Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 09)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

آج اس کے آفس کا پہلا دن تھا ۔۔۔جس کیلئے وہ لیٹ نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔۔اس لیے صبح صبح ہی اپنی ماں کو ناشتہ اور دوائی کھلوا کر وقت سے پہلے ہی گھر سے نکل آئی تھی ۔۔۔

تاکہ ٹائم سے آفس پہنچ سکے ۔۔۔کچھ اسے وہ دو نیلی آنکھیں چین نہیں لینے دے رہی تھیں ۔۔۔لاکھ کوششوں کے بعد بھی اسے اپنے دل کی کیفیت سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔

وہ کیوں اسے مغرور سے شہزادے کی طرف کھینچا چلا جا رہا تھا ۔۔۔حالانکہ اسے اپنی حیثیت کا اچھے سے پتا تھا کہاں وہ محلوں میں رہنے والا شہزادہ اور کہاں وہ جھونپڑی میں پلنے والی ایک عام سی لڑکی ،،،،

ان دونوں کا میل کہاں سے بنتا تھا ۔۔۔۔ جس پر شاید رحم کھا کر اس نے یہ نوکری دی تھی ۔۔۔لیکن اسکا دل کسی اور ہی راہ کا مسافر بنتا جا رہا تھا ۔۔۔اس نے سر جھٹکتے ہوئے اس کے خیال سے پیچھا چھڑانا چاہا ۔۔لیکن کیا یہ اتنا آسان تھا ۔۔۔

********

جی تو ناظرین آپکو بتاتے چلیں ،،،، سردار ضارب شاہ ،،،، جو آئی پی پی کے امیدوار ہیں ،،،، اور جنہیں پچھلے دنوں ایک جلسے کے دوران گولی بھی لگی تھی ۔۔۔

اور اسکے بعد شہر میں کیا ہوا تھا اس سے تو آپ سب بخوبی واقف ہیں ۔۔۔جو ینگ جنریشن کے لیڈر ہیں آج انکی ایسی حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے ۔۔۔

جو انکے ظاہر کردا کردار سے بالکل مختلف ہے ،،،، آپ اس ویڈیو میں صاف صاف دیکھ سکتے ہیں ،،،، بظاہر یہ شریف ،،،، رحم دل ،،،، سچائی کا پرچار کرنے والا ،،،، ایک خوبصورت پرکشش شخصیت کا مالک شخص اندر سے کتنا سفاک ،،،بےرحم اور ظالم انسان ہے ۔۔۔

اپنے رتبے اور طاقت کے زعم میں کیسے ایک غریب و لچار انسان پر ظلم کر رہا ہے ۔۔۔وہ بےبس شخص کیسے انکے قدموں میں گر کر رحم کی بھیک مانگ رہا ہے لیکن انہیں زرا بھی فرق نہیں پڑ رہا ۔۔۔

اور اتنا ہی نہیں انہیں اس لڑکی پر بھی رحم نہیں آ رہا جو انکے قدموں میں اپنا دامن پھیلائے اپنے شوہر کی زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے ۔۔۔

آپ خود سوچیں جو شخص ایسی دوغلی فطرت کا حامل ہو وہ ملک کی ترقی اور اسکی غریب عوام کے بارے میں کیا سوچے گا ۔۔۔

وہ اینکر پرسن ابھی ضارب شاہ کے بارے میں اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا جب وہاں موجود ضارب کے ایک سینئر لیاقت احمد جو آئی پی پی کے نائب صدر بھی تھے ۔۔۔

انہوں نے ایل سی ڈی کی آواز میوٹ کرتے ہوئے اپنا رخ اسکی طرف کیا تھا اور جب بولے تو ان کے لہجے میں واضح برہمی جھلک رہی تھی ۔۔۔

یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی ہنگامی طور پر پارٹی آفس میٹنگ بلائی گئی تھی ۔۔۔جہاں سب کے چہروں پر پریشانی واضح تھی وہاں وہ ریلکس سا بیٹھا بےتاثر نظروں سے ٹی وی پر چلتے اس نئے تماشے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

یہ سب کیا ہے ضارب شاہ اتنی لاپرواہی آپ جانتے ہیں ان دنوں آپکو کتنی احتیاط برتنی تھی ۔۔۔ایک دن بعد الیکشن ہیں ۔۔۔ایسے وقت میں ایسی ویڈیو کا منظر عام پر آنا آپکی امیج بری طریقے سے خراب کر سکتا ہے ۔۔۔

ہم سب کو آپ سے کتنی امیدیں وابستہ ہیں ۔۔۔اس کے علاوہ اس الیکشن کمپین میں ہم پیسہ پانی کی طرح بہا چکے ہیں ۔۔۔

اور آپ اگر اللہ نا کرے الیکشن ہار گئے تو اتنے دنوں کی محنت ،،،، پیسہ سب کچھ برباد ہو جائے گا ۔۔۔۔

انکے لہجے کے ساتھ ساتھ چہرے پر بھی پریشانی جھلک رہی تھی ۔۔۔

جبکہ ضارب شاہ کی پرسوچ نظریں اب بھی ٹی وی سکرین پر چلتی اس ویڈیو پر تھی ۔۔۔

جس میں دو دن پہلے کا پنچایت کا منظر دکھایا جا رہا تھا ۔۔۔جس میں سبھی مین حصے کو کاٹ کر صرف ضارب کے رشید کو تھپڑ مارنے اور ان دونوں میاں بیوی کے اسکے قدموں میں بیٹھ کر التجا کرنے کو ایڈٹ کر کے ایسا تاثر دیا گیا تھا ۔۔۔

کہ ہر طرف سے ضارب ہی ظالم و جابر اور غلط نظر آ رہا تھا ۔۔۔

وہاں کیا دیکھ رہے ہیں ضارب میں آپ سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔

ہم سن رہیں ہیں اور آپ ٹینشن نا لیں نہیں ڈوبے گا آپ کا پیسہ ہم سنبھال لیں گے ۔۔۔اپنی بےتاثر وحشت سے بھری نظریں انکے چہرے پر ٹکاتے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔۔

میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا میں تو بس ،،،، آپکا جو بھی مطلب تھا ،،،، ہم سن چکے ہیں ۔۔۔ آپکو کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں ،،،، ہم نے کہہ دیا ہیں نا کہ سنبھال لیں گے تو سنبھال لیں گے بس ،،،،،

اتنا کہتے ہی وہ اپنے جگہ سے اٹھتا بنا کسی کی بات سنے باہر نکل گیا ،،،،جس کے پیچھے پیچھے خان بھی گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ پیچھے وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔۔۔

*********

وہ جب آفس پہنچی تو نا چاہتے ہوئے بھی پورے دس منٹ لیٹ تھی ۔۔۔ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی کو اپنا اپوئٹمینٹ لیٹر دکھاتے اپنے کام کے بارے پوچھا تو اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے واسم شاہ کے کمرے میں جانے کا بولا ۔۔۔

جبکہ اس کے اس بلاوجہ کے منہ بنانے کی اسے ذرا سمجھ نہیں آئی پھر سر جھٹکتے آگے بڑھ گئی کیونکہ وہ پہلے ہی لیٹ ہو چکی ،،،، اور اپنے نئے بوس سے پہلے ہی دن بےعزتی نہیں کروانا چاہتی تھی ۔۔۔۔

کل رات ہی واسم کے کچھ خاص مہمان امریکہ سے پاکستان پہنچے تھے جن کے ساتھ اسکی آج صبح مارننگ میں ہی امپورٹنٹ میٹنگ تھی کیونکہ انہیں شام تک واپسی کیلئے نکلنا تھا ۔۔۔

اس لیے وقت سے پہلے ہی وہ آج آفس پہنچ چکا تھا ۔۔۔جس کی وجہ سے وہ ابھی ضارب والے معاملے سے انجان تھا ۔۔۔

اس وقت اسکے روم میں میٹنگ جاری تھی جب دروازہ ہلکا سا نوک کرتے معروف اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔

جبکہ باہر سے اندر داخل ہونے والی ہستی کو واسم کے ساتھ وہاں موجود مہمانوں نے بھی حیران نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔

واسم شاہ کو اسکی یہ مداخلت اور بنا اجازت اندر داخل ہونا ذرا پسند نہیں آیا تھا جس کا اندازہ اسکی پیشانی پر بنتی لکیروں سے لگایا جا سکتا تھا ۔۔۔

جبکہ ان امریکنز کے آنکھوں میں اس ایشین بیوٹی کو دیکھتے ستائش واضح تھی ،،،،، واو شی از سو بیوٹیفل ،،،، جبکہ انکے کومنپلیمینٹ پر واسم نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچی تھیں ۔۔۔

مس حسن آپ ادھر کیا کر رہی ہیں ۔۔۔آپکو کسی نے یہ نہیں سکھایا کہ کسی کے روم میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لی جاتی ہے ۔۔۔اس نے سخت لہجہ اپناتے اس سے اردو میں پوچھا تھا ۔۔۔

جسکی کم از کم ان امریکنز کو بالکل سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔

اس کے لہجے کی کرختگی اور اسکی اوشن بلیو آئز میں دھیرے دھیرے اترتی سرخی اسکے غصے میں ہونے کا پتا دے رہی تھی ۔۔۔۔

و ،،،، وہ ،،،،سر ،،،، میں نے ریسیپشن سے پوچھا ،،،، تو انہوں نے بولا ،،،،، آپ کے روم میں چلی جاؤں ،،،، اس لیے ،،،،،

میں !!

مس حسن آپ باہر ویٹنگ روم میں انتظار کریں فلحال میں مصروف ہوں ۔۔۔۔فری ہو کر بات کریں گے ۔۔۔

جی سر !! اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی تھی ۔۔۔جبکہ وہ سب دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے ۔۔۔

لیکن واسم کے انداز میں اب پہلی جیسی دلچسپی مفقود تھی ۔۔۔

********

وہ تقریبا تین سے چار گھنٹے بعد فری ہوا تھا ۔۔۔۔ان سب میں وہ معروف کے بارے میں مکمل بھول چکا تھا ۔۔۔

جو تب سے ویٹنگ روم میں بیٹھی اس کے بلاوے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔لیکن اس کا یہ انتظار انتظار ہی رہا ۔۔۔اب تو تقریبا آفس ٹائم بھی ختم ہونے کے قریب تھا ۔۔۔

ایک بار تو اسکا دل کیا کہ وہ جا کر واسم سے پوچھ لے کے اسے یہاں ویٹنگ روم میں بٹھانے کی جوب دی ہے ۔۔۔لیکن پھر اسکے غصے سے ڈرتے ہوئے وہی بیٹھی رہی تھی ۔۔۔۔

وہ سب کاموں سے فارغ ہو کر آفس سے بس نکلنے ہی لگا تھا جب اسکے پی اے نے اس سے معروف کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔

سر وہ جو صبح مس آئی تھیں وہ ابھی تک ویٹنگ روم میں بیٹھی ہیں ۔۔۔آپ مجھے بتا دیں انہیں کیا جواب دینا ہے ۔۔۔

اگر آپ کہیں تو میں انہیں بلا دوں یا پھر واپس بھیج دوں ۔۔۔

واسم جو معروف کے بارے میں مکمل بھول چکا تھا حیرت سے اپنے پی اے کو دیکھنے لگا ۔۔۔ابھی وہ اسے بلانے کا کہتا کہ اسے صبح کی اسکی حرکت یاد آئی ۔۔۔اور ساتھ ساتھ ان کلائنٹس کی نظریں اور کمینٹس بھی ،،،،،

جسے یاد کر کے اسکی رگیں ایک بار پھر سے تن گئی تھیں ۔۔۔۔اسے وہی بیٹھی رہنے دو ،،،،، اسی لائق ہے وہ بیوقوف لڑکی ،،،،، وہ منہ میں ہی بڑبڑایا تھا ۔۔۔

جہاں تک کہ وہ خود پر بھی حیران تھا کہ اسے اتنا غصہ کس بات پر آ رہا تھا ۔۔۔۔

جی سر !! جسے اسکا پی اے سن نہیں پایا تھا اس لیے دوبارہ بولا ۔۔۔ہنن !! وہ جیسے ہوش میں آیا تھا ۔۔۔وہ سر میں پوچھ رہا تھا کہ انکا کیا کرنا ہے ۔۔۔

ہاں تم ایسا کرو کہ اسے صبح آنے کا بولو ،،،، جی بہتر سر اسکا پی اے اتنا کہتے باہر نکل گیا ۔۔۔

جب اس کے فون گھنٹی بجی ،،،، کسی ویڈیو کا نوٹیفکیشن تھا جسے اوپن کر کے دیکھتے اسکے چہرے کے تاثرات سپاٹ ہوئے تھے ۔۔۔

*********

زرمینے ،، ابرش سمیت ابیہا بھی سب مل کر اماں سائیں کے ساتھ انکے کمرے میں بیٹھیں ،،،، انکے جوانی کے قصے سن رہی تھیں ،،،، کبھی کسی بات پر ہنس دیتی تو کبھی دادا سائیں کے نام سے چھیڑنا شروع ہو جاتی ۔۔۔

اچھا اماں سائیں ہمیں بتائیں کے دادا سائیں کو آپ نے پہلی بار کب دیکھا تھا ۔۔۔ اپنے لہجے میں شرارت سموتے یہ ابرش بولی تھی ۔۔۔ارے لڑکی یہ بھی کوئی پوچھنے والی ہے جو تو پوچھ رہی ۔۔۔

اماں سائیں نے اسکی شرارت سمجھتے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔کیا اماں سائیں یہی تو اصل پوچھنے والی بات ہے ۔۔۔پلیز بتائیں نا جبکہ زرمینے اور ابیہا نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔۔۔

انکی ضد کے آگے ہار مانتے ہوئے اماں سائیں کو بتاتے ہی بنی تھی ۔۔۔جبکہ انکی معصوم شرارتوں پر اماں سائیں کے ساتھ وہاں بیٹھی عظمی اور نجمہ بیگم بھی مسکرا رہی تھیں۔۔۔

وہ ہم نے انہیں پہلی بار اپنی شادی کی رات دیکھا تھا ،،،، اتنا کہتے ہی اماں سائیں شرماتے ہوئے دوپٹے کا پلو ایک طرف سے منہ میں دبا گئی ۔۔۔

جبکہ انکو شرماتے دیکھ ان تینوں نے بلند قہقہ لگایا تھا ۔۔۔ان کو خود پر ہنستے دیکھ کر برا مناتے وہ اپنا رخ موڑ گئی تھیں ۔۔۔۔

اچھا اچھا سوری اب نہیں کرتے ۔۔۔جبکہ انکو ناراض ہوتے دیکھ ان تینوں نے فورا معذرت کی ۔۔۔جس پر وہ تھوڑی دیر بعد مان بھی گئی ۔۔۔

اچھا اماں سائیں دادا سائیں تو آپکے کزن تھے ۔۔۔آپ کے ماموں کے بیٹے پھر بھی آپ نے انکو کیوں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔کیا آپ اپنے ماموں کے گھر نہیں آتی تھیں ۔۔۔

یہ زرمینے تھی جس نے اپنے دماغ میں کب سے چلتا سب سے اہم سوال سامنے رکھا تھا ۔۔۔

ارے آتے تھے نا ،،،کیوں نہیں آتے تھے ،،،،پھر آپ نے ہمارے دادا سائیں کو کیسے نہیں دیکھا ۔۔یہ سوال ابیہا کی طرف سے آیا تھا ۔۔۔

ارے میری جھلی دھی تب پہلے کے اور اب کے زمانے میں فرق تھا ،،،، تب ان سگوں رشتوں میں بھی پردہ کیا جاتا تھا ،،،،ویسے پردہ تو اب بھی فرض ہے لیکن ،،،،آجکل کی نسل کہاں کرتی ہے ۔۔۔

ویسے بھی مجھے تیرے دادا سائیں سے بہت ڈر لگتا تھا کیونکہ وہ جوانی میں بہت غصے والے ہوا کرتے تھے ۔۔۔اس لیے ان کی بچپن کی منگ ہونے کے باوجود زیادہ سامنے نہیں آتی تھی ۔۔۔

ان تینوں نے سمجھتے ہوئے سمجھداری سے سر ہلایا تھا ۔۔۔جبکہ انکی غصے والی بات سن کر ابرش کو دو وحشت سے بھری ہری آنکھیں یاد آئی تھیں ۔۔۔۔

جسے یاد کر کے اسے ایک دم سے جھرجھری سی آئی تھی ۔۔۔ اور وہ ایکدم سے ہی خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ابرش تم کیوں خاموش ہو گئی ،،،، جبکہ اسکی خاموشی نوٹ کرتے ابیہا نے فورا پوچھا تھا ۔۔۔

نہیں کچھ نہیں بیا بس وہ کچھ یاد آ گیا ایسے ہی اس نے جبرا مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔اچھا پھر ٹھیک ہے ۔۔۔

اچھا اماں سائیں پھر آپکی شادی کب ہوئی ۔۔۔اپنے آپ کو اس فیز سے نکالنے کیلئے اس نے دوبارہ باتوں میں حصہ لیا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ٹہری ،،،، دادا سائیں اور اماں سائیں کے شادی کے قصے سنتے ان تینوں کے قہقہے بلند تھے جن کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ ان تینوں کو ایسے ہنستے دیکھ اماں سائیں کے ساتھ ساتھ عظمی اور نجمہ بیگم نے ان کو ہمیشہ ہنستے رہنے کی دعا دی ،،،، جو قبول ہوئی تھی یا نہیں یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا ۔۔۔۔

*********

وہ جب آفس سے باہر نکلا تو وہاں میڈیا کا ایک ہجوم اکٹھا تھا ۔۔۔جسے دیکھتے اس نے کوفت سے سر جھٹکا تھا ۔۔۔ ضارب کے خلاف چلنے والی ویڈیو کی خبر اس تک بھی پہنچ چکی تھی ۔۔۔

لیکن اسے ان سب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔یہ سراسر ضارب کا اپنا معاملہ تھا جس میں اسکا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔۔۔

لیکن ان میڈیا والوں کو یہ کون سمجھائے ۔۔۔۔ اس لیے وہ انہیں اگنور کرتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔اسکے گارڈز اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے اسکے لیے راستہ بنا رہے تھے جس میں اسکا پی اے سائے کی طرح اسکے ساتھ تھا ۔۔۔

پر اس کے باوجود میڈیا والے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔

سر ،،،، سر پلیز ہمیں ضارب سر کے بارے میں آپ سے کچھ پوچھنا ہے ،،،، سر یہ جو ویڈیو میڈیا پر وائرل ہوئی ہے سچی ہے ،،،، سر پلیز صرف ایک منٹ ،،،، صرف ایک سوال کا جواب دے دیں ۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ چلتے بار بار رکنے کا بول رہے تھے ۔۔۔۔

جس کی وجہ سے اس نے گارڈز کو اشارے سے رکنے کا بولتے میڈیا کی طرف اپنا رخ کیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اسے رکتے دیکھ میڈیا والے اپنے اپنے مائک سیٹ کرتے بالکل اسکے سامنے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی سوال کرتے اس نے اپنی اوشن بلیو آئز ان پر گاڑتے بولنا شروع کیا تھا ۔۔۔

دیکھیے میں آپ سب کو ایک بات صاف لفظوں میں بتا رہا ہوں کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے نا میں اس بارے کچھ جانتا ہوں ۔۔۔۔

تو بہتر یہی ہوگا کہ جس کا یہ معاملہ ہے ،،، سوال بھی آپ اسے سے کریں شکریہ ۔۔۔

سر پلیز ایک سوال کا جواب دے دیں یہ جو ویڈیو ٹی وی پر دکھائی جا رہی ہے ۔۔وہ بالکل سچ ہے ۔۔۔کیا سردار ضارب شاہ سچ میں ایسے انسان ہیں ۔۔۔

اپنی بات مکمل کرتے اس سے پہلے کہ وہ مڑتا ایک اینکر کی طرف سے سوال ابھرا تھا ۔۔۔۔

میں نے ابھی کچھ دیر پہلے آپ سے کیا کہا ہے ۔۔۔میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔مجھ سے پوچھنے کی بجائے اگر یہ سوال سردار ضارب شاہ سے پوچھے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔۔۔

کیا سچ ہے کیا جھوٹ وہ آپکو زیادہ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں ۔۔۔اپنی بات مکمل کرتے اب کے وہ رکا نہیں بلکہ پلٹ گیا ۔۔۔

لیکن سر وہ آپ کے کزن برادر ہیں آپ سے بہتر انہیں کون جان سکتا ہے ۔۔۔۔

پیچھے سے اسے اس اینکر کی آواز سنائی دی تھی لیکن وہ اگنور کرتے ہوئے اپنی گاڑی میں جا کر بیھویلیٹھ گیا ۔۔۔جس کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔

جی تو ناظرین آپ کو بتاتے چلیں یہ تھے سردار ضارب شاہ کے کزن سید واسم شاہ جو خود بھی ایک مشہور بزنس مین ہیں انہوں نے اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے ۔۔۔

یہاں تک ان کے حق میں بھی ایک لفظ تک نہیں کہا ۔۔۔

مختلف میڈیا اینکرز اپنے اپنے چینلز کی ریٹنگز بڑھانے کیلئے مختلف بولیاں بول رہے تھے ۔۔کچھ تو اس کے خلاف بھی بولنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔

جو اس کے کانوں تک بھی پہنچ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن اسے اس سے بھی کوئی رتی فرق نہیں پڑا تھا اسے جو سہی لگا اس نے وہی کیا تھا ۔۔۔باقی جس نے سوچنا ہے سوچے ۔۔۔۔

وہ واسم شاہ تھا دنیا کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھنے والا ،،،، صرف اور صرف اپنی کرنے والا ،،،، جس کیلئے صرف اسکے ماں باپ اور بھائی بہن ہی عزیز تھے ۔۔۔باقی کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔۔۔

**********

وہ آفس سے سیدھا حویلی آیا تھا ،،،،، لیکن اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس نے ابرش سے ملنا مناسب سمجھا ،،،، جسے اپنے سامنے دیکھتے ہی اسکی ساری تھکن دور ہو جاتی تھی ۔۔۔۔

وہ ابرش کے کمرے میں داخل ہونے ہی لگا تھا جب جلد بازی میں کمرے سے نکلتی ابیہا سے ٹکرا گیا ۔۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ گرتی واسم نے اسکی مرمریں کمر کو ایک ہاتھ سے جکڑتے گرنے سے بچایا تھا ،،،،جبکہ وہ گر کر چوٹ لگنے کے ڈر سے اپنی آنکھیں سختی سے میچ گئی ۔۔۔

واسم شاہ نے بہت غور سے پہلی بار اتنے قریب سے اسکےخوبصورت چہرے کو دیکھا تھا ،،،، جس نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر رکھی تھیں ۔۔۔

جسے دیکھتے ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئی ۔۔۔جس سے فلحال وہ خود بھی انجان تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھی ۔۔۔۔جب اسکی براؤن کانچ سی آنکھیں سیدھا اوشن بلیو آئز سے ٹکرائی تھیں جن میں تھکاوٹ کی سرخی تھی ۔۔۔۔

ایک پل کیلئے تو وہ ان آنکھوں میں کہیں کھو سی گئی ۔۔۔لیکن پھر جلد اپنی پوزیشن کا خیال کرتے سیدھی ہوتے پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔آئی ایم سوری میں نے آپکو دیکھا نہیں تھا ۔۔۔

لڑکی تمہاری یہ جو بٹنوں جیسی آنکھیں ہیں انہیں ادھار پر دے رکھتی ہو جو تمہیں آتے جاتے لوگ دکھائی نہیں دیتے ان سے ٹکراتی پھرتی ہو ،،،،، یا یہ سجاوٹ کیلئے رکھیں ہوئی ہیں ۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر ابیہا نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا جہاں کوئی مذاق کا شبہ تک نا تھا ۔۔۔

دیکھیں واسم لالا میں آپ کو بتا تو رہی ہوں میں نے آپکو نہیں دیکھا تھا پھر بھی سوری بولا ہے ،،،،، آپکا کوئی حق نہیں بنتا کہ آپ یوں میری بیعزتی کریں ۔۔۔

جبکہ خود کی بیعزتی محسوس کرتے اس نے بھی اپنے حق میں آواز اٹھائی تھی ۔۔۔

ہننہ سوری بولا ہے ،،،،، دونوں بہن بھائی نے زندگی عذاب کر رکھی ہے ،،،، جبکہ اسکی بات کا جواب دینا ضروری نا سمجھتے وہ منہ میں بڑبڑاتے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

جبکہ اس کے جواب نا دینے اور ایسے اگنور کر کے چلے جانے پر وہ کچھ غصے اور کچھ شرمندگی سے سرخ ہوگئی تھی ۔۔۔ہنہ پتا نہیں خود کو کیا سمجھتا ،،،،یہ نیلی آنکھوں والا ڈریگن جو ہر وقت بس منہ سے آگ ہی نکالتا رہتا ہے ۔۔۔

جیسے آرام سے بات کرنے سے اسکے پیسے خرچ ہو جانے کا ڈر ہو ،،،، کنجوس کہیں کا جیسے ہنسنے پر ٹیکس لگتا ہو ،،،، وہ اسکی پشت کو گھورتی ہوئی دل میں نئے نئے القابات سے نوازتی ،،،، کیونکہ اس کے منہ پر کچھ بولنے کی اسکے اندر ہمت نہیں تھی ،،،،، اس لیے دل میں ہی کوستی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

یہ تو شکر تھا کہ اس نے واسم کی آخری بڑبڑاہٹ نہیں سنی تھی ورنہ اپنے لالا کے خلاف بولنے والے کو وہ کبھی اتنے آرام سے نا جانے دیتی ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *