Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 100)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 100)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
قرآن پاک کے سائے تلے رومان شاہ اپنی گڑیا کو سینے سے لگائے ہال کے اینٹرس پر گاڑی تک لایا تھا ۔۔۔
جسکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرتے اسکے کوٹ کو بھیگا رہے تھے ۔۔۔
گاڑی کے قریب پہنچتے اس نے تاشے کو دھیرے سے خود سے الگ کیا ۔۔۔
اور بہت نرمی سے اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے اسکی صبیح پیشانی پر محبت سے بوسہ دیا ۔۔۔
صدا خوش رہے میری گڑیا بس یہی دعا ہے ۔۔۔
بھائی ۔۔۔”
رومان کے مسکرانے پر وہ شدت سے روتی ہوئی ایک بار پھر اسکے سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔
جسے دیکھ کر وہاں موجود تمام عورتوں سمیت مردوں کی آنکھیں بھی نم ہوئیں تھیں ۔۔۔
نجمہ بیگم کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی زرمینے کو ہی دوبارہ رخصت کر رہی ہیں ۔۔۔بس فرق صرف اتنا تھا کہ اس نے رخصت ہو کر شاہ حویلی واپس لوٹ کر نہیں جانا تھا ۔۔
بلکہ خان ولا کی رونق بننا تھا ۔۔۔جسکے بارے میں سوچ کر انکا دل کٹ رہا تھا ۔۔۔
تاشے کے یوں رونے پر جہاں ابیہا زرمینے کی آنکھیں چھلکی تھیں ۔۔۔وہی ابرش نے بچوں کی طرح رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
جسے فورا ہی عظمی بیگم نے اپنے سینے میں بھینچا وہ علیحدہ بات تھی کہ آنسو انکی آنکھوں سے بھی متواتر بہہ رہے تھے ۔۔۔
خان نے لب بھینچ کر اپنی زوجہ محترمہ کو دیکھا تھا جو اپنے بھائی کا پہلو چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھیں ۔۔۔جبکہ اسکے بہتے ہوئے آنسو اسے اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔
گڑیا رخصتی کیلئے دیری ہو رہی ہے ۔۔۔اسے خود سے الگ نا ہوتے دیکھ رومان نے پیار سے سمجھانا چاہا ۔۔۔
جس پر فورا ہی تاشے نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
مجھے کہیں نہیں جانا آپکو چھوڑ کر ۔۔۔آپ بارات واپس بھیج دیں ۔۔۔ضدی لہجے میں کہتے ہوئے اسکے سینے میں مزید چہرہ چھپایا ۔۔۔
تاشے کی معصوم بات پر جہاں سب لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ چھلکی تھی وہی شہیر خان کے دل کو ہاتھ پڑا تھا ۔۔۔
اس نے حیرت اور پریشانی سے تاشے کی پشت کو دیکھا ۔۔۔اسکے چہرے کی اڑی رنگت کو دیکھتے ۔۔۔
زارون شاہ سمیت رومان نے بھی قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔جبکہ ضارب واسم کے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ تھی ۔۔۔
جس پر وہ خجل سا ہوتا فورا چہرہ جھکا گیا ۔۔۔
تاشے گڑیا آپ تو میری سمجھدار بہن ہیں نا پھر کیوں ضد کر رہی ہیں ؟؟؟
رومان کو بےبس ہوتے دیکھ ضارب مسکراتے ہوئے آگے بڑھا تھا ۔۔۔اور تاشے کو رومان سے الگ کرتے ہوئے پیار سے بولا ۔۔۔
لالا مجھے نہیں جانا کہیں بھی کسی کے ساتھ ۔۔۔
ضدی لہجے میں کہتے اس نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلایا ،،، جبکہ آنکھوں سے آنسو اب بھی جاری تھے ۔۔۔
جسے دیکھتے ضارب نے نرمی سے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔
ایسا نہیں ہوتا نا گڑیا ،،،، یہ تو دنیا کی ریت ہے جسے ہر حال میں نبھانا ہی پڑتا ہے ۔۔۔
لالا ہمیشہ لڑکیوں کو ہی کیوں یہ ریت نبھانی پڑتی ہے لڑکوں کو کیوں نہیں ۔۔۔
کیونکہ بیٹیاں بہادر ہونے کے ساتھ بہت نرم دل کی مالک ہوتیں ہیں ۔۔۔جو اپنوں کو چھوڑ کر غیروں کو بھی بہت جلد اپنا بنا لیتی ہیں ۔۔۔انکے دل میں بہت وسعات ہوتی ہے ۔۔۔وہ ہر درد غم سہہ کر بھی مسکراتیں ہیں ۔۔۔جبکہ مرد کا دل اتنا وسیع نہیں ہوتا ۔۔۔
نرمی سے سمجھاتے ہوئے اسکے سر پر پیار کیا ۔۔۔
پھر بھی لالا ،،،، اوں ہوں اچھے بچے ضد نہیں کرتے ۔۔۔تاشے نے الگ ہو کر کچھ کہنا چاہا جب ضارب نے نفی میں سر ہلاتے اسکے آنسو صاف کیے اور اسے ساتھ لیتے خود آگے بڑھ کر اس کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔
جس پر تاشے نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا اور پھر ایک نظر اپنے بھائی کی طرف جسکی آنکھوں میں نمی جبکہ ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ تھی ۔۔۔
جسے دیکھنے کے بعد وہ نا چاہتے ہوئے بھی نم آنکھوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی ۔۔۔جسکے بیٹھنے پر باقی سب کا تو پتا نہیں البتہ شہیر خان نے ضرور سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔پھر مسکراتے ہوئے سب سے ملنے لگا ۔۔۔
خان لالا یہاں سب سے ملنے ملانے پر مزید ٹائم ویسٹ نا کریں کہیں ایسا نا آپکی دلہن کا موڈ پھر سے بدل جائے ،،،، اور تاشے کی بجائے آپکو اپنا بوریہ بستر لے کر شاہ حویلی میں شفٹ ہونا پڑے ۔۔۔
خان سے گلے ملتے ہوئے زارون شاہ شرارت سے گویا ہوا تھا ۔۔۔جس پر ایک نرم مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آئی تھی ۔۔۔
خان تو اپنی محبت کیلئے یہ دنیا چھوڑ دے گھر بار چھوڑنا کونسی بڑی چیز چھوٹے سائیں ۔۔۔
مسکرا کر زارون کی طرف دیکھتا ۔۔۔ضارب شاہ سے اجازت لیتا دوسری طرف سے آ کر گاڑی میں براجمان ہوا ۔۔۔
جسکے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔۔
جبکہ پیچھے اسکے لفظوں کو یاد کرتے زارون شاہ نے مسکراتے ہوئے تاشے کی قسمت پر رشک کرتے ان دونوں کی خوشیوں کیلئے دعا کی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
خان ولا پہنچتے ہی ان دونوں کا شاندار استقبال کیا گیا تھا ۔۔۔
ظفر خان نے نا صرف ان کے سر پر سے ہزاروں روپے وار کر ملازموں کو دیئے بلکہ اکٹھے تین چار بھاری خوبصورت بکروں کو انکا ہاتھ لگوا کر صدقہ کیا گیا ۔۔۔
انکی اتنی محبت اور ماں سا کی چاہت کو دیکھتے ہوئے تاشے کے چہرے پر بھی بھولی بسری سی مسکراہٹ نے اپنا احاطہ کیا تھا ۔۔۔
ویسے تو ماں سا اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی پر بہت ساری رسمیں کرنا چاہتیں تھیں ۔۔۔لیکن تاشے کی طبیعت کا خیال کرتے جسکا نازک وجود ابھی بھی ہلکے ہلکے بخار سے تپ رہا تھا ۔۔۔
قرآن پاک پڑھوانے اور کھیر سے منہ میٹھا کروانے کی رسم کے بعد اسے شہیر خان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا ۔۔۔
البتہ شہیر ابھی بھی اپنے دوستوں اور کزنوں کے ساتھ مصروف تھا جو اتنی جلدی اسکی جان چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے ۔۔۔
شہیر خان کی والدہ تاشے کو اسکے کمرے میں بٹھا کر آرام کرنے اور اپنا خیال رکھنے کی تنقید کرتیں مسکرا کر اسکی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے چلی گئیں تھیں ۔۔۔
جنکے جاتے ہی تاشے جس نے رسمی سی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا رکھی تھی ۔۔۔
اسکے چہرے کے تاثرات سپاٹ ہوئے تھے ۔۔۔اس نے سرسری سی نظر شہیر خان کے وسیع کمرے پر دوڑائی تھی ۔۔۔جسکی ہر چیز اس کمرے کے مالک کے اعلی ذوق کا ثبوت تھی ۔۔۔
اوپر سے گلاب موتیے اور سینٹ کینڈلز کی سجاوٹ نے اسے اور بھی خوبصورت بنا دیا تھا ۔۔۔
تاشے کی نظریں سائڈ ٹیبل پر سجی شہیر کی تصویر پر آ کر رکی تھی ۔۔
جس میں ہمیشہ کی طرح وہ بہت ہینڈسم اور کول لگ رہا تھا ۔۔۔لیکن آج اسے دیکھ کر تاشے کی دل کی دھڑکن نہیں بڑھی تھی ۔۔۔
بلکہ اس دن کی جانے والی اپنی تذلیل یاد آئی تھی ۔۔۔جس سے ایک غصے کی لہر اسکے وجود میں سرائیت کر گئی ۔۔۔
اس نے ایک نظر آئینے میں نظر آتے اپنے سجے سنورے روپ کو دیکھا ۔۔۔
جس سے ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔
وہ اپنی کی جانے والی بےعزتی کیلئے کبھی بھی شہیر خان کو معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔۔۔تو پھر کیونکر سج سنور کر اسکا انتظار کرتی ۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی ۔۔۔اور اپنی جیولری اتارنی شروع کی ۔۔۔
اتار بھی کیا رہی تھی بلکہ نوچ نوچ کر پھینک رہی تھی ۔۔۔اور ساتھ ساتھ آنکھوں سے گرم سیال بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔
ناک میں پہنی نتھ کو اتارتے وہ اچھا خاصہ خود کو زخمی کر چکی تھی ۔۔۔لیکن غصہ اس حد تک زیادہ تھا کہ اسے کوئی بھی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
ہاتھوں میں پہنے کنگن اور چوڑیوں کو اتارتے اس نے سر پر پنز کے سہارے ٹکے ڈوپٹے کو کھینچ کر اتارا تھا اور اسے زمین پر پھینکنے کے بعد تیز قدموں سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
دوسری طرف خان جو بمشکل اپنے کزنز سے جان چھڑوا کر آیا تھا ۔۔۔دروازہ کھولتے ہی اسکی پہلی نظر زمین پر پڑے تاشے کے ڈوپٹے پر پڑی تھی اور پھر ڈریسنگ ٹیبل اور کچھ زمین پر بکھری اسکی جیولری پر ۔۔۔
جس سے اسکے لبوں پر چھائی مسکراہٹ سمٹی تھی ۔۔۔
اسی وقت تاشے ڈریسنگ روم سے کپڑے لے کر نکلی ،،،، جسکی سیدھی نظر دروازے میں کھڑے شہیر خان پر پڑی ۔۔
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ اگنور کرتی ہوئی واشروم کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔
اور اس سے پہلے وہ واشروم میں بند ہوتی ۔۔۔شہیر خان غصے سے دروازہ بند کرتے تیز قدموں سے لمبے ڈگ بھرتا اسکے قریب پہنچ کر اسکا نازک ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔
تاشے نے پلٹ کر اسکے ہاتھ میں پکڑے اپنے ہاتھ کو دیکھتے غصے سے اسے گھورا ۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے شہیر خان ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔۔آپکی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ۔۔۔
اسکی گرفت سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔
جس پر شہیر نے اسے سپاٹ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
بدتمیزی میں نہیں بلکہ آپ کر رہی ہیں ۔۔۔شوہر ہوں میں آپکا ،،،، مکمل حق رکھتا ہوں آپ پر ۔۔اس لیے یہ بات تو نا ہی کریں تو بہتر ہوگا ۔۔۔
اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے قریب کرتا سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا ؟؟؟
نہیں چھوڑوں تو کیا کر لیں گی آپ ؟؟؟؟
اسکی آنکھوں میں دیکھتے دوبدو بولا تھا ۔۔۔جس پر تاشے نے غصے سے دانت پیسے تھے ۔۔۔
شہیر خان میں آپ سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔بہتر یہی ہوگا آپ شرافت سے میرا ہاتھ چھوڑ دیں ورنہ ۔۔۔۔
تاشے کے لہجے میں وارننگ تھی ۔۔۔
ورنہ کیا ؟؟؟؟
شہیر کی آنکھوں میں چیلنج تھا ۔۔۔جسے دیکھنے کے بعد تاشے کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا تھا ۔۔۔اور اس نے آو دیکھا نا تاو ۔۔۔اپنے تیز دانت اسکے ہاتھ میں گاڑھ دیئے ۔۔۔
لیکن شہیر کے منہ سے افف تک نا نکلی ۔۔۔بلکہ ان سب کے دوران وہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
تاشے کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ گھلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
جس پر وہ فورا پیچھے ہوئی ۔۔۔
شہیر خان نے ایک نظر اپنے ہاتھ کو دیکھا جس پر اچھا خاصا زخم بن چکا تھا اور پھر بہت محبت سے اسکے چہرے کی طرف جسکے سرخ لبوں پر اسکا خون لگا ہوا تھا ،،، بکھرے ہوئے بال اور گہری سانسیں لیتا اسکا وجود شہیر کو اس پر کسی خون پینے والی ویمپ کا گمان ہوا تھا۔۔۔
جسکی خوبصورتی میں اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس اب تاشے کی آنکھوں میں بےبسی سے آنسو آ گئے تھے ۔۔۔
جسے دیکھنے کے بعد وہ اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔
تاشے ۔۔۔
شہیر کے لہجے میں ایک آنچ تھی ۔۔۔
تاشے نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔شہیر نے اسکے ہاتھ سے کپڑے لے کر ایک طرف رکھے صوفے پر پھینکے اور مزید قریب ہوتے اسکے دونوں ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔
کیوں تھکا رہی ہیں خود کو بھی اور مجھ کو بھی ،،،، آخر مجھ سے ایسی کونسی غلطی سرزرد ہوئی ہے جس کی آپ یوں مجھے سزا دے رہی ہیں ۔۔۔
اسکی پیشانی پر اپنی پیشانی ٹکاتے پرسوز لہجے میں بولا ۔۔۔
اسکے یوں قریب آنے پر تاشے کا دل دھڑکا لیکن ساتھ میں اپنی بےعزتی بھی یاد آئی ۔۔۔
اسکی گرفت ہلکی محسوس کر کے ہاتھ چھڑوا کر وہ فورا پیچھے ہوئی ۔۔۔
واہ کتنی جلدی بھول گئے آپ شہیر خان ۔۔۔
لیکن میں نہیں بھولی ،،،، نہیں بھولی میں وہ بےعزتی جو آپ نے میری کی تھی ،،،، میرے کردار کو نشانہ بنایا ۔۔۔آخر کیا قصور تھا میرا ؟؟؟؟ صرف اتنا ہی نا کہ میں نے آپ سے محبت کی ،،،، جسکے اظہار سے پہلے ہی آپ نے اسکا گلا بےدردی سے گھونٹتے میری عزت نفس کی توہین کی ۔۔۔
میری نسوانیت کی توہین کی ۔۔۔
کیا بولا تھا آپ نے اچھی لڑکیوں کو یہ سب حرکتیں زیب نہیں دیتیں ۔۔۔اپنے جذبات پر قابو رکھنا سیکھیں ۔۔۔
میرے اندر ایسی کونسی غلط حرکتیں دیکھ لیں تھیں آپ نے جو ایسے لفظوں سے میری تذلیل کی ،،،، مجھے یہ احساس دلا کر کہ میرا کردار اچھا نہیں مجھے میری ہی نظروں سے گرانا چاہا ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر وہ غصے سے روتے ہوئے چلائی ۔۔۔
آپ سوچ بھی نہیں سکتے آپکے ان لفظوں نے میری روح کو کتنی تکلیف پہنچائی ،،،، کتنی راتیں میں نے صرف یہ سوچ سوچ کر روتے ہوئے نکال دی کہ پتا نہیں میرا کردار کیسا ہے ۔۔۔کہ وہ شخص جسے میں نے اپنے بھائی کے بعد سب سے زیادہ چاہا دعاؤں میں مانگا وہی مجھے میرے کردار کے طعنے دے رہا ہے۔۔۔
شدت سے روتے ہوئے وہ ٹوٹ کر بکھرتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔
ہلکے ہو چکے بخار کی شدت اب پھر سے تیز ہونے لگی تھی ۔۔۔اور اس نے صبح سےسوائے ایک جوس کا گلاس پینے کے کچھ کھایا بھی نہیں تھا ۔۔۔
جس کی وجہ سے اسے چکر آنے لگے تھے ،،، پورے وجود سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
تاشے ۔۔۔آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔
اسکے زمین پر بیٹھنے پر شہیر فورا گھٹنوں کے بل بیٹھتا اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔
جب تاشے نے اسکے ہاتھوں کو جھٹکنا چاہا ۔۔۔لیکن وہ اسے زبردستی گود میں اٹھا کر بیڈ پر بٹھاتا خود اسکے قدموں میں بیٹھا ۔۔۔
صرف ایک بار میری بات سن لیں ۔۔۔
نہیں سننی مجھے آپکی کوئی بھی بات ۔۔۔آپ کو سننی ہوگی ۔۔۔اسکے انکار پر اب کے وہ غصے سے دھاڑا ۔۔۔
جس پر وہ کانپی تھی ۔۔۔
آپکو کیا لگتا ہے ۔۔۔آپکو یہ سب باتیں کر کے میں سکون میں رہا ۔۔۔اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے جو منہ سے یہ الفاظ نکالتے وقت خون کے آنسو رو رہا تھا ،،،، صرف آپکو خود سے بدزن کرنے کیلئے بولا تھا ۔۔۔
تاکہ آپ دوبارہ میرے قریب آنے کی کوشش نا کریں ۔۔۔آپ میرے سردار سائیں کے گھر کی عزت تھیں ،،،، میں کیسے آپکو بڑھاوا دیتا ۔۔۔ میں کیسے اپنے سائیں کو دھوکا دے دیتا ،،،، انکے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ،،،، آپ سمجھتی کیوں نہیں میری مجبوری ۔۔۔
وہ بےبس ہوتے چلایا تھا ۔۔۔
تاشے کے بہتے ہوئے آنسو تھمے ۔۔۔
لیکن اسکا مطلب یہ تو نہیں آپ میری کردار کشی کرتے ۔۔۔
تاشے کے لہجے میں گہرا درد بول رہا تھا ۔۔۔
میری بات سنے ۔۔۔اسکے لہجے کے درد کو محسوس کرتے وہ ایک بار پھر اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔
آپ نے میری بات کا غلط مطلب نکالا ہے ۔۔۔میں نے کوئی بھی آپکی کردار کشی نہیں کی ۔۔۔بس یہ بولا تھا ،،،، کہ اپنے جذبات کو کنٹرول کریں ۔۔۔
کیونکہ میں جانتا تھا جس راہ کی آپ مسافر بن رہی ہیں اسکی کوئی منزل نہیں ۔۔۔
میری آپکے ساتھ شادی کبھی بھی نہیں ہو سکتی تھی ۔۔۔
اچھا تو پھر آج کیسے ہو گئی ؟؟؟
مجھے نہیں پتا ۔۔۔
ایک حرفی جواب ۔۔۔
پھر جھوٹ آپ نے مجھے بچی سمجھ رکھا ہے ۔۔۔کہ جو آپ کہتے جائیں گے میں مانتی جاؤں گی ۔۔۔
شہیر خان نے بےبسی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
میرا یقین کریں ۔۔۔مجھے سچ میں نہیں پتا تھا میری شادی آپ کے ساتھ ہو رہی ہے ۔۔۔وہ تو سردار سائیں
اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتے وہ اسے بتانا چاہتا تھا جو کچھ بھی کیا ضارب شاہ نے کیا ۔۔۔
لیکن اس سے پہلے وہ اسکے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے اٹھی تھی ۔۔۔
نہیں سننی مجھے کوئی بھی بات آپکی اور نا ہی یقین کرنا ہے ۔۔۔سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے وہ وہاں سے جانے لگی جب شہیر نے تیزی سے اسکا ہاتھ تھامتے اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔
جس سے وہ اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔
تاشے نے حیرت بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
جسکا چہرہ اب بالکل سپاٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°
سمجھتی کیا ہیں آپ خود کو ہاں ۔۔۔
کب سے پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں ،،، لیکن آپکی سوئی ہے کہ ایک ہی بات پر اٹکی ہوئی ہے ۔۔۔
اسکے ہاتھ پر پکڑ مظبوط کرتے غصے سے بولا ۔۔۔
شہیر ۔۔۔”
تاشے نے تکلیف محسوس کرتے اسے ٹوکنا چاہا ۔۔۔جب شہیر خان نے اسکے لبوں پر انگلی رکھتے اسے خاموش کروایا ۔۔۔
اب آپکی آواز نا آئے ۔۔۔
اس کے لہجے میں وارننگ تھی ۔۔۔
جبکہ اسکے پل میں بدلتے روپ کو دیکھ کر وہ سہمی ۔۔۔
پہلی بات میں نے آپ سے کوئی جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔مجھے سچ میں نہیں پتا تھا کہ میری شادی آپ سے ہو رہی ہے ۔۔۔
یہ سب کچھ سردار سائیں نے کیا ۔۔۔مجھے تو خبر تک نہیں تھی ۔۔۔مجھے خود جب آپ ہال میں آئی تب پتا چلا ۔۔۔ایون نکاح کے وقت بھی میرے حواسوں پر آپ اس قدر حاوی تھیں کہ میں دلہن کا نام بھی ٹھیک سے سن نہیں پایا ۔۔۔
اس چیز سے ہی اندازہ لگا لیں کہ مجھے آپ سے کتنی محبت ہے ۔۔۔
اور آپ کہہ رہی ہیں ۔۔۔میں آپ سے جھوٹ بول رہا ہوں ۔۔۔
آپ خود ہی بتائیں آپ سے جھوٹ بول کر مجھے کیا حاصل ہو جائے گا ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔
تاشے نے اسکی آنکھوں میں سچائی دیکھتے نظریں جھکائیں ۔۔۔
میری سانسوں میں بسی ہیں آپ ۔۔۔میرے دل کی دھڑکن ہیں ۔۔۔میرے رب سے مانگی ہوئی پہلی اور آخری دعا ۔۔۔میں آپکو تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔
اس لیے یہ بات دل سے نکال دیں کہ میں نے آپکی کردار کشی کی ۔۔۔میں مر کر بھی کبھی آپکے بارے میں ایسا نہیں سوچ سکتا ۔۔۔
دھیمے لہجے میں بولتے ہوئے اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکائی ۔۔۔
یکدم ہی اسکے لہجے میں ایک تھکن اتر آئی تھی ۔۔۔جسے تاشے نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔
اور ساتھ اسکی قربت کا بھی احساس ہوا ۔۔۔شہیر خان کی گرم سانسیں اسکی پہلے سے بخار میں سلگتی سانسوں سے ٹکرانے لگیں ۔۔۔اسکے وجود سے اٹھتی مہنگے کلون کی خوشبو تاشے کے حواسوں پر سوار ہونے لگی ۔۔۔ بخار میں تپتا اسکا چہرہ مزید سرخ ہونے لگا ۔۔۔
اس نے کسمساتے ہوئے اسکے حصار سے نکلنا چاہا ۔۔۔لیکن شہیر نے اپنی گرفت مظبوط کرتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔۔
چھو ،،،، چھوڑیں مجھے ۔۔۔
لاکھ کوشش کے باوجود بھی اسکا لہجہ لڑکھڑا گیا ۔۔۔
یقین کریں میرا ،،،، آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ،،،، اور اب سے نہیں بلکہ تب سے جب آپکو پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔آپکے یہ بھیگے سرمئی نین ،،،، میرے دل میں گھر کر گئے ۔۔۔زندگی میں پہلی بار میں نے خود اپنی دھڑکنوں کو تیز ہوتے دیکھا ،،،، کسی کیلئے بےقرار ہوتے سنا۔۔۔
شہیر نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ایک بار پھر اپنی محبت کا یقین دلانا چاہا ۔۔۔
تاشے نے جھکی پلکیں اٹھائیں ۔۔۔
جو سیدھا اسکے شربتی نینوں سے ٹکرائیں ،،،، جن میں اس کیلئے محبت کا ایک جہان آباد تھا ۔۔۔
جسکی تاب نا لاتے وہ خود با خود لرز کر جھک گئیں ۔۔۔
شہیر نے اس خوبصورت منظر کو دیکھتے جھک کر نرمی سے باری باری انہیں چھوا ۔۔۔
اسکے ہونٹوں کے نرم جبکہ داڑھی مونچھوں کے چبھتے لمس پر وہ لرزی ۔۔۔
شہیر ۔۔۔
گہرا سانس لیتے وہ اسکا نام پکار گئی ۔۔۔
جس سے اسکی تپش زدہ سانسوں کی خوشبو شہیر خان کی سانسوں سے ٹکرائی۔۔۔
شہیر نے بہت قریب سے اسکے خوبصورت چہرے کو دیکھا ۔۔۔سرمئی نینا پر جھکیں دراز لرزتی ہوئی پلکیں ۔۔۔
جن میں اسے اپنا دل اٹکتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
چھوٹی سی ستواں ناک جو تاشے کے ظلم کی وجہ سے اچھی خاصی زخمی ہو چکی تھی ۔۔۔اس پر ٹھہری خون کی ننھی بوند جو اب جم چکی تھی ۔۔۔جسے دیکھتے اسے افسوس نے گھیرہ تھا ۔۔۔
کتنی ظالم ہیں آپ ،،، کتنا ظلم کیا ہے مجھ پر ۔۔۔
گھمبیر لہجے میں شکایت کرتے ہوئے بہت نرمی سے اسکے زخم پر اپنے دہکتے ہونٹ رکھے ۔۔۔
اسکی سرگوشی اسکے دہکتے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے تاشے کو اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی ۔۔۔
اسکی سانسیں اٹکنے لگیں ۔۔۔
شہیر پلیز ۔۔۔
اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کرنا چاہا ،،،، لیکن شاید وہ ابھی اسے رہائی دینے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔
اس لیے اسکے دہکتے ہوئے لب نرمی سے اسکے سرخ بخار سے تپتے ہوئے نرم و نازک گال پر سرک آئے تھے ۔۔۔
جسے محسوس کرتے اس نے سختی سے آنکھیں بند کرتے شہیر کی پہنی ہوئی شیروانی پر ہاتھوں کی پکڑ مظبوط کی ۔۔۔
شہیر کی جان بہت تڑپا ہوں میں آپ کیلئے ۔۔۔آپکی محبت کیلئے ۔۔۔جو مجھے اپنی دسترس سے بہت دور جاتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔آپکو کبھی نا حاصل کر پانے کا درد ۔۔۔سب کچھ ہوتے ہوئے بھی آپ تک رسائی حاصل نا کر پانے پر خود میں جاگتا ایک کم مائگی کا احساس ،،،، مجھے اندر ہی اندر ختم کرتا جا رہا تھا ۔۔۔
اور آج آپ میری دسترس میں مکمل میری ہو کر کھڑی ہیں ۔۔کم از کم مجھے اس خوشی کو محسوس تو کر لینے دیں ۔۔۔
اپنے دیوانے کو اتنا یقین تو آ لینے دیں کہ خدا پاک نے آپکو میرے مقدر میں میرا نصیب بنا کر ہمیشہ کیلئے لکھ دیا ہے ۔۔۔
اسکی سانسوں کے قریب ہوتے وہ ایک دیوانگی کے عالم میں بولا تھا ۔۔۔جس پر زرتاشے نے ششدر ہوتے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
جس سے بالکل انجان وہ اسکے سرخ لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے نرمی سے ان پر جھکا ۔۔
ابھی شہیر کے ہونٹوں نے نرمی سے تاشے کے ہونٹوں کو چھوا ہی تھا ۔۔۔جب وہ اسے پیچھے دھکا دیتی ہوئی اسکے حصار سے نکل کر اپنا رخ پلٹ گئی ۔۔۔
تاشے نے بمشکل خود کو سنبھالتے اپنے ہاتھ تیز دھڑکتے ہوئے دل کے مقام پر رکھے ،،، جو پسلیوں سے ٹکراتے باہر آنے کے در پر تھا ۔۔۔
جبکہ اسکے اظہار محبت پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔
اسے یکدم ہی اپنی قسمت پر رشک محسوس ہوا تھا ۔۔۔
دوسری طرف شہیر ابھی تک اپنے خالی ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جسے جھٹک کر وہ اسکے حصار سے نکلی تھی ۔۔۔
مطلب کہ اتنا سب کچھ کہنے اور اپنی محبت کا احساس دلانے کے باوجود بھی اسے شہیر کی بات پر یقین نہیں تھا ۔۔۔وہ اب بھی اسے جھوٹا سمجھ رہی تھی ۔۔۔
اس نے آنکھوں میں سرخی لے کر اسکی پشت کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو ،،، لب بھینچ کر اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو قابو کرتے تیز قدموں سے واشروم کی طرف بڑھا ۔۔۔
اور دروازہ اتنے زور سے بند کیا ،،، کہ تاشے جو اب تک اسکے لفظوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی اپنی جگہ اچھل کر رہ گئی ۔۔۔
اس نے حیرت سے پلٹ کر واشروم کے بند دروازے کو دیکھا ،،،، شہیر ۔۔۔”
اسے یکدم اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
تقریبا پندرہ منٹ کے بعد وہ شاور لے کر رف سے ٹراوزر شرٹ میں باہر نکلا اور تاشے جو اسکے انتظار میں مضطرب سی بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔اسے یکسر فراموش کیے ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنانے لگا ۔۔۔
تاشے نے مسکراہٹ چھپا کر اسکے بنے ہوئے منہ کو دیکھا ۔۔۔پھر اپنا بھاری لہنگا سنبھالتے ہوئے دھیمے قدم اٹھاتی اسکے قریب آ کر رکی ۔۔۔
جسکی موجودگی کو محسوس کرنے کے باوجود بھی اس نے کوئی رسپانس دینا ضروری نا سمجھا ۔۔۔
اور برش ٹیبل پر رکھتے اسے نظرانداز کرتے ہوئے سائڈ سے نکلنے لگا جب اسکی مظبوط کلائی کو تاشے نے اپنے نازک ہاتھوں سے تھاما ۔۔۔
شہیر نے سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
سوری ۔۔۔
اسکے قریب ہوتے آنکھوں میں دیکھتی بولی ۔۔۔
لیکن شہیر نے جواب دینا ضروری نا سمجھا ۔۔۔اور خاموشی سے اسکے ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھنے لگا ،،، تاکہ کسی اور روم میں جا کر سو سکے ۔۔۔جب تاشے ایک بار پھر اسکے راستے میں حائل ہوئی تھی ۔۔۔
کیا چاہتیں ہیں آپ ؟؟؟
گہرا سانس لے کر دبے دبے سے غصے بولا ۔۔۔
آپکو ۔۔۔
فورا ایک حرفی جواب آیا تھا ۔۔۔
جس پر طنزیہ مسکرایا ۔۔۔کیوں اب اس جھوٹے کی باتوں پر یقین آ گیا ہے ۔۔۔
اسکے لبوں پر کھلتی مسکراہٹ کو دیکھتے استہزائیہ بولا ۔۔۔
صرف ایک آپ پر ہی تو یقین ہے ۔۔۔
وہ اسکے طنز کا بنا برا منائے ایک بار پھر قریب ہوئی تھی ۔۔۔
ہاں تبھی تھوڑی دیر پہلے میرے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دھتکار کر میرے حصار سے نکلی تھیں ۔۔۔
شہیر کو ابھی تک وہ منظر نہیں بھول رہا تھا جب وہ اسے پیچھے دھکیل کر اس سے دور ہوئی تھی ۔۔۔
آپ مجھے غلط سمجھ رہیں ہیں ۔۔۔میں اس وجہ سے نہیں بلکہ ،،،، آپ نے جس بھی وجہ سے کیا ہو ،،، مجھے اس سے سروکار نہیں اور آج کے بعد آپ اس جھوٹے شخص کو کبھی اپنے قریب آتے ہوئے نہیں دیکھیں گی ۔۔۔
دوٹوک کہتے اسے سائڈ کرنے لگا ،،، وہ اسکے کالر کو تھامتے ہوئے مزید اسکے قریب ہوئی تھی ۔۔۔
میرے قریب نہیں آئیں گے تو کس قریب جائیں گے ؟؟؟
جس کے پاس مرضی جاؤں آپکو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔
اپنے کالر پر جمے اسکے ہاتھوں کو دیکھتے وہ بھی اسی کے انداز میں بولا ۔۔۔
ایسے کیسے مطلب نہیں ہونا چاہیے ،،، آپکے سارے مطلب اب صرف اور صرف مجھ سے وابستہ ہیں بھولیں مت بیوی ہوں میں آپکی ۔۔۔
تاشے کے لہجے میں حق بول رہا تھا ۔۔۔
اسکے یوں حق جتانے پر شہیر کو خوشی تو بہت ہوئی لیکن چہرے سے ظاہر نا ہونے دیا ۔۔۔
ہاں وہی بیوی جو میرے قریب آنے پر پیچھے دھکیل دیتی ہے۔۔۔تب آپکو یاد نہیں ہوتا اس رشتے کے ناطے میرا بھی آپ پر کچھ حق بنتا ہے ۔۔۔
جس پر ایک حسین مسکراہٹ نے تاشے کے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔لیکن پھر شہیر کے گھورنے پر فورا سیدھی ہوئی ۔۔۔
میں نے آپکو جان بھوج کر نہیں دھکیلا بس اچانک سے آپکی اتنی قربت میرا دل برداشت نہیں کر پایا تھا ۔۔۔
اوپر سے میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ،،،، دل ویسے ہی گھبرائے جا رہا تھا ۔۔۔آپ سمجھتے کیوں نہیں ۔۔۔
اسکی ناراضگی اور اپنی بےبسی پر تاشے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔
شہیر نے چونک کر اسکے سرخ چہرے کی طرف دیکھا ،،،، اپنے غصے میں وہ اسکی طبیعت کو تو بالکل فراموش کر چکا تھا ۔۔۔حالانکہ اسکے قریب جانے پر اچھی خاصی اسکے وجود کی گرمائش کا احساس ہوا تھا لیکن جذبات کے رو میں بہتے اس نے دھیان نہیں دیا ۔۔۔
آپ نے میڈیسن لی تھی ۔۔۔اسے روتے ہوئے دیکھ کر اپنے سینے سے لگاتا اس بار پیار سے بولا ۔۔۔
ہمم ماما نے دی تھی ۔۔۔
اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپاتے اسکی پشت پر پکڑ مظبوط کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا ۔۔۔
کچھ کھایا بھی تھا یا نہیں ۔۔۔
بس جوس پیا تھا ۔۔۔
کمال کرتیں ہیں آپ ،،،، آپکی اتنی طبیعت خراب تھی اور آپ نے صرف جوس پیا تھا ۔۔۔
اسے خود سے الگ کرتے ہوئے ذرا غصے سے ڈانٹا ۔۔۔
شہیر ۔۔۔”
تاشے نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اسکے لہجے کا احساس کروایا ۔۔۔جس پر شہیر نے گہرا سانس کھینچتے ہوئے اسے گود میں اٹھایا اور قدم بیڈ کی طرف بڑھائے ۔۔۔
آپ خود سے اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتیں ہیں ؟؟؟
نرمی سے اسے بیڈ پر بٹھاتے حیرت سے بولا ۔۔۔جب تاشے نے اسکے گلے میں بازو باندھتے اسے خود پر جھکایا ۔۔۔
مجھے لگا تھا میں نے آپکو ہمیشہ کیلئے کھو دیا ۔۔۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے ،،،، میں نے یہ دن کیسے گزارے ،،،، جیسے جیسے شادی کے دن قریب آ رہے تھے ،،،، میرے اندر جینے کی امنگ ختم ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
کیونکہ آپ صرف میری محبت ہی نہیں بلکہ جینے کی وجہ بھی ہیں ۔۔۔آپکو چھوڑ کر کسی اور کا بن کر جینا میرے ساتھ میرے دل کو بھی گوارہ نہیں تھا ۔۔۔
پرسوز لہجے میں بولتے ہوئے اسکی سانسوں کے قریب ہوئی تھی جس سے وہ ایک بار پھر بہکنے لگا تھا ۔۔۔
اسکی مہکتی سانسوں کی خوشبو اسکے حواسوں پر چھانے لگی ۔۔تبھی تو باقی باتوں کو پس و پشت ڈالتے اسکے لبوں پر جھکا ۔۔۔ابھی ٹھیک سے شہیر کے لب تاشے کے لبوں سے ٹچ بھی نہیں ہوئے تھے ،،،، جب گھبراہٹ کی وجہ سے اس نے اپنا رخ پھیرا ۔۔۔
اسکی قربت سے ناجانے کیوں تاشے کی سانسیں رکنے لگتی تھیں ۔۔۔
شہیر نے اس کے عمل پر لب بھینچ کر اسکی طرف دیکھا ،،،، لیکن پھر اسکی طبیعت کا خیال کرتے پیچھے ہونے لگا ۔۔۔جب تاشے نے اسکی گردن پر دباؤ ڈالتے دوبارہ خود پر جھکایا ۔۔۔
سوری ۔۔۔
نرمی سے کہتے ہوئے دھیرے سے اسکے لبوں کو چھوا ۔۔۔
اسکی یہ حرکت شہیر خان کے خود پر کیے ضبط کو توڑنے کا سبب بنی ۔۔۔اور وہ اپنی تمام تر شدتوں سے اس پر جھکا ۔۔۔
جس کا بوجھ نا سہارتے وہ بیڈ لیٹتی چلی گئی ۔۔۔شہیر نے بنا اس سے الگ ہوئے نرمی سے اسے کمر سے تھام کر اوپر کرتے اسے بیڈ پر ٹھیک سے لٹایا اور پھر اپنے پاؤں کو جوتے کی قید سے آزاد کرتے ہوئے اپنا بھاری بوجھ اسکے نازک وجود پر منتقل کرتے دونوں ہاتھ دائیں بائیں ٹکائے ۔۔۔
لمحے گزرنے لگے ،،،، سانسیں تھمنے لگیں ،،،، لیکن شہیر خان کی تشنگی تھی کہ ہر لمحے کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔۔۔
آکسیجن نا ملنے پر تاشے کے وجود نے جھٹکا کھایا جسے محسوس کر کے وہ دھیرے سے پیچھے ہوا ۔۔۔
اور نرم نگاہوں سے اسکے سرخ چہرے کو تکنے لگا ۔۔۔جو بند آنکھوں کے ساتھ پڑی گہرے سانس بھرتے سانسوں کو سنوارنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
اپنی ذرا سی قربت پر اسکی بگڑتی حالت کو دیکھتے شہیر نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
اور پھر دھیرے سے ایک بار پھر اسکے کھلے لبوں کو چھوتے پیچھے ہونے لگا جب تاشے نے فورا اسکی گردن کو تھامتے ہوئے روکا ۔۔۔
شہیر ۔۔۔”
تاشے کی آنکھوں میں اسکی قربت کی خماری چھائی ہوئی تھی ۔۔۔شہیر نے اسکی آنکھوں میں نظر آتی طلب کو دیکھتے نرمی سے اسکی پیشانی کو چھوا ۔۔۔
آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔آپکو میڈیسن ،،،،
میرے ہر درد کی دوا آپ ہیں ۔۔۔اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے نظریں جھکا کر گہری سانسوں کے درمیان بولی ۔۔۔اور ساتھ اسکی گردن پر اپنی پکڑ مزید مظبوط کی ۔۔۔
شہیر کے لب دھیرے سے مسکرائے ۔۔۔
سوچ لیں ۔۔۔بعد میں اگر کچھ ۔۔۔اسکی جھکی نظروں کو دیکھتے ہوئے نادانستہ بات ادھوری چھوڑی ۔۔۔
اسکی بات سن کر تاشے نے شرم کے بھوج سے بھاری ہوتی پلکوں کی جل مل اٹھائی ۔۔۔
اور اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھتے غصے سے گھورتے ہوئے اپنا رخ بدل گئی ۔۔۔
شہیر نے مسکراتے ہوئے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔پھر کمر پر بکھرے بالوں کو دیکھتے نرمی سے اکٹھا کرتا آگے کندھے پر ڈال گیا ۔۔۔
موتیوں سے بنی لہنگے کی ڈوری جس کے سہارے کرتی کو پیچھے سے باندھا گیا تھا۔۔۔اپنے دانتوں میں لے کر اسے ایک جھٹکے سے کھینچا ۔۔۔
جس سے ڈوری ٹوٹ کر اسکے موتی بیڈ پر جا بجا بکھر گئے ۔۔۔شہیر کی حرکت پر تاشے نے بیڈ شیٹ کو سختی سے ہاتھ میں جکڑا ،،،، شہیر نے کرتی اسکے کندھوں سے سرکاتے ہوئے نرمی سے اسے چھونا شروع کیا ۔۔۔
جسکے سلگتے لمس پر وہ تڑپ کر اسکی طرف پلٹ آئی ۔۔۔اسکی گردن میں جھک کر شدتیں نچھاور کرتا اسے نئے امتحان میں ڈال گیا ۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ اسکی وسیع پشت پر رکھتے تاشے نے اپنے تیز ناخن اسکی کمر پر گاڑھے ۔۔۔
جس نے شہیر خان کے جنون میں مزید اضافہ کیا ۔۔۔اس نے تاشے کے وجود کی نرماہٹوں میں کھوتے لبوں کی بجائے جگہ جگہ اپنے دانت گاڑھے ۔۔۔
جس پر ایک سسکاری سی اسکے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔لیکن اس نے شہیر کو روکا نہیں ،،،، لب بھینچ کر اس میٹھے درد کو برداشت کرتے اسے مزید من مانیوں کی اجازت دی ۔۔۔
کمر پر بندھے اسکے ہاتھوں کو کھولتے اٹھ کر اپنی پہنی ہوئی شرٹ اتار کر زمین پر پھینکی ۔۔۔اسکی ڈھلکی ہوئی کرتی سرکا کر سائڈ کرتے دونوں پر کمفرٹر کھینچا ۔۔۔
اور اسکے ہاتھوں کو تھام کر بیڈ کراون سے لگایا ۔۔۔
اجازت ہے ۔۔۔”
اسکے سانسوں کے قریب ہوتے لو دیتی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
تاشے نے چند پل کیلئے اسکی آنکھوں میں دیکھا پھر شرما اسکی گردن میں چہرہ چھپانا چاہا ۔۔۔
جب شہیر نے اسکی کوشش کو ناکام بناتے اسکی سانسوں پر قبضہ جمایا ۔۔۔اور ساتھ ہی اسکی کلائیوں پر اسکی پکڑ مظبوط ہوئی تھی۔۔۔
تاشے کو اسکی سخت انگلیاں اپنی جلدی میں کھبتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
لیکن وہ چاہ کر بھی خود کو چھڑوا نہیں پائی ۔۔۔بس بےبس پرندے کی طرح پھڑپھڑا کر رہ گئی ۔۔۔
جبکہ روح میں اترتے شہیر کے جان لیوا لمس پر اسکی بند آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ کر بکھرے ۔۔۔
جسے محسوس کرتے شہیر نے اس کی سانسوں کو آزادی دیتے بہتے ہوئے آنسوؤں کو لبوں سے چنا ۔۔۔
تاشے ۔۔۔۔”
اسے خاموشی سے پڑے دیکھ شہیر نے بہت محبت سے پکارا ۔۔۔
جس پر فورا لبیک کہتے اسکی دیوانی نے اپنی نم پلکیں اٹھائیں تھیں ۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں نا ؟؟؟؟
اسکے وجود کی تپش کو محسوس کرتے وہ فکرمندی سے گویا ہوا ۔۔۔
سکون میں ہوں ۔۔۔
نرمی سے مسکراتے یقین دلانا چاہا ۔۔۔
جبکہ اسکے جواب پر وہ دھیرے سے مسکراتا اپنی تمام تر شدتوں سے اس پر ایک بار پھر جھکا ۔۔۔
جسکا خیر مقدم کرتے وہ نم آنکھوں کے ساتھ سرشاری سے مسکرائی ۔۔۔
