Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 58)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

ماضی

شاہ حویلی میں تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔۔۔۔۔

ہنستی مسکراتی دو صورتیں ۔۔۔۔جن میں تمام حویلی والوں کی جانیں بستی تھیں ۔۔۔۔اس وقت خون میں لت پت چارپائیوں پربےجان پڑی تھیں ۔۔۔۔

البتہ مرنے کے بعد بھی انکے خوبصورت چہرے پر ایک سکون تھا ۔۔۔۔پیاری سی مسکراہٹ جو شاید اپنی محبت کے بازوؤں میں سانسیں ہارنے کی وجہ سے تھی ۔۔۔۔۔

ورنہ دشمنوں نے اس قدر سفاکیت دکھائی تھی کہ ۔۔۔۔” ان دونوں کے جسموں پر کوئی جگہ ایسی نہیں تھی کہ جہاں زخم موجود نا ہو ۔۔۔۔۔

ان سے رستا ہوا لہو ۔۔۔۔۔چارپائی سے نیچے تک بہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔”

جسے دیکھ دیکھ کر اماں سائیں سمیت تمام عورتوں کے رونگتے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔۔جبکہ دل پھٹنے کے قریب تھا ۔۔۔۔۔”

حیدر شاہ پر تو جیسے بڑھاپا اتر آیا ۔۔۔۔ان چند لمحوں میں وہ بوڑھے نظر آنے لگے ۔۔۔۔

ارمغان شاہ اپنی جگہ الگ حیران پریشان کھڑے تھے ۔۔۔۔

آخر یہ پل میں کیا سے کیا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ بچوں کا الگ برا حال تھا ۔۔۔۔ابیہا تو چھوٹی تھی ۔۔۔۔

اصل دھچکا تو ضارب شاہ کو لگا تھا ۔۔۔۔۔جو ایک پل میں یتیم ہو گیا تھا ۔۔۔۔

پل میں انکی ہنستی بستی دنیا اجڑ گئی ۔۔۔۔اسکے ماں باپ کا سایہ اسکے سر سےاٹھ گیا ۔۔۔۔

اسکے خوبصورت ہرے کانچ مان حجاب کے چہروں پر ٹکے ہوئے تھے ۔۔۔۔

وہ سٹل اپنی جگہ پر بنا آنکھیں جھپکے انہیں تک رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے ۔۔۔۔وہ جیسے ہر احساس سے عاری ہو چکا تھا ۔۔۔۔

اصل میں اسے اس بات پر یقین نہیں آ رہا کہ اسکے ماں باپ اسے اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر جا چکے تھے ۔۔۔۔

کبھی نا واپس آنے کیلئے ۔۔۔۔

بھلے اسکے پاس ماں باپ سے زیادہ پیار کرنے والے دادا دادی موجود تھے ۔۔۔۔۔

جان وارنے والے تایا سائیں اور محبت جتانے والی اسکی آنی تھے ۔۔۔۔لیکن پھر بھی ماں باپ کا تو کوئی نعملبدل نہیں ہوتا ۔۔۔۔

وہ ایسے ہی اپنی جگہ بےحس و حرکت کھڑا تھا جب واسم نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔

جسکی اپنی آنکھوں میں اپنے چاچا اور آنی کو کھونے کے درد کی وجہ سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔

ضارب ۔۔۔”

نم لہجے میں پکارا ۔۔۔۔جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔۔

آخر واسم نے ہی آگے بڑھ کر اسے اپنے گلے سے لگایا اور زار و قطار رونے لگا ۔۔۔۔

آخر تھا وہ بچہ ہی بھلے غصے کا تیز تھا ۔۔۔۔لیکن اپنے چاچا اور آنی سے بہت پیار کرتا تھا ۔۔۔۔۔اور ضارب ابیہا سے بھی ۔۔۔۔

بس جتاتا نہیں تھا ۔۔۔۔

جبکہ اسکے ایسے گلے لگ کر رونے سے ضارب کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔

جنہیں اس نے بےدردی سے رگڑا تھا ۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ اپنے درد کو ان آنسوؤں کے ذریعے نہیں بہانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

اسے اپنے اندر ہی کہیں دفن کر کے ایک آگ میں بدل کر ان دشمنوں کو اس میں جلانا چاہتا تھا ۔۔۔۔”

جنہوں نے اس سے اسکے ماں باپ چھینے تھے ۔۔۔۔

اور یہ وہ پہلی چوٹ تھی ۔۔۔۔جس نے اسکے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا تھا ۔۔۔۔

نرم مزاج ، رحم دل اور ہمیشہ محبت باٹنے والے ضارب شاہ کو نفرت کرنی سکھائی تھی ۔۔۔۔

وحشت کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اس سے روشناس کروایا تھا ۔۔۔۔

تبھی تو وہ اپنے گلے لگے واسم کو خاموشی سے ایک سائڈ کرتے آگے بڑھ کر کفن میں لپٹے ہوئے اپنے ماں باپ کے خوبصورت چہروں پر جھکا ۔۔۔۔

اور باری باری دونوں کی پیشانی پر محبت سے لب رکھتے وعدہ کیا تھا کہ ایک دن انکے مجرموں کو کیف کردار تک ضرور پہنچائے گا ۔۔۔۔

اور پھر پیچھے ہو گیا کیونکہ جنازہ اٹھانے کا وقت ہو چکا تھا ۔۔۔۔

ارمغان شاہ اور موسی شاہ آگے بڑھے تھے ۔۔۔۔۔وہاں موجود تمام مہمانوں کو آخری دیدار کرواتے ۔۔۔۔۔

بچوں اور عورتوں کو ایک سائڈ کرتے ہوئے ۔۔۔۔

کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے چارپائیوں کو کندھوں پر اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔

اور یہ منظر بہت جان لیوا تھا ۔۔۔۔۔

اماں سائیں اپنے لاڈلے بیٹے کو خود سے دور جاتے دیکھ کر اونچی آواز چیخ چیخ رونے لگی تھیں ۔۔۔۔

مت لے کر جاو میرے بیٹے کو ۔۔۔۔میں کیسے رہوں گی اسکے بغیر ۔۔۔۔۔

وہ تو جب تک روزانہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھ اس سے پیار بھری باتیں نا کریں ۔۔۔۔اسے اپنی دل کی روداد نا سنا لیں اسے سکون کی نیند نہیں آتی ۔۔۔۔

وہ تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے دل کا سکون ہے ۔۔۔۔

ایک ماں سے اسکے جگڑ کے ٹکڑے کو مت جدا کرو ۔۔۔۔

ارے ان معصوم بچوں کا تو کچھ خیال کرو ۔۔۔۔

میرا ضارب میری ابیہا کیسے رہیں گے انکے بنا ۔۔۔۔

انہیں روکنے کیلئے التجائیں کرتی ۔۔۔۔۔سب کو تڑپ تڑپ کر رونے پر مجبور کر گئی ۔۔۔۔۔

نجمہ بیگم انہیں سنبھالنے کی بہت کوشش کر رہی تھیں لیکن انکا غم اتنا بڑا تھا ۔۔۔۔کہ وہ اپنے حواس برقرار نہیں رکھ پائیں تھی ۔۔۔

دوسری طرف روباب پر الگ قیامت ٹوٹی تھی ۔۔۔۔۔وہ بہن جو اس کی دنیا ہی نہیں بلکہ ماں کے پیٹ سے اسکی ساتھی بن کر آئی تھی ۔۔۔۔

جسکا ایک پل بھی اسکے بغیر نہیں گزرتا تھا ۔۔۔۔۔آج اسکو خود سے اتنا دور جاتے دیکھ کر اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اسکے وجود سے روح کو نکال کر لے جا رہا ہو ۔۔۔۔۔

اسکے لبوں پر تو بس ایک ہی صدا تھی ۔۔۔۔کہ اللہ تعالٰی حجاب کی جگہ اسے اپنے پاس بلا لیتے ۔۔۔۔

اسکی زندگی اسے لگا دیتے ۔۔۔۔اسکے حصے کا ہر درد ہر تکلیف اسکی جھولی میں ڈال دیتے ۔۔۔۔۔

لیکن اسے محفوظ رکھتے ۔۔۔۔

اب تو رو رو کر اسکی آنکھوں کا پانی بھی خشک ہو چکا تھا ۔۔۔۔

لیکن یہ خدا کی بنائی دنیا تھی جس میں ہر انسان نے اپنے حصے کا درد و غم خود پر ہی جھیلنا تھا ۔۔۔۔

جسے کوئی بانٹ نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔

اور ہر ایک نے دنیا سے اپنے مقرر کردہ وقت پر ہی جانا تھا ۔۔۔۔۔

آج مان اور اسکی جان کی زندگی کا باب بند ہوا تھا ۔۔۔۔

دو محبت کرتی پاکیزہ روحیں اپنی منزلیں مقصود تک پہنچی تھیں ۔۔۔۔

کہنے کو صرف دو انسان اس دنیا سے گئے تھے ۔۔۔۔۔لیکن یہ تو کوئی حیدر شاہ سے پوچھتا کہ اپنے جوان بیٹے کی میت کو کندھا دیتے وہ کتنی بار بےموت مرے تھے ۔۔۔۔۔

اس ماں سے پوچھتا جسکے جگر کا ٹکڑا اس سے ہمیشہ کیلئے جدا کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

اپنے بیٹے اور جان سے پیاری بیٹی جیسی بہو کے گو**لی**وں سے چھلنی وجود کو دیکھتے ۔۔۔۔اس کا کلیجہ کیسے کٹا تھا ۔۔۔۔

کہ اس سے نکلی ہوئی بددعا سات آسمانوں کو چیڑتی ہوئی عرش الہی تک پہنچی تھی ۔۔۔۔

جسکا احتساب بھی بہت جلد لیا جانا تھا ۔۔۔۔

اس بھائی سے پوچھتا جسکا ایک بازو آج ہمیشہ کیلئے ک***ٹ گیا تھا ۔۔۔۔۔

کہ وہ دنیا میں خود کو اکیلا اور بے سہارا سمجھنے لگا ۔۔۔۔

اس بہن سے پوچھتا کہ کسی کی دنیا لٹنا کسے کہتے ہیں جسکی کل کائنات ہی اسکی بہن تھی ۔۔۔۔۔

اس معصوم بچے سے پوچھتا جس کے سر سے گھنا سایہ چھین کر اسے پل میں تپتی دھوپ میں لا کھڑا کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جسکی تپش سے اسکی روح تک پر آبلے پڑ گئے تھے ۔۔۔۔

لیکن ابھی تو یہ مصیبتوں کا آغاز تھا۔۔۔۔۔اصل امتحان تو ابھی باقی تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

مان اور گارڈز کے فون نا اٹھانے پر حیدر شاہ پریشان ہوتے ارمغان کے کمرے کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔۔

تاکہ وہ اسکے دوست وغیرہ کو فون کر کے انکی خیریت پوچھ سکیں ۔۔۔۔

جنہوں نے بتایا تھا کہ وہ رات نو بجے کے قریب ہی حجاب کو لے وہاں سے نکل

آیا تھا ۔۔۔۔

اور اب تو رات ایک سے اوپر کا وقت ہو رہا تھا ۔۔۔۔اسے بہت وقت پہلے کا گھر پہنچ جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔

انجانے خدشات کی تحت حیدر شاہ کا دل بری طرح دھڑکنا شروع کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

جنہیں حوصلہ دیتے ہوئے وہ موسی شاہ کے پورشن میں آئے تھے ۔۔۔۔

لیکن نجمہ بیگم کے یہ بتانے پر کے وہ تو آج شہر گئے تھے کسی ضروری کام سے اور ابھی تک واپس نہیں آئے تھے ۔۔۔۔

جس کے بعد وہ اپنے قریبی دوست کو فون کر کے جو اس علاقے کا ڈی ایس پی بھی تھا ۔۔۔۔

خود گارڈز کے ساتھ انہیں ڈھونڈنے نکلے تھے ۔۔۔۔۔

لیکن انہیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی ۔۔۔۔۔گاؤں سے صرف چند کلو میٹر کی دوری پر ہی انہیں دو گاڑیاں کھڑی نظر آئی تھیں ۔۔۔۔

جن کی حالت کو دیکھ کر بےساختہ ارمغان شاہ نے اپنے دل کو تھاما تھا ۔۔۔۔

وہ اپنی گاڑی ایک جھٹکے سے روک کر باہر نکلتے مان کی گاڑی کی طرف بھاگے ۔۔۔۔۔

تب تک انکا دوست ڈی ایس پی رحمان بھی پولیس فورس لے کر انکے پیچھے پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔

خون میں لت پت اپنے بھائی اور حجاب کو دیکھ کر انکے قدم ڈگمائے تھے ۔۔۔۔جنہیں دیکھتے رحمان صاحب نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا ۔۔۔۔

ایک امید کے تحت انہوں نے آگے بڑھ کر مان کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔اسکی نبض چیک کی ۔۔۔۔۔حجاب کی سانسوں کے آگے ہاتھ کیا ۔۔۔۔

پر افسوس انہیں انکے اندر زندگی کی کوئی رمک محسوس نا ہوئی ۔۔۔۔

بےساختہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے ۔۔۔۔کہ رحمان صاحب سے انہیں سنبھالنا مشکل ترین عمل ہو گیا ۔۔۔۔

بمشکل انہیں ایک سائڈ بٹھاتے ہوئے انہوں نے انہیں سمجھایا اگر وہ ایسے ہمت ہار جائیں گے تو انکے ماں باپ کو کون سنبھالے گا ۔۔۔۔

اس مشکل وقت میں کون انکا سہارا بنے گا ۔۔۔۔

اور حیدر شاہ کا خیال آتے ہی انہوں نے اپنے بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے نظریں اٹھا کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جس پر انہوں نے انکو گلے لگاتے صبر کرنے کی تلقین کی تھی ۔۔۔۔اور انکے مجرموں کو سزا دلوانے کا وعدہ بھی ۔۔۔۔

اور باقی پولیس کی ساری کاروائی وغیرہ بھی انہوں نے ہی دیکھی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ یہ سب دیکھتے ارمغان شاہ کی حالت خراب ہو چکی تھی ۔۔۔۔

ایمبولینسز کو بھلا کر جب ڈیڈ باڈیز کو پوسمورٹم کیلئے ہاسپٹل لیجانے کی بات کی گئی انہیں پہلی بار ہوش آیا ۔۔۔۔

اور انہوں نے رحمان کو اس چیز کیلئے منع کرتے ہوئے انہیں سیدھا شاہ حویلی پہنچانے کا بولا ۔۔۔۔

کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے بھائی اور چھوٹی بہن جیسی بھابھی کی بےحرمتی نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔

جس پر رحمان نے اسے سمجھانے کی کافی کوشش کی لیکن وہ کسی طور پر ماننے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔۔

البتہ نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج ضرور کروا دی تھی ۔۔۔۔

اور جب وہ ان دونوں کو لے کر حویلی پہنچے تو آگے منظر قیامت صغری سے کم نہیں تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ قیامت کی رات کاٹے نہیں کٹ رہی تھی ۔۔۔۔

شاہ حویلی میں ہر طرف سوگواریت چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔بچوں کو کیسے بھی بہلاتے پچکارتے نجمہ بیگم نے کچھ نا کچھ کھلا دیا تھا سوائے ضارب کے ۔۔۔۔

البتہ گھر کے بڑوں میں سے کسی ایک نے بھی حلق سے نوالا نہیں اتارا تھا ۔۔۔۔۔

اور ٹائم سے کھانا اور میڈیسن نا ملنے کی وجہ سے اماں سائیں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی ۔۔۔۔

جس پر روباب نے اپنا غم ایک طرف رکھتے ہوئے انہیں سمجھانے اور سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

لیکن انکی لبوں پر صرف ایک ہی صدا تھی کہ انہیں بیٹے بہو کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔

جسے سن کر اسکی آنکھوں میں بھی آنسو دوبارہ بہنے لگتے ۔۔۔۔

لیکن یہ قدرت کا قانون تھا کوئی انسان اپنے مقررہ وقت سے پہلے اس دنیا سے نہیں جا سکتا ۔۔۔۔

بہت منتوں اور ترلوں کے بعد انہوں نے دودھ کے ساتھ دوائی لی تھی ۔۔۔۔

جس کے کافی دیر بعد جا کر وہ پرسکون ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔

کیونکہ روباب نے دودھ میں نیند کی دوا ملا دی تھی ۔۔۔

جس کے بعد اس نے حیدر شاہ سے کھانے کا پوچھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔۔۔۔

رات کے آخری پہر جب شاہ حویلی کے تمام افراد غم میں ڈوبے اپنے اپنے کمروں میں بند تھے ۔۔۔۔

ارمغان شاہ نے خود کو سٹڈی میں بند کیا ہوا تھا ۔۔۔۔روباب اماں سائیں کے کمرے سے نکل کر پہلے ضارب کے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔جس نے شام سے خود کو بند کر رکھا تھا ۔۔۔۔۔

ضارب “

دروازہ ناک کرتے آواز دی ۔۔۔۔۔

جسکا اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔حالانکہ وہ جاگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

ضارب بیٹے جاگ رہیں ہیں ۔۔۔۔۔

دوبارہ پوچھا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر جواب نا ملنے پر مایوس ہوتی یہ سوچ کر کہ شاید سو گیا ہوگا یا پھر ابھی بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔

کیونکہ ضارب اپنی عمر کے بچوں سے کہیں زیادہ سمجھدار اور ذہین تھا اس لیے انہیں اتنا تو یقین تھا کہ وہ خود کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔۔۔۔

اس لیے اسے پرائیویسی دیتے ایک نظر بند دروازے کو دیکھنے کے بعد واسم زارون کے کمرے کی طرف آئی ۔۔۔۔

یہاں ایک بیڈ پر زارون سو رہا تھا لیکن واسم کا بیڈ خالی تھا ۔۔۔۔

اس نے واشروم چیک کیا لیکن وہ بھی خالی تھا ۔۔۔۔

جسے دیکھ وہ پریشان ہوئی ۔۔۔۔لیکن یہ سوچتے کہ یہی کہیں ہوگا دل کو تسلی دیتے حویلی کے دوسرے کمروں میں دیکھنے لگی ۔۔۔۔

ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسکی نظر اپنے کمرے کے کھلے دروازے پر پڑی تھی ۔۔۔۔

جہاں بیڈ پر ابرش اور ابیہا پرسکون نیند سو رہی تھیں ۔۔۔۔جبکہ واسم انکے سرہانے بیٹھا ۔۔۔۔۔

دونوں کے معصوم چہروں کو تک رہا تھا ۔۔۔۔۔

جسے دیکھ کر اسکی جان میں جان آئی ۔۔۔۔

واسم آپ سوئے نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔کمرے کا دروازہ بند کرکے اس کے قریب بیٹھتے اسکے بالوں کو شفقت سے سنوارتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

بس ایسے ہی ماما نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔

تو آپکے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔

روباب نے اسکے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔

جس سے جلتے دل کو تھوڑا سکون ملا تھا ۔۔۔۔۔

پرسکون تو واسم بھی ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔بھائی کے کمرے میں گئے تھے آپ ۔۔۔۔

ضارب کے بارے میں جاننا چاہا ۔۔۔۔

گیا تھا لیکن اس نے دروازہ نہیں کھولا ۔۔۔۔۔ماما ضارب کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا ۔۔۔۔۔کیوں چاچا سائیں اور آنی اسے چھوڑ کر چلے گئے ؟؟؟؟

اداس لہجے میں سوال کیا ۔۔۔۔۔

جس پر روباب نے گہرا سانس لیا جبکہ آنسو اسکی آنکھوں سے دوبارہ بہنے کو تیار تھے ۔۔۔۔۔

بس بیٹا اللہ تعالٰی کی مرضی اسی میں تھی ۔۔۔۔

غمگین نم لہجہ ۔۔۔۔

ماما آپ اور ڈیڈ تو مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔۔۔۔۔

بےساختہ اسکے دل میں چھپا ڈر لفظوں کے ذریعے باہر نکلا ۔۔۔۔۔

روباب کے سینے سے سر اٹھا اسکے خوبصورت چہرے کو امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔کہ اب وہ اسکے پسندیدہ لفظ بول کر اسے تسلی دے گی ۔۔۔۔

روباب نے اسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بےساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ اپنے بیٹے کی دل کی بات اسکا ڈر اچھے سے سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔۔

جسکے بعد وہ مسکرا کر دوبارہ اسکے سینے کا حصہ بنا ۔۔۔۔

اچھا چلیں اب رات بہت ہو گئی ہے آپ بھی سو جاو ۔۔۔۔۔ماما میں آج یہاں آپکے پاس سو جاؤں ۔۔۔۔۔” مجھے وہاں کمرے میں اکیلے نیند نہیں آ رہی ؟؟؟؟

اسکا دل عجیب خدشات کے تحت بری طرح دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔۔

جیسے اسکی ماں اس سے بہت دور جانے والی تھی ۔۔۔۔۔وہ ایک پل کیلئے بھی اس سے دور نہیں جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

روباب نے مسکرا ہاں میں سر ہلایا پھر اسے ایک طرف لٹا کر کمفرٹر اس پر درست کرتے اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔جب واسم نے اسکا ہاتھ پکڑ روکا ۔۔۔۔

یہی میرے پاس لیٹ جائیں ۔۔۔۔۔

جس پر وہ نا چاہتے ہوئے اسکے قریب بیٹھی اور اسکے سنہری بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔۔۔۔۔

جس پر وہ پرسکون ہوتا جلد گہری نیند کی وادیوں میں چلا گیا ۔۔۔۔

روباب نے جھک کر اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔۔اور اپنا ہاتھ جو واسم نے سوتے ہوئے بھی تھام رکھا نرمی سے آزاد کراتے ۔۔۔۔

تمام بچوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد کچھ دیر کھلی فضاء میں سانس لینے کیلئے باہر لان میں آ گئی ۔۔۔۔

کیونکہ اندر حویلی میں اسکا دم گھٹ رہا تھا ۔۔۔۔

اور یہی اس سے سب سے بڑی غلطی سرزد ہوئی تھی ۔۔۔۔

وہ اپنے غم میں ڈوبی ہوئی مان حجاب کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی ۔۔۔جب کسی نے کلوروفام سے بھیگا رومال اسکے چہرے پر رکھا ۔۔۔۔

جس پر وہ چند پل کیلئے پھڑپھڑائی ۔۔۔۔لیکن جلد ہی بیہوش ہو کر اپنے پیچھے کھڑے انسان کی بانہوں میں جھول گئی ۔۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر ایک نظر اس شان سے کھڑی اونچی حویلی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر اسکے مکینوں کی قسمت پر افسوس کرتے قہقہہ لگا کر روباب کو کندھے پر اٹھاتا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

ابھی شاہ حویلی والے ایک غم سے نہیں نکلے تھے کہ موقع ہاتھ آتے ہی دشمن اپنی دوسری چال بھی چل گیا تھا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *