Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 79)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

چھوڑو مجھے ،،،، مجھے میرے گھر جانا ہے ۔۔۔۔

نرس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ کھینچتے وہ غصے سے چلائی تھی ۔۔۔۔جبکہ آنکھوں سے گرم سیال بہہ رہا تھا ۔۔۔۔

دیکھیں میم فلحال آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔آپ گھر نہیں جائے سکتیں ۔۔۔

آپ ایک بار ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔۔

نہیں میں یہاں نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔میں نے سنا وہ بہت رو رہی تھی ۔۔۔ہاں بہت رو رہی تھی ۔۔۔۔

اور ساتھ مجھے پکار رہی تھی ۔۔۔۔

نہیں مجھے جانا ہے ۔۔۔اسے میری ضرورت ہے ۔۔۔۔پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔۔

اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی درمیان میں کاٹتے وہ التجایا بولی ۔۔۔۔

آپ گھر جانا چاہتیں ہیں ؟؟؟؟

اس سے پہلے کہ نرس اسے کوئی جواب دیتی ،،،، کمرے میں داخل ہوتے وجود نے نرمی سے سوال کیا تھا ۔۔۔۔

جسے دیکھتے پل میں اسکی شفاف آنکھوں میں خوف اترا ۔۔۔۔

کچھ دیر پہلے جو وہ اس نرس سے ہاتھ چھڑوانا چاہتی تھی ۔۔۔۔اس پر اپنی پکڑ مظبوط کر گئی ۔۔۔۔

جسے دیکھتے اس وجود کی آنکھوں میں کرب اترا ۔۔۔لیکن پھر نپے تلے قدم لیتا اسکے قریب آتے بیڈ کی پائننتی پر ٹک گیا ۔۔۔۔

جس سے خوف کھاتے بےساختہ ہی وہ پیچھے کو کھسکی ۔۔۔۔

آپ گھر جانا چاہتیں ہیں ۔۔۔۔اسکے ڈر کو محسوس کرتے بہت نرمی سے دوبارہ سوال کیا تھا ۔۔۔۔

جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔

دیکھیں اگر آپ مجھے جواب نہیں دے گی ۔۔۔۔تو پھر میں آپکی ہیلپ کیسے کروں گا ۔۔۔یہاں سے نکلنے میں ۔۔۔۔بہت ہی نرم اور دوستانہ لہجہ ۔۔۔

جس پر اس نے چند پل اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر لبوں سے صرف دو الفاظ ادا کیے ۔۔۔

جانا ہے ۔۔۔

جس سے اس وجود کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔

تو پھر آپکو میری بات ماننی ہوگی ۔۔۔۔اس نے ڈری سہمی نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

پہلے آپکو اپنا ٹریٹمینٹ اچھے سے مکمل کروانا ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔ٹائم سے میڈیسن لے کر پروپر ٹھیک ہونا ہوگا ۔۔۔۔اور دوبارہ آپ خود کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کریں گی ۔۔۔۔اسکا اشارہ اسکے سفید دودھیا ہاتھ پر ٹہری خون کی بوندوں کی طرف تھا ۔۔۔۔

جس سے اس نے غصے میں آ کر ڈرپ کی ناب کھینچی تھی ۔۔۔۔

اگر آپ ان سب رولز کو اچھے سے فالو کرے گی تو میرا وعدہ ہے ۔۔۔میں آپکو خود آپکے گھر چھوڑ کر آوں گا ۔۔۔۔

کرے گی نا ؟؟؟؟ اسے شش و پنج کا شکار دیکھتے ۔۔۔پیار سے بولا ۔۔۔

جس پر اس نے سر ہلایا ۔۔۔۔

ڈیٹس گڈ ۔۔۔

لیکن وہ بہت رو رہی ہے ۔۔۔اسے میری ضرورت ہے ۔۔۔۔

اسکے پیار سے بات کرنے پر اسے کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔۔۔اس لیے اسے اپنی اصل پریشانی بتائی ۔۔۔۔

وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کس کے بارے بول رہی اس لیے نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔

اب نہیں رو رہی وہ ۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہو گیا ۔۔۔اور جو نہیں ہوا وہ بھی بہت جلد ہونے والا ۔۔۔بس آپ اپنی صحت پر دھیان دیں ۔۔۔میرا وعدہ ہے میں سب کچھ بہت جلد ٹھیک کر دوں گا ۔۔۔

آپکو مجھ پر اعتبار ہے نا ؟؟؟؟

جس پر اس نے بےساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

ویری گڈ ،،،، ہونا بھی نہیں چاہیے ۔۔۔۔سامنے بیٹھے وجود کے لب مسکرائے ۔۔۔۔

لیکن اتنا یقین ضرور رکھیں ۔۔۔۔کہ اب میں کچھ بھی غلط نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔نرمی سے اسکا گال تھپتھپاتے مسکرا کر کہتا وہ بیڈ سے اٹھ گیا ۔۔۔۔

جس پر وہ کچھ سمٹی تھی ۔۔۔

چلے اب لیٹ جائیں ۔۔۔اور کسی چیز کی ٹینشن نہیں لینی ۔۔۔اس بار سب بہت اچھا اچھا ہوگا ۔۔۔۔

اس کی بات پر وہ فورا عمل کرتی لیٹ گئی تھی ۔۔۔۔اسکے بچوں کی طرح عمل کرنے پر وہ مسکرایا تھا اور پھر اس نے نرس کو اشارہ کیا جو ان دونوں کی طرف ہی دیکھتے مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر فورا دوبارہ اسکے ہاتھ پر ڈرپ سیٹ کی اور ساتھ اس میں سکون آور انجیکشنز بھی ایڈ کر دیئے ۔۔۔

جس سے وہ چند پل میں ہی پرسکون ہوتی سو گئی تھی ۔۔۔۔

بہت جلد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔اسکے پرسکون چہرے پر نظریں ٹکائے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے چند پل اسے دیکھنے کے بعد وہ اس کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°

ایک اور دن ڈھل کر رات آ گئی تھی ،،، اور پھر دوبارہ ایک نئے دن کا آغاز ہونے والا تھا ،،،، لیکن ابھی تک ابیہا کی کوئی خیر خبر نہیں ملی تھی ۔۔۔

اور نا ہی ضارب اور واسم میں سے کوئی واپس آیا تھا ،،، اوپر سے زرمینے کی جو حالت تھی ۔۔۔۔زارون بھی ہاسپٹل میں پھنس کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔

سارے گھر والوں کا اس وقت ٹینشن سے برا حال تھا ،،،، جب رات کے آخری پہر تھکے ہارے قدموں کے ساتھ واسم شاہ حویلی میں داخل ہوا ۔۔۔۔

حیدر شاہ جنہوں نے باقی گھر والوں کو تسلی دیتے کچھ دیر آرام کرنے انکے کمروں میں بھیجا تھا ،،،، لیکن خود وہی لاؤنج میں پریشانی سے ٹہل رہے تھے ۔۔۔۔

انہیں آرام آتا بھی کیسے ،،،، انکے تینوں پوتے اس وقت جس امتحان سے گزر رہے تھے ،،،، سپیشلی ابیہا کی گمشدگی کے بعد واسم شاہ کی جو حالت تھی ۔۔۔۔

اور وہ جیسے مارا مارا اسے ڈھونڈ رہا تھا ،،،، یہ سب انکی برداشت سے باہر تھا ۔۔۔۔

قدموں کی چاپ پر حیدر شاہ نے پلٹ کر اندر داخل ہوتے واسم شاہ کو دیکھا ۔۔۔۔ رت جگے سے سرخ ہوئی آنکھوں اور بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ سلوٹ زدہ لباس میں وہ کہیں سے بھی انکا مغرور شہزادہ نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔یہ تو کوئی قسمت سے ہارا ہوا مایوس شخص لگ رہا تھا جس کی کل کائنات کسی نے چھین کر اسے خالی دامن کر دیا ہو ۔۔۔۔

واسم “

واسم کے ان سے نظریں چرا کر جانے پر حیدر شاہ نے خود سے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔

واسم نے انکے پکارنے پر جھکی نظریں اٹھائی ۔۔۔۔جن میں درد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔

حیدر شاہ نے فورا آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔ جس پر واسم کا خود سے کیے جانے والا ضبط ٹوٹا تھا ۔۔۔۔اور اسکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر حیدر شاہ کندھے پر گرے ۔۔۔۔

اپنے جوان سالہ پوتے کو روتے دیکھ حیدر شاہ کا دل کٹا ۔۔۔اور وہ اسے خود سے الگ کرتے ہوئے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر صوفے کی طرف بڑھے ۔۔۔۔

لیکن واسم انکے برابر بیٹھنے کی بجائے نیچے زمین پر بیٹھتا انکی گود میں اپنا چہرہ چھپا گیا ۔۔۔۔

واسم میرے بچے ۔۔۔۔

حیدر شاہ نے اپنے بوڑھے پرشفقت ہاتھ اسکے بالوں میں پھیرتے نرمی سے پکارا ۔۔۔۔

دادا سائیں ۔۔۔”

حیدر شاہ کو اپنی گود اسکے آنسوؤں سے بھیگتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔

آپ تو میرے بہادر بیٹے ہیں ۔۔۔۔اگر ایسے ہمت ہار جائیں گے تو ۔۔۔بیا کو کیسے ڈھونڈے گے ۔۔۔۔

انکی بات پر واسم نے اپنا سرخ چہرہ اٹھایا ۔۔۔۔مجھے وہ چاہیے ۔۔۔۔

مجھے بیا چاہیے دادا سائیں ۔۔۔۔

مجھے میری بیا لا دیں۔۔۔۔

اس کے لہجے میں ضد تھی ،،،، نیلے سمندر کی سرخ لہروں میں ابیہا کے لیے تڑپ ،،،، جبکہ انداز بالکل بچوں کے جیسا تھا ۔۔۔۔جیسے بچے اپنی فیورٹ چیز کھو دینے پر اپنے بڑوں سے ضد کرتے ہیں کہ وہ اسے یہ چیز لا کر دیں ۔۔۔۔

واسم شاہ بلکل ایسے حیدر شاہ سے ڈیمانڈ کر رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اپنے پوتے کی یہ حالت دیکھتے حیدر شاہ کا دل ایسا تھا جیسا کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا ۔۔۔

انہیں بےساختہ برسوں پہلے کا وہ لمحہ یاد آیا تھا ۔۔۔۔جب روباب کے کھونے پر اس نے بالکل ایسے ہی انکی گود میں سر رکھتے اسے واپس لانے کی ضد کی تھی ۔۔۔۔

اور پھر اسکے ہمیشہ کیلئے دور چلے جانے پر ۔۔۔وہ بالکل بدل گیا تھا ۔۔۔۔ اس نے ضد کرنی چھوڑ دی ۔۔۔۔ایک جامد خاموشی اور سرد مہری کا خول اپنے گرد کھینچتے ان سے ہی نہیں بلکہ پورے خاندان سے ہی دور ہو گیا ۔۔۔۔

میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔اور نا ہی کسی کو دوبارہ اپنے قریب آنے دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔کیونکہ میں جانتا تھا میں جس سے بھی قریب ہوتا ہوں ۔۔۔۔وہ مجھ سے ہمیشہ کیلئے دور چلا جاتا ہے ۔۔۔۔

اسکے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی سی کرچیاں تھیں ۔۔۔

جسے سن کر حیدر شاہ کی آنکھیں نم ہوئی ۔۔۔۔

اسی لیے میں نے شادی سے بھی انکار کیا تھا ۔۔۔۔لیکن آپ زبردستی اسے میری زندگی میں لائے ۔۔۔۔میری اس سے شادی کروائی ۔۔۔۔

آپکو پتا ہے ؟؟؟؟

بیا نا بالکل ماما جیسی ہے ۔۔۔۔ بات کرتے کرتے وہ جیسے مسکرایا تھا ۔۔۔۔ اور حیدر شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔جس پر انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

اسکے چہرے کے نین نقش ،،،، اسکی عادتیں ،،، بات کرنے کا انداز ۔۔۔۔بالکل ماما جیسا ہے ،،،،جیسے وہ سب کی فکر کرتیں تھیں سب کا خیال رکھتی تھیں ۔۔۔۔

اپنے حق کیلئے بولنا ۔۔۔سب کچھ سیم ٹو سیم ۔۔۔

اپنی ماں کو یاد کرتے آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے اسکی بڑی ہوئی شیو میں جذب ہوئے ۔۔۔۔

روباب کو کھونے کا درد آج بھی اسکے لہجے میں پہلے دن کی طرح تازہ محسوس کرتے حیدر شاہ نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔۔

اس لیے میں نا چاہتے ہوئے بھی ۔۔۔۔لاکھ خود کو سمجھانے کے باوجود کہ مجھے اسے خود سے دور رکھنا ہے ۔۔۔ پھر بھی دھیرے دھیرے اسکے قریب ہوتا چلا گیا ۔۔۔۔

اور اب جب مجھے اسکی عادت ہو گئی تو اللہ تعالٰی نے بالکل ماما کی طرح اسے مجھ سے دور کر دیا ۔۔۔۔میرے دل میں اسکی جگہ بنا کر اسے مجھ سے چھین لیا ۔۔۔۔

کیا میں اتنا ہی برا ہوں ،،،، کہ جسے پسند کرنے لگتا ہوں ،،،، وہی مجھ سے ہمیشہ کیلئے دور چلا جاتا ہے ۔۔۔۔

اسکے لہجے میں شکایت سی تھی ۔۔۔۔

جسے سنتے حیدر شاہ نے بےساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

نہیں ہمارا بچہ تو بہت اچھا ہے ۔۔۔۔اسکے چہرے کو تھامتے محبت سے اسکی پیشانی چومی ۔۔۔۔

تو پھر اللہ تعالٰی نے ابیہا کو مجھ سے کیوں دور کیا ؟؟؟؟

ایسے سوال کرتے حیدر شاہ کو وہ تیس سال کا بھرپور مرد نہیں بلکہ کوئی چھوٹا سا معصوم بچہ لگا ۔۔۔۔

جس پر وہ شفقت سے مسکرائے ۔۔۔۔

کیونکہ میری جان اللہ تعالٰی ہمیشہ اپنے پیارے بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے ۔۔۔۔

ان سے انکی پسندیدہ چیز دور کر کے ۔۔۔۔وہ دیکھتا ہے کہ کیا اسکا بندہ اپنی قیمتی چیز کھونے کے بعد بھی اسکی طرف رجوع کرتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔

تو میرا بچہ مایوس ہونے کی بجائے اس سے دعا کرو ۔۔۔۔وہ بہت رحیم و کریم ہے اپنے سب بندوں کی سنتا ہے ۔۔۔۔

لیکن دادا سائیں میں نے ماما کے جانے کے بعد ان سے بہت دعا کی تھی ۔۔۔انہوں نے میری دعاؤں کو قبول نہیں کیا تھا ۔۔۔

اور اب ابیہا کو بھی مجھ سے دور کر دیا ۔۔۔۔

نم بھیگا اور کچھ کچھ ٹوٹا سا لہجہ ۔۔۔۔

میرے بچے صبر کرو اور سچے دل کے ساتھ دعا کرو اللہ تعالٰی ضرور سنے گے ۔۔۔۔

کیونکہ ہمارا اللہ کسی کو بھی اسکی برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا ۔۔۔۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ کیلئے مشکل وقت ہے لیکن اللہ تعالٰی پر یقین رکھیں وہ ضرور آپ کیلیے آسانیاں پیدا کرے گے ۔۔۔۔

کیونکہ رب ذوالجلال کا فرمان ہے ۔۔۔

ان مع العسرا یسرا ( القرآن 94:6 )

ترجمہ “

بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔۔۔۔

بہت ہی نرم اور پرشفیق لہجے میں اسکی رہنمائی کی تھی ۔۔۔۔

جس سے ایک سکون سا واسم کو اپنے اندر اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

اور وہ پرسکون ہوتا سر ہلا گیا ۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف ضارب شاہ جو تقریبا واسم کے ساتھ ہی حویلی میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔واسم کی باتوں سے اپنی آنی کے ساتھ اپنے ماں باپ کو یاد کرتے آنسو اسکے ہرے کانچ سے بہتے ہوئے کالی داڑھی میں جذب ہو رہے تھے ۔۔۔۔

اور دادا سائیں کی باتوں نے صرف واسم کے ہی نہیں اپنی بہن کی گمشدگی پر اسکے اندر چلتے طوفان کو بھی چند پلوں کیلئے تھام دیا تھا ۔۔۔۔ورنہ جتنا اسے موسی شاہ پر قہر تھا اگر وہ اسکے سامنے آ جاتا ۔۔۔تو اسے زندہ زمین میں درگور کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتا ۔۔۔۔

اپنے آنسو صاف کرتے ایک نئی ہمت ساتھ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ تبھی اسکی پاکٹ میں رکھا سیل رنگ ہوا ۔۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف دی جانے والی انفارمیشن سن کر چند پلوں کیلئے وہ دنگ رہ گیا تھا ۔۔۔۔

لیکن یہ صرف چند لمحوں کیلئے تھا ۔۔۔اس کے بعد جو قہر اسکی آنکھوں میں اترا تھا ۔۔۔۔لفظوں میں بیان کر پانا مشکل تھا ۔۔۔۔

اور اس نے ایک نظر حیدر شاہ کی طرف دیکھتے رخ بدلہ ۔۔۔۔جب واپس پلٹتے اسکی نظریں واسم شاہ پر پڑی ۔۔۔ وہ جو اپنی نم آنکھیں اس پر ہی ٹکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔

اور اسے نظر انداز کرتا جانے لگا ۔۔۔۔جب ضارب شاہ نے اسے روکتے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔

واسم رکے ہمیں آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔

تم جو مجھے بتانا چاہتے ہو ۔۔۔۔وہ میں جان چکا ہوں ۔۔۔۔اور آگے جو کرنا ہے یہ بھی ۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑتے فیصلہ کن انداز میں کہتا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔

جب ضارب نفی میں سر ہلاتے ہوئے حیدر شاہ کے قریب آیا ۔۔۔۔

جو اسے ہی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°

پچھلے چوبیس گھنٹوں سے موسی شاہ تقریبا زرمینے کا سایہ بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔

ایسے میں زارون لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اسے دیکھنے نہیں جا پایا ۔۔۔۔جو زارون کی بےرخی اور اپنے بچے کو کھونے کے بعد مکمل اندر سے ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔کیونکہ موسی شاہ کا چہرہ دیکھتے اسکے زخم نئے سرے سے تازہ ہو جاتے تھے ۔۔۔۔

اور وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اسے دیکھتے انکے سامنے زرمینے کوئی نیا واویلا کھڑا کر دے ۔۔۔۔جس سے انہیں اس پر کسی بھی قسم کا کوئی شک ہو ۔۔۔۔

البتہ شیشے کے پار سے ہی وہ کتنی بار اسکا معصوم چہرہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔جو ایک دن میں ہی تکلیف اور درد برداشت کرتے مکمل مرجھا چکا تھا ۔۔۔۔

اور آج جب موسی شاہ ایک فون کال آنے پر ضروری کام کا کہتے ہاسپٹل سے نکلے تھے ۔۔۔۔زارون نے فورا ضارب کو اطلاع پہنچائی تھی ۔۔۔اور اسکے ساتھ ہی قدم اس روم کے اندر رکھے ۔۔۔

جہاں وہ دشمن جان دواوں کے زیر اثر فلحال سو رہی تھی ۔۔۔۔یہ صبح کے کوئی چھ بجے کا وقت تھا ۔۔۔۔

اسے اندر آتے دیکھ نجمہ بیگم جو زرمینے کے پاس بیٹھی اس پر وظائف پڑھ کر پھونک رہی تھیں ۔۔۔۔

اٹھ کر قریب آتے اسکے کندھے پر تسلی دینے کے انداز میں ہاتھ رکھتے خاموشی سے باہر کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔۔

جن کے جاتے ہی وہ چھوٹے چھوٹے مگر بھاری قدم لیتا اسکے قریب آیا تھا ۔۔۔۔

اور پھر دھیرے سے جھکتے اسکی پیشانی پر اپنی پیشانی ٹکائی ۔۔۔۔

مجھے معاف کر دینا میری زندگی۔۔۔۔ میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ۔۔۔۔

یہ بھی جانتا ہوں ان سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔

لیکن میں اپنی ماں کے مجرم کی بیٹی سے محبت جتا کر انکا مزید گنہگار نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔

ضبط کی انتہاؤں پر پہنچتے ایک آنسو اسکی پلکوں کی بار توڑ کر پھسلتا زرمینے کی لرزتی پلکوں پر اٹکا تھا ۔۔۔۔

زارون نے بہت محبت کے ساتھ اسکی صبیح پیشانی پر اپنے لب رکھے ۔۔۔اور چند پل اسے محسوس کرنے کے بعد بنا اسکے چہرے کی طرف دیکھے اس سے دور ہوگیا ۔۔۔۔

زرمینے کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے کھلے بالوں میں جذب ہو گیا ۔۔۔۔

تبھی زارون کا سیل وائبریٹ ہوا تھا ۔۔۔۔

یس میجر زارون حیدر شاہ سپیکنگ ۔۔۔”

جب دوسری طرف اسکا نام سنتے ۔۔۔کچھ کہاں گیا ۔۔۔۔

اوکے سر میں کچھ ہی دیر میں پہنچتا ہوں ۔۔۔۔فون بند کر کے اس نے ایک نظر زرمینے کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں اب بھی بند تھیں ۔۔۔۔

اور وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔

جس کے جانے کا یقین کر لینے کے بعد زرمینے نے اپنی سرخ آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔

اور حیرت سے اس بند دروازے کو دیکھا جہاں سے ابھی وہ نکل کر گیا تھا ۔۔۔

جبکہ کانوں میں ایک ہی جملہ بار بار بازگشت کر رہا تھا ۔۔۔

“میجر زارون حیدر شاہ”

زارون آرمی میں ۔۔۔۔اسکے لبوں سے بےنام سی سرگوشی نکلی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے لفظوں پر یقین کرنا ۔۔۔اس کیلئے بہت مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔

آخر یہ اس دشمن جان کا کونسا روپ تھا ۔۔۔۔جو اسکے ساتھ پورے شاہ خاندان سے پوشیدہ تھا ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°

ابیہا کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک ہال نما کمرے میں کرسی سے بندھے پایا ۔۔۔۔

جو ویل فرنشڈ ہونے کے ساتھ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا ۔۔۔۔

ابیہا کا سر بھاری ہونے کے ساتھ ہلکا ہلکا گھوم بھی رہا تھا ۔۔۔۔ جسے ہلکا سا جھٹکتے اس نے آس پاس نظر دوڑائی ۔۔۔۔

اور ان سب میں اس کیلئے سب سے زیادہ جو حیران کرنے والی بات تھی ۔۔۔۔ جسے دیکھتے اسکی خوبصورت آنکھیں پوری کھل گئی تھیں ۔۔۔۔ وہ تھا اس ہال کے دائیں طرف بنا چھوٹا سا منی بار ۔۔۔۔جس میں دنیا کے تقریبا ہر برانڈ کی وائن پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اور اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ اس جگہ کا مالک اس حرام مشروب کا کافی شوقین تھا ۔۔۔۔

اور اس حصے کو سنگ مر مر کے پتھروں اور مرر کے ساتھ اتنی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔۔کہ چند پل کیلئے دیکھنے والا مہبوت رہ جائے ۔۔۔۔

اس نے اس جیسی چیزیں آج تک صرف فلموں ڈراموں میں دیکھی تھی ۔۔۔اس لیے حقیقت میں دیکھتے ہوئے کافی ایکسائٹڈ ہو رہی تھی ۔۔۔۔

لیکن پھر اسے یاد آیا کہ اسلام میں یہ چیز حرام قرار دی گئی ہے ۔۔۔۔جس پر اس نے فورا استغفار پڑھی ۔۔۔۔

اور ان سب میں وہ یہ تک بھول چکی تھی کہ وہ کڈنیپ ہوئی ہے ۔۔۔

ہوش تو تب آیا جب اس نے چہرے پر آتے بال ہٹانے کیلئے آس پاس دیکھتے ہوئے بےدھیانی میں ہاتھ اٹھانا چاہا ۔۔۔۔

جو بندھا ہوا تھا ۔۔۔۔

میں یہاں کیسے آئی ؟؟؟؟؟ میں تو واسم کیلئے ۔۔۔۔۔ ماموں جان ۔۔۔۔اسے یاد آیا ۔۔۔۔آخری بات تو وہ موسی شاہ سے کر رہی تھی ۔۔۔۔ انہیں اس سے کوئی ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔۔ اور اس نے بولا تھا ابھی آتی ہوں ۔۔۔۔پھر اسکے پلٹنے پر کسی نے اسکے ناک پر رومال رکھا ۔۔۔

لیکن وہاں تو صرف موسی شاہ تھے ۔۔۔۔تو کیا ماموں جان نے مجھے کڈنیپ کر لیا ۔۔۔۔

لیکن انہوں نے ایسا کیوں ؟؟؟؟ شاید وہ جو بات کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔لیکن وہ تو گھر میں بھی ہو سکتی تھی ۔۔۔۔

اور پھر یہ جگہ ۔۔۔۔

اس نے ایک بار پھر پورے ہال میں نظر دوڑائی ۔۔۔۔ تو کیا ماموں یہ سب ۔۔۔۔

نہیں وہ تو کتنے اچھے ہیں ۔۔۔۔شاید انکے کسی دوست کا ہو ۔۔۔۔لیکن مجھے باندھا کیوں ہوا ۔۔۔۔۔

اور گھر والے میری گمشدگی سے کتنے پریشان ہونگے ۔۔۔۔اور سم کیا ماموں جان نے انہیں بتایا ہوگا کہ میں انکے پاس ہوں ۔۔۔۔

یا نہیں ۔۔۔۔

دماغ پر بہت زور دینے کے بعد بھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔کہ سب کرنے کے پیچھے آخر انکا مقصد کیا تھا ۔۔۔۔

لیکن جو بھی تھا ۔۔۔۔اسے اتنا اطمینان ضرور تھا ۔۔۔۔کہ موسی شاہ کا جو بھی مقصد ہو ۔۔۔لیکن وہ کسی بھی حال میں اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔۔۔۔ ایک پل کیلئے بھی اسکے دماغ میں کوئی غلط خیال نہیں ایا تھا ۔۔۔۔بس اسی وجہ سے ہر پریشانی سے فری ہوتی انکے آنے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔

بس اسے ایریٹینشن ہو رہی تھی تو اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں سے ۔۔۔۔ لے بھلا میں کہیں بھاگی جا رہی تھی ۔۔۔۔جو باندھ دیا ۔۔۔۔

منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ اور اس بات پر وہ موسی شاہ سے لڑنے کا دل ہی دل میں پورا پلین بھی بنا چکی تھی ۔۔۔۔

بلکہ ناراضگی کے بہانے ان سے ٹریٹ لینے کا بھی سوچ رہی تھی ۔۔۔جیسے ہمیشہ وہ تینوں ،،، وہ ابرش اور زرمینے ۔۔۔۔انہیں بلیک میل کر کے لیا کرتی تھیں ۔۔۔۔

لیکن وہ معصوم یہ نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ اپنا محافظ سمجھ کر اعتبار کرتی اتنے اطمینان سے بیٹھی ہے ۔۔۔۔

اصل میں وہ کتنا بڑا درندہ تھا ۔۔۔۔وقت پڑنے پر اپنے سگے رشتوں کو بھی نگلنے والا ۔۔۔۔اور ابیہا تو پھر ۔۔۔۔۔

ابھی وہ اپنی ہی سوچوں میں غلطاں سر جھکائے بیٹھی تھی جب اسے اس ہال کے دروازے کے قریب قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔۔۔

ابیہا نے فورا سر اٹھا کر دیکھا ۔۔۔۔

جہاں موسی شاہ کے ساتھ ایک اور آدمی اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔

اور اسے ہوش میں دیکھتے دونوں ہی مسکرائے تھے ۔۔۔۔جبکہ اسکے برعکس ابیہا موسی شاہ کے ساتھ دوسرے آدمی کو دیکھتی کافی حیران تھی ۔۔۔۔

آپ “

بےساختہ ہی اسکے منہ سے پھسلا تھا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *