Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 06)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

کبھی جو بادل برسے ،،، میں دیکھوں تجھے آنکھیں بھر کے

تو مجھے لگے پہلی بارش کی دعا

تیرے پہلوں میں رہ لوں ،،،، میں خود کو پاگل کہلوں

تو غم دے یا خوشیاں سہلوں ساتھیا

بارش زور و شور سے برس رہی تھی ایسے میں وہ بارش کی دیوانی لڑکی سب کچھ بھلائے بارش میں بھیگتی خوشی سے جھوم رہی تھی ۔۔۔ پنک شورٹ فراک ، وائٹ کیپری کے ساتھ وائٹ دوپٹہ ایک شانے پر لاپرواہی سے ڈالے کمر سے نیچے آتے کھلے لمبے بال اپنے بھیگے خوبصورت سراپے کو یکسر نظر انداز کئے کھلکھلا رہی تھی ۔۔

وہ ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔۔۔ اس وقت وہ آسمان سے اتری کوئی حور لگ رہی تھی ۔۔۔

اچانک بھیگتے ہوئے اسے اپنی بہن کا خیال آیا تھا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

ارے تم وہاں کھڑی کیا کر رہی ہو ادھر آو ۔۔۔ اس نے دور ایک شیڈ کے نیچے کھڑی اپنی چھوٹی بہن کو آواز دی تھی ۔۔ نہیں میں نہیں آؤں گی ،،، آپ کو پتا ہے مجھے بارش اور بجلی سے بہت زیادہ ڈر لگتا ہے ۔۔۔

مجھے بتاؤ تمہیں کس چیز سے ڈر نہیں لگتا ۔۔میری جان اگر ایسے ہی ہر چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈرتی رہو گی تو پھر لائف کیسے انجوائے کرو گی ۔۔۔

اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے ایک بار پھر سے پاس آنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

نہیں میں یہی ٹھیک ہوں ۔۔۔میں بارش میں بھیگے بغیر اسے دیکھ کر ہی انجوائے کر لوں گی اس نے بھی ایک بار پھر نفی میں سر ہلاتے انکار کیا تھا ۔۔۔

جس سے اسکے خوبصورت چہرے پر خفگی سی چھا گئی تھی ۔۔۔اس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکی طرف سے اپنا رخ موڑ لیا تھا۔۔۔

جبکہ اسے ناراض ہوتے دیکھ اب وہ پریشان ہو چکی تھی ۔۔وہ اپنی بہن کو خود سے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اپنے اس کمزور دل کا کیا کرتی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا جاتا تھا ۔۔۔

وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ اسے اسکی کی چینخ سنائی دی اس نے جب سامنے دیکھا تو وہ زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے دائیں پاؤں کو پکڑ رکھا تھا ۔۔۔جبکہ چہرے پر تکلیف کے آثار تھے ۔۔

وہ اپنے ڈر کو بھولائے فورا سے پہلے اسکی کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔کیا ہوا ہے کیسے گر گئی آپ زیادہ چوٹ تو نہیں لگی ۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے پاؤں کو پکڑتے فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔۔

جبکہ اسکی بڑی بڑی پرکشش آنکھوں میں اپنی بہن کی تکلیف کا سوچتے آنسو آ گئے تھے ،،، ان سب کے دوران وہ خود بھی بارش میں بری طرح بھیگ چکی تھی جسکا اسے ذرا بھی احساس نہیں تھا ۔۔۔

لیکن جب دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو اس نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جس پر اب ایک شرارتی سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔اسے ساری بات سمجھ آ گئی ۔۔۔ پھر اس نے اپنے کپڑوں طرف دیکھا جو مکمل طور پر بھیگ چکے تھے ۔۔۔

اس پر ایک خفگی بھری نگاہ ڈال کر واپس جانے لگی کہ وہ راستے میں حائل ہو گئی ۔۔۔اچھا سوری نا میں صرف تمہیں اپنے پاس بلانا چاہتی تھی ۔۔اس نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتے اسے سوری بولا تھا ۔۔۔لیکن وہ بنا جواب دیئے رخ موڑ گئی ۔۔۔

اچھا دوبارہ ایسا نہیں ہوگا آئی پرامس اب تو معاف کر دو مجھے جان مان ۔۔پہلہ جملہ عاجزی جبکہ دوسرا شرارت سے مکمل کرتے اسے گلے سے لگایا تھا ۔۔۔

وہ جو پہلی بار معافی مانگنے پر اسے معاف کر چکی تھی مان کا نام لے کر چھیڑنے پر بالکل لال ٹماٹر کی طرح ہو گئی ۔۔۔

آپو پلیززز !! خفگی سے اسے خود سے دور کرتے وہ اپنا رخ موڑ گئی ۔۔اس کے لہجے میں گھبراہٹ واضح تھی اس نے اپنا ایک ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا ہوا تھا ۔۔۔جو اسکے زکر پر ہی زور و شور سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔کہ یکدم بجلی چمکی ،،، وہ پلٹ کر پھر اسکے سینے آ لگی ۔۔۔

لیکن اس بار کچھ الگ تھا ۔۔ایک مخصوص پرفیوم کی خوشبو محسوس کر کے اس نے فٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں اور اوپر اسکے چہرے کی طرف دیکھا جہاں وہ اپنی آنکھوں میں دنیا بھر کی محبت سمیٹے اسے چاہت سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔اسکے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔۔۔جبکہ اپنی بہن کی جگہ سامنے مان کو دیکھتے اس نے کسمسا کر دور ہونا چاہا ۔۔۔لیکن تب تک وہ اسے اپنے حصار میں قید کر چکا تھا ۔۔۔جس سے رہائی اب تقریبا ناممکن تھی ۔۔۔

انکی شادی کو پورا ایک ماہ مکمل ہو چکا تھا لیکن وہ آج بھی اس سے پہلے دن کی طرح ہی گھبراتی تھی اس وقت بھی اسکی ذرا سی قربت پر وہ پوری سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔

جبکہ اسکی پرشوق نظریں اسکے چہرے کے خوبصورت خدوخال کا طواف کر رہی تھیں جن میں سرخی گھلی ہوئی تھیں ۔۔۔مان پلیز چھوڑیں کوئی آ جائے گا ۔۔۔اسکی نظروں سے گھبراتے ہوئے دھیمے لہجے میں اس سے التجا کی تھی جیسے ۔۔۔

کوئی نہیں آئے گا آپ پریشان نا ہو جان مان ۔۔۔اس کے گرد اپنا حصار اور تنگ کرتے وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا ۔۔۔اس کیلئے مان کی نظروں کا سامنا کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔

تب ہی وہ ہلکا سا اسکی طرف جھکا ،،، جبکہ وہ اسے اپنے چہرے پر جھکتے دیکھ آنکھیں زوروں سے میچ گئی ،،، اسے اپنی آنکھیں بند کرتے دیکھ اسکے لب مسکرائے تھے ۔۔۔

تیرے چہرے کی یہ گھبراہٹ ، تیری یہ شرم و حیا

تیری ان معصوم نگاہوں کی ادا پر میرا دل ہوا فدا

اب تو بس اک یہی التجا ہے تو مجھے خود سے ایسے جوڑ لے

کہ تیری سانسوں سے میری سانسیں ایک پل کیلئے نا ہو جدا

اسکے کان کے قریب گھمبیر سرگوشی کرتے کان کی لوں پر اپنے لب رکھے ،،، اور ایک ہاتھ سے اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے جبکہ دوسرے سے اسکے کیچر میں مقید بال کھولے تھے ۔۔۔ خوبصورت گھنگھریالے بال لہرا کر اسکی کمر پر گرے ۔۔۔۔

جن کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بساتے ہوئے اسکی صراحی دار گردن پر اپنی ناک کو سہلاتے وہاں بھیگے ہونٹ رکھے تھے ،،،،اس نے مچل کر اپنے دونوں ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھے ،،، اس کیلئے اب اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔ اسے اپنا دل اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

” مان ” اس نے گہرا سانس بھرتے اسکا نام پکارا تھا ۔۔۔

،،،،،، حکم جان مان ،،،،، اسکے پکارنے پر مان نے اسکی گردن سے چہرہ اٹھایا تھا اور اسے ایسے سانسیں بھرتے دیکھ جیسے خود پر کنٹرول کھوتے اس کے شبنمی لبوں پر جھکا اور اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا ۔۔۔

وہ اسکی شرٹ کے کالر کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں بھینچ گئی ،،، وہ دھیرے دھیرے اسکی سانسوں کو پیتے اسے خود میں جیسے گم کر رہا تھا ۔۔۔

انکے آس پاس فضاء میں محبت رقص کر رہی تھی جبکہ آسمان سے گرتی بارش کی پاک بوندیں انکی پاکیزہ عشق کی گواہ تھیں ۔۔۔

*********

مان کے ذکر پر وہ اسکا لال ہوا چہرہ دیکھ چکی تھی جس پر اسکا دل قہقہ لگانے کو چاہ رہا لیکن پھر اسکے خفا ہو جانے کے ڈر سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے ۔۔۔

اسے اپنی معصوم سی بہن پر بہت پیار بھی آ رہا تھا جسکا وہ ابھی عملا اظہار بھی کرتی کہ ہنستے ہوئے اچانک اسکی نظر پیچھے کھڑے مان پر پڑی تھی ابھی وہ کچھ کہتی کہ اس نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔

وہ اسے اشاروں میں سے کچھ کہہ رہا تھا جسے سمجھتے پہلے تو اس نے نفی میں سر ہلایا لیکن پھر اس کے اسرار کرنے پر مان گئی ۔۔۔

لیکن جاتے ہوئے اسے احسان یاد رکھنے کا اشارہ کرنا نہیں بھولی تھی ۔۔۔وہ مان کی حرکتوں کو یاد کرتے مسکراتے ہوئے جا رہی تھی کہ اچانک کسی دیوار نما چیز سے ٹکرا گئی ۔۔

ایک پل کیلئے تو اسے اپنی آنکھوں کے سامنے تارے ناچتے ہوئے نظر آئے ۔۔۔لیکن جیسے ہی اس نے نظریں اٹھائی سامنے موجود ہستی کو دیکھتے اور اپنی حالت کا احساس کرتے اسکے گلابی گال دہکنے لگے تھے ۔۔۔

اس نے راستہ بدل کر نکلنا چاہا کہ سامنے والے نے ایک ہاتھ سے اسکا بازو پکڑتے اپنی طرف کھینچا وہ کسی ٹوٹی شاخ کی طرح اسکے سینے سے آ لگی تھی ۔۔۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھ درمیان میں رکھ کر فاصلہ قائم کرنا چاہا لیکن سامنے والے اپنی گرفت اور سخت کرتے اسکی ہر کوشش ناکام بنا دیا ۔۔۔اس نے بےبس نگاہیں اٹھا کر سامنے موجود وجود کو دیکھا جس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھے کہ جو وہ شرارت باہر اپنی بہن کے ساتھ سر انجام دے کر آئی تھی ،،،، اس پر الٹی پڑنے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔

********

وہ اس وقت بہت اونچی بلڈنگ کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔جس پر جلی حروف میں شاہ انڈسٹری لکھا گیا تھا ۔۔۔بہت سی جگہوں سے ریجیکٹ ہونے کے بعد یہ جگہ اسکی آخری امید تھی ۔۔۔

لیکن اس عمارت کی اونچائی کو دیکھتے ہوئے اسے کا چھوٹا سا دل اندر سے بہت گھبرا رہا تھا ۔۔۔

پر اس نے ہمت سے کام لیتے ہوئے قدم اندر کی طرف بڑھائے تھے ۔۔۔ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی سے اس نے انٹرویو کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔

جس نے پہلے تو استہزائیہ نظروں سے اوپر سے لے کر نیچے تک اسکا جائزہ لیا ۔۔ پھر ٹینتھ فلور کا بتایا ۔۔۔

اس نے قدم لفٹ کی طرف بڑھائے جب وہ اوپر پہنچی تو اسے ویٹنگ روم بیٹھنے کیلئے کہا گیا ۔۔

وہاں اس کے علاوہ بھی دو تین اور لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں جن میں سے دو تو ضرورت سے زیادہ ہی ماڈرن ڈریس میں تھیں اور انہوں نے اپنے چہرے پر ڈھیر سارا میک اپ بھی لگا رکھا تھا ۔۔۔

جس کی وجہ سے وہ کسی اور ہی جہان کی مخلوق لگ رہی تھیں ۔۔۔لیکن نخرے ایسے دکھا رہی تھیں جیسے کہیں کی شہزادیاں ہو ۔۔جسے دیکھتے اس نے بمشکل اپنی ہنسی روکی ،،،، جبکہ ایک لڑکی سمپل ڈریس میں تھی لیکن اس نے بھی ڈوپٹہ سر پر لینے کی جگہ گلے میں اوڑھ رکھا تھا ۔۔۔جس نے اسے دیکھ کر ہلکی سی سمائل دی تھی ۔۔

بدلے میں وہ بھی مسکرائی ۔۔۔

ایک ایک کر کے سبھی اندر چلی گئی بس لاسٹ میں اب وہی رہ گئی تھی ۔۔۔جب اس کا نام پکارا گیا ۔۔۔اس نے پہلے ایک لمبا سا سانس کھینچ کر خود کو ریلکس کیا پھر اس روم کی طرف بڑھ گئی جہاں اسکا انٹرویو ہونا تھا ۔۔۔

اس نے دروازہ ہلکا سا نوک کیا تھا ۔۔۔ ” کمنگ ” ایک بھاری گمبھیر آواز دروازے کے اس پار سے سنائی دی ۔۔اس نے اپنے ہاتھوں میں موجود فائل پر اپنی پکڑ مضبوط کی اور آرام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی ۔۔

اس نے اپنی نظریں جھکا رکھی تھیں پتا نہیں کیوں اسے بہت زیادہ ڈر لگ رہا تھا ۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بالکل ٹیبل کے سامنے آ کھڑی ہو گئی ۔۔۔اور جب اس نے اپنی نظریں اٹھائی تھی تو سامنے موجود ہستی کو دیکھتے ایک پل کیلئے ساکت ہو گئی ۔۔۔

کریم کلر کے فارمل آفس ڈریس سوٹ میں وہ اپنی پرکشش شخصیت کے ساتھ وہاں براجمان تھا ۔۔۔ جبکہ اسکی اوشن بلیو آئز سامنے موجود فائل پر مرکوز تھیں اس نے اسے بنا دیکھے ہی ایک ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

جسے دیکھتے وہ ہوش میں آئی اور چیئر کھینچ کر بیٹھ گئی اس سب میں اس نے ایک پل کیلئے بھی اسکے چہرے سے نظریں نہیں ہٹائی تھیں ۔۔۔جبکہ سامنے والے کی مکمل توجہ ہاتھ میں موجود فائل پر تھی ۔۔۔جس پر سائن کرتے ہوئے اسے بند کیا اور اب اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

اور جیسے اسکے دل کی مراد پوری ہوئی تھی ان نیلی خوبصورت آنکھوں کو دوبارہ دیکھنے کی جنہوں نے کل رات سے ایک پل کیلئے بھی اسے سکون نہیں لینے دیا تھا ۔۔۔

کل جب وہ ہاسپٹل سے گھر پہنچی تو شبنم بیگم اس کی ماں بےچینی سے اسکا انتظار کر رہی تھیں ۔۔انکے چہرے سے پریشانی واضح تھی کیونکہ اسے گھر آتے ہوئے ضرورت سے زیادہ دیر ہو گئی تھی ۔۔۔

پر اس نے کسی طرح انہیں بہلا لیا تھا اور جب انہوں نے اس سے نوکری کا پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا جس سے ان کے چہرے پر بھی مایوسی چھا گئی ۔۔۔

لیکن اس نے انکو امید دلائی کہ کل وہ جس جگہ پر انٹرویو کیلئے جا رہی ہے وہاں اسے نوکری ضرور ملے گی ۔۔۔

انہیں دوائی دے کر سونے کی تاکید کرتی وہ خود فریش ہونے واشروم چلی گئی ۔۔۔

اور جب تک واپس آئی تو وہ سو چکی تھیں انکے پاس ہی لیٹتے اس نے جیسے ہی سونے کیلئے آنکھیں بند کی تو دو نیلی آنکھیں جن میں سرخی چھائی ہوئی تھی اس کے سامنے آگئی اس نے فورا اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔اپنے ساتھ شبنم بیگم کو دیکھا جو ویسے ہی سوئی ہوئی تھیں۔۔۔

پھر سر جھٹکتے ہوئے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں ۔۔۔لیکن پھر وہی خوبصورت آنکھیں سامنے آ گئی ۔۔اس بار وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔ اسکی باقی کی ساری رات ایسے ہی کروٹیں بدلتے گزر گئی ۔۔۔۔

اب اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہوئے اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ جسے دوبارہ دیکھنے کی چاہ اس کے دل نے کی تھی وہ اتنی جلدی اسکے سامنے آ جائے گا ۔۔اس نے سوچا بھی نا تھا ۔۔۔

جبکہ اس کے خود کو ایسے تکنے پر واسم کی پیشانی پر بل آئے تھے ۔۔۔اس نے پینسل سے ٹیبل کو بجاتے اسے جیسے ہوش دلانا چاہا ۔۔۔جس میں وہ کامیاب بھی ہوا ۔۔۔

وہ خجل ہوتے اپنا سر جھکا گئی تھی پھر خود کو کمپوز کرتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔۔لیکن دوبارہ اسکے چہرے کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔

واسم نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جس میں اس نے اپنے ڈاکومنٹس پکڑا دیئے تھے ۔۔۔

جی تو مس معروف حسن آپ یہ جوب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔ ایک نظر اس فائل کو دیکھتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

جی مجھے ضرورت ہے اس جوب کی ۔۔۔ ایک نظر اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔۔جو بالکل بےتاثر تھا بہت ڈھونڈنے پر بھی معروف کو اسکے چہرے پر کوئی پہچان کی رمک نہیں ملی تھی ۔۔۔

لیکن آپکی کوالیفیکیشن اس جوب کیلئے ناکافی ہے ۔۔۔دوسرا آپ کے پاس کوئی ایکسپرینس بھی نہیں ۔۔۔ آپکو یہ نوکری نہیں مل سکتی ۔۔۔اسکی فائل دوبارہ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے صاف جواب دیا تھا ۔۔۔

لیکن سر !! اس نے ابھی لب کھول کر کچھ کہنا چاہا کہ اس نے اشارے سے روک دیا ۔۔۔لیکن ویکن کچھ نہیں ایک بار کہہ دیا نا کہ آپکو یہ نوکری نہیں مل سکتی ۔۔۔اب آپ جا سکتی ہیں ۔۔۔

جبکہ اس کے اتنی سختی برتنے پر معروف کی آنکھیں پل میں لبا لب آنسوؤں سے بھر گئی ،،، بمشکل خود کو رونے سے باز رکھتے ٹیبل سے اپنی فائل اٹھاتے وہ اٹھی تھی ۔۔۔اور آخری نگاہ اس بےرحم کے چہرے پر ڈالتے پلٹ گئی ۔۔۔

اچھا رکیں ایک منٹ ،،،، ابھی وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے دروازے تک پہنچی تھی کہ اس نے پیچھے سے اسے رکنے کا بولا ۔۔۔

معروف نے پلٹتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔آپ کو یہ جوب تو نہیں مل سکتی لیکن میرے پاس آپ کیلئے دوسری جوب ہے اگر آپ کرنا چاہیں تو ۔۔۔

اس کے چہرے پر ایک بار پھر امید کی کرن روشن ہوئی ،،، جی سر میں کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔واپس ٹیبل کے قریب آتے وہ خوشی سے بولی تھی ۔۔۔ ٹھیک ہے آپکو آپکا اپوئٹمینٹ لیٹر ریسیپشن سے مل جائے گا ۔۔آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں ۔۔۔

لیکن سر مجھے کرنا کیا ہوگا ۔۔۔وہ جب آپ جوائن کرے گی تو بتا دیا جائے گا ۔۔۔یو مے گو ناو ۔۔۔ اس نے بات ختم اسے جانے کا بولا تھا ۔۔۔

وہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پلٹ گئی اس بار اسکی آنکھوں میں آنسو نہیں بلکہ ایک چمک تھی اور ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ ۔۔۔

واسم نے پرسوچ نظروں سے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔وہ اسے اپنے سامنے دیکھتے ہی پہنچان چکا تھا ،،،، اور اسکی اپنے چہرے کو کھوجتی نظریں بھی ۔۔۔لیکن اس نے اپنا چہرہ بے تاثر ہی رکھا تھا ۔۔۔

پھر جوب کیلئے انکار پر اس آنکھوں میں اترتی نمی اسکی زیرک نگاہوں سے مخفی نہیں تھی شاید وہ بہت حد تک اس کے ڈپریشن کی وجہ بھی سمجھ چکا تھا ۔۔۔لیکن اسے ان سب باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔

پر پتا نہیں کیوں اسکی آنکھوں میں آنسو اور اسکے چہرے کی مایوسی واسم شاہ کو اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔اس لیے اس نے اسے دوبارہ جوب آفر کی تھی ۔۔۔

ویسے بھی کام کا برڈن زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا پی اے اکیلے سب کچھ سنبھال نہیں پا رہا تھا ۔۔۔وہ خود کیلئے ایک ہیلپر رکھنے کا سوچ رہا تھا جو اسکے چھوٹے موٹے کام سر انجام دے سکے ۔۔۔

اور جوب مل جانے کی خوشی میں اس کے چہرے پر اترتا سکون دیکھتے اسے بھی تسلی ہوئی تھی ۔۔۔ اس لڑکی کیلئے ایک الگ سا احساس واسم شاہ کے اندر پیدا ہو رہا تھا ۔۔۔جسے وہ ہمدردی کا نام دیتے ہوئے آنے والے وقت سے خود بھی انجان تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *