Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 64)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 64)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
شاہ حویلی کے سبھی افراد ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑے ہو کر ضارب کی سلامتی کی دعا کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
جو اندر آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔
واسم ضارب کو کندھے پر اٹھا کر فورا یونی کے گیٹ کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔جبکہ اسکے پیچھے پیچھے ہی ابیہا نے دوڑ لگائی ۔۔۔۔۔جس کی آنکھوں سے آنسو متواتر بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
واسم نے باہر آتے ہی خان کو دھاڑ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے کا بولا ۔۔۔۔۔
وہ جو ابھی ابرش کو گاڑی کے اندر بٹھا کر دروازہ بند کر رہا تھا ۔۔۔۔۔اسکی دھاڑ پر پلٹ کر اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
جسکے کندھے پر اسکا سائیں زخمی حالت میں موجود تھا ۔۔۔۔۔اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا کیونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ ضارب کو سہی سلامت اندر چھوڑ کر آیا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے واسم کی ہدایت پر عمل کرتے گاڑی کا دروازہ مکمل کھول دیا تھا ۔۔۔۔۔
ابرش جو گاڑی کے اندر بیٹھی ہوئی تھی حیران نظروں سے صورتحال سمجھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
جب واسم نے بہت احتیاط کے ساتھ ضارب کو گاڑی کے اندر سیٹ پر ڈالا جسکی آنکھیں تقریبا اب بند ہونے کے قریب تھی ۔۔۔۔۔۔
ہے بھائی ” ضارب آنکھیں بند نہیں کرنا ۔۔۔۔بس تھوڑی سی ہمت اور ہم ابھی ہاسپٹل پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔اسکا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے پیار سے بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے کو تیار تھے جنہیں واسم نے بہت ضبط کے ساتھ روک رکھا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے بھائی بولنے پر ضارب اتنی تکلیف میں بھی مسکرایا تھا ۔۔۔۔
اپنا پہنا ہوا کوٹ اتار کر اسکے زخم پر باندھا تاکہ کچھ پل کیلئے خون رک جائے ۔۔۔۔۔
اور دروازہ بند کرتے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا ۔۔۔۔۔
اور ابیہا کے اندر بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے پیچھے ہی گارڈز کی گاڑیاں نکلی تھیں ۔۔۔۔۔
ابرش نے بہت احتیاط کے ساتھ ضارب کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا تھا ۔۔۔۔
سائیں “
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے محبت کے ساتھ پکارا ۔۔۔۔
جبکہ نیلے سمندر سے آنسو بہنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔ضارب جو تقریبا ہوش گنوانے کے قریب تھا ۔۔۔۔۔
ابرش کا اپنے قریب آنا پکارنا اور پیار سے چھونا محسوس کر چکا ۔۔۔۔۔
اپنی ساری ہمت جمع کرتے ہوئے اس نے بمشکل اپنی بند ہوتی آنکھیں کھولیں تھیں جو سیدھی اسکے نیلے سمندر سے ٹکرائی تھیں ۔۔۔۔۔
جن میں اس کیلئے فکر تھی ،، تڑپ تھی ،، محبت تھی ۔۔۔۔۔
اسکے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر ضارب کے دل کو تکلیف ہوئی ۔۔۔۔۔اس نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا ۔۔۔۔۔تاکہ اسکے آنسو صاف کر سکے ۔۔۔۔
لیکن پھر اسکی باتوں کو یاد کرتے ۔۔۔۔۔یکدم اسکے تاثرات بدلے ۔۔۔۔۔اور اس نے اپنے چہرے پر رکھے ہوئے ابرش ہاتھوں کو جھٹکا ۔۔۔۔۔
اور اسکی گود سے سر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔
سائیں “ابرش نے تڑپ کر پکارتے اسے ایسا کرنے سے روکا ۔۔۔۔۔۔
خبر ،،،،، خبردار ،،،،، آپ نے ،،،،، ہمیں اس ،،،،نام سے ،،،،، پکارا ،،،،، آپ ہمیں ،،،، اس نام سے پکارنے ،،،،، کا حق کھو چکی ہیں ۔۔۔۔۔۔
تکلیف زدہ لہجے میں اسے ٹوکتے ہوئے ۔۔۔۔۔دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔
ابرش نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
ابیہا جسکا دھیان ان دونوں کی طرف ہی تھا ابرش کی طرف سوالیہ دیکھنے لگی ۔۔۔۔
جس پر اس نے نظریں چرائی ۔۔۔۔۔
جبکہ واسم نے گاڑی کی سپیڈ کچھ اور تیز کی تھی ۔۔۔۔۔
ضارب جو ابرش کے ہاتھ جھٹک کر اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔اسکے زخموں پر کھینچاو پڑنے پر تکلیف کی ایک شدید لہر اسکے وجود میں سرائیت کر گئی تھی ۔۔۔۔۔
جس سے اسکے منہ سے کراہ نکلی ۔۔۔۔۔
ابرش نے اسکے کندھوں پر دباؤ بڑھاتے دوبارہ اسکا سر اپنی گود میں رکھا تھا ۔۔۔۔۔
ضارب نے غصے سے چہرہ پھیرا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے مدد طلب نظروں سے ابیہا کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
جس پر ابیہا نے اسے آنکھوں سے ہی تسلی دی پھر دوبارہ سیدھا ہو کر واسم سے مخاطب ہوئی ۔۔۔۔۔
پلیز جلدی چلائیں ۔۔۔۔لالا کی حالت بگڑتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔
واسم نے سر ہلایا ۔۔۔۔۔
دوسری طرف ضارب اب اپنے حواس مکمل طور پر کھو چکا تھا ۔۔۔۔۔
سائیں “
اسکی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے ابرش نے اسکا چہرہ تھپتھپایا ۔۔۔۔۔
لیکن جواب ندارد ۔۔۔۔”
لالا “
ضارب کے جواب نا دینے پر اس نے واسم کو پکارا ۔۔۔۔۔
واسم نے پیچھے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔یہ آنکھیں نہیں کھول رہے ۔۔۔۔۔
پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
حوصلہ کرو گڑیا ہم بس پہنچنے والے ہیں ۔۔۔۔۔گاڑی کی سپیڈ اور تیز کرتے بیس منٹ کا راستہ پانچ میں طے کرتے ہوئے اس نے گاڑی ہاسپٹل کے احاطے میں روکی ۔۔۔۔
اور فورا باہر نکلتے ہوئے گاڑی پچھلا دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔
تبھی پیچھے گارڈز کی گاڑیاں آ کر رکی جس سے نکلتے خان نے اسکی مدد کرتے ہوئے سٹیچر پر ڈالا تھا ۔۔۔۔۔
پھر وہ اندر کی طرف بڑھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ضارب شاہ کو گو*لیاں لگنے کی خبر پورے ملک میں ۔۔۔۔جنگل میں لگنے والی آگ کی طرح پھیلی تھی ۔۔۔۔۔
لوگ اپنے لیڈر کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔۔۔۔۔
اسکے مجرموں کی فوری گرفتاری کی ڈیمانڈ کی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔جگہ جگہ مسجدوں میں اسکی سلامتی کیلئے دعائیں کروائی جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
اس خبر کے پتا چلتے ہی تقریبا پورا لاہور ہی سڑکوں پر نکل آیا تھا ۔۔۔۔۔
سب کی نظریں ہی ٹیوی پر آنے والی خبروں پر ٹکی ہوئی تھیں کہ کب اسکی طبیعت کے بارے کوئی خیر خبر مل سکے ۔۔۔۔
لیکن فلحال ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔
نا اسکے خاندان نے میڈیا پر آ کر اسکے بارے میں کچھ بتایا تھا اور نا ہی پارٹی ممبرز کچھ بتا رہے تھے ۔۔۔۔۔
بس دوپہر میں اس کے سینئرز نے پوری قوم کے آگے اس کیلئے دعا کی اپیل کی تھی ۔۔۔۔۔
اور اب دوپہر سے شام اور شام سے رات ڈھل چکی تھی لیکن ابھی تک کوئی نیو اپڈیٹ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
البتہ یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کو جس میں ضارب زخمی ہوا تھا اسے دہشت گردوں کا حملہ قرار دیتے ہوئے نامعلوم افراد کیخلاف رپورٹ درج کر لی گئی تھی ۔۔۔۔۔
اور جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کرتے ہوئے پولیس نے اپنی تشویش بھی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔
اور میڈیا پر آ کر عوام کے سامنے اعلان کیا تھا کہ بہت جلد وہ مجرموں کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں کیف کردار تک پہنچائے گے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف حیدر شاہ اس خبر کے سنتے ہی پورے خاندان کے ہاسپٹل پہنچے تھے ۔۔۔۔۔
حالانکہ عمائمہ بیگم ( اماں بیگم ) کی حالت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔۔لیکن وہ بھی اپنے پوتے کی حالت کے بارے میں سنتے ہوئے ضد کر کے ساتھ چلی آئی تھیں ۔۔۔۔۔
اب سب لوگ بیٹھے ہوئے اسکی سلامتی کے دعا مانگ رہے تھے ۔۔۔۔۔جبکہ اندر ضارب کا آپریشن چل رہا تھا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز نے اسکی حالت کافی تشویش ناک بتائی تھی ۔۔۔۔۔جس کے چلتے ہوئے انہوں نے واسم سے ایک فارم پر سائن لیے تھے کہ اگر آپریشن کے دوران ضارب کو کچھ ہو گیا تو ہسپتال انتظامیہ اسکی ذمہ دار نہیں ہوگی ۔۔۔۔
جبکہ انکی بات سن کر وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
اگر میرے بھائی کو کچھ ہوا تو تمہارے اس ہاسپٹل کو اپنے ہاتھوں سے آگ لگا دوں گا ۔۔۔۔۔۔
تم لوگ ابھی جانتے نہیں ہو کہ واسم شاہ کیا چیز ہے ۔۔۔۔
ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑتے ہوئے وہ دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔۔جبکہ اسکی دھاڑ پر اس نیلی آنکھوں والے شہزادے کو لوگ رک کر مہبوت نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
جس کی وائٹ شرٹ ضارب کے خون سے مکمل بھیگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ بازو اس نے کہنیوں تک فولڈ کر رکھے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اس رف ٹف حلیے میں بھی دھڑکنوں کو ساکت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اس کی حالت اس وقت بپھرے ہوئے شیر کی جیسے تھی ۔۔۔۔۔اپنے بھائی کیلئے ایسے الفاظ سن کر اپنا آپا کھوتے وہ ہاتھاپائی پر اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اس سرخ چہرے نیلی آنکھوں والے ملکلموت کو اتنے قریب سے دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ڈاکٹر نے سہم کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
جس پر واسم نے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا ۔۔۔۔۔اور وہ سیدھا زمین پر جا کر گرا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکو غصے کی انتہا پر پہنچے دیکھ کر ابرش ابیہا کی ہمت نہیں ہوئی اسے آگے ہو کر روک سکے ۔۔۔۔۔
لیکن خان نے ضرور زمین گرے ہوئے ڈاکٹر کو سہارا دے کر اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ بنا ایک بھی پل ضائع کیے اندر ضارب کی روم کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی پھرتی کو دیکھتے وہاں موجود لوگوں کے ساتھ اتنی ٹینشن میں بھی خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے اپنی چھب دکھلائی تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کیسے ہے میرا لالا ؟؟؟؟
ڈاکٹر کے آئی سی یو سے باہر آتے ہی زارون نے فورا آگے بڑھ کر پوچھا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ باقی خاندان کے افراد بھی انکے قریب آتے ہوئے انہیں امید بھری نظروں سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس اس ڈاکٹر کی نظر تو واسم شاہ پر ٹکی ہوئی تھیں ۔۔۔۔جس کی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
جنہیں دیکھ کر اس نے بمشکل تھوک نگلتے اپنا حلق تر کیا ۔۔۔۔۔
جب حیدر شاہ آگے بڑھے ۔۔۔۔۔
آپ بتا کیوں نہیں رہے کہ ضارب ابیہا کیسے ہیں ؟؟؟؟
دیکھیں سر ہم نے انکی گولیاں نکال دی ہیں ۔۔۔۔۔لیکن خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے فلحال انہیں ہوش نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔
تو تم کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔اسے خون چڑھاو ۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے واسم غصے سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
واسم ۔۔۔” جیسے بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔
اس کے لہجے کو دیکھتے ہوئے حیدر شاہ نے اسے ڈپٹتا تھا ۔۔۔۔
سر ہم نے خون لگا دیا ہے ۔۔۔۔اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں ہوش آ جائے ۔۔۔۔۔
لیکن جب تک وہ ہوش میں نہیں آتے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔آپ لوگ دعا کریں ۔۔۔۔۔
اتنا کہتے ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات سن کر حیدر شاہ پاس رکھے بینچ پر ڈھے گئے ۔۔۔۔۔جن کے قریب بیٹھتے ہوئے ارمغان نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے حوصلہ دیا تھا ۔۔۔۔۔
پتا نہیں ہمارے بچے کی اور کتنی آزمائش باقی ہے ۔۔۔۔۔
ارمغان شاہ کی طرف دیکھتے نم لہجے میں گویا ہوئے ۔۔۔۔جبکہ انکے ٹوٹے ہوئے لہجے کو سن کر سبھی گھر والوں کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔۔
میں گنہگار ہوں ۔۔۔۔۔۔ ابرش روتے ہوئے تیز آواز میں بڑبڑائی تھی ۔۔۔۔
جس پر آگے بڑھ کر فورا واسم نے اسے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔۔۔جبکہ زارون بھی اسکے قریب آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
لالا میں گنہگار ہوں ۔۔۔۔۔میں نے بہت بدتمیزی کی تھی ان سے ۔۔۔۔۔وہ مجھ سے ناراض ہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے ان سے بولا تھا میری زندگی سے دور چلے جائیں ۔۔۔۔
نہیں گڑیا اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔
واسم نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔۔
نہیں لالا یہ سب میرے ہی گناہوں کی سزا ہے ۔۔۔۔جو اللہ تعالٰی میرے سائیں کو مجھ سے دور کر رہے ہیں ۔۔۔۔
میں قسم کھا کر کہتی ہوں لالا اگر میرے سائیں کو کچھ ہوا تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گی ۔۔۔۔
وہ ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا تمہارے سائیں کو ۔۔۔۔ادھر دیکھو میری طرف میرا وعدہ ہے میں کچھ نہیں ہونے دوں گا اسے ۔۔۔۔۔
اسکا معصوم چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پیار سے بولا ۔۔۔۔۔
پلیز لالا انہیں بولیں نا ۔۔۔۔وہ میرے ساتھ ایسا نا کریں ۔۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی انکے بنا ۔۔۔۔میں بہت محبت کرتی ہوں ان سے ۔۔۔۔۔میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔
واسم کے سینے پر سر رکھتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔
خبردار اگر تم نے دوبارہ اپنے منہ سے یہ مرنے کی بات کی تو ۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا ضارب کو وہ ان شااللہ بہت جلد ہوش میں آ جائے گا ۔۔۔۔۔
اب کے ذرا غصے سے ڈپٹتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ اسکی دھاڑ پر وہ کچھ سہمی ۔۔۔۔
لالا ” زارون نے لہجے کا احساس کروایا ۔۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھتے واسم نے نفی میں سر ہلاتے اسکی پیشانی پر پیار کیا اور پھر اس کے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوئے دوبارہ اسے کل متاع کی طرح اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔۔۔
اسکے منہ سے مرنے کی بات سنتے وہ تڑپ ہی تو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ایک تو ضارب کی یہ حالت دیکھتے ویسے ہی اسکا خون خول رہا تھا اوپر سے ابرش کی یہ باتیں ۔۔۔۔۔
دوسری طرف ابیہا نے رو رو کر الگ اپنی بری حالت کی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
جسے دیکھ دیکھ کر اسکے دل کو الگ تکلیف پہنچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
ضارب شاہ اسکے اپنوں کیلئے کس اہمیت کا حامل تھا پورے خاندان کی غیر ہوئی حالت کو دیکھتے اسے اب اچھے سے اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
زرمینے نے اپنی آنکھیں کھولتے ہی خود کو اپنے کمرے میں موجود پایا تھا ۔۔۔۔۔
اور آہستہ آہستہ ہوش برقرار ہوتے ہی اسے دوپہر کا ایک ایک پل یاد آنے لگا ۔۔۔۔۔
اس نقاب پوش کی باتوں کو یاد کرتے ہوئے اس نے جھرجھری لی ۔۔۔۔۔
تبھی کمرے کا دروازہ کھولتے نجمہ بیگم اندر داخل ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
جنہیں وہاں موجود دیکھ کر پہلے تو وہ حیران ہوئی پھر خوش ہوتے اٹھ کر انکے گلے ملی ۔۔۔۔۔
آپ کب آئی ؟؟؟؟؟
بس تھوڑی دیر پہلے ہی آئی ہوں آپکے بابا سائیں کے ساتھ ۔۔۔۔۔اور باقی سب گھر والے بھی آئیں ہیں ۔۔۔۔
آپ بتاو اب آپکی طبیعت کیسی ہے ۔۔۔۔۔ہمیں زارون نے بتایا دوپہر میں آپکی طبیعت خراب ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کی وجہ سے ۔۔۔۔۔
جس پر پہلے وہ حیران ہوئی ۔۔۔۔۔کہ زارون کو اسکی حالت کے بارے میں کیسے پتا ۔۔۔۔۔۔اور وہ گھر کیسے آئی ۔۔۔۔۔
اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔۔۔۔۔
پھر اسے لگا شاید ضارب نے اسے فون کر کے بتایا ہو ۔۔۔۔اور واپس بھی شاید وہی لایا ۔۔۔۔۔
لیکن وہ نقاب پوش کہاں گیا ؟؟؟؟
اسکے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا زر بیٹا آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟؟
ہنہہہ جی جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
نجمہ بیگم کی آواز پر وہ ہوش میں آئی ۔۔۔۔۔چلیں باہر مجھے بابا سائیں سے ملنا ہے ۔۔۔۔
کتنے دن ہوئے ان سے نہیں ملی ۔۔۔۔۔
مسکرا کر بولی ۔۔۔۔
وہ یہاں نہیں ہیں فلحال وہ ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔۔
مطلب نجمہ بیگم کی بات اس نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جس کے بعد انہوں نے اسے ساری بات بتائی تھی ۔۔۔۔۔
ضارب کے بارے میں سنتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔۔۔
بیٹا ڈاکٹرز نے انکی حالت کافی کریکٹل بتائی ہے ۔۔۔۔
جس سے اسکے آنسوؤں میں مزید روانی آئی تھی ۔۔۔۔
ماما ابرش اور بیا کیسی ہیں ؟؟؟؟ اور ابرش کی حالت ابھی تو انہیں اتنی بڑی خوشخبری ملی تھی ۔۔۔۔یہ سب کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔
ضارب جس نے اسے ہمیشہ بہنوں جیسا پیار دیا تھا اسکی حالت کے بارے سوچتے اسکا دل پھٹا جا رہا تھا ۔۔۔۔
اوپر ابرش کی حالت اور ابیہا جسکی جان اپنے بھائی میں بستی تھی ۔۔۔۔ناجانے کس حالت میں ہونگی دونوں ۔۔۔۔
انکی بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔بہت رو رہی تھیں دونوں ۔۔۔۔۔لیکن ہم کافی سمجھایا ہے کہ ضارب رونے سے ٹھیک نہیں ہونگے ۔۔۔۔۔
انہیں آپ لوگوں کی دعاؤں کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔
چلیں آپ بھی اٹھیں اور نفل ادا کر کے اپنے لالا کیلئے دعا کریں ان شااللہ وہ بہت جلد ٹھیک ہو جائینگے ۔۔۔۔۔
پیاری سے بولیں ۔۔۔۔
جس پر اس نے سر ہلایا ۔۔۔۔
ماما وہ دونوں ہیں کہاں ۔۔۔۔کیا وہ بھی گھر واپس آ گئی آپ کے ساتھ یا پھر ہاسپٹل میں ہیں ۔۔۔۔
نہیں وہ ہمارے ساتھ نہیں آئی ۔۔۔۔۔کیونکہ ضارب کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا اور کب تک آئے گا یہ ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔
جبکہ ہاسپٹل میں اماں سائیں کی طبیعت خراب ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اس لیے بابا سائیں نے انہیں میرے اور عظمی آپی کے ساتھ گھر بھیج دیا ۔۔۔۔۔
باقی سب ابھی وہی موجود ہیں ۔۔۔۔۔
انہوں نے تو ابرش ابیہا کو بھی بولا تھا لیکن ان دونوں نے انکار کر دیا آنے سے ۔۔۔۔
سہی ۔۔۔۔وہ افسردگی سے بولی ۔۔۔۔
چلیں اٹھ کر وضو کر لیں ۔۔۔۔تب تک میں اماں سائیں کو دیکھ کر آتی ہوں کہ انہیں اور عظمی بھابھی کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔
اس کے سر ہلانے پر وہ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گئیں جبکہ وہ ضارب کیلئے پریشان ہوتی اٹھ کر وضو بنانے واشروم کی طرف چل دی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار بیس گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد ضارب شاہ کو ہوش آ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز نے اسکی حالت خطرے سے باہر بتائی تھی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹرز ہم مل سکتے ہیں انہیں ؟؟؟؟؟
حیدر شاہ نے اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے فورا آگے بڑھ کر بولے ۔۔۔۔۔۔
نہیں سر آپ بھی نہیں مل سکتے ہیں ۔۔۔۔کیونکہ انہیں ہوش تو آ گیا ہے ۔۔۔۔لیکن فلحال دواوں کے زیر اثر ہیں ۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں بعد ہم انہیں دوسرے روم میں شفٹ کر دیں گے پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
جس پر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔
بہت شکریہ ۔۔۔۔
ان کیلئے تو یہی بہت تھا کہ ضارب اب خطرے سے باہر تھا ۔۔۔۔۔جس کیلئے وہ اپنے رب کا جتنا شکریہ ادا کرتے اتنا ہی کم تھا ۔۔۔۔۔۔
ارمغان شاہ فورا آگے بڑھ کر انکے سینے کا حصہ بنے تھے ۔۔۔۔۔جنہیں انہوں نے خوشی سے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے پیٹھ تھپتھپائی ۔۔۔۔۔
جبکہ ڈاکٹر کی بات سن کر باقی سب گھر والوں نے بھی اپنے رب شکر ادا کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ ابیہا نے آگے بڑھ کر ابرش کو اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔۔۔جسکی یہ خبر سن کر جان میں جان آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے تشکر کے آنسو اب تک بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔
واسم اور زارون نے باری باری اسے سینے سے لگا کر پیار کیا تھا اور ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی ۔۔۔۔۔۔
جبکہ پاس کھڑی ابیہا کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے واسم نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس پر اس نے اپنا دوسرا ہاتھ واسم کے ہاتھ پر رکھتے آنکھوں میں نمی جبکہ ہونٹوں پر مسکراہٹ لے کر سر ہلایا ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے واسم کو ایک پل کیلئے ایسا لگا جیسے زندگی مسکرا دی ہو ۔۔۔۔۔
