Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 74)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 74)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
صبح کی پو پھوٹنے سے پہلے ہی وہ اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹے خود اسکے کمرے تک چھوڑنے آیا تھا ۔۔۔۔۔
آج سہی معنوں میں زارون شاہ نے زر کے ہوش ٹھکانے لگائے تھے ۔۔۔۔ اسکے شدت بھرے لمس کی وجہ سے اپنے پور پور سے اٹھتے میٹھے درد کو محسوس کرتے جہاں وہ نڈھال سی تھی ۔۔۔۔
وہی آج زارون شاہ کی چال میں ایک الگ سی سرشاری تھی ۔۔۔۔اپنی محبت کو ہمیشہ کیلئے اپنا بنا لینے کی خوشی ۔۔۔۔اسکے وجیہہ چہرے پر بکھری مسکراہٹ اسکی چمکتی آنکھوں سے ظاہر ہوتی تھی ۔۔۔۔
اسے آرام سے بیڈ پر منتقل کرتے زارون نے نرمی سے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔
اسکے لمس پر زر نے شرم و حیا کے بھوج سے جھکی اپنی بھاری ہوتی پلکیں اٹھائی تھیں ۔۔۔۔
سرمئی نینوں میں گھلی اسکی شدتوں کی سرخیاں زارون شاہ کو مہبوت کر گئی ۔۔۔۔
اس نے باری باری انہیں نرمی سے چھوا ۔۔۔۔
جس پر وہ لرزی تھی ۔۔۔۔
زارون مسکرایا ۔۔۔۔ریلکس اب کچھ نہیں کر رہا ۔۔۔۔
اپنی طرف سے جیسے تسلی دینی چاہی ۔۔۔۔
زرمینے نے غصے سے گھورا ۔۔۔۔کہ اب بھی کچھ باقی رہ گیا تھا ۔۔۔۔
جس پر اس نے قہقہہ لگایا ۔۔۔۔اور پھر بہت نرمی سے اسکے گلابی ہونٹوں کو چھوتے ہوئے آرام کرنے کا بولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔
زرمینے نے اسکی چوڑی پشت کو دروازے سے باہر نکلتے تک محبت بھری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔اور پھر آنے والے وقت سے انجان اپنی آنکھوں میں زارون کے سنگ ایک خوشحال زندگی کے خوبصورت سپنے سجاتے ہوئے سکون سے آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
ایک خوبصورت سا میدان جہاں ہر طرف خوبصورت رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے اور اسکے دونوں اطراف اونچے اونچے پہاڑ تھے ۔۔۔۔
انکے درمیان بہتے آبشاروں کا شور ۔۔۔۔
ڈھلتی ہوئی شام کا خوبصورت نظارہ ۔۔۔۔ایسے میں وہ ابیہا کو اپنے بازوؤں میں لیے بیٹھا اسکے دل موہ لینے والے خوبصورت چہرے کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
جب اس نے اسکی لو دیتی نظروں سے گھبرا کر اسکی پر اپنا مومی ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔
واسم کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھری تھی ۔۔۔۔۔
اس نے بہت نرمی سے وہ ہاتھ تھامتے اپنی آنکھوں سے ہٹایا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس کے آنکھیں کھولتے ہی ۔۔۔۔وہاں کا نظارہ پل میں بدل چکا تھا ۔۔۔۔
پہلے جہاں ہر طرف ہریالی اور محبت کے پھول کھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔اب وہ ساری جگہ ایک بنجر علاقے میں بدل چکی تھی ۔۔۔۔
سوکھے ہوئے درخت ۔۔۔۔ وہ تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں کھڑا تھا اسکا پورا وجود پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔۔
اور ان سب میں جو بات سب سے زیادہ جان لیوا تھی وہ تھی ابیہا کی وہاں عدم موجودگی ۔۔۔۔۔
اس نے اپنی نظریں چاروں طرف دوڑائی تھی ۔۔۔۔لیکن حد نگاہ تک صرف سوکھی ہوئی زمین اور بیا بان علاقے کےسوا کچھ نظر نا آیا ۔۔۔۔
ابیہا ۔۔۔۔”
آس پاس نظریں دوڑاتے شدت سے پکارا تھا ۔۔۔۔
لیکن جواب ندارد ۔۔۔۔”
بیا۔۔۔”
سوکھے درختوں کے درمیان دوڑتے ہوئے ۔۔۔۔اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ساتھ ساتھ پکار بھی رہا تھا ۔۔۔۔
جب وہ اسے ایک کھائی کے دہانے پر کھڑی نظر آئی تھی ۔۔۔۔اسکی گردن کسی وجود کے شکنجے میں تھی ۔۔۔۔لیکن اس وجود کی پشت ہونے کی وجہ سے وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پایا ۔۔۔۔
ابیہا ۔۔۔”
واسم کے پکارنے پر ابیہا نے بھی اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
اور اس وجود سے اپنی گردن آزاد کروانے کی کوشش کرتے ہوئے چلائی تھی ۔۔۔۔
سم مجھے بچا لیں ۔۔۔۔
جسے سنتے واسم نے اسکی طرف دوڑ لگائی ۔۔۔
لیکن اس کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی وہ وجود ابیہا کو اس کھائی میں دھکیل چکا تھا ۔۔۔۔
ابیہا ۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے بیدار ہوا تھا ۔۔۔۔
ابیہا جو اسکے پہلو میں سو رہی تھی ۔۔۔اسکی آواز سن کر ہڑبڑا کر اٹھی تھی ۔۔۔۔
پھر ایک نظر واسم کے پسینے سے شرابور گہرے سانس لیتے وجود کو دیکھ کر اسکے قریب ہوئی ۔۔۔۔
سم کیا ہوا ؟؟؟؟
پھر کوئی برا خواب دیکھا ؟؟؟؟
اسکے وجیہہ چہرے کو اپنے مومی ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پیار سے بولی ۔۔۔۔
وہ جو ابھی تک اس خواب کے زیر اثر شاکڈ کی حالت میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔
اسکی سرگوشی نما آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔
پھر اپنا خواب یاد آتے اسے شدت سے اپنے سینے میں بھینچ گیا ۔۔۔۔
اسکے اچانک اس ردعمل پر وہ کافی حیران ہوئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس واسم اسے بازوؤں میں سمیٹے اسکے اپنے قریب سہی سلامت ہونے کا خود کو یقین دلا رہا تھا ۔۔۔۔
اسکی دھڑکنیں اس وقت معمول سے ہٹ کر بہت تیز دھڑک رہی تھیں ۔۔۔۔جو اسکے سینے لگی ابیہا کو صاف محسوس ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
سم آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟؟
جب وہ کافی دیر بعد بھی الگ نا ہوا تو ابیہا نے بنا الگ ہوئے ہی نرمی سے سوال کیا ۔۔۔
جس پر وہ کچھ ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔
پھر خود کو کمپوز کرتے اس سے الگ ہوا ۔۔۔۔
ہمم میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
زبردستی مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔ لیکن ابیہا کو تسلی نہیں ہوئی ۔۔۔۔
لگ تو نہیں رہے ۔۔۔۔
اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے اسکے قریب ہوتی سرگوشی میں بولی ۔۔۔۔
واسم نے بہت قریب سے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔
پھر ایک لمحے کی دیری کیے بنا اسکے مخملی لبوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لیا ۔۔۔۔
جس پر ابیہا بوکھلائی تھی ۔۔۔۔
اس نے پیچھے ہونا چاہا ۔۔۔لیکن واسم نے ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنساتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔۔۔
ہار کر اس نے اسکی گردن میں دونوں بازو باندھے ۔۔۔۔
جبکہ وہ اسکی سانسوں کو اپنے قبضے میں لیے ۔۔۔۔اپنے کچھ دیر پہلے کے خواب کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسکی بند ہوتی سانسوں کا خیال کرتے وہ دھیرے سے پیچھے ہوا ۔۔۔۔
اب یقین آیا ۔۔۔۔
اسکی پیشانی سے اپنے پیشانی ٹکاتے ہوئے ۔۔۔۔شرارت سے بولا ۔۔۔۔
ابیہا نے سرخ پڑتے آنکھیں دکھائی ۔۔۔۔اور پھر اس سے دور ہوتے اٹھ کر وہاں سے جانے لگی ۔۔۔۔
جب واسم نے اسکی کمر کو تھامتے روکا ۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔اسکی گردن میں چہرہ چھپائے سرگوشی میں بولا ۔۔۔۔
جبکہ صبح صبح اسکے رومینٹک موڈ کو دیکھتے ابیہا کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
سم مجھے نماز پڑھنی ہے ۔۔۔۔اپنی گردن پر سفر کرتے اسکے ہونٹوں کے لمس پر کسمساتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
جس پر واسم نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جسکا چہرہ سرخ ہو کر تپنے لگا تھا ۔۔۔۔واسم نے اسکے دہکتے ہوئے گال کو ہونٹوں سے چھوتے بنا کچھ کہے ہی اپنے حصار سے آزادی دی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے اتنی آسانی سے چھوڑ دینے پر ابیہا نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا اور پھر موقع غنیمت جانتے فورا اٹھ کر واشروم میں بند ہوئی تھی ۔۔۔۔
اسکی جلدبازی کو دیکھتے ہوئے واسم نفی میں سر ہلاتے مسکرایا تھا ۔۔۔۔لیکن پھر اپنے خواب کو یاد کرتے وہ مسکراہٹ سمٹی تھی ۔۔۔۔
ابیہا کا خود سے دور ہو جانے کا ڈر ایک بار پھر دل میں اجاگر ہوا ۔۔۔۔جس سے اسکی دھڑکنیں بڑھی تھیں ۔۔۔۔وہ اٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا ۔۔۔۔جب تک وہ کپڑے لے کر باہر آیا تب تک ابیہا بھی وضو بنا کر واشروم سے باہر آ گئی تھی ۔۔۔۔
اسکے خوبصورت سفید چہرے پر ٹہری پانی کی شفاف بوندوں کو دیکھتے وہ ایک پل کیلئے مہبوت ہوا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسے یک ٹک اپنے چہرے کی طرف دیکھتے ۔۔۔ابیہا نے سوالیہ آبرو اچکائی ۔۔۔جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے آگے ہو کر اسکی پیشانی کو ہونٹوں سے چھوا تھا ۔۔۔۔
اور پھر فریش ہونے واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
ابیہا نے اسکی پشت کو محبت بھری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔وہ جو شادی سے پہلے واسم شاہ کو بہت مغرور ،، انا پرست ،، ایموشن لیس انسان سمجھتی تھی ۔۔۔۔
اسکے قریب ہوتے جیسے جیسے اسے جاننے لگی تھی ۔۔۔۔
تو اسکی ذات کے بہت سے خوبصورت پہلو اس پر اجاگر ہوئے تھے۔۔۔۔جتنا وہ باہر سے سخت گیر اور غصے والا نظر آتا تھا ۔۔۔۔اندر سے اتنا ہی نرم اور اپنی فیملی پر جان نچھاور کرنے والا تھا ۔۔۔۔
ہاں کبھی کبھی اسکا حد سے زیادہ غصہ کرنا ابیہا کو سہمنے پر مجبور کر دیتا تھا ۔۔۔۔اور اکثر اوقات اپنی باتوں سے اسکا دل بھی دکھا دیتا تھا ۔۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود ابیہا کیلئے وہ اسکی سانسوں کی طرح لازم و ملزوم ہو چکا تھا ۔۔۔۔
جس کے بنا زندگی کا ایک پل بھی گزارنا اس کیلئے سوہان روح تھا ۔۔۔۔
ہاں یہ بالکل سچ تھا کہ واسم نے کبھی اس سے محبت کا اظہار نہیں کیا ،،،،
لیکن جتنے مان اور عقیدت سے وہ اس پر اپنی شدتیں نچھاور کرتا تھا اسکے ایک ایک انداز سے محبت جھلکتی تھی ۔۔۔۔
واسم جب فریش ہو کر باہر آیا تو ابیہا کو اپنا انتظار کرتے پایا ۔۔۔۔
ابیہا نے سفید شلوار قمیض میں ملبوس اس وجاہت کے شہکار کو دیکھا ۔۔۔اور پھر کہیں اپنی ہی نظر نا لگ جائے پل بھر دیکھنے کے بعد نظریں پھیر گئی ۔۔۔۔
تم نے نماز شروع نہیں کی ؟؟؟
قریب آتے سوال کیا ۔۔۔۔
وہ میں آپکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔ابیہا نے تھوڑا جھجھکتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
اور پھر بنا کچھ کہے آگے بڑھ کر مصلہ بچھایا تھا ۔۔۔۔جسکے دو قدم پیچھے ابیہا نے مصلہ بچھا کر کھڑے ہوتے اسکی امامت میں نماز ادا کی تھی ۔۔۔۔
جسکے بعد دعا مانگتے ہوئے اپنے رب سے جہاں واسم نے ابیہا کی حفاظت اور زندگی بھر اپنے لیے اسکا ساتھ مانگا تھا ۔۔۔وہاں ابیہا نے واسم کی ہر دعا قبول کرنے کی اپنے رب سے التجا کی تھی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
آج کا یہ سورج اپنے ساتھ بہت سارے راز لے کر طلوع ہوا تھا ۔۔۔۔جسکا آغاز تو بہت اچھا تھا لیکن اسکا اختتام کیسا ہونا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی حویلی میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے تھے ۔۔۔۔ہر طرف مہمانوں کا شور ۔۔۔۔ لڑکیوں کی تیاریاں ۔۔۔۔ انکے چائے ناشتے کا انتظام ۔۔۔۔
اماں سائیں نے بول بول کر گھر کے ملازمین کے ساتھ نجمہ اور عظمی بیگم کو بھی گھن چکر بنا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ زرتاشے اپنے کمرے کی بالکنی میں آ کر کھڑی ہوتی ۔۔۔۔۔ گاؤں کی اس خوبصورت صبح کی ٹھنڈی ہواؤں میں گہرا سانس لیتی مسکرا کر اسے محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
جب اسکی نظر لان میں دوسرے سیکورٹی گارڈز کو کام سمجھاتے ہوئے خان پر پڑی تھی ۔۔۔۔۔
بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس سرخ و سفید رنگت کے حامل خان کو دیکھتے اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی ۔۔۔۔
بےساختہ ہی اسکی آنکھوں کے سامنے کل رات کا منظر لہرایا تھا ۔۔۔۔جب وہ واسم کی بات پر سرخ پڑتے سٹیج سے اتر کر بھاگی ۔۔۔۔
اور بےدھیانی میں خان سے جا ٹکرائی تھی ۔۔۔۔
جس نے اسے گرنے سے بچانے کیلئے ۔۔۔۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی نازک کمر کو تھاما تھا ۔۔۔۔جبکہ اسکے لمس پر اور اتنی قربت پر تاشے کی دھڑکنوں نے شور مچایا تھا ۔۔۔۔
دھڑکنیں تو شہیر خان کی بھی تیز ہوئی تھیں ۔۔۔۔جن سے گھبرا کر وہ جلد ہی اسے سیدھا کھڑا کرتے دونوں کے درمیان دوری بنا گیا تھا ۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟؟
اسکے چہرے پر اپنی نظریں ٹکائے ۔۔۔۔نرمی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
جس پر تاشے نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔ گندمی رنگت کے سنہرے پن میں گھلی ہلکی سرخیاں ،،،، سرمئی نینوں پر سایہ فگن کبھی اٹھتی کبھی جھکتی خوبصورت پلکوں کا رقص ،،،، خان کو چند پل کیلئے مہبوت کر گیا ۔۔۔۔
اور وہ آس پاس کا ہوش بھولائے ۔۔۔۔اسکی من موہنی صورت میں کھو گیا ۔۔۔۔
جبکہ خاموشی کا دورانیہ بڑھنے پر تاشے نے جھکی نظریں اٹھائی تھیں ۔۔۔اور اسکی محویت کو دیکھتے کچھ اور سرخ ہوئی ۔۔۔۔
آپ کیسے ہیں ؟؟؟؟
جھجھکتے ہوئے سوال کیا تھا ۔۔۔۔
جس پر وہ کچھ ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔ پھر خجل سا ہوتا ہاں میں سر ہلا گیا ۔۔۔۔
جس کے بعد دونوں کے درمیان ایک بار پھر خاموشی چھا گئی تھی ۔۔۔۔
اصل میں دونوں کو ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آگے کیا بات کریں ۔۔۔۔اور جب تاشے کو کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ اسکی مدد پر شکریہ ادا کرتی ابیہا کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔جو زرمینے کے بابا کے پاس کھڑی اسے اشارے سے اپنے پاس بلا رہی تھی ۔۔۔۔
خان نے جاتی ہوئی تاشے کی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔اور اپنی بےخودی پر خجل سا ہوتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا گیا تھا ۔۔۔۔
اور اس وقت بھی خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر کے اس نے آس پاس نظریں دوڑائی تھیں ۔۔۔۔جب اسکی نظر دوسری منزل پر بلکنی میں کھڑی تاشے پر پڑی ۔۔۔۔
سرمئی اور شربتی بھورے نینوں کا زبردست تصادم ہوا تھا ۔۔۔۔جس سے گھبرا کر تاشے فورا نظروں کا زاویہ بدلتی ہوئی ۔۔۔کمرے میں واپس چلی گئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکی گھبراہٹ پر شہیر خان کے ہونٹوں پر ایک محظوظ کن سی مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دکھلائی تھی ۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
بلیک شیروانی میں ملبوس زارون شاہ کی آج چھاپ ہی نرالی تھی ۔۔۔۔ وہ اپنے دونوں بھائیوں ضارب اور واسم شاہ سے وجاہت و جلال میں کسی طور پر کم نہیں تھا ۔۔۔۔
ہاں ایک چیز جو اسے ان دونوں سے الگ بناتی تھی ۔۔۔۔وہ تھی اسکے لبوں پر ہمہ وقت رہنے والی خوبصورت مسکراہٹ ۔۔۔۔جو واسم اور ضارب شاہ کے چہرے پر شاز و ناز ہی دیکھنے کو ملتی تھی ۔۔۔۔
شاہ خاندان کا وہ چھوٹا شہزادہ جو اپنے اندر ہزاروں درد اور وحشتیں لیے قیامت برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ،،،،، اپنے خاندان کیلئے اپنے ہر درد کو خود میں ہی بسائے انکے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کی وجہ بن جاتا تھا ۔۔۔۔
لیکن ان سب کے باوجود اسکے چہرے پر آج ایک اطمینان جھلک رہا تھا جو کہ شاید اپنی محبت کو ہمیشہ کیلئے اپنا بنانے کی وجہ سے تھا ۔۔۔۔
اسکے چہرے پر بکھری مسکراہٹ کو دیکھتے پورے شاہ خاندان کے بڑوں نے اسکی نظر اتاری ۔۔۔۔اور صدا یونہی خوش رہنے کی دعا دی تھی ۔۔۔۔
حتی کہ ضارب اور واسم شاہ نے بھی نوٹوں کی کئئی گڈیاں اسکے سر پر وارتے ہوئے غریبوں میں بانٹنے کیلئے ملازموں کے حوالے کی تھیں ۔۔۔۔۔
اپنے بھائیوں کے اتنا پیار جتانے پر اسکی آنکھیں ہلکی نم ہوئی تھی ۔۔۔۔جس پر ان دونوں نے ہی باری باری اسکی پیشانی کو محبت سے چومتے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔۔
زارون شاہ ان دونوں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا ۔۔۔۔جو اپنے چھوٹے شہزادے کے چہرے پر ایک پل کیلئے بھی اداسی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔
زارون اور زرمینے کی رخصتی کا یہ فنکشن لاہور کے سب سے بڑے میرج ہال میں منعقد کیا گیا تھا ۔۔۔۔
جسکی ڈیکوریشن اور باقی انتظامات پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا ۔۔۔۔
یہاں تک کہ واسم اور ضارب کے بارات کے فنکشن کی چمک بھی اسکے سامنے پھیکی پڑ گئی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ اس بار تمام انتظامات ان دونوں نے خود سنبھالے تھے ۔۔۔۔زارون شاہ اس وقت سٹیج پر بیٹھا بےصبری سے اپنی دلہن کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
جو کہ کچھ ہی وقت میں ہال پہنچنے والی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بےچینی کو دیکھتے ہوئے سب کزنز نے اسکا کافی ریکارڈ لگایا تھا ۔۔۔۔جسکا وہ بنا شرمائے بےشرمی سے قہقہہ لگاتا بھرپور ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
سب کزنز تو اسکے بدلے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہی حیران تھے ۔۔۔۔لیکن انہوں نے زارون شاہ کو ابھی جانا ہی کہاں تھا ۔۔۔۔وہ خوبصورت سا شہزادہ خود میں ہی ایک راز جیسا تھا ۔۔۔۔
ایک طرف جہاں مسکراہٹوں اور قہقہوں کا راج تھا ۔۔۔۔۔
وہی دوسری طرف ان خوشیوں کو ماتم میں بدلنے کی تیاری بھی مکمل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
بساط تو بہت پہلے ہی بچھائی جا چکی تھی ۔۔۔۔اب تو بس ایک مقررہ وقت پر چال چلنی باقی تھی ۔۔۔۔
کیا اس بار بھی دشمن نے ہی اپنی چال چل کر انہیں برباد کرنے میں کامیاب ہونا تھا یا پھر قسمت نے اس بار شاہ خاندان کا ساتھ نبھاتے اسے مات دینی تھی ۔۔۔۔۔
اس بات کا فیصلہ بہت جلد ہونے والا تھا ۔۔۔۔۔
