Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 14)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 14)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
اسے شاہ انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے تقریبا ایک ماہ مکمل ہونے کو تھا ۔۔۔اتنے میں وہ واسم شاہ کی نیچر کو کافی حد تک سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔وہ بہت ہی کم گو اور ڈسپلن پسند انسان تھا ۔۔۔۔
یہاں اسکے طبیعت کے خلاف کوئی چیز ہوتی وہی سب کی کم بختی آ جاتی تھی ،،،،، جسکی زد میں وہ بھی ایک بار آ چکی تھی ۔۔۔۔
اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ کوشش کرتی تھی کہ کم ہی اس کے سامنے جائے ۔۔۔۔کیونکہ واسم کو دیکھتے ہی اس کے اپنے حواس کام کرنا چھوڑ دیتے تھے ۔۔۔
وہ چاہ کر بھی اسکے چہرے سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پاتی تھی ۔۔۔۔اس لیے وہ کوشش کرتی تھی اسکا کم ہی سامنا ہو اس سے ،،،،،، کیونکہ اپنی بے اختیاری کے ہاتھوں سر زد ہوئی غلطی کے تحت اپنی جاب نہیں گنوانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔
ویسے بھی اسکا زیادہ کام نہیں ہوتا تھا آفس میں بس تین ٹائم دن میں واسم کیلئے کافی بنانی ہوتی تھی ،،،،،، یا اس کا پی اے ضروری کام کر رہا ہوتا تو فائل وغیرہ ڈھونڈ کر دینا اور بکھرے پیپرز کو اکٹھا کرنا بس ایسے ہی دو چار اور چھوٹے موٹے کام جنکی وہ اسے بہت اچھی سیلری دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
جس سے اسکے گھر کا خرچہ اور اسکی ماں کی ادویات دونوں احسن طریقے سے پورے ہو رہے تھے ۔۔۔۔
اب بھی وہ اسکے آفس پہنچنے سے پہلے تمام چیزوں کو سہی طریقے سے سیٹ کرتی ،،،،، ایک طرف ٹیبل پر کافی کا مگ رکھتی ،،،،، غیر ضروری فائلز کو اٹھاتے ہوئے نکلنے ہی لگی تھی جنہیں واسم نے اسے دوسرے روم میں رکھنے کا بولا تھا ۔۔۔۔۔۔
جب بےدھیانی میں کان سے فون لگائے اندر داخل ہوتے واسم شاہ سے ٹکرا گئی ۔۔۔۔جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں پکڑی تمام فائلز چھوٹ کر نیچے زمین پر گری تھیں اور تمام کاغذات فرش پر بکھر گئے ۔۔۔۔
جبکہ واسم جو فون پر کلائنٹ کے ساتھ ضروری گفتگو کر رہا تھا اس اچانک پڑنے والی افتاد پر فون اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرتا دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے ہوئے معروف نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر جماتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔جبکہ واسم کا ازلی غصہ عود کر آیا تھا اور وہ اس پر دھاڑ اٹھا ۔۔۔۔
وٹ دی ہیل از دس ،،،،،، مس حسن یہ کوئی آپکے گھر کا گارڈن ہے یہاں آپ آنکھیں بند کر کے ٹہل رہی تھی ۔۔۔۔۔
آ ،،،،آئی ،،،،ایم ،،،،،سو سوری سر یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ،،،،،، میں تو بس ،،،،،،، میں تو بس ،،،،،،، اسے اپنے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکتا ہوا محسوس ہوا تھا جسکی وجہ سے باقی کے الفاظ اسکے حلق سے انکاری تھے ۔۔۔۔
جبکہ اسکی آنکھوں سے جھرنا بہنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
کیا میں تو بس ،،،،، لگا رکھی ہے ۔۔۔۔۔آپکو پتا بھی ہے کہ کتنی امپورٹنٹ فون کال تھی ۔۔۔۔۔اوپر سے ،،،،، وہ ایک نظر فون کی طرف دیکھتا سختی سے اپنے لب بھینچ گیا۔۔۔۔۔۔ سوری سر غلطی سے ہو گیا ،،،،، وہ کپکپاتی آواز میں بولتی جھک کر اسکے فون کے ٹکڑے اٹھاتی اسکی طرف بڑھائی گئی ۔۔۔۔
سر اسے جوڑ کر ،،،،، آپ دوبارہ سے کال کر لیں ،،،،، وہ اسے اپنے مفید مشورے سے نوازتی سوں سوں کرتی معصومیت سے بولی ۔۔۔۔۔
جس پر واسم نے اسے حیرت سے دیکھا تھا ،،،،، اسے شبہ سا ہوا تھا ،،،،، کہ یہ لڑکی سچ میں بیوقوف تھی یا اسے بنا رہی تھی ،،،،،، کیونکہ اس زمانے میں کسی کا اتنا معصوم ہونا ناممکن سی بات تھی ۔۔۔۔۔
اس نے معروف کے ہاتھ سے فون جھپٹنے کے انداز میں پکڑتے اسے کھینچ کر دیوار پر اس قدر زور سے مارا تھا کہ اسکا پرزہ پرزہ الگ ہو گیا ۔۔۔۔
گیٹ لاسٹ مس حسن ،،،،، وہ اسے کمرے سے نکل جانے کا اشارہ کرتا بولا نہیں بلکہ دھاڑا تھا جس پر وہ جی جان سے لرزی تھی ،،،،،،،پر ،،،،، سر وہ ،،،،میں ۔۔۔۔۔۔
آئی سیڈ گیٹ آوٹ ،،،،،اس بار اسکی دھاڑ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک تھی ،،،،، جس پر وہ اپنے کانپتے دل پر ہاتھ رکھتی ،،،، دور کر روم سے نکلتی اپنے کیبن میں آ کر ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ باس کے کمرے سے اسے روتے ہوئے نکلتے دیکھ سٹاف ممبرز حیرت سے دیکھ رہے تھے ،،،،، لیکن یہ صرف کچھ دیر کیلئے تھا ،،،،، کیونکہ وہ اپنے نخریلے اور غصے والے باس کی عادت سے اچھے سے واقف تھے ۔۔۔۔
اس لیے اس بات کو معمول کے طرز پر لیتے دوبارہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے ۔۔۔۔۔
*********
دوسری طرف واسم جسکا غصہ اسکے وہاں سے چلے جانے پر بھی کم نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔اس نے ایک زور دار ٹھوکر کرسی کو رسید کی تھی ۔۔۔۔۔
اصل میں وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو رہا تھا ۔۔۔۔کیونکہ بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے معروف کا آنسوؤں سے تر چہرہ آ رہا تھا ۔۔۔۔۔
جسے یاد کرتے اسے بےچینی سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔لیکن ایسا کیوں تھا وہ فلحال سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔جسکی وجہ سے اسے خود پر بھی غصہ آ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ کافی دنوں سے اسکی حرکات نوٹ کر رہا تھا ،،،،، اسکی خود پر اٹھتی نظریں ،،،،، اور پھر اسکے دیکھنے پر نگاہ کا زاویہ بدل جانا ،،،،، اس سے نظریں چرا کر بھی صرف اسے ہی دیکھتے رہنا ،،،،،، وہ ان سب سے انجان بالکل نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ چاہتا تو ایک پل میں اس کی چوری پکڑ کر اسے بیعزت کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔ اسے اسکی اوقات یاد دلا سکتا تھا ۔۔۔۔پر پتا نہیں اس کا دل کیوں نہیں مان رہا تھا ۔۔۔۔
حالانکہ ایسی نظروں کا وہ عادی تھا ،،،،، وہ جہاں بھی جاتا تھا لوگ ایسے ہی مہبوت ہو کر اسے دیکھتے تھے ،،،،،، لیکن اس لڑکی کی نظروں سے اسے جھنجھلاہٹ سی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔
ایک الگ سا ہی احساس ،،،،،،، اور وہ اتنے دنوں کا جو غبار تھا آج کی اسکی حرکت پر غصے کی صورت میں نکلا تھا ۔۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی خود پر کنٹرول نہیں کر پایا تھا ۔۔۔۔۔۔اوپر سے اسکی بے سرو پا باتیں اسکے طیش میں اضافے کا باعث بنی تھیں۔۔۔۔۔
لیکن اب اسکا زار و قطار رونا یاد کر کے اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ،،،،،اب بار بار اسکا خیال اسے تنگ کر رہا تھا ،،،،، جسے وہ چاہ کر بھی جھٹک نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔۔لیکن پھر خود کو لاپرواہ ظاہر کرتے ہوئے لینڈ لائن سے اپنے پی اے کو فون لگایا تھا ۔۔۔۔
اور اسے جلد اپنے روم آنے کا حکم دیتے ۔۔۔۔اپنی کرسی پر براجمان ہوتے ٹیک لگا کر کچھ پل سکون کیلئے اپنی آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔
*********
آج ابرش اور زرمینے کا لاسٹ پیپر تھا ۔۔۔اور انہیں لینے آج ڈرائیور کی جگہ زارون خود آنے والا تھا ۔۔۔لیکن پیپر ختم ہوئے آدھے گھنٹے سے زیادہ ہو گیا ،،، وہ ابھی تک نہیں پہنچا تھا ۔۔۔۔
جس کی وجہ سے ان دونوں کو اس پر بہت غصہ بھی آ رہا تھا ،،،، لیکن مجبوری تو یہ تھی کہ وہ دونوں اس کے بغیر اکیلے گھر بھی نہیں جا سکتی تھیں ۔۔۔اور نا ہی انہیں اس چیز کی اجازت تھی ۔۔۔۔
تقریبا آدھے سے زیادہ سٹوڈنٹ پیپر ختم کر کے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے تھے ،،،،، اور جو اکا دکا بچے تھے وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔
ابرش بار بار اسے فون ملا رہی تھی ۔۔لیکن اس کا فون ناٹ ریچبل آ رہا تھا ۔۔۔ان دونوں نے گھر جا کر اسکی کلاس لگوانے کا دل میں پکا ارادہ کیا تھا ۔۔۔
اچھا زر سنو ،،،، ہاں بولو زر جس کا دھیان اپنے فون کی طرف تھا اس کی طرف متوجہ ہوتی بولی ۔۔۔مجھے واشروم جانا ہے تم نا میرا یہی پر ویٹ کرنا میں فریش ہو کر آتی ہوں ۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے دھیان سے جانا اور جلدی واپس آنا ۔۔۔ اسکی بات پر وہ سر ہلاتی چلی گئی ۔۔۔
پیچھے زرمینے کو اب اکیلے بیٹھے کوفت سی ہونے لگی تھی ۔۔۔اوپر سے بھوک بھی بہت زوروں کی لگی تھی ۔۔۔ کیونکہ صبح پیپر کی ٹینشن کی وجہ سے سہی سے ناشتہ بھی نہیں کر پائی تھی ۔۔۔ اس نے اپنے دل میں زارون کو ہزاروں صلواتیں بخشی تھیں جو ابھی تک نہیں پہنچا تھا ۔۔۔۔
پھر یہ سوچ کر وہ کینٹین کی طرف بڑھ گئی کہ جب تک ابرش آتی ہے وہ کچھ ہلکا پھلکا کھانے کیلئے لے آئے ۔۔۔کیونکہ اب اسے بھوک سے چکر بھی آ رہے تھے ۔۔۔۔
ابھی وہ کینٹین کی طرف جا ہی رہی تھی کہ کوریڈور کے آخری حصے سے اسے ایک چیخ سنائی دی ۔۔۔اس نے رک کر اس طرف دیکھا ۔۔۔پر اسے کچھ بھی دکھائی نا دیا ۔۔۔۔
پھر اسے اپنا وہم گردانتے ہوئے وہ مسکرا کر واپس جانے لگی کہ اسے دوبارہ پھر وہی چیخ سنائی دی اور اس بار آواز پہلے سے زیادہ تھی ۔۔۔۔
جسے سنتے اس کے قدم چلنے سے انکاری تھے ۔۔۔ اس نے ایک بار پھر واپس مڑ کر دیکھا ،،،، اور اب اسے تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا ۔۔۔لیکن پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے اپنے قدم اس طرف بڑھائے تھے ۔۔۔
اور وہ جیسے وہاں پہنچی اسے ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا ۔۔۔یہاں تو بس کلاسز کے کمرے تھے جو فلحال بند تھے اور ساتھ آخر میں ایک کمرہ تھا جس میں پرانی کتابیں اور ضروری پیپرز وغیرہ رکھے جاتے تھے ۔۔۔
اس لیے وہاں سٹوڈنٹ کا آنا جانا منا تھا ۔۔۔۔کچھ نا سمجھ آتے دیکھ ابھی وہ واپس مڑتی کہ اسے کچھ گرنے کی آواز سنائی دی ۔۔۔جو اسی کمرے سے آئی تھی یہاں یہ لوگ نہیں جا سکتے تھے ۔۔۔
اس نے دروازے کے پاس جا کر اندر دیکھنا چاہا لیکن ایسے کچھ بھی نظر نہیں آیا ۔۔۔لیکن پھر جب اس کے ہاتھ دروازے پر لگے تو وہ ہلکا سا کھل گیا۔۔۔جس کا مطلب تھا کہ اندر کوئی موجود تھا ۔۔۔۔
اس نے دروازے کو تھوڑا اندر کی دھکیلا اور بنا آواز کیے اندر داخل ہو گئی ۔۔۔پر کمرے میں بہت زیادہ اندھیرہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی سہی سے دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔
اس نے اپنے موبائل کی لائٹ جلا کر جب سامنے دیکھا تو جو منظر اسے دیکھنے ملا اسے روح تک خوف زدہ کر دیا ،،،،، وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے موجود وجود کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔جس کے ہاتھ میں ایک چا*قو تھا جس پر خو*ن لگا ہوا ۔۔۔
ایک آدمی کی لا*ش اسکے قدموں میں پڑی تھی ۔۔۔ جس سے نکلتا خو*ن
پورے فرش پر پھیل گیا تھا ۔۔۔ وہ انہیں کے کالج کا ایک پیون تھا ۔۔۔اور ایک لڑکی تھی جس کی گردن اسکے ہاتھ کے شکنجے میں پھنسی تھی ۔۔۔۔جسے چھڑوانے کی وہ مسلسل کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
جبکہ روشنی دیکھ وہ بھی اب اس کی طرف متوجہ ہو کر اپنا رخ اسکی طرف کر گیا ۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پائی ۔۔۔۔
کیونکہ اس نے بلیک ہڈی میں خود کو بالکل کور کر رکھا تھا ۔۔۔اور اسکے چہرے پر بھی بلیک ماسک تھا ۔۔۔بس موبائل کی جلتی روشنی میں اسکی کالی گھنور آنکھیں نظر آ رہی تھیں ۔۔۔جن میں سرخ ڈوروں کے ساتھ ایک جنون برپا تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھ کر خوف سے زر کا موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا تھا ۔۔۔وہ اس قیامت خیز منظر کو دیکھتی تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔۔
جب اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے اس نقاب پوش نے ہاتھ میں پکڑا چا*قو اس لڑکی کی گردن پر پھیر دیا تھا ۔۔۔ اور وہ ایک جھٹکے سے لہرا کر زمین پر گری ۔۔۔
اسکی کٹ*ی ہوئی گردن سے بل بل بہتا خو*ن زر کے حواسوں کو جھنجھوڑ گیا ۔۔۔وہ چیخنا چلانا چاہتی تھی ،،،، چلا چلا کر سب کو اکٹھا کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ لیکن اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
اور نا اسکے قدموں میں اتنی سکت تھی کہ وہ یہاں سے بھاگ جاتی ۔۔۔لیکن پھر اس نقاب پوش کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ وہ جیسے ہوش میں آئی تھی ۔۔۔
اور اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی اس نقاب پوش نے ایک ہی جست میں اس تک پہنچتے اسے اپنے آہنی شکنجے میں جھکڑا تھا ۔۔۔۔
پلیز مجھے چھوڑ دیں میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔پلیز مجھے مت ماریئے گا ،،،، میں کسی کو اس بارے میں کچھ نہیں بتاؤں گی ۔۔۔اس نے روتے ہوئے منت کی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ بنا کوئی جواب دیئے اسے کمرے کی دیوار سے پن کرتے ہوئے ایک ہاتھ دیوار پر اس کے گرد رکھتے دوسرے سے وہ خو*ن لگا چا*قو اسکی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا ۔۔۔
اور جب بولا تو لہجے میں وحشت برپا تھی ۔۔۔تمہارے لیے اچھا بھی یہی ہوگا کہ جو کچھ تم نے ابھی دیکھا ہے اسے ایک خواب سمجھ کر بھول جاو ورنہ یہ چا*قو مجھے تمہاری اس نازک گردن پر پھیرتے زیادہ دقت نہیں ہوگی ۔۔۔۔
وہ خو*ن لگا چا*قو اس کی گردن پر رکھتے اس پر ہلکا سا دباؤ دیتے ہوئے درشتگی سے بولا تھا ،،،،جبکہ زر نے ڈرتے ہوئےفورا ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
گڈ گرل ،،،،، اگر بھول کر بھی تم نے کسی کو اس بارے میں بتایا تو وہ دن تمہارا اس دنیا میں آخری دن ہوگا ،،،، آج سے میری نظریں چوبیس گھنٹے صرف تم پر ہوگی ،،،، یہ یاد رکھنا ہمیشہ ،،،،
اسے اچھی طرح دھمکاتے ہوئے وہ پیچھے ہٹ گیا تھا جبکہ راستہ ملتے ہی اس نے باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔۔اور بھول کر بھی دوبارہ پیچھے دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔جبکہ اس نقاب پوش کی پرسوچ نظریں اسکی پشت پر ٹکی تھیں ۔۔۔
ابھی وہ پلٹ کر اپنا ادھورا کام مکمل کرتا جب اسکی نظریں زمین پر گرے زرمینے کے فون پر پڑیں ،،،،،،، اس نے کچھ سوچ کر وہ فون اٹھایا اور اپنی پینٹ کی جیب میں رکھ لیا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ چہرے پر عجیب پراسرار سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔
********
زر جو اس منظر کو دیکھتے اپنے ہوش و حواس بھلا چکی تھی ۔۔۔۔ اپنی جان بچ جانے کے بعد اس اندھیرے کمرے سے نکلتی بجائے واپس ابرش کے پاس جانے کے باہر مین گیٹ کی طرف دوڑی تھی ۔۔۔۔
ان سب میں اسکا دوپٹہ جو اس نے سلیقے سے سر پر جما رکھا تھا ،،،،،، سر سے اتر کر گلے میں جھولنے لگا تھا ،،،،، لیکن اسے اتنی ہوش کہاں تھی وہ تو بس اس وحشی درندے کی پہنچ سے دور بھاگ جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
بھاگ کر کسی ایسی جگہ چھپ جانا چاہتی تھی یہاں وہ اسے کبھی ڈھونڈ نا سکے ،،،،،، اسکا زہریلی آواز میں بولا ہوا ایک ایک لفظ اسکی سماعت میں ابھی تک گردش کر رہا تھا ۔۔۔۔
جو اسکے خوف میں مزید اضافہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔جبکہ آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا جس کی وجہ سے آنکھوں میں دھند سی چھاتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
جس کے چلتے وہ سامنے سے آتے وجود کو ٹھیک سے نا دیکھ پائی اور اس سے ٹکرا گئی ،،،،، لیکن جب اس نے نظر اٹھا کر اپنے سامنے زارون کو دیکھا تھا تو وہ سب کچھ بھلائے اسکے سینے میں اپنا منہ چھپاتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔
زارون جو ان دونوں کو لینے کیلئے آیا تھا ،،،،، راستے میں ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا ،،،،، اوپر سے اسکے فون کی بیٹری بھی ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔جسکی وجہ سے وہ انہیں اس چیز کے بارے بتا بھی نہیں سکا ۔۔۔۔۔
وہ جب کالج پہنچا تو پیپر ختم ہوئے تقریبا ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے اسے ان دونوں کی فکر بھی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے کار سے اترتے چوکیدار بابا سے ان دونوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابھی کالج کے اندر ہی ہیں باہر نہیں آئی تھیں تو اسے کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے فون میں بیٹری تو تھی نہیں جس سے وہ ان دونوں کو فون کر کے اپنے آنے کی اطلاع دے سکتا اس لیے خود ہی انہیں لینے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
لیکن پھر زرمینے کو ایسے بے حال ہوش و حواس سے بیگانہ بھاگتے دیکھ پریشان ہو کر اسکی طرف بڑھا جب وہ بےدھیانی میں اس سے ٹکرا گئی ۔۔۔۔
ابھی وہ اس سے کچھ کہتا کہ زر نے ایک نظر اٹھا کر اسکے چہرے طرف دیکھتے ہوئے سیدھا اسکے سینے سے لپٹتی زار و قطار رونے لگی ۔۔۔۔
جبکہ زر کا ایسے اسکے سینے لگنا ،،،، اسکی اپنی دھڑکنیں بھی بڑھا گیا ،،،،، لیکن پھر اس کے آنسوؤں سے بھیگتی اپنی شرٹ کو محسوس کرتا جیسے ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا زر ایسے کیوں رو رہی ہو سب ٹھیک تو ہے ،،،،،، ابرش کہاں ہے ،،،،، وہ بھی تمہارے ساتھ تھی نا کہاں ہے وہ ؟؟؟
اسے آرام سے خود سے الگ کرتے ہوئے نرمی سے پوچھا تھا جبکہ اب اسے اس کے ساتھ ساتھ ابرش کی بھی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔۔
و ،،،،،، وہ ،،،،،، زا ،،،،،،زارون ،،،،،، وہ ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھتی کچھ بولنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن چاہ کر بھی اسکے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔
ہاں کیا ہوا بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔۔و ،،،، وہ ۔۔۔۔۔ہاں وہ ابھی اس سے پوچھ ہی رہا تھا جب وہ اپنے مکمل ہوش و حواس کھوتی اسکے بازوؤں میں ہی جھول گئی تھی ۔۔۔۔۔
