Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 44)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

سردار باربی سپیشل 🔥🔥

ضارب شاہ اسکے کپکپاتے سردی سے نیلے پڑتے نازک وجود کو بازوؤں میں بھرے سیڑھیاں عبور کرتا اوپر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔

جس نے اپنی حالت کے پیشے نظر شرم و حیا سے سرخ پڑتے اپنے چہرے کو اسکی گردن میں چھپا رکھا تھا ۔۔۔۔

اسے کمرے میں لا کر دروازہ پاؤں سے آٹو لاک کرتے دھیرے سے نیچے اتارا ،،،،، جس کے سردی کی وجہ اب دانت بجنے لگے ،،،،، جبکہ چھینکیں الگ سٹارٹ ہو گئی تھیں ۔۔۔۔۔

اسے دیکھتے ضارب نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

بھلا کیا ضرورت تھی آپکو اتنی سردی میں بارش میں جانے کی ،،،،، اسے غصے سے ڈپٹتے ہوئے خود جا کر ڈریسنگ سے اس کیلئے ٹاول لے کر آیا ۔۔۔۔۔

وہ ،،،،،، میں ،،،،، آ چھی ،،،،، مجھے بارش بہت ،،،،، آ چھو ،،،،، پسند ہے ،،،،، اسکے ہاتھ سے ٹاول لیتے وہ بمشکل ہی چھینکوں کے درمیان اپنا جملہ مکمل کر پائی تھی جبکہ پہلے سے سرخ ہوئے ناک کو اپنے دوپٹے سے رگڑ کر صاف کرتے مزید سرخ کیا ۔۔۔۔۔

جبکہ یہ سب دیکھتے ضارب نے بمشکل اسکے معصوم حسن سے نظریں چرائی تھیں ۔۔۔۔۔۔

جائیں کپڑے چینج کر لیں ،،،،، ورنہ آپکو سردی لگ جائے گی ۔۔۔۔۔

پھر سنجیدگی سے کہتے ہوئے پلٹنے لگا جب ابرش نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے روکا تھا ۔۔۔۔

ضارب نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

آپ ابھی تک ناراض ہیں مجھ سے ؟؟؟؟؟ اسکے پل میں سپاٹ ہوتے تاثرات کو دیکھتے ڈرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔

ضارب کو اسکے لہجے میں بےچینی واضح محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔

اور اگر ہم ہاں کہیں تو پھر ؟؟؟؟

خود پر ٹکی اسکی اوشن بلو آئز میں اپنی گہری سبز کانچ سی آنکھوں کو گاڑتے ہوئے گھمبیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔

پلیز مان جائیں میں نے سوری بولا تو ہے ؟؟؟؟؟

ہاتھ میں پکڑا ٹاول بیڈ پر پھینکتے ہوئے تھوڑا اسکے قریب ہوتے التجائی لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔۔

ضارب نے خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھا البتہ لبوں سے کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔۔۔

اسکی خاموشی کو دیکھتے ابرش نے ہمت کرتے درمیان میں موجود دو قدموں کا فاصلہ بھی ختم کرتے ہوئے اسکے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر تھوڑا اوپر ہوتے اسکے دائیں گال پر اپنے کپکپاتے لب رکھے تھے ۔۔۔۔۔

سوری “

اور آنکھوں میں آنسو بھر کر سرگوشی نما آواز میں بولی ۔۔۔۔۔

اسکے منانے کا انداز بہت ہی معصومانہ اور کافی حد تک بچگانہ بھی تھا ،،،،،، ضارب کو اس پر پیار تو بہت آیا لیکن چہرے سے ظاہر ہونے نا دیا ۔۔۔۔

وہ اب بھی اسے سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

پھر اس نے یہی عمل ضارب کے دوسرے شیو زدہ گال پر دوہرایا ۔۔۔۔

سوری

لیکن جواب ندارد “

اس نے اپنے کپکپاتے سردی سے نیلے ہوئے لب اسکی ٹھوڑی پر رکھے تھے ،،،،، اسکی بڑی ہوئی داڑھی کے چبھتے لمس کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کر کے اسکے وجود میں برقی لہریں سی دوڑ گئی ۔۔۔۔۔

یہاں تک کہ اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل لگنے لگا ۔۔۔۔

کپکپاتے نازک وجود کی لرزش میں کچھ اور اضافہ ہوا ۔۔۔۔

لیکن وہ آج ہر حال میں اپنے سائیں کو منا لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔

اس لیے تھوڑا اور اوپر ہوتے اسکے لبوں پر جھکنے لگی جب ضارب نے اسے بالوں سے پکڑ کر اس عمل سے روکا تھا ۔۔۔۔۔

ابرش نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

یہ سب کر کے کیا ظاہر کرنا چاہتی ہیں ،،،،، بہت فکر ہے آپکو ہماری ناراضگی کی ،،،،، آپکی نظر میں ہماری بات کا کتنا مان ہے یہ ہم دیکھ چکے ہیں ۔۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے سائیں ،،،،، میں نے جو کچھ بھی کیا وہ جان بوجھ کر نہیں تھا بلکہ غلطی سے ہو گیا ۔۔۔۔۔

اسکے غصے سے ڈرتی اسکی سرخ وحشت زدہ آنکھوں پر اپنی نم آنکھیں ٹکاتے بولی ۔۔۔۔۔

اچھا بتائیں کیسے مانے گے میں ویسے منانے کیلئے تیار ہوں ؟؟؟؟

اسکی بات پر ضارب کے گھنی مونچھوں تلے عنابی لبوں پر معنی خیز سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

رہنے دیں آپ سے نہیں ہو پائے گا ،،،،، بیڈ سے ٹاول اٹھاتے ہوئے اسکے نم بالوں کو خشک کرتا اسکے کپکپاتے نازک وجود کو دیکھتے زومعنی انداز میں گویا ہوا ۔۔۔۔

کیوں نہیں ہوگا آپ بتائیں تو سہی میں کر لوں گی ،،،،،، اسے نارمل ہوتے دیکھ کر پرجوشی سے بولی ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی معصومیت کو دیکھتے ہوئے ضارب کو ٹوٹ کر اس پر پیار آیا تھا

جس کا اظہار اس نے والہانہ طریقے سے اسکے لبوں پر جھکتے ہوئے کیا ۔۔۔۔۔

ابرش نے تڑپ کر اس اچانک رونما ہونے والی افتاد پر سہارے کیلئے اسکے کندھوں کو تھاما ۔۔۔۔۔

انسان کو اتنی بڑی بڑی باتیں نہیں کرنی چاہیے جسے پورا کرنے کی ہمت اسکے اندر نا ہو ۔۔۔۔۔

اسکے لبوں کو آزادی بخشتے ،،،،،، اسکی پل میں غیر ہوتی حالت پر نرمی سے اسکی کمر سہلاتے جتاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے ابرش کا چہرہ پل میں متغیر ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جائیں اور کپڑے چینج کر لیں نرمی سے اسے خود سے جدا کرتا خود پلٹنے لگا جب ابرش ایک پل کی دیری کیے بنا اسکی چوڑی پشت کا حصہ بنی تھی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضارب شاہ نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا جو سرخ چہرے کے ساتھ نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔

پھر بنا وقت ضائع کیے اسے بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ کی طرف بڑھا ،،،،،، جبکہ ابرش نے شرما کر چہرہ اسکی گردن میں چھپایا تھا ۔۔۔۔۔

اسے بیڈ پر ڈالتے ہوئے ایک نظر اسکی بند آنکھوں کو دیکھتے انہیں نرمی سے چھوتا اسکے لبوں پر جھکتے ہوئے اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا ۔۔۔۔۔

جس پر مدہوش ہوتے وہ اسکی پشت پر ناخن گاڑھتے خود بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔۔۔۔۔

جب وہ اسکی بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے دھیرے سے پیچھے ہوا ۔۔۔۔

ابرش نے اپنی سرخ ڈورے والی نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ،،،،، جو اسے ہی گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

پھر شرما کر نظریں جھکاتی اس کے سینے میں چھپنا چاہا ،،،،، لیکن ضارب نے اسکے بالوں پر پکڑ مظبوط کرتے اسے روکا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکے دوپٹے کو گردن سے جدا کرتے وہاں جھکنے لگا ۔۔۔۔

جب ابرش نے اپنا رخ بدلا تھا ۔۔۔۔۔

اسکے کانپتے گہری سانسیں بھرتے وجود کو دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔۔

آج یہ گریز نامکمن ہے ” لٹل باربی “

اسکے کان کے قریب جھکتے گھمبیر سرگوشی کی تھی ساتھ ہی کان کی لوں کو ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ جی جان سے لرزی تھی ۔۔۔۔۔

اور اسکے بھیگے خوبصورت بالوں کو ایک سائڈ کرتے پیچھے گردن پر اپنے دہکتے ہوئے لب رکھتے اسے اپنے لمس سے سلگانے لگا ،،،،، جسے محسوس کرتے ابرش نے تکیے پر اپنی پکڑ مظبوط کی تھی ۔۔۔۔۔

جب اسے اپنے ڈریس کی زیپ کھلتی ہوئی محسوس ہوئی ،،،،، ابرش کو اپنی جان وجود سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔

ضارب نے اسکے دودھیا وجود کی دلکشی کو دیکھتے اسکی کمر پر ہاتھ کی پشت پھیری تھی ،،،،، جس پر وہ خود میں سمٹی ۔۔۔۔۔

اور پھر یکدم جھکتے ہوئے وہاں اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا ۔۔۔۔۔

جب وہ گھبرا کر اسکی طرف پلٹ آئی ۔۔۔۔۔

ضارب نے بہت نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے اسکا سرخ چہرہ اوپر اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور اسکے معصوم نقوش کو نگاہوں میں سماتے تکیے پر ڈالا اور ساتھ ہی اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے ۔۔۔۔

آپ جانتی ہیں باربی ،،،،،، ہم آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ،،،،،، کیونکہ ہمارا وجود زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک لاش کی طرح تھا ایک زندہ لاش ،،،،،، جسکی سانسیں تو چل رہی تھی ،،،،، لیکن زندگی کی رمق باقی نہیں تھی ۔۔۔۔

جس کے اندر کا ہر احساس ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

باقی تھا تو صرف اور صرف وحشتیں اور اندھیرہ ،،،،،،، اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ان وحشتوں کے سائے میں آ کر آپکی زندگی برباد ہو ۔۔۔۔۔

لیکن نا چاہتے ہوئے بھی آپ ہماری زندگی میں شامل ہو گئی ،،،،،، ہمارا دل جو پتھر کا ہو چکا تھا ،،،،، آپ کے قریب آنے سے وہ دوبارہ دھڑکنے لگا ،،،،، ورنہ اس سے پہلے تو اسکی ووقت سینے میں موجود ایک گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں تھی ۔۔۔۔۔

اور آپ نے ہمیں بالکل ٹھیک پہنچانا تھا کہ ہم درندے ہیں ابرش جو بہت غور سے اسکی باتیں سن رہی تھی اسکے خود کو درندہ کہنے پر اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔۔

نہیں میں غلط تھی آپ بالکل بھی ایسے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔بلکہ آپ تو بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر وہ نفی میں سر ہلاتا مسکرایا ۔۔۔۔۔

آپکے کہہ دینے سے حقیقت بدل تو نہیں جائے گی ،،،،،، سچ ہمیشہ سچ ہی رہتا ہے ،،،،،، اس نے ابرش کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جتایا ۔۔۔۔۔

اگر ایسا ہے بھی تو میں بہت جلد آپکو بدل دوں گی ،،،،، وہ بھی دوبدو اسکی گہری آنکھوں میں دیکھتے اعتماد سے بولی ۔۔۔۔۔

ضارب شاہ نے اسکی خود اعتمادی کو دیکھتے داد میں آئی برو اچکائی ،،،،،

یہ اتنا آسان نہیں ،،،،، وہ اسے چیلنجنگ نظروں سے دیکھتا طنزیہ بولا ۔۔۔۔

میرا بھی یہ وعدہ ہے میں یہ آپکو کر کے دکھاؤں گی ۔۔۔۔۔

وہ بھی اسکا چیلنج ایکسپٹ کرتے اسی کے لب و لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔

جبکہ اسکے جواب پر وہ معنی خیزی سے مسکرایا ۔۔۔۔۔

ہمم !! وہ تو ہم وقت آنے پر دیکھ ہی لیں گے ،،،،، پہلے ہمیں اس امتحان میں تو پاس ہو کر دکھائیں ۔۔۔۔۔

اسکی بات پر ابرش کی ساری خوداعتمادی پل میں ہوا ہوئی تھی ،،،،، چہرے کے خدوخال میں سرخی دوڑ گئی جبکہ داراز خوبصورت پلکیں لرز کر جھک گئی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ضارب کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اس نے اپنے وجود سے شرٹ کو ایک جھٹکے سے جدا کرتے نیچے پھینکا تھا ۔۔۔۔۔

اور اسکے کندھے سے شرٹ کو سرکاتے ہوئے وہاں ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔۔۔ابرش نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرتے اسکی پشت پر ناخن چھبوئے ۔۔۔۔۔

چند ہی پلوں میں کمرے کا ماحول فسوں خیز بن گیا تھا ،،،،،، اسکا رواں رواں اسکے سلگتے ہوئے لمس کو محسوس کرتے لرز رہا تھا ۔۔۔۔

اسکی بےباکیوں اور جسارتوں نے اسکی سانسیں خشک کر دی تھیں ،،،،،، جس کے چلتے وہ بار بار اپنے خشک لبوں پر زبان پھیر کر اسے تر کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

جب وہ دوبارہ اسکے پور پور سے سیراب ہوتا اسکے خدوخال کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے چہرے کی طرف آیا ،،،،، اسکی لرزتی ہوئی پلکوں کو دیکھتے ہوئے ہونٹوں سے چھوتا لبوں کی طرف آیا ۔۔۔۔۔

اور اسے گہری سانسیں بھرتے دیکھ کر دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی گرم سانسیں اپنے ہونٹوں پر محسوس کر کے ابرش نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔

جو سیدھا خود کو تکتی خمار سے بھری ضارب کی گہری سبز آنکھوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔

اور ان میں نظر آتے جذبات کو دیکھتے لرز کر دوبارہ جھک گئی ۔۔۔۔۔

ضارب نے ہاتھ بڑھا کر کمرے میں جلتے فانوس کو بجھایا تھا ،،،،، جس کے بعد کمرے میں مکمل اندھیرہ چھا گیا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ کچھ سہمی تھی ،،،،،،

سائیں “

اور گھبرا کر اسکے کندھوں کو تھامنا چاہا ،،،، لیکن ضارب نے اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی کھردری سخت انگلیاں پھنساتے اسے بیڈ کراون سے لگایا ۔۔۔۔۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔

اسے اپنے بہت قریب محسوس کرتے نم لہجے میں بولی ۔۔۔۔

ہم ہیں نا ،،،،، آپکو ہم پر یقین نہیں ۔۔۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے ،،،، لیکن ” ابرش نے کسمساتے ہوئے کچھ کہنا چاہا ،،،، لیکن ضارب اسے جملہ مکمل کرنے کی مہلت دیئے بنا ہی اسکے لبوں پر جھکتا اس پر اپنی گرفت کچھ اور سخت کر گیا ۔۔۔۔۔

اور وہ کچھ نا کر سکی سوائے اسکے شکنجے میں پھڑپھڑانے کے ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسے آزادی بخشتے ضارب نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا ،،،،،

جس کے بدلے ابرش نے اپنی نم پلکیں اٹھا کر شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھا بہت برے ہیں آپ ،،،،،،

جس پر ضارب نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔

اور دونوں پر بلینکٹ کھینچتے پھر دوبارہ اس پر شدتوں سے جھک گیا ۔۔۔۔

ابرش اپنے کلائیوں سے ٹوٹتی ہوئی چوڑیوں کو محسوس کرتی روح میں اترتے ضارب شاہ کے نرم گرم لمس پر اپنی آنکھیں سختی سے بند کر گئی ۔۔۔۔۔

جہاں باہر جنوری کی پہلی بارش اپنے جوبن پر آ کر زور و شور سے برستی سردی میں مزید اضافہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہی اندر ضارب شاہ بوند بوند بن کر ابرش پر اپنی شدتیں نچھاور کرتا اسے اپنی وحشتوں سے روشناس کروا رہا تھا ۔۔۔۔۔

جہاں بارش کے ساتھ چلتی یک بستہ ٹھنڈی ہواؤں نے زور پکڑا تھا ،،،،، وہی اندر ضارب شاہ کا جنون سر چڑھ کر بولتا ابرش کو سہمنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ اسے روک ٹوک کر دوبارہ خود سے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے چپ چاپ اسکی شدتیں برداشت کرتی خاموشی سے پڑی تھی ۔۔۔۔

البتہ آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ کر گرتے اسکے کھلے خوبصورت گھنگھریالے بالوں میں جذب ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔

جسے دیکھ کر ضارب نے انہیں اپنے ہونٹوں سے چنتے ایک بار پھر نرمی سے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا ۔۔۔۔۔

باربی “

بہت نرمی سے پکارا ۔۔۔۔

ابرش نے اپنی اوشن بلو اسکی شدت سرخ ہوئی نم آنکھیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

نیلے سمندر میں گھلی سرخیوں کو دیکھتے ضارب کو اپنا آپ ان میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔

کیا ہوا ؟؟؟؟؟

پھر اسکے چہرے پر پھونک مارتے شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ اس سے نظریں چراتی ہوئی بےرخی سے چہرہ پھیر گئی ۔۔۔۔۔

اب یہ تو غلط بات ہے ،،،،، آپ خود ہی تو ہماری ناراضگی دور کرنا چاہتی تھی ،،،،،، لیکن اب ایسے رخ موڑ کر ہمیں یہ احساس دلانا چاہتی ہیں کہ ہم نے جیسے آپ کے ساتھ زبردستی کی ہو ۔۔۔۔۔

میں نے ایسا کب بولا ،،،،،، اسکی بات پر وہ دوبارہ اسکی طرف دیکھتی نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

کہا نہیں لیکن ایسے منہ موڑ کر احساس ضرور کرا رہی ہیں ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر اب کہ ابرش نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔۔

اچھا تو ایسے کوئی کرتا ہے اپنے بیوی کے ساتھ جیسے آپ نے کیا ہے ،،،،، اسکے سینے پر اپنے نازک ہاتھوں کے وار کرتی معصومیت سے بولی ۔۔۔۔۔

جسے اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر روکتے ہوئے اس نے مسکراتی نظروں سے اسکے سرخ چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔۔

جہاں تک ہم جانتے ہیں سبھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔

اور ساتھ ہی جھک کر کان میں گھمبیر سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ اسکی سرگوشی پر سرخ پڑتی خاموشی اختیار کر گئی ۔۔۔۔

اسے خاموش ہوتے دیکھ کر وہ دوبارہ اس پر جھکا تھا ،،،،،، جسے چاہ کر بھی وہ روک نا سکی ۔۔۔۔۔

اسکے لمس سے اپنی روح میں اترتے سکون کو محسوس کرتے دھیرے سے آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ ضارب شاہ اپنی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکتی اسکی دھڑکنوں کو محسوس کرتے نرمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *