Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 40)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

ہا ہا ہا ہا

بن گیا بیوقوف دنیا کا مشہور اور عقلمند بزنس ٹائکون واسم شاہ ،،،،،، نیم اندھیرے کمرے میں اسکا جناتی قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔۔۔

جسکا ساتھ معروف حسن کے نسوانی قہقہے نے بھی دیا تھا ۔۔۔۔۔

اففففففف بہت مشکل تھا اسے خود پر یقین دلانا ،،،،، معصوم ہونے کا ڈھونگ کرنا ،،،،، ہر وقت آنکھوں میں جھوٹے آنسو لے کر اسے اپنی طرف مائل کرنا ۔۔۔۔۔

اپنی نیلی آنکھوں سے گھورتا تو ایسے تھا جیسے آنکھوں سے جان لینے کا ارادہ رکھتا ہو ۔۔۔۔۔

لیکن سامنے بھی دنیا کی حسین اور ٹیلینٹڈ لڑکی معروف حسن کھڑی تھی آخر اپنے پیچھے پاگل کر کے ہی چھوڑا ۔۔۔۔۔

وہ ایک ادا سے اتراتے ہوئے بولی ،،،،،، جس پر صوفے پر براجمان اس وجود نے مسکراتے تائید میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

مس حسن آپ ٹینشن نا لیں ،،،،، میں آپ سے اسی ہفتے شادی کروں گا ،،،،، آپکو اپنا نام دے کر تحفظ دوں گا ،،،،، میرے ہوتے ہوئے آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔

وہ منہ بنا کر واسم کی نکل اتارتے بولی ،،،،،، جس پر سامنے بیٹھے وجود نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔

سچ میں تم نے کمال کر دیا آدھے سے زیادہ کام تو ہمارا ہو گیا ہے ،،،،،، بس ایک بار وہ تم سے شادی کر لے ،،،،، پھر دیکھنا کیسے میں حیدر شاہ کے شیرازے کو بکھیرتا ہوں ،،،،، اسے اشارے سے اپنے پاس بلاتے زہر خند لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ فورا عمل درآمد ہوتی آ کر آرام سے اسکی گود میں بیٹھ گئی اور ساتھ ہی ایک ادا سے اسکی گردن میں اپنے بازو حائل کیے تھے ۔۔۔۔۔۔

اور اس نے مسکراتے ہوئے اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا ،،،،، پھر اسکے سر کے پیچھے ایک ہاتھ سے بالوں کو پکڑ کر خود پر جھکاتا حرام فعل انجام دینے لگا ۔۔۔۔۔

جسکا وہ مسکراتے ہوئے ساتھ دے رہی تھی ،،،،،، دونوں اپنی جیت کی خوشی میں گم ایک دوسرے میں مکمل طور پر کھو ئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

لیکن سوچنے والی بات تو یہ تھی کہ واسم شاہ سچ میں اتنا ہی بیوقوف تھا جتنا ان لوگوں نے اسے سمجھ لیا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں بولو “

وہ سٹڈی روم کے دروازے کو بند کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔

سر وہ مس حسن بنا بتائے کہیں چلی گئی ہیں ۔۔۔۔۔

کیا مطلب کہاں چلی گئی ،،،،، وہ تو تمہاری ذمہ داری تھی نا تو ایسے کیسے بنا بتائے چلی گئی ۔۔۔۔۔

تمہیں اسکا دھیان رکھنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔

وہ اسکی بات کی جواب میں غصے سے بولا ۔۔۔۔۔

سر میں کچھ ضروری کام سے گیا تھا جب واپس آیا تو وہ اپارٹمنٹ میں نہیں تھی ،،،،، میں نے بلڈنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی ہے ۔۔۔۔۔

وہ میرے جانے کے کچھ دیر بعد ہی نکلی تھیں اور ابھی تک واپس نہیں آئی ۔۔۔۔۔

وہ اسے ساری بات تفصیل سے بتاتا پریشانی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

ہمم ” وہ اسکی بات سنتا پرسوچ لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔

تم نے اسکا فون ٹرائی کیا ؟؟؟؟؟

جی سر لیکن وہ اپنا فون ساتھ نہیں لے کر گئی ،،،،، وہ انکے کمرے میں ہی پڑا ہوا تھا ،،،،، ہاتھ میں پکڑے پرانے بٹنوں والے چھوٹے سے فون کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

جسے سن کر اس سے پہلے کہ واسم اسے اگلا کوئی حکم دیتا تبھی اپارٹمنٹ کا دروازہ ناک ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جسے سن کر وہ ایسے ہی فون کان سے لگائے دروازے کی طرف بڑھتا واسم سے مخاطب ہوا ،،،،،، سر مجھے لگتا ہے کہ وہ آ گئی ہیں ۔۔۔۔۔

میری بات کرواو ۔۔۔۔۔

اوکے سر ۔۔۔۔۔

کامران نے ایک سے دروازہ کھولا تھا ،،،،، جہاں اندازے کے عین مطابق معروف کالی چادر میں خود کو مکمل طور پر چھپائے سر جھکا کر کھڑی تھی ۔۔۔۔

جسے دیکھتے اس نے راستہ چھوڑا تھا اور وہ چپ چاپ اندر داخل ہو کر اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگی جب دروازہ بند کرتے اس نے پیچھے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔۔

سر آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے رک کر پلٹتے ہوئے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جب اس نے اپنا فون اسکی طرف بڑھایا تھا ،،،،، جسے وہ چادر سے ہاتھ نکالتے پکڑ کر کان سے لگا گئی ۔۔۔۔

السلام وعلیکم “

کہاں گئی تھی ؟؟؟؟؟ اسکے سلام کا جواب دینے کی بجائے وہ سیدھے مدعے کی بات پر آیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر معروف نے دل میں اسے کوسا تھا البتہ جب بولی تو لہجے میں واضح نمی گھلی ہوئی ۔۔۔۔۔

وہ ،،،،، وہ اماں کی ،،،، قبر پر گئی تھی ۔۔۔۔۔

ہمم ” لیکن تمہیں ایسے بنا بتائے نہیں جانا چاہیے تھا ،،،،، آئندہ اس بات کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔

وہ اسکی بات سن کر سپاٹ لہجے میں بولتا بنا اسے کوئی دوسری بات کرنے کا موقع دیئے فون بند کر گیا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے آنکھوں میں جھوٹے آنسو بھر کر سامنے کھڑے اسکے پی اے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

کیا ہوا ڈانٹ پڑی ؟؟؟؟؟

جسے دیکھتے وہ ہمدردی سے بولا ۔۔۔۔

لیکن وہ اسکا فون واپس اسکے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے ،،،،، لبوں پر ہاتھ رکھ کر بنا کوئی جواب دیتے روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی ۔۔۔

جسے کچھ پل دیکھنے کے بعد اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے تھے اور پھر کچن کی طرف بڑھ گیا تاکہ اپنے لیے کافی تیار کر سکے ۔۔۔۔۔

معروف اس وقت واسم کے پی اے کامران کے اپارٹمنٹ میں تھی ،،،،، جہاں وہ اسکی ماں کے کفن و دفن کے بعد واسم کے کہنے پر اسے لایا تھا ۔۔۔۔۔

کیونکہ اس عورت نے واپس جاتے ہی محلے میں بوال کھڑا کردیا تھا جس پر پورے محلے والے کانوں کو ہاتھ لگاتے اسے وہاں رکھنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔۔

جبکہ مکان مالک نے بھی فورا اسے اپنا گھر خالی کرنے کا بولا ،،،،، اور وہاں کے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے واسم اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ اسے اپنے ساتھ حویلی تو کسی صورت نہیں لے جا سکتا تھا ،،،،، اس لیے جب تک اسکے رہنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہوتا واسم نے اپنے پی اے کو اسے اپنے ساتھ رکھنے کا بولا ۔۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف فون بند ہونے کے بعد واسم نے کچھ سوچتے ہوئے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

آخر کب تک بچو گی خود سے ہی سرگوشی نما آواز میں بولا ۔۔۔۔

البتہ آنکھوں میں خاص چمک تھی ،،،،،، جیسے کسی شکاری کی آنکھوں میں اپنے شکار کے پھنس جانے پر ۔۔۔۔۔

ان سب سے فارغ ہو کر جب وہ دوبارہ کمرے میں آیا تو ابیہا چینج کر کے تب تک سو چکی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے اسکے ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ آئی تھی ،،،،، پھر گہرا سانس کھینچتے ہوئے فریش ہونے واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرش بیٹا ضارب نے چھوٹی سی عمر میں بہت بڑا دکھ جھیلا ہے ،،،،،، جس نے اسے مکمل طور اندر توڑ کر رکھ دیا ۔۔۔۔

وہ بظاہر چاہیں جتنا مرضی مظبوط بن جائیں ،،،،، یا پھر یہ ظاہر کریں کے وہ خوش ہیں اپنی زندگی میں لیکن وہ اپنی آنکھوں سے ظاہر ہوتی اداسی اور ان کے اندر پل رہی وحشت کو اپنے اپنوں سے نہیں چھپا سکتے ۔۔۔۔۔

اسی وجہ سے بابا سائیں نے ان کیلئے آپکا انتخاب کیا ہے ،،،،، کہ آپ اپنی معصوم شرارتوں اور ہنس مکھ نرم رویے سے انکی زندگی میں خوشیاں واپس لے آئیں ۔۔۔۔۔

تاکہ وہ اپنی زندگی صرف گزارنے کے نام پر نا بتائے بلکہ خوشی سے جیے ۔۔۔۔

سمجھ رہی ہیں نا میری بات کہ میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں ۔۔۔۔۔

عظمی بیگم اسے ضارب کے ماضی کے بارے میں بتاتے حیدر شاہ کے اس فیصلے کے پیچھے کا مقصد سے اسے آگاہ کرتے ہوئے نرمی سے بولی ۔۔۔۔

جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ اتنا سب کچھ جان کر ابھی بھی شاکڈ کی حالت میں تھی ۔۔۔۔۔

مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ زندگی کے اس امتحان کو بہت آسانی سے پاس کر لے گی ۔۔۔۔۔

اسکی صبیح پیشانی پر شفقت سے بوسہ دیتے ہوئے وہ مان سے بولی تھیں ،،،،، جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی ،،،،، جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد اسے اندر جانے کا اشارہ کر کے خود وہی سے واپس چلی گئی ۔۔۔۔۔۔

اسے تو پتا ہی نہیں تھا کہ ضارب کے والدین کی ڈیتھ ایسے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

جسے جان کر اسکا معصوم سا دل دہل گیا تھا ۔۔۔۔

شاید ضارب کے ایسے رویے کے پیچھے بھی یہی وجہ تھی ۔۔۔۔۔

وہ انہی سوچوں میں گم بےدھیانی میں کمرے میں داخل ہوئی ،،،،، جبکہ فرش پر بچھے کلین میں اس کا پاؤں اٹکا اور اس سے پہلے وہ گرتی ضارب شاہ نے اسکے گرد حصار کھینچتے اسے گرنے سے بچایا تھا ۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا باربی آپ کا دھیان کدھر ہے ؟؟؟؟ ہم اگر وقت پر نا آتے تو آپکو کتنی بری چو*ٹ لگتی اور ابھی تو آپکے پہلے ز*خم بھی ٹھیک نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔

وہ اسے سیدھا کھڑا کرتے فکرمندی سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر نظریں اٹھا کر ابرش نے اسکی طرف دیکھا تھا ،،،،، اور بےساختہ آگے بڑھ کر اسکے سینے کا حصہ بنی ۔۔۔۔۔

جبکہ ابرش کے اس عمل پر وہ کافی حیران ہوا تھا ۔۔۔۔

لیکن پھر مسکراتے ہوئے اسکے گرد اپنا حصار کھینچ گیا ۔۔۔۔

لگتا ہے ہماری باربی رومانس کرنے کے موڈ میں ہیں ہاں ،،،،، وہ اسے ایسے ہی سینے سے لگائے سرگوشی نما آواز میں بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر فورا ابرش کو اپنی پوزیشن کا خیال آیا اور وہ سرخ ہوتے اسکا نرم حصار توڑ پیچھے ہونے لگی ۔۔۔۔۔

لیکن کامیاب نا ہو سکی کیونکہ اب ضارب اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے سرخ اور معصوم چہرے کو دیکھتے اسے بےساختہ اس پر پیار آیا ،،،،، اور اس نے جھکتے ہوئے اسکے گلابی نرم روئی جیسے گال کو ہونٹوں سے چھوا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر ابرش اپنی آنکھیں بند کرتی اسکی پشت پر ہاتھوں کی گرفت کو کچھ اور مظبوط کر گئی ۔۔۔۔۔

جائیں کپڑے چینج کر لیں ،،،،، لیکن پھر یکدم اسے اپنے حصار سے آزاد کرتے سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔

جسے سنتے ابرش نے حیرت سے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

جس نے اپنے لب سختی سے بھینچ رکھے تھے ،،،،، جبکہ اسکا سفید خوبصورت وجیہہ چہرہ حد سے زیادہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ پریشان ہوئی ،،،،، اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اسے اپنے دائیں ہاتھ پر نمی کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔

اس نے حیرت سے اسکی شرٹ کو چھوڑتے ہوئے اپنے ہاتھ کو دیکھا ،،،،، جس پر خو*ن لگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ،،،،،، یہ کیا ہوا ،،،،، آپکو ؟؟؟؟؟

کپکپاتی آواز میں اسکی طرف دیکھتے سوال کیا تھا پھر بنا وقت ضائع کیے آگے بڑھ کر اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔۔

جہاں بائیں طرف کندھے کے پاس سفید شرٹ پر سرخ دھبے نمایاں ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ہی اسکی آنکھیں لبا لب آنسوؤں سے بھر گئی تھیں ۔۔۔۔۔

آپکو چو*ٹ لگی ہے اور آپ نے ہم میں سے کسی کو بتایا بھی نہیں ،،،، دوبارہ اسکے سامنے آتے ہوئے بری طرح رو*تے ہوئے غصے سے بولی ۔۔۔۔۔

بس اسی لیے نہیں بتایا تھا ،،،،،، سب لوگ پریشان ہو جاتے ،،،،، جیسے ابھی آپ ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں ہوا ہے ہمیں بس ایک معمولی سی چو*ٹ ہے ۔۔۔۔۔

اسکے بہتے آنسو صاف کرتے نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔

یہ معمولی سے چو*ٹ ہے دیکھیں ابھی بھی خو*ن بہہ رہا ہے اور آپ اسے معمولی کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔

وہ اپنا ہاتھ اسکے آگے کرتی پریشانی اور غم و غصے کی حالت میں بولی ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ لبوں سے کچھ کہتا ابرش نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے اسے خاموش کروایا تھا ۔۔۔۔۔

اور پھر خاموشی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کی طرف بڑھنے لگی ،،،،، جس پر نا چاہتے ہوئے بھی ضارب نے اپنے قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔۔

اسے لے جا کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے خود اپنا بھاری لباس سنبھالتے ہوئے ڈریسنگ کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔۔

پھر وارڈ روب سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر لائی ،،،،،، اور بنا وقت ضائع کیے ضارب کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی ۔۔۔۔۔

اور وہ جو خاموشی سے اسکی تمام کاروائی دیکھ رہا تھا اسے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے دیکھ کر اس پر ہاتھ رکھتے روک گیا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جن میں آنسو بھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

جن میں ضارب کو اپنا دل ڈوب کر ابھرتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہیں ؟؟؟؟؟ آپکو پتا بھی ہے کہ آپ جن حدود کی طرف بڑھ رہی ہیں ،،،،،، ان کا انجام کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک ہاتھ سے اسکے چہرے پر جھولتی لٹ کو پکڑ کر اسکے کان پیچھے اڑستے گھمبیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔

جس کا مطلب سمجھتے ہوئے ابرش کے اسکی شرٹ پر رکھے ہاتھ کانپے تھے اور چہرہ پل میں سرخ ہو گیا ،،،،، جسے دیکھتے ضارب نے لب دبا کر مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن پھر اسے مسکراہٹ چھپاتے دیکھ کر وہ اسکا مقصد سمجھتے ہوئے اسے گھوری سے نواز گئی ۔۔۔۔۔

مجھے پتا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں ،،،،،، اور اسکا ہر انجام بھگتنے کیلئے بھی تیار ہوں ،،،،،، وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی ،،،،،،، جبکہ اسکی ہمت پر ضارب نے داد میں آبرو اٹھائی ۔۔۔۔۔

فلحال میرے شوہر کے بیما*ر ہیں انکے ز*خموں پر مرہم لگانے دیں مجھے ۔۔۔۔۔

اتنا کہتے پھر دوبارہ اسکا ہاتھ ہٹا کر بٹن کھولنے شروع کر دیئے ۔۔۔۔۔۔

حالانکہ اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے ،،،،، اسکے کشادہ سینے کو دیکھتے ہوئے گال بھی تپنے لگے تھے ،،،،،، لیکن پھر بھی ہمت کرتے ہوئے وہ اسکی طرف دیکھنے سے گریز کرتی شرٹ اتارنے لگی ۔۔۔۔۔

جس کے دوران ضارب لو دیتی نظروں سے اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔

شرٹ اتار کر ایک سائڈ رکھتی وہ اسکی پشت پر آئی تھی جہاں ڈاکٹر کی کی گئی پٹی اب مکمل خو*ن میں بھیگ چکی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ایک بار پھر ابرش کی آنکھیں بھر آئی تھیں ۔۔۔۔۔اور بمشکل خود کو رونے سے باز رکھتی کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پٹی پر لگی ٹیپ اتار کر روئی ہٹا کر ز*خم کا معائنہ کرنے لگی ۔۔۔۔۔

جو کہ گو*لی لگنے کا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے پٹی ہٹ جانے کی وجہ سے خو*ن اب روانی سے بہنے لگا تھا جسے وہ روئی کے ساتھ روکنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔

آ ،،،،، آپ کو ،،،،، گو*لی لگی ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ بمشکل اٹکتے ہوئے بولی ،،،،،، جبکہ وہ لب بھینچ کر ز*خم سے اٹھتی ٹی*سوں کو برداشت کرتا ہاں میں سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ یہ سب دیکھتے ہوئے ابرش کے رکے ہوئے آنسو اسکے روئی جیسے گالوں پر بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔۔

لیکن پھر ہمت کرتے ہوئے بمشکل کانپتے ہاتھوں سے روئی ڈیٹول میں ڈبو کر ز*خم کی صفائی کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔

رہنے دیں باربی آپ سے نہیں ہوگا میں خان کو بلا لیتا ہوں ۔۔۔۔۔

اپنی پشت پر اسکی کپکپاتی انگلیوں کا لمس محسوس کرکے مسکراتے بولا ۔۔۔۔۔

آپ میں صبر نہیں ہے ،،،،، میں کر تو رہی ہوں ویسے بھی بیوی میں ہوں آپکی یا پھر خان لالا ؟؟؟؟؟

جو ہر وقت انہیں ساتھ لٹکائے رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔

اسکی بات کو سنتے جو غصہ اسے ضارب کے اتنی بڑی بات چھپانے پر آیا تھا نکالتے بولی ۔۔۔۔۔

اور روانی میں کیا کہہ گئی تھی اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات سنتا وہ ایک بار پھر مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔

ظاہر ہے آپ ہی ہیں ۔۔۔۔۔

تو پھر خاموش ہو جائے اور مجھے اپنا کام کرنے دیں ۔۔۔۔۔۔

وہ ذرا رعب سے اسے ڈپٹتے ہوئے بولی ،،،،،، جس پر ضارب نے فرمانبرداری سے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔۔

اسکے ز*خم کو اچھے سے صاف کرنے کے بعد ڈھیر ساری روئی سے کور کرتے الٹی سیدھی جیسی بھی اسے آتی تھی اس نے دوبارہ پٹی کر دی ۔۔۔۔۔

جس سے اسکا بہتا ہوا خو*ن اب رک گیا تھا ۔۔۔۔۔

پھر بےساختہ جھکتے ہوئے اسکی پٹی پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔۔

جس سے ضارب نے اپنی روح تک سکون اترتا محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔

اور ایک بار اچھے سے تسلی کر لینے کے بعد کہ اب خو*ن رک گیا ہے اس نے باقی کی بکھری ہوئے چیزیں سمیٹی تھیں ۔۔۔۔۔۔

اور بیڈ سے اتر کر خو*ن سے بھیگی پٹیاں اور روئی ڈسٹبین میں پھینکی جبکہ فرسٹ ایڈ باکس کو واپس ڈرا میں رکھتے ہوئے خود واشروم میں جا کر ہاتھ دھو کر واپس آئی تھیں ۔۔۔۔۔

آپکو د*رد تو نہیں ہو رہا ؟؟؟؟؟

جس پر ضارب نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

ٹھہریں میں آپکو پین ک*لر دیتی ہوں ،،،،، وہ اپنی بات مکمل کرتی اس سے پہلے کہ دوبارہ واپس جاتی ضارب شاہ کھینچ کر اسے اپنی گود میں بٹھایا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سٹپٹائی ۔۔۔۔۔

میڈیسن نہیں چاہیے ،،،،،، وہ اسکے گرد گرفت سخت کرتے گمبھیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔

تو پھر اور کیا چاہیے ؟؟؟؟؟

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

سکون “

ایک لفظی جواب فورا آیا تھا ۔۔۔۔۔

مطلب ” وہ ناسمجھی سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

جس کے جواب میں اب کہ وہ کچھ نہیں بولا صرف خاموش نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔

جسے ایک نظر دیکھنے کے بعدابرش نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے ،،،،،، اسکے نرم نازک ہونٹوں کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کرتے وہ سکون سے اپنی آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔۔۔

پھر اسکی پیشانی سے ہوتے باری باری نرمی سے اسکی بند آنکھوں کو چھوا تھا ،،،،،، جس سے ضارب کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

اور پھر یہی عمل اسکی دائیں بائیں گالوں پر دہراتے ہوئے نیچے ہونٹوں کی طرف آئی ،،،،،، لیکن چاہ کر بھی اسے چھو نا سکی ۔۔۔۔۔

جسے ضارب نے محسوس کرتے ہوئے اپنی گہری سبز کانچ جیسی کچھ د*رد اور کچھ اسکی قربت کی وجہ سے اترتی خماری سے سرخ ہوئی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔۔

پھر اسے خود سے ایک انچ کی دوری پر رکے دیکھ کر فاصلوں کو مٹاتا ہوا اسکے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی نرم گرفت میں لیتے محسوس کرنے لگا ۔۔۔۔۔

جس پر ابرش اپنی مخروطی نازک سفید انگلیاں اسکے گھنے بالوں میں چلاتے نرمی سے اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔۔۔۔

ضارب اسے یونہی محسوس کرتے ہوئے اپنی گود سے بیڈ پر منتقل کرتا اسے مکمل اپنے حصار میں لیتے بےبس کر گیا تھا ۔۔۔۔۔

جب وہ اسکی بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے دھیرے سے پیچھے ہوتا غور سے اسکا سرخ خوبصورت چہرہ دیکھنے لگا ،،،،، جو گہرے سانس لیتی ہوئی بند آنکھوں سے پڑی سے تھی ۔۔۔۔۔

پھر دھیرے سے ایک ایک کر کے اسکے کانوں میں پہنے آویزے نکالے تھے اور اپنی راہ میں رکاوٹ بنتے گلے میں پہنے ہار کو نکالتے وہاں دھیرے سے اپنے لب رکھے ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ وہ اسکے وجود دوپٹے سے آزاد کرتا ابرش نے اس پر اپنی گرفت مظبوط کرتے اسے روکا ۔۔۔۔۔

جس پر ضارب نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جو اپنی سرخ آنکھیں کھول کر اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ ،،،،، وہ آپ نے ،،،،،، بتایا نہیں آپکو یہ ،،،،،، چوٹ کیسے لگی ؟؟؟؟؟؟

جیسے بھی لگی آپ جان کر کیا کریں گی ؟؟؟؟؟ اسکے سوال کے بدلے سوال کرتے اس نے ایک بار پھر اسے نرمی سے چھوا تھا ۔۔۔۔۔

پلیز بتا دیں ؟؟؟؟؟

اسکے الگ ہوتے ہی دوبارہ سوال کیا تھا ،،،،، جس پر ضارب نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں بس ایک چھوٹا سا ح*ملہ ہو گیا تھا ،،،،، جس میں یہ چو*ٹ لگ گئی ہمیں ،،،،، اور اس میں صرف ہم ہی ز*خمی نہیں ہوئے بلکہ خان بھی ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ اسکی پریشانی کو محسوس کرتے تفصیل سے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر اسکی طرف دیکھا ،،،،،،، اور آپ نے اتنی بڑی بات کسی کو نہیں بتائی ۔۔۔۔۔

دادا سائیں کو بتایا ہے لیکن اپنے ز*خمی ہونے کا نہیں اور آپ بھی ہم سے وعدہ کریں کہ کسی کو اس بارے میں نہیں بتائیں گی ۔۔۔۔۔۔

لیکن “

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ضارب نے واپس اس پر جھکتے اسے خاموش کروایا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسے آزادی بخشتے اسکی گردن میں جھکنے لگا جب ابرش نے اسے دوبارہ روکا تھا ۔۔۔۔۔

وہ ،،،،،، وہ آپکو ،،،،، چو*ٹ لگی ہے ،،،،،، اب آپکو آرام کرنا چاہیے ،،،،،، اسکے غصے سے گھورنے پر وہ تھوک نگلتی اٹک اٹک کر بولی ۔۔۔۔۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں یہ آپکو ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ،،،،، اسکی بات کے جواب میں غصے سے کہتے وہ دوبارہ اسکی گردن میں جھکا اور اس بار ہونٹوں کی جگہ اس نے سختی سے اپنے دانت گا*ڑے تھے ۔۔۔۔۔

مطلب اسکی مخدالت پر اسے سز*ا دی ،،،،، جس پر اس نے ضارب کے کندھے کو تھاما ،،،،، اور غلطی سے اسکے ز*خم پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔۔۔۔

جس پر تکیلف محسوس کرتے وہ پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔

سوری ،،،،، وہ میں نے جان بوجھ نہیں کر کیا ،،،،،، وہ آنکھوں میں آنسو لیے رونے کو تیار دھیرے سے منمنائی ۔۔۔۔۔

جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد ضارب اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔۔

جائیں کپڑے چینج کر لیں ،،،،،،،، لیکن آپ میری بات تو ،،،،،، ہم کیا کہہ رہے ہیں ابرش جائیں یہاں سے ،،،،،، اب کہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ تھر تھر کا*نپتی فورا اٹھ کر ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تھی ،،،،،، جبکہ ضارب سائڈ ٹیبل پر رکھا اپنا لائٹر اور سگریٹ اٹھا کر جنوری کی اس ٹھٹھراتی سردی میں بنا شرٹ کے بالکنی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضارب شاہ گاؤں کی لڑکیوں کیلئے ایک کالج تعمیر کروا رہا تھا ،،،،،، تاکہ میٹرک کے بعد انہیں آگے پڑھنے کیلئے شہر جانے کی ضرورت درپیش نا آئے ۔۔۔۔۔

جو اب اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔

جسے لے کر وہ بہت خوش تھا ۔۔۔۔۔

لیکن آج شام میں ہی اسے فون آیا کہ اچانک شارٹ سر*کٹ کی وجہ سے کالج کی بلڈنگ میں آ*گ لگ گئی ہے ۔۔۔۔۔

جس پر وہ فورا خان کو لیتے دادا سائیں کو ضروری کام کا کہتے روانہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

بلد*نگ میں لگی آ*گ پر بروقت ایکشن لیتے ہوئے قابو پا لیا گیا جس کی وجہ سے عمارت کسی بڑے نقصا*ن سے بچ گئی ۔۔۔۔۔

لیکن اسکے وہاں پہنچتے ہی نا*معلوم افراد کی طرف سے اس پر گو*لیو*ں کی بر*سات کی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔

جس پر اس کے گارڈز نے بھی مکمل جوابی کارروائی کی ،،،،،، لیکن اسکے باوجود بھی ایک گو*لی اسکے کندھے میں پیو*ست ہوتے اسے ز*خمی کر گئی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے ایک گارڈ گو *لیا*ں لگنے کی وجہ سے موقع پر ڈ*یتھ ہو گئی تھی ایک دو شدید ز*خمی تھے ۔۔۔۔۔

باقی دوسری طرف کے تمام بندے انہوں نے ما*ر گر*ائے تھے ۔۔۔۔۔۔

اسکے ز*خم دیکھتے ہوئے ہاسپٹل والوں نے تو اسے وہی رکنے کا مشورہ دیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن گھر میں ولیمے کی تقریب اور خاص طور پر زارون کے نکاح کی وجہ سے وہ ضد کر کے چھٹی لے کر آ گیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اب تحمل سے سوچنے پر اسے یہ کسی کی سوچی سمجھی سازش لگ رہی تھی ،،،،،، جو کہ سچ بھی تھا ۔۔۔۔۔

پہلے کالج میں آ*گ اور اسکے وہاں پہنچتے ہی فا*ئر*نگ سٹارٹ ہو جانا ،،،، اسے ما*رنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن قسمت نے ہر بار کی طرح آج بھی اسکا ساتھ دیتے د*شمن کو دھول چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *