Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 16)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 16)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ضارب جو اپنی گاڑی میں بیٹھنے والا تھا اس کی اچانک نظر سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی ابرش پر پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
اور پھر اس کی طرف بڑھتی تیز رفتار گاڑی کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔۔ اس نے ابرش کو آواز دی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن جو فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس تک نا پہنچ سکی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ گاڑی ابرش کو کچل کر نکل جاتی ہے اس نے بروقت بھاگتے ہوئے ،،،،، اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا ۔۔۔۔۔
جس سے وہ سیدھا اس کے سینے سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔۔۔
ان سب میں وہ بلی کا بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دوسری طرف بھاگ گیا ۔۔۔۔۔
ابرش جو گاڑی کو بالکل اپنے سر پہ دیکھ کر آنکھیں موند چکی تھی اس اچانک افتاد پر بھونچکا کر رہ گئی۔۔۔۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر حیران نظروں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔
جو سپاٹ نظروں سے اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کی واسم جیسی اوشن بلو آئیز سیدھی جا کر سبز کانچ سی آنکھوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کے نرم مخملی نازک ہاتھ اس کے سینے پر دل کے مقام دھرے تھے جس سے اس کو ضارب کی دھڑکنے اپنی ہتھیلی پر صاف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس کے مہنگے کلون کے ساتھ سگریٹ کی ملی جلی بھینی بھینی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرا کر اس کے حواسوں پر چھارہی تھی۔۔۔۔۔
جس سے اس کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ جب کہ چہرے پر ہلکی ہلکی سی سرخی چھلکنے لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ خجل سی ہوتی دھیرے سے اس سے الگ ہو گئی۔۔۔۔۔۔
جبکہ ضارب جو اس کے معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اس نرم سے روئی جیسے وجود کے خود سے الگ ہونے پر جیسے ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا ہم جان سکتے ہیں کہ یہ کیا بیوقوفی تھی آپ کو پتہ بھی ہے اگر ہم تھوڑی دیر لیٹ ہو جاتے تو کیا ہوتا آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔ وہ اس کے جھکے سر کو دیکھ کر درشتگی سے گویا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ جو ابھی اس اچانک رونما ہونے والے حادثے سے نہیں سنبھلی تھی ،،،،، اس کی دھاڑ پر تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔۔۔
جبکہ خوبصورت بڑی بڑی سمندر جیسی آنکھوں میں لبا لب آنسو بھر گئے۔۔۔۔۔ جسے دیکھتے ضارب نے اپنے لب سختی بھینچ لئے تھے جبکہ ہاتھوں کی مٹھی بناتے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ اسے کچھ کہتا کہ تب تک زارون بھی بھاگتا ہوا ان تک پہنچا تھا جسے دیکھتے ہی وہ اس کے سینے سے لگ گئی ۔۔۔۔۔
اس نے بھی اپنے جان سے پیاری بہن کو سینے میں بھینچتے اس کے سر پر ہونٹ رکھے تھے۔۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہے نا گڑیا اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے اس نے پیار سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔
اور اگر ضارب وقت پر نہ پہنچتا تو ابرش کے ساتھ کیا ہوتا یہ سوچ ہی اس کے لیے سوہان روح تھی۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے سے آنسو کو صاف کرتا پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے ایک بار پھر سینے سے لگا گیا۔۔۔۔۔
“بہت شکریہ لالہ”
اگر آپ وقت پر نا پہنچتے تو پتہ نہیں ابرش کے ساتھ کیا ہو جاتا ۔۔۔۔۔
اسے اپنے بازو کے حلقے میں لے کر ضارب کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ کو دھیان رکھنا چاہیے تھا یہ تو بچی ہیں ایسے نبھائیں گے آپ اپنی ذمہ داری آج اگر کچھ ہو جاتا تو کیا جواب دیتے اب تایا سائیں کو۔۔۔۔
اس کے شکریہ کے جواب میں ضارب برہمی سے گویا ہوا تھا جسے سنتے زارون شرمندگی سے اپنا سر جھکا گیا۔۔۔۔۔۔
آئی ایم سوری لالا میں آگے سے دھیان رکھو گا۔۔۔۔
جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا۔۔۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں آپ بھی انہیں لے کر سیدھا حویلی ہے جائیں ،،،،،، شاپنگ پھر کبھی کر لیجئے گا ہمیں ان کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔۔۔ ایک نظر ابرش کی طرف دیکھ کر ضارب نرمی سے بولا۔۔۔۔۔۔
جس پر وہ سر ہلاتا اسے لے کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
اور ان کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ضارب نے بھی سر جھٹکتے ہوئے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھتے اپنی گاڑی کا رخ کیا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ میٹنگ سٹارٹ ہونے میں اب بس کچھ ہی وقت بچا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے سے فارغ ہوتے ہی دادا سائیں نے آج گھر کے سبھی بڑوں کو اپنے کمرے میں طلب کر لیا تھا۔۔۔۔۔
کیونکہ ان کے حساب سے اپنے کیے گئے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا تھا۔۔۔۔۔
جب کے گھر کے سبھی بچے اس اچانک ہونے والی خفیہ میٹنگ کو لے کر تجسس کا شکار ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
لیکن وہ لوگ کچھ نہیں کر سکتے تھے سوائے انتظار کے کیوں کہ دادا سائیں کے کمرے میں داخل ہوتے ہی عظمی بیگم نے دروازہ بند کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور باہر وہ چاروں لاؤنج میں اکٹھے بیٹھے ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
جب زارون کے خرافاتی دماغ میں ایک آئیڈیا آیا تھا۔۔۔۔۔
جسے سنتے ان تینوں نے فورا نفی کی تھی جس پر وہ منہ بناتا ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
جیسا کہ ہم نے آپ سب سے پہلے بھی ذکر کیا تھا ۔۔۔۔۔
ہم چاہتے ہیں کہ اب بچوں کے فرض سے اب سبکدوش ہو جائیں۔۔۔۔
ہم نے آج آپ لوگوں کو اس لیے بلایا ہے تاکہ آپ کو بتا سکیں کہ ابیہا کے لیے ایک رشتہ آیا ہے ۔۔۔۔
لوگ ہمارے جاننے والے ہیں ہیں لڑکا بھی اچھا پڑھا لکھا اور ویل سیٹلڈ ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بچیاں ہمیشہ اپنے ہی گھر میں رہیں جب گھر میں ہی اتنے اچھے رشتے موجود ہیں تو ہم باہر کیوں ان کی شادی کریں ۔۔۔۔۔۔
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ابرش کی شادی ضارب ،،،،،، جبکہ ابیہا کی واسم کے ساتھ کریں گے۔۔۔۔۔
اور باقی رہ گئی زر مینے تو ان کی زارون کے ساتھ ،،،،، لیکن ان کا ابھی صرف رشتہ طے ہوگا شادی زارون کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہوگی ۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ صرف ہماری سوچ ہے اگر آپ لوگوں کو اس بات سے کوئی اعتراض ہے تو آپ ہمیں بتا سکتے ہیں ظاہر سی بات ہے وہ آپ کے بچے ہیں تو فیصلہ بھی آپ لوگ ہی کریں گے۔۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں بابا سائیں ہم سے بڑھ کر ہمارے بچوں پر آپ کا حق ہے آپ جیسے چاہیں ان کی زندگی کا فیصلہ کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔
ان کی بات سنکر ارمغان شاہ ان کے قدموں میں بیٹھتے ان کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر محبت سے گویا ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
جن کی تائید میں موسی شاہ نے بھی سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ ان کی اتنی محبت پر دادا سائیں کے ساتھ اماں سائیں کی آنکھوں میں بھی تشکر کے نمی دوڑ گئی تھی آج کے زمانے میں جہاں اولاد اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کرتی وہی ان کے اتنے عزت و احترام دینے پر انہیں اپنی اولاد پر فخر محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے آپ ایک بار واسم سے پوچھ لیں کہ ان کی مرضی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔
آخر زندگی تو ان ہی نے گزارنی ہے اور ساتھ ابرش کی رائے بھی پوچھ لیجئے گا۔۔۔۔۔
بابا سائیں وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن آپ نے کیا ضارب سے پوچھ لیا ہے۔۔۔۔۔ آخر ان کی کیا مرضی ہے اور ظاہر سی بات ہے ابیہا کی زندگی کا فیصلہ ان سے پوچھے بغیر تو نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔
ہماری بات ہوئی تھی ان سے انہوں نے اپنی زندگی کا فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے اور رہی ابیہا کی بات تو ۔۔۔۔۔ ہم نے کل بلایا ہے انہیں آپ کے سامنے ہی پوچھ لیں گے ۔۔۔۔۔۔
وہ ان کی بات کا جواب دیتے فخریہ بولے تھے جبکہ ضارب کے ذکر پر ان کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں آج شام میں ہی واسم سے بات کر لیتا ہوں اس بارے میں۔۔۔۔۔ اگر ان کا جواب مثبت ہوا تو ان شاءاللہ جلد ہی ان سب کو شادی جیسے پاکیزہ بندھن میں باندھ دیں گے۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کے تھے انہی جیسے خوشیوں کی نوید سنا گئے تھے۔۔۔۔۔
جبکہ ان کی بات پر وہاں موجود سبھی افراد کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معروف نے لفٹ میں قدم رکھتے ابھی ٹینتھ فلور کا بٹن دبایا تھا اس سے پہلے کہ لفٹ کا دروازہ بند ہوتا واسم شاہ شاندار شخصیت کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ اس کے پیچھے آتا ہے اس کا پی اے اندر داخل ہوتا دروازہ بند ہو گیا۔۔۔۔۔
اور لفٹ سٹارٹ ہو گئی ۔۔۔۔
جب کہ اسے اندر آتا دیکھ کر وہ ایک طرف کونے میں کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
جس پر واسم بھی بنا کوئی رسپونس دیے سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے اگنور کرتا اپنے فون کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد معروف زیادہ سے زیادہ کوشش کرتی تھی کہ وہ اس کے سامنے کم ہی جائے اس کی ضرورت کا ہر کام وہ اس کے آفس پہنچنے سے پہلے ہی کر دیتی تھی ۔۔۔۔۔اور باقی کا سب کچھ اس کا پی اے خود ہی سنبھال لیتا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن اتنے دنوں کے بعد اس کے یوں روبرو آ جانے سے اس کی دھڑکنیں ایک بار پھر شور مچانے لگی تھی۔۔۔۔۔
لفٹ میں پھیلی اس کے پرفیوم کی خوشبو اسے اپنے حواسوں پر چھاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ اب بس جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی تاکہ اس کے قریب رہنے سے جو دل کی کیفیت ہو رہی تھی وہ اس سے باہر نکل سکے۔۔۔۔۔
لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔۔۔
لفٹ ابھی سیونتھ فلور تک ہی پہنچی تھی جب اچانک سے چھوٹے چھوٹے جھٹکے کھاتی رک گئی۔۔۔۔۔
جب کہ اس کے اندر کی لائٹس کبھی بجھ اور جل رہی تھیں اور پھر ایک جھٹکے سے بند ہو گئیں۔۔۔۔۔۔
جس نے معروف کو خوفزدہ کردیا تھا۔۔۔۔۔ البتہ واسم نے کوفت سے سر جھٹکتے لفٹ کے بٹن دبائے تاکہ دروازہ کھول سکے لیکن کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔۔۔۔۔
جس کا مطلب تھا کہ لفٹ خراب ہو گئی تھی۔۔۔۔
واسم نے فورا اپنے پی اے کو فون ملایا تھا اور اسے تمام صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے لفٹ جلد ٹھیک کروانے کا حکم دیتے بند کر دیا۔۔۔۔۔
اور ان سب میں وہ اپنے ساتھ کھڑے وجود کو بالکل فراموش کر گیا تھا۔۔۔۔
ہوش تو تب آیا جب اسے اپنے بازو پر دو ہاتھوں کی ہلکی سے گرفت محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
اس نے رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا لیکن نیم اندھیرے میں کچھ خاص سجھائی نہیں دیا۔۔۔۔۔
اس نے فورا اپنے فون کی لائٹ جلائی تھی اور اس کی روشنی میں معروف کا چہرہ دیکھنے لگا جو کہ پورا پسینے سے تر تھا۔۔۔۔۔
وہ سانس بھی کھینچ کھینچ کر لے رہی تھی جسے دیکھتے وہ پریشان ہوا تھا۔۔۔۔
مس حسن آپ ٹھیک ہیں ،،،،،، اس کے کندھے پر سہارے کے لیے ہاتھ رکھ کر تشویش سے گویا ہوا تھا۔۔۔۔۔
نہ ،،،،،نہیں ،،،،سر میری ط ،،،،،طبیعت خراب ہو رہی ہے ،،،،،اور ایسا لگ رہا ہے ،،،،،جیسے ابھی میرا ،،،، سانس بند ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
وہ نڈھال سی بولتی اس کے کندھے پر اپنا سر ٹکا گئی۔۔۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا تھوڑی ہمت کریں وہ ہلکے ہاتھ سے گال کو تھپتھپاتے ہوش میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ اب نیم بے ہوشی میں جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
س،،،،،سر م،،،،میرا دم گ،،،،گھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔ ہا،،،،ہاتھ پ،،،،،پاؤں سے جان با،،،،،،بالکل ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔۔۔
اس کی سانسوں کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی گھٹ گھٹ کر نکل رہے تھے۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسکا سر واسم کے کندھے سے لڑھک کر اب اسکے سینے پر آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
جب واسم نے اسے گرنے سے بچانے کیلئے اسکے گرد اپنے ایک بازو کا حصار کھینچا تھا ۔۔۔۔۔
جب کہ دوسرے سے فون پکڑتے کے ایک بار پھر اپنے پی اے کو کال ملائی تھی۔۔۔۔۔
کہاں مر گئے ہو کتنی دیر ہوگئی ہے ابھی تک ایک لفٹ ٹھیک نہیں ہوسکی تم سے ،،،،، اس کے فون اٹینڈ کرتے ہی واسم اس پر دھاڑ اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
ج،،،،،،جی سر بس ہوگئی صرف دو منٹ ،،،،، جلدی کرو اگر دو منٹ کے اندر یہ ٹھیک نہیں ہوئی تو تمہاری خیر نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا فون بند کر گیا جب کہ اس کی دھمکی پر اس کے پی اے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔۔۔۔۔
اور وہ مکینک کو جلدی جلدی ہاتھ چلانے کی تلقین کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف معروف اپنے ہوش و حواس مکمل طور پر کھو چکی تھی ،،،،،، واسم نے اس کے ناک کے آگے انگلی رکھ کر چیک کیا تو اس کی سانسیں بہت دھیمی چل رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
جس سے اسکی پریشانی میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
” مس حسن “
واسم نے اسکا چہرہ ہلکے سے تھپتھپاتے اسے پکارا ۔۔۔۔لیکن جواب ندارد ۔۔۔۔۔
تبھی ایک جھٹکے سے لفٹ کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔جسے دیکھتے وہ فورا اسے اپنے بازوؤں میں اٹھاتے اپنے آفس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
اور ساتھ ہی چینخ کر اپنے پی اے کو ڈاکٹر کو بلانے کی ہدایت کی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واسم نے اسے لا کر اپنے آفس کے پر صوفے پر لیٹایا تھا۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی پانی کی بوتل پکڑتے اس کے منہ پر چھینٹے مارے ۔۔۔۔
اور اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی جس میں وہ کچھ تگ ودو کے بعد کامیاب ہو گیا۔۔۔۔۔
معروف نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تھی۔۔۔۔۔واسم جو اسکے چہرے پر جھکا ہوا تھا اس نے اسے ہوش میں آتے دیکھ پیچھے ہو کر شکر کا سانس ادا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
” آپ ٹھیک ہیں مس حسن “
جی سر میں ٹھیک ہوں اس کے فکرمندی سے پوچھنے پر اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے دھیرے سے جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اور ان سب میں اسکی چادر جو اسکے سر سے اتر کر گلے میں آ گئی تھی اور اسکے ریشمی بالوں کی لٹیں جو اسکے چہرے کے اطراف میں جھول رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے شرمندہ ہوتے ہوئے اپنی حالت درست کرتے چادر واپس سر پر ٹکائی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور ساتھ اسکی آنکھوں کے سامنے لفٹ میں گزرے دھندلے سے وہ منظر لہرانے لگے ۔۔۔۔۔
جن میں وہ واسم کے حد سے زیادہ قریب آ گئی تھی۔۔۔۔۔
جسے یاد کر کے یکا یک اسکے چہرے کا رنگ گلال ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اپنا چہرہ جھکا کر اپنی انگلیاں چٹکانے لگی ۔۔۔۔۔
واسم جو اسکے چہرے کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اسکے چہرے کے بدلتے رنگ اور خود سے شرمندہ ہوتے دیکھ نظروں کا زاویہ بدل گیا ۔۔۔۔۔۔
اگر آپکو اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی تو آپ گھر جا کر ریسٹ کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔
اسکی بگڑتی طبیعت کو دیکھ کر وہ جو اپنے خول سے باہر آیا تھا واپس سے درمیان میں اجنبیت کی دیوار حائل کرتا سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔۔
نہیں سر میں اب ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔اسکے سپاٹ لہجے کو محسوس کرکے وہ کھڑی ہوتی بولی ۔۔۔۔۔
” آر یو شیور مس حسن “
ویسے میں نے ڈاکٹر کو بلوایا ہے ۔۔۔۔۔اگر آپ چیک اپ کروانا چاہیں تو کروا سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
نہیں سر اسکی ضرورت نہیں ہے میں اب بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ ۔۔۔۔۔آپ نے میری اتنی مدد کی ۔۔۔۔۔اور میں بہت شرمندہ ہوں آپکو میری وجہ سے اتنی زحمت اٹھانی پڑی ۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا کر شرمندگی گویا ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
اٹس اوکے ” آپکو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔
اوکے سر ” اب چلوں ۔۔۔۔۔ اسکی بات پر ہلاتے ہوئے جانے کی اجازت مانگی تھی۔۔۔۔۔۔
جس پر اس نے صرف سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔جسے دیکھتے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ واسم نے پرسوچ نظروں سے اسکی پشت کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
کچھ تو تھا جو اسے اس لڑکی کی طرف کھینچ رہا تھا ۔۔۔۔۔آج اسکی حالت دیکھ کر جیسا اس نے بیہیو کیا تھا وہ چاہ کر بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اسے خود بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔۔اسے اس حالت میں دیکھ کر وہ اتنا کیوں پریشان ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
کہ حد سے زیادہ ہی اوور ری ایکٹ کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔
