے ہوئے محسوس کرکے اس نے اسکی گردن سے چہرہ اٹھایا تھا ،،،،، یہ اس تکلیف کا ایک فیصد بھی نہیں تھا جو معصوم لڑکیاں حوس کے نام پر اپنے وجود پر سہتی ہیں ۔۔۔۔۔
اور تمہاری اتنے میں ہی بس ہو گئی ،،،،، میں چاہوں تو اسی وقت تمہارے نازک وجود کا وہ حال کروں کہ تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نا رہو ۔۔۔۔
اسکی نم آنکھوں میں اپنی غصے سے سرخ ہوئی آنکھیں گاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
اور کونسے فائدے اٹھانے کی بات کر رہی ہو ،،،،،، یہاں تک میں جانتا ہوں تم پر تمہارے اس وجود پر حتی کہ تمہاری چلتی ان سانسوں پر بھی مکمل حق رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔
اور یہ حق مجھے میرے خدا نے دیا ہے ،،،،، اور میں جب چاہوں جیسے چاہوں اسے وصول سکتا ہوں ۔۔۔۔۔
دنیا کی کوئی طاقت کوئی عدالت مجھے میرا حق لینے سے نہیں روک سکتی حتی کہ تم بھی نہیں ،،،،،، تو پھر کس بنا پر مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا رہی ہو ۔۔۔۔
موقع سے فائدہ اٹھانے والا اور حوس پرست کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔
اگر میں نے تمہارا فائدہ ہی اٹھانا ہوتا تو شادی کے بعد سے اب تک کتنے مواقعے تھے میرے پاس تب کیوں نہیں میں نے تمہارا فائدہ اٹھایا ۔۔۔۔۔
اور کل رات کی ہی بات لے لو جب تم مجھے خود روک رہی تھی ،،،،، اگر میں اتنا ہی حوس اور موقع پرست ہوتا تو کبھی تمہیں چھوڑ کر نا جاتا ۔۔۔۔۔
اس نے طنزیہ کہتے ابیہا کو جیسے آئینہ دکھایا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہو کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
جب وہ اسکی جھکی نظروں کو دیکھ کر اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
مانتی ہوں آپ نے میرا فائدہ نہیں اٹھایا ،،،،،، اور یہ بھی کہ آپکا مجھ پر حق ہے ،،،،، آپکی سبھی باتیں ٹھیک ہیں ،،،،، لیکن میرے حق کا کیا جس میں آپ نے خیانت کی ہے ۔۔۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے نم لہجے میں بولی ۔۔۔۔
