Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 88)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 88)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ اسے اپنے حصار میں لیے اونچائی کی طرف قدم بڑھا رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ وہ لوگ جس جگہ پر چل رہے تھے ۔۔۔اس جگہ پھسلن کافی زیادہ تھی ۔۔۔۔جس کی وجہ سے اسے ہلکا ڈر بھی لگ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن جس اعتماد سے وہ اسے اپنی محبت پر یقین دلا کر لایا تھا ۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی اسے منع نہیں کر پائی تھی ۔۔۔۔
جلد ہی وہ لوگ ایک متوازن جگہ پر پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔جب اس نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں سے اپنے ہاتھ ہٹائے ۔۔۔۔اور خود تھوڑا پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔
جس پر اس نے اپنی بند کی ہوئی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔اور سامنے کا نظارہ دیکھتے چند پل کیلئے مہبوت رہ گئی ۔۔۔۔
سبزہ زار سے ڈھکی ہوئی پہاڑی اور اس پر جا بجا کھلے ہوئے خوبصورت پھول رات کا وقت کھلا آسمان جو چودھویں کی رات ہونے کی وجہ سے ستاروں کی بارات اپنے ساتھ لیے پورے چاند کی روشنی سے منور تھا ۔۔۔۔
اور زمین پر اپنے اندر نور سمائے ہزاروں کی تعداد میں آس پاس اڑتے جگنو ۔۔۔۔
جنکی مدھم اور ٹم ٹم کرتی روشنی ماحول کو مزید فسوں خیز بنا رہی تھی ۔۔۔۔
اور ان پھولوں کے بالکل درمیان میں زمین پر ایک چٹائی بچھائی گئی تھی جس کے اوپر پھولوں سے دل بنا کر اسکے اندر “ آئی لو یو “ میری زندگی لکھا گیا تھا ۔۔۔
جسے دیکھتے ایک خوبصورت مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔۔۔
کیسا لگا زندگی ؟؟؟؟
پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لے کر کان میں دھیمی سرگوشی کی ۔۔۔۔
جس پر وہ سمٹی ۔۔۔جسے دیکھتے اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔
بہت ،، خوبصورت ۔۔۔۔
اسکے تنگ حصار میں وہ بمشکل ہی بول پائی تھی ۔۔۔
مجھے پتا تھا آپکو یہ ضرور پسند آئے گا ۔۔۔۔اسکی صراحی دار گردن میں اپنی تیکھی ناک سہلاتے ہوئے وہ دھیرے سے چھونے لگا ۔۔۔۔
شاہ “
زرمینے نے دھیرے سے پکارتے اپنے گرد بندھے اسکے ہاتھ کھولنے چاہے ۔۔۔۔
ہشش ڈونٹ موو ۔۔۔۔”
زارون نے ٹوکتے سرزنش کی ۔۔۔
آپکو پتا ہے زندگی ۔۔۔آپ کا وجود جو ہے نا میری زندگی میں بالکل ان خوبصورت پھولوں کے جیسا ہے ۔۔۔۔جس نے میری بےرنگ زندگی کو اپنے خوبصورت رنگوں سے سجایا ہے ۔۔۔۔اپنی خوشبو سے اسے مہکایا ۔۔۔۔
اور بالکل ان جگنوؤں کی طرح میری ذات کے اندھیروں میں روشنی بھر کر اسے جگمگایا ہے ۔۔۔اسے اتنا روشن کیا ہے ۔۔۔۔ کہ میرا دھندلا ہو چکا عکس ،،،، جو اپنا وجود کھونے لگا تھا اب دوبارہ واضح ہونے لگا ہے ۔۔۔۔
اسکے کان کی لوں کو دھیرے دھیرے لبوں سے چھوتے وہ گھمبیر سرگوشیاں کر رہا تھا ۔۔۔۔اپنی زندگی میں اسکی اہمیت بتا رہا تھا ۔۔۔۔
اپنے ساتھ ساتھ اسکی اپنی نظروں میں بھی زرمینے کی ذات کو معتبر کرتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
جس نے اسکی رگ و جان میں ایک سرشاری سی بھر دی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے سلگتے لمس اور گرم سانسوں کو محسوس کرتے اسکا نازک وجود دہکنے لگا تھا ۔۔۔۔
میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں زندگی کہ جس میں آپ میرے لیے کیا ہو وہ بیان کر سکوں ۔۔۔۔بس اتنا جان لیں اگر کبھی آپ مجھ سے دور ہوئیں تو آپ کا یہ شاہ اپنی زندگی ہار دے گا ۔۔۔۔
اسکا رخ اپنی طرف پلٹتے اسکے خوبصورت چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر پرسوز لہجے میں بولا ۔۔۔۔
اللہ نا کرے شاہ آپکو میری بھی زندگی لگ جائے ۔۔۔
اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتی فورا نم لہجے میں ٹوک گئی ۔۔۔جس سے ایک خوبصورت مسکراہٹ نے زارون کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔
اس نے زرمینے کی نازک ہتھیلی چومی ۔۔۔۔
اتنا پیار کرتیں ہیں اپنے شاہ سے ۔۔۔۔اسکی پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی جوڑ کر دھیمے لہجے میں سوال کیا ۔۔۔۔
اپنی جان سے بھی زیادہ ۔۔۔۔
دھیرے سے شرماتے ہوئے اقرار کیا ۔۔۔۔
جسے سن کر زارون شاہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے کائنات کی ساری خوشیاں اسکی جھولی میں ڈال دی ہو ۔۔۔وہ خود کو اس دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان تصور کرنے لگا ۔۔۔۔
اور پھر بہت قریب سے زر کی بند آنکھوں اور خوبصورت چہرے کو دیکھتے جو اسکی زرا سی قربت پر دہکنے لگا تھا ،،،، دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکے گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر اپنے تشنہ لب رکھ گیا ۔۔۔۔
شاہ “
زرمینے کے ہونٹوں سے درد بھری سرگوشی برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔
بیتے ہوئے لمحوں کو یاد کرتے آنسو اسکی پلکوں کی باڑ توڑ کر اسکے نازک پھولے روئی جیسے گالوں پر بہہ نکلے ۔۔۔۔
آپکو مجھ سے بس اتنی ہی محبت تھی ،،،، آپ تو کہتے تھے کہ میں آپکی زندگی میں آپ کیلئے آپکی سانسوں کی طرح ضروری ہوں ۔۔۔۔
اور اب میرا وجود اتنا غیر ضروری ہو گیا ۔۔۔۔کہ ایک بار بھی میرا حال پوچھنے نہیں آئے ۔۔۔۔
چند پلوں میں اتنی نفرت ہو گئی مجھ سے کہ میرے اندر پل رہی زندگی اپنی ہی محبت کی نشانی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیا ۔۔۔۔
میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو اس کیلئے ۔۔۔۔قاتل ہیں آپ میرے بچے کے ۔۔۔میری محبت کے میرے اعتبار کے ۔۔۔۔
کبھی معاف نہیں کروں گی سنا آپ نے کبھی نہیں ۔۔۔
ہاتھ میں پکڑی زارون شاہ کی تصویر کو کھینچ کر دیوار پر مارتے درد سے چلائی تھی ۔۔۔۔جس سے شیشے کا فریم ٹوٹ کر ٹکڑوں میں بٹتا زمین پر بکھر گیا ۔۔۔
جسے دیکھتے وہ اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے نوچتے گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھتی ۔۔۔اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
اس وقت کمرے میں جامد خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اماں سائیں کے ساتھ عظمی ،، نجمہ بیگم سمیت ارمغان شاہ ساری حقیقت جاننے کے بعد ششدر اپنی جگہ لب سییے بیٹھے تھے ۔۔۔
جبکہ روباب کی آنکھوں سے گرم سیال روانی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔۔رو تو اماں سائیں کے ساتھ نجمہ بیگم اور عظمی بیگم رہی تھیں ۔۔۔۔
کیونکہ آج جو حقیقت کھلی تھی اس نے انہیں ایک دوسرے سے نظریں چرانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔
اماں سائیں نے اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھی ہوئی روباب کو اپنے سینے میں بھینچا تھا جبکہ عظمی بیگم نے آگے بڑھ کر نجمہ بیگم کو کندھوں سے تھاما ۔۔۔۔
جنکی پوری دنیا ہی آج لٹ گئی تھی ۔۔۔۔
حیدر شاہ الگ اپنی جگہ پشیمان بیٹھے تھے ۔۔۔۔جبکہ ارمغان شاہ تو ایسے تھے جیسے وہاں موجود ہی نا ہو ۔۔۔۔
ساری زندگی جس انسان کو اپنا بھائی مان کر اتنی محبت اور عزت دی تھی ۔۔۔وہی انکی خوشیوں انکے خاندان انکے بھائی بھابھی ،، بچے اور بیوی کا مجرم تھا ۔۔۔۔
آخر کیسے نا پہچان سکے وہ اس آستین کے سانپ کو ۔۔۔۔جس نے انکے ساتھ ساتھ انکے بچوں کی زندگی بھی برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی انکے چہرے کے وجیہہ نقوش تن گئے تھے جبکہ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کیلئے انہوں نے سختی سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔
تبھی کمرے میں حیدر شاہ کی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔جو کہ نجمہ سے مخاطب تھے ۔۔۔۔
ہمیں معاف کر دیجئے گا بیٹی ،،،، سب سے زیادہ تو ہم آپکے گنہگار ہیں ۔۔۔۔جنہوں نے آپ کے پلے ایک ایسے انسان کو باندھ دیا جو اصل میں انسان کہلائے جانے کے لائق ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ شرمندگی سے انکے آگے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ گئے تھے ۔۔۔۔
جس پر وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر انکے قدموں میں بیٹھتی ہوں انہیں تھام کر اپنی پیشانی ان پر ٹکا گئیں ۔۔۔۔
اور انکے بہتے ہوئے آنسو انکے ہاتھوں پر گرنے لگے ۔۔۔
مجھے مزید گنہگار نا کریں تایا سائیں ۔۔۔۔۔ ان سب میں آپکا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔یہ سب تو میری قسمت میں لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔آپکو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
نم لہجے میں کہتے وہ انکا مان مزید بڑھا گئیں ۔۔۔۔
الٹا میں شرمندہ ہوں ،،،، معافی تو مجھے مانگنی چاہیے جس کے شوہر کی وجہ سے آپکا ہنستا بنستا گھرانا اجڑ گیا ۔۔۔۔
نہیں آپکی اس میں کوئی غلطی نہیں اصل گنہگار تو وہ بدنصیب ہے جو اپنوں کی محبت کو کبھی پہچان ہی نہیں سکا ۔۔۔۔
انکے لہجے میں موسی شاہ کیلئے گہرا دکھ بول رہا تھا ۔۔۔
تایا سائیں میں اپنی زرمینے کو کیسے بتاؤں گی ،،،، وہ تو اپنے بابا سائیں سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔ابھی ابھی اتنے بڑے حادثے سے گزری ہے وہ یہ صدمہ برداشت بھی کر پائے گی یا نہیں ۔۔۔۔
خود سے زیادہ تو انہیں زرمینے کی فکر ہو رہی تھی جو موسی شاہ سے دیوانوں کی طرح محبت کرتی تھی ۔۔۔۔ہر لڑکی کی طرح اسکے بابا سائیں ہی اسکے ہیرو تھے ۔۔۔۔موسی شاہ کی محبت بھی تو اس سے بےمثال تھی ۔۔۔۔
ابھی فلحال آپ انہیں مزید اس بارے میں کچھ مت بتائیے گا ۔۔۔جب تک انکی طبیعت سنبھل نہیں جاتی ۔۔۔۔بعد میں ہم خود انہیں پیار سے سمجھا لیں گے ۔۔۔
حیدر شاہ نے انکی بات سن کر رسانیت سے سمجھایا ۔۔۔۔جس پر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔
بھابھی کیا ہوا ہے زر کو ؟؟؟؟
زر کی طبیعت خرابی کا سن کر روباب فکرمندی سے پوچھنے لگیں ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے مختصر لفظوں میں انہیں ساری بات بتائی تھی ۔۔۔۔زر میرے زارون کی دلہن ہے ؟؟؟؟
ساری بات سننے کے بعد وہ اشتیاق سے پوچھنے لگیں ۔۔۔۔جبکہ انکے لہجے سے چھلکتی محبت کو دیکھتے نجمہ بیگم مزید شرمندہ ہوئی تھی ۔۔۔۔
جی “
انہوں نے مختصر جواب دیتے سر جھکایا تھا ۔۔۔۔
جس پر روباب نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔۔بھابھی آپکو مجھ سے شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
جو کچھ بھی ہوا ۔۔۔جو بھی لالا سائیں نے کیا ۔۔۔۔اس میں آپکا اور زرمینے کا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔۔
بہت نرمی کے ساتھ بولتے انکے ہاتھوں کو دبایا ۔۔۔۔
جس پر نجمہ بیگم نے مسکرا کر سر ہلایا اور آگے بڑھ کر انہیں اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
جس پر وہ مسکرائی تھیں ۔۔۔۔
اپنی محبت کو اپنے سامنے مسکراتے دیکھ کر ارمغان شاہ کے لبوں پر خود با خود مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔
جسے عظمی بیگم نے شدت سے محسوس کیا اور ساتھ ایک کم مائگی کا احساس انکے اندر جاگا ۔۔۔لیکن پھر سر جھٹک کر دوبارہ روباب کی طرف متوجہ ہوئیں ۔۔۔۔
جو گھر کے باقی بچوں کے بارے میں پوچھ رہی تھیں ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
دروازہ کھلنے کی آواز پر ابیہا نے دھیرے سے اپنی بند آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔لیکن ضارب کی جگہ واسم شاہ کو اندر داخل ہو کر دروازہ بند کرتے دیکھ جھٹ سے دوبارہ بند کر گئیں ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف واسم شاہ اسکے خوبصورت چہرے پر نظریں ٹکائے بھاری قدم لیتا بیڈ کے قریب آ کر رکا ۔۔۔۔یہاں تک کہ وہ اسکے آنکھیں کھول کر بند کرنے والی حرکت بھی دیکھ چکا تھا ۔۔۔
جس سے ابیہا فلحال انجان تھی ۔۔۔۔اس لیے گہری نیند میں ہونے کا ڈرامہ کرنے لگی ۔۔۔۔
شاید اپنی ناراضگی جتانے کا نیا طریقہ نکالا تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھ کر ایک مدہم مسکراہٹ اسکے لبوں پر ابھر کر معدوم ہوئی ۔۔۔۔۔جبکہ خوبصورت نیلے نین شرارت سے چمکے ۔۔۔۔اور وہ لمحے کی دیری کیے بنا جھکا ۔۔۔۔اور اسکی دھیمی چلتی سانسیں جو وہ اسکی موجودگی کو محسوس کرتے پہلے ہی بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
اپنی دسترس میں لیتے اسے تڑپنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔
ابیہا کی آنکھیں حیرت سے پھٹ کر پوری کھل گئیں ۔۔۔۔اس نے واسم کے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے اسے پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔۔لیکن پورا زور لگا لینے کے بعد بھی اسے ایک انچ پیچھے نا ہٹا سکی ۔۔۔
الٹا واسم نے اسکی حرکت پر سزا کے طور پر اسکے نچلے لب پر دانتوں کا اچھا خاصا دباؤ دیا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ سسکی جبکہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔۔۔۔
جسے محسوس کر کے وہ دھیرے سے پیچھے ہوا ۔۔۔اور خمار بھری نظروں سے اسکے چہرے کے ساتھ لال ٹماٹر ہوئے لبوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔جو اسکی زیادتی کی وجہ سے اب خون چھلکانے لگے تھے ۔۔۔۔
جبکہ اسکے پیچھے ہوتے ہی ابیہا نے غصے سے اپنا رخ پھیرا تھا ۔۔۔۔
آپ جانتی ہیں نا مسز مجھے اگنور ہونا نہیں پسند ،،،،، پھر کیوں جان بوجھ کر ایسے کام کرتیں ہیں ،،،، جس سے مجھے غصہ آئے ،،،،، جس کا ہرجانہ بھی بعد میں آپ نے ہی بھگتنا ہوتا ہے ۔۔۔۔
واسم نے دھیرے سے جھکتے اسکے کان کے قریب گھمبیر سرگوشی کی ۔۔۔۔ساتھ ہلکا سا دانتوں کا دباؤ دیتے کان کی لوں کو لبوں سے چھوا ۔۔۔۔
آپکو اور آتا ہی کیا ہے واسم شاہ سوائے دوسروں پر اپنی برتری اور غصہ جتانے کے ۔۔۔۔۔
آپ کیلئے تو صرف آپکی اپنی ذات ہی اہم ہے ۔۔۔۔۔دوسرے بندے کے کیا احساسات ہیں وہ کیا محسوس کر رہا ہے ۔۔۔اس سے آپکو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔آپکو تو صرف اپنی ضرورت اپنی خواہشات کو پورا کرنا ہے ،،،، چاہے اس کیلئے کسی دوسرے کی جان ہی کیوں نا چلی جائے ۔۔۔۔
اسکی اوشن بلیو آئز پر اپنے سنہرے کانچ ٹکائے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی ۔۔۔۔
جس سے واسم کے چہرے کے نرم تاثرات پل میں سپاٹ ہوئے تھے ۔۔۔۔
تم کہنا کیا چاہتی ہو ؟؟؟؟؟ کب میں نے تمہارے احساسات کا خیال نا کرتے اپنی برتری جتائی ؟؟؟؟
اسکے چہرے کے ساتھ لہجہ بھی حد درجہ سپاٹ تھا ۔۔۔۔
کوئی ایک بار ہو تو بتاؤں ہمیشہ یہی تو کرتے ہیں آپ ۔۔۔۔کبھی آپ نے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ کیا سوچتی ،،،، ہمیشہ بس اپنی منمانی کی ہے ۔۔۔۔۔اصل میں آپ حد درجہ خودغرض انسان ہیں ۔۔۔۔جن کیلئے صرف اپنی ذات ہی معنی رکھتی دوسرے جائیں بھاڑ میں آپکی بھلا سے ۔۔۔۔
واسم کی آجکی حرکت پر ابیہا کو جتنا بھی غصہ تھا اس نے اچھا خاصہ لفظوں کے تیر چلاتے نکالا ۔۔۔۔۔
جس پر واسم شاہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی ۔۔۔لیکن پھر اسکی کنڈیشن کا احساس کرتے اپنی آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں ۔۔۔۔
دیکھو بیا میری بات کا ہرگز وہ مطلب نہیں تھا جو تم سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔قدرے نری سے سمجھاتے اس بار صلح جو انداز اپنایا ۔۔۔۔
آج ہی تو آپکے سارے مطلب سمجھ آئیں ہیں واسم شاہ ۔۔۔۔دو پل میں ،،،، صرف دو پل میں آپ نے میری ذات کو بےوقعت کر دیا ۔۔۔۔
بات کرتے آخر میں ابیہا کا لہجہ بھرا گیا ۔۔۔۔اسے اپنے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکتا محسوس ہوا ۔۔۔اور وہ ناراضگی سے اپنا رخ پھیر گئی ۔۔۔۔
جس پر واسم شاہ نے نفی میں سر ہلاتے گہرا سانس کھینچا ۔۔۔۔
اور پھر نرمی سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما ۔۔۔۔
میری بات کا بہت غلط مطلب نکالا ہے آپ نے مسز ۔۔۔۔میں اس وقت صرف اور صرف موسی کا دھیان بھٹکانا چاہتا تھا ،،،، اس لیے وہ سب بولا ۔۔۔۔
ابیہا نے نم پلکیں اٹھائی ۔۔۔۔جسے دیکھتے واسم شاہ نے دھیرے سے مسکراتے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔
اچھا وہ سب تو آپ نے ماموں جان کا دھیان بھٹکانے کیلئے بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن اسکے بعد کتنی آسانی سے آپ مجھے یوں زخمی حالت میں چھوڑ کر گھر چلے گئے ،،،،، آپکو ایک بار بھی یہ خیال نا آیا کہ مجھے آپکی ضرورت ہو سکتی ہے ۔۔۔۔
ایک اور شکوہ ۔۔۔۔
جس پر واسم نے سر ہلایا ۔۔۔۔
اسکے پیچھے بھی ایک وجہ ہے ۔۔۔۔
لیکن “
ابیہا نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔۔جب واسم نے اسکے لبوں پر انگلی رکھتے خاموش کروایا ۔۔۔۔۔
ابھی آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔اس لیے آپکو فلحال آرام کرنا چاہیے ۔۔۔۔جب آپ ٹھیک ہو کر گھر جائیں گی تو ایک بہت بڑا سرپرائز ملے گا ۔۔۔۔
اس نے مسکرا کر کہتے سسپنس پھیلایا ۔۔۔
سرپرائز “
جس پر ابیہا اپنی ساری ناراضگی بھولائے اسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔
ہاں سرپرائز ۔۔۔”
واسم کے چہرے پر اسکی معصومیت کو دیکھتے گہری مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
کیسا سر۔۔۔۔۔۔”
ابیہا کے منہ سے الفاظ مکمل نکلنے سے پہلے وہ اسکے لبوں پر جھکتے اسے خاموش کروا چکا تھا ۔۔۔۔
اور انتہائی نرمی سے اسے محسوس کرتے اپنے لمس کا جادو جگانے لگا ۔۔۔۔جسے محسوس کرتے نا چاہتے ہوئے بھی ابیہا اپنی آنکھیں دھیرے سے بند کر گئیں ۔۔۔۔
واسم اپنے پاؤں جوتے کی قید سے آزاد کرواتے ٹھیک سے اوپر ہوتا اسکے نازک وجود پر اپنا وزن منتقل کرتے آہستہ آہستہ اپنی شدت بڑھانے لگا ۔۔۔۔
جس پر گھبرا کر ابیہا نے اسکی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں بھینچا ۔۔۔۔
اسکی بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا اسکی ٹھوڑی پر ہونٹ رب کرتے ہوئے دھیرے سے گردن میں جھک آیا ۔۔۔۔
ابیہا نے گہرا سانس لیتے اپنی نازک انگلیاں اسکے گھنے بالوں میں پھنسائی ۔۔۔۔
جبکہ وہ اسکے نرم لمس میں کھویا وقت اور جگہ کو بھولائے اس پر اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا ۔۔۔۔
سم “
جب ابیہا نے اسے دھیرے سے پکارتے احساس دلانا چاہا ۔۔۔
سم یہ ہمارا بیڈروم نہیں ہے ۔۔۔۔اسے اپنے کندھے سے شرٹ سرکاتے دیکھ سرخ چہرے کے ساتھ دھیمی سرگوشی میں بولی ۔۔۔۔
جسے واسم نے سن کر بھی ان سنا کر دیا ۔۔۔۔اسکے کندھے پر آئے زخم کو دیکھتے دھیرے سے وہاں اپنے لب رکھے ۔۔۔۔
جس پر وہ ہلکے سی سسکی ۔۔۔۔
اور پھر لبوں سے نیچے کا سفر شروع کیا ۔۔۔۔جبکہ اسکے کسمساتے مدہوش کرتے لمس پر ابیہا بھی اپنے حواس گنوانے لگی تھی ۔۔۔۔
سم کوئی آ جائے گا ۔۔۔۔
بڑی مشکل سے ہوش کا دامن تھامتے اسے احساس دلانا چاہا ۔۔۔۔
جب وہ اسکے لبوں پر جھکتا اسے دوبارہ خاموش کروا گیا ۔۔۔۔ابیہا کو پتا تھا وہ اپنی مرضی کیے بنا اب پیچھے نہیں ہٹے گا ۔۔۔۔لہذا خاموشی اختیار کر چپ چاپ اسکے عمل کا ساتھ دینے لگی ۔۔۔۔
جس پر وہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے اس پر اپنی گرفت سخت کرتا اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی دنیا بھولا گیا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
حیدر شاہ سے بات کرنے کے بعد ارمغان شاہ اپنے کمرے میں آئے تھے ۔۔۔جب انکی نظر ڈریسنگ سے اپنا سمان نکال کر سوٹ کیس میں پیک کرتی عظمی پر پڑی ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنے کام میں اس حد تک مصروف تھیں کہ انکا آنا بھی نوٹس نا کر سکیں ۔۔۔۔
وہ کپڑے بیگ میں رکھتے ابھی اسکی زیپ بند کر رہی تھیں جب ارمغان شاہ ان سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔
عظمی یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟؟؟؟؟
جبکہ انکی آواز سن کر عظمی بیگم کے ہاتھ تھمے ۔۔۔اور انہوں نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر کے کھولیں ۔۔۔پھر خود کو کمپوز کر کے مسکرا کر پلٹیں ۔۔۔
سامان پیک کر رہی ہوں ۔۔۔۔
حد درجہ نرم لہجہ ۔۔۔۔
وہ تو مجھے بھی دکھائی دے رہا ہے ۔۔۔لیکن آپ یہ کیوں کر رہی ہیں ؟؟؟؟
ارمغان شاہ کے سوال پر انہوں نے حیرت سے انکی طرف دیکھا ،،،،، پھر نفی میں سر ہلاتیں مسکرائی ۔۔۔۔
آپکو نہیں پتا یہ میں کیوں کر رہی ہوں ؟؟؟؟؟
نرم لہجے میں کہتے پلٹ کر بیگ کی زپ بند کی اور اسے اٹھا کر زمین پر رکھا ۔۔۔۔
اور اسکا ہینڈل ہاتھ میں لے کر دوبارہ انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جو انکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔
نہیں میں سچ میں نہیں سمجھا آپ سمجھا دیں ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
سائیں آپ اتنے ناسمجھ تو نہیں ہیں کہ جو میری بات کا مقصد نا سمجھ سکیں ۔۔۔لیکن پھر بھی اگر میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں ۔۔۔
جیسا کہ اب اس کمرے کی اصل مالکن واپس آ گئیں ہیں تو میں انہیں انکی امانت واپس لوٹا رہی ہوں بس۔۔۔۔
انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولیں ۔۔۔۔۔
لیکن میرے حساب سے آپکو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔روباب کسی اور کمرے میں بھی رہ لیں گی ۔۔۔۔یہ آپکا کمرہ ہے آپ سکون سے یہاں رہیں ۔۔۔۔
انہوں نے نرمی سے سمجھانا چاہا ۔۔۔۔جس پر انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
نہیں سائیں یہ میرا کمرہ نہیں ہے ۔۔۔۔یہ آپکا کمرہ ہے اور اس ریفرینس سے اب روباب کا ۔۔۔۔سو میرا حق نہیں بنتا کہ میں انکی چیز پر بےجا حق جتاتے قبضہ کروں ۔۔۔۔
لیکن آپ بھی میری بیوی ہیں میری چیزوں پر آپکا بھی اتنا ہی حق بنتا ہے جتنا روباب کا ۔۔۔۔
سائیں جب آپ پر ہی میرا کوئی حق نہیں ہے تو میں آپکی چیزوں پر حق جتا کر کیا کروں گی ۔۔۔۔
ارمغان کی بات کے جواب میں عظمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔۔جو ارمغان شاہ کو بری طرح چبا ۔۔۔۔
حالانکہ انکا لہجہ بہت سادہ تھا ۔۔۔۔
جس کے بعد ایک گہری خاموشی نے ارمغان شاہ کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔۔جسے چند پل دیکھنے کے بعد وہ سوٹ کیس کو گھسیٹتے ہوئے کمرے سے نکلتی چلی گئیں ۔۔۔۔جبکہ پیچھے وہ مختلف سوچوں میں گھرے انکی باتوں سے معنی اخذ کرنے لگے ۔۔۔۔
