Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 31)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 31)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
یہ کیا بکواس کر رہی ہو لڑکی ،،،،، کیا مطلب کہاں ہے ابرش ؟؟؟؟؟
واسم نے اس کا رخ اپنی طرف کرتے غصے سے پوچھا ۔۔۔۔
وہ ،،،،،، وہ لالا
جبکہ اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھتے زرمینے کے لبوں سے لفظ نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔۔
حیدر شاہ تو ابرش کی گمشدگی کا سنتے ہی بستر پر ڈھے گئے تھے ۔۔۔۔
اماں سائیں اور عظمی بیگم سمیت ابیہا کا بھی یہ خبر سنتے رو رو کر برا حال تھا ،،،،،،، جنہیں ارمغان شاہ بمشکل سنبھال رہے تھے ۔۔۔۔
یہ تو شکر تھا وقت رہتے نجمہ بیگم نے باہر کے حالات کو سنبھال لیا تھا اور ابرش کی طبیعت خرابی کا بہانہ بناتے رسم ختم کرتے ہوئے سب کو روانہ کیا۔۔۔۔
اور جو مہمان حویلی میں رکے ہوئے تھے ،،،،،، انکی تمام ضروریات کا خیال بھی وہی رکھ رہی تھیں ۔۔۔۔
جبکہ زارون کو جب سے پتا چلا کہ ابرش نہیں مل رہی ،،،،، وہ بھی پوری حویلی کا کونا کونا دوبارہ چیک کر چکا ۔۔۔۔
لیکن وہ یہاں ہوتی تو اسے ملتی ،،،،، جسے دیکھتے ضبط سے اسکی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔
جبکہ زرمینے کی اس لاپرواہی کی وجہ سے اس نے بھی اسکی طرف ملامتی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
جس سے اس کو اپنا آپ شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔
واسم ” اسکی دھاڑ کو سنتے ارمغان شاہ نے اسے تنبیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
لیکن اگر وہ اپنے ہوش میں ہوتا تو ،،،،، انکی بات غور کرتا ۔۔۔۔
میں کیا پوچھ رہا ہوں کہاں ہے ابرش ؟؟؟؟؟ اسکی مسلسل خاموشی پر اب کی بار وہ دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر تھر تھر کانپتی نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
نہی ،،،،، نہیں ،،،،،، پتا ،،،،،،
ایسے کیسے نہیں پتا وہ تمہارے ساتھ تھی نا تو پھر ؟؟؟؟؟
مجھے ،،،،،، کسی نے ،،،، آواز دی جسے ،،،،، سننے کیلئے میں دوبارہ ،،،،، واپس چلی گئی تھی ،،،،، اور جب میں نے اس کے بعد ،،،،، آ کر اسے ڈھونڈا تو ،،،،، وہ کہی ،،،،، کہیں نہیں ،،،،، تھی ۔۔۔۔۔
اس نے روتے ہوئے بمشکل رک رک کر اٹکتے ہوئے اپنا جملہ مکمل کیا تھا ۔۔۔۔۔
کس نے آواز دی تھی تمہیں ؟؟؟؟؟
پتا ،،،، پتا نہیں
واہ بہت اچھے ،،،،، ابرش کہاں ہے ،،،،، پتا نہیں ،،،،، کس نے آواز دی یہ بھی نہیں پتا ،،،، تو تمہیں آخر پتا کیا ہے ۔۔۔۔۔
جب اسکی زمداری سنبھال نہیں سکتی تھی تو کیوں لے کر گئی تھی اسے اپنے ساتھ ،،،،،،، اس بار وہ پہلے سے بھی زیادہ آواز میں دھاڑتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔
اور ساتھ ہی وہاں رکھا کرسٹل کا واز اٹھا کر دیوار پر دے مارا ،،،،، جس پر دہل کر زرمینے سمیت ابیہا نے منہ پر ہاتھ رکھتے بمشکل منہ سے نکلنے والی چیخ کو روکا تھا ۔۔۔۔۔
بیہیو یور سیلف واسم شاہ “
یہ آپ زرمینے سے کیسے بات کر رہیں ہیں ؟؟؟؟؟
ضارب دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا واسم کی حرکت کو دیکھتے تنبیہ کرتے بولا ۔۔۔۔۔
اور اسکے ساتھ ہی اندر داخل ہوتے موسی شاہ نے آگے بڑھ کر روتی ہوئی زرمینے کو سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔
اور اس کو ایسے پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھ بمشکل خود کو کنٹرول کرتے واسم کو کچھ سخت کہنے سے باز رکھا ۔۔۔۔۔
جبکہ ضارب کو اندر داخل ہوتے دیکھ ابیہا بھاگ کر اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی تھی ،،،،،،
لا ،،،،، لالا ،،،،،، وہ ابرش اتنا کہتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ضارب شاہ کو ضبط کی انتہا پر پہنچا گئی ۔۔۔۔۔
تمہاری بہن گھر سے غائب ہوتی نا تو پھر میں دیکھتا کہ کیسے تم اتنے ریلکس رہتے ،،،،،، اسکی بات کے جواب میں وہ طنزیہ گویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
شاید آپ بھول رہیں ہیں آپکی بہن ہماری بھی کچھ لگتیں ہیں ،،،،،، عزت ہیں وہ ہماری ،،،،، لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم انکی گمشدگی کا غصہ کسی بےقصور پر نکالیں ۔۔۔۔۔
وہ اپنی لہو رنگ ہوئی آنکھیں اسکی سرخ اوشن بلیو آئز میں ڈال کر بولا تھا ۔۔۔۔
ویسے بھی گھر کی عورتوں کی حفاظت کرنا ہم مردوں کا کام ہے ناکہ خود انکا تو اپنی غیر ذمہ داری کا الزام ہم کسی دوسرے پر کیوں لگائیں ۔۔۔۔
ابھی اس کی بات کے جواب میں واسم غصے سے کچھ کہتا جب جھکے سر کے ساتھ خان دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔
سردار سائیں ہم سب نے پوری حویلی اچھے سے چیک کی ہے ،،،، سب اپنی جگہ سہی سلامت ہے ،،،،، لیکن حویلی کی پچھلی سائڈ پر جو پرانا گیٹ ہے اسکا تالا ٹوٹا ہوا ملا ہے اور گیٹ بھی ہلکا کھلا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
خان وہ زنگ آلود تالا اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ،،،،،،
جسے واسم نے جھپٹنے کے انداز میں پکڑا تھا ،،،،،، جس پر گو*لی کا نشان تھا جس کا مطلب تھا اسے فا*ئر کر کے کھولا گیا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ بنا کچھ بولے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔
جس کے بعد ضارب خان سے مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔۔
خان گاڑیاں نکالو ،،،،، ہم آتے ہیں ،،،،، جس پر وہ سر ہلاتے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
لیکن جانے سے پہلے ایک نظر روتی سسکتی اپنے باپ کے سینے لگی کانپتی ہوئی زرمینے پر ڈالنا نہیں بھولا تھا ۔۔۔۔۔
ضارب نے روتی ہوئی ابیہا کو خود سے الگ کرتے پیار سے اسکے بہتے آنسو صاف کیے ،،،،،، گڑیا رونا بند کریں میری جان ،،،،، کچھ نہیں ہوگا ابرش کو ہم وعدہ کرتے ہیں انہیں سہی سلامت واپس لے کر آئیں گے ۔۔۔۔
آپ بس دعا کریں ۔۔۔۔۔
وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ اپنے آنسو پونچھتی ہاں میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
اور پھر وہ کمرے میں موجود سب کی طرف ایک نظر دیکھتے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ پیچھے سب نے ابرش اور انکی سلامتی کی دعا کی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی سر لڑکی اٹھا لی ہے ،،،،،،
لیکن وہاں کیوں نہیں لے کر جانا ،،،،،، شاید دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تھا جس پر وہ حیران ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے ،،،،، سر ہم دیکھ لیں گے ،،،،، جی کل صبح تک ،،،،، جی ٹھیک ہے ،،،،، سر اوکے ۔۔۔۔۔
سنو بوس نے بولا ہے کہ ہم اس لڑکی کو پہلے جس جگہ پر لے کر جا رہے تھے ،،،،،، وہاں اب نہیں لے کر جانا ۔۔۔۔۔
تو ہمیں آج رات کسی اور جگہ پر ٹہر کر گزارنی ہوگی ۔۔۔۔۔
کیونکہ اسکی فیملی نے پورے شہر میں ناکہ بندی لگوا دی ہے ،،،،، جگہ جگہ پولیس کے چھاپے پڑ رہیں ہیں ۔۔۔۔
کوئی آس پاس جگہ دیکھ کر ہمیں چھپنے کی جگہ ڈھونڈنی ہوگی ،،،،، جلدی کرو ہمارے پاس وقت زیادہ نہیں ہے ۔۔۔۔
وہ فون بند کرتا ،،،،، اپنے بوس کے ہدایت کے مطابق اپنے ساتھیوں کو انسٹرکشن دیتے بولا ۔۔۔۔۔
جس پر عمل کرتے اس نے گاڑی کچے راستے پر اتاری ،،،،، پاس ہی کچھ کلومیٹر کی دوری پر ایک بند فیکٹری تھی ،،،،، جہاں انہوں نے آج رات رکنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
جب گاڑی کے ہچکولے کھانے کی وجہ سے اچانک ابرش کے منہ سے چادر سرکی ۔۔۔۔۔
اور وہ جو آس پاس چوکنا سا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اس پر نظر پڑتے ٹہر گیا ۔۔۔۔
اور اس نے ابرش کے چہرے سے پوری چادر ہٹاتے غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
یہ کسے اٹھا لائے ہو بیوقوف “
جسے دیکھنے کے بعد وہ چلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا تھا آپ نے جسے بولا تھا وہی تو ،،،،،، جبکہ اس کے چہرے کی طرف دیکھتے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے ۔۔۔۔
اب میں بوس کو کیا جواب دوں گا ۔۔۔۔
جبکہ اسکے ساتھ ساتھ وہاں بیٹھے اسکے دوسرے ساتھی بھی اب پریشان ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
میرا یقین کریں میں تو وہی لڑکی اٹھائی تھی پر یہ بدل کیسے گئی ۔۔۔۔۔
وہ اسکے چہرے کی طرف دیکھتا یقین دلانے والے انداز میں بولا تھا ،،،،،، جس پر ساتھ والے نےرکھ کر اس کے کان کے نیچے تھپڑ لگایا تھا ۔۔۔۔۔
میں نے بدلی ہے ،،،، مجھے کیا پتا کیا بیوقوفی انجام دے کر آئے ہو ۔۔۔۔۔
مجھے تمہیں بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔۔
وہ اسے کوستے ہوئے بولا ۔۔۔۔
جبکہ اتنی بیعزتی پر وہ منہ لٹکا کر پیچھے ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
اب اسکا کیا کرنا ہے ؟؟؟؟ اسکے ایک ساتھی نے اسکی طرف دیکھتے سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔
واپس چھوڑ آئیں ،،،،، اسکے ایک دوسرے ساتھی نے اسے مفید مشورے سے نوازا تھا ،،،،،، جس پر اس نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ شرمندہ ہوتا پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔۔
جس کے بعد اس نے ابرش کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا تھا ،،،،،، جو کہ بےسدھ ہوش سے بیگانہ پڑی تھی ۔۔۔۔
اور پھر کمینگی سے مسکرایا ۔۔۔۔۔
ہم پاگل ہیں جو اتنی خوبصورت بلا کو ہاتھ سے جانے دیں ۔۔۔۔۔
ہاتھ آئی حور کو ایسے ہی چھوڑ دینا یہ تو کفران نعمت ہوگا ،،،،،، استعمال کرنے کے بعد مار کر کہیں پھینک دیں ۔۔۔۔۔
وہ ان سب کی طرف دیکھتا اپنے ارادوں سے آگاہ کرتا سفاکیت سے بولا تھا ،،،،، جسے سننے کے بعد ان سب کے چہروں پر بھی شیطانی مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ لوگ اپنی حوس بھری نگاہوں سے اس نازک وجود کی طرف دیکھنے لگے ،،،،،، جو آنے والے وقت اور پریشانیوں سے انجان بیہوش پڑی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بھاری ہوتی پلکوں کے ساتھ بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔
اور انہیں کھولنے کے بعد جو پہلی چیز اسے دیکھنے ملی تھی وہ تھا ملگجا سا اندھیرہ جس سے وہ اندازہ نہیں لگا سکی کہ وہ کس جگہ پر تھی ۔۔۔۔۔
وہ اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر اپنے درد سے پھٹتے سر پر رکھتے ہوئے کراہی تھی ۔۔۔۔
اور پھر آنکھیں کھول کر آس پاس دیکھنے لگی ،،،،، جب اسکا دماغ پوری طرح بیدار ہوا تھا ۔۔۔۔
اور آہستہ آہستہ سب کچھ یاد آنے لگا ،،،،، اسکا زر کو واشروم کیلئے کہنا اسکو کسی کا بلانا پھر اسکا حویلی کی طرف اکیلے جانا ۔۔۔۔
اور یکدم اپنے ہاتھوں پر کسی کی پکڑ اور اسکے ناک منہ پر رومال جیسی کوئی چیز رکھنا ۔۔۔۔۔
اسکے بعد یکدم اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھا جانا ،،،،، جسے یاد کر کے اسکے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے ،،،،،
اور پھر ایسی جگہ پر اسکی آنکھ کھلنا ،،،،،، اس کا مطلب کہ میں ،،،،،، کڈنیپ ،،،،، ہو چکی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ کانپتے لہجے میں منہ میں بڑبڑائی تھی ۔۔۔۔۔
اور پھر اپنے بابا اور بھائیوں کو یاد کرتے آنسو اسکی آنکھوں سے روانی سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
جب اسے کچھ قدموں کی چاپ اپنی طرف آتی سنائی دی تھی ،،،،، جس سے وہ سہم گی ،،،،، لیکن پھر کچھ یاد آنے پر دوبارہ آنسو پونچھ کر بیہوش ہونے کا ناٹک کرنے لگی ۔۔۔۔۔
کیونکہ اس نے ایک ناول میں ایسا سین پڑھا تھا جب کچھ لوگ ایک لڑکی کو کڈنیپ کر لیتے ہیں اور وہ کڈنیپرز کے آنے پر ہوش میں ہونے کے باوجود بیہوشی کا ناٹک کرتی ہے ۔۔۔۔
بس اس نے یہاں یہی ٹرک آزمانے کا سوچتے دل میں اپنی عزت کی حفاظت کی دعا کی اورلیٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔
ارے یار کوئی اٹھاو اسے یہ کب تک بیہوش رہے گی ،،،،، مجھ سے اور انتظار نہیں ہو رہا ،،،،،، اسکو بیہوش پڑے دیکھ کر ایک آدمی کوفت سے بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر ابرش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی تھی ۔۔۔۔لیکن وہ خود پر قابو کرتی ویسے ہی پڑی رہی ۔۔۔۔
ہاں یار بہت ہو گیا انتظار ،،،،، لیکن اس شباب سے لطف اندوز ہونے سے پہلے کچھ شراب کا نشہ بھی ہو جاتا تو کیا ہی بات ۔۔۔۔
انکا بوس کمینگی سے آنکھ دباتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ سب حیوان قہقہ لگا کر ہنسے تھے ۔۔۔۔
اور پھر اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔ لیکن اپنے غرور میں ایک سنگین غلطی ضرور کر گئے کہ اسے بیہوش جانتے انہوں نے دروازہ بند کرنے کا خیال بالکل نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف انکی باتیں اور ارادے جان کر ابرش جی جان سے لرزی تھی ۔۔۔۔
اور انکے جانے کے بعد آنکھیں کھول کر اٹھ کر بیٹھتی بےآواز رونے لگی ۔۔۔۔۔
لیکن پھر ہمت کرتی اٹھتے ہوئے آس پاس کا جائزہ لینے لگی جب اسکی نظر کمرے کے کھلے دروازے پر پڑی ۔۔۔۔
اور وہ دل میں اپنے رب کا شکر ادا کرتی دروازے سے باہر احتیاط سے دیکھتی کہ اور انکے چلے جانے کا یقین کرتی باہر کے جانب بھاگی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابیہا جائے نماز پر بیٹھی مسلسل ابرش کی سلامتی کیلئے دعا کر رہی تھی ۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو اسکی نازک مہندی سے سجی ہتھیلیوں پر گر رہے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ لبوں پر قفل لگے تھے ،،،،،، کیونکہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسا کیا عمل کرے جس سے خوش ہو کر اوپر والا اسکی معصوم سی بہن کو بحفاظت ان تک پہنچا دیں ۔۔۔۔
میرے اللہ “
ابرش کے درد کے اور تکلیف کو محسوس کرتے اسکے سہمے ہوئے دل سے صرف یہ ایک صدا نکلی تھی ۔۔۔۔
میرے اللہ آپ تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہیں ،،،،،، سب کے دلوں کے حال جاننے والے میرے مالک ،،،،،، آج آپکی یہ گنہگار بندی آپکے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے ۔۔۔۔
اپنے محبوب حضرت محمد ( صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ) کے صدقے میری معصوم بہن کی حفاظت فرما ،،،،،، اس کے حصے کی تمام پریشانیاں میری جھولی میں ڈال کر اسے اس آزمائش سے رہائی عطا فرما ،،،،،،
تجھے پاک بی بی فاطمہ الظاہرہ کی تطہیر کا واسطہ اسکی آبرو کی حفاظت کرنا ،،،،،،
اسکی مشکل آسان فرمانا ،،،،،،
وہ ایسے ہی دعا مانگتے مانگتے سجدے میں سر رکھ کر بآواز رونے لگی ،،،،،، جبکہ لبوں پر صرف ایک ہی صدا تھی ،،،،،
ہماری ابرش ہمیں بحفاظت لٹا دے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شراب کی بوتلیں منہ سے لگائے وہ شیطانی قہقہے لگاتے اپنے غلیظ ارادوں کے ساتھ واپس اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
جب ابرش کو وہاں موجود نا پاکر انکا سارا نشہ اڑن چھو ہوا تھا ۔۔۔۔۔
یہ کہاں گئی ،،،،، ارے دیکھ کیا رہے ……. گالی ڈھونڈو اسے مجھے ہر حال میں وہ لڑکی چاہیے ۔۔۔۔۔
جس کی حکم کی فورا تعمیل کرتے دو لوگ اندر فیکٹری جبکہ دو باہر جنگلات کی طرف بھاگے تھے ۔۔۔۔۔
نہیں باس وہ اندر نہیں ہے ،،،،،، جسکی بات سنتے اس نے ایک زبردست مکہ اسکے منہ پر مارا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ ابرش کو بھی گالی نکالتے باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔۔۔
گھنور کالا اندھیرہ گھنا جنگل اور اس میں گونجتی مختلف جانوروں کی آوازیں ،،،،، جو رات کے سناٹے کو کچھ اور خوفناک بنا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
اور دسمبر کا مہینہ ہونے کی وجہ سے زمین پر اتری دھند جس میں ایک ہاتھ کو دوسرا ہاتھ سجھائی نا دے اور ہڈیوں کو جما دینے والی سردی ایسے میں وہ آس پاس کا ہوش بھلائے جنگل سے ہوتی ایک طرف بھاگی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
یہ راستہ کس طرف جاتا تھا اسے کچھ اتا پتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔
بس اسے کسی بھی حال میں اپنی عزت بچانی تھی جس کیلئے اسے اپنی جان بھی دینی پڑتی تو اسے کوئی دکھ نا ہوتا ۔۔۔۔
اور اس بات نے اس معصوم سی لڑکی کے اندر اتنی ہمت بھر دی تھی ،،،،،، کہ جس نے کبھی کوئی سرد و گرم ہوا بھی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔
جسے کبھی پھولوں کی ٹہنی سے بھی نہیں چھوا گیا تھا آج وہ کانٹوں کے اوپر ننگے پاؤں بھاگتی ہاتھ اور پاؤں بری طرح زخمی ہونے کے باوجود بھی اپنی عزت کی خاطر ہر تکیلف سہنے کو تیار تھی ۔۔۔۔۔
جب اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز قریب آتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
اس نے اپنی پوری قوت جمع کر کے بنا رکے اور بنا پیچھے دیکھے رفتار اور تیز کر دی ،،،،، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اس لیے وہ پاؤں کے پاس آگے آتا پتھر دیکھ نہیں پائی اور ٹھوکر لگنے سے اوندھے منہ زمین پر گری ۔۔۔۔
جسکی وجہ سے اسکے ہونٹوں سے ایک چیخ بلند ہوئی تھی ،،،،، اسکا پاؤں جس میں پہلے سے ہی ہلکی ہلکی تکلیف ہو رہی تھی ،،،، اب اس میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی ،،،،،،
جبکہ ایسے گرنے سے اسکی نازک کہنیاں بھی بری طرح چھل گئی تھی ،،،،، لیکن پھر بھی وہ ہمت کرتی اٹھی لیکن بری طرح لڑکھڑاتے دوبارہ زمین بوس ہو گئی ۔۔۔۔۔
یا میرے اللہ
جبکہ لبوں سے صرف یہ ایک ہی صدا نکلی تھی ۔۔۔۔۔
دوسری طرف وہ لوگ جو اسے ڈھونڈتے ہوئے اس طرف ہی آ رہے تھے ۔۔۔۔
اسکی چیخ سن کر اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک اور حوس لیے اس طرف بڑھے ۔۔۔۔
وہ رہی باس
جب انکے ایک ساتھی نے اسے دیکھتے باقی سب کو متوجہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
جس کے بعد وہ سب اسکی طرف بڑھے ۔۔۔۔۔
جبکہ انکو اپنے قریب آتے دیکھ کر ابرش کی روح لرزی تھی اور وہ اپنے پاؤں میں اٹھتے ناقابل برداشت درد کو نظرانداز کرتی زمین پر ہاتھ رکھتے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جس سے اسکی ہتھیلیوں میں کانٹے سے چبھے تھے ،،،،،
جس کی وجہ سے اسکے ہونٹوں سے ایک سسکاری نکلی تھی ۔۔۔۔
لیکن پھر انہیں ایک نظر دیکھتے جو اسکے قریب سے قریب تر آتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بھاگی ۔۔۔۔
جبکہ اس کو یوں بھاگتے دیکھ کر ان غنڈوں نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی تھی ۔۔۔۔۔
جب بھاگتے بھاگتے اسے نیم اندھیرے میں جنگل کے باہر مین سڑک دکھائی تھی ،،،،، جس سے اسکے دل میں ایک امید کی کرن روشن ہوئی تھی اور وہ اپنی رفتار تیز کرتی اس طرف بھاگی ۔۔۔۔۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ سڑک کے اوپر چڑھتی کسی نے اسکا ایک پاؤں پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ ڈھلان سے بری طرح پھسلتی دوبارہ نیچے کانٹوں بھری زمین پر آ گری ،،،،،،،
اور وہ پانچوں شیطان اس کے گرد گھیرا تنگ کرتے خوفناک قہقہے لگانے لگے ۔۔۔۔۔
جن پر ابرش نے انکی طرف سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
