Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 10)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

وہ جب اندر کمرے میں داخل ہوا تو ابرش پورے بیڈ پر کتابیں پھیلائے پڑھنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔ لیکن اسے آتے دیکھ سب کچھ چھوڑ کر اٹھتے ،،،، دوپٹہ جو گلے میں جھول رہا تھا اسے سر پر سہی سے اوڑھتے اسے سلام کیا تھا ۔۔۔

وعلیکم السلام کیا کر رہا تھا میرا بچہ ،،،، آگے بڑھ کر اس کی صبیح پیشانی پر بوسہ دیتے پیار سے پوچھا تھا ۔۔۔

کچھ نہیں لالا بس وہ میرے ایگزیمز ہیں نا تو بس انہی کی تیاری کر رہی تھی ۔۔۔لیکن نا مجھے کچھ سوال سمجھ نہیں آ رہے تھے تو اس لیے بیا کو بلا کر لائی تھی ۔۔۔

وہ مجھے سمجھا کر گئی ہیں ابھی ،،،، لیکن اینڈ والے کی ابھی بھی سہی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔اس نے اسے اپنی مشکل بتائی تھی ۔۔۔

کوئی بات نہیں گڑیا ،،،، وہ میں آپ کو سمجھا دوں گا ۔۔۔۔پہلے ذرا فریش ہو لوں ،،،، ٹھیک ہے ،،،، اوکے لالا ٹھیک ہے آپ بیٹھ کر پڑھو میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں ،،،،

اسکی گال کو پیار سے تھپتھپاتے ابھی جانے لگا تھا جب اس نے پیچھے سے آواز دی تھی ۔۔۔

لالا کیا آپ میرے ساتھ ساتھ زرمینے کو بھی پڑھا دیں گے میں وعدہ کرتی ہوں وہ آپکو بالکل بھی تنگ نہیں کرے گی ۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتا اپنے بھائی کی نیچر سمجھتے ہوئے پہلے ہی بات کلیر کرتے بولی ،،،، جبکہ اسکی جلد بازی پر وہ دھیرے سے مسکرایا تھا ۔۔ ٹھیک ہے اسے بھی بلا لو ۔۔۔اتنا کہتے ہی وہ فریش ہونے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

جبکہ پیچھے وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ۔۔۔۔

*********

ضارب شاہ کے معاملے کو لے کر میڈیا نے تہلکہ مچایا ہوا تھا ،،،، شہر کے کئی مشہور ادراے اور این جی اوز جو غریبوں کی مدد کیلئے بنائے گئے تھے ۔۔۔

ضارب کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔۔۔اور انہیں اتنا حوصلہ ضارب شاہ کی مسلسل خاموشی اور واسم شاہ کے صاف جواب نے دیا تھا ۔۔۔۔

طرح طرح کے لوگ مختلف بولیاں بول رہے تھے ،،،، جبکہ اپوزیشن کو تو موقع مل گیا تھا ۔۔۔۔ اس کے خلاف بولنے کا ،،،،، انہیں جو سیٹ ضارب شاہ کے پیچھے ینگ جنریشن کا کریز دیکھ کر ہاتھ سے جاتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔

اس معاملے کی وجہ سے اور چند مشہور لوگوں کے اسکے خلاف ہو جانے پر بازی پھر اپنی طرف پلٹنے کی کوشش کرتے باری باری بیانات جاری کر رہے تھے ۔۔۔۔

ایک نے تو اس حد تک کہہ دیا کہ اپنا اصل چہرہ دنیا کہ سامنے آ جانے کی وجہ سے اور اپنے احتساب کے ڈر سے منہ چھپا کر کہیں بھاگ گیا ہے ۔۔۔۔

اور اسکے رشتے دار بھی اسکے اصل روپ سے واقف تھے ۔۔۔ اس لیے انہوں نے اسکی زمانت اٹھانے سے انکار کر دیا ہے ۔۔۔۔

یعنی کہ جن کی کل تک اس کے سامنے نظر اٹھانے کی اوقات بھی نہیں تھی ،،،،آج اسکی ذات پر باتیں بنا رہے تھے ۔۔۔۔

جس کی خبر دادا سائیں تک بھی پہنچ گئی تھی ۔۔۔لیکن انہیں اس بات کی زیادہ ٹینشن نہیں تھی کیونکہ انہیں پتا تھا انکا پوتا سب کچھ سنبھال لے گا ۔۔۔

اصل مسئلہ تو یہ تھا کہ انکا ضارب سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔۔

اوپر سے خان کا نمبر بھی بند آ رہا تھا جسکی وجہ انہیں ضارب کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔۔صبح سے شام ہونے کو آئی تھی لیکن ضارب شاہ کا کوئی اتا پتا معلوم نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔۔

جس کے چلتے دادا سائیں ارمغان شاہ کو اپنے ساتھ لیتے شہر کیلئے روانہ ہوئے تھے ۔۔۔۔

ارمغان شاہ جو واسم کی اس حرکت سے سخت برہم تھے ۔۔۔۔اور اس کے حویلی پہنچنے کی خبر بھی ان تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔

لیکن ابھی انکے پاس وقت نہیں تھا اس لیے اس سے بعد میں باز پرس کرنے کا سوچتے حیدر شاہ کے ساتھ شہر جانا مناسب سمجھا ۔۔۔

کیونکہ فلحال ضارب کے پاس پہنچنا زیادہ ضروری تھا ۔۔۔۔۔

**********

ضارب اپنے کمرے میں صوفے پر سگریٹ سلگائے بیٹھا اطمینان سے ایل سی ڈی پر چلتا منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جبکہ پاس ہی دائیں طرف خان ہاتھ باندھے کھڑا اس کے اگلے حکم کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

پارٹی آفس سے نکلتے ہی ضارب نے خان کو اس چینل کا پتا لگانے کا بولا تھا جس نے سب سے پہلے یہ خبر نشر کی تھی ۔۔۔۔

جس پر سر ہلاتے فورا حکم کی تکمیل کرتے ہوئے صرف دو گھنٹے کے اندر ہی سب کچھ پتا لگاتے ہوئے اس نے اس اینکر کو بھی اٹھوا لیا تھا جو یہ ویڈیو لے کر آیا تھا ۔۔۔۔

اور اپنے بندوں سے اس کی درگت بنواتے اس سے سچ بھی اگلوا رہا تھا جسے ضارب لائیو دیکھ رہا تھا اور ساتھ یہ ویڈیو ریکارڈ بھی ہو رہی تھی ۔۔۔

جس میں وہ رو رو کر معافی مانگ رہا تھا ۔۔۔

پلیز سر مجھے معاف کر دیں ،،،،، میں نے یہ سب پیسوں کیلئے کیا ۔۔۔۔ایکچویلی سر صبح جب میں کام کیلئے نکل رہا تھا تو مجھے ایک ان نون نمبر سے فون آیا تھا ۔۔۔۔

جس نے بس اتنا کہاں تھا کہ وہ ایک ڈرائیو مجھے پارسل کے ذریعے بھیجے گا جس میں ایک ویڈیو ہوگی ۔۔۔مجھے وہ اپنے نیوز چینل پر چلانی ہوگی ۔۔۔۔

جس کیلئے میں نے پہلے انکار کر دیا تھا ،،،، لیکن جب اس نے مجھے زیادہ پیسوں کا لالچ دیا تو میں اسکی باتوں میں آ گیا تھا سر پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔

اس علاوہ تم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا نام پتا کچھ بھی ۔۔۔۔ اسکے سر پر کھڑا آدمی کرخت لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔نہیں سر اس کے علاوہ میں نے کچھ نہیں پوچھا تھا بس اتنا کہ اس ویڈیو میں کیا ہے ۔۔۔جس کے جواب میں بس اس نے یہ کہا تھا کہ کسی کی بربادی اور قہقہ لگاتے فون بند کر دیا ۔۔۔۔

اس سے زیادہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا سر پلیز مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔ میرے گھر میں چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں میری بیوی میری ماں ہے ۔۔۔۔مجھے جانے دیں ۔۔۔

وہ اپنے گھٹنوں پر بیٹھا ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہا تھا ۔۔۔۔

ضارب نے اکتاتے ہوئے ریموٹ اٹھا کر اسے بند کر دیا تھا ۔۔۔۔سردار سائیں آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔خان مودب سے انداز میں بولا ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں بس لیاقت صاحب کی ٹینشن دور کرنے کا وقت ہوا جاتا ہے وہ ون سائٹڈ طنزیہ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔ جسے سمجھتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔

کیونکہ اسے وقت سے پہلے تمام انتظامات مکمل کرنے تھے ۔۔۔۔

*********

السلام و علیکم !! سب سے پہلے تو ہم ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفت کے لگے تماشے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔۔۔۔

اصولا تو ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے پر وہ کیا ہے نا کہ ہم ٹھہرے سردار ضارب شاہ تو سخاوت تو سرداروں کی وراثت میں ہے ۔۔۔۔

اس نے طنزیہ کہتے ہوئے ،،،،، ہشاش بشاش لہجے میں بات کا آغاز کیا تھا ۔۔۔جبکہ اسکی بات سنتے وہاں تمام اینکرز کے سر شرم سے جھکا گئے تھے ۔۔۔۔

جسے دیکھتے ہوئے خان اور اس کے اردگرد کھڑے گارڈز نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔

صرف ایک ویڈیو کی بنا پر ہمیں ظالم و جابر اور پتا نہیں کیا کیا کہا گیا ہے ۔۔۔۔جس کے بارے میں آپ یہ تک نہیں جانتے کہ وہ سچی ہے یا جھوٹی بنا تصدیق کہ آپ نے تہمات کا پہاڑ کھڑا کر دیا ۔۔۔۔

اور تو اور ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ آج ٹیکنالوجی کے دور میں رہنے والے ،،،، جو بڑے بڑے ادارے چلا رہیں ہیں ،،،،، غریبوں اور مسکینوں کے ہمدرد ،،،، جب اصل میں کسی پر ظلم ہو رہا ہو تب اپنا کردار ادا کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔۔۔

لیکن ایک ویڈیو میں ہوتے ظلم کو دیکھ کر انہیں اپنی ذمہ داریاں یاد آ گئی ہیں ۔۔۔اور وہ انصاف دلانے نکلے ہیں ۔۔۔ کیا بات ہے انکی ۔۔۔

اس کے لب و لہجے اور انداز سے اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ آج وہ بھرپور طریقے سے سب کی بیعزتی کرنے والا تھا ۔۔۔

ہم پوچھتے ہیں کہ کہاں ہوتے ہیں یہ انصاف کے ٹھیکیدار جب جہیز نا ملنے پر کسی بہن بیٹی کو زندہ آگ میں جلا دیا جاتا ہے ۔۔۔

جب کسی مظلوم کی عزت روندی جا رہی ہوتی ہے ،،،، جب کوئی غریب دو وقت روٹی کی نا ملنے پر اپنے پورے خاندان سمیت خودکشی کر لیتا ہے ۔۔۔۔اور لڑکی پیدا ہونے پر یہ کہہ کر کہ یہ ہماری نسل نہیں چلا سکتی کبھی کسی معصوم کو گھر سے باہر نکال دیا جاتا ہے ۔۔۔اور کبھی طلاق دے دی جاتی ہے ۔۔۔

ہمارے معاشرے کا المیہ کیا ہے ۔۔۔۔کہ ہم کسی کو کھانے کیلئے دو وقت کی روٹی تو نہیں دے سکتے ۔۔۔۔ لیکن کسی کی ذات اور کردار پر کیچڑ اچھالنے میں اپنا پورا حق ادا کرتے ہیں ۔۔۔۔

ہمیں حیرت ہوتی ہے یہ جان کر کہ گھر میں ذرا ذرا سی بات پر اپنی بہن ، بیوی اور بیٹی پر ہاتھ اٹھانے والا مرد ،،،، باہر آ کر کسی اور کیلئے حق کی آواز اٹھا رہا ہے ۔۔۔

لیکن سر ہم نے جو دیکھا ہے اس پر سوال اٹھانے کا حق تو بنتا ہے ہمارا ،،،،، کہ ہمیں پتا چل سکے کہ جسے ہم اپنے لیڈر کے طور پر چن رہے ہیں اصل حقیقت میں وہ انسان کیسا ہے ۔۔۔

آگے جا کر ہمارے اور ہماری نسل کیلئے کیسا ثابت ہو سکتا ہے ،،،، فرسٹ رو میں بیٹھے ایک صحافی نے اٹھ کر سوال کیا تھا ۔۔۔۔

بالکل حق بنتا ہے آپکا ،،،،، ہم یہ کب کہہ رہے ہیں آپکا حق نہیں بنتا ،،،، لیکن بنا کسی تصدیق کے تصویر کا ایک رخ دیکھ کر فیصلہ کر لینا کہاں کی عقلمندی ہے ۔۔۔

اور نسل کے بارے میں تو بات ہی نا کریں آپ آنے والی نسل کو کیا سکھانا چاہتے ہیں کہ بیٹا اوپر والے نے آپ کو جو عقل و شعور دیا ہے اسکا استعمال نا کرتے ہوئے کسی بھی بات پر یقین کر لینا چاہے وہ جھوٹی ہی کیوں نا ہو ۔۔۔

یہ تو وہی بات ہوئی جنے لایا گلی اودے پیچھے اٹھ چلی ( جس نے باتوں میں لگایا اسکے پیچھے لگ کر ساتھ چل پڑنا )

بنا کسی بھی ثبوت کے کسی پر کوئی بھی الزام لگا دینا تو سوری ٹو سے اس سے آپ اپنی نسل کو روشن مستقبل تو نہیں دے سکتے لیکن ہاں اندھیروں کی طرف ضرور دھکیل رہیں ہیں ۔۔۔۔

اور سچ بھی یہی ہے کہ جو آج ہم کرتے ہیں وہی بڑے ہو کر ہماری اولاد کرتی ہے جو اس نے بچپن میں اپنے بڑوں کی طرف دیکھ کر سیکھا ہوتا ہے ۔۔۔

اور جو بندہ اپنی عقل کی بجائے دوسروں کی باتوں اور مفروضوں پر عمل کرنے والا ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ہے ،،،، اور نا ہی کبھی ایسی قوم کے حالات بدل سکتے ہیں اور نا ہی ایسے ہاتھوں میں رہ کر کبھی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔۔۔۔

اس نے اپنی گہری سبز آنکھیں اس کے چہرے پر ٹکاتے ،،،،، ذومعنی انداز میں سچائی بیان کرتے ہوئے ایسا رخ دکھایا تھا کہ وہ صحافی لاجواب ہوتا شرمندگی سے سر جھکا کر واپس بیٹھ گیا ۔۔۔

ٹھیک ہے سر آپکی ساری باتیں ٹھیک ہیں ،،،، اور ہم اس بات کو مانتے بھی ہیں ۔۔۔۔ لیکن آپ اس بات سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ آپ نے اس آدمی پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔۔۔۔اور پھر آپکی فیملی کے بھی آپ کے حق میں نا بولنا آپکو عوام کی نظر میں مشکوک ٹھہرانے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔۔۔

آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ۔۔۔سیکنڈ رو میں بیٹھی ایک رپورٹر نے اٹھ کر مسکراتے ہوئے سوال کیا تھا ۔۔۔

ضارب کی نظریں اس صحافی سے ہٹ کر اس رپورٹر پر آگئی تھیں جس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

ہم نے کب کہا کہ ہم نے اس آدمی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ،،،، یا اس ویڈیو میں جو دکھایا گیا ہے وہ ہم نے نہیں کیا ۔۔۔۔اس نے مسکرا کر کہتے اسے لاجواب کیا تھا ۔۔ وہ حیرت سے اسکا خوبصورت چہرہ دیکھنے لگی تھی ۔۔۔۔

جو بنا ڈرے سب کے سامنے اپنا جرم قبول کر رہا تھا ۔۔۔۔

ہمارا سوال یہ ہے آپ لوگوں نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ ہم نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔اس کے پیچھے وجہ کیا تھی ۔۔۔ ٹہریں ہم دکھاتے ہیں ۔۔۔اس کے بولتے ہی پیچھے سکرین پر ایک ویڈیو پلے ہوئی تھی ۔۔۔

جس میں اس دن پیش آنے والے واقعے کی مکمل ویڈیو اپنی تمام تر سچائی کے ساتھ موجود تھی جسے دیکھتے وہاں موجود سب کے منہ حیرت سے کھل گئے تھے ۔۔۔۔

اور رہی ہماری فیملی کی سپورٹ نا کرنے کی بات تو ہم پوچھنا چاہے گئے اب تک ہمارے کتنے فیملی میمبرز سے آپکا سامنا ہوا ہے سوائے واسم شاہ کے ۔۔۔۔تو آپ ان سے بنا ملے بنا انکی رائے جانے یہ اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ وہ ہمیں سپورٹ کر رہے ہیں یا نہیں ۔۔۔

اور رہی واسم شاہ کی بات تو وہ حق بجانب تھے ۔۔۔۔جب انکا میرے کسی بھی معاملے سے لینا دینا ہی نہیں ہے اور نا وہ اس بارے میں کچھ جانتے ہیں تو پھر میرے کسی بھی فیل کے وہ جوابدہ بالکل نہیں ہے ۔۔۔

آپ کو جو پوچھنا ہے ہم سے پوچھے ہم جواب دیں گے آپکو ۔۔۔جبکہ اس رپورٹر کی بولتی تو اس ویڈیو کو دیکھ کر ہی بند ہوگئی تھی باقی کی رہی سہی کسر اس کے جواب نے پوری کردی ۔۔۔۔

امید کرتے ہیں ہمیں لے کر جو شک و شبہات آپ سب کے دل میں تھے اب دور ہوگئے ہونگے ۔۔۔اور یہ مت سمجھیے گا کہ یہ ہم آپکو اپنی صفائی پیش کر رہے ہیں ۔۔۔۔

ہمیں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے ۔۔۔۔لیکن جو لوگ ہمارے ساتھ جڑیں ہیں ہمیں انکی پرواہ ہے ۔۔۔آفٹر آل انہوں نے ہم پر اپنا پیسہ لگایا ہے ۔۔۔وہ برباد تو نہیں ہونے دے سکتے نا ۔۔

بات کرتے کرتے آخر میں اسکا لہجہ طنزیہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ٹیوی پر غور سے اسکی تقریر سنتے لیاقت صاحب چونکے تھے ،،،،، وہ سیدھا سیدھا انہیں ہی یہ بات سنا رہا تھا وہ اچھے سے سمجھ چکے تھے ۔۔۔۔

اور انہیں اب ڈر لگ رہا تھا کہ اس بات کو لے کر ضارب کوئی انتہائی قدم نا اٹھا لے ،،،،، کیونکہ وہ اسکی ضد اور انا سے اچھی طرح واقف تھے اگر اسے کسی چیز اور انسان سے کھار ہو جاتی تھی ۔۔۔۔

تو وہ اس سے دوری بنا لیتا تھا ۔۔۔۔ اور ضارب شاہ کا ساتھ ان کیلئے کتنا ضروری تھا یہ ان سے بہتر کون جان سکتا تھا ۔۔۔جس کے ساتھ جڑتے ہی انکی پارٹی نے مقبولیت کی منزلیں پائی تھیں ۔۔۔

انکی پارٹی جو صرف ایک صوبے تک محدود تھی ۔۔۔اب دوسرے صوبوں میں بھی جگہ بنانے لگی تھی ۔۔۔صرف اور صرف ضارب شاہ کے ساتھ جڑے ہونے کی وجہ سے لوگ انکے باقی امیدواروں کو بھی ووٹ دینے کو تیار تھے ۔۔۔

اور اگر جس کے دم سے یہ سب ہو رہا تھا اگر وہ ہی ان سے الگ ہو جاتا تو عوام انہیں ووٹ دیتی یا نا دیتی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں تھی ۔۔۔۔

اور انکے یہ شہبات ضارب شاہ کی اگلی بات نے سچ کر دکھائے تھے ۔۔۔۔

اس کے علاوہ ہم ابھی اور اسی وقت آئی پی پی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں ۔۔۔۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم یہ الیکشن ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑیں گے ۔۔۔

یہاں وہ ڈائس پر دونوں ہاتھ رکھے بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس مائک پر بول رہا تھا اور رپورٹرز اسے جلدی جلدی نوٹس پر اتارتے جا رہے تھے ۔۔۔۔

وہی اس کے اس فیصلے پر سکرین کو دیکھتے لیاقت صاحب کے ساتھ ساتھ وہاں موجود تمام رپورٹرز کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔۔

سب لوگ حیران تھے اس کے انتہائی اور حساس فیصلے کو اتنی جلد بازی میں لینے پر ۔۔۔کیونکہ اس فیصلے سے اس کے ساتھ ساتھ آئی پی پی پارٹی کو بھی کتنا نقصان ہو سکتا تھا سب اچھے سے سمجھتے تھے ۔۔۔۔

لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے بعد کسی کی ہمت نہیں تھی کہ کوئی اس سوال کر سکے ۔۔۔۔ویسے بھی وہ کسی کی سن کہا رہا تھا ۔۔۔ صرف اپنی سنا رہا تھا ۔۔۔

اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ،،،، ہم آپکو کوئی جھوٹے دلاسے اور امیدیں نہیں دے گے ۔۔کہ ہم اقتدار میں آ کر یہ کریں گے وہ کریں گے ۔۔۔۔

اور نا ہمیں جھوٹے دلاسے دے کر ووٹوں کی بھیک مانگنی آتی ہے ۔۔۔۔اور نا ہم ایسا کچھ کریں گے ۔۔۔ہم جیسے ہیں سب کے سامنے ہیں ہمیں ووٹ دینا نا دینا یہ سراسر آپکی اپنی مرضی ہوگی ۔۔۔۔شکریہ

اتنا کہتے ہی وہ سٹیج سے نیچے اتر گیا تھا اور اسکے پیچھے پیچھے ہی خان اور گارڈز اسکو چاروں طرف سے پروٹیکٹ کرتے نکلے تھے ۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف اپنا منہ چھپائے بیٹھا دشمن جو اسکی بدنامی اور بربادی چاہتا تھا اس چال کو ناکام ہوتے دیکھ غصے سے پاگل ہو گیا تھا ۔۔۔۔

اور اسی غصے میں اس نے کرسٹل کا واز اٹھا کر سیدھا ایل سی ڈی کی سکرین پر دے مارا تھا ۔۔۔۔جو ایک دھماکے کے ساتھ ٹوٹتی بند ہو گئی تھی ۔۔۔

ابھی وہ اپنا غصہ نکالنے کیلئے کچھ اور بھی توڑتا کہ کسی نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔

*********

ارمغان شاہ کے ساتھ جب دادا سائیں شاہ مینشن پہنچے تو انہیں ملازمین سے پتا چلا کہ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی پریس کانفرنس کیلئے نکلا ہے ۔۔۔۔

تو انہوں نے اس کے پیچھے جانے کے بجائے اس کے گھر واپس آنے تک یہیں شاہ مینشن میں رکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسکا انتظار کرنے لگے ۔۔۔

اس دوران وہ لائیو ٹیوی پر چلتی اسکی کانفرنس بھی دیکھ رہے تھے ،،،،، اور اسکو سب کی بولتی بند کرتے دیکھ دادا سائیں کے ساتھ ساتھ ارمغان شاہ کو بھی اپنے بھتیجے پر فخر ہو رہا تھا ۔۔۔۔

وہ جو بیٹے کی حرکت کی وجہ سے اپنے باپ تک سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے ،،،،، ضارب کے اتنے احسن طریقے سے سب کچھ سنبھالنے پر اس کے ظرف کو دیکھتے ہوئے دل میں اسکے مشکور ہوئے تھے ۔۔۔۔

لیکن ایکدم سے اس کے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے پر تھوڑے پریشان بھی ہوئے تھے ،،،،، جسکا انہوں نے حیدر شاہ سے اظہار بھی کیا ،،،،، لیکن پھر انکے یہ کہنے پر کہ اس نے کچھ سوچ کر ہی یہ فیصلہ لیا ہوگا ۔۔۔

اور ان بہتر ضارب شاہ کو کون جان سکتا تھا اس لیے انہیں ریلکس بیٹھے دیکھ وہ بھی مطمئن ہو گئے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *