Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 92)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 92)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ایم سوری ماما ،،،،، میں نے آپ کے ساتھ بہت برا بیہیو کیا ۔۔۔۔لیکن اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔اچانک سے یہ سب ،،،، پلیز اپنی بیٹی کو معاف کر دیں ۔۔۔۔
روباب کے دونوں ہاتھ تھام کر ابرش نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔
جس پر روباب نے نفی میں سر ہلاتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔
نا ماما کی جان آپکو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ،،،، میں جانتی ہوں میری گڑیا نے وہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔۔۔
اسکا معصوم چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے اسکے ایک ایک نقش کو پیار سے چومتے ہوئے وہ بولیں تھیں ۔۔۔۔
جبکہ ساتھ ساتھ آنکھوں سے آنسو بھی جاری تھے ۔۔۔۔
بدلے میں ابرش نے محبت سے انکے دونوں گال چومے تھے ۔۔۔۔
اور دوبارہ انہیں اپنے گلے سے لگایا ۔۔۔۔روباب کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
انہوں نے مسکرا کر پاس ہی بیٹھے ارمغان اور ضارب شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔جو دونوں ان ماں بیٹی کے ملن کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
ضارب شاہ تو اپنی باربی کی ان معصوم اداؤں پر فدا ہوا جا رہا تھا ۔۔۔۔جس معصوم انداز سے وہ روباب کو منا رہی تھی اسکا دل کر رہا تھا سب کچھ فراموش کر کے اسے اپنے سینے میں چھپا لے ۔۔۔۔
لیکن وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے بمشکل ہی سہی اپنے جذبات کو کنٹرول کر لیا ۔۔۔۔
تبھی دروازہ ناک کرتے عظمی بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تھیں ۔۔۔اور انکے پیچھے ہی ہاتھوں میں ٹرے لیے ملازمہ جس میں چائے ساتھ دوسرے لوازمات سجے تھے ۔۔۔۔۔
ابرش کو روباب کے گلے لگے دیکھ کر عظمی کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔
انہوں نے ملازمہ کو ٹرے ٹیبل پر رکھ کر باہر جانے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔
پھر خود آگے بڑھ کر سب سرو کرنے لگیں ۔۔۔۔
سب سے پہلے کپ اٹھا کر انہوں نے ارمغان شاہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔جنہوں نے اسے تھامنے سے پہلے بہت غور سے انکے چہرے کے تاثرات جانچے تھے ۔۔۔
لیکن انہیں کہیں بھی کسی قسم کی بھی جیلسی کا احساس انکے چہرے پر ڈھونڈھنے پر نہیں ملا ۔۔۔
بلکہ انکے چہرے پر حسین مسکراہٹ کے ساتھ سکون ہی سکون موجود تھا ۔۔۔جسے دیکھ کر انہیں تھوڑی تسلی ہوئی تھی ۔۔۔ورنہ جس طرح وہ انکا کمرہ چھوڑ کر گئیں تھیں ۔۔۔
جس نے نا صرف انہیں اتنے سالوں سے انکے ساتھ کی گئیں زیادتیوں کا احساس دلایا بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا وہ اپنی نظروں میں شرمندہ ہو گئے تھے ۔۔۔۔
ایسا بالکل نہیں تھا کہ انہیں عظمی بیگم کا احساس نہیں تھا ۔۔۔۔وہ جو اتنے سالوں میں چاہ کر بھی انکی طرف قدم نہیں بڑھا پائے اسکے پیچھے ایک خاص وجہ تھی ۔۔۔۔
ارمغان شاہ کے دل میں ان کیلئے محبت نا سہی ۔۔۔۔لیکن انکی محبت خلوص اور اپنے بچوں کے ساتھ اچھے سلوک کو دیکھتے ایک احترام کا جذبہ ضرور پیدا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
جس کے چلتے وہ عظمی بیگم کو انکا حق دینا چاہتے تھے ۔۔۔۔
لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔ شروعات میں جب عظمی بیگم نے انکی طرف قدم بڑھائے تھے ،،،، تو انہوں نے بارہا انہیں دھتکارتے ہوئے انہیں اپنی حد میں رہنے کی تلقین کی تھی ۔۔۔۔اس وقت وہ اندر سے بہت دکھی تھے روباب کے جانے کا غم اپنے بھائی بھابھی کی موت کا غم اور پھر انکے قاتلوں کا کوئی سراغ ہاتھ نا لگنا ،،،، جس کے چلتے وہ انہیں انصاف بھی نہیں دلا پا رہے تھے ،،،،، پھر ان حالات میں عظمی بیگم سے شادی وہ یکدم سے یہ ساری چیزیں ایک ساتھ بالکل قبول نہیں کر پا رہے تھے ،،،،، جب وہ روباب کے غم اور اپنے دوسرے معاملات سے سنبھلے ،،،، اور انہیں عظمی کا خیال آیا تب تک وہ انکے قریب آنا تو دور انہیں خود سے مخاطب کرنا بھی چھوڑ چکیں تھیں ۔۔۔۔
اور وہ جو انہیں انکا حق دینا چاہتے صرف یہ سوچ کر رک گئے کہ کہیں وہ یہ نا سمجھے کہ اتنے سالوں بعد اپنی ضرورت پوری کرنے کی خاطر انکے در پر آئے ہیں ۔۔۔۔
عظمی بیگم انہیں کہیں یہ کہہ کر دھتکار نا دیں ۔۔۔بس اسی وجہ سے انہوں نے کبھی انکی طرف کوئی پیش رفت نہیں کی ۔۔۔۔
کیونکہ ایک مرد سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک عورت کے ہاتھوں اپنی تذلیل اور دھتکار نہیں ۔۔۔۔
لیکن کمرہ چھوڑنے سے پہلے کہ عظمی بیگم کے بولے گئے جملے نے انہیں شدت سے اپنی غلطی کا احساس کروایا تھا ۔۔۔۔
انکے لہجے سے چھلکتا درد اور کم مائگی کا احساس اس بات کی دلیل تھا کہ کہیں نا کہیں وہ انکی طرف سے پیش قدمی کی منتظر تھیں ۔۔۔۔
جسے ارمغان شاہ کبھی سمجھ ہی نہیں پائے ۔۔۔۔
انہوں نے نرمی سے مسکراتے ہوئے انکے ہاتھ سے وہ کپ تھام لیا تھا ۔۔۔۔اور اس سے پہلے وہ باقی سب کو سرو کرتی ابرش نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ۔۔۔روکا تھا ۔۔۔
ماما آپ رہنے دیں میں سب کو دیتی ہوں ۔۔۔
روباب سے الگ ہو کر وہ انکے قریب آئی تھی ،،،،، نہیں جاناں آپ بیٹھے میں ہوں نا میں دے دیتی ہوں ۔۔۔۔ویسے بھی اس حالت میں آپکو آرام کرنا چاہیے ۔۔۔۔
مسکرا کر اسکا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے اسے ضارب کے پاس بیٹھنے کی تلقین کی تھی ۔۔۔۔
جبکہ انکی بات پر ایک شرمیلی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔۔۔اس نے بےساختہ ہی ضارب شاہ کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں وارفتگی لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔پھر شرماتے ہوئے اپنے بابا سائیں کے ساتھ براجمان ہو گئی ۔۔۔۔
اسکی حرکت پر جہاں ضارب شاہ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا وہی ارمغان شاہ نے اسے اپنے ساتھ لگاتے محبت سے اسکے سر کو چوما ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف روباب ابھی تک ابرش کے عظمی کو ماما پکارنے پر حیرت سے ان سب کی طرف دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔
جب انہوں نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ انکی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
پچھلے کتنے دنوں سے وہ انکا خیال رکھ رہی تھی ۔۔۔۔وہ بھی بنا کسی فائدے اور غرض سے ۔۔۔۔جسکے لیے کتنی بار روباب انکا شکریہ بھی ادا کر چکیں تھیں ۔۔۔
لیکن وہ کس رشتے سے اس گھر میں رہ رہی تھیں ۔۔۔۔یہ پوچھنے کا انہیں ایک پل کیلئے بھی خیال نہیں آیا ۔۔۔۔
لیکن اب ابرش کا انہیں ماما کہہ کر پکارنا ۔۔۔۔ناجانے کیوں انکا دل بری طرح دھڑکا گیا ۔۔۔۔
روباب “ کیا ہوا ؟؟؟
وہ جو اپنی سوچوں میں غلطاں تھیں ۔۔۔۔عظمی کے پکارنے پر بےساختہ ہوش میں آئیں ۔۔۔۔
کچھ ،،،، کچھ نہیں ۔۔۔۔”
پھر انکے بڑھے ہوئے ہاتھ سے کپ تھام لیا ۔۔۔۔
تبھی دروازہ ہلکا سا ناک کرتے زارون اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
السلام وعلیکم “ ایوری ون کیسے ہیں سب ؟؟؟؟
جبکہ اسکے ہلکے پھلکے انداز پر کمرے میں موجود سبھی افراد مسکرائے تھے ۔۔۔۔
کہاں تھے آپ ؟؟؟؟ کچھ خیر خبر بھی ہے ؟؟؟؟ ہم سب کتنے پریشان تھے ۔۔۔۔بندہ ایک فون کال کر کے ہی اپنی خیریت کے بارے میں بتا دیتا ہے ۔۔۔۔آپ کو کچھ تو احساس ہونا چاہیے اب آپکی ایک عدد بیوی بھی ہے ۔۔۔جسکا خیال رکھنا آپکی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔
اسکے اندر داخل ہوتے ہی عظمی بیگم مصنوعی غصے کا اظہار کرتیں آگے بڑھ کر اسکا کان پکڑ چکیں تھیں ۔۔۔۔
آوچ ماما بات تو سن لیں یار ۔۔۔۔
عظمی بیگم کی ڈانٹ اور زارون کے انہیں ماما پکارنے پر ایک بار پھر روباب نے چونک کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اور پھر ارمغان شاہ کی طرف جو ان دونوں کی طرف مسکرا کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
نہیں سننی مجھے آپکی کوئی بھی بات ،،،، زارون اتنی لاپرواہی ۔۔۔۔آپکو کچھ احساس بھی ہے اس وقت میں زر کو آپکی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔۔۔ اور آپ ہیں کہ گھر میں ٹکتے ہی نہیں ۔۔۔۔
سوری یار بہت ضروری کام سے گیا تھا جسکی وجہ سے بالکل ٹائم نہیں مل سکا ۔۔۔۔
لیکن وعدہ کرتا ہوں آئندہ شکایت کا موقع نہیں دوں گا ۔۔۔اب تو اپنی یہ ناراضگی ختم کر دیں ۔۔۔۔
عظمی بیگم کے سمجھانے پر وہ انہیں مناتے ہوئے بولا ۔۔۔
جس پر پہلے تو انہوں نے اسے گھوری سے نوازا پھر اسکے چہرے کے معصوم ایکسپریشنز کو دیکھتے دھیما سا مسکرائیں تھیں ۔۔۔۔زارون نے آگے بڑھ کر انہیں اپنے سینے سے لگایا ساتھ ہی انکی پیشانی چومی ۔۔۔۔
چلیں بیٹھے آپ کو بھی چائے دوں ۔۔۔۔
نرمی سے بولتے وہ الگ ہوئی تھیں ۔۔۔زارون نے مسکراتے سر ہلایا اور پھر روباب کے پاس بیڈ پر براجمان ہو گیا ۔۔۔
ماما اب کیسی طبیعت ہے آپکی ۔۔۔۔بہت نرمی کے ساتھ انہیں اپنے ساتھ لگاتے ہوئے سر پر بوسہ دیتے بولا ۔۔۔۔
روباب جو عظمی اور زارون کی بانڈنگ کو دیکھتے ہوئے گہری سوچ میں چلی گئیں تھیں ۔۔۔۔
زارون کے پیار کرنے پر بادقت ہی مسکرائیں ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔
انکا لہجہ بہت دھیما سا تھا ۔۔۔۔جسے زارون نے محسوس کیا ۔۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟؟
مجھے آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں ۔۔۔۔انکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو محسوس کر کے چائے کا کپ تھام کر ٹیبل پر رکھتے انہیں دونوں ہاتھوں میں تھاما ۔۔۔۔
روباب نے اسکی بات پر غور کرنے کی بجائے ارمغان شاہ کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔جس پر وہ فورا اٹھ کر انکے قریب آئے تھے ۔۔۔۔
کیا ہوا روباب ؟؟؟؟ سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟
انہیں اپنے حصار میں لیتے بےچینی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔
جسکا جواب دینے کی بجائے انہوں نے عظمی بیگم کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ انکی بگڑتی ہوئی حالت اور آنکھوں میں نظر آتے سوال کو دیکھتے ،،،،، انہیں تمام معاملہ سمجھ آیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف انکی حالت کو دیکھتے عظمی بیگم کے ساتھ ضارب ابرش بھی پریشان ہوتے اٹھ کر قریب آئے تھے ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
تاشے اور رومان شاہ شاہ حویلی پہنچے تھے ۔۔۔۔
جنکا وہاں حیدر شاہ نے والہانہ استقبال کیا گیا تھا ۔۔۔۔اور انہیں لینے کیلئے خصوصی طور پر ضارب شاہ نے خان کو بھیجا تھا ۔۔۔۔
خان تو زرتاشے کا اس گھر سے اتنا گہرا رشتہ جان کر ہی اپنی جگہ پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔
زندگی میں پہلی بار اسے کوئی لڑکی پسند آئی تھی ۔۔۔۔جس کیلئے اپنے دل میں اسنےالگ سے جذبات پنپتے ہوئے محسوس کیے تھے۔۔۔لیکن اسکا مقام دیکھتے ہوئے ۔۔۔اسکی اتنی جرت نہیں تھی کہ وہ اس سے نظر اٹھا کر بھی بات کرتا ۔۔۔۔اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا تو بہت دور کی بات تھی ۔۔۔۔
گاڑی سے نکلتے ہوئے اس نے سر جھکا کر گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا ۔۔۔۔
تاشے نے مسکراتی نظروں سے اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھا اور پھر اسکے جھکے ہوئے سر کو ۔۔۔ نظریں تو وہ پہلے بھی جھکا کر رکھتا تھا ۔۔۔۔لیکن ایسے کبھی سر نہیں جھکایا تھا ،،،، اور اسکی وجہ شاید شاہ حویلی والوں سے اسکا رشتہ تھا ۔۔۔۔لیکن پھر بھی اسے خان کا اپنے سامنے سر جھکانا پسند نہیں آیا ۔۔۔
وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی ۔۔۔اسے یہ سب کرنے سے منع کرنا چاہتی تھی لیکن رومان کی موجودگی کی وجہ سے خاموشی سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
جب رومان دوسری طرف سے نکل کر آتا اسے اپنے حصار میں لے کر حویلی کے اندر کی طرف بڑھا تھا اور پیچھے خان نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر ان دونوں کی پشت کو دیکھا ۔۔۔
پھر نفی میں سر ہلاتے اپنی قسمت پر طنزیہ مسکراتا باہر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
السلام وعلیکم ۔۔۔۔”
حویلی کے مین دروازے پر کھڑے حیدر شاہ انہیں اپنے ساتھ لیتے اندر کی طرف بڑھے ۔۔۔۔
جبکہ لاؤنج میں داخل ہوتے ان دونوں نے وہاں موجود سبھی افراد کو مشترکہ سلام کیا تھا ۔۔۔۔
جسکا جواب تقریبا وہاں موجود سبھی افراد نے ہی خوش اسلوبی سے دیا تھا ۔۔۔ایک سوائے واسم شاہ نے ۔۔۔۔کیونکہ اسے ان دونوں کو وہاں دیکھ کر کوئی خاصی خوشی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔
البتہ حیدر شاہ کے فیصلے کے بعد اس نے زیادہ کچھ کہنے سے گریز ہی کیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس ابیہا نے بہت خوش اسلوبی سے آگے بڑھ کر تاشے کو گلے لگایا تھا ۔۔۔۔
ویلکم ٹو دا فیملی ۔۔۔”
تھینک یو ۔۔۔۔
تاشے نے پیار سے کہتے اسکے دائیں گال پر پیار کیا تھا ۔۔۔۔جسکے بدلے ابیہا نے بھی وہی عمل دوہرایا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے واسم شاہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔
واسم کو ابیہا کا یوں تاشے سے پیار جتانا بالکل پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ابیہا کمرے میں آو ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔
سرد لہجے میں کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
جس پر چونک کر سب نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔لیکن وہ نظر انداز کر گیا ۔۔۔۔
میں ابھی آتی ہوں ۔۔۔۔
ابیہا کو اس ڈریگن کی حرکت پر غصہ تو بہت آیا ۔۔۔۔لیکن پھر خود پر کنٹرول کرتے ہوئے تاشے کا چہرہ تھپتھپا کر پیار سے بولتی اسکے پیچھے قدم بڑھا گئی ۔۔۔۔
ابیہا کے جاتے ہی ابرش نے اسے گلے لگا کر پیار کیا ۔۔۔۔جبکہ رومان کو سلام بولا ۔۔۔۔جسکا اس نے مسکرا کر جواب دیتے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
پھر باری باری سب سے ملتے ہوئے ۔۔۔تاشے اور رومان نجمہ بیگم کے سامنے آ کر کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔
یقینا ان کیلئے اپنی سوتن کی اولاد کو قبول کر پانا بہت مشکل ہوگا ۔۔۔لیکن نجمہ بیگم نے ان دونوں کی سوچ کو غلط ثابت کرتے ہوئے مسکرا کر دونوں کو اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ دونوں ہی بہت حیران ہوئے تھے ۔۔۔۔
جبکہ انکو اپنے سینے سے لگاتے نجمہ بیگم نے بےآواز رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔جسے دیکھتے وہاں موجود سبھی افراد کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔۔۔۔
آنٹی پلیز ۔۔۔۔”
رومان نے الگ ہو کر انکے بہتے ہوئے آنسو صاف کرتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
آنٹی نہیں ماما ۔۔۔”
نجمہ بیگم نے اسکے وجیہہ چہرے کو ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔۔ساتھ پیار سے سرزنش کی ۔۔۔
بےساختہ ہی رومان کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے ۔۔۔۔دراصل نجمہ بیگم کے ماما لفظ نے اسے اسکی ماں کی یاد دلا دی تھی ۔۔۔جو موسی شاہ کی بےحسی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر گئی تھی ۔۔۔
اور آج نجمہ بیگم ،،،، زرمینے ،،،، تاشے اور وہ جس مقام پر کھڑے تھے ان سب کا بھی وہی شخص ذمہ دار تھا ۔۔۔۔
موسی کیلئے اس کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
پھر نجمہ بیگم کی طرف دیکھتے جو اسے ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔
مسکرا کر سر ہلا گیا ۔۔۔۔
جی ماما ۔۔۔”
جس پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے انکے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔۔
آنٹی زرمینے کدھر ہے ؟؟؟؟
زر کو وہاں موجود نا دیکھتے ہوئے تاشے نے سوال کیا ۔۔۔۔
بیٹا وہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔اس لیے وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں ۔۔۔۔اصل میں میں نے انہیں بتایا نہیں کہ آپ لوگ آ گئے ورنہ آپ سے ملنے ضرور آتیں ۔۔۔۔
انہوں نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے صفائی دی ۔۔۔۔تاکہ وہ زر کو لے کر اپنے دل میں کوئی خلش نا رکھیں ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں ہم پھر مل لیں گے ۔۔۔۔دونوں بات کو سمجھتے مسکرا کر بولے ۔۔۔جس پر انہوں نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
وہ لوگ سب کے درمیان بیٹھے کافی دیر باتیں کرتے رہے ۔۔۔۔اور اسکے بعد نجمہ بیگم نے انکے آرام کا خیال کرتے ہوئے اٹھنے کا بولتے انہیں ان دونوں کے کمرے دکھائے ۔۔۔۔
جو اپنے پورشن میں ان کیلئے سپیشل تیار کروائے تھے ۔۔۔۔جو ان دونوں کو ہی پسند آئے ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
سم یہ کیا حرکت تھی ؟؟؟؟ آپکو پتا بھی ہے میں کتنا شرمندہ ہوئی ہوں دونوں کے سامنے ۔۔۔۔۔
وہ کیا سوچتے ہونگے کہ میرے شوہر کی نظر میں میری یہ اہمیت ہے ۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ واسم کے تاثرات جانچے بنا ہی بولنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔
واشروم میں جا کر منہ دھو کر آو ۔۔۔۔”
اسکی ساری باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ۔۔۔سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔
ابیہا کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔۔۔
تمہیں سنائی نہیں دے رہا ۔۔۔۔جاو منہ دھو کر آو ۔۔۔۔
اسے اپنی جگہ پر سٹل کھڑا دیکھ کر دھاڑا ۔۔۔جس پر وہ جی جان سے کانپی ۔۔۔۔
کیوں ،،،، میں کیوں منہ دھو کر آوں؟؟؟؟ لیکن پھر خود کو کمپوز کرتے ہوئے غصے سے بولی ۔۔۔۔
تم ایسے نہیں مانوں گی ۔۔۔۔
اسکی بات کا جواب دینے کی بجائے وہ اسے ایک جھٹکے سے کندھے پر اٹھاتا واشروم کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
واسم ۔۔۔۔”
ابیہا نے ہاتھ پھیر چلاتے ہوئے اترنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ سم ٹم برتن دھونے والے وم چھوڑیں مجھے ،،،،، اسکی کمر پر اپنے نازک ہاتھوں کے مکے برساتے بولی جسکا اس نے کوئی خاص اثر نہیں لیا ۔۔۔۔اور واشروم میں داخل ہو کر ایک پاوں سے دروازہ بند کرتے ہوئے اسے سیدھا لاکر شاور کے نیچے کھڑا کرتے ہوئے اسے آن کیا ۔۔۔۔۔
جسکی پہلی پھوار ہی ان دونوں کو مکمل بھگو گئی ۔۔۔۔
آپکا کہیں دماغ وغیرہ خراب تو نہیں ہو گیا ۔۔۔۔اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہوئی غصے بولی ۔۔۔۔
ہاں ہو گیا ہے میرا دماغ خراب ۔۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔اسے خود کو کس کرنے دینے کی اور بدلے میں اسے کس کرنے کی ۔۔۔۔
اسکا نازک چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے وہ غصے سے دھاڑا ۔۔۔۔
سم “
ابیہا اسکی بات سن کر ششدر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
وہ بہن ہے ۔۔۔۔
کتنی دیر بعد جا کر وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئی تھی ۔۔۔۔
پہلی بات وہ کوئی تمہاری بہن وہن نہیں ہے ۔۔۔۔سیکنڈ میرے علاوہ تمہیں ایسے کوئی چھوئے مجھے ہرگز پسند نہیں ۔۔۔۔
اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر مزید اسے اپنے قریب کرتے شدت پسندی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
اگر تمہیں زیادہ ہی پیار آتا ہے ۔۔۔۔ یا پیار کی طلب ستاتی ہے تو میں تمہیں چوبیس گھٹنے کیلئے اویلبل ہوں ۔۔۔۔مجھے بولوں ہر لمحہ ہر گھڑی تم پر اپنے پیار کی شدتیں نچھاور کرنے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔۔۔
لیکن آئندہ اگر تمنے ایسی حرکت انجام دی تو سوچ لینا ،،،،، ایسا حال کرونگا دوبارہ کسی پر پیار نچھاور کرنے سے پہلے ہزار بار سوچو گی ۔۔۔۔
سم “
واسم کے جنون کو دیکھتے ۔۔۔۔ابیہا کے منہ سے لفظ نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔
خوبصورت چہرہ خون چھلکانے لگا ،،،،، جبکہ وجود کی کپکپاہٹ میں واضح اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
اسکے چہرے کی اڑی رنگت اور کھلے منہ کو دیکھتے ،،،،،واسم نے بہت نرمی سے اسکے ہونٹوں کو لبوں سے چھوا ۔۔۔۔
ان سب کے دوران پانی مسلسل ان پر برستا ہوا ان دونوں کو بھگو رہا تھا ۔۔۔جسکا ان دونوں کو ہی ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔
سم ۔۔۔۔”
سانسوں کو آزادی ملنے پر ابیہا نے اسے پیچھے دھکیل کر وہاں سے بھاگنا چاہا ۔۔۔۔جب واسم نے اسکی کلائی کو تھامتے ہوئے دوبارہ اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔ابیہا سیدھا اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔۔
جبکہ گرنے کے ڈر سے اسکے کندھوں کو دونوں ہاتھوں سے تھاما ۔۔۔۔
اسکے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ واسم کے لب خود با خود مسکرائے ۔۔۔۔۔اور وہ خود پر ضبط کھوتے دوبارہ اس پر جھکنے لگا ۔۔۔۔
جب ابیہا نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔مسلسل خود پر پانی گرنے کی وجہ سے اسے سانس پہلے ہی رک رک کر آ رہا تھا ،،،، اوپر سے واسم کی جان لیوا قربت کو جھیلنا ۔۔۔۔
اسکی ہمت خود کے اندر مفقود پاتی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت پر واسم کے چہرے کے تاثرات ایک بار پھر بدلے تھے ۔۔۔۔
سم مجھے سانس نہیں آ رہا ؟؟؟؟؟
اس سے پہلے واسم غصے میں کچھ کہتا وہ گہرا سانس لینے کی کوشش کرتی ہوئی بمشکل بولی ۔۔۔۔
بیا کیا ہوا جان ؟؟؟؟
ابیہا کے چہرے بدلتے تاثرات اور بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے ہوئے واسم شاہ نے فورا شاور بند کیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسے خود سے لگا کر پیٹھ سہلانے لگا ۔۔۔۔
جسکا خاطر خواہ کوئی اثر نا ہوتے دیکھ اسکے لبوں پر جھکتا اپنی سانسیں اسکے نازک وجود میں اتارنے لگا ۔۔۔۔۔
ابیہا کی بند ہوتی سانسوں میں دوبارہ روانی آئی تھی جسے محسوس کرتے پیچھے ہوتا اسے اپنے سینے لگا گیا ۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ اسکی بیک بھی سہلا رہا تھا ۔۔۔۔
آخر وہ اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا تھا ۔۔۔۔ابیہا کی اس وقت جو حالت تھی ۔۔۔۔اسے بہت کیئر اور نرمی کی ضرورت تھی ۔۔۔۔اور وہ آج اپنے غصے میں سب کچھ فراموش کیے کتنی بڑی غلطی کر گیا تھا ۔۔۔۔
اگر ابیہا یا پھر اسکے بچے کو کچھ ہو جاتا تو یہ سوچ ہی اس کیلئے سوہان روح تھی ۔۔۔۔
اب کیسا فیل کر رہی ہو ؟؟؟؟؟
تھوڑی دیر بعد اسے خود سے الگ کر کے بہت نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔جبکہ اسے خود کیلئے یوں پریشان ہوتے دیکھ کر وہ خوبصورتی سے مسکرائی ۔۔۔۔
بہتر ۔۔۔
لیکن جواب ایک لفظی ہی دیا ۔۔۔۔
شکر “
ورنہ ابھی تم سے پہلے میری جان نکل جاتی ۔۔۔۔
اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے بہت محبت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔
