Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 76)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 76)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
زارون شاہ کے یوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلے جانے سے سب بہت زیادہ برہم ہوئے تھے ۔۔۔۔خاص طور پر موسی شاہ کو موقع مل گیا تھا ۔۔۔اس میں مزید کیڑے نکالنے کا ۔۔۔۔
زارون کے خلاف انکی باتیں ۔۔۔واسم کے ساتھ ضارب نے بھی بمشکل برداشت کی تھیں ۔۔۔جب کہ وہ تو اب اس رخصتی کرنے کے حق میں بھی نہیں تھے ۔۔۔
انکا کہنا تھا کہ جو اتنے اہم موقع پر میری بیٹی کو بےوقعت کر کے چلا گیا ۔۔۔۔وہ آگے زندگی میں اس کا کیا ساتھ نبھائے گا ۔۔۔۔
آخر ایسا کونسا کام آن پڑا جو اس کیلئے اپنی شادی سے زیادہ ضروری ہوگیا ۔۔۔۔اور جہاں تک وہ جانتے تھے زارون شاہ ایک نمبر کا ویلا اور نکھٹو انسان تھا اپنے باپ بھائی کے ٹکڑوں پر پلنے والا ۔۔۔
پڑھائی میں زیرو ۔ ۔۔۔بلکہ زندگی کے ہر میدان میں ۔۔۔ایسا انسان جو انکے سپورٹ کے بنا ایک قدم اکیلے اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔۔۔۔
اسے بھی کوئی ضروری کام ہو سکتا ہے ۔۔۔۔یہ فعل انجام دے کر وہ سراسر مجھے اور میری بیٹی کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔۔اور کچھ نہیں ۔۔۔
بس ماموں جان ۔۔۔ضارب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔۔۔وہ انکی بات درمیان میں کاٹتے دھاڑ اٹھا تھا ۔۔۔۔
اب ہم ایک لفظ نہیں سنے گے اپنے بھائی کی خلاف ۔۔۔اگر انہیں آپ سے کوئی اختلاف ہوتا یا پھر آپکو نیچا ہی دکھانا ہوتا تو آج یہ رخصتی کی رسم اتنی دھوم دھام سے ادا نہیں کی جا رہی ہوتی ۔۔۔۔
اور اسکا اشارہ جس طرف تھا ۔۔۔۔موسی شاہ اسے بخوبی سمجھ چکے تھے ۔۔۔۔تبھی ضبط سے مٹھیاں بھینچے خاموشی اختیار کر گئے ۔۔۔
ضارب شاہ کو دوسرا لفظ بولنے کی ضرورت درپیش نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس واسم غصے سے مٹھیاں بھینچے خاموش کھڑا تھا ۔۔۔کیونکہ اس کے مطابق ۔۔۔اس وقت زارون شاہ غلطی پر تھا ۔۔۔ورنہ موسی شاہ کی اتنی ہمت نہیں پڑتی کہ وہ انہیں اتنی باتیں سناتے ۔۔۔۔
سب مہمانوں نے پل میں بدلتی صورتحال پر حیرانی سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
زرمینے نے لب بھینچ کر اپنی سسکیوں کو دباتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
شاہ ۔۔۔ دل میں بس اسکے آ جانے کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔۔کیونکہ اسے اپنے شاہ کی محبت پر مکمل یقین تھا ۔۔۔کہ وہ کبھی اسکے ساتھ کچھ غلط نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
لیکن اپنے بابا کی باتیں سن کر اسکا چڑیا جیسا معصوم دل سینے میں سہم سا گیا تھا ۔۔۔۔
نجمہ ،، عظمی اور عمائمہ بیگم کے ساتھ ابرش ابیہا اور باقی گھر کے افراد الگ پریشان ہو چکے تھے ۔۔۔۔
لیکن ضارب شاہ کا کہنا تھا ۔۔۔وہ زارون شاہ کیلئے ہر قسم کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے ۔۔۔وہ شادی سے کہیں نہیں بھاگا بلکہ اسے بہت ضروری کام سے جانا پڑا ہے ۔۔۔۔
اور وہ کچھ دیر میں واپس بھی آ جائے گا ۔۔۔۔
اور بس بات وہی ختم کر دی گئی تھی ۔۔۔۔ حیدر شاہ نے درمیان میں پڑتے معاملے کو سنبھالا تھا۔۔۔
جس پر چار و نچار موسی شاہ کو بھی انکی بات کا مان رکھنا پڑا تھا ۔۔۔
اور قرآن پاک کے سائے تلے وہ زرمینے کو رخصت کروا کر حویلی واپس لے آئے تھے ۔۔۔۔
عظمی نجمہ بیگم سمیت باقی گھر کی عورتوں نے زر کو زارون کے کمرے میں بٹھاتے ۔۔۔جسے آج مکمل سرخ گلابوں کے ساتھ سجایا گیا تھا ۔۔۔اسے حوصلہ اور زارون شاہ پر یقین رکھنے کی تلقین کی تھی ۔۔۔۔
چاہے جو کچھ بھی آج ہوا تھا ۔۔۔۔لیکن انہیں اپنی تربیت پر مکمل یقین تھا ۔۔۔اور زارون شاہ میں تو پورے خاندان کی جان بستی تھی ۔۔۔خاص طور وہ اپنی دونوں ماوں کا لاڈلہ تھا ۔۔۔۔
اور جب ضارب اسکی گارنٹی لے رہا تھا تو اس پر شک کرنے کا دوسرا جواز بنتا ہی نہیں تھا ۔۔۔پتا نہیں کیسے موسی شاہ اسکے بارے اتنی غلط باتیں بول گئے تھے ۔۔۔
شاید زر زارون کی پچھلی غلطی کا غصہ تھا جو اس وقت نکلا ۔۔۔جس پر نجمہ بیگم ان سب کے سامنے کچھ شرمندہ بھی تھیں ۔۔۔۔
بڑوں کے جانے کے بعد ابرش ابیہا نے اسے ایک بار پھر زارون کے نام سے چھیڑنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔آج جتنے خوبصورت طریقے سے پورے خاندان اور مہمانوں کے سامنے اس نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا ۔۔۔
جتنا مان اور عزت دی تھی ۔۔۔
اسے دیکھتے وہاں موجود تمام لڑکیوں کو اس پر رشک آیا تھا ۔۔۔۔تو وہ تو پھر اسکی محبت میں پور پور ڈوبی ہوئی تھی ۔۔۔خود پر ناز کیسے نا کرتی ۔۔۔
اور اتنی محبت کے بدلے میں وہ زارون شاہ کو ایک اپنے یقین کی ڈور تو تھما ہی سکتی تھی ۔۔۔۔اس لیے ساری باتوں کو فراموش کیے اپنی آنکھوں میں آنے والے وقت کے حسین خواب سجائے دل و جان سے اپنے مجازی خدا کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
جو وقت اور ظالم حالات کے وار میں جکڑا پتا نہیں کہاں خوار ہو رہا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°
گھر میں داخل ہوتے موسی شاہ تو فورا اپنے کمرے کی سمت بڑھ گئے ۔۔۔جبکہ باقی سب حیدر شاہ سمیت لاؤنج میں بیٹھے زارون کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔
جب ضارب کا فون رنگ ہوا ۔۔۔اور دوسری طرف کی بات سننے کے بعد وہ بنا کسی سے دوسری بات کیے تیز قدموں سے باہر کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
گھر والے جو زارون کی حرکت کی وجہ سے پہلے ہی پریشان تھے ۔۔۔اسکے قدموں کی عجلت اور چہرے پر سنجیدگی کو دیکھتے انکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
حویلی کا خوشیوں بھرا ماحول پل میں بدلتے عجیب سوگواریت کا شکار ہو گیا ۔۔۔
جبکہ رات زیادہ ہونے کی وجہ سے حیدر شاہ نے سب کو اپنے کمروں میں جانے کا بولا تھا ۔۔۔۔کیونکہ وہ حویلی میں ٹھہرے مہمانوں کے سامنے اپنے خاندان کا مزید تماشا نہیں بنانا چاہتے تھے ۔۔۔۔
اس لیے سب کو دعا کرنے کا بولتے خود بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔لیکن جانے سے پہلے وہ اپنے خاص آدمی کو ایک مخصوص اشارہ کرنا نہیں بھولے تھے ۔۔۔۔
جو انکے حکم کی تکمیل کیلئے فورا ضارب شاہ کے پیچھے نکلا تھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
رات کے ایک بجے کے قریب وہ کچن میں کھڑی سب کیلئے چائے بنا رہی تھی ۔۔۔۔کیونکہ اس وقت جو حویلی کا ماحول تھا ۔۔۔اور جب تک ضارب اور زارون شاہ سہی سلامت واپس نا آ جاتے شاید ہی کوئی سکون سے سو پاتا ۔۔۔
اس لیے وہ اپنے تئیں سب کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔حیدر شاہ سمیت باقی سب کے کمرے میں ملازمہ کے ہاتھوں چائے بجھواتے وہ واسم کیلئے کافی تیار کرتی دماغ میں چلتے اچھے برے خیالاتوں کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
جب کسی نے اسے پیچھے سے مخاطب کیا ۔۔۔۔
ابیہا رکے مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟؟؟؟ جس پر وہ کچھ حیرت سے پلٹی تھی ۔۔۔۔ جی ؟؟؟؟
یہاں نہیں آپ میرے ساتھ باہر لان میں چلیں۔۔۔۔
لیکن اس وقت ،،، ہاں اسی وقت ۔۔۔ اچھا آپ ٹھہریں میں واسم کو یہ کافی دے کر آتی ہوں ۔۔۔۔سامنے موجود ہستی کے اسرار پر وہ مسکرا کر گویا ہوئی تھی ۔۔۔
نہیں پہلے آپ میری بات سن لیں ۔۔۔جو اس کام سے زیادہ ضروری ہے ۔۔۔۔
صرف ایک منٹ کا کام ہے میں ابھی کر کے آتی ہوں ۔۔۔ایکچلی واسم میرا انتظار کر رہیں ہیں ۔۔۔اور آپ انکے غصے سے تو اچھی طرح واقف ہی ہیں ۔۔۔
بس دو منٹ میں آئی ۔۔۔
مسکرا کر اپنی مجبوری بتاتے ۔۔۔بچوں کی طرح التجا کی ۔۔۔جس پر سامنے والے نے آس پاس ایک نظر دیکھتے سر ہلایا تھا۔۔۔۔
ابیہا نے اجازت ملتے ابھی رخ پلٹا تھا ۔۔۔جب اس وجود نے اپنی جیب سے رومال نکالتے بنا ابیہا کو سنبھلنے کا موقع دیے اسکی ناک پر رکھا ۔۔۔
ابیہا کے ہاتھ سے گرم کافی کا کپ چھوٹ کر راہ داری میں گرا ۔۔۔جسکی آواز خاموشی میں ارتعاش پیدا کرنے کا سبب بنی ۔۔۔
م ،،،،، ابیہا کے لب کچھ کہنے کیلئے پھڑپھڑائے لیکن کلوروفام کی مقدار اس قدر زیادہ تھی ۔۔۔جس سے اس کےحواس پل میں گم ہوئے۔۔۔ اور وہ لمحے میں بیہوش ہوتی اس وجود کی بانہوں میں لہرائی ۔۔۔
جس نے آس پاس نظر دوڑاتے ایک نفرت بھری نظر اسکے وجود پر ڈالی تھی ۔۔۔اور بنا وقت ضائع کیے باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
رات کے تین بجے لہو رنگ ہوئی آنکھوں اور شکستہ قدموں کے ساتھ وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو سیدھی نظر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر سوتی اس حسن کی ملکہ پر پڑی جو کہ شاید اسکا انتظار کرتی کرتی سو گئی تھی ۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے نپے تلے قدم لیتا آہستہ سے بیڈ پر اسکے قریب ہی بیٹھ گیا ،،،، اور غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا ،،،،، جس پر انتہا کی معصومیت تھی ۔۔۔۔
اپنے چہرے پر اسکی نظروں کی تپش محسوس کر کے وہ گہری نیند میں بھی کسمسائی تھی ،،،،، اور بےچین ہوتی جلد ہی اپنی آنکھیں کھول گئی ۔۔۔۔
جبکہ اس کو اپنے اتنے قریب بیٹھا دیکھ وہ فورا سیدھی ہوئی تھی ،،،،، شاہ آپ کب آئے سوری مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میری آنکھ لگ گئی ،،،،، وقت اور حالات کے لحاظ سے وہ پزل ہوتی نظریں جھکا کر ہی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف سے جواب ندارد تھا ۔۔۔۔وہ اب بھی یک ٹک اس کا خوبصورت چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس کی طرف سے کوئی حرکت نا پاکر زر نے اپنی شرم سے بھاری ہوئی پلکیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ،،،، جو نا جانے اس کے چہرے میں کیا ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔جبکہ اس کے دیکھنے سے بھی اس نے نظروں کا زاویہ نا بدلہ تو اسے حیرت کے ساتھ تشویش بھی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں ،،،، اسکے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھتے اسے جیسے ہوش میں لانا چاہا ۔۔۔۔
میں تو ٹھیک ہوں ،،،، لیکن بہت جلد تم ٹھیک نہیں رہنے والی ،،،،، ایک ہاتھ اسکے سر کے پیچھے لے جا کر ہلکا سا کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے ذومعنی انداز میں بولا تھا ۔۔۔۔
جسکی کم از کم سامنے بیٹھی ہستی کو بالکل سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ زارون کا لہجہ حد درجہ تک سرد تھا ۔۔۔۔
وہ حیرت سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی ،،،، جب اسکی نظر حد سے زیادہ سرخ ہوتی اسکی آنکھوں پر پڑی تھی ۔۔۔۔۔ یہ آپکی آنکھوں کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔سب ٹھیک ہے نا مجھے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ،،،،، اسکی پیشانی کو ہاتھ کی پشت سے چھوتے فکرمندی سے بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکی اتنی فکر کرنے پر وہ ون سائڈڈ طنزیہ سا مسکرایا تھا ۔۔۔
کہا نا میں بالکل ٹھیک ہوں ،،،، تم اپنی فکر کرو ،،،،، وہ اسکی گردن میں جھک کر گہرا سانس کھینچتا گھمبیرتا سے بولا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے اس طرح قریب آنے پر وہ پوری سرخ ہوتی دھڑکتے دل سے اپنی آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔اس نے اسکی گردن سے سر اٹھا کر اسکے سرخ ہوئے چہرے کے ساتھ بند کی آنکھوں اور سرخ تہہ میں چھپے لرزتے گلابی ہونٹوں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
اور ان سب میں وہ اسکے اس قدر قریب آ گیا تھا کہ اسکی دہکتی سانسیں اسے اپنے ہونٹوں کو جھلساتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔وہ اسکے عمل اور باتوں کا کچھ اور ہی معنی ازخود کر بیٹھی تھی ۔۔۔
جس سے اسکے گلابی گال دہکنے لگے تھے ،،،،، جسے دیکھتے سامنے والا اس پر استہزائیہ نظریں ڈالتا اسکے بالوں پر اپنی گرفت سخت کر گیا ۔۔۔۔جبکہ آنکھوں میں جلتے شعلوں میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ اس کی سخت گرفت پر تڑپ کر اپنی آنکھیں کھولتی پہلے اس کے چہرے اور پھر آنکھوں میں دیکھنے لگی ،،،،، جن میں آج تک اپنے لیے صرف محبت اور عزت دیکھی تھی ،،،،،، اسکی جگہ ایسی نفرت و حقارت رقم تھی ،،،،، جسے دیکھ کر وہ روح تک لرز گئی ۔۔۔۔۔
کچھ بہت غلط ہونے کا احساس اسے شدت سے ہوا تھا ۔۔۔۔
اس کے مخملی لب ابھی کچھ کہنے کیلئے پھڑپھڑائے تھے ۔۔۔کہ اس نے ان پر اپنی انگلی رکھ اسے خاموش کروادیا ۔۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے اس وقت میرا دل کیا کرنے کا کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔ اتنا کہتے وہ ایک پل کیلئے رک کر اسے خاموش نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔ جبکہ اسکا لہجہ بالکل اجنبیت برتے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔وہ اس کے رویے کو سہمتی سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔کہ تمہارا وہ حشر کروں کے تم اپنا یہ خوبصورت چہرہ کسی کو دکھانے کے قابل نا رہو ،،،،، تمہارے ماں باپ تمہیں دیکھ کر دن رات رو رو کر اپنی موت کی دعائیں کریں ۔۔۔۔۔
انہیں بھی احساس ہو کہ کسی اپنے کو عزیت میں دیکھ کر کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔۔۔لیکن میں مجبور ہوں میری ماں کی تربیت مجھے یہ سب کرنے کی اجازت نہیں دیتی ۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے پر پھنکارتے ہوئے ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر دھکیلتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔
جبکہ وہ اسکے اس اقدام پر اوندھے منہ گری تھی ،،،، زارون کے چند لمحوں میں بدلتے رویے پر وہ ششدر نگاہوں سے پلٹ کر اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
جسکی آنکھوں کے ساتھ چہرے کا رنگ بھی حد سے زیادہ سرخ ہو رہا تھے ۔۔۔جبکہ اسکے بھینچے ہوئے لبوں سے یہ اندازہ لگانا قطع مشکل نہیں تھا کہ وہ اس وقت کس قدر تکلیف میں مبتلا تھا ۔۔۔۔
پھر زر نے ایک نظر اسکے حلیے کی طرف ڈالی ۔۔۔جو شادی میں زیب تن کیے جانے والی شیروانی کے بجائے بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔۔
شاہ کیا ہوا ہے ؟؟؟؟ آپ ایسی باتیں کیوں کر رہیں ہیں ؟؟؟؟ آپ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں نا ؟؟؟؟ ایسا مذاق کر کے مجھے ڈرانا چاہتے ہیں تاکہ آپکے یوں رخصتی کے وقت چھوڑ کر جانے پر میں آپ سے ناراض نا ہوں ۔۔۔۔
کیونکہ نکاح سے لے کر اب تک وہ جس قدر اسے اپنی محبت کا عادی بنا چکا تھا ۔۔۔وہ کبھی خیالوں میں زارون کے اس رویے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔
اس لیے اسکے قریب ہو کر اپنے مومی ہاتھوں سے اسکے شیوزدہ وجیہہ چہرے کو تھامتے ایک امید کے تحت نم لہجے میں بولی ۔۔۔۔
کہ وہ ابھی مسکرا کر ہنستے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگائے گا ۔۔۔۔
لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔۔۔بلکہ اپنے چہرے پر رکھے اسکے ہاتھوں کو زارون شاہ نے بہت بےدردی سے جھٹکا تھا ۔۔۔
خبردار اگر تم نے دوبارہ مجھے چھونے کی یا ہاتھ لگانے کی کوشش کی ۔۔۔تمہارا وہی ہاتھ تمہارے تن سے جدا کرنے میں ایک پل نہیں لگاوں گا ۔۔۔۔
نفرت ہے مجھے تم سے ،،، شدید نفرت ،،،، تمہارے وجود سے ،،،، ہر اس لمحے سے جس میں میں نے تم پر اپنی محبت لٹائی ۔۔۔۔
کیونکہ تم جیسے آستین کے سانپ محبت کے لائق نہیں ہوتے ۔۔۔
اسکے نازک چہرے کو بےدردی سے اپنے ہاتھ میں دبوچتے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا ۔۔۔۔
جس پر تکلیف کے زیر اثر زر کی آنکھوں سے گرم سیال بہنا شروع ہو گیا ۔۔۔
شاہ “ جبکہ لبوں سے بےنام سی سرگوشی نکلی ۔۔۔۔
اور اس ایک سرگوشی میں کیا کچھ نہیں تھا ،،،، زر کی محبت ،،، اسکا درد جو اسے زارون کے نامعلوم جرم پر دیئے جانے والی اس سزا پر اسکے دل میں اٹھ رہا تھا ،،، زارون کی محبت میں اسکی تڑپ ،،،اور اس پر کیے جانے والے اندھے اعتبار کی ٹوٹی ہوئی کرچیاں ۔۔۔جو ان سرمئی نینوں سے اسکی محبت کے سارے خواب چھین کر بھر دی گئی تھیں ۔۔۔۔
جسے زارون نے دیکھ کر بھی اندیکھا کر دیا ۔۔۔۔
کوشش کرنا آئندہ اپنی یہ شکل مجھے کم سے کم دکھاو ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی ۔۔۔اسے پیچھے جھٹک کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
اور ایک بات اس کمرے کی چار دیواری میں ہونے والی باتیں ،،، اگر تم نے باہر کسی کو بتائی اور خاص طور پر اپنے ماں باپ کو تو تمہیں زندہ دفن کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاوں گا ۔۔۔۔
زارون کے اس قدر سخت رویے اور باتوں کو سن کر وہ روح تک ٹوٹ چکی تھی ،،،، اور اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھتے اسے ڈر بھی لگ رہا تھا
۔۔۔
لیکن پھر بھی ہمت کر کے اٹھتے ہوئے زارون کے پلٹنے سے پہلے وہ اسکے راستے میں حائل ہو گئی ۔۔۔۔۔
جب تک آپ مجھے بتا نہیں دیتے میری غلطی کیا ہے ،،،،، میں آپکو یہاں سے نہیں جانے دوں گی ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ اس سے سوال گو ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
کیونکہ بنا اپنی غلطی جانے وہ یہ سزا قبول کرنے کو ہرگز تیار نہیں تھی ۔۔۔۔
زرمینے کے اٹھتے ہی خاموش کمرے میں اسکی چوڑیوں کی چھنکار گونجی تھی ۔۔۔۔
جن میں چند گھنٹے پہلے تک زارون شاہ کی سانسیں بسی ہوئی تھی ۔۔۔لیکن اس وقت اسے انکی آواز وحشت میں مبتلا کر رہی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کی اس جرت پر ایک آئی برو داد میں اٹھاتا ایک جھٹکے میں ہی اسکی کلائی مروڑ کر پشت سے لگا گیا ۔۔۔۔۔اور اس کی گرفت اس قدر سخت تھی کہ اسے لگا آج اسکا بازو اسکے تن سے ہی جدا ہو جائے گا ۔۔۔۔
جبکہ تکلیف کی شدت سے آنسو اسکی پلکوں کی باڑ توڑ کر اسکے نازک پھولے روئی جیسے گالوں پر بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔
پہلی بات میں بالکل بھی تمہارا جوابدہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔دوسرا میں تمہیں حقیقت نا بتا کر تم پر ہی احسان کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ورنہ اگر میں تمہیں سچائی بتا دوں ۔۔۔۔۔ تو تمہیں اپنے ہی وجود سے گھن آئے گی ۔۔۔۔
اس لیے بہتر یہی ہے کہ تم اپنا منہ بند رکھو ۔۔۔۔۔اور آئندہ مجھ سے دوبارہ الجھنے کی غلطی مت کرنا ورنہ دو منٹ میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا ۔۔۔۔۔
اور بہت ہو گیا ناٹک اتارو یہ سب ۔۔۔۔۔ اسکے سجے سنورے روپ پر ایک قہر بھری نظر ڈالتے وہ درشتگی سے کہتا ایک جھٹکے میں اسے چھوڑ کر واشروم کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اس کے اس طرح دھکیلنے پر وہ گھٹنوں کے بل فرش پر گری تھی ۔۔۔۔جس سے اسکے وجود میں درد کی شدید لہر اٹھی تھی لیکن یہ تکلیف اس تکلیف کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔
جو اس بےرحم دشمن جان کے زہر میں ڈوبے لفظوں نے اس کی روح کو پہنچائی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اب بھی ساکت نظروں سے اس جگہ کو دیکھ رہی جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اسکی خوبصورت آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر ماربل کے فرش گرے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکا وجود ایسے تھا جیسے اس میں سے کسی نے روح کھینچ لی ہو ۔۔۔۔بے حس و حرکت زمین پر بیٹھی وہ مٹی کا بت معلوم ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
