Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 13)Part 2
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 13)Part 2
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
آج گاؤں کے کسی بھی گھر میں چولہا نہیں جلا تھا کیونکہ حیدر شاہ نے اپنے پوتے کی جیتنے کی خوشی میں حویلی میں دعوت عام دی تھی ۔۔۔
سب انتظامات تو انہوں نے پہلے سے ہی مکمل کر رکھے تھے ۔۔۔کیونکہ انہیں اپنے پوتے کی قابلیت پر پورا یقین تھا ۔۔۔۔حویلی کے وسیع لان میں کناتے لگا کر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔۔۔۔
یہاں ایک طرف عورتوں کیلئے جبکہ دوسری طرف مردوں کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔۔جبکہ سرداروں کے ڈیرے پر الگ سے جشن منایا جا رہا تھا ۔۔۔جس میں ضارب شاہ کے کچھ دوست شامل تھے ۔۔۔
یہاں آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کے ساتھ ساتھ ڈھول کی ٹھاپ پر بنگڑیں بھی ڈالے جا رہے تھے ۔۔۔۔
لیکن ضارب وہاں نہیں گیا تھا ،،،، کیونکہ اسے زیادہ شور شرابہ پسند نہیں تھا اس لیے وہ گھر پر ہی دادا سائیں کے ساتھ بیٹھا تھا ،،،، یہاں گاؤں کے کچھ معزز بزرگان براجمان تھے ۔۔۔۔
ساتھ گاؤں کے افراد اسے وہاں آ کر مبارکباد کے ساتھ ساتھ روشن مستقبل کی دعائیں بھی دے رہے تھے ۔۔۔۔
جبکہ میڈیا نے الگ سے ادھم مچا رکھا تھا ،،،، لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود انہیں حویلی کے اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی ۔۔۔
بلکہ ضارب خود باہر جا کر ان سے ہلکی پھلکی بات کرتے ہوئے انکی مبارکباد وصول کر آیا تھا ۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ وہاں بیٹھے بات ہی کر رہے تھے جب ارمغان شاہ کے ساتھ واسم وہاں آیا تھا ،،،،، اور آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی ،،،،، جسے مسکرا کر اس نے قبول کیا ۔۔۔۔
وہاں موجود لوگ مہبوت ہو کر حیدر شاہ کے پوتوں کو دیکھ رہے تھے ،،،،، جو ساتھ کھڑے اس قدر شاندار لگ رہے تھے ،،،، کہ تعریف کیلئے لفظ کم پڑ جائیں ۔۔۔۔۔
لوگوں کیلئے انہیں ایک ساتھ دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ دونوں میں سے زیادہ کون پیارا تھا ۔۔۔۔
ضارب سے بات کر کے ابھی واسم واپس جاتا کہ دادا سائیں نے اسے رکنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔ساتھ وہاں موجود سبھی کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے جب بولے تو ان کے لہجے میں اپنے بچوں کیلئے فخر بول رہا تھا ۔۔۔
ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس قدر نیک اور فرمانبردار اولاد سے نوازا ہے ۔۔۔۔جنہوں نے کبھی ایسا فیل انجام نہیں دیا جس سے ہمارا سر شرم سے جھک سکے ۔۔۔۔۔
بلکہ ہر جگہ اور ہر مقام پر فخر سے بلند ہی کیا ہے ۔۔۔۔چاہیں وہ ہمارے بیٹے ہوں ،،، بھتیجے یا پھر ہمارے پوتے ،،،، جس کیلئے ہم اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کریں اتنا ہی کم ہے ۔۔۔۔
اور اس خوشی کے موقع پر ہم آپ سب کے ساتھ اپنی ایک اور خوشی بانٹنا چاہتے ہیں ،،،، کیونکہ آپ سب بھی ہمیں اپنے خاندان کی طرح ہی عزیز ہیں ۔۔۔۔
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بہت جلد ہم اپنے دونوں پوتوں کی ایک ساتھ شادی کریں گے ۔۔۔۔کیونکہ دونوں اپنی اپنی لائف میں اب سیٹ ہو چکے ہیں تو ،،،،، وقت کا کیا پتا چلتا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ہی انہیں دلہا بنا دیکھ لیں ۔۔۔۔۔جبکہ انکے اس اعلان کے بعد ایک بار پھر فضاء میں مبارکباد کا شور بلند ہوا تھا ۔۔۔۔
اور جن کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جا رہا تھا ۔۔۔۔انکے چہرے بالکل بے تاثر تھے ۔۔۔۔جن سے وہ خوش تھے یا نہیں فلحال اندازہ لگانا مشکل تھا ۔۔۔۔
ہاں دونوں چپ ضرور ہو گئے تھے ۔۔۔۔لیکن انکی آخری بات پر دونوں غصہ ہوتے انہیں باری باری گلے ضرور لگا گئے تھے ،،،،، کیونکہ ان دونوں کو اپنے دادا سائیں جان سے بھی زیادہ عزیز تھے ۔۔۔
جبکہ انکی پازیزونس پر مسکراتے ہوئے حیدر شاہ نے بھی اپنے پوتوں کو سینے میں بھنچتے صدا خوش رہنے کی دعا دی تھی ۔۔۔۔
*********
زارون جو وہی موجود تھا اس نے حویلی کے اندر جا کر یہ خوشی کی خبر باقی گھر والوں کو بھی سنائی تھی ۔۔۔۔
جسے سنتے ابرش اور ابیہا تو خوشی سے پاگل ہونے کے قریب تھیں ۔۔۔۔بلکہ انہوں نے تو ابھی سے انہیں کیسی بھابھی چاہیے یہ سوچنا بھی شروع کر دیا تھا ۔۔۔
جن میں زرمینے بھی انکا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔۔جبکہ انکی اوٹ پٹانگ حرکتوں اور سوچ پر گھر کی بڑی خواتین اپنی مسکراہٹ دبا رہی تھیں ۔۔۔۔
کیونکہ اس بات کا ذکر حیدر شاہ پہلے ہی ان سے کر چکے تھے ۔۔۔۔اور اپنے فیصلے کے بارے میں بھی ان سب کو آگاہ کر دیا تھا ۔۔۔۔
جس پر ان سب کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔۔۔۔لیکن بات ابھی بچوں تک نہیں پہنچی تھی اور آخری فیصلہ ان سب کی رضامندی پر ہی کیا جانا تھا ۔۔۔
کیونکہ زندگی بھی تو ان لوگوں نے ہی گزارنی تھی ۔۔۔۔
***********
ضارب واپس جانے سے پہلے دادا سائیں کے کمرے میں ان دونوں سے ملنے آیا تھا ۔۔۔۔ دوپہر میں اسکی پارلیمنٹ میں حلف اٹھانے کی تقریب تھی ،،،، اور شام میں شاہ مینشن میں پارٹی ،،،،، جس میں اس نے ملک کی مشہور سیاسی شخصیات کو بلایا تھا ۔۔۔۔
اور ساتھ میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ اہم کانفرنس تھی ۔۔۔۔جس میں وہ اپنے مستقبل کے طے کردہ لاہ عمل کے بارے میں بتانے والا تھا ۔۔۔۔
جس کے بارے میں وہ دادا سائیں سے بھی انکی رائے پوچھ رہا تھا ،،،،، کیونکہ ایک وقت میں وہ بھی ان سب کا اہم حصہ رہ چکے تھے ۔۔۔۔۔ اپنی بات مکمل کرتے اور ان دونوں سے پیار لیتے ابھی وہ جانے ہی والا تھا ۔۔۔۔
جب اماں سائیں کے اشارے پر حیدر شاہ نے اسے روکتے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔
انہوں نے ایک نظر اسکے چہرے کے طرف دیکھتے اپنی بات کا آغاز کیا تھا ۔۔۔۔۔
ضارب جیسا کہ ہم پہلے بھی آپ سے ذکر کر چکے ہیں کہ اب ہم آپکی شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔اور وہ بھی جلد از جلد ،،،،، تو اگر آپ کو کوئی لڑکی پسند ہے تو آپ ہمیں بتا سکتے ہیں ۔۔۔۔
دادا سائیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ،،،، اگر ہم کسی کو پسند کرتے تو سب سے پہلے آپکو ہی بتاتے ،،،،، اور دوسرا اتنی جلدی ہم ابھی شادی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ابھی ہم ان سب کیلئے تیار نہیں ہیں ۔۔۔انکی بات سنتے وہ عاجزی سے بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن ہمارا ماننا ہے اب آپکی شادی ہو جانی چاہیے ۔۔۔۔ہم تو آپکی شادی آپکے سردار بنتے ہی کر دینا چاہتے تھے ،،،،، لیکن تب بھی آپ نے ہمیں ایسے ہی انکار کیا تھا ۔۔۔۔
لیکن اب ہم آپکی ایک نہیں سنے گے ۔۔۔۔وہ اپنی بات پر زور دیتے بولے تھے ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے جیسی آپکی مرضی ،،،، آپ جب کہیں گے جس سے کہیں گے ہم نکاح کرنے کیلئے تیار ہیں اب خوش ،،،،، انکی بات کا مان رکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ بھی فخر سے مسکرائے تھے ۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے ہم اپنی پسند کی لڑکی سے رشتہ طے کر دیں آپکا ،،،، جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔
آپ پوچھیں گے نہیں کہ ہم نے آپ کیلئے کسے پسند کیا ہے ،،،،، نہیں کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ آپ ہمارے لیے جو بھی فیصلہ لے گے وہ بہترین ہوگا ۔۔۔۔
وہ لوگ ابھی بات کر ہی رہے تھے جب دروازہ ہلکا سا ناک کرتے ابرش اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔
وہ جو دادا سائیں اور اماں سائیں کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے کیلئے آئی تھی اسے وہاں بیٹھے دیکھ کر دروازے سے واپس مڑ جانا چاہا جب پیچھے سے حیدر شاہ نے اسے آواز دی تھی ۔۔۔۔
آبی بیٹا واپس کیوں جا رہی ہیں ۔۔۔اندر آ جائیں ۔۔۔
وہ دادا سائیں مجھے لگا کہ آپ لوگ ضروری بات کر رہے ہیں ،،،، بس اسی لیے واپس جا رہی تھی ۔۔۔وہ جھجکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ایسی کوئی ضروری بات نہیں جو آپکی موجودگی میں نا کی جا سکے ۔۔۔۔اس لیے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ادھر آ کر ہمارے پاس بیٹھے ،،،، اپنے پہلو میں جگہ بناتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
وہ چپ چاپ آ کر انکی بتائی جگہ پر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔۔
ضارب نے اسکے چہرے کے تاثرات سے محسوس کیا تھا کہ شاید وہ اسکے وہاں بیٹھنے کی وجہ سے ڈسٹرب ہو رہی تھی ۔۔۔اس لیے وہ دادا سائیں کو الوداعی کلام کہتے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
ارے اتنی جلدی بھی کیا ہے بھئی ۔۔۔۔کچھ دیر ہمارے ساتھ اور بیٹھتے ،،،،، نہیں دادا سائیں ہمیں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ ایکچویلی ہمارا وقت سے پہلے شہر پہنچنا بہت ضروری ہے اس لیے اب ہم چلتے ہیں ۔۔۔
ان شااللہ جلد دوبارہ حویلی کا چکر لگائیں گے ۔۔۔۔وہ ان سے مسکرا کر کہتا دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔
اور وہ پیچھے اسکی حفاظت کی دعا کرتے ابرش کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔جو ضارب کے جانے کے بعد کافی ریلکس ہو گئی تھی ۔۔۔۔
جسے دادا سائیں تو نہیں لیکن اماں سائیں نے ضرور محسوس کیا تھا ۔۔۔۔لیکن پھر ضارب شاہ کے بڑے ہونے کی وجہ سے اسکی ہچکچاہٹ سمجھتے سر جھٹک گئی ۔۔۔۔
************
زندگی ایک معمول کے ڈگر پر چل نکلی تھی ۔۔۔۔ابرش ، ابیہا ، زرمینے سمیت زارون کے بھی ایگزیمز ہو رہے تھے ،،،، جس میں وہ بری طرح مصروف تھے ۔۔۔
واسم اپنے آفس جبکہ ضارب کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسکی زمےداریاں کچھ اور بھی بڑھ گئی تھیں ۔۔۔جس کی وجہ سے مہینے میں صرف وہ ایک دو بار ہی حویلی کا چکر لگا پایا تھا ۔۔۔
اسکے حلف اٹھاتے ہی آئی پی پی کے علاوہ دوسری پارٹیوں نے اسے اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی تھی ۔۔۔۔جسے اس نے اس بارے میں سوچنے کا بولتے کچھ وقت لیا تھا ۔۔۔
کیونکہ فلحال وہ کسی کے بھی ساتھ جڑنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی غیر موجودگی میں گاؤں کی ساری زمےداریاں حیدر شاہ کے ساتھ موسی شاہ سنبھال رہے تھے ۔۔۔۔
جنہوں نے فلحال بچوں کے امتحانات کا سوچتے ہوئے کچھ وقت کیلئے خاموشی اختیار کر لی تھی ،،،،، جن کے ختم ہوتے ہی انہوں نے ضارب اور واسم سے تفصیلی بات کرنے کا سوچا تھا ۔۔۔۔
لیکن جو کچھ وہ سوچیں بیٹھے تھے وہ انکی خواہش مطابق ہونا تھا یا نہیں یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا ۔۔۔۔
