Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 77)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 77)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ضارب نے حیدر شاہ سمیت واسم کو بھی زارون کے سہی سلامت ہونے کی اطلاع دے دی تھی اور یہ بھی کہ وہ کچھ ہی دیر میں گھر پہنچ جائے گا ۔۔۔
جبکہ وہ خود کسی ضروری کام کی وجہ سے رات حویلی نہیں آ پائے گا ۔۔۔۔
جس سے وہ سب کافی حد تک پرسکون ہو چکے تھے ۔۔۔۔
ضارب سے بات کرنے کے بعد وہ فریش ہونے واشروم کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔
اور کپڑے چینج کرنے کے بعد وہ جب کمرے میں آیا تو ابیہا ابھی تک واپس نہیں آئی تھی ۔۔۔
اسکی لاپرواہی کو دیکھتے واسم کو کافی غصہ بھی آیا ۔۔۔۔
لیکن جب ابیہا بہت دیر گزرنے کے باوجود بھی کمرے میں نا آئی تو واسم اسے دیکھنے کیلئے کچن کی طرف بڑھا ۔۔۔
جب راہداری سے گزرتے وقت اسکی نظر راستے میں ٹوٹے ہوئے کافی کے کپ پر پڑی ۔۔۔۔
جسے دیکھتے اسکا دل ان دیکھے اندیشوں میں گھرا ۔۔۔۔لیکن پھر یہ سوچتے شاید غلطی سے گر کر ٹوٹ گیا ہوگا اور شاید ابیہا اسی وجہ سے لیٹ ہو گئی ۔۔۔
بیوقوف لڑکی ۔۔۔
نفی میں سر ہلاتے ہوئے قدم کچن کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔
لیکن خالی کچن کو دیکھتے ہوئے اسکا دل گھبرایا تھا ۔۔۔۔اس وقت کہاں جا سکتی ہے ؟؟؟؟ اسے بےساختہ اپنا خواب یاد آیا ۔۔۔ جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے نہیں یہیں کہیں ہوگی ۔۔۔
قدم باہر کی طرف بڑھائے ۔۔۔رات کا آخری پہر تقریبا پوری شاہ حویلی کو چھان لینے کے بعد اس نے ابرش کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔۔
جسکی آنکھ ضارب کا انتظار کرتے ابھی چند پل پہلے ہی لگی تھی ۔۔۔ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔۔
گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے جو صبح کے چار بجا رہی تھی ۔۔۔سر پر دوپٹہ اوڑھتے اٹھ کر دروازہ کھولا ۔۔۔
اور سامنے سرخ لال آنکھیں اور چہرہ لیے کھڑے واسم کو دیکھتے پریشان ہوئی ۔۔۔
کیا ہوا لالا سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟
جس پر بمشکل اس نے خود پر ضبط کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔جبکہ دل تو ابیہا کی گمشدگی پر بند ہونے کے قریب تھا ۔۔۔۔
گڑیا وہ ،،، ایک پل کیلئے رکا اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔اس وقت اسکی حالت بالکل اس دس سال کے واسم جیسی ہو رہی تھی ۔۔۔جب بالکل ایسے ہی روباب اسے چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی ۔۔۔
روباب کے بعد اب ابیہا کو کھو دینے کا ڈر اس کی جان لینے کے در پر تھا ۔۔۔۔
لالا آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
ابرش کو اسکی حالت ٹھیک نہیں لگی تھی ۔۔۔وہ اس کے قریب ہوتے پیار سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔
گڑیا ابیہا تمہارے کمرے میں ہے ؟؟؟؟
ایک امید کے تحت اس نے سوال کیا تھا کہ شاید وہ ابرش کے اکیلے ہونے کی وجہ سے یہاں نا آئی ہو ۔۔۔اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر پورے کمرے میں نظر دوڑائی ۔۔۔
نہیں لالا بیا تو یہاں نہیں آئی ۔۔۔۔
اسکی حالت کو سمجھیں بنا اس نے واسم کی امید کا آخری دیا بجھایا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا لالا بیا کہاں ہیں ؟؟؟؟
اسکے انکار پر اپنے بھائی کے چہرے پر اترتا درد محسوس کرتے وہ پریشانی سے گویا ہوئی ۔۔۔
جس پر اس نے بےبسی محسوس کرتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
پانی کے چھینٹے منہ پر مارتے ہوئے زارون نے سامنے آئینے میں دیکھا تھا ۔۔۔کالی گھٹاؤں میں گھلی سرخیاں اسکے اندر کی تکلیف کا پتا دے رہی تھیں ۔۔۔
جو اسکے دائیں بازو اور پیچھے کمر میں لگی گولی کے زخم سے اٹھ رہی درد کی ٹھیسوں سے اسے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن اس درد سے کہیں زیادہ درد تو اسکے دل میں ہو رہا تھا ۔۔۔جو اپنے خونی رشتے کے گھناؤنے چہرے سامنے آنے پر وہ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسے بےساختہ وہ دن یاد آیا تھا جب واسم پر معروف حسن کے قتل کا الزام لگا تھا اور وہ حیدر شاہ کے کہنے شہر جانے کیلئے موسی شاہ کو بلانے انکے کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
جب کسی سے بات کرتے ہوئے انکی گفتگو کے کچھ جملے اسکے کانوں سے ٹکرائے تھے ۔۔۔۔
کہ زرمینے کا رشتہ انہوں نے اسکے ساتھ حیدر شاہ کے دباؤ میں آ کر کیا ہے ۔۔۔ورنہ وہ انکی بیٹی کے بالکل بھی لائق نہیں ۔۔۔وہ بہت جلد اسے اس فضول اور بےپایا رشتے سے آزاد کروا لیں گے ۔۔۔۔
اپنے بارے میں موسی شاہ کی یہ سوچ اور ان دونوں کے رشتے کے بارے انکے ارادے جانتے اسکی ذات طوفانوں کے زد میں آئی تھی ۔۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ انکی بات مکمل سنے بنا ہی شوکڈ کی حالت میں انہیں حیدر شاہ کا پیغام دیئے بنا دروازے سے ہی واپس چلا گیا تھا ۔۔۔۔
اور بالکل اسی رات جب اپنی محبت کھو دینے کا ڈر اس پر حاوی ہوا تھا ،،،، زرمینے کے ذرا سا قریب آنے پر پتا نہیں کس احساس کے تحت وہ اس سے اپنا رشتہ جوڑ گیا ۔۔۔۔
شاید وہ اسکے نام کے ساتھ اسکے وجود پر بھی اپنے نام کی مہر لگانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اور اسکے بعد جو کچھ بھی ہوا اس نے بالکل بھی ویسا نہیں سوچا تھا لیکن شاید ان دونوں کے رشتے کے تکمیل ایسے ہونا ہی طے پائی تھی ۔۔۔۔
اور موسی شاہ کے ارادوں کے بارے میں جانتے اس نے ان پر خصوصی نظر بھی رکھوائی تھی ۔۔۔۔جس سے اسے انکی بہت ساری مشکوک ایکٹیویٹیز کے بارے میں بھی پتا چلا تھا ۔۔۔۔
لیکن آج جو انکی اصل حقیقت کھل کر اسکے سامنے آئی تھی ۔۔۔۔اس نے زارون
شاہ کا خونی رشتوں پر بھی اعتبار ختم کر دیا تھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
گھر کے تقریبا سبھی افراد اس وقت حیدر شاہ کے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔سوائے زر اور زارون کے ،،،، کیونکہ زارون کا ابھی کسی کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ گھر آ چکا ہے ،،،، جبکہ زرمینے جو پہلے ہی اسکی وجہ سے ٹینشن میں تھی اسکی طبیعت کے پیش نظر ان لوگوں نے اسے فلحال بتانا مناسب نا سمجھا ۔۔۔
لیکن ایسے کیسے اتنا سیکیورٹی کے باوجود وہ حویلی سے غائب ہو سکتی ہیں ۔۔۔۔
ارمغان شاہ تشویش زدہ لہجے میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔واسم آپ نے ٹھیک سے چیک کیا تھا بیٹا ؟؟؟؟
انکی بات پر واسم شاہ نے اپنی لہو رنگ ہوئی آنکھیں اٹھائی تھیں ۔۔۔۔جسے دیکھتے گھر کی عورتوں کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
اور پھر وہ تیز قدموں سے باہر کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔جسکی حالت کے پیش نظر ارمغان شاہ بھی اسکے پیچھے نکلے ۔۔۔۔
حیدر شاہ نے ایک بار پھر مشکلوں میں گھرے اپنے کنبے کو دیکھا تھا ،،،، ناجانے کیوں انہیں کوئی بھی خوشی راس نہیں آتی تھی ۔۔۔۔
واسم نے سب سے پہلے حویلی کے سیکیورٹی روم میں جاتے سب سے پہلے تمام سی سی ٹی وی کیمراز کی فوٹیج چیک کی تھی ۔۔۔۔
جس میں اسے کسی بھی قسم کی کوئی گڑ بڑ دیکھنے نہیں ملی ۔۔۔اور نا ہی باہر کا کوئی مشکوک بندہ حویلی میں داخل ہوتے دکھا ۔۔۔۔
ضارب کے حویلی سے جانے کے بعد سے تقریبا باہر کا گیٹ بند تھا جبکہ چاروں طرف گارڈز کا سخت پہرہ لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
بظاہر تو سب ٹھیک ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔حویلی کے کونے کونے میں لگے تمام کیمروں کی فوٹیج ،،،، مختلف سکرینز پر ہر جگہ کا منظر دکھا رہی تھی ۔۔۔۔
جب واسم کی نظر حویلی کے بیک سائڈ گیٹ پر لگے کیمرے کی ٹائم ریکارڈنگ پر گئی ۔۔۔۔
جس میں رات ڈھیر بجے سے لے کر دو بجے تک کی ریکارڈنگ غائب تھی ۔۔۔۔ جبکہ سیکیورٹی اہلکار کے مطابق کیمرہ ایک منٹ کیلئے بھی بند نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔
جس پر واسم شاہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔
اچھا تو پھر یہ آدھے گھنٹے کی ریکارڈنگ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ۔۔۔۔اسے گریبان سے پکڑتے ہوئے ،،،، کھڑا کرتا غصے سے چیخا ۔۔۔۔
سر ،،، سر مجھے نہیں پتا ،،،، اس بپھرے ہوئے شیر کو دیکھتے وہ لرزتے ہوئے منمنایا ۔۔۔۔
تمہیں کیسے نہیں پتا ؟؟؟؟ تمہاری ڈیوٹی ہے نا یہ ؟؟؟؟
سر میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔ مجھے ،،،، اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی واسم شاہ نے خود پر سے کنٹرول کھوتے اپنے دائیں ہاتھ کا بھاری مکہ اسکے چہرے پر دے مارا تھا ۔۔۔۔
جس سے اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا اور اس سے خون بہنے لگا ۔۔۔۔
مجھے صرف سچ سننا ہے ؟؟؟؟ اسے گدھی سے پکڑ کر سیدھا کرتے وہ پھنکارا تھا ۔۔۔
سر میری بات کا یقین کریں میں ،،،، جب واسم نے دوسرا مکا اسکے جبڑے پر مارا ،،،، اسکے منہ سے خون کا پھوارہ پھوٹ پڑا ۔۔۔۔
صرف سچ “
اسکے لہجہ انتہائی حد تک سرد ہو چکا تھا ۔۔۔۔
سر میں سچ ہی کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔تم ایسے نہیں مانو گے ۔۔۔۔اسے سیکیورٹی روم سے گھسیٹ کر باہر لاتے لان میں پھینکا ۔۔۔۔
اور بنا سوچے سمجھے ہی اس پر مکوں اور لاتوں کی برسات شروع کر دی تھی ۔۔۔اور اسے مار مار کر ادھ موا کرتے ساتھ ساتھ گالیاں بھی دے رہا تھا ۔۔۔۔
اور یہ سب کرتے ہوئے وہ کہیں سے پڑھا لکھا باشعور انسان نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
ارمغان شاہ جو اسے سیکیورٹی روم کی طرف جاتے دیکھ خود باہر گارڈز سے پوچھ تاچھ کرنے آ گئے تھے ۔۔۔۔
واسم بیہیو یور سیلف ۔۔۔
اسکی آواز سن کر قریب آتے اور اسے سیکیورٹی اہلکار کو مارتے دیکھ فورا آگے بڑھ کر اسے روکنا چاہا ۔۔۔۔
لیکن وہ تھا کہ ہاتھ میں ہی نہیں آ کر دے رہا تھا ۔۔۔۔
بلکہ غصے میں ہوش گنواتے اس نے ارمغان شاہ کے ہاتھ کو بھی جھٹکا تھا ۔۔۔۔
لیکن انہوں نے اسے کھینچ کر پیچھے کرتے ہوئے بمشکل اس بیچارے کی جان خلاصی کروائی تھی ۔۔۔۔
جو اس کی مار کی تاب نا لاتے کب کا اپنے ہوش گنوا چکا تھا ۔۔۔۔
آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا ؟؟؟؟
ہاں ہو گیا ہے میرا دماغ خراب ،،،، آگ لگا دوں گا میں اس دنیا کو ،،،، اگر مجھے میری ابیہا نا ملی ۔۔۔۔
اس کے لہجے میں ابیہا کیلئے اسکا جنون بول رہا تھا ۔۔۔۔
دیکھیں بیٹا میں آپکی حالت سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔لیکن ایسے کسی بےقصور پر اپنا غصہ نکالنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔۔۔
اس حالت کے پیش نظر انہوں نے پیار سے سمجھانا چاہا ۔۔۔۔
بےقصور نہیں یہ بلکہ ملا ہوا ہے دشمن کے ساتھ ،،،، چند ٹکوں کی خاطر اپنے ضمیر کو بیچتے ثبوت مٹائے ہیں ۔۔۔۔
لیکن ابھی یہ جانتا نہیں ہے مجھے ،،،، میں نے اسکی سات کو پشتوں زندہ زمین میں گاڑتے ابیہا کا پتا نا نکلوایا تو میرا نام واسم شاہ نہیں ۔۔۔۔
ایک زبردست ٹھوکر اس کے بیہوش وجود کو رسید کرتے عالم وحشت سے دھاڑا ۔۔۔۔
اور ساتھ ہی سیل فون نکالتے ہوئے کسی کو فون ملاتا باہر کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔۔
ارمغان شاہ نے پریشان نظروں سے اسکی چوڑی پشت کو دیکھا ،،،، اور ابیہا کے سہی سلامت مل جانے کی اپنے رب سے دعا کی تھی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
حویلی میں اس وقت ابیہا کی ٹینشن کے ساتھ ایک وحشت کا سما بنا ہوا تھا ،،،،، واسم شاہ جتنے غصے اور جنون کی حالت میں ابیہا کو ڈھونڈنے نکلا تھا ،،،، سب کو یہی فکر لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
کہ کہیں وہ خود کو ہی کوئی نقصان نا پہنچا لے ۔۔۔۔ارمغان شاہ بار بار ضارب کا فون ملا رہے تھے جو کہ مل کے ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔
اس سے ناامید ہوتے انہوں نے زارون شاہ کا نمبر ملایا تھا ۔۔۔۔جو دوسری بیل پر ہی اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔
زارون بیٹا کہاں ہیں آپ ؟؟؟؟
فون اٹینڈ ہوتے ہی ارمغان شاہ عجلت میں بولے ۔۔۔۔زارون جو آج کھلنے والی حقیقت پر اپنے لایعنی سوچوں میں گھرا ہوا تھا ۔۔۔۔
انکی آواز میں بےچینی محسوس کرتے ہوش میں آیا ۔۔۔۔
کیا ہوا ڈیڈ سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟ سٹینڈ ٹاول اتار کر چہرہ صاف کرتے تشویش سے پوچھا ۔۔۔
نہیں بیٹا کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ابیہا بیٹی حویلی میں کہیں نہیں مل رہی ۔۔۔۔شاید انہیں کسی نے کڈنیپ کر لیا ہے ۔۔۔۔
اور واسم بہت ٹینشن میں انہیں ڈھونڈنے نکلے ہیں ۔۔۔۔اوپر سے ضارب بھی فون نہیں اٹھا رہے ۔۔۔۔
انکی بات سنتے زارون نے اپنی مٹھیاں غصے سے بھینچی تھیں۔۔۔۔
آپ کہاں ہے ؟؟؟
میں گھر میں ہی ہوں ڈیڈ ،،،، بس ابھی آیا آپ ٹینشن نا لیں ۔۔۔۔انہیں تسلی دیتے عجلت میں فون بند کرتا واشروم سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔
اور سیدھی نظر بیڈ پر بیٹھی ہوئی زرمینے پر پڑی ،،،، جس نے رو رو کر چند لمحوں میں اپنی حالت خراب کر لی تھی ۔۔۔۔
البتہ شادی کا جوڑا وہ تبدیل کر چکی تھی ۔۔۔۔
اسکے باہر آتے ہی زرمینے نے ایک شکوہ بھری نگاہ اس پر ڈالی ۔۔۔
جسے زارون نے اگنور کرتے ابھی قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے ،،،،جب وہ بیڈ سے اٹھ کر دوبارہ اسکے راہ میں حائل ہوئی تھی ۔۔۔
راستہ چھوڑو ۔۔۔
زارون نے بمشکل اپنے غصے کو دباتے اسے پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔۔
نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔پہلے آپ مجھے اپنے اس رویے کی پیچھے کی وجہ بتائیں ؟؟؟؟
اسکے غصے کو کسی خاطر میں نا لاتے ،،،، ڈٹ کر بولی ۔۔۔۔
زرمینے “
زارون نے بھینچے بھینچے لہجے میں وارن کرنا چاہا ۔۔۔۔
شاہ پلیز “
اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے تو میں معافی مانگ لیتی ہوں ،،،، لیکن پلیز میرے ساتھ ایسا نا کریں ۔۔۔۔
نم لہجے میں کہتی اسکے قریب ہوئی تھی ۔۔۔۔
جس پر زارون کا دبا ہوا غصہ دوبارہ عود کر آیا تھا ،،،، اور اس نے زرمینے کے بالوں پر پکڑ مظبوط کرتے اسے اپنے قریب کیا ۔۔۔۔
تمہیں میری ایک بار کی کہی ہوئی بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔کہ مجھ سے دور رہو ۔۔۔۔کیوں میرے قریب آ کر اپنی موت کو آواز دے رہی ہو ۔۔۔۔
لیکن میرا قصور کیا ہے ؟؟؟ جسکی آپ مجھے یہ سزا دے رہیں ہیں ۔۔۔
اسکے بےدرد رویے پر اب کہ وہ بھی چیختی ہوئی بولی تھی۔۔۔
قصور جاننا ہے تمہیں اپنا تو سنو ،،،، قاتل ہے تمہارا باپ ہماری خوشیوں کا ،،،، ہمارے خاندان کی بربادی کا ۔۔۔۔میری ماں کی بربادی کا ۔۔۔۔
آستین کا سانپ ہے ۔۔۔۔جو ہمارے درمیان میں رہتے ہوئے ۔۔۔۔ہماری ساری خوشیوں کو نگل گیا ۔۔۔۔
اسکا چہرہ اپنے قریب کرتے غصے کی شدت میں پھنکارا ۔۔۔۔جس پر زرمینے نے لرزتے ہوئے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اور اب ہمیں برباد کرنے کی اس نے نئی چال چلی ہے ۔۔۔۔مجھے پکا یقین ہی ابیہا کی گمشدگی میں بھی اسکا ہی ہاتھ ہے ۔۔۔۔بس کوئی ٹھوس ثبوت میرے ہاتھ آنے کی دیر ہے ،،،، اسے ایسی جگہ لے جا کر مارو گا ،،،، کہ موت بھی پناہ مانگے گی ۔۔۔۔
بیا ،،،، کیا ہوا ہے بیا کو ؟؟؟؟
اسکی ساری باتوں کو نظر انداز کرتے فکرمندی سے بولی ۔۔۔۔
جس پر وہ طنزیہ مسکرایا تھا ۔۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں یہ جھوٹی فکر دکھانے کی ۔۔۔۔ہو تم اسی شخص کا گندا خون جس کی نس نس میں دھوکا اور فریب بھرا ہوا ہے ۔۔۔۔
زارون کیسی باتیں کر رہیں ہیں ،،،، آپ بابا کے بارے میں ،،،،، میرے بابا بالکل بھی ایسے ۔۔۔۔
خبردار خبردار اگر تم نے میرے سامنے اس شخص کی حمایت میں ایک لفظ بھی بولا تو ،،،، اس سے پہلے تمہاری سانسیں بند کر دوں گا ۔۔۔۔
زرمینے کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسکی گردن دبوچتے درشتگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔جس سے اسکی آنکھیں ابل کر باہر آ گئی تھیں ۔۔۔
سانس کہیں سینے میں اٹکنے لگا ۔۔۔۔
اور اس سے پہلے کے اسکی سانسیں سچ میں رک جاتی ،،،، زارون نے اسے جھٹکے سے چھوڑتے ایک طرف دھکیلا تھا ،،،، اور خود قدم باہر کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔
شاہ “
جب کمرے میں زرمینے کی ہولناک چیخ گونجی تھی ۔۔۔۔
دروازہ کھولتے زارون کے ہاتھ تھمے ۔۔۔اور اس نے پیچھے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جو اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے تکلیف سے دوہری ہو رہی تھی ۔۔۔۔
جسے دیکھتے زارون کے حواس گم ہوئے ،،،، اور وہ سب کچھ بھولائے اسکی طرف دوڑا ۔۔۔۔
زر کیا ہوا ؟؟؟؟
اسے اپنے حصار میں لے کر تکلیف سے پیلا پڑتا اسکا چہرہ تھپتھپاتے نرمی سے بولا ۔۔۔۔
شاہ ،،، ہمارا ،،، بچہ “
اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ،،،، آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کے درمیان بمشکل ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بولی ۔۔۔۔
جسے سن کر ایک پل کیلئے زارون کی سانسیں تھمی ۔۔۔۔
لیکن پھر زر کو تکلیف سے ہوش گنواتے دیکھ اسے اپنی گود میں اٹھائے باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔۔
