Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 83)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

1965 نیویارک امریکہ “

یار وہ لڑکی کتنی ہاٹ تھی ۔۔۔۔اور مسلسل ہمارے ابراہیم کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

مگر مجال ہے ،،،، جو اس کھڑوس نے ایک بار بھی اسکی طرف دیکھا ہو ۔۔۔۔

ریتیش ( یونیورسٹی فرینڈ ) نے ابراہیم جو گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔اسکی طرف دیکھتے جملہ بولا ۔۔۔

جس سے اس کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ آئی ۔۔۔

جبکہ پیچھے اسکے دوسرے دوستوں نے بھی ریتیش کی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔

تم لوگ جانتے ہو ۔۔۔۔مجھے یہ سب نہیں پسند ۔۔۔۔پھر بھی ایسی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔۔

اچھا یہ سب نہیں پسند یا پھر اپنے لالا سائیں سے ڈرتے ہو ۔۔۔۔

جسے سن کر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔۔۔۔میرے لالا مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔

اس لہجے میں حیدر شاہ کیلئے مان بول رہا تھا ۔۔۔۔

اچھا ایسا ہے تو پھر لڑکیوں سے اتنا دور کیوں بھاگتے ہو ؟؟؟؟

کیونکہ میں ان مردوں میں سے نہیں جو اپنی نفس کی تسکین کیلئے معصوم لڑکیوں کے جذبات سے کھیلیں ۔۔۔اور نا ہی ہمارا مذہب اس چیز کی ہمیں اجازت دیتا ہے ۔۔۔

بہت ہی نرم لہجے میں جواب دیا ۔۔۔۔

اب ایسی بات بھی نہیں پسند کی شادی کی تو اسلام میں بھی اجازت ہے ۔۔۔

ریتیش اسکی بات سنتے بحث پر اتر آیا ۔۔۔

جس پر اس نے فقط سر ہلایا تھا ۔۔۔

پسند کی شادی اور لڑکیوں کے ساتھ افیئر چلانے میں بہت فرق ہوتا ہے میرے دوست ۔۔۔جو کم از کم تم نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔

جبکہ اسکی پسند والی بات پر کسی کا خوبصورت چھن سے اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا ۔۔۔۔

جس سے ایک مسکراہٹ اسکی لبوں کی تراش میں ابھری ۔۔۔

جسے دیکھتے اسکے دوستوں کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔

آں ہاں تو یہ بات ہے ۔۔۔۔سب ایک ساتھ زور سے بولے ۔۔۔

ابراہیم جو اپنے خیالوں میں گم گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔انکی بات پر ہوش میں آیا ۔۔۔۔

کیا ہوا ؟؟؟؟

تو ہمارے شاہ صاحب پہلے سے ہی کسی کی زلفوں کے اثیر ہیں ۔۔۔دوستوں سے پردہ داری ۔۔۔نوٹ فیر یار ۔۔۔

تم لوگ کیسی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔

انکی بات پر اپنے چہرے پر سنجیدہ تاثرات لاتے نفی کی ۔۔۔۔البتہ اپنی چوری پکڑی جانے پر دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔

بالکل ایسا ہی ہے ۔۔۔ابھی جب تم تھوڑی دیر پہلے خیالوں میں کسی کو یاد کرتے مسکرا رہے تھے ۔۔۔تمہارے چہرے پر جو چمک تھی ۔۔۔وہ ایسے ہی نہیں آ جاتی ۔۔۔۔

کس مسکراہٹ کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔اس نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔۔۔۔جبکہ ہونٹوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ رینگ رہی تھی ۔۔۔۔

ابراہیم تمہارے لیے اچھا یہی ہوگا کہ ہمیں سچ سچ بتا دو ورنہ اگر ہم اگلوانے پر آئے تو تم جانتے ہو ۔۔۔تمہاری کیا حالت کرینگے ۔۔۔

ریتیش نے اسکی طرف دیکھتے دھمکی دی ۔۔۔

جب ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو ۔۔۔ابھی اسکا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا جب یکدم ریتیش نے اسکی گردن دبوچتے ہوئے ۔۔۔اسے اپنی پکڑ میں لیا تھا ۔۔۔۔

کیا کر رہے ہو ؟؟؟ ایکسیڈنٹ ہو جائے گا ۔۔۔۔

خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔وہ چلایا ۔۔۔۔

ہونے دو ۔۔۔۔پہلے بتاو کون ہے وہ ۔۔۔۔اسکی بات کو نظر انداز کرتے اپنی ہی کہی ۔۔۔

اور یہی وہ وقت تھا جب ابراہیم کی پکڑ سے گاڑی کا کنٹرول ختم ہوا تھا ۔۔۔اور بےدھیانی میں گاڑی سامنے سے آتی ہوئی بائک سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔

دونوں کا زبردست تصادم ہوا ۔۔۔۔ابراہیم نے سامنے دیکھتے بریک لگانے کی کوشش تو لیکن کامیاب نا ہوا تب وہ بائک سے ٹکرا چکی تھی ۔۔۔

جس سے انہیں تو زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔۔۔۔البتہ بائک سڑک کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دور جا کر گری ۔۔۔

جس پر ایک مرد کے ساتھ پیچھے عورت بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔عورت تو بائک گاڑی کے ساتھ ٹکراتے ہی اچھل کر نیچے گر گئی تھی ۔۔۔۔ جس سے اس کی کافی حد تک بچت ہو گئی ۔۔۔ البتہ اسے چلانے والا مرد بری طرح زخمی ہوا تھا ۔۔۔۔

ابراہیم کے ساتھ اسکے باقی دوستوں نے بھی سانس روک کر اچانک رونما ہونے والے واقعے پر سامنے دیکھا ۔۔۔جہاں انکی وجہ سے دو زندگیاں نہیں شاید تین موت کے منہ میں چلی گئی تھیں ۔۔۔کیونکہ وہ عورت حاملہ تھی ۔۔۔اور سڑک پر پڑی بہت بری طرح کراہ رہی تھی ۔۔۔۔

دوسری طرف وہ آدمی لہو لہان سڑک کے بیچو بیچ اوندھے منہ پڑا تھا ۔۔۔

جسے دیکھتے ابراہیم فورا ہوش میں آتے گاڑی سے باہر نکلنے لگا تاکہ انکی مدد کر سکے ۔۔۔۔

جسے ریتیش نے ہاتھ پکڑ کر روکا ۔۔۔

کہاں جا رہے ہو بیوقوف ؟؟؟؟ تمہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔۔۔۔انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔۔

جس پر ریتیش نے اپنا سر پیٹا ۔۔۔

تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ۔۔۔۔یہ ایکسیڈنٹ کا کیس ہے ۔۔۔۔تمہاری مدد کے چکر میں پولیس والے ہم سب کو پکڑ کر لوکپ میں ڈال دیں گے ۔۔۔۔

بہت بری سزا ملے گی اور ہمارا کیریئر بھی برباد ہو جائے گا ۔۔۔۔

اب کے آرام سے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔

تو کیا کروں انہیں مرنے کیلئے چھوڑ دوں ۔۔۔۔نہیں میں اتنا خودغرض نہیں ہو سکتا ۔۔۔

کیونکہ کوئی بھی چیز ایک انسان کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔

اسکی پکڑ سے ہاتھ نکلواتے وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا ۔۔۔۔اور دوڑ کر اسکے آدمی کی طرف گیا ۔۔۔۔

اور اسے سیدھا کرتے سانسیں چیک کی جو کہ دھیمی دھیمی چل رہی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے سر سے خون بل بل بہہ رہا تھا ۔۔۔۔

اسے اکیلے اس آدمی کو اٹھانے کی کوشش کرتے دیکھ مجبوری کے تحت اسکے دوست بھی باہر نکلے اور اس آدمی کے ساتھ عورت کو بھی گود میں اٹھاتے گاڑی میں ڈالنے لگے ۔۔۔۔جو کہ اپنے حواس مکمل طور پر کھولتے چکی تھی ۔۔۔

جبکہ ان دونوں کو اندر ڈالتے ہیں ابراہیم نے گاڑی فل سپیڈ میں ہاسپٹل کی طرف بھگائی تھی ۔۔۔

لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود بھی ہاسپٹل پہنچنے تک وہ آدمی اپنی سانسیں ہار چکا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ اسکے سر میں گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے خون زیادہ بہہ گیا تھا ۔۔۔اور کچھ پولیس کے پہنچنے تک ایکسیڈنٹ کیس دیکھتے ۔۔۔ڈاکٹرز نے تاخیر کر دی تھی ۔۔۔۔

البتہ وہ عورت بچ گئی تھی ۔۔۔۔اور اس نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا تھا ۔۔۔۔

پولیس کی تفتیش کے دوران ساری بات ریتیش نے سنبھالی تھی کہ ہم لوگ راستے سے گزر رہے تھے جب ہماری ان دونوں پر نظر پڑی اور وہ انہیں ہاسپٹل لے کر آ گئے ۔۔۔

کیونکہ جس راستے پر ایکسیڈنٹ ہوا تھا کافی سنسان سا علاقہ تھا ۔۔۔۔یہاں زیادہ لوگوں کی گزر بسر بھی نہیں تھی ۔۔۔۔

اور نا ہی سی سی ٹی وی کا جھنجھٹ تھا ۔۔۔اس لیے جھوٹ سچ ملاتے اس نے بات کو کور کر دیا تھا ۔۔۔

البتہ ان سب کے دوران ابراہیم بمشکل لب بھینچے خود کو کچھ بولنے سے باز رکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اسے اندر سے یہ گلٹ کھائے جا رہا تھا کہ اس کی وجہ سے کسی بےقصور کی جان چلی گئی تھی ۔۔۔

اور ایک معصوم جان دنیا میں آنے سے پہلے ہی یتیم ہو گئی تھی ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°

اس واقعے کو گزرے تقریبا ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔لیکن ابراہیم کو کسی طور پر بھی سکون نہیں مل پا رہا تھا ۔۔۔۔

حالانکہ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس لڑکی کی بہت مدد کی تھی ،،،،، کیونکہ ان دونوں کا یہاں امریکہ میں کوئی رشتہ دار نہیں تھا ۔۔۔۔سوائے نینسی کی والدہ کہ جو کہ ایک مسلمان سے شادی کرنے کی وجہ سے ہر رشتہ ختم کر چکی تھی ۔۔۔۔

نینسی ایک برٹش لڑکی تھی ۔۔۔جس نے ایک مسلمان سے شادی کرنے کے بعد اسلام قبول کیا ۔۔۔۔

اس لیے اس آدمی جسکی عمر تقریبا تیس سال کے قریب ہوگی تدفین وغیرہ کا سارا ذمہ نبھایا ۔۔۔۔

وہ روز ناصر نامی اس آدمی کی قبر پر جا کر پھول چڑھاتا ،،،، اور پھر اس کے گھر اسکی بیوی کی خیر خبر لینے جاتا ۔۔۔۔

جو ایک اجنبی کو اتنی ہمدردی دکھاتے دیکھ اسکی گرویدہ ہو چکی تھی ۔۔۔۔

وہ اس کا شکریہ ادا کرتی ۔۔۔۔کہ وہ اور اسکے دوست نا ہوتے تو ۔۔۔۔کہ وہ اور اسکا بچہ بھی اسکے شوہر کی طرح وہی کہیں سڑک پر ہی دم توڑ جاتے ۔۔۔

اور ساتھ ساتھ اس ایکسیڈنٹ کرنے والے کو بھی بدعا دیتی جس نے اسکی ہنستی بستی دنیا اجاڑ دی تھی ۔۔۔۔

جسے سن کر ابراہیم اندر سے اور گلٹ محسوس کرتا ۔۔۔اسے اپنا آپ مجرم سا لگتا ۔۔۔۔

نینسی نے اپنا گھر چلانے کیلئے ،،،، اپنے گھر کے قریب ہی ایک کیفے میں جوب سٹارٹ کر لی تھی ۔۔۔

آخر اسے اپنے بچے کو بھی تو پالنا ۔۔۔

حالانکہ ابراہیم نے اسے بولا تھا کہ اسے جوب وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔وہ ان دونوں ماں بیٹے کا خرچہ اٹھا لے گا ۔۔۔۔

لیکن اس نے اسکی اور مدد لینے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔کیونکہ وہ ایک خوددار پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی تھی ۔۔۔۔

یوں کسی اجنبی پر بھوج بننا اسے پسند نہیں تھا ۔۔۔۔

لیکن ایک بچے کے ساتھ کوئی بھی اسے اچھی نوکری پر رکھنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔اس لیے مجبوری میں اس نے اس چھوٹے سے کیفے میں اسکے مالک کی بہت منتوں اور ترلوں کے بعد جوب حاصل کی ۔۔۔

جسکی سیلری اس حد تک کم تھی کہ بمشکل اسکے بچے کے دودھ وغیرہ کا خرچہ پورا ہوتا ۔۔۔۔اور کبھی کبھی وہ دو دو دن تک بھوکی رہتی ۔۔۔۔

اور ابراہیم جسکی نظر ہر وقت اس پر ہی رہتی تھی اس سے یہ سب برداشت نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔کیونکہ کہیں نا کہیں اسکی اس حالت کا وہی ذمہ دار تھا ۔۔۔

جس کے چلتے اس نے ایک فیصلہ لیا تھا ۔۔۔۔

اور وہ فیصلہ تھا نینسی سے شادی کا ۔۔۔کیونکہ ایسے تو وہ اسکی کوئی ہیلپ نہیں لیتی اور وہ کسی بھی قیمت پر انہیں بےیارو مددگار نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

اور جب یہ خبر اسکے دوستوں کو پتا چلی انہوں نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی وہ صرف ایک حادثہ تھا ۔۔۔اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ۔۔۔اس کے پیچھے اپنی زندگی برباد نا کریں ۔۔۔

لیکن وہ کسی طور نہیں مانا ۔۔۔۔

ہاں وہ اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے حیدر شاہ کو بتانا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ اسکے بعد اس فیصلے کی پیچھے کی وجہ بھی پوچھتے اور یقینا اسکے دوستوں کی طرح وہ بھی کبھی نا مانتے اس رشتے کیلئے ۔۔۔

اس لیے انہیں بعد میں بتانے کا فیصلہ کرتے اس نینسی کو شادی کیلئے پرپوز کر دیا ۔۔۔۔حالانکہ یہ سب کرتے اسے اپنی ساتھ جڑی اس ننھی سی زندگی کا خیال بھی آیا تھا جو بچپن سے ہی اسکے نام کے ساتھ منسوب ہونے کے ساتھ دل میں بھی بستی تھی ۔۔۔۔

لیکن اپنے ضمیر کا کیا کرتا جو روز اسے اپنی عدالت میں کھینچ کر کھڑا کرتا تھا ۔۔۔۔نینسی اور اسکے بچے کی بہتر مستقبل اور اپنا گلٹ ختم کرنے کیلئے ۔۔۔اس نے اپنی محبت کا گلا گھونٹ دیا ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°

اس کے پروپوزل پر پہلے تو نینسی نے انکار کیا ۔۔۔کیونکہ وہ اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی ۔۔۔اور ساری زندگی اسی کہ یادوں کے سہارے گزارنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

لیکن پھر اپنے بچے مستقبل اور ابراہیم کے مسلسل اسرار پر اس نے ہاں کر دی ۔۔۔۔

لیکن ساتھ میں شرط بھی رکھی کہ جب تک وہ دل سے رضامند نہیں ہو جاتی ۔۔۔ابراہیم اس رشتے کو زبردستی آگے بڑھانے کا نہیں بولے گا ۔۔۔۔

جس پر اس نے بنا تکلف ہاں بول دی تھی ۔۔۔۔

اور یوں اپنے چند دوستوں کی گواہی میں اس نے سادگی سے نکاح کر لیا تھا ۔۔۔۔

شادی کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں لے آیا تھا ۔۔۔کیونکہ وہ خود تو دوستوں کے ساتھ ہاسٹل میں رہتا لیکن نینسی اور اسکے بچے کو نہیں رکھ سکتا تھا اس لیے اس نے ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیا جو ویل فرنشڈ تھا ۔۔۔۔

زندگی اپنی ڈگر پر چل نکلی ۔۔۔۔آہستہ آہستہ ابراہیم اس بچے کے ساتھ کافی اٹیچ ہو گیا تھا ۔۔۔۔یہاں تک کہ اسکا نام بھی اس نے ہی رکھا ۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ اپنا نام بھی دیا ۔۔۔۔۔البتہ نینسی اور اسکا رشتہ صرف کاغذی حد تک ہی محدود تھا ۔۔۔۔

موسی شاہ سے اسکی محبت اور لگاو کو دیکھتے ۔۔۔۔نینسی کو بھی اس سے محبت ہونے لگی تھی ۔۔۔۔

لیکن فلحال وہ خود کو تھوڑا وقت دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔

گزرتے پچھلے سالوں میں ابراہیم نے ان لوگوں کا بہت خیال رکھا کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔۔۔۔

موسی شاہ کو باپ سے بڑھ کر پیار دیا ۔۔۔۔کہ نینسی کو کبھی محسوس نا ہوا کہ وہ اسکا سگا بیٹا نہیں ۔۔۔۔

یہ بھی کچھ ایسا ہی دن تھا ۔۔۔۔جب ابراہیم کی محبت اور قربانیوں کو دیکھتے نینسی نے دل کی رضامندی سے اسکی طرف قدم بڑھانے کا سوچا تھا ۔۔۔۔

جس کیلئے سپیشل تیاری بھی کی ۔۔۔۔

ابراہیم کی عادت تھی کہ وہ یونیورسٹی سے آنے کے بعد شام میں موسی کو قریبی پارک میں لازمی گھمانے لے کر جاتا تھا ۔۔۔۔

اور اس وقت میں اس نے اپنے کمرے کو ریڈ روزز اور کینڈلز کے ساتھ سجایا ۔۔۔اور خود ابراہیم کی پسند کا خیال کرتے ہوئے اپنے لیے ایشین ریڈ ڈریس نکالا ۔۔۔۔اور تیار ہونے چل دی ۔۔۔۔

ابراہیم جب موسی کو لے کر گھر واپس آیا تو نینسی نک سک سی تیار ڈنر پر انکا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔

جسے دیکھ کر وہ چونکا کیونکہ آج سے پہلے اس نے اسے ایسے تیار کبھی بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔

البتہ موسی شاہ اپنی ماں کو ان کپڑوں میں بہت پیاری لگی تھی ۔۔۔۔وہ دوڑ کر اسکے گلے لگا ۔۔۔اور اسکے گال پر پیار کرتے اسکی تعریف کی ۔۔۔۔

ماما یو آر سو بیوٹیفل ۔۔۔”

تھینک یو میری جان ۔۔۔۔بدلے میں نینسی نے اسکے پھولے گالوں کو محبت سے چوما ۔۔۔۔

جس کے بعد اس نے ابراہیم کی طرف دیکھا جو ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔نینسی کے دیکھنے پر اس نے بھی اسکی تعریف کی ۔۔۔۔

جسے شکریہ کہ ساتھ وصول کرتے اس نے موسی کو ہاتھ دھونے کے لیے اندر بھیجا ۔۔۔۔

اور اسکے پیچھے ہی ابراہیم بھی فریش ہونے کیلئے کمرے کی طرف جانے لگا جب نینسی نے اسے روکا ۔۔۔۔۔

اس نے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

کیونکہ اتنے سال ساتھ رہنے کے باوجود بھی ان میں کوئی خاص بےتکلفی نہیں تھی ۔۔۔۔اور نا ہی نینسی نے کبھی اسے بنا ضرورت مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔

وہ ،،، مجھے تم سے ،،، مطلب آپ سے ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔۔

جس پر پہلے تو وہ بہت حیران ہوا ۔۔۔۔

چونکہ ابراہیم عمر میں اس سے ایک سال چھوٹا تھا ۔۔۔تو اس لیے وہ اسے تم کہہ کر ہی مخاطب کرتی تھی ۔۔۔۔اور آج یکدم اتنی عزت کے ساتھ مخاطب کرنے پر وہ کافی حیران ہوا ۔۔۔۔

جی “

پھر سر جھٹک کر اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔

وہ میں ،،،، پتا نہیں کیوں لیکن اسے ابراہیم سے یکدم ہی شرم سی آنے لگی تھی ۔۔۔۔حالانکہ جس ماحول میں وہ پلی بڑھی تھی ۔۔۔وہاں یہ سب باتیں بہت عام تھی ۔۔۔۔

لیکن ایک جھجھک سی تھی جو آڑے آ رہی تھی ۔۔۔جس کے چلتے وہ اپنی بات بھی ٹھیک سے مکمل نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔

جی ،،،، بولیں میں سن رہا ہوں ۔۔۔۔

اسے نروس ہو کر انگلیاں چٹکاتے دیکھ نرمی سے بولا ۔۔۔۔تاکہ وہ ریلکس فیل کرے ۔۔۔۔

وہ میں کہنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔

نینسی نے رک کر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جس پر مسکرا کر ابراہیم نے اسکی ہمت بڑھائی ۔۔۔۔

جبکہ اسکے مسکرانے پر چند پل کیلئے وہ اسکے وجیہہ چہرے میں کھو سی گئی ۔۔۔۔

نین “

اسے خود کو ٹکٹکی باندھے دیکھ ابراہیم نے نرمی سے پکارا ۔۔۔۔

جس پر ہوش میں آتے وہ کچھ شرمندہ سی ہوتی نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔

جبکہ اسکو پریشانی سے لب کاٹتے دیکھ ابراہیم تھوڑا اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔۔

کیا بات ہے ؟؟؟؟ آپ مجھے کچھ پریشان سی لگ رہی ہیں ؟؟؟؟

نینسی نے آنکھوں میں آنسو بھر اسکی طرف دیکھا اور پھر بنا تاخیر کے اسکے سینے کا حصہ بنتے اسکے گلے میں بازو باندھ کر چہرہ گردن میں چھپایا ۔۔۔۔۔

آئی لو یو “

اسکے گلے لگے ہی اپنی محبت کا اظہار کیا تھا ۔۔۔۔

جسے سن کر ابراہیم شوکڈ میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔

وہ ایسا تو کچھ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔کیونکہ نینسی سے شادی کے پیچھے اسکا مقصد صرف ان دونوں کو تحفظ دینے تک کا تھا ۔۔۔۔

اور جب نینسی نے وہ شرط رکھی تھی ۔۔۔۔اسکا دل اندر سے کافی مطمئن تھا ،،،،، کیونکہ اس میں تو کسی اور کا نقش چھپا ہوا تھا ۔۔۔نین نے یہ شرط رکھ کر اسے مزید آزمائش سے بچا لیا تھا ۔۔۔۔

لیکن اتنے سالوں بعد اسکی یہ پیش قدمی ایک بار پھر اسے تکلیف سے دوچار کر گئی ۔۔۔۔

اس نے دھیرے سے اسے کندھوں سے پکڑ کر خود سے الگ کیا ۔۔۔۔

جس کے خوبصورت چہرے میں سرخیاں سی گھلی ہوئی تھی جبکہ شرم و حیا کے زیر اثر اس نے نظریں جھکا رکھی تھیں ۔۔۔۔

جبکہ ابراہیم کی مسلسل خاموشی پر اس نے نظریں اٹھائی ۔۔۔۔

اور اس سے پہلے وہ اس سے کچھ کہتا موسی وہاں آ گیا ۔۔۔۔جسکے سامنے اس نے بات کرنا مناسب نا سمجھا اور چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

کھانا کھانے کے دوران بھی نینسی کی نظریں اسکے چہرے پر ہی ٹکی ہوئی تھیں ،،،،، جو اسکے اظہار کے بعد دوہری عزیت کا شکار ہو گیا تھا ۔۔۔۔

اسکی اپنے طرف اٹھتی نظروں سے وہ انجان نہیں تھا ۔۔۔۔اور وہ اب کیا چاہتی تھی یہ بھی سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔

لیکن اپنے اس دل کا کیا کرتا ۔۔۔جو ان سب کیلئے قطع تیار نہیں تھا ۔۔۔۔

لیکن وہ نینسی جھٹک کر اسکی حق تلفی بھی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔

زندگی نے اسے عجیب دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔جہاں اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔۔۔

ایک دل تو کہہ رہا تھا نینسی کو ساری حقیقت بتا دے ۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا وہ پولیس میں رپورٹ کر دیتی ۔۔۔ویسے بھی پڑھائی تو اسکی مکمل ہو ہی چکی تھی ۔۔۔۔

اچھا ہی تھا ضمیر کی سزا کاٹنے کی بجائے وہ جیل کی سزا کاٹ لیتا ۔۔۔۔وہ اس تکلیف سے تو بہتر ہی ہوتی جو اسکے اندر اپنے جرم کا احساس کرتے اور نینسی کو دھوکا دینے پر روز اٹھتی تھی ۔۔۔۔

موسی اپنے کمرے میں جائیں اور بکس نکالیں میں ابھی آ کر آپکو ہوم ورک کرواتی ہوں ۔۔۔۔

وہ اپنی سوچوں میں گم تھا ۔۔۔جب نینسی کی آواز کا اسے ہوش کی دنیا میں دوبارہ کھینچ لائی ۔۔۔۔

جو موسی کو کھانا کھلانے کے بعد اسے کمرے میں جانے کا بول رہی تھی ۔۔۔۔

موسی باری باری انہیں دونوں کو پیار کرتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

جبکہ اسکی معصوم حرکت پر ابراہیم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔نہیں وہ انہیں سچ نہیں بتا سکتا تھا ۔۔۔۔ایسے تو اسکا بچہ اس سے چھن جاتا ۔۔۔۔

کیونکہ وہ موسی شاہ کو بالکل اپنی سگی اولاد کی طرح چاہنے لگا تھا ۔۔۔۔

جس کی چاہت میں وہ پھر ایک بار بےبس ہونے لگا ۔۔۔

نینسی نے تمام برتن سمیٹنے کے بعد کافی اسکے سامنے رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ساتھ ایک ٹشو پیپر اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔۔

میں انتظار کروں گی ۔۔۔۔

سرخ چہرے کے ساتھ دھیمی سرگوشی کرتی موسی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°

اپنے کمرے میں لیٹے وہ چھت کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔رات کے اس وقت تقریبا بارہ بج رہے تھے ۔۔۔

لیکن وہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لے پایا تھا ۔۔۔۔ابراہیم نے ایک بار پھر ہاتھ میں پکڑا ٹشو آنکھوں کے سامنے کرتے اس میں لکھی تحریر کو پڑھا جس میں واضح طور پر نینسی اس سے محبت کا دوبارہ اظہار کرتے ۔۔۔اپنے رشتے کو آگے بڑھانے کے بولا تھا ۔۔۔۔

چند گھنٹوں میں وہ یہ تحریر کتنی بار پڑھ چکا تھا ۔۔۔۔

اور ہر بار دوہری عزیت کا شکار ہوتا ۔۔۔۔اس نے ٹشو سے نظریں ہٹا کر گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جو آدھی رات گزر جانے کا پتا دے رہی تھی ۔۔۔

پھر ایک فیصلہ کرتے ہوئے اٹھا ،،،، کہ ابھی وہ کچھ وقت مانگ لے گا ۔۔۔اب صاف سیدھا انکار تو کر نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔اس لیے اس نے درمیانی راہ نکالنے کا سوچا ۔۔۔۔

کیونکہ وہ چاہ کر بھی اسکا دل نہیں توڑ سکتا تھا ۔۔۔اور نا ہی اسے سچ بتا کر موسی کو خود سے دور کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے اس نے قدم سیڑھیوں سے اوپر نینسی کے کمرے کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔

دروازے پر آ کر گہرا سانس کھینچتے اس نے ہلکا سا ناک کیا تھا ۔۔۔۔

جو اسکے دھیرے سے چھونے پر ہی کھلتا چلا گیا ۔۔۔۔کیونکہ نینسی نے اسے بند نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی سانسوں سے پھولوں کی مہکتی خوشبو ٹکرائی تھی ۔۔۔۔جبکہ اندھیرے میں چلتی موم بتیوں نے ماحول کو مزید فسوں خیز بنایا ۔۔۔۔

اسکی نظریں کمرے کا جائزہ لیتی اس مومی وجود پر آ کر رکی ۔۔۔۔جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے اسکا انتظار کرتے کرتے شاید سو چکی تھی ۔۔۔

جس پر اسے ہلکی سی شرمندگی بھی ہوئی ۔۔۔لیکن پھر یہ سوچتے کہ وہ صبح اس سے معذرت کر لے گا ۔۔۔۔اسے بنا ڈسٹرب کیے ہی پلٹنے لگا ۔۔۔۔

ابراہیم “

جب نینسی نے اسے مخاطب کرتے روکا ۔۔۔۔وہ اسکی آہٹ محسوس کرتی اٹھ کر بیٹھی ۔۔۔۔

ابراہیم نے ایسے آنکھیں بند کر کے کھولیں جیسے اسکی کوئی چوری پکڑی گئی ہو ۔۔۔۔

کہاں جا رہے تھے ؟؟؟؟؟

وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے قریب آئی ۔۔۔۔

وہ گہرا سانس کھینچ کر پلٹا ۔۔۔۔مجھے لگا آپ سو گئیں ۔۔۔۔

اسکی بات پر نینسی کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔پھر اس نے ایک نظر کھلے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور قدم اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔۔

بہت دیر کر دی آنے میں ۔۔۔۔دروازے کی کنڈی لگاتے ہوئے مسکرا بولی ۔۔۔۔

کیونکہ وہ اب خود کو کافی حد تک کمپوز کر چکی تھی ۔۔۔

اور پھر قدم دوبارہ اسکی طرف بڑھائے ۔۔۔۔جسے دیکھتے ابراہیم نے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔۔

میں نے اتنا انتظار کروایا کہیں اس کا بدلہ تو نہیں لے رہے تھے آپ مجھ سے ۔۔۔۔اسکے پیچھے کی طرف اٹھتے قدموں کو دیکھتے شرارت سے گویا ہوئی ۔۔۔

جس پر بےساختہ ہی اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔اور اس وقت وہ اسے بہت معصوم لگا ۔۔۔۔

جو شاید اسکی قربت سے گھبرا رہا تھا ۔۔۔۔

جو اسے مزید شرارت پر اکسا رہا تھا ۔۔۔۔

آپ مجھ سے ڈر رہے ہیں ؟؟؟؟

نچلہ لب دانتوں تلے دباتے سیریس انداز میں بولی ۔۔۔۔جبکہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔

نہیں ،،، تو ۔۔۔۔

بمشکل اٹکتے دقت سے مسکرایا ۔۔۔۔

جس پر نینسی نے اپنی مسکراہٹ چھپائی ۔۔۔۔سچ میں ایسا ہی ہے نا ؟؟؟؟

قدم اور اسکی طرف اٹھایا ۔۔۔۔

جی “

جس پر اس نے سر ہلایا ۔۔۔۔

تبھی اسکے پاؤں بیڈ کی پائنتی سے ٹکرائے اور اسے مجبوری میں رکنا پڑا ۔۔۔۔

اس نے پیچھے پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھا ۔۔۔جو مکمل پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔

اور پھر دوبارہ مڑ کر نینسی کی طرف ۔۔۔۔اسی وقت نین نے بنا اسے سمجھنے کا موقع دیئے دھکا دیا ۔۔۔۔

جس سے وہ سیدھا بیڈ پر گرا ۔۔۔۔

ابھی وہ اسکے اس ایک حملے سے سنبھل نہیں پایا تھا ۔۔۔۔جب وہ بنا وقت ضائع کیے اس پر گرنے کے انداز میں جھک آئی تھی ۔۔۔۔

ابراہیم نے فورا اپنا سانس روک لیا ۔۔۔۔

نین نے بہت قریب سے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔جو ہلکا ہلکا سرخ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

نین نے جان بوجھ کر اسے ستانے کیلئے اسکی شیو زدہ گال پر اپنے نرم لب رگڑے ۔۔۔۔

ابراہیم اس کے لمس پر مزید سرخ ہوا ۔۔۔۔

جبکہ اسکے بلش کرنے پر ۔۔۔۔نین نے اب کہ کھل کر قہقہہ لگایا ۔۔۔۔اور ساتھ جھک کر اسکی تیکھی ناک ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔۔

نین پلیز یار ۔۔۔”

ابراہیم نے اسکے ہاتھ تھام کر پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔۔

جب اس نے سر ہلاتے اسکے گرد بانہوں کا گھیرہ مزید سخت کیا ۔۔۔۔

میں جانتی ہوں ۔۔۔۔میں نے آپکے ساتھ ناانصافی کی ۔۔۔۔آپکو اتنے سال انتظار کی سولی پر لٹکا کر بنا جرم کے سزا دی ۔۔۔۔

لیکن یقین مانے ۔۔۔۔اس عرصے میں سکون کا لمحہ مجھے بھی نصیب نہیں ہوا ۔۔۔۔

موسی کے پاپا کے جانے کے بعد “

خبردار ،،،، خبردار موسی کو کسی اور کے ساتھ منسوب کیا ۔۔۔موسی صرف میرا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔

اسکی بات مکمل ہونے کے بعد یکدم اپنا رخ بدلتے اوپر آ کر شدت پسندی سے بولا ۔۔۔۔

جبکہ موسی کیلئے اس لہجے میں محبت کو محسوس کرتے وہ خوبصورتی سے مسکرائی تھی ۔۔۔۔

میں بھی تو آپکی ہی ہوں ۔۔۔۔

اسکے گلے میں بازو باندھتے محبت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔

جس پر ایک جامد خاموشی نے ابراہیم کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔۔

ترس گئی ہوں میں محبت کیلئے ۔۔۔۔مجھے آپکی ضرورت ہے ۔۔۔۔مجھے اپنی محبت میں بھگو کر مکمل کر دیں ۔۔۔۔

میرے ٹوٹے بکھرے وجود کو خود میں سمیٹ کر میرے درد کی دوا کر دیں ۔۔۔

میری ڈوبتی الجھتی سانسوں کو خود میں بسا کر اپنی سانسوں سے سنوار دیں ۔۔۔۔

اسکی خوبصورت آنکھوں پر اپنی نم آنکھیں ٹکاتے التجا کی ۔۔۔۔۔

اور بس جو فیصلہ اتنے وقت سے خود سے جنگ کرنے کے باوجود بھی نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔۔

نین کے ان چند لفظوں نے کروا دیا ۔۔۔۔

اور وہ ساری باتیں بھولائے اس پر جھکا اور نرمی سے اسکے ہونٹوں پر لب رکھتے اسکی مہکتی سانسوں کو اپنی دسترس میں لے گیا ۔۔۔۔۔

جس پر سکون سے آنکھیں بند کر کے ۔۔۔نین نے اپنی مومی انگلیاں اسکے گھنے بالوں میں پھنسائی اور دھیرے دھیرے اسکے عمل کا ساتھ دیتی مدہوش ہونے لگی ۔۔۔۔

لمحے سرکنے لگے ۔۔۔۔

نین کی سانسیں ٹوٹنے لگی جسے محسوس کر کے وہ دھیرے سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔

اور بہت قریب سے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔

جو آنکھیں بند کیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔جسے دیکھتے ابراہیم کے لب مسکرائے ۔۔۔

اس نے دھیرے سے جھکتے اسکے دہکتے گالوں کو باری باری ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔۔

اور پھر ٹھوڑی پر پیار کرتے گردن میں جھک آیا ۔۔۔۔اور شدت سے اپنا لمس بکھیرنے لگا ۔۔۔۔

جس پر تڑپتی اسکے کندھوں پر اپنے ناخن گاڑھ گئی ۔۔۔۔

ابراہیم “

اسکی حد سے بڑھتی شدتوں پر نین نے اسے سسک کر پکارا ۔۔۔۔

ابراہیم نے اسکی گردن سے اپنا چہرہ اٹھایا ۔۔۔۔

آپکو نہیں پتا نین ۔۔۔۔اس عرصے میں صرف آپ ہی نہیں تڑپی ۔۔۔۔میرا درد میری تکلیف میں بتا نہیں سکتا ۔۔۔۔میرے اندر کس قدر اندھیرے بھر چکے ہیں ۔۔۔۔

کہ میری ذات ان اندھیروں میں ہی کہیں گم ہو گئی ۔۔۔۔کہ اب ڈھونڈنے سے بھی نا ملے ۔۔۔۔

اس کے لہجے میں درد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔۔

نینسی نے اسکے سر پر ہاتھ کر خود پر جھکایا ۔۔۔۔اور اسکی گرم سانسوں سے اپنی سانسوں کا سلسلہ جوڑ دیا ۔۔۔۔

یہ بےساختہ انجام دیا جانے والا فطری عمل تھا ۔۔۔۔

شاید اپنے لمس سے وہ اسکے درد اور تکلیف کو ختم کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ وہ یہ تو نہیں جانتی تھی کہ ابراہیم کی اس حالت کے پیچھے وجہ کیا تھی ۔۔۔لیکن ان محبت بھرے لمحات میں وہ اسے دکھی اور ٹوٹا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔اس لیے اسے خود میں گم کر کے ہر ایک فکر سے آزاد کرانا چاہتی تھی ۔۔۔۔

جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ٹھہری تھی ۔۔۔۔

ابراہیم اس کے نازک وجود کے نرم لمس میں کھوتے تلخ حقیقت کو بھولانے لگا تھا ۔۔۔۔۔

اسکے نرم مگر بھاری گرم ہاتھ اسکے وجود پر رینگنے لگے ۔۔۔۔

جس سے نین کے وجود میں بےچینی بڑھنے لگی ۔۔۔۔ابراہیم نے دھیرے سے الگ ہوتے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔

جس میں اسکی قربت خماری چھانے لگی ۔۔۔۔

پھر اسے تھوڑا اوپر کرتے پیچھے ہاتھ ڈال شرٹ کی زیپ کھولی ۔۔۔۔

نین نے اسکی گردن پر پکڑ مظبوط کرتے اپنا سرخ چہرہ چھپایا ۔۔۔۔جبکہ اسکی حرکت پر ابراہیم بےساختہ مسکرایا ۔۔۔۔

اسکی دھک دھک کرتی تیز دھڑکنوں کا رقص اسے اپنے سینے پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔

اسے نرمی سے پیچھے کرتے ابراہیم نے نین کے کندھے سے شرٹ سرکائی ۔۔۔۔۔اور نرمی سے دھیرے دھیرے چھونے لگا ۔۔۔۔

جبکہ اسکے لمس سے عجیب گدگدی کا احساس نین کے وجود میں جاگنے لگا ۔۔۔۔جس پر وہ شرمانے کی بجائے ہنسنے لگی ۔۔۔۔

ابراہیم نے حیرت سے چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

گدگدی ہو رہی ہے ۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں سوال پڑھتے اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔

جسے ایک پل دیکھنے کے بعد ابراہیم نے اسکے کندھے پر شدت سے دانت گاڑھے ۔۔۔۔

جس سے ایک ہلکی سی چیخ اسکے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔۔

ابراہیم نے فورا اسکے لبوں پر اپنے لب رکھتے اسکی آواز دبائی ۔۔۔۔جبکہ ہونٹوں پر بھی اسکا عمل بہت جان لیوا تھا۔۔۔۔

جسکی شدت محسوس کر کے نین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔

اب ہنسے “

اسکے الگ ہونے پر وہ اسے پیچھے دھکیلتی خفگی سے اپنا رخ موڑ گئی ۔۔۔۔

ابراہیم نے مسکرا کر آنکھوں میں خمار لیتے اسکی برہنہ کمر کو دیکھا اور پھر دھیرے دھیرے انگلیوں کے پوروں سے چھونے لگا ۔۔۔۔

نین نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے جھٹکا ۔۔۔۔

ابراہیم اسکی ناراضگی پر مسکرایا ۔۔۔اور پھر اپنی شرٹ اتار کر زمین پر پھینکتے ایک جھٹکے سے اسکا رخ اپنی طرف موڑتے اسکے وجود پر قابض ہوا ۔۔۔۔

نین نے اسے غصے سے آنکھیں دکھانی چاہی ۔۔۔۔جس کا اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔

اسکی کو سانسوں کو اپنی دسترس میں لیتے ،،،، اس نے اپنے اور نین کے درمیان پردوں کو ہٹایا ۔۔۔۔ اور دھیرے سے جھکتے اسکے نازک مومی وجود کو خود میں مدغم کر گیا ۔۔۔۔۔

جس سے ایک بےنام سی سسکاری نین کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔۔

اس نے سختی سے اسکی برہنہ پشت پر اپنے ناخن چبوئے ۔۔۔۔۔جن کی میٹھی چبن ابراہیم کے جنون میں مزید اضافہ کا سبب بنی ۔۔۔۔

اس نے نین کے دودھیا وجود پر ہونٹوں کے ساتھ جگہ جگہ سختی سے دانت گاڑھتے اپنی شدتوں کے کئی نشان چھوڑے ۔۔۔۔

آج میں آپکو اپنی روح سونپ رہا ہوں نین ۔۔۔۔جس کے بدلے میں آپ سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔۔۔۔لیکن صرف اتنا کہ اگر کبھی مجھ پر سے آپکا یقین ٹوٹ جائے ،،،،، تو کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ،،،،، مجھے کم از کم ایک صفائی کا موقع لازمی دیجئے گا ۔۔۔۔

اسکی عجیب و غریب بات سنتے نین کا دل عجیب طریقے سے دھڑکا ۔۔۔۔پتا نہیں کونسی ایسی بات تھی جس نے ابراہیم کو اس حد پریشان کیا ہوا تھا ۔۔۔۔

دینگی نا ۔۔۔۔

اس کے لہجے میں ایک آس تھی ۔۔۔۔اس نے بنا تاخیر فورا ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔کیونکہ وہ ایک بار خود تو ٹوٹ سکتی تھی ۔۔۔لیکن ابراہیم کو خالی ہاتھ نہیں لٹا سکتی تھی ۔۔۔۔

جس پر جھکتے ابراہیم نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر پیار کیا ۔۔۔۔نین نے اپنے بازو اسکے گلے میں باندھے ۔۔۔۔

دونوں کی سانسیں ایک بار الجھنے لگی ۔۔۔۔جبکہ خاموش کمرے میں ان دونوں دھڑکنوں کا شور گونجنے لگا ۔۔۔۔

ابراہیم نے ایک بار پھر شدت سے جھکتے اسے اپنی سانسوں کے قریب کیا ۔۔۔۔جس سے اپنی روح میں اترتے سکون کو محسوس کرتی وہ اسکی پشت پر اپنے نازک ہاتھ رکھتے ۔۔۔۔نم آنکھوں کے ساتھ دھیرے سے مسکرائی ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *