Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 04)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 04)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
وہ جب سے ہوش میں آئی تھی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے صرف ضارب کے پاس جانے کی ضد کر رہی تھی ۔۔۔زرمینے اور ابرش سے اسے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔وہ سنبھال بھی کیا رہی تھیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خود بھی رونے کا شغل فرما رہی تھیں ۔۔۔
عظمی اور نجمہ بیگم تو اماں سائیں کے پاس تھیں جن کی طبیعت یہ سب دیکھ کر اچانک خراب ہو گئی ۔۔۔کہ ڈاکٹر کو حویلی بلانا پڑا ،،، جس نے انہیں سکون آور انجیکشن لگا دیا تھا
دادا سائیں کے ساتھ ارمغان اور موسی شاہ تو اسی وقت لاہور کیلئے نکل گئے تھے پیچھے زارون پر ان سب کو سنبھالنے کی ذمہ داری تھی ۔۔اس نے واسم کو بھی فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا ۔۔۔جس نے جلد پہنچنے کی یقین دہانی کروائی تھی ۔۔۔
جبکہ اسے چپ نا ہوتے دیکھ وہ اماں سائیں کے کمرے سے بڑی ماں (عظمی بیگم ) کو بلا لایا ۔۔
جنہوں نے آتے ہی اسے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔کیا ہو گیا ہے بیا آپ تو میری سمجھدار بیٹی ہیں پھر ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہیں ۔۔۔بڑی ماں وہ ضارب لالا وہ سہی سے بات مکمل کئے بنا ہی پھر سے رونا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا ہے انہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میری آپکے بڑے بابا سے بات ہوئی ہے ،، وہ اب بالکل ٹھیک ہیں بلکہ کچھ ہی دیرمیں گھر بھی پہنچنے والے ہیں ۔۔۔
آپ سچ کہہ رہی ہیں بڑی ماں لالا ٹھیک ہیں ،،، جی میری جان میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں بلکہ اب جب تھوڑی دیر میں وہ آ جائیں گے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجیے گا وہ مسکرا کر بولی تھیں ۔۔
چلیں جب تک آپکے لالا آتے ہیں اپنا حلیہ درست کر لیں کیا ایسے روتے ہوئے ویلکم کریں گی انکا ،،، چلیں اٹھیں فریش ہو کر آئیں اسکی پیشانی پر محبت سے بوسہ دیتے اسے واشروم بھیجا تھا ۔۔
اسکے جانے کے بعد انکی توجہ زرمینے اور ابرش کی طرف گئی ،،،اور آپ دونوں بجائے اسکے کہ انکا خیال رکھے انہیں چپ کروائیں ساتھ خود بھی رو رہی تھیں انہوں نے ان دونوں کو مصنوعی گھوری سے نوازتے محبت بھری ڈانٹ پلائی تھی ۔۔۔
یہ کیا زرا اچھے سے ڈانٹے ماما ان چڑیلوں کو کب سے رو رو کر بیا سے زیادہ پریشان کیا ہوا تھا ،،، میں کب سے انہیں چپ کروا رہا تھا مگر مجال ہے اگر کسی نے میری بات کا اثر لیا ہو ۔۔۔
زارون نے منہ بنا کر انکی شکایت لگائی تھی جیسے ۔۔۔جبکہ اس کے ایسے منہ بنانے پر وہ تینوں مسکرائی تھیں ۔۔۔بری بات ہے بیٹا بھائی کو ایسے تنگ نہیں کرتے ۔۔۔انہوں نے ان دونوں کو سمجھاتے ہوئے ،،، اس کیلئے محبت سے اپنی بانہیں واں کی تھی جن میں سماتے ہوئے اس نے ان دونوں کو زبان چڑھائی تھی ۔۔۔
اب منہ بنانے کی باری ان دونوں کی تھی ۔۔۔جسے دیکھتے بڑی ماں نے ہنستے ہوئے ان کو بھی سینے لگایا تھا ۔۔۔۔
********************
جب اس نے اسکا رخ پلٹا تو وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھی ۔۔۔ اسے کوئی چوٹ لگی تھی یا نہیں یہ فیصلہ کرنا ابھی مشکل تھا ،،، کیونکہ اس کا چہرہ حجاب سے بالکل کور تھا بس اسکی آنکھیں نظر آ رہی تھیں جو فلحال بند تھیں ،،، اور اس نے اوپر بلیک شال اوڑھ رکھی تھی ۔۔۔
اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی جو بیہوشی کے عالم میں بھی اس نے سینے لگا رکھی تھی ۔۔جیسے وہ اس کیلئے بہت اہم ہو ۔۔۔
اس نے ہلکے ہاتھ سے اسکا چہرہ تھپتھپایا کہ شاید وہ ہوش میں آ جائے لیکن وہ بالکل بےسود پڑی تھی ۔۔۔اس نے اس نئی مصیبت پر کوفت سے سرجھٹکا تھا ۔۔۔۔
وہ جلد از جلد حویلی پہنچنا چاہتا تھا لیکن اسے اس حالت میں بے یارو مددگار بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔
اور نا ہی اسے وہ کسی بڑے ہسپتال لے جا سکتا تھا کیونکہ جتنا اسکا نام تھا اگر میڈیا کو ذرا سی بھی بھنک لگ جاتی تو بہت بڑا سکینڈل بن جانا تھا ۔۔۔
اسے اپنی پرواہ بالکل بھی نہیں تھی کیونکہ وہ دنیا کو اپنی ٹھوکر پر رکھتا تھا لیکن اس سب میں وہ بیچاری لڑکی ضرور بدنام ہو جاتی ۔۔۔اور وہ اپنی وجہ سے کسی کی عزت خراب نہیں ہونے دینا چاہتا تھا ۔۔۔
اس نے سر جھٹکتے ہوئے اسے اپنے بانہوں میں اٹھایا اور لے جا کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا احتیاط سے سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے دروازہ بند کیا ۔۔۔
گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے واپس شہر کا رخ کیا تھا تاکہ کسی اچھے کلینک سے اس کا چیک اپ کروا سکے ۔۔۔
**********************
وہ سب لاؤنج میں اکٹھے بیٹھے انکے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔ سوائے اماں سائیں کے کیونکہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں ۔۔۔ابیہا کی نظریں مسلسل حویلی کے داخلی دروازے پر ٹکی تھی ۔۔۔
جب باہر گاڑیاں رکنے کی آواز آئی ۔۔۔
وہ بےچینی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ،،،کچھ ہی دیر میں وہ سب ایک ساتھ حویلی میں داخل ہوئے ۔۔۔
سب سے آگے دادا سائیں انکے ساتھ ہی ضارب چلا آ رہا تھا پیچھے موسی اور ارمغان شاہ تھے جبکہ خان باہر ہی رک گیا تھا ۔۔۔
وہ بھاگ کر اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی اور نا چاہتے ہوئے بھی زار و قطار رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
جبکہ اپنی جان سے پیاری بہن کو ایسے روتے دیکھ وہ تو تڑپ ہی گیا اتنا درد تو گولی لگتے وقت اسے محسوس نہیں ہوا تھا جتنا اسے روتے دیکھ تکلیف ہوئی تھی ۔۔۔
اسے اپنے سینے میں بھنچتے سر پر ہونٹ رکھے تھے لیکن کچھ دیر بعد بھی جب اس نے رونا بند نا کیا تو اسے زبردستی خود سے الگ کرتے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسکے آنسو پونچھے ۔۔۔
کیا ہو گیا بیا ایسے کیوں رو رہی ہیں آپ اچھے سے جانتی ہیں نا کہ ہم آپکی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتے تو کیوں رو کر ہمیں تکلیف دے رہی ہیں ۔۔۔
آپکو گولی لگی ،،، کتنا درد ہوا ہوگا نا ،،، وہ اتنا کہہ کر ایک بار پھر سے رونا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔اس کو دوبارہ روتے دیکھ اب زر اور ابرش کے آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے تھے۔۔
جبکہ انکے پیار کو دیکھتے سب بڑوں کی آنکھیں بھی نم تھی جو ایک دوسرے کی ذرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔
نہیں بالکل بھی نہیں ،،، بلکہ اب تکلیف ہو رہی آپکو روتے ہوئے دیکھ کر اپنی بات مکمل کرتے اسکی پلکوں پر اٹکے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے چنتے اسکی صبیح پیشانی پر بوسہ دیتے ایک بار پھر سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
جب اسکی نظر روتی ہوئی زر اور ابرش پر پڑی تھی انہیں ایک ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔کیونکہ وہ دونوں بھی اسے بالکل ابیہا کی طرح ہی عزیز تھیں ۔۔۔
جس پر زرمینے تو فورا اسکے پاس آ گئی جس کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے بھی اپنے ساتھ لگایا تھا ،،، لیکن ابرش ابھی تک اپنی جگہ پر کھڑی تھی کیونکہ اسے ضارب سے ڈر لگتا تھا اس لیے اس کے پاس جانے سے ہچکچا رہی تھی ۔۔۔
پھر ابیہا کے بلانے پر آگے بڑھی تھی لیکن ان کے پاس پہنچ کر کچھ فاصلے پر رک گئی جبکہ اس کی ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے ضارب اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بنا کچھ کہے آگے بڑھ گیا ۔۔۔
پھر باری باری سب سےملا تھا زارون تو اس سے الگ ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔لیکن پھر اس طبیعت کا احساس کرتے ہوئے دادا سائیں نے سب کو اپنے اپنے کمروں کی طرف روانہ کیا تھا ۔۔۔ویسے بھی رات پہلے ہی بہت چکی تھی اور ضارب کو آرام کی ضرورت تھی ۔۔۔
*******************
جب اس کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو کسی بستر پر پایا ۔۔۔پھر آس پاس نظر دوڑائی تو ایک طرف صوفے پر انتہائی خوبصورت مرد کو بیٹھے دیکھا ۔۔۔جس نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔۔
پتا نہیں جاگ رہا تھا یا سو رہا تھا وہ اسکے چہرے سے کچھ اندازہ نہیں لگا پائی ،،، اپنے سامنے انجان مرد کو دیکھتے وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور پریشان نظروں سے اس جگہ کو دیکھنے لگی جو کہ کسی ہاسپٹل کا کمرہ لگ رہا تھا ۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ اسے سب یاد آتا گیا کیسے اس نے سارا دن مختلف جگہوں پر انٹر ویو دیئے تھے ہر طرف ناکامی کے بعد جب شام کو پیدل گھر جا رہی تھی کیونکہ اس کے پاس کرائے کیلئے پیسے موجود نہیں تھے ۔۔۔
اسے چلتے چلتے کافی دیر ہو گئی تھی کہ اندھیرا ہو گیا۔۔۔وہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی کہ سامنے آتی گاڑی کو دیکھ نا سکی اور اس سے ٹکرا گئی ،،،، وہ سیدھی سڑک پر گری اسکے بعد اسکا دماغ اندھیروں میں کہیں کھو گیا تھا ۔۔۔
بعد میں کیا ہوا اور وہ یہاں تک کیسے پہنچی اسے کچھ یاد نہیں تھا ۔۔۔ابھی بھی اسکا سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا بے ساختہ ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے تھے ۔۔۔
پھر اسے اپنی فائل کا خیال آیا جس میں اسکے تمام ڈاکومنٹس تھے اگر وہ بھی کھو جاتے تو اسے کبھی نوکری نا ملتی پھر وہ اپنی بیمار ماں کا علاج کیسے کرواتی ۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی اسکی آنکھیں آنسوؤں سے لبا لب بھر گئی اس نے اپنے آس پاس دیکھا اور اسے وہ فائل اپنے سرہانے سائڈ ٹیبل پر پڑی مل گئی اسے فورا اٹھاتے اس نے کھول کر ڈاکومنٹس چیک کئے تھے ۔۔۔اور انہیں سہی سلامت پاتے مسکراتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔
ان سب میں وہ بالکل بھول چکی تھی کہ وہ انجان جگہ پر ہے اور وہاں اسکے علاوہ کوئی اور بھی موجود ہے ۔۔۔جو اسکی ایک ایک حرکت بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
واسم جس نے تھکاوٹ کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔اسکی آہٹ پاتے ہی فورا اٹھ گیا تھا ۔۔۔ اور اسے اپنے سر ہاتھ رکھے دیکھ ڈاکٹر کو بلانے والا تھا۔۔۔۔
اسے یکدم کسی چیز کیلئے پریشان ہوتے اور اسکی آنکھوں میں اترتی نمی کو دیکھ رک گیا ،،،، بلاشبہ اسکی آنکھیں بہت خوبصورت تھی جس میں کوئی بھی آسانی سے ڈوب جائے ۔۔۔پھر اسے کچھ ڈھونڈتے اور مطلوبہ چیز مل جانے پر مسکراتے دیکھا اور اسکی مسکراہٹ بھی اسکی طرح بہت پیاری تھی ۔۔۔وہ اسکے چہرے کے ایکسپریشنز بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ اسے شہر کے ایک کلینک میں لے آیا تھا جو کے ایک چھوٹے سے ہاسپٹل کے طرز پر بنا ہوا تھا ۔۔۔جس کا علاج کرنے سے پہلے ڈاکٹر نے اس سے اسکا رشتہ پوچھا تھا جسے اس نے اپنی کزن کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔
اور راستے میں اچانک گر کے بیہوش ہونے کا بتایا جبکہ ایکسیڈنٹ والی بات وہ گول کر گیا ۔۔۔ڈاکٹر نے اس کا مکمل چیک اپ کیا اسے زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی بس ماتھے پر ہلکی سی خراش تھی جو سڑک پر گرنے وجہ سے آئی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر نے اس کی بیہوشی کی وجہ بہت زیادہ سٹریس اور خوراک کی کمی بتائی تھی ۔۔اور اسکے کھانے پینے کا دھیان رکھنے کی ہدایت کرتے کچھ وٹامنز لکھ دی ،،، ساتھ ڈرپ بھی لگا دی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ ڈاکٹر کی ہدایات بہت بیزار ہو کر سن رہا تھا اور دل میں اس وقت کو کوس رہا تھا جب یہ مفت کی مصیبت اسکے گلے پڑی تھی ۔۔۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے ڈاکٹر کو مزید بولنے سے منا کیا تھا ۔۔۔جبکہ اسکے چہرے کی بیزاریت بالکل واضح تھی ۔۔۔
اسے ہوش کب تک آ جائے گا ڈاکٹر نے حیران ہو کر اس شخص کو دیکھا جس کے چہرے پر اپنی کزن کی کنڈیشن سن کر بھی کوئی پریشانی نہیں تھی بلکہ وہ ان سب سے بہت بیزار نظر آ رہا تھا ۔۔جیسے کسی مجبوری کے تحت یہاں بیٹھا ہو ۔۔
بس ابھی کچھ دیر میں ہی وہ ڈاکٹر کی بات پوری بات سنے بغیر ہی اٹھ کر باہر آ گیا ۔۔۔لیکن وہاں بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ نہیں تھی اور وہ سفر سے اتنا تھک چکا تھا کہ اب کچھ دیر آرام چاہتا تھا اس لیے اس روم کی طرف بڑھ گیا جہاں اس لڑکی کو ڈرپ لگی تھی ۔۔۔
وہاں اس کے ساتھ ایک نرس موجود تھی جو اسے دیکھتے ہی باہر نکل گئی تھی شاید ان دونوں کے رشتے کو کچھ اور ہی سمجھی تھی ان کی پرائیویسی کا خیال کرتے چلی گئی۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے وہاں موجود سنگل صوفے پر آ کر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں جو تھکاوٹ کی وجہ اب جل رہی تھیں ۔۔۔
ہیلو محترمہ اگر اپنے چونچلو سے فرصت مل گئی ہو تو اپنے آس پاس بھی دھیان دیں لیں ۔۔جہاں آپکے علاوہ اور بھی کوئی موجود ہے وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
وہ اسکی آواز سن کر جیسے ہوش میں آئی تھی اور اسے دیکھنے لگی اس نے بہت غور سے اسکی نیلی سمندر جیسی آنکھوں کو دیکھا تھا جن میں تھکاوٹ کی وجہ سے سرخی اتری ہوئی تھی ۔۔۔
اور اسے وہ دنیا کا سب سے خوبصورت منظر لگا لیکن پھر سامنے والے کے بگڑتے موڈ کو دیکھ فورا نظروں کا زاویہ بدل گئی ۔۔۔
یہ رہی آپکی دوائیوں کی لسٹ ،،، ہاسپٹل کا بل میں نے پے کر دیا ہے ۔۔۔جاتے ہوئے ڈاکٹر سے ضرور مل کر جائیے گا ۔۔۔اسے ایک کاغذ کی پرچی تقریبا پھینکنے کے انداز میں پکڑاتے اور اپنی بات کہتے اسے کوئی بات کرنے کا موقع دیے بغیر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
لیکن باہر جانے سے پہلے رک کر ایک نظر اسے دیکھا جو اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی ،،، اور آئندہ سپیشلی رات کے وقت راستہ دیکھ کر چلنا ہر کوئی واسم شاہ نہیں ہوتا جو ہر کسی کو اپنی گھر کی عزت کی طرح سمجھیں ۔۔۔ اس لیے اپنا خیال رکھنا سیکھو اگر نہیں کر سکتی تو اکیلی گھر سے باہر نکلنا بند کر دو ۔۔۔اور پھر پلٹ گیا ۔۔۔
جبکہ پیچھے سے اس نے تشکر بھری نظروں سے اس اجنبی کی پشت کو دیکھا تھا ۔۔جو بنا کچھ کہے بھی اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔۔۔
