Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 38)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

دادا سائیں کی سربراہی میں گھر کے سبھی افراد ناشتے کی ٹیبل پر براجمان تھے ۔۔۔۔۔

آج نو بیاہتا جوڑوں کیلئے ناشتے کی ٹیبل پر خاص انتظامات کیے گئے تھے ،،،،، جہاں ابرش ابیہا زرمینے کی نظروں سے کنفیوژ ہوتی سرخ سی بیٹھی تھیں ،،،،، وہی ضارب اور واسم شاہ ریلکس انداز میں بیٹھے ناشتہ کر رہے ،،،،،، جبکہ ایک دوسرے کیلئے لاپرواہی دونوں طرف سے عروج پر تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ انکے برعکس زارون کی نظریں زرمینے کے خوبصورت چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں جس پر شرارتی تاثرات سجے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

جنہیں دیکھتے بےساختگی میں اپنے آپ ہی اسکے لب مسکرائے تھے ۔۔۔۔

جبکہ اسکی محویت کو دیکھتے دادا سائیں نے اپنے گلا کھنکارا تھا ۔۔۔۔

جس پر اس کے ساتھ ساتھ باقی گھر کے افراد بھی متوجہ ہوئے تھے ،،،،،، ہمیں آپ سب سے بہت ضروری بات کرنی ہیں ۔۔۔۔۔

اپنے خاندان کو دیکھتے وہ پر شفیق لہجے میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

جس پر سبھی نے ادب سے سر ہلایا تھا ،،،،، جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ ہم اپنے دونوں بڑے پوتوں کے فرض سے خیر خیریت سے فارغ ہو چکے ہیں ،،،،،، وہ ایک نظر واسم اور ضارب شاہ کی دیکھتے مسکرا کر بولے ۔۔۔۔۔

اور ماشاءاللہ سے آج شام میں انکے ولیمے کی رسم ادا کی جائے گی ،،،،، جس پر سبھی نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن ہم اس خاص دن کو کچھ اور سپیشل بنانا چاہتے ہیں ،،،،، وہ ایک نظر زارون کے چہرے کی طرف دیکھتے رکے تھے ،،،،، جبکہ انکے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

لیکن وہ کیسے بابا سائیں ؟؟؟؟؟ انکے خاموش ہونے پر ارمغان شاہ سوال گو ہوئے ۔۔۔۔۔

وہ ایسے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج شام میں واسم ، ضارب کے ولیمے کے ساتھ ہم اپنے چھوٹے پوتے زارون شاہ کا بھی نکاح پڑھاوے گے ۔۔۔۔۔

جس پر سبھی بڑوں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی سوائے موسی شاہ کے کیونکہ وہ اتنی جلدی زرمینے کا نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے ،،،،، لیکن پھر حیدر شاہ کے ادب میں خاموشی اختیار کر گئے ،،،،، البتہ بچے ابھی کچھ کنفیوژ تھے لیکن ساتھ خوش بھی ،،،،، جبکہ اس خبر کو سنتے زارون کے چہرے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر زرمینے کی طرف دیکھا تھا ،،،،، اور پھر دوسری نظر دادا سائیں کی طرف جو اسکی طرف دیکھ رہے تھے ،،،،، جسے دیکھتے اسے اپنی محبت اپنے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اور وہ بنا کچھ کہے ہی وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔۔

جسکی پشت کو دیکھتے انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا البتہ ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

لیکن دادا سائیں آپ نے زارون لالا کی دلہن کے بارے میں تو بتایا ہی نہیں ،،،،، انکا نکاح کس کے ساتھ ہوگا ؟؟؟؟؟

دادا سائیں کو خاموش ہوتے دیکھ کر ابرش نے سب سے ضروری سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔

آبی بٹیا ہم آپکی دوسری سہیلی کو بھی آپکی بھابھی بنا رہے ہیں ،،،،، وہ اسکے معصوم چہرے دیکھتے ہوئے لاڈ سے بولے ۔۔۔۔۔

جس پر وہ خوشی سے اچھل کر اپنی جگہ سے کھڑی تھی ،،،،، جبکہ ضارب شاہ نے اسکی بچگانہ حرکت کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اپنا نام سننے کے بعد زرمینے پہلے حیران اور پھر سرخ ہوتے اپنا چہرہ جھکا گئی تھی ۔۔۔۔

سچ میں دادا سائیں ،،،،، زرمینے کے جھکے سر کو دیکھنے کے بعد اس نے ایک بار پھر یقین دہانی چاہی تھی ۔۔۔۔

جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

اور وہ خوش ہوتے فورا انکے گلے لگتی خوشی سے انکا دایاں گال بھی چوم گئی ۔۔۔۔۔

جسکے بدلے انہوں نے بھی اس کے سر پیار کیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد وہ زرمینے کی طرف بڑھی تھی ،،،،، اور اسے چیئر سے کھڑا کرتی مبارکباد دیتے ہوئے گلے لگاگئی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ابیہا بھی اپنی جگہ سے اٹھتی ایسے ہی ان دونوں کے گرد اپنا حصار کھینچتی اسے مبارکباد دینے لگی ۔۔۔۔۔

زرمینے بٹیا بھلے ہی اس گھر کے بڑے ہم ہیں ،،،،، لیکن زندگی آپ نے گزارنی ہیں ،،،،، اور اگر آپکو یہ رشتہ نہیں قبول تو آپ ابھی بھی کھل کر ہمیں بتا سکتی ہیں ،،،،، ہم کوئی اعتراض نہیں اٹھائیں گے ۔۔۔۔

کیونکہ بیٹا آپکی خوشی میں ہی ہماری خوشی ہے ۔۔۔۔۔

دادا سائیں اپنی جگہ سے اٹھتے ان تینوں کے قریب آتے ،،،،، شفقت بھرے لہجے میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے نظر اٹھا کر انکے روشن چہرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک نظر اپنے ماں باپ کی طرف جس پر آسودہ سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

اور پھر نفی میں سر ہلاتی انہیں خوشیوں کی نوید سنا گئی ۔۔۔۔۔

جس پر انہوں نے آگے بڑھ اسے سینے سے لگاتے اسکی صبیح پیشانی پر شفقت سے بوسہ دیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد باقی سبھی گھر کے افراد نے بھی واسم ، ضارب سمیت اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے ،،،،،، وہ تو صرف ،،،،،،، نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ،،،،،، ہزیانی انداز میں چیختے اس وجود نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی تمام چیزوں کو غصے سے زمین پر پھینکا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے اسکی قیمتی سامان کے ساتھ پرفیوم کئی بوتلیں بھی زمین پر ایک ساتھ گرتی چھناکے کے ساتھ ٹوٹی تھیں ۔۔۔۔

جسکی خوشبو سے یکدم پورا کمرہ معطر ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اس خوشبو کے مالک کی زندگی تو پت جھڑ کے اس پھول جیسی تھی جس سے خوشبو کے ساتھ ساتھ زندگی کے سارے رنگ بھی نچوڑ لیے گئے تھے ۔۔۔۔۔

اور وہ کچھ نہیں کر سکا سوائے خاموشی اختیار کرنے کے ۔۔۔۔۔

ایک اندھیرے سے بھرپور کمرے میں وہ تن تنہا وجود اپنی قسمت پر ماتم کنا ٹھنڈے ماربل کے فرش پر گھٹنے کے بل گرا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے فرش پر بکھرے کانچ اسکے وجود میں پیوست ہوتے اسے بری طرح زخمی کر گئے ۔۔۔۔۔

لیکن یہاں پرواہ کسے تھی ،،،،، اب نا تو اس کے اندر کوئی احساس بچا تھا اور نا ہی کوئی ایسی حس جس سے وہ اپنی وجود میں اٹھنے والے اس جان لیوا درد کو محسوس کر سکتا ۔۔۔۔

اسکے اندر تو بس وحشت بسی ہوئی تھی ،،،،، جس نے اسے ہر احساس سے عاری انسان بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔

اسکے چاروں طرف بس ایک ہی چیز کا راج تھا ،،،،، اور وہ تھی خاموشی گہری موت جیسی خاموشی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ حویلی کا وسیع لان جو کہ ایک کثیر رقبے پر محیط تھا ،،،،، اسے ولیمے کے فنکشن کیلئے کسی دلہن کی طرح سجا دیا تھا ۔۔۔۔۔

اور یہ کام بھی دادا سائیں کے حکم پر کیا گیا تھا ،،،،، کہ وہ اپنے پوتوں کی یہ مکمل خوشی اپنے اپنوں اپنے گاؤں والوں کے درمیان رہ کر منانا چاہتے تھے ۔۔۔۔

جس کا سبھی نے احترام کیا تھا ،،،،،، اور آج تو انکے چہرے پر خوشی ہی نرالی تھی ،،،،،،، جیسے سبھی جہاں کی خوشیاں انکی جھولی میں ڈال دی گئی ہو ۔۔۔۔۔

آج ولیمے کیلئے اس فنکشن کے انتظامات بارات سے بھی دوگنے بڑے پیمانے پر کیے گئے تھے ،،،،، جہاں حیدر شاہ نے ہر امیر اور غریب کا فرق مٹاتے ہوئے سب کیلئے دعوت عام کا اعلان کیا تھا ۔۔۔۔۔

تینوں دلہنوں کو تیار کر کے سٹیج پر پہنچا دیا گیا تھا ،،،،، جسے دیکھتے ہوئے تمام مہمانوں نے خوشی کے ساتھ کافی حیرت کا بھی اظہار کیا ۔۔۔۔

ان کی حیرت کو مٹانے کیلئے حیدر شاہ نے اپنے تیسرے پوتے کے نکاح کا اعلان کیا تھا ۔۔۔۔۔

جسے سنتے ہوئے ہر طرف سے دعاؤں کے ساتھ ساتھ مبارکباد کا شور بلند ہوا ۔۔۔۔۔

جہاں ہر طرف رنگ برنگے آنچل ،،،،، انکی خوشیوں کا ایک ایک لمحہ محفوظ کرتے کیمرے کی روشنیاں ،،،،، ہنستے مسکراتے چہرے اور خوشیوں کا راج تھا ۔۔۔۔

وہی واسم شاہ بھی نک سک سا فور پیس سوٹ میں ملبوس اپنے مہمانوں کے درمیان کھڑا مسکرا رہا تھا ،،،،،، موسی شاہ اور نجمہ بیگم آنے والے مہمانوں کا خوشی سے استقبال کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

وہی عظمی بیگم اور اماں سائیں دلہنوں کے ساتھ بیٹھی کچھ ضروری ہدایات دے رہی تھیں ۔۔۔۔۔

یعنی ہر منظر آنکھوں کو خیرہ کرنے والا خوشیوں سے بھرپور تھا ،،،،، اب بس کمی تھی تو بس ایک ضارب شاہ اور زارون شاہ کی جسے لینے کیلئے ارمغان شاہ حویلی کے اندر کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔

جبکہ حیدر شاہ بھی ضارب کو کال کر رہے تھے جو شام سے ہی ایک ضروری کام کا کہتے نکلا ابھی تک واپس نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔

اب تو وہاں موجود مہمان میں بھی اس کے بارے میں پوچھنے لگے تھے ۔۔۔۔۔

لیکن اسکا فون تھا کہ مسلسل بند آ رہا تھا ،،،،، جس نے حیدر شاہ کی پریشانی میں اضافہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمغان شاہ زارون کے کمرے دروازے پر دستک دیتے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔

جہاں وہ اب بھی منہ لٹکائے بیٹھا ،،،،، اپنے نکاح پر پہنے جانے والے جوڑے کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکو ابھی تک ایسے ہی بیٹھے دیکھ کر ارمغان شاہ کو غصے کے ساتھ پریشانی بھی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

کیا ہوا زارون آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے ؟؟؟؟؟ وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی طرف متوجہ کرتے بولے ۔۔۔۔

جو پتا نہیں کس گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ انکا اندر آنا بھی محسوس نا کر سکا ۔۔۔۔

ہنہہہ ” جی ڈیڈ بس جا ہی رہا تھا ،،،، وہ ایک نظر انکے چہرے کی طرف دیکھتا افسردگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے ،،،،،، آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ہمیں ؟؟؟؟؟

جس پر نظر اٹھا کر اس نے انکی طرف دیکھا تھا ،،،،، جی میں تو آیا ان سے اپنی پریشانی شیئر کر دے کہ لیکن پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ اب وقت ہاتھ سے گزر چکا ۔۔۔۔۔

اوپر سے زرمینے نے بھی تو کوئی ری ایکٹ نہیں کیا ،،،،، اگر وہ اس میں انٹرسٹڈ ہوتی تو کچھ تو اشارہ کرتی لیکن وہ تو بالکل ریلکس بیٹھی تھی جیسے اسکی شادی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔

تو وہ کس بنا پر انکار کرتا اور ویسے بھی اب سارے مہمان باہر اکٹھے ہو چکے تھے ،،،،، اگر ایسے میں وہ انکار کرتا تو کسی کی زندگی خراب ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔

نہیں کچھ نہیں ،،،،،، اتنا کہتے وہ بیڈ سے کپڑے اٹھاتا واشروم کی طرف بڑھ گیا ،،،،،، جبکہ ارمغان شاہ جو اسکے چہرے کے اتار چڑھاو کو بہت غور دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔

اسکی اندر کی حالت کو اچھے سمجھتے ہوئے انہوں نے مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔ کیونکہ حیدر شاہ اس سارے معاملے کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ کر چکے تھے ۔۔۔۔۔

جبکہ باقی گھر والوں اور سپیشلی ابرش ابیہا کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ زارون کو کچھ نا بتائیں کہ اسکا نکاح کس کے ساتھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔

جس پر وہ جھٹ سے راضی ہوئی کیونکہ بہت عرصے بعد زارون کو تنگ کرنے کا موقع انکے ہاتھ آیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اب اسکی اتری صورت کو دیکھتے ارمغان شاہ کو ہنسی کے ساتھ اس پر ترس بھی آ رہا تھا ،،،،، لیکن وہ مجبور تھے کہ کسی صورت بھی اپنے والد کا حکم نہیں ٹال سکتے تھے ۔۔۔۔۔

اس لیے واشروم سے پانی گرنے کی آواز سنتے ہوئے مسکراتے دوبارہ باہر کی طرف بڑھ گئے ،،،،، کیونکہ وہ جانتے تھے اس وقتی اداسی کے بعد انکے بیٹے کو جو خوشی ملنی تھی ۔۔۔۔۔

وہ دیکھنے کے قابل ہوتی ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زارون تیار ہو کر باہر سٹیج پر پہنچ چکا تھا ،،،،،، اور مولوی صاحب بھی تمام کاروائی مکمل کرتے نکاح پڑھانے کیلئے بالکل تیار تھے ۔۔۔۔۔

بس انتظار تھا تو ضارب شاہ کا جو ابھی تک نہیں آیا تھا ،،،،، جس کے بغیر حیدر شاہ یہ فریضہ انجام دینے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔

اس لیے ابھی بھی پریشانی میں مسلسل اسے فون ملا رہے تھے ،،،،، لیکن نتیجہ وہی صفر ،،،،،، اب تو انتظار کرتے کرتے لوگوں میں بھی چہ میگوئیاں شروع ہو چکی تھیں ۔۔۔۔۔

جس نے واسم شاہ کے غصے کو ہوا دی ،،،،، وہ جو پہلے ہی اس سے متنفر تھا ،،،،، اب اسکا غیر زمدرانہ رویہ دیکھتے کچھ اور خلاف ہو گیا ۔۔۔۔۔

اس نے تو ارمغان شاہ کو اسکے بغیر ہی نکاح پڑھوانے کا مشورہ دیا تھا ،،،،، لیکن وہ اسکی نفی کر گئے کیونکہ انہیں اپنا بھتیجہ ہر چیز سے بڑھ کر عزیز تھا ۔۔۔۔۔

اس لیے وہ ابھی بھی مین گیٹ پر نظر ٹکائے مسلسل کبھی ضارب اور کبھی خان کا نمبر ملا رہے تھے ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے واسم شاہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ،،،،، ایسا نہیں تھا کہ وہ ضارب سے جلتا تھا ،،،،، بس گھر کے ہر افراد کا اسے ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اسے بالکل پسند نہیں تھا ۔۔۔۔۔

کیونکہ اسے ہر چیز ایک اعتدال میں ہی پسند تھی ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ حیدر شاہ ارمغان شاہ سے کہہ کر کسی کو اسے ڈھونڈنے کیلئے بھیجتے انہیں وہ اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ ایک طرف سے آتا ہوا دکھائی دیا ،،،،، جبکہ اسکے بالکل پیچھے جھکے سر کے ساتھ خان بھی چلا آ رہا تھا ۔۔۔۔۔

جسے سہی سلامت دیکھتے انہوں نے سکھ کا سانس خارج کیا تھا ۔۔۔۔۔

البتہ اسے اتنا ریلکس دیکھتے واسم شاہ کا پارہ کچھ اور ہائی ہوا تھا ۔۔۔۔۔

تم نے سمجھ کیا رکھا ہے ہم سب کو ،،،،،، تمہارے ملازم ہیں جسے جیسے مرضی ٹریٹ کرو گے اور ہم کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔۔۔

زمہ داری نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ،،،،،، تمہیں بھلے ہی اس بات سے کوئی فرق نا پڑتا ہو ،،،،،، لیکن تمہاری وجہ سے لوگ میرے خاندان اور میری بہن کے بارے میں باتیں بنائے میں یہ بالکل قبول نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔

وہ حیدر شاہ کے قریب پہنچتے اس سے پہلے کچھ کہتا واسم اسکے راستے میں حائل ہوتا غصے سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر ضارب نے سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ،،،،،، البتہ ارمغان شاہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔

زمہ داری کی بات کم از کم آپ کے منہ سے ہرگز اچھی نہیں لگتی ،،،،، وہ بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر طنزیہ بولا تھا ،،،،،، جسے سمجھتے ہوئے واسم نے لب بھینچے اور اس سے پہلے کہ وہ اسے کوئی جواب دیتا ارمغان شاہ نے آگے بڑھتے اسے روکا تھا ۔۔۔۔

کیا ہو گیا آپ دونوں کو یہ ہرگز وقت نہیں ان سب باتوں کا ،،،،، کچھ تو خیال کریں ،،،،، وہ دونوں کی طرف دیکھتے رسانیت سے بولے تھے ۔۔۔۔۔

اور پھر ضارب کو اشارہ کرتے واسم کو لے کر سٹیج کی طرف بڑھے تھے ،،،،، کیونکہ ضارب کی وجہ سے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی اور اب نئی بحث میں پڑ کر وہ وہاں کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔

اور نا ہی موسی شاہ کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ انکی بیٹی کی خوشیوں کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرمینے موسی شاہ ولد موسی ابراہیم شاہ آپکا نکاح زارون ارمغان شاہ ولد ارمغان حیدر شاہ کے ساتھ پچاس لاکھ حق مہر سکا رائج الوقت قرار پایا گیا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔۔۔

پردے کے اس پار بیٹھی مولوی صاحب کے الفاظ سن کر زرمینے کی دھڑکنیں یکدم تیز ہوئی تھیں ،،،،،،، یہ سچ تھا کہ اسکے دل میں زارون کیلئے فلحال کوئی جذبات نہیں تھے ۔۔۔۔۔

اور نا ہی اس نے کبھی اس کے بارے میں ایسا سوچا تھا ،،،،، لیکن اسکی آنکھوں میں نظر آتے خود کیلئے جذبات سے انجان بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔

قبول ہے “

جسے یاد کرتے ہوئے اسکی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی ،،،،، اور پھر نجمہ بیگم کے کندھے پر دباؤ ڈالنے پر ہلکی آواز میں اپنی رضامندی دے گئی ۔۔۔۔۔

جس کے بعد مولوی صاحب نے دو بار پھر اپنے الفاظ دہرائے تھے ،،،،، جسے اپنی دل کی مکمل رضامندی کے ساتھ اس نے قبول کیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے برعکس زارون ابھی تک مولوی صاحب کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کو سنتے حیران نظروں سے انکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

اسے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسے اسکی محبت یوں بن کہے ہی اتنی آسانی سے حاصل ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

ہوش تو تب آیا جب مولوی صاحب کے اس سے پوچھنے پر ارمغان شاہ نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے زور سے اسکا کندھا ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

جنہیں شکایتی نظروں سے دیکھنے کے بعد مولوی صاحب کے دوبارہ پوچھنے پر جلد بازی میں خوش ہوتے ایک ہی بار تین دفعہ قبول ہے کہہ گیا ۔۔۔۔۔

جس پر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔

جب اپنے جھلے بیٹے کی حرکت پر اس کے سر پر چپت لگاتے ارمغان شاہ نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

نکاح مکمل ہوتے ہی ہر طرف مبارکباد کا شور بلند ہوا تھا ،،،،،، جس پر سبھی نے باری باری اسے گلے لگاتے مبارک باد دی تھی ۔۔۔۔۔

واسم اور ضارب شاہ کے گلے ملنے کے بعد خان نے بھی اسے گلے لگاتے مبارک باد دی تھی ،،،،،،

خان لالا یہ آپکے ہاتھ میں چوٹ کیسے آئی ؟؟؟؟؟

جسے شکریہ کے ساتھ قبول کرتے اس نے اسکے ہاتھ پر بندھی پٹی کو دیکھتے پریشانی سے استفسار کیا ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں چھوٹے سائیں بس ایسے ہی ،،،،،، جس پر اس نے پردے کے اس پار دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

اور پھر سر جھکا کر پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔

پھر کیسا لگا ہمارا سرپرائز “

جس ہٹتے ہی حیدر شاہ نے آگے بڑھ کر اسے سینے میں بھینچتے ہوئے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر وہ حیران ہوتا ،،،،،، ایک نظر انکے روشن چہرے کو دیکھنے کے بعد خوشی سے ایک بار پھر سینے میں بھینچ گیا ۔۔۔۔

بہت بہت پیارا ” پردے کے اس پار گھونگھٹ میں بیٹھی اپنی محبت دیکھتے مسکراتے بولا ۔۔۔۔

جس پر انہوں نے اسکی کشادہ پیشانی پر محبت سے بوسہ دیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ تو اپنی محبت مل جانے پر اس حد تک خوش تھا کہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیں ۔۔۔۔۔

اسکے خوبصورت وجیہہ چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ تھی جس کی نظر اتارتے ہوئے حیدر شاہ نے ہزاروں کی گڈیاں ملازم کے ہاتھ پکڑائی تھی ۔۔۔۔۔

اور ساتھ اسکی یہ مسکراہٹ ہمیشہ قائم و دائم رہنے کی دعا کی ،،،،، جو قبول ہوئی تھی یا نہیں یہ تو آنے والا بتا سکتا تھا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *