Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 11)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

کیا !! واسم لالا ہمیں پڑھائیں گے ؟؟ زر کے پوچھنے پر ابرش نے زور و شور سے سر ہلایا تھا ،،،،، رش برش میں نہیں پڑھنے والی تمہارے ان کھڑوس لالا سے ،،،، اس کی بات سنتے ہی زر نے صاف جواب دیا تھا ۔۔۔

سب سے پہلے تو میں تم سے پوچھ نہیں رہی بلکہ بتا رہی ہوں ،،،،، اور خبردار اگر دوبارہ میرے لالا کو کھڑوس بولا تو تمہارا حشر بگاڑ دوں گی ،،،،، میرے لالا بہت ہی سویٹ ہیں بالکل میری طرح ،،،، اس نے اتراتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔

اچھا سوری دوبارہ نہیں کہوں گی لیکن یار مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے ،،،،، میں کیسے پڑھوں گی ان سے ،،،،، میری تو انکے سامنے آواز بھی نہیں نکلتی ۔۔۔۔

ہاں ایسے ہی کوئی ڈریکولا ہیں نا میرے لالا جن سے تمہیں ڈر لگتا ہے ،،،،، بلکہ جن سے اصل میں ڈرنا چاہیے انکے تو ہر وقت گلے کا ہار بنی رہتی ہوں ،،،، وہ اس بار سچ میں برا مناتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔

اس کی پہلی بات پر یہاں زر نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی وہی دوسری بات پر اسکی طرف حیرت سے دیکھا تھا ۔۔۔۔

کس کی بات کر رہی ہو تم ،،،، کس سے ڈرنا چاہیے مُجھے اس نے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

ضارب لالا کی بات کر رہی ہوں ،،،،، تم نے انکی آنکھیں نہیں دیکھیں کیسے ہمیشہ غصے سے سرخ رہتی ہیں ،،،، ان سے تو تمہیں ڈر نہیں لگتا بس ایک میرے لالا سے ہی لگتا ہے جو کسی سے کچھ بھی نہیں کہتے ۔۔۔۔

ایسی بات نہیں ابرش میں نے کب کہا کہ تمہارے لالا برے ہیں بلکہ وہ تو بہت اچھے ہیں بس ہم سے زیادہ بات نہیں کرتے نا مجھ سے اور نا بیا سے تو اس لیے ہم ان سے زیادہ فرینک نہیں ہیں ۔۔۔۔

اور رہی ضارب لالا کی بات تو وہ مجھے بالکل بیا کی طرح پیار کرتے ہیں اس کی ہی طرح میرا خیال رکھتے ہیں مجھ میں اور بیا میں انہوں نے کبھی کوئی فرق نہیں کیا اس لیے میں انکے زیادہ قریب ہوں ۔۔۔۔

اس کو برا مناتے دیکھ اس نے رسان سے سمجھایا تھا ،،،،، ہاں تو وہ تھوڑے الگ نیچر کے ہیں نا اس لیے ،،،،، اسکا مطلب یہ نہیں تم ان سے ڈرو اور انکے بارے میں باتیں بناو ۔۔۔۔۔

اچھا اور اگر یہی سوال میں تم سے کروں تو تم کیوں ضارب لالا سے اتنا ڈرتی ہو ،،،،، حالانکہ انہوں نے تو کبھی تمہیں ڈانٹا بھی نہیں اور نا تم پر کبھی غصہ کیا ہے ۔۔۔۔

اسکی بات پر ابرش کے چہرے پر اک سایہ سا لہرایا تھا ۔۔۔وہ بس ایسے ہی مجھے وہ اچھے نہیں لگتے ورنہ ان سے ڈرتی ورتی نہیں ہوں میں ،،،، لیکن پھر جلد ہی اپنے تاثرات چھپاتی اپنے لہجے کو ہشاش بناتی بولی ۔۔۔

جبکہ زر جو اسکے چہرے کے بدلتے رنگ بہت غور سے دیکھ رہی تھی جن میں خوف کی رمک واضح تھی ،،،،،، اسکے بات بدلنے پر فلحال زیادہ کریدنا مناسب نا سمجھا ۔۔۔۔

اچھا تم کیا چاہتی ہو میں تمہارے ساتھ آ کر واسم لالا سے پڑھو تو ٹھیک ہے لیکن اگر انہوں نے مجھے ڈانٹا تو بعد میں تم اپنی خیر منانا ،،،، ابرش کے اسرار کرنے اور کچھ اسکے روٹھ جانے کے ڈر سے وہ مان گئی تھی ۔۔۔

لیکن اینڈ میں اسے دھمکانا نہیں بھولی ،،،،، نہیں ڈانٹے گے دیکھنا میرے لالا بہت اچھے ہیں ،،،،،جبکہ وہ تو اسکے مان جانے پر ہی خوشی سے اس سے لپٹ گئی اور ساتھ ساتھ واسم کی تعریفیں بھی جاری تھیں ۔۔۔

جسے سنتے زر مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔

********

وہ جلد ہی فریش ہو کر واپس ابرش کے کمرے میں آ گیا ،،،، یہاں ابرش کے ساتھ اب زرمینے بھی اپنی کتابوں سمیت موجود تھی ،،،، جس نے اسے آتے دیکھ فورا سلام کیا تھا ۔۔۔۔

جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر اتفاق کیا تھا ۔۔۔۔پھر ان دونوں کو کتابیں کھولنے کا اشارہ کرتے پڑھانا سٹارٹ کیا ۔۔۔۔

جو سوال انہیں مشکل لگ رہے تھے انکی ایک شارٹ لسٹ بناتے وہ باری باری دونوں کو ڈیٹیل سے سمجھا رہا تھا ۔۔۔۔اور اسکے پڑھانے کا طریقہ اتنا زبردست تھا کہ ان دونوں کو جلد سب کچھ یاد ہو گیا ۔۔۔۔

ابھی وہ لوگ پڑھ ہی رہے تھے جب دروازہ نوک کرتے زارون اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔اور واسم شاہ کو وہاں موجود اور ان دونوں کو پڑھاتے دیکھ کر وہ شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے ان کے پاس ہی آ کر دوسرے صوفے پر ٹک گیا ۔۔۔۔

واہ زبردست لالا کیا بات ہے آپ انہیں پڑھا رہے ہیں شکر ہے اب مجھے پورا یقین ہے کہ یہ دونوں ضرور پاس ہونگی ،،،، ورنہ جیسی انکی حرکتیں ہیں انہوں نے تو ہمارے خاندان کا نام ہی ڈبو دینا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اس کی بات سن کر زر اور ابرش اسے گھورنے لگی تھیں یہ تو واسم کا لحاظ کرکے وہ چپ بیٹھی تھیں ورنہ اسے بہت اچھا جواب دیتیں ۔۔۔۔

انکی چھوڑو مجھے تم اپنی بتاؤ تمہاری تیاری کیسی ہے ،،،،،تمہارے بھی ایگزیمز ہیں نا ،،،، اور اگر تم اس بار بھی فیل ہوئے تو بابا سائیں تو تمہیں بعد میں سزا دیں گے ،،،، پہلے تمہاری اچھی طرح خبر میں لوں گا ۔۔۔۔

جبکہ واسم کی بات پر اسکے مسکراتے لب فورا سکڑے تھے جی لالا میری تیاری بہت اچھی ہے ،،،، اس بار میں ضرور پاس ہو جاؤں گا ان شااللہ ،،،، اس نے بمشکل اٹکتے ہوئے اپنی مکمل کی تھی ۔۔۔

جبکہ اس کو ایسے اٹکتے دیکھ ابرش اور زر نے نیچے منہ کر کے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔

اچھا اگر ایسا ہے تو اپنی بکس لے کر آو ابھی میں تمہارا ٹیسٹ لیتا ہوں ۔۔۔۔۔ وہ اسکی بات پر سر ہلاتے بولا ،،،،، جبکہ ٹیسٹ والی بات پر زارون کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا ۔۔۔۔

لیکن لالا میں کہہ رہا ہوں نا میری تیاری اچھی ہے اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو احمد سر مجھے پڑھا کر گئے ہیں ،،،، اب پھر سے پڑھنے کا میرا دل نہیں کر رہا ،،،،، وہ اپنے ٹیوٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔

ایک بار پھر سوچ لو اگر تمہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا تو میں سمجھا دیتا ہوں ۔۔۔۔تمہارے لیے اور آسانی ہو جائے گی ۔۔۔۔

نہیں لالا مجھے سب کچھ اچھے سے یاد ہو گیا ہے آپ ان دونوں کو پڑھائیں وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب اچانک ابیہا کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔

اسے ابرش سے کچھ کام تھا ،،،، لیکن ان سب کو یہاں یوں اکٹھے اور خاص طور پر واسم کو بیٹھے دیکھ دروازے سے ہی واپس مڑنے لگی تھی جب زارون نے اسے آواز دی ۔۔۔۔

ارے کہاں جا رہی ہیں بیا ہم سب یہاں اکٹھے بیٹھے ہیں آپ بھی آئیں اور ہمیں جوائن کریں وہ اسے روکتے ہوئے بولا تھا ،،،، زارون کی بات پر مسکراتے ہوئے ابرش اور زرمینے نے بھی اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔

جبکہ واسم کو اسکا یوں بنا نوک کئے کمرے میں داخل ہونا ذرا پسند نہیں آیا تھا ،،،،، حالانکہ یہ اسکا کمرہ نہیں تھا پھر بھی اسکی نفیس طبیعت پر یہ بات گراہ گزری تھی ۔۔۔۔

لیکن تم لوگ تو شاید پڑھ رہے ہو میں یہاں ایویں ہی تم لوگوں کو ڈسٹرب کروں گی ،،،، بیا ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں بلا ہم کیوں ڈسٹرب ہونگے آپکے بیٹھنے پر ،،،، ابرش نے اسکی بات کا برا مناتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

جبکہ زر اور زارون نے بھی اسکی تائید کی تھی ،،،، البتہ واسم خاموش تھا ۔۔۔انکے اسرار کرنے پر اب کی بار ابیہا کو انکار کرنا اچھا نہیں لگا تھا اس لیے وہ آگے بڑھ آئی ۔۔۔۔

ایک منٹ بیا ،،،، ابھی وہ بیٹھنے لگی تھی کہ زارون نے اسے روکا تھا ،،،، کیا ہوا جبکہ اس کے ایسے روکنے پر اس نے حیرت سے استفسار کیا تھا ۔۔۔

وہ میں کہہ رہا تھا جب ہم سب اتنے دنوں بعد اکٹھے بیٹھ ہی رہے ہیں تو کیوں نا پڑھائی کے ساتھ ہلکی پھلکی پارٹی ہو جائے ،،،، اس میں اگر ابیہا کے ہاتھ پکوڑے اور چائے مل جاتی تو مزہ آ جاتا ،،،، اس نے مسکراتے ہوئے اسے روکنے کی وجہ بتائی تھی ۔۔۔۔

ارے یہ کونسی بڑی بات ہے میں ابھی بنا کر لاتی ہوں بلکہ پکوڑوں کے ساتھ دوسرے سنیکس بھی لے کر آتی ہوں ۔۔۔

اتنا کہتے ہوئے وہ چلی گئی تھی اور اپنے کہے کے مطابق ٹھیک آدھے گھنٹے کے بعد وہ چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ حاضر تھی ۔۔۔

انکی پڑھائی تو ویسے بھی مکمل ہو گئی تھی تو زر اور ابرش نے اپنی کتابیں سمیٹتے ہوئے ٹیبل صاف کرتے جگہ بنائی تھی ۔۔۔

جس پر اسکی ساتھ آئی ملازمہ چیزیں سہی سیٹ کرتے ہوئے واپس چلی گئی تھی ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ سب کو سرو کرتی واسم اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔

اچھا گڑیا تم لوگ انجوائے کرو میں چلتا ہوں اور آگے بھی کچھ سمجھنا ہو تو مجھے بتا دینا میں تمہیں پڑھا دوں گا ۔۔۔۔

لیکن لالا بیا اتنے پیار سے ہم سب کیلئے یہ چیزیں بنا کر لائی ہیں ،،،، آپ بھی ہمارے ساتھ بیٹھے ۔۔۔۔

گڑیا میں ضرور بیٹھتا لیکن آپکو پتا ہے میں اتنی ہیوی اور آئلی چیزیں نہیں کھاتا بس اسی لیے ،،،،، اچھا آپ یہ سب نہیں کھا سکتے لیکن ہمارے ساتھ کافی تو انجوائے کر سکتے ہیں نا ،،،، دیکھیں بیا سپیشلی آپ کیلئے آپ کی فیورٹ بلیک کافی بھی بنا کر لائی ہیں ۔۔۔۔

ابرش نے اسکی توجہ ٹیبل پر الگ ٹرے میں رکھے بھاپ اڑاتے گرم کافی کے مگ پر دلائی تھی ۔۔۔۔

جس کی اسے اب سچ میں طلب ہو رہی تھی اور وہ اپنے کمرے میں جا کر ملازمہ سے منگوانے والا تھا ،،،، لیکن یہ لڑکی اسکے بنا کہے ہی بنا لائی تھی جسکی واسم شاہ کو امید نہیں تھی ۔۔۔

پھر وہ ابرش کے اسرار پر بیٹھ گیا تھا جبکہ وہ سب اپنی اپنی چائے کے ساتھ دوسرے لوازمات کھاتے باتوں میں مصروف ہو گئے ۔۔۔۔

جب ابرش نے اپنی پلیٹ میں سے کیک کا چمچ بھر کر اسکے سامنے کرتے ہوئے التجائی نظروں سے دیکھا تھا ،،،، جو اسے ہلکی گھوری سے نوازتے ہوئے اس نے لے لیا تھا ۔۔۔

اور وہ سچ میں اس لڑکی کے ہاتھ کے ذائقے کا قائل ہوا تھا جسکا اس نے منہ سے اظہار کرنا ضروری نا سمجھا ۔۔۔۔

*********

ضارب جب سب کام نپٹا کر گھر پہنچا تو وہاں دادا سائیں کے ساتھ ارمغان شاہ کو موجود پا کر بہت خوش ہوا ۔۔۔۔

جس کا اس نے ان سے ملتے ہوئے اظہار بھی کیا ۔۔۔۔جب وہ حیدر شاہ سے مل کر ارمغان شاہ کی طرف آیا تو انہوں آگے بڑھ کر اسکی کشادہ پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ انکے اس اچانک عمل پر وہ تھوڑا حیران بھی ہوا تھا ۔۔۔۔مجھے فخر ہے آپ پر میری جان ،،،، جیسے آج آپ نے ہمارے خاندان کا نام اونچا کیا ہے ۔۔۔

مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ۔۔۔

بہت شکریہ تایا سائیں سب آپکی دعاؤں کا ہی اثر ہے ۔۔۔۔ضارب نے ان سے الگ ہوتے مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔

بیٹا میں آپ سے شرمندہ ہوں کیونکہ واسم نے آپ کے مشکل وقت میں ساتھ دینے کی بجائے ،،،،، ایسا ری ایکٹ کر کے معاملہ اور بھی بگاڑ دیا تھا ۔۔۔

جسکی وجہ سے آپ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا ،،،،، حالانکہ ایسے حالات میں آپکی فیملی کو آپ کے ساتھ سب سے پہلے کھڑا ہونا چاہیے تھا ۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے تایا سائیں یہ بات ہم پہلے ہی کلیئر کر چکے ہیں کہ واسم کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے وہ بالکل حق بجانب تھے ،،،،، اس لیے آپکو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ،،،،، اس نے مسکرا کر کہتے انہیں شرمندگی سے نکالنا چاہا ۔۔۔

یہ تو آپکا ظرف ہے ،،،، ایسی کوئی بات نہیں ہے واسم ہمارے بھائی ہیں اور انہوں نے جو بھی کیا بالکل ٹھیک تھا ،،،، جس سے ہم پوری طرح سہمت ہیں اس لیے آپ یہ سب چھوڑیں آئیں سب مل کر چائے پیتے ہیں ۔۔۔۔

بلکہ آج آپ لوگ یہی رک جائیں ہم کسی سے کہہ کر اچھا سا ڈنر تیار کرواتے ہیں ۔۔۔۔

نہیں ضارب بیٹا ہمیں گاؤں میں بہت سے کام ہیں جو جا کر مکمل کرنے ہیں ،،،، اس لیے ہم رات نہیں رک سکتے لیکن ہاں آپ کے ساتھ چائے ضرور پیے گئے ۔۔۔

اسکے بعد وہ ضارب کے ساتھ کچھ وقت گزار کر واپس حویلی کیلئے نکلے تھے لیکن جاتے جاتے اسے اپنا فون اون رکھنے کی ہدایت کرنا نہیں بھولے ،،،، جس کی وجہ سے آج انکا اس سے رابطہ نہیں ہوا تھا تو وہ پریشانی میں آ گئے تھے ۔۔۔۔

*********

واپس حویلی پہنچتے دادا سائیں تو آرام کی غرض سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ،،،،، لیکن ارمغان شاہ کو واسم پر جو غصہ تھا اس کی وجہ سے انہوں نے اسے سٹڈی میں طلب کر لیا تھا ۔۔۔۔

جس کا پیغام ملازمہ اسکے کمرے میں دے آئی تھی ۔۔۔۔

وہ جو اپنے کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر آفس کا کام کر رہا تھا اس اچانک بلاوے پر سب کچھ چھوڑتے سٹڈی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

شاید کسی حد تک وہ سمجھ چکا تھا کہ ارمغان شاہ نے اسے کیوں طلب کیا ہے اس لیے ریلکس سا سٹڈی روم میں داخل ہوتا انہیں سلام کہتا بالکل ان کے سامنے کرسی پر براجمان ہو گیا تھا ۔۔۔۔

لیکن دوسری طرف سے اس کے سلام کا کوئی جواب نہیں آیا تھا ،،،،، اسے وہاں بیٹھے بیٹھے تقریبا دس منٹ سے اوپر کا وقت ہو چکا تھا لیکن ارمغان شاہ کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔

وہ اب بھی کرسی سے سر ٹکائے آنکھیں موند کر ویسے ہی بیٹھے تھے جیسے اس کے آنے سے پہلے تھے ۔۔۔۔

ڈیڈ آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ نے مجھے یہاں کس لیے بلایا تھا یا پھر میں اٹھ کر چلا جاؤں گا ۔۔۔انتظار کرتے کرتے جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا تو اس نے کوفت سے کہا تھا ۔۔۔

کیوں آپ بنا کوئی بات کیے ہمارے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے یا پھر اپنے باپ کے ساتھ بیٹھنے سے آپکا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا ۔۔۔

اسکی بات سن کر انہوں نے بند آنکھوں سے ہی طنز میں ڈوبا جواب دیا تھا ۔۔۔۔جسے سن کر وہ دھیرے سے مسکرایا تھا لیکن آگے سے بولا کچھ نہیں ۔۔۔

جبکہ اس کے جواب نا دینے پر انہوں دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تھی اور اسے ایسے مسکراتے دیکھ انکا پارا کچھ اور ہائی ہوا تھا ۔۔۔۔

کیا میں جان سکتا ہوں واسم شاہ کہ آپ نے جو آج کارنامہ انجام دیا ہے اسکے پیچھے وجہ کیا تھی ۔۔۔ انہوں نے اپنی غصے سرخ ہوئی آنکھیں اسکے چہرے پر ٹکاتے درشتگی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

کونسا ڈیڈ میں نے تو آج ایسا کوئی بھی کام نہیں کیا جس پر آپ ایسے غصہ کر رہے ہیں ،،،،، آپ کونسے کارنامے کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔

سب کچھ جانتے بوجھتے بھی وہ ایسے انجان بن گیا جیسے کچھ جانتا ہی نا ہو ،،،،، جبکہ اسکی معصومیت پر ارمغان شاہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔

آخر تھا تو وہ انکی ہی اولاد الٹی بات کا سیدھا جواب کیسے دیتا ۔۔۔۔

میں ضارب والے معاملے کی بات کر رہا ہوں ،،،،، آپ نے کیا سوچ کر میڈیا کو ایسا جواب دیا تھا ،،،،، آپ کو پتا ہے صرف آپکی وجہ سے انہیں کیا کیا باتیں سننی پڑی ہیں ۔۔۔۔

آپکو تو اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا اور آپ نے صاف جواب دیتے اپنی پیٹھ دکھا دی کم از کم مجھے آپ سے یہ امید تو نہیں تھی ۔۔

دیکھیں ڈیڈ مجھے جو سہی لگا میں نے وہی کیا ،،،،، جس معاملے کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،،،،، جس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ،،،، اس کے بارے میں کیا کہتا اور اگر میں ہمدردی میں آ کر کچھ غلط بول دیتا تو تب بھی آپ نے مجھے ہی قصوروار ٹھہرانا تھا ۔۔۔۔

اس لیے میں نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا ۔۔۔

لیکن تم ضارب کی سپورٹ میں کھڑے تو ہو سکتے تھے ،،،،، یا اس میں بھی تمہارا کوئی نقصان ہو جاتا ،،،،، اسکی ساری باتوں کو ترک کرتے ہوئے وہ اب بھی برہمی سے بولے تھے ۔۔۔۔

ہاں یہ میں مانتا ہوں اس میں میری غلطی ہے جس کی وجہ سے میں آپ سے معذرت بھی کرتا ہوں ،،،،اور آگے سے اس بات کا دھیان بھی رکھوں گا ۔۔۔۔

اب پلیز غصہ ختم کر دیں ،،،،، وہ انکے غصے کو دیکھتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کرتے عاجزی سے بولا تھا ۔۔۔۔

جس پر وہ مانے تھے یا نہیں لیکن خاموش ضرور ہو گئے تھے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *