Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 46)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

ماضی

بابا سائیں مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ،،،،، دروازہ ناک کر کے اندر ہوتا مان سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ جو ارمغان شاہ کے ساتھ دوپہر والا معاملہ ہی ڈسکس کر رہے تھے ،،،،، اسکی اچانک آمد پر خاموش ہوتے اسکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔۔

بولیں ہم سن رہے ہیں ۔۔۔۔۔

مان نے ایک نظر سنجیدہ سے بیٹھے ارمغان شاہ کی طرف دیکھتے دوبارہ انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔

اور پھر بنا تمہید باندھے سیدھا مدعے کی بات پر آیا ۔۔۔۔

میں حجاب سے شادی کرنا چاہتا ہوں ،،،،، اسکی دوٹوک بات سنتے اور اسکے چہرے کی سنجیدگی کو دیکھتے ان دونوں نے بمشکل اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن یہ اچانک حجاب سے شادی کرنے کا فیصلہ ،،،،، یہ اچانک نہیں ہے بابا سائیں میں انہیں بچپن سے ہی پسند کرتا ہوں ،،،،، بس انکی پڑھائی ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اب مجھے لگتا ہے ،،،،، اب اگر میں نے کچھ اور دیر کی تو انہیں ہمیشہ کیلئے کھو دوں گا ۔۔۔۔۔

وہ انکی بات درمیان میں کاٹتا دوپہر سے دل و دماغ میں چل رہے خدشات بھی بیان کر گیا ۔۔۔۔۔

دیر تو آپ نے کر دی برخوردار کیونکہ حجاب کی زندگی کا فیصلہ ہم لے چکے ہیں ،،،،، جسے اب بدلنا ہمارے بس میں بھی نہیں ۔۔۔۔۔

اسکے طرف دیکھتے سنجیدگی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔

لیکن آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں بابا سائیں وہ میری محبت ہیں ،،،،، میں نہیں جی سکتا ان کے بنا ” اور اگر آپ نے مجھ سے میری حجاب کو دور کرنے کی کوشش کی تو بالکل اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔

میں ،،،،، میں اپنی جان دے دوں گا ۔۔۔۔

وہ غصے اور تیش سے سرخ ہوئی نظروں کے ساتھ جن میں ہلکی نمی بھی اتر آئی تھی چلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

اسکی روتی صورت کو دیکھتے ان دونوں کی بس ہوئی تھی ،،،،،، اور وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے ۔۔۔۔۔

ان کو ہنستا دیکھ کر مان نے حیران نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

کہیں نہیں جا رہی ہیں آپکی حجاب ،،،،، وہ ہمیشہ سے صرف آپکی تھیں اور ہمیشہ آپکی ہی رہیں گیں ۔۔۔۔۔

ارمغان شاہ اسے اپنے سینے میں بھینچتے مسکرا کر بولے ۔۔۔۔

جبکہ انکی بات پر یمان نے حیدر شاہ کی طرف دیکھا کہ آیا وہ سچ کہہ رہے ہیں یا نہیں ،،،،، جس پر انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد مان کے چہرے کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی ،،،،، اور وہ خوشی سے اپنے سینے لگے ارمغان شاہ کو بازوؤں میں بھینچتے اوپر اٹھا کر گول گول گھمانے لگا ۔۔۔۔۔

یار بس کر دے مجھے پتا ہے کہ توں بہت بڑا ہو گیا ہے اپنی یہ طاقت مظاہرے کسی اور پر آزمانا ،،،،،، وہ اسکے خوشی سے سرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھتے زومعنی انداز میں بولے ۔۔۔۔

مان نے خجل ہوتے سر کھجایا ،،،،،، پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے دونوں بھائیوں نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

بھیو آپ نے بتایا نہیں پھر کہ انہوں نے کیا جواب دیا ؟؟؟؟؟ محسن کے سوال پر احسن حیات نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

جو مسکراتے چہرے کے ساتھ سامنے پڑے ناشتے کو بنا چھوئے انکی طرف ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اسے حقیقت بتائی تو اپنے بھائی کے چہرے کی یہ مسکراہٹ ہمیشہ کیلئے کھو دیں گے لیکن وہ اسے کسی بھی قسم کی جھوٹی امید نہیں دینا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔

اس لیے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کرتے نرمی سے اس سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔۔

دیکھیں محسن میری بات بہت ہی تحمل سے سنیے گا اور اسے سمجھنے کی کوشش کیجئے گا ۔۔۔۔۔

انکو تمہید باندھتے دیکھ کچھ غلط ہونے کا احساس اسے شدت سے ہوا ،،،، لیکن اپنے دل کو مظبوط کرتا جو اپنی محبت کھو دینے کا صرف سوچ کر ہی گھبرانے لگا تھا ہاں میں سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔

وہ ،،،،، وہ انہوں نے ،،،، انکار کر دیا ہے “

اسکے چہرے کی مسکراہٹ مانند پڑتے دیکھ بمشکل اٹکتے بولے ۔۔۔۔۔

لیکن کیوں بھیو ؟؟؟؟

بیٹا وہ لوگ خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے ،،،،،، سیکنڈ وہ لڑکی بچپن سے کسی اور کے ساتھ منسوب ہے ،،،،، جسکی وجہ سے انہوں نے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔

اسکے سوال پر وہ حیدر شاہ کی بات من و عن اسے سچ سچ بتا گئے ۔۔۔۔۔

جسے سن کر اسکی خوبصورت آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی ،،،،،، جبکہ اپنی بائیں سائڈ دل کے مقام پر شدید درد کا احساس جاگا تھا ۔۔۔۔

جس سے اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔

اسکے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھ کر احسن حیات نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے یار وہ دنیا میں کوئی آخری لڑکی تو نہیں تھی ،،،،، اور میرا بیٹا تو اتنا پیارا ہے جس کیلئے میں دنیا کی سب سے حسین لڑکی ڈھونڈ کر لاوں گا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ حجاب تو نہیں ہوگی نا ،،،،، اسے اپنے حلق میں کچھ اٹکتا ہوا محسوس ہوا ،،،،،، جبکہ آنکھوں میں ٹھہری نمی آنسوؤں کی شکل میں سرخ و سفید گالوں پر بہہ نکلی ۔۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے احسن حیات نے بےبسی سے اپنے لب بھینچے تھے ،،،،، اور اسے دوبارہ سینے سے لگانا چاہا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ قدم پیچھے لیتا تیز رفتاری سے باہر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔

جب احسن حیات نے اپنے خاص ملازم کو اسکے پیچھے بھیجا تھا ،،،،، تاکہ وہ اس حالت میں کوئی غلط قدم نا اٹھا لے ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر شاہ نے یمان حجاب کے ساتھ ارمغان اور روباب کا رشتہ بھی طے کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

جس پر وہ دونوں بھائی بہت خوش تھے ،،،،،، اور خوش ہوتے بھی کیوں نا آخر انکی محبت بنا کسی رکاوٹ کے انکی جھولی میں ڈال دی گئی تھی ۔۔۔۔۔

جب سے انکا رشتہ طے ہوا اور نکاح کی ڈیٹ رکھی گئی تھی حجاب مان سے چھپتی پھر رہی تھی ۔۔۔۔۔

کیونکہ اس نازک جان کیلئے اسکی لو دیتی نظروں کا سامنا کرنا بہت مشکل تھا ۔۔۔۔۔

البتہ ارمغان شاہ اپنی سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے ان سب چیزوں سے پرہیز کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف محسن حیات نے ان دنوں میں خود کو مکمل طور پر کمرے میں بند رکھا تھا ،،،،، جس کے پیشے نظر احسن حیات بہت پریشان تھے ۔۔۔۔۔

صرف انکی خاطر کچھ پل کیلئے وہ باہر آتا جھوٹی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بیٹھ جاتا ۔۔۔۔۔

لیکن انکے کام پر جانے کے بعد خود کو دوبارہ کمرے میں بند کر لیتا ،،،،، یونیورسٹی اور دوستوں کے ساتھ باہر جانا ان دنوں میں وہ مکمل طور پر طرق کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ہوئے احسن حیات نے خود اسکے یونی کے بیسٹ فرینڈ کو فون کر کے حیات مینشن میں بولایا تھا ۔۔۔۔۔

تاکہ وہ اسے سمجھا بجھا کر زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کرے کہیں باہر گھمانے لے کر جائے جس سے اسکا موڈ فریش ہو سکے ورنہ احسن حیات کو تو وہ ان سب چیزوں سے صاف لفظوں میں انکار کر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

محسن کا دوست جسکا نام شہریار تھا ،،،،، دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ،،،،، جس میں مکمل طور پر اندھیرہ چھایا ،،،،،، بالکل اس کمرے کے مکین کی زندگی کی طرح ۔۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر کمرے کی کھڑکیوں سے پردے اٹھا کر سورج کی روشنی اندر کو راستہ دیا ۔۔۔۔۔

محسن جو اوندھے منہ پلو میں چہرہ چھپائے پڑا تھا کمرے میں قدموں کی آواز پر پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جو اسے ہی ہمدردی کی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

یہ تو نے اپنا کیا حال بنا لیا ہے یار ،،،،، ایک نظر اسکے پژمردہ سے حلیے کی طرف دیکھتا افسردگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

بڑھی ہوئی شیو پیشانی پر بکھرے بال ،،،، پیلی رنگت آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے وہ کہیں سے اسکا دوست محسن حیات نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔

جسکی وجاہت کی ایک دنیا دیوانی تھی ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں یار بس ایسے ہی ہے ۔۔۔۔۔

کیا ایسے ہی ،،،، وہ دنیا میں کوئی آخری لڑکی نہیں تھی ،،،،، جس کے پیچھے تو نے اپنی یہ حالت کر لی ہے ۔۔۔۔۔

اب کہ غصے سے بولا ۔۔۔۔

جس پر وہ افسردگی سے مسکرایا ،،،،، لیکن میری محبت تو ہے نا ۔۔۔۔۔

یار ٹھیک ہے مان لیتا ہوں ،،،،، لیکن تو نے اس محبت کو پانے کی کوشش بھی تو نہیں کی نا ،،،،،

مطلب ” اس کی بات پر سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

مطلب اگر اتنی ہی محبت ہے تو تمہیں کوشش کرنے چاہیے تھی ،،،،، صرف اسکے گھر والوں کے ایک انکار پر یوں مجنوں والا حال بنا لینے سے وہ تمہیں نہیں ملے گی ۔۔۔۔

کم از کم تمہیں ایک بار خود اس سے بات کرنی چاہیے تھی ،،،،، اپنی محبت کا اظہار کرتے ،،،،، لیکن تم نے تو بنا کوشش کیے ہی ہار مان لی ۔۔۔۔۔

لیکن یار وہ بچپن سے کسی اور سے منسوب ہے ۔۔۔۔۔

واہ کیا بات کہی ہے ،،،،، بچپن کے رشتے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس رشتے سے نا خوش ہو ،،،، اس کے گھر والے زبردستی کر رہے ہو اسکے ساتھ ،،،،،، مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ تم بنا کوشش کیے ہے ایسے ہار مان لو گے ۔۔۔۔۔

اسکی باتوں سے اسے امید کی ایک نئی کرن نظر آئی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ ۔۔۔۔۔ تم سہی کہہ رہے ہو مجھے کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

محسن نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا پھر یکدم بستر چھوڑ کر واشروم کی طرف بڑھا فریش ہونے ۔۔۔۔

جب پیچھے سے شہریار نے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔

ارے کہاں چلے ،،،،، یونیورسٹی کیلئے تیار ہونے اور کہاں تمہاری ہونے والی بھابھی سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرنا ہے ۔۔۔۔۔

اب کے مسکرا کر شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

یار بڑے بےمروت ہو دوست کو چائے ناشتے کا بھی نہیں پوچھا ،،،، وہ منہ پھلا کر بولا ۔۔۔۔۔

جس پر محسن نے اپنی شرٹ اتار کر اسکے چہرے پر ماری تھی ،،،،، تجھے سیدھا اپنی شادی کے لڈو کھلاؤں گا ،،،،، آنکھ دبا کر شرارت سے کہتا واشروم میں بند ہو گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے وہ گہرا سانس کھینچتے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں بہنوں کی تو شادی ہے کل ،،،،، اپنے کانوں میں گونجتے بار بار ان لفظوں کی برگشت سے بجنے کیلئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ ان پر رکھے تھے ۔۔۔۔۔

نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے ،،،،،، وہ تو صرف ،،،،،،، نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ،،،،،، ہزیانی انداز میں چیختے محسن حیات نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی تمام چیزوں کو غصے سے زمین پر پھینکا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے اسکی قیمتی سامان کے ساتھ پرفیوم کئی بوتلیں بھی زمین پر ایک ساتھ گرتی چھناکے کے ساتھ ٹوٹی تھیں ۔۔۔۔

جسکی خوشبو سے یکدم پورا کمرہ معطر ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اس خوشبو کے مالک کی زندگی تو پت جھڑ کے اس پھول جیسی تھی جس سے خوشبو کے ساتھ ساتھ زندگی کے سارے رنگ بھی نچوڑ لیے گئے تھے ۔۔۔۔۔

اور وہ کچھ نہیں کر سکا سوائے خاموشی اختیار کرنے کے ۔۔۔۔۔

ایک اندھیرے سے بھرپور کمرے میں وہ تن تنہا اپنی قسمت پر ماتم کنا ٹھنڈے ماربل کے فرش پر گھٹنے کے بل گرا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے فرش پر بکھرے کانچ اسکے وجود میں پیوست ہوتے اسے بری طرح زخمی کر گئے ۔۔۔۔۔

لیکن یہاں پرواہ کسے تھی ،،،،، اب نا تو اس کے اندر کوئی احساس بچا تھا اور نا ہی کوئی ایسی حس جس سے وہ اپنی وجود میں اٹھنے والے اس جان لیوا درد کو محسوس کر سکتا ۔۔۔۔

اسکے اندر تو بس وحشت بسی ہوئی تھی ،،،،، جس نے اسے ہر احساس سے عاری انسان بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔

اسکے چاروں طرف بس ایک ہی چیز کا راج تھا ،،،،، اور وہ تھی خاموشی گہری موت جیسی خاموشی ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے کمرے سے توڑ پھوڑ کی آواز سن کر پریشان ہوتے احسن حیات اوپر کی طرف بھاگے تھے ۔۔۔۔۔

جس نے اپنا کمرہ اندر سے بند کر رکھا تھا ۔۔۔۔

محسن دروازہ کھولو میری جان ،،،،، آپکو میری قسم ہے خبردار اگر آپ نے خود کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔

آپکو وہ لڑکی چاہیے نا میں لا کر دوں گا ،،،،، لیکن پلیز خود کو کچھ مت کیجئے گا ۔۔۔۔۔

وہ مسلسل دروازہ ناک کرتے التجائی لہجے میں بولے تھے ۔۔۔۔۔

لیکن دوسری طرف مکمل طور پر خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔

جس نے انکی پریشانی میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے چلتے وہ ملازم کا انتظار کیے بنا جو کمرے کی ڈوبلیکیٹ چابی لینے گیا تھا ،،،،، دروازہ توڑنے کی کوشش کرنے لگے ۔۔۔۔۔

جو تھوڑی بہت تگ و دو کے بعد کھل بھی گیا ،،،،، اندر داخل ہوتے ہی انکی سیدھی نظر زمین پر گھٹنے کے بل بیٹھے محسن حیات پر پڑی تھی ،،،،، جبکہ اسکے گھٹنوں سے بہتے ہوئے خو*ن کو دیکھ کر وہ تڑپ کر اسکے قریب پہنچتے اسے اپنے سینے میں بھینچ گئے ۔۔۔۔۔

جس سے فرش پر بکھرے کچھ کانچ انکے وجود میں بھی پیوست ہوئے لیکن جہاں پرواہ کسے تھی ۔۔۔۔۔

کیونکہ انکی نظر میں یہ تکلیف اپنے سامنے بیٹھے اپنے بھائی اپنی زندگی کے درد کے آگے کچھ نہیں تھی ۔۔۔۔

یہ کیا حرکت ہے ،،،،، اگر آپکو کچھ ہو جاتا تو ،،،،، اٹھے جہاں سے دیکھیں کتنا خو*ن بہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔

لیکن دوسری طرف اب بھی مکمل خاموشی تھی ،،،،،، وہ ایسے بےحس حرکت بیٹھا تھا کہ احسن حیات کو گمان ہوا کہ زندہ بھی ہے یا نہیں ۔۔۔۔

اس لیے انہوں نے اسے بری طرح جھنجھوڑا تھا ،،،،، آج وہ لڑکی اتنی ضروری ہو گئی آپ کیلئے کہ اپنے بھائی کی محبت کو بھول گئے ۔۔۔۔۔

ایک پل کیلئے یہ نہیں سوچ رہے کہ اگر آپکو کچھ ہو گیا تو آپ کا یہ بھائی کیسے جیے گا ،،،،، آپکو وہ لڑکی چاہیے نا ٹھیک ہے میں آپکو لا کر دوں گا ،،،،، لیکن آپکو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا آپ خود کو کوئی دوبارہ نقصان نہیں پہنچائے گے ۔۔۔۔۔

انکی بات سن کر محسن کی پتھر ہوئی آنکھوں میں جنبش ہوئی تھی ،،،، اور اس نے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے انہوں نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

چلیں اٹھیں اب ،،،،، وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرتے پیار سے بولے ۔۔۔۔۔

جسے سن کر اسکے لبوں پر افسردہ سی مسکراہٹ آئی تھی اس نے اپنی ضبط سے سرخ نظریں اٹھا کر ایک بار پھر اپنے بھائی کی طرف دیکھا جو اس سے بےانتہا محبت کرتا تھا ۔۔۔۔۔

پھر دھیرے سے اپنا وجود ڈھیلا چھوڑتے انکے وجود کا حصہ بنا ،،،،،، انہوں نے اسکے گرد اپنا حصار تنگ کرتے خود میں بھینچا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ دیر یونہی اسے سینے سے لگائے رکھنے کے بعد جب اسے خود سے الگ کرنا چاہا تو اسکا سر جو انکے کندھے پر تھا ایک طرف لڑھک گیا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے وہ پریشان ہوئے تھے ،،،،، محسن کیا ہوا آپکو محسن

اسکا چہرہ تھپتھپا کر اٹھانے کی کوشش کرنے جس کے وجود میں اب زندگی کی کوئی رمک باقی نہیں تھی ۔۔۔۔

لیکن اپنے خدشات کی نفی کرتے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر باہر کی طرف بھاگے ،،،،، اپنے بڑے صاحب کے بازوؤں میں محسن حیات کو بیہوش دیکھتے ملازمین نے دوڑ کر گاڑیاں نکالی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاسپٹل پہنچتے ہی اسے سٹیچر پر لٹاتے ایمرجنسی میں لیجایا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جہاں کہ عملے میں احسن حیات جیسے بڑے آدمی کو دیکھتے بھگڈر مچ گئی تھی ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر میرے بھائی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے وہ میری زندگی ہے ،،،،، تمہیں جتنی دولت چاہیے میں دینے کیلئے تیار ہوں ،،،،، لیکن پلیز اسے کسی بھی طریقے سے بچا لو ۔۔۔۔۔

اور اگر اسے کچھ ہوا تو یاد رکھنا میں تمہارے اس ہاسپٹل کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑ کر دھاڑتے ہوئے بولے تھے ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے ڈرتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا ،،،،، اور پھر اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

ان کیلئے یہ انتظار کے لمحات قیامت کے لمحات سے کم نہیں تھے ،،،، لیکن انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹر سر جھکائے باہر آیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اسکے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔

کیا ہوا ،،،،، بمشکل ہی پوچھ پائے ۔۔۔۔

سوری سر آپ نے انہیں لانے میں دیر کر دی ،،،، انکی ڈیتھ تو ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہو ایسا نہیں ہو سکتا تم نے کوشش ہی نہیں کی اسے بچانے کی ،،،،، اس ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑتے ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔

سر ہماری کوئی غلطی نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ انکی سانسیں بند ہو چکی ہیں ہم نے اپنی پوری کوشش کی ،،،،،، لیکن ہارٹ اٹیک کی نوعیت اتنی گہری تھی کہ ایک جھٹکے میں انکی جان لے گئی ۔۔۔۔۔

لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے ابھی اسکی عمر ہی کیا تھا ،،،،، جو اسے ہارٹ اٹیک آتا ،،،،، ضرور تمہیں لوگوں نے مارا ہے میرے بھائی کو ۔۔۔۔۔

سر یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ہم بھلا ایسا کیوں کرینگے ،،،،، حیران تو ہم بھی ہیں انکی عمر کو دیکھ کر ،،،،، لیکن شاید انہوں نے کسی ایسی بات کا صدمہ لیا ہے جو انکا دل برداشت نہیں کر پایا ،،،،، اور انکی دھڑکنیں تھم گئی ۔۔۔۔۔

انکی بات اور کنڈیشن کو سمجھتے ہوئے ،،،،، نرمی سے گویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جسے سن کر احسن حیات کے ہاتھ خود با خود اسکے گریبان سے نیچے آ گئے تھے ،،،،،، اور وہ کافی حد تک محسن کی اس حالت کی پیچھے کی وجہ کو بھی سمجھ گئے تھے ۔۔۔۔۔

کب کے ضبط کیے ہوئے آنسو انکی آنکھوں سے پھسل کر چہرے پر بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔۔

فریش ہو کر تیار ہوتے وہ شہریار کے ساتھ خوشی خوشی یونیورسٹی گیا تھا ،،،،،، جہاں ڈھونڈنے سے بھی اسے حجاب شاہ نہیں ملی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر وہ کافی حیران ہوا ،،،،، جس کے بعد اس نے اسکی کلاس فیلوز سے اسکے بارے میں دریافت کیا تھا جو حجاب تو نہیں البتہ روباب کی بہت اچھی دوست تھی ۔۔۔۔۔

جسے اس نے کئی بار ان دونوں کے ساتھ بیٹھے دیکھا تھا ،،،،، اور اس نے ہی ان دونوں کی شادی کے بارے میں اسے بتایا تھا ۔۔۔۔۔

اور یہ سب جان کر اس سے برداشت نہیں ہوا تھا ،،،،، اسکی بائیں سائڈ شدید درد کی لہر اٹھی تھی ،،،،، شہریار جو اسکے ساتھ ہی موجود تھا اسے اس نے گھر چھوڑنے کا بولا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ،،،،،

میں کہہ رہا ہوں نا مجھے گھر چھوڑ دو تو بس چھوڑ دو اسکے غصے سے بولنے پر وہ سر ہلاتا خاموشی سے اسے اسکے گھر چھوڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔

جہاں پہنچتے ہی اس نے خود کو کمرے میں بند کرتے دل میں اٹھتی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ناکام محبت غم منانے لگا ۔۔۔۔۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی تکلیف میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا ،،،،، لیکن وہ لب بھینچ کر چپ چاپ اسے برداشت کرتا رہا ۔۔۔۔۔

اور احسن حیات یہ کہنے پر کہ وہ اسے اسکی محبت لا کر دیں گے ،،،،، اس نے حیران نظروں سے انکی طرف دیکھا ،،،،، وہ جانتا تھا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں ایسا کر بھی گزریں گے ۔۔۔۔

لیکن وہ چاہ کر بھی اپنی محبت کے نام پر بدنامی کی کالک نہیں لگا سکتا تھا ،،،،، لیکن تکلیف زیادہ ہونے کی وجہ سے لفظ اسکے منہ سے نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔

اس لیے انہیں اپنے پاس بٹھاتے سینے سے لگتا سکون محسوس کرتے دھیرے سے اپنی جلتی آنکھیں بند کر گیا ،،،،، کچھ کہنے کیلئے کھلتے اسکے لب پھڑپھڑا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔

بھیو ” یہی سانس ساکن ہو گئی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ حویلی میں آج جہاں خوشیوں کا سماں تھا ،،،،،، ارمغان شاہ اور یمان شاہ نے اپنی محبت کو مکمل کرتے زندگی کا نیا سفر شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔

وہی احسن حیات جھکے کندھے ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ اپنے جان سے پیارے بھائی اپنی زندگی کو منوں مٹی تلے دفنا کر حیات مینشن جہاں اس وقت وحشت چھائی ہوئی تھی داخل ہوا ۔۔۔۔

اس گھر کی ویرانی اور اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتے زور زور سے چلانے لگا ۔۔۔۔

وہ اس وقت اپنا غصہ بے جان چیزوں پر نکال رہا تھا ۔۔۔شیشے کی میز کو اتنی زوردار ٹھوکر ماری گئی تھی کہ گر کر ٹوٹنے کے بعد اس کے ٹکڑے پورے فرش بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔

صرف اتنا ہی نہیں جو جو چیز اس کے ہاتھ آ رہی تھی وہ اسے توڑتے جا رہا تھا ۔۔۔صرف چند ہی منٹوں میں اس نے خوبصورت ہال کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔

جبکہ گھر کے ملازم ایک طرف کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔۔انہوں نے اپنے مہربان اور رحم دل مالک کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔ جس نے کبھی نوکروں سے بھی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی ۔۔ آج وہ پوری قوت سے چینخ رہا تھا ۔۔

نہیں چھوڑوں گا۔۔۔کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔اس ایک کا کیا پورا خاندان بھگتے گا ۔۔۔میں نے آج اپنا کل سرمایہ کھویا ہے ۔۔۔اسے چھیننے والوں کو کبھی خوش نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔

ایسی دردناک موت دوں گا ۔۔۔کہ انہیں اپنے پیدا ہونے پر افسوس ہوگا ۔۔۔اس کے لفظ لفظ میں وحشت تھی ۔۔آنکھوں اور لہجے میں ایسی حیوانیت اور دردنگی کے سننے والے کی روح کانپ جائے ۔۔۔

وہ بھرپور توانا مرد ہال کے بالکل وسط میں گٹنوں کے بل بیٹھا اپنے ہونے والے نقصان پر جسکا کوئی مداوا نہیں تھا ۔۔۔ زار و قطار رو رہا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *