Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 95)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

شاہ ۔۔۔”

اسکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپے درد کو محسوس کرتے ۔۔۔زرمینے نے نم لہجے میں اسے پکارا ۔۔۔

مر گیا تمہارا شاہ ۔۔۔مار دیا تمہاری بےاعتنائی نے اسے ۔۔۔پیچھے جو بچا ہے وہ صرف ایک جانور ہے ۔۔۔

جس سے تمہیں دور رہنا چاہیے ۔۔۔کہیں ایسا نا ہو ۔۔۔وہ تمہیں اپنی دردنگی کا نشانہ نا بنا لیں ۔۔۔

نم لہجے میں استہزائیہ کہتے پلٹ کر وہاں سے جانے لگا ۔۔

جب زرمینے ایک لمحے کی بھی دیری کیے بنا بھاگ کر اسکے راستے میں حائل ہوتی اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔

زارون نے اسے کندھوں سے تھام کر پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔

لیکن زرمینے نے اسکی پشت پر اپنی پکڑ مظبوط کرتے اپنا چہرہ اسے سینے میں چھپایا ۔۔۔

سوری ۔۔۔

پیچھے ہٹو زر ۔۔۔کہیں ایسا نا ہو ۔۔۔میں خود پر کیے گئے ضبط کا دامن چھوڑ کر تمہیں کوئی نقصان پہنچا دوں ۔۔۔

ایک درندے سے تم اور توقع بھی کیا کر سکتی ہو ۔۔۔زارون نے ایک بار پھر اسکے لفظ یاد دلاتے طنز کیا ۔۔۔

آئی ایم سوری ۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔۔

زرمینے نے اپنا آنسوؤں سے بھیگا ہوا چہرہ اٹھایا ۔۔جسے دیکھ کر پل میں زارون شاہ کا دل نرم پڑا ۔۔۔لیکن خود پر ضبط کرتے اس نے اپنا چہرہ پھیرا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔

آپ جانتے ہیں نا میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں ۔۔۔ اسکا چہرہ اپنے دونوں مومی ہاتھوں میں تھامتے ہوئے رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔ زارون شاہ نے سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

اس لیے میری آپ سے توقعات بھی زیادہ ہیں ۔۔۔آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے آپکی بےرخی کو برداشت کرتے ہوئے میرے دل پر کیا بیتی ۔۔۔

مجھے تو ہمیشہ سے آپ کے نرم رویے کی عادت تھی ۔۔۔آپکی کیئر آپکی محبت کی عادت تھی ۔۔۔اور آپ نے میرے ساتھ کیا کیا ۔۔۔

آپ نے مجھے اپنی محبت کا عادی بنا کر یکدم ہی مجھ سے اپنا منہ موڑ لیا ۔۔۔

آپ نے ہی تو مجھے محبت کرنی سکھائی تھی ،،،، آپ تو کہتے تھے کہ میں آپکی زندگی ہوں ۔۔آپ کیلئے آپکی سانسوں سے بھی زیادہ ضروری تو کیوں مجھے پل میں بےمول کر دیا ۔۔۔

اس چیز نے زارون شاہ اس چیز نے مجھے اندر سے مکمل توڑ دیا ۔۔۔

میری روح کو تکلیف پہنچائی ۔۔۔

اپنی سرمئی نم آنکھیں اس کی کالی گھٹاؤں پر ٹکائیں ۔۔۔

آپ اندازہ لگا سکتے ہیں میرے درد کا ۔۔۔جب میں نے اپنا بچہ اپنی محبت کی نشانی کو کھویا ۔۔۔اس وقت ،،، اس وقت مجھے آپکی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔۔لیکن آپ کہیں پر بھی نہیں تھے ۔۔۔

کیا میں اتنی ہی بری اور غیر ضروری تھی کہ آپ نے ایک بار بھی میرا حال تک پوچھنا گوارہ نہیں کیا ۔۔۔

نم لہجے میں شکوہ کیا گیا ۔۔۔

میں مانتی ہوں میں نے بہت غلط الفاظ کا استعمال کیا ۔۔۔لیکن آپ اپنے رویے پر بھی تو غور کریں آپ نے میرے ساتھ کیا کیا ۔۔۔ایسے میں آپ مجھ سے کیا توقع رکھتے تھے ۔۔۔کہ میں پل میں سب کچھ بھولا کر آپ کے ساتھ پہلے جیسا رویہ اختیار کرتی ۔۔۔

ایسا نہیں ہوتا زارون شاہ ۔۔۔عشق میں محبوب کے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں ۔۔۔نا کہ اسے دوسروں کے جرم کی سزا دی جاتی ہے ۔۔۔

جن سے پیار کیا جاتا ہے ۔۔۔مشکل وقت میں انکی ڈھال بنا جاتا ہے ۔۔۔نا کہ ان سے منہ موڑ کر بےرحم زمانے کی ٹھوکروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔

باقی سب باتیں تو ایک طرف ۔۔۔آپ نے تو مجھے اس لائق بھی نہیں سمجھا کہ میرے ساتھ اپنا درد شیئر کرتے ۔۔۔آپکو کیا لگتا ہے آپ مجھے سچائی بتاتے تو کیا میں آپ پر یقین نا کرتی ۔۔۔

لیکن نہیں آپ نے مجھے سچائی بتانے کی بجائے ۔۔۔بابا سائیں کا غصہ مجھ پر نکالا ۔۔۔جسکا خمیازہ ہم دونوں کو بھرنا پڑا ۔۔۔

اپنی اولاد کی صورت ۔۔۔

ناراضگی سے کہتے ہوئے اپنا رخ موڑا اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔۔۔

زارون نے گہرا سانس فضاء کے سپرد کرتے اپنی جلتی آنکھیں بند کر کے کھولیں ۔۔۔اور پھر اسکے ہچکیاں کھاتے وجود کو دیکھ کر آگے بڑھ کر اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔

ایم سوری نا میری زندگی ۔۔۔

اپنے شاہ کو معاف کر دو ۔۔۔

اسکا رخ موڑ کر زرمینے کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو لبوں سے چنتے ہوئے پیشانی کو محبت سے چومتے التجا کی ۔۔۔

زرمینے سرخ ہوئی ۔۔۔

چھوڑیں مجھے آپ بہت برے ہیں ۔۔۔مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔۔۔

اسکے حصار میں کسمساتے ہوئے ۔۔۔نروٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔

جس پر وہ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔

چھوڑنے کیلئے تھوڑی ہی تھاما ہے ۔۔۔

زرمینے نے نظریں اٹھائیں۔۔۔

سرمئی اور کالی آنکھوں کا زبردست تصادم ہوا ۔۔۔

زارون نے تھکن زدہ آنکھوں کو بند کرتے اپنی پیشانی اسکی صبیح پیشانی پر ٹکائی ۔۔۔

زندگی اس وقت جو حالات تھے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں ۔۔۔ایک طرف تم تھی جبکہ دوسری طرف میری جنم دینے والی ماں ۔۔۔

تم سوچ بھی نہیں سکتی اس وقت میری کیسی حالت تھی ۔۔۔جب مجھے پتا چلا تھا کہ میری ماں کو میرے سگے ماموں نے گھر سے اٹھوایا ۔۔۔

میرے بچپن کے سبھی زخم ہرے ہو گئے تھے ۔۔۔

جس نے میرے اندر کے جانور کو جگا دیا ۔۔۔اور غصے میں مجھ سے ایسی غلطی سرزد ہو گئی ۔۔۔جو میں عام حالات میں کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔

تمہیں خود سے دور دھکیلنا ایسا تھا ۔۔۔جیسے اپنے سینے میں دھڑکتے دل کو نکال کر باہر پھینکنا ۔۔۔

جسکی تکلیف صرف تمہیں ہی نہیں مجھے بھی روح تک توڑ گئی تھی ۔۔۔

میرا خدا گواہ ہے میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔۔بات کرتے کرتے آخر میں زارون کا لہجہ بھرا گیا ۔۔۔

بھلا ایک اندر سے ٹوٹا ہوا شخص جس نے ساری زندگی اپنے اپنوں کی خاطر اپنے درد کو اپنے اندر دفن کرتے ہوئے قہقہے لگائے ہو ۔۔۔وہ تمہیں جس میں اسکی جان بستی ہو تکلیف کیسے پہنچا سکتا ہے ۔۔۔

اسکے آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھتے ۔۔۔اسکے درد کو محسوس کرتے زرمینے کا دل درد سے پھٹنے کے قریب تھا ۔۔۔

اس نے فورا آگے بڑھ اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چن لیا تھا ۔۔۔

آپکو کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ۔۔مجھے یقین ہے اپنے شاہ پر ۔۔۔اسکے ایک ایک نقش کو محبت سے چومتے اسکے درد کو کم کرنے کی کوشش کی ۔۔۔

زارون نے اسکے گرد گرفت مظبوط اسے مزید اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔جس سے اس کے تڑپتے سلگتے دل کو کچھ سکون ملا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

کافی دیر ایک دوسرے کو سینے سے لگائے وہ اپناغم ہلکا کرتے رہے ۔۔۔جب اچانک سے زمین ہلی ۔۔۔اور ساتھ ہی ایک تیز آواز گونجی ۔۔۔جس پر وہ نا صرف ہوش میں آئے بلکہ ڈر کی وجہ سے بےساختہ ہی زرمینے کے ہونٹوں سے چیخ نکلی ۔۔۔

جبکہ اسکے ڈرنے پر زارون نے قہقہہ لگاتے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔

شاہ یہ کیا تھا ؟؟؟؟

کچھ دیر بعد جب سب کچھ دوبارہ نارمل ہوا ۔۔۔تو زرمینے نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔

کچھ خاص نہیں بس ہم جس جگہ پر اس وقت موجود ہیں ۔۔۔اسکے دونوں اطراف volcano ہیں ۔۔۔جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے رو کر ہم نے اپنا درد باہر نکالا ہے ۔۔۔ایسے ہی اس نے بھی اپنی بےچینی کم کرنے کیلئے لاوا باہر پھینکا ۔۔۔

بس یہ اسی کی آواز تھی ۔۔۔

زارون نے نارمل انداز میں کہتے اسکی انفارمیشن میں اضافہ کیا ۔۔۔

جسے سننے کے بعد زرمینے کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔۔جبکہ بڑی بڑی آنکھیں ڈر سے مزید پھیل گئیں ۔۔۔

کیا مطلب ہم اس وقت اتنی خطرناک جگہ پر ہیں ؟؟؟

ہاں میری زندگی ۔۔۔

زارون نے اسکی بات کا جواب دیتے ۔۔۔اسکی آنکھوں کے ساتھ کھلے ہوئے منہ کو بھی بہت محبت سے چوما ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

زرمینے نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور کرنا چاہا ۔۔۔جب زارون نے نفی میں سر ہلاتے اسے مزید اپنے قریب کیا ۔۔۔

اب نہیں میری زندگی ۔۔۔

آپکا یہ شاہ آپکی یہ دوری ایک پل کیلئے بھی سہن نہیں کر سکتا ۔۔۔اس لیے آئندہ کبھی مجھے خود سے دور کرنے کی کوشش بھی مت کیجئے گا ۔۔۔ورنہ اسکے سنگین نتائج کی ذمہ دار آپ خود ہونگی ۔۔۔

اسکے لبوں پر جھک کر شدت بھری گستاخی کرتے ہوئے وارننگ دی ۔۔۔جس پر وہ سہمی ۔۔۔

تبھی زارون شاہ کی نظریں اپنی کچھ دیر پہلے کی دی شدتوں کے نشانوں پر پڑی ۔۔۔جو اب اچھے خاصے زخم کی صورت اختیار کرتے نیلے پڑ چکے تھے ۔۔۔

پھر دھیرے سے جھکتے ہوئے وہاں اپنے لبوں سے مرحم رکھنے لگا ۔۔۔

جبکہ زخموں سے اٹھتی ہلکی جلن اور اسکے نرم لمس پر وہ مدہوش ہونے لگی تھی ۔۔۔زرمینے سہارے کیلئے ایک ہاتھ اسکی وسیع پشت جبکہ دوسرا گھنے بالوں میں پھنسایا ۔۔۔

اور نرمی سے سہلانے لگی ۔۔۔

جبکہ اسکا ساتھ پاتے ہی ۔۔۔وہ اپنی شدتیں بڑھانے لگا ۔۔۔زرمینے کی ہمت جواب دینے لگی ۔۔۔اسکا اپنے قدموں پر کھڑا رہنا محال ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔

جسے زارون نے محسوس کرتے اسکی گردن سے چہرہ اٹھایا ۔۔۔اور پھر اسے گہرے سانس بھرتے دیکھ لبوں پر جھکنے لگا جب زرمینے نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے التجا کی ۔۔۔

شاہ پلیز ۔۔۔”

زارون شاہ نے خمار بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

اور پھر بہت نرمی سے اسکی نازک ہتھیلی کو چوما ۔۔۔اور اسکا وہی ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھا ۔۔۔

سنو انہیں ،،، محسوس کرو انکی تڑپ جو تمہاری جدائی میں دھڑکنا بھی بھول چکیں تھیں ۔۔۔

اور اب قریب آنے پر تمہارا لمس پانے کیلئے معمول سے ہٹ کر دھڑکتے پاگل ہونے کے در پر ہے ۔۔۔

انہیں قرار صرف تمہاری محبت ہی دے سکتی ہے ۔۔۔اب یہ تم پر ہے کہ اپنے شاہ کی اس تڑپ کو اپنے لمس سے مٹاتے سکون بخشو ،،،، یا اپنی قربت کیلئے تڑپا کر مزید خوار ۔۔۔

شاہ ۔۔۔۔”

زارون کی جان لیوا باتوں نے زرمینے کی سانسیں خشک کر دی تھی ۔۔۔خوبصورت چہرہ خون چھلکانے لگا ۔۔جب سینے میں دھڑکتا دل پسلیوں سے ٹکراتے باہر آنے کے در پر تھا ۔۔۔

جسکی دھمک قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے زارون شاہ کو بھی سنائی دے رہی تھی ۔۔تبھی اس نے بہت نرمی جھک اس پر لب رکھتے زرمینے کی دھڑکنوں کو قرار بخشا تھا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

زرمینے نے اسکی شرٹ پر اپنی پکڑ مضبوط کرتے گہرا سانس کھینچا ۔۔۔

ابھی نہیں پلیز ۔۔۔

شرم سے سرخ پڑتے یہ چند الفاظ بہت مشکل سے اسکے لبوں سے آزاد ہوئے ۔۔۔

زارون نے نظر اٹھا کر اسکے ہونٹوں کی طرف دیکھا ۔۔۔جنہیں وہ بار بار اپنی زبان پھیر تر کر رہی تھی ۔۔۔

جسے دیکھتے اسکے گلے میں کانٹے اگ آئے تھے ۔۔۔

اور پھر ایک نظر اسکی آنکھوں میں جس میں التجا تھی ۔۔۔

اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔

لیکن اس سے پہلے میری ایک ڈیمانڈ پوری کرنی ہوگی ۔۔۔

زرمینے نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔

جیسے ابھی کچھ دیر پہلے تم نے مجھے بائٹ کیا تھا ۔۔۔بالکل ویسے ہی تمہیں اپنا عمل دوبارہ دوہرانا ہوگا ۔۔۔

دوسری طرف اسکی ڈیمانڈ کو سنتے زرمینے کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں ۔۔۔

زارون ۔۔۔” یہ آپ کیسی ،،،، باتیں کر رہے ہیں ؟؟؟

شرم اور حیرت سے الفاظ اسکے لبوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے ۔۔۔

کیا زارون ۔۔۔کچھ انوکھا تو نہیں مانگ لیا۔۔یہ کام تم پہلے بھی انجام دے چکی ہو ۔۔۔

اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتے بمشکل ہی اس نے اپنے نکلنے والے قہقہے کو روکا ۔۔۔

وہ تو میں نے غصے میں ۔۔۔۔

اب پیار سے کر لو ۔۔۔دوبدو بولتے زارون نے اسے امتحان میں ڈالا ۔۔۔

زارون یہ آپ ۔۔۔۔تم کر رہی ہو یا پھر ۔۔۔

اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسے گود میں اٹھانے لگا ۔۔۔جب وہ سرخ پڑتی چلائی ۔۔۔

رکے کرتی ہوں ۔۔۔

زارون نے اپنا نچلہ لب دانتوں تلے دبایا ۔۔۔

زر تم کر سکتی ہو ۔۔۔

زرمینے نے گہرا سانس کھینچتے خود کو تسلی دی ۔۔۔پھر ایک نظر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

جو بالکل سپاٹ تھا ۔۔البتہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔۔۔

جس پر دھیان دیئے بنا ہی ۔۔۔زرمینے نے اسکے ہونٹوں کی طرف دیکھا ۔۔۔جس پر پہلے سے ہی گہرا کٹ لگا ہوا تھا ۔۔۔

بےساختہ ہی اسے اپنی حرکت پر شرمندگی نے آن گھیرا ۔۔۔

اس نے بنا سوچے ہی اپنے نرم لب اسکے لبوں سے جوڑ دیئے ۔۔۔اور نرمی سے چھوتے اپنے دیئے زخم پر مرہم رکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

زارون نے اپنی آنکھیں بند کر کے اسکی کمر کو جکڑا ۔۔۔

اور اسکے لمس کی نرمی چپ چاپ محسوس کرنے لگا ۔۔۔کافی دیر بعد جب زرمینے کی اپنی سانسیں بکھرنے لگی تو وہ دھیرے علیحدہ ہونے لگی ۔۔۔جسے زارون نے اسکے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اسکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔

زرمینے نے نظریں اٹھا کر سوالیہ دیکھا ۔۔۔

تم نے میری ڈیمانڈ پوری نہیں کی ابھی ۔۔۔

شاہ ۔۔۔” آپکے ہونٹ پہلے سے ہی زخمی ہے ایسے میں میں کیسے ۔۔۔جب زارون نے نرمی اسے چھوتے خاموش کروایا ۔۔۔

میری خواہش ہے ۔۔۔

نرمی سے الگ ہو کر سرگوشی میں بولا ۔۔۔

میں نہیں کر رہی ۔۔۔مجھ سے نہیں ہوگا ۔۔۔زرمینے نے صاف انکار کیا ۔۔۔جس پر زارون نے اسے گھورا ۔۔۔

تو ٹھیک ہے پھر ۔۔۔وہ اسے جھک کر اٹھانے لگا ۔۔۔جب زرمینے نے اسکے کندھے پر دو ہاتھ جڑے ۔۔۔

آپ اتنے ضدی کیوں ہیں ؟؟؟؟ بےبسی سے دیکھا ۔۔

ضد میں نہیں تم کر رہی ہو ۔۔۔

وہ بھی دوبدو بولا ۔۔۔

جس پر زرمینے نے اسے غصے سے گھورا ۔۔۔زارون نے دانت دکھائے ۔۔

اگر درد ہوئی تو پھر مجھ سے شکایت نہیں کرنی ۔۔۔

منظور ہے ۔۔۔فورا سے جواب آیا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔

زرمینے نے آخری بار التجایا دیکھا ۔۔۔

زرمینے ۔۔۔

آگے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں پر جھکی ۔۔۔لیکن اس بار نشانہ اسکے بلائی لب کو بنایا تھا ۔۔۔

اور اسکی خواہش کا احترام کرتے اچھا خاصا اسکے لبوں کو زخمی کرنے کے بعد پیچھے ہونے لگی ۔۔۔

جب زارون نے اپنی گرفت مظبوط کرتے وہ عمل اسکے دونوں ہونٹوں پر دوہرایا تھا ۔۔۔

جس سے اسکے منہ سے ایک سسکی برآمد ہوئی تھی ۔۔۔سرمئی آنکھوں سے آنسو بھی بہہ نکلے ۔۔۔

لیکن اس ظالم کو ذرا برابر رحم نہیں آیا تھا ۔۔وہ اچھی طرح اپنی منمانی پوری کرنے کے بعد ہی پیچھے ہٹا ۔۔۔

جس پر زرمینے شکایتی نظروں سے اسے دیکھنے کے بعد نیچے کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°

زارون بھی تیز قدموں سے اسکے پیچھے آیا تھا ۔۔۔

اور اسے باہر کے نظارے میں کھو کر مسکراتے دیکھ خدا کا شکر ادا کیا ۔۔۔کہ وہ ناراض نہیں ہوئی تھی ۔۔۔

نیلگوں آسمان جس میں چاروں طرف نارنجی رنگ گھلا ہوا تھا ۔۔۔کیونکہ غروب آفتاب کا وقت قریب ہی تھا ۔۔۔

جسکے ساتھ پہاڑوں پر چلتی گرم ہواؤں میں تپش بھی کچھ کم ہونے لگی تھی ۔۔۔

سرمئی پہاڑوں کے پیچھے گم ہوتا وہ آگ کا گولا الگ سا ہی خوبصورت نظارہ پیش کر رہا تھا ۔۔۔

شاہ یہ سب کتنا پیارا ہے ۔۔۔۔

زارون کی خوشبو کو محسوس کرتے دھیمے لہجے میں مسکرا کر گویا ہوئی ۔۔۔

بالکل میرے رب کی تخلیق بہت پیاری ہے ۔۔۔اسکے چہرے پر نظریں ٹکائے بہت محبت سے گویا ہوا ۔۔۔

زرمینے اس وقت سادہ سے ایک وائٹ کلر کے نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی ۔۔۔

جس میں خوشی سے چمکتا ہوا اسکا معصوم چہرہ زارون شاہ کو دنیا کا سب سے حسین نظارہ لگا ۔۔۔

زرمینے نے چہرہ موڑ کر اسکی طرف دیکھا اور اسے خود پر نظر ٹکائے دیکھ کر شرما کر بھاگتی اس جھیل کے کنارے آ کر رکی ۔۔۔

جسکا پانی دریائے نیل سے بھی زیادہ گہرا اور نیلا تھا ۔۔۔

زارون دھیمے قدم اٹھا کر اسکے پیچھے آ کر کھڑا ہوا۔۔شاہ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا ۔۔۔یہ سب قدرتی ہے ۔۔۔

دیکھیں تو اسکا کلر کتنا ڈارک ہے ۔۔۔

زارون اسکی معصوم بات پر نرمی سے مسکرایا ۔۔۔زرمینے نے جھک کر جھیل کا پانی اپنی ہتھیلی پر اٹھایا ۔۔۔

جو حیرت انگیز طور پر وہاں کے موسم کے مقابلے میں انتہائی ٹھنڈا تھا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔یہ تو بہت ٹھنڈا ہے جبکہ جہاں کا موسم تو ۔۔۔

اس نے پلٹ کر حیرت سے زارون کی طرف دیکھا ۔۔۔وہ اس لیے ۔۔۔میری جان کیونکہ یہ پانی پہاڑوں کے علاوہ زمین کے اندرونی حصے سے برآمد ہو رہا ہے ۔۔۔

اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔اور زارون شاہ کیلئے اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی تھی ۔۔۔کہ اسکی زندگی خوش اور پرسکون تھی ۔۔۔

جس پر وہ بھی خوبصورتی سے مسکرایا تھا ۔۔۔

تبھی زرمینے کو شرارت سوجھی تھی ۔۔۔اس نے دونوں ہتھیلیوں میں پانی لے کر اسکی طرف پھینکا ۔۔۔

اور وہ جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ہڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔۔۔

جبکہ اسکی بنی ہوئی شکل کو دیکھتے زرمینے نے قہقہہ لگایا اور ساتھ ہی ایک بار پھر اسکی طرف پانی اچھالتے ہوئے دوڑ لگائی تھی ۔۔۔

رکو اب تمہاری خیر نہیں ۔۔۔

زارون نے اسکے پیچھے بھاگتے بہت جلد اسے اپنی آہنی گرفت میں جکڑا ۔۔۔

اب کہاں جاو گی ۔۔۔

اچھا سوری ،،،، سوری ،،،، سوری ۔۔۔

نو بےبی نو سوری ۔۔۔اونلی پنشمنٹ ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

زارون نے اسے گود میں اٹھا کر جھیل میں پھینکا ۔۔۔جس پر زرمینے کی چیخ بےساختہ تھی ۔۔۔

چھپاک کی آواز کے ساتھ زرمینے گہرے ٹھنڈے پانی میں جا کر گری تھی ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

زرمینے نے پانی میں ہاتھ پیر چلاتے اسے پکارا ۔۔۔

جب زارون شاہ نے مسکرا کر اپنی شرٹ اتار کر ریت پر پھینکی اور پانی میں چھلانگ لگائی ۔۔۔

لمحے کے ہزارویں حصے میں اسکے قریب پہنچتے کمر سے تھام کر سینے سے لگاتے پانی کے اوپر لے آیا ۔۔۔

زرمینے نے گہرا سانس کھینچ کر اسے شکایتی نظروں سے دیکھا ۔۔۔

میری طرف ایسے نا دیکھو بیوی ۔۔۔یہ تمہارے ایکشن کا ری ایکشن تھا ۔۔۔

اگر میں ڈوب کر مر جاتی تو ۔۔۔آپکو ایک بار بھی خیال نہیں آیا ۔۔۔ہاں آپکو کیوں خیال آتا ۔۔۔آپکی تو جان چھوٹ جاتی نا مجھ سے ۔۔۔وہ پل میں بدگمان ہوتی غصے سے چلائی ۔۔۔

جس پر زارون نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

ایویں ہی ڈوب جاتی تم ۔۔۔زارون شاہ کی زندگی کی جان اتنی سستی نہیں جو ایسے ہی چلی جاتی ۔۔۔میں اپنی جان دے کر بھی اپنی زندگی کو بچا لیتا ۔۔

اسکی غصے سے پھولی ہوئی ناک کو چومتے ہوئے ۔۔۔بہت محبت سے بولا ۔۔۔زرمینے کے لب خوبصورتی سے مسکرائے ۔۔۔ چہرہ سرخ ہو کر تپ اٹھا ۔۔۔

جبکہ زارون شاہ تو اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ کر اس خوبصورت نظارے میں ہی کہیں کھو گیا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

زرمینے نے اسکے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھتے اسے ہوش میں لانا چاہا ۔۔۔

کیا چیز ہو تم ،،، جسے دیکھ کر ہی میرے ہوش و حواس گم ہونے لگتے ہیں ۔۔۔

وہ اسکے چہرے کے معصوم نقوش میں کھویا جذب کے عالم میں بولا ۔۔۔

زرمینے نے اسکی بولتی نگاہوں سے بچنے کیلئے اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپایا ۔۔۔

جبکہ اسکو شرماتے دیکھ زارون نے قہقہہ لگایا ۔۔۔

اچھا زندگی میرے ساتھ سوئمنگ کرینگی ؟؟؟ زارون نے اسے واپس نارمل کرنے کیلئے نرمی سے اسکے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔جو اسے شرٹ لیس دیکھ شرم سے دوہری ہوئے جا رہی تھی ۔۔۔

لیکن مجھے تو تیرنا نہیں آتا ۔۔۔

زرمینے نے اس سے الگ ہو کر اپنی مشکل بتائی ۔۔۔میرے ساتھ ہوتے تمہیں پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ۔۔۔بس مجھے تھامے رکھنا ،،، تمہارے شاہ کا تم سے وعدہ ہے ۔۔۔تمہیں کسی بھی امتحان میں ہارنے نہیں دے گا ۔۔۔

زرمینے نے نظریں اٹھا کر چند پل کیلئے اسکی کالی گھٹاؤں میں دیکھا ۔۔۔جن میں ایک آس تھی ۔۔۔

آپ سے بڑھ کر مجھے کسی پر اعتبار ہے بھی نہیں ۔۔۔

زارون کے گلے میں بازو باندھتے اسکے شیوزدہ گال کو لبوں سے چھوتے پیشانی اسکی کشادہ پیشانی سے ٹکاتے بہت محبت سے مان بخشا ۔۔۔

زارون شاہ کے لبوں پر خوبصورت مسکان ابھری ۔۔۔

اس نے نرمی سے اسکی پیشانی کو ہونٹوں سے چھوتے اپنی پینٹ سے بیلٹ نکالی ۔۔۔

جسے دیکھ کر زرمینے کی آنکھیں پھیلیں ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

بےفکر رہو زندگی ابھی کچھ نہیں کر رہا ۔۔۔اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے زومعنی انداز میں مسکرا کر کہتے اسکا رخ پلٹ کر پشت اپنے سینے لگائی ۔۔۔

اور بیلٹ کو اپنی کمر کے پیچھے سے لا کر اسکے آگے کمر پر باندھا ۔۔۔تاکہ وہ سیکیور فیل کرے ۔۔۔

اسکی احتیاط کو دیکھتے زرمینے بھی نرمی سے مسکرائی ۔۔۔

زارون نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ٹائٹینک کے انداز میں پھیلایا ۔۔۔

بی ریڈی بیوٹیفل ۔۔۔

کان میں گھمبیر سرگوشی کرتے اسکی نازک گال پر بئرڈ رب کی ۔۔۔

جی ۔۔”

وہ اکسائٹڈ سی پرجوشی سے بولی ۔۔۔

گہرا سانس لیتے آکسیجن اندر لو ۔۔۔زرمینے نے فورا گہرا سانس کھینچتے اسکی ہدایت پر عمل کیا ۔۔۔

تبھی زارون نے گہرا سانس لیتے اسکی کمر پر دباؤ دیتے پہلی ڈائیو لی ۔۔۔اور پانی کی گہرائی میں لے آیا تھا ۔۔۔

زرمینے کے دونوں ہاتھوں کو تیراکی کے انداز میں جنبش دیتے ہوئے ۔۔۔وہ اسے تیرنا سکھا رہا تھا ۔۔۔

جبکہ دوسری زرمینے ان سب چیزوں سے پرے پانی کے نیچے کے حسین نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔

اس گہرے نیلے رنگ کے پانی کا نچلا حصہ سنہری پتھروں سے بھرا پڑا تھا ۔۔۔ اندھیرے میں جنکی چمک ایسی تھی جیسے زمین پر ہیرے چمک رہے ہونگے ۔۔۔جنکے آس پاس مختلف رنگوں کی چھوٹی چھوٹی فشز تیر رہی تھیں ۔۔۔

زرمینے نے چہرہ موڑ کر مسکراتے ہوئے زارون کی طرف دیکھا ۔۔۔تبھی زارون اپنا رخ اوپر کی طرف کرتے اسے پانی کی سطح پر لے آیا تھا ۔۔۔

جہاں آ کر دونوں نے ہی گہرا سانس لیتے سانسوں کو سنوارا تھا پھر ایک دوسرے کے چہروں کی طرف دیکھتے مسکرائے ۔۔۔

شاہ ہمارے خالق نے کتنی خوبصورت چیزیں بنائی ہیں نا۔۔۔ہر چیز میں کیسے الگ الگ خوبصورت رنگ بھرے ہیں ۔۔۔جسکی تعریف کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں ۔۔۔

بیشک میرے خدا کی کاریگری بےمثال ہے ۔۔۔

جسکا کوئی جواب نہیں ۔۔۔

آسمان کی طرف دیکھتے مسکرا کر بولا ۔۔۔

شاہ ایک بار پھر ۔۔۔

اسے مسکراتے دیکھ بچوں کی طرح فرمائش کی تھی ۔۔۔اور بھلا زارون شاہ اپنی زندگی کی بات ٹال سکتا تھا ۔۔۔

وہ اسے لے کر ایک بار پھر پانی کی گہرائیوں میں آیا تھا ۔۔۔لیکن اس بار اس نے زرمینے کے ہاتھوں کو نہیں تھاما ۔۔۔بلکہ زرمینے خود ہاتھوں کو آگے پیچھے کرتے پانی میں تیر رہی تھی ۔۔۔اور ساتھ ساتھ قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جسے اپنے پاؤں کی مدد سے وہ مکمل سپورٹ کر رہا تھا ۔۔۔

تیراکی کے دوران کئی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں اسکے چہرے اور جسم سے ٹکرائی تھیں ۔۔۔جنکے ننھے لمس کو محسوس کرتے ہوئے وہ خوبصورتی سے مسکرائی تھی ۔۔۔

تقریبا ایک گھنٹے تک وہ اس مشغلے میں مصروف رہے تھے ۔۔۔اور اس دوران ایک لمحے کیلئے زرمینے کے ہونٹوں مسکراہٹ جدا نہیں ہوئی تھی ۔۔۔

زارون نے نا صرف پانی کے اندر بلکہ اسے اوپری سطح پر رخ بدل کر ( back stock ) سٹائل میں بھی تیرنا سکھایا تھا ۔۔۔

وہ جب زرمینے کو پانی سے باہر لے کر آیا تو نیلے آسمان پر رات مکمل طور پر اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔۔

اور اتنی زیادہ دیر ٹھنڈے پانی میں رہنے کی وجہ سے زرمینے کو اب سردی لگنا بھی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔

جبکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ وہ سردی سے کانپ رہی تھی ۔۔۔اسکے سرخ نم ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے ۔۔۔

زندگی اس سے پہلے تمہیں سردی لگ جائے اور میرا ہنی مون ٹرپ برباد ہو جلدی جلدی کپڑے چینج کر لو ۔۔۔

زارون اسکے کانپتے ہوئے وجود کو دیکھ کر زومعنی انداز میں گھمبیرتا سے بولا ۔۔

جس پر زرمینے نے سرخ پڑتے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔

کپڑے کدھر ہیں ؟؟؟ آپ تو مجھے نیند میں اٹھا کر لے آئے ۔۔۔سردی سے کانپتے ہوئے زرمینے نے منہ بنایا ۔۔۔

وہ اس لیے میری زندگی کہ اگر میں تمہیں ہوش میں چلنے کا بولتا تو آج ہم یہاں موجود نا ہوتے ۔۔۔

زارون نے بھی دوبدو جواب دیتے جتایا ۔۔۔

جس سے زرمینے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔شاہ کچھ کریں ،،،، ورنہ میں سچ میں بیمار پڑ جاؤں گی ۔۔۔

تمہارا شاہ تمہیں ایسے تھوڑی بیمار پڑنے دے گا ۔۔۔رکو ایک منٹ ۔۔۔زارون نے نرمی سے کہتے ہوئے تھوڑی دور جھیل کے کنارے زمین پر پڑی اپنی شرٹ اٹھا کر اسکی طرف بڑھائی تھی ۔۔۔

جسے تھامتے ہوئے ۔۔۔زرمینے نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔

صرف شرٹ ؟؟؟؟

نہیں ایسا کرتا ہوں اپنی پینٹ بھی اتار کر تمہیں دے دیتا ہوں ۔۔۔میرا کیا ہے میں تو کپڑوں کے بغیر بھی گھوم لوں گا ۔۔۔کیا خیال ہے ؟؟؟؟

زر کے اعتراض کرنے پر وہ انتہائی بےباکی سے بولا ۔۔۔جس نے زرمینے کے کانوں سے دھوئیں نکال دیے تھے ۔۔۔

وہ سرخ چہرے کے ساتھ چپ چاپ پاس ہی لگے کیمپ کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔

جبکہ اسکے بنا جواب دیئے یوں بھاگنے پر زارون دلکشی سے مسکرایا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°

زارون شاہ کی شرٹ جو بمشکل اسکے گھٹنوں تک آ رہی تھی ۔۔۔ایسی حالت میں اسکے سامنے جانے کا سوچتے ہی زرمینے کی دھڑکنیں اپنی رفتار تیز کر چکیں تھیں ۔۔۔

اسے کپڑے تبدیل کیے ہوئے بھی تقریبا آدھے گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا تھا ۔۔۔

لیکن پھر بھی کیمپ سے باہر جانے کی ہمت وہ اپنے اندر مفقود پاتی تھی ۔۔۔

لیکن آخر کب تک ،،،،اور اب تو بھوک سے بھی اس کی جان جانے لگی تھی ۔۔۔کیونکہ اس نے کل صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا ۔۔۔جو نجمہ بیگم نے اسے زبردستی چند نوالے کھلائے تھے ۔۔۔جبکہ رات میں وہ بنا کچھ کھائے ہی دوائی لے کر سو گئی تھی ۔۔۔

بہت سوچ بیچار کے بعد جب اسے کوئی راستہ نظر نا آیا تو بھوک کے ہاتھوں مجبور ہوتے وہ باہر نکل آئی تھی ۔۔۔

جہاں زارون شاہ لکڑیوں کی آگ جلائے زمین پر کپڑا بچھا کر کھانے پینے کی چیزیں سیٹ کر رہا تھا ۔۔۔

زرمینے کی آہٹ پاتے ہی اس نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ اور دوبارہ نظریں جھکانا بھول گیا ۔۔۔جو اسکی سفید شرٹ میں اپنے مومی خوبصورت وجود کے ساتھ بجلیاں گرا رہی تھی ۔۔۔

درمیان میں موجود بورن فائر کے شعلوں میں نظر آتا اسکا دلکش سراپا ،،،، اسے چند پل کیلئے دنیا بھولا گیا ۔۔۔

جبکہ اسکے یوں خود کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر زرمینے پزل ہو کر ہاتھوں کی انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔۔

اور کبھی اپنے چہرے پر جھولتی ہوئی کھلے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی ۔۔۔جسے دیکھ وہ ہوش میں آیا اور اسے نروس ہوتے دیکھ ۔۔۔بہت محبت سے ہاتھ اوپر اٹھا کر اسے قریب آنے کا بولا ۔۔۔

جسے چند پل دیکھنے کے بعد وہ دھیمے قدم اٹھا کر اسکے قریب آئی تھی۔۔۔اور پھر اسکی پھیلی ہتھیلی کو دیکھ کر اس پر اپنا سرخ سفید مومی ہاتھ رکھا ۔۔۔

جس پر اپنی گرفت مضبوط کرتے زارون نے اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔جس سے وہ توازن برقرار نا رکھتی اسکے شرٹ لیس کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔

قسم سے اس وقت ایسی قیامت لگ رہی ہو ۔۔۔کہ دل چاہ رہا ہے سب چیزوں کو پس پشت ڈال کر ابھی تمہیں خود میں سما لوں ۔۔۔

لیکن پھر تمہاری ننھی جان کا خیال آ جاتا ہے ۔۔۔جس نے شاید نہیں یقینا کل سے کچھ نہیں کھایا ۔۔۔

اس میں کم از کم اتنی ہمت تو ہونی چاہیے جو میری جمع شدہ شدتوں کے طوفان کو خود پر سہہ سکے ۔۔۔

اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے بےباک سرگوشی کرتا یکدم ہی اسکا رخ پلٹ گود میں سہی سے بٹھاتے ہوئے ۔۔۔

ایک کھانے کا کین اٹھا کر اسکے ہاتھ میں پکڑا گیا ۔۔۔

جس میں زرمینے کے فیورٹ اٹلین بلیک بین نوڈلز تھے ۔۔۔ اور وہ جو پہلے ہی بھوک سے نڈھال تھی اور رہی سہی جان زارون شاہ کی باتوں نے نکال دی تھی اپنے فیورٹ نوڈلز کو دیکھ کر اسکی آنکھیں چمکی ۔۔۔اور وہ سب بھولا کر بنا وقت ضائع کیے جلدی جلدی کھانے لگی ۔۔۔

اور اس سب دوران اسے ایک بار بھی زارون کا خیال نہیں آیا تھا ۔۔۔جو اسے ہی محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ان چند پلوں میں وہ بالکل ویسی ہی پرانی زرمینے بن چکی تھی جو کھانے کے دوران آس پاس کے ماحول کو بالکل فراموش کر دیتی تھی ۔۔۔

ایک کین ختم کرنے کے بعد اس نے دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن زارون کی گرفت میں ہونے کی وجہ سے کامیاب نا ہو سکی ۔۔۔

اور چاہیے ۔۔۔

اس نے چہرہ موڑ کر زارون کی طرف التجایا نظروں سے دیکھا ۔۔۔

یہاں سب کچھ تمہارا ہی ہے زندگی مجھ سمیت ۔۔۔

دوسرا کین اٹھا کر اسکے ہاتھ میں پکڑاتے اسکے سر کے ساتھ پیشانی ٹکراتے بہت محبت سے بولا ۔۔۔

جس پر ایک خوبصورت مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔۔

اور فوک میں نوڈلز پھنسا کر کھانے لگی جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔

اس نے پلٹ کر زارون شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

کیا ہوا رک کیوں گئی ؟؟؟اسے خاموش نظروں خود کی طرف دیکھتے پاکر زارون نے مسکرا کر سوال کیا ۔۔۔

آپ نہیں کھائیں گے کیا ؟؟؟

اگر کچھ بچ گیا تو ضرور کھاؤں گا ۔۔۔زرمینے کے سوال پر زارون نے لب دبا کر شرارت سے جواب دیا ۔۔۔

کیا مطلب ہے آپکی اس بات کا ۔۔۔کیا میں اتنی بھکڑ ہوں جو سارا کھانا اکیلے کھا جاؤں گی ۔۔۔

تمہیں اپنی صلاحیت پر شک ہو سکتا پر مجھے نہیں ۔۔۔

سنجیدگی سے کہتے وہ اب بھی شرارت سے باز نہیں آیا ۔۔۔

زرمینے نے غصے سے نوڈلز کا کین زمین پر رکھا ۔۔۔اور اسکی گرفت سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

چھوڑیں مجھے نہیں کھانا مجھے کچھ بھی ۔۔۔

ارے ارے ارے اتنا غصہ زندگی میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔۔بات بگڑتے اور زرمینے کو ناراض ہوتے دیکھ اسکی کمر پر پکڑ مظبوط کرتے مسکرا کر بولا ۔۔۔

یہ سب کچھ میں تمہارے لیے ہے لایا ہوں ۔۔۔جسے تم ہی کھاو گی ۔۔۔اور بدلے میں میں تمہیں کھاؤں گا۔۔۔

کین واپس اسکے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے اسکے نازک گال پر ہلکے سے بائٹ کرتے زومعنی انداز میں بولا ۔۔۔

جس پر وہ پل میں سرخ ہوئی ۔۔۔لیکن کھانا دوبارہ شروع کر چکی تھی ۔۔۔

ویسے میں بھی سوچوں تمہارا ہاتھ اتنا بھاری کیوں ہے اس کے پیچھے کی وجہ اب مجھے سمجھ آ رہی ہے ۔۔۔

اسے بنا رکے سپیڈ سے کھاتے دیکھ زارون ایک بار پھر شرارت سے بولا ۔۔۔البتہ اپنا ایک ہاتھ دائیں گال پر رکھا ہوا تھا ۔۔۔جس پر زرمینے نے ایک بار نہیں بلکہ دو بار تھپڑ مارا تھا ۔۔۔

زارون کی بات زرمینے نے پلٹتے گھور کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔لیکن اسے اپنے گال پر ہاتھ رکھے دیکھ بےساختہ ہی اسکی ہنسی چھوٹی تھی ۔۔۔

شرم کرو کچھ کوئی ثواب کا کام نہیں کیا جو ایسے ہنس رہی ہو ۔۔۔اسکے ہنسنے پر زارون نے اسے شرم دلانی چاہی ۔۔۔

کیا کروں آپکی حرکتیں ہی ایسی ہیں ۔۔۔

زرمینے ۔۔۔”

حیرت سے زارون کا منہ کھل گیا ۔۔۔زرمینے کو اپنی بات کا احساس ہوا ۔۔۔اس نے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔۔

حرکتیں تو تمہاری بھی ایسی ہی ہیں تو کیا بدلے میں بھی پورے خاندان کے سامنے تمہیں تھپڑ مارتا ۔۔۔

اب کے وہ سچ میں اسکی بات کا برا منا گیا ۔۔۔جسکا احساس زرمینے کو بھی ہوا۔۔۔

سوری شاہ وہ میں نے جان بھوج کر نہیں مارا تھا ۔۔۔اور اگر آپ کہیں گے تو میں سب کے سامنے ہی آپ سے معافی بھی مانگ لوں گی ۔۔۔

جس پر زارون نے ماننے کی بجائے الٹا اسے گھورا تھا ۔۔۔

زرمینے نے اپنی حرکت کا ازالہ کرنے کیلئے آگے ہو کر اسی گال پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔

لیکن زارون شاہ نے کوئی بھی رسپانس نہیں دیا تھا۔۔۔وہ اب بھی اسے غصے سے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔

میں کیا کروں شاہ جب بھی مجھے غصہ آتا ہے پتا نہیں مجھے کیا ہو جاتا ہے ،،، اور اگر فیوچر میں میں ایسی ویسی کوئی حرکت کروں تو آپکو میری طرف سے کھلی چھوٹ ہے ۔۔۔مجھے بھی کس کر دو تھپڑ لگا دیجئے گا ۔۔۔

اسے منانے کی خاطر اسکے گلے میں دونوں بازو باندھ کر اسکے قریب ہوئی تھی۔۔۔

سوچ لو ۔۔۔

زارون شاہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔

سوچ لیا ۔۔۔

زرمینے نے دوبدو جواب دیا ۔۔۔

زارون نے فورا درمیان میں ایک انچ کا فاصلہ مٹاتے اسکی سانسوں کو اپنے قبضے میں لیا ۔۔۔

ہم سادات اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کو مردانگی نہیں سمجھتے اگر دوبارہ تم نے ایسی ویسی کوئی حرکت کی تو سب کے درمیان تمہارے ہونٹ چوم کر اسکی سزا دوں گا ۔۔۔

اسکے نچلے لب کو نرمی سے دانتوں تلے دباتے ہوئے زومعنی انداز میں بولا ۔۔۔زرمینے کے جسم کا سارا خون اسکے چہرے میں سمٹ آیا تھا ۔۔۔

جسے چند پل مہبوت نگاہوں سے دیکھنے بعد اسکی سانسوں کو دوبارہ قبضے میں لیتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

زرمینے نے اسکی گردن پر پکڑ مظبوط کرتے دونوں ٹانگیں اسکی کمر کے گرد باندھی ۔۔۔اور اپنے لبوں کو جنبش دیتے نرمی سے اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔۔

جس پر وہ مسرور ہوتا تیز قدموں سے ہٹ کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°

لکڑی کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر داخل ہوتے دروازہ پاؤں سے بند کرتے اسے لا کر میٹریس پر پھینکنے کے انداز میں لٹایا ۔۔۔

زرمینے نے گہرا سانس کھینچ کر اپنی بکھری سانسوں کو درست کرتے ہوئے اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔

جو لو دیتی نگاہوں سے اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

لیکن اسکے قریب نہیں آ رہا تھا ۔۔۔شاید وہ چاہتا تھا کہ زرمینے خود اسے اپنے پاس بولائے ۔۔۔اپنی رضامندی سے کیونکہ آج سے پہلے وہ جتنی بار اسکے قریب آیا تھا وہ خود سے آیا تھا ۔۔۔اور اب وہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

جسے زرمینے بھی اسکے چہرے کے تاثرات جانچتے سمجھ رہی تھی ۔۔۔

تبھی اپنی نظریں جھکا کر یوں لیٹے ہوئے ہی اسکی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تھا ۔۔۔

جس سے ایک خوبصورت مسکراہٹ نے زارون کے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔اور ساتھ میں اسکی شرم و حیا دیکھتے ہنسی بھی آئے جسے لب بھینچ کر وہ کنٹرول کر گیا ۔۔۔

اور بہت نرمی سے اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھامتے اس پر جھک آیا تھا ۔۔۔

اسکے قریب آ کر رک جانے پر زرمینے نے اپنی پلکیں اٹھائی ۔۔۔جو سیدھا اسکی کالی گھٹاؤں سے ٹکرائی تھیں ۔۔۔

اور اس میں نظر آتے جذبات اور طلب کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی ساری شرم و حیا ایک طرف رکھتے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے بیڈ پر منتقل کرتے خود اوپر آئی تھی ۔۔۔

اور بہت محبت سے اسکی پیشانی پر بوسہ دیتے اپنی محبت کا مان بخشا تھا ۔۔زارون نے سکون محسوس کرتے اسکی کمر کو جکڑا ۔۔۔

جب وہ یونہی بنا اس سے الگ ہوئے پیشانی سے اسکی تیکھی ناک کا سفر کرتی ہونٹوں پر آئی تھی اور انہیں نرمی سے چھوتے ہوئے ٹھوڑی پر پیار کرتے گردن اور پھر اسکی دھڑکنوں کے مقام پر جھک کر بوسے دینے لگی ۔۔

جس نے زارون شاہ کے جذبات میں طلاطم برپا کیا تھا ۔۔۔جس کے چلتے اس نے ایک جھٹکے سے کروٹ بدلتے زرمینے کی سانسوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لیا تھا۔۔۔۔

جسکا وہ اسکے گھنے بالوں میں اپنی مومی انگلیاں چلاتے مکمل ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔

اسکی سانسوں کو ٹوٹتے محسوس کرتے ۔۔۔زارون کے لب نرمی ٹھوڑی سے ہوتے گردن پر سرک آئے تھے اور پھر اسکی پہنی ہوئی شرٹ کے پہلے بٹن پر ۔۔۔جسے اس نے دانتوں سے کھینچ کر ایک پل میں اس سے جدا کیا تھا ۔۔۔جس سے صرف وہ ایک ہی نہیں بلکہ نیچے کے سارے بٹن بھی ٹوٹتے چلے گئے۔۔۔

دونوں کے درمیان اس آخری رکاوٹ کو بھی دور کرتے زارون شاہ نے اسکی کلائیوں کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے پوری شدت سے اسے خود میں سمایا تھا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔

جس سے ایک سسکاری سی زر کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی تھی ۔۔۔

لیکن وہ ہوش میں ہوتا تو کچھ سنتا ،،،، وہ تو اسکے وجود کی نرماہٹوں میں کھویا ۔۔۔اسکے انگ انگ کو لبوں سے چھوتے ۔۔۔اتنے دنوں کی تشنگی مٹا رہا تھا ۔۔۔

جو کم ہونےکی بجائے ہر لمحے کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔۔۔کہ زرمینے کی سانسیں اسکے سینے میں ہی کہیں دبنے لگی تھیں ۔۔۔

لیکن پھر بھی اسکے جنون کو سہتے ہوئے اسکی محبت کا خیر مقدم کرتے اسکی ہر شدت پر ،،، آنکھوں سے آنسو بہنے کے باوجود ،،، زارون کی پشت پر تیز ناخن گاڑھتے ،،، دھیرے دھیرے اسکے وجود میں سمٹتے ،،، خود درد میں ہونے کے باوجود اسکی راحت کا سامان بنتی جا رہی تھی ۔۔۔

جسے محسوس کر کے زارون شاہ روح تک سرشار ہوا ۔۔۔

تبھی مسکرا کر اسکے ہونٹوں کو چھوتے اس نے کروٹ بدلی ۔۔۔اور اسے اپنے سینے پر منتقل کرتے کمر کو سہلاتے ہوئے نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

خاموش کمرے میں زرمینے کی آواز گونجی ۔۔۔

جی شاہ کی جان ۔۔۔

زارون نے اسکی طرف متوجہ ہوتے بہت محبت سے جواب دیا ۔۔۔

ہم کب تک یہاں رہیں گے ؟؟؟؟

اسکے سینے کے بالوں سے کھیلتے نرمی سے سوال کیا ۔۔۔کیوں تم جہاں کمفر ٹیبل نہیں ہو کیا ؟؟؟؟

نہیں ایسی بات نہیں میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔آپ گھر میں بھی کسی کو بتا کر نہیں آئے ۔۔۔سب پریشان ہو رہے ہونگے ۔۔۔بس اسی لیے ۔۔۔

تم ٹینشن نا لو لالا سب سنبھال لینگے ۔۔۔

اسے مزید اپنے سینے میں بھینچتے اس نے نرمی جواب دیا ۔۔۔کیا مطلب لالا کو پتا ہے ہم جہاں ہیں ؟؟؟ اس نے حیرت سے اٹھتے ہوئے سوال کیا تھا جب اپنی حالت کی طرف دیکھتے شرما کر کنفرٹر کھینچ کر اوپر لیتے خود کو چھپایا ۔۔۔

لیکن ان سب کے دوران اسکی نظر ایک ایسی چیز پر پڑی تھی ۔۔۔جسے اس نے چونکنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔

میرے بھائی اچھی طرح میری رگ رگ سے واقف ہیں اس لیے بول رہا ہوں تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔

زارون ضارب اور واسم کو یاد کرتے خوبصورتی سے مسکرایا تھا ۔۔۔

زارون یہ ہڈی آپکی ہے ؟؟؟؟

دوسری طرف زرمینے جسکی نظریں اس کالی ہڈ پر ٹکی تھیں ۔۔۔اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سوالیہ دیکھنے لگی ۔۔۔

جس پر زارون کی نظر بھی اپنی ہڈ پر پڑی اور پھر اس نے ایک نظر زرمینے کی طرف دیکھا ۔۔جس کے چہرے سے پریشانی جھلک رہی تھی۔۔۔گہرا سانس لیتے اٹھ کر بیٹھا ۔۔۔

اور اسکا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کرتے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

اسکا مطلب وہ آپ ہی تھے جو مجھے ڈراتے تھے ؟؟؟؟ اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ کر بےیقینی سے بولی ۔۔۔

جس پر زارون نے ایک بار پھر ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

زارون ۔۔۔۔”

آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟؟

زرمینے کی آنکھیں فورا لبا لب پانیوں سے بھر گئیں ۔۔۔

زندگی تم غلط سمجھ رہی ہو ۔۔۔میں نے جو کچھ بھی کیا وہ میری ڈیوٹی کا حصہ تھا ۔۔۔

اسے رونے کی تیاری پکڑتے دیکھ ۔۔۔نرمی سے اپنے ساتھ لگاتے سمجھانے لگا ۔۔۔

کیا مطلب ؟؟؟ مجھے چاقو دکھا کر ڈرانا آپکی ڈیوٹی کا حصہ تھا ۔۔۔زرمینے نے اسے خود سے دور کرتے غصے سے گھورا ۔۔۔

جس پر اپنی ابھر آنے والی مسکراہٹ کو روکنے کیلئے زارون نے لب دانتوں تلے دبایا ۔۔۔

دیکھا یہ آپ جان بوجھ کرتے تھے ۔۔۔آپکو پتا بھی ہے ۔۔۔۔میں کتنا ڈر جاتی تھی ۔۔۔ میری سانسیں رکنے لگتی تھیں مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں مرنے والی ہوں ۔۔اور اب کبھی بھی اپنے گھر والوں سے مل نہیں پاؤں گی ۔۔۔

اور آپ سب جانتے بوجھتے میری حالت کا مزہ لیتے تھے ۔۔۔

اسکے سینے پر نازک ہاتھوں کے مکے برساتے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔

جنہیں زارون نے نرمی سے تھامتے اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔

جیسا کہ میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا میری زندگی کی جان اتنی سستی نہیں جو ایسے ہی چلی جائے ۔۔۔وہ بھی اسکے شوہر اسکے محافظ کے قریب ہوتے ہوئے ۔۔۔

اسکے چہرے کی طرف دیکھتے دوٹوک انداز میں بولا ۔۔جس پر زرمینے نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔

میں بس اس وقت مجبور تھا ۔۔۔سیکرٹ مشن پر ۔۔۔جسکے بارے میں کسی کو بھی بتا نہیں سکتا تھا ۔۔۔اور ایسی حالت میں تم بار بار خود ہی میرے سامنے آ جاتی تھی ۔۔۔تم کسی کو میرے بارے بتا نا دو بس اسی لیے تھوڑا سا ۔۔۔

تھوڑا سا ۔۔۔”

اسکے تھوڑا سا بولنے پر زرمینے نے ایک بار پھر سے گھورا ۔۔اچھا تھوڑا زیادہ ۔۔۔

زارون نے قہقہہ لگاتے اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔

چھوڑیں مجھے ،،، مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔۔۔اسکے حصار میں کسمساتے گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

زندگی کوشش بیکار ہے ۔۔۔

کیونکہ اس گرفت سے رہائی آپکو زارون شاہ کی سانسیں بند ہونے کے بعد ہی مل سکتی ۔۔۔

شاہ ۔۔۔”

اسکے مرنے کی بات سن کر وہ تڑپ ہی تو گئی تھی ۔۔۔

شاہ کی زندگی آپکی ذات آپکے شاہ کیلئے بہت اہم ہے ۔۔۔ بہت انمول ۔۔۔کبھی بھی خود ارزاں سمجھتے خود کو تکلیف پہنچانے کی کوشش بھی مت کیجئے گا ۔۔۔ورنہ آپ سے پہلے آپکا یہ شاہ اس دنیا سے چلا جائے گا ۔۔۔

اس نے زارون کی باتوں کو سنتے فورا آگے بڑھ کر اسکے ہونٹوں کو چوما تھا ۔۔۔

اور آپکو کیا لگتا ہے ۔۔۔آپکے بنا آپکی زندگی زندہ رہ سکتی ہے ۔۔۔بالکل بھی نہیں ۔۔۔

آپکی جدائی میں ،،، میں نے یہ دن کیسے گزارے یہ تو صرف میں جانتی ہوں یا میرا خدا ۔۔۔

زارون سے الگ ہو کر اسکے وجیہہ چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے پرنم لہجے میں گویا ہوئی تھی ۔۔۔

زارون شاہ کو اپنا دل ان سرمئی نین کٹوروں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

جنہیں بہت نرمی سے چھوتے وہ ایک بار پھر اسکی سانسوں پر قابض ہوا تھا۔۔۔

اور بنا الگ ہوئے نرمی سے تکیے پر ڈالتا دوبارہ حدیں پھلانگنے لگا ۔۔۔

جب کنفرٹر کو اپنے ہاتھ میں لیتے زارون کی کوشش کو ناکام بنایا

زارون نے نظریں اٹھا کر سوالیہ دیکھا ۔۔۔

زیادہ نا فری ہونے کی ضرورت نہیں آپ پہلے ہی بہت ایڈوانٹج لے چکے ہیں ۔۔۔میں ابھی بھولی نہیں ہوں آپ نے میرے ساتھ کیا کیا ۔۔۔اس لیے اب شرافت سے پیچھے ہو جائیں ۔۔۔ورنہ

زارون کو تیز نظروں سے گھورتی غصے سے بولی ۔۔۔جب اسکی بات پوری ہونے سے پہلے وہ اسے چپ کروا چکا تھا ۔۔۔

بیوی یہ ناممکن بات ہے ۔۔۔ اور نا ہی تم مجھے خود کے قریب آنے روک سکتی ہو ۔۔۔ہاں اسکے علاوہ میں تمہارا ہر حکم ماننے کو تیار ہوں ۔۔۔

مسکرا کر کہتے کنفرٹر کھینچ کر دور پھینکا ۔۔۔زارون ۔۔۔زرمینے کے چیخنے سے پہلے وہ اس پر سایہ فگن ہوا تھا ۔۔۔

اور بہت جلد اسکی ساری ناراضگی کو دور کر کے اپنے نرم لمس سے خود میں گم کرتا اسکے سارے شکوے شکایتوں کو خود میں سمیٹ گیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *