Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 03)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 03)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
خان ایمرجنسی میں اسے قریبی ہسپتال لے آیا تھا ۔۔۔جہاں ڈاکٹرز نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے کر فورا سے ٹریٹمینٹ شروع کر دیا تھا ۔۔۔
آخر کون نہیں جانتا تھا ضارب شاہ کو ،،،، وہ سیاست کی دنیا کا ایک ابھرتا ہوا ستارا تھا ۔۔۔
ڈاکٹرز نے آپریٹ کر کے بازو سے گولی نکال دی تھی ۔۔جبکہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اسے خون کی دو بوتلیں لگائی گئی تھیں ۔۔۔ویسے تو وہ خطرے سے باہر تھا ۔۔۔لیکن فلحال دوائیوں کے زیر اثر سو رہا تھا ۔۔۔
خان کی ارمغان شاہ سے بھی بات ہو چکی تھی وہ لوگ بس پہنچنے ہی والے تھے ۔۔۔دوسری طرف ضارب شاہ کو گولی لگنے والی خبر نے عوام میں تہلکہ مچا دیا تھا ۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا پاکستان ہی لاہور کی سڑکوں پر نکل آیا ہو ۔۔۔ہر طرف دھرنا دھنگے فساد جاری تھے ۔۔۔۔سردار ضارب شاہ زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے ۔۔۔
صرف چند گھنٹوں میں پورے لاہور کا نقشہ بدل گیا تھا ۔۔۔
اور اس پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی اپیل کی جا رہی تھی ۔۔۔جس پر پنجاب حکومت نے فورا ایکشن لیتے کیس کی مکمل جانچ پڑتال کی یقین دہانی کروائی تھی ۔۔۔
جسکی زمے داری خود وزیر اعلی پنجاب نے اٹھائی تھی ۔۔۔تب جا کر کہیں معاملہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تھا ۔۔۔مگر مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا ۔۔۔انکا کہنا تھا کہ ہمیں جب تک ضارب شاہ کے سہی سلامت ہونے کی خبر نہیں مل جاتی وہ دھرنا بند نہیں کریں گے ۔۔۔
اس حادثے پر عوام کا ری ایکشن دیکھتے ہوئے ایک بات تو ثابت ہو گئی تھی کہ سردار ضارب شاہ یہ الیکشن لڑے بغیر ہی جیت چکا تھا ۔۔۔۔
***************
دادا سائیں بے چینی سے ہسپتال کے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔ اپنے لاڈلے پوتے کے پاس پہنچنے کی چاہت نے اس عمر میں بھی انکی بوڑھی ہڈیوں میں طاقت بھر دی تھی ۔۔۔
کہ وہ ارمغان شاہ اور موسی شاہ کا انتظار کیے بغیر خود ہی ضارب کے وارڈ تک پہنچ چکے تھے ۔۔۔جس کا اتا پتا خان پہلے ہی فون پر بتا چکا تھا ۔۔۔انکے پیچھے ہی وہ دونوں بھی آ گئے تھے ۔۔۔
اور آتے ہی سب سے پہلے خان کی کلاس لگی تھی ۔۔۔
شہیر خان ہمیں کم از کم آپ سے یہ امید نہیں تھی ۔۔آپ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی تکلیف ہمارے پوتے تک کیسے پہنچ گئی ۔۔۔
اس کے سامنے آتے ہی وہ برہمی سے گویا ہوئے تھے ۔۔۔آج بہت عرصے بعد انکے اندر وہی سرداروں والا غصہ اور جلال ابھر کر باہر آیا تھا ۔۔۔جو کبھی انکی شخصیت کا خاصہ ہوا کرتا تھا ۔۔۔
شاہ سائیں وہ !! ابھی اس نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا ۔۔۔
ہمیں بس ایک بات بتا دیں آپ انکی مکمل حفاظت کر سکتے ہیں یا نہیں ،،، یا ہم ان کیلئے کوئی اور انتظام کر لیں ۔۔۔
جبکہ وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا تھا ۔۔۔اور جھکے سر کے ساتھ ہی بولا تھا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔سردار سائیں تک پہنچنے والی ہر تکلیف کو پہلے اس شہیر خان کی لاش سے گزرنا ہوگا ۔۔۔
وہ اسکی بات پر مطمئن ہوئے تھے یا نہیں ،،، لیکن ہاں میں سر ہلاتے ضارب کے روم کی طرف ضرور بڑھ گئے تھے ۔۔۔
انکے پیچھے موسی بھی چلے گئے تھے ۔۔۔جبکہ ارمغان نے اسکے جھکے سر دیکھتے ہوئے اسکے کاندھے ہاتھ رکھ تسلی دی تھی ۔۔۔ان شااللہ جلد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔وہ مسکرا کر بولے تھے اور آگے بڑھ گئے ۔۔۔
پیچھے وہ مسکرا بھی نا سکا ۔۔۔کیونکہ غلطی تو اس سے ہوئی تھی ۔۔اور یہ بھی جانتا تھا کہ اتنی رعایت جو اسے ملی ہے وہ صرف اسکے باپ اور خاندان کی وجہ جو شاہ خاندان کے برسوں سے وفادار تھے ۔۔۔
ورنہ حیدر شاہ اپنے پوتے کے معاملے میں ذرا سی بھی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے ۔۔۔
****************
دادا سائیں کے ساتھ جب وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو وہ ہوش میں تھا بس اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں ۔۔۔
دادا سائیں نے ایک نظر اپنے خوبرو پوتے کی طرف دیکھا تھا ،،، جس میں انکی جان بستی تھی ۔۔۔
جسکی سرخ و سفید رنگت میں اب ہلکی سی زردیاں گھلی ہوئی تھیں۔۔۔کالے بال جنہیں خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا اب بے پرواہ سے اسکی کشادہ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔
وہ اس وقت اپنے ہی کالے سوٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔ کیونکہ اس نے ہاسپٹل کے کپڑے پہننے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔ بس کوٹ اتار دیا گیا تھا اور بازو کہ کپڑے کو کاٹ کر اوپر پٹی کی گئی تھی ،،، جبکہ دوسرے بازو کو کہنیوں تک فولڈ کر رکھا تھا ۔۔۔
وہ اس بکھری بکھری حالت میں بھی نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا ۔۔۔
وہ آگے بڑھے تھے اور پاس آتے ہی جھک کر اس کی پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیا تھا ۔۔۔اس کے عنابی لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ در آئی تھی اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔
کیسا ہے ہمارا بچہ انہوں بہت محبت سے پوچھا تھا ان کے لہجے میں اس کیلئے فکر ہی فکر نمایاں تھی ۔۔۔ ہم اب ٹھیک ہیں دادا سائیں اس نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے انہیں تسلی بخش جواب دیا تھا ۔۔۔
ہم نے کتنی بار بولا ہے اپنا خیال رکھا کریں ۔۔۔جب ایسی جگہوں پر جائیں مکمل احتیاطی تدابیر کر کے جائیں ۔۔۔لیکن آپ ہماری بات ہی نہیں سنتے ۔۔۔ہمارے دشمنوں کی کوئی کمی تو نہیں ہے ۔۔۔تو پھر آپ ایسی لاپرواہی کیسے کر سکتے ہیں ۔۔۔
اس کے پاس ہی چئیر پر براجمان ہوتے پرشکوہ لہجے میں بولے تھے ۔۔۔انکی بات پر موسی اور ارمغان شاہ نے بھی ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔اسکی لاپرواہی پر وہ دونوں بھی اس سے خفا تھے ۔۔۔
دادا سائیں ہم مکمل انتظام کر کے ہی گئے تھے بس قسمت میں یہ چوٹ لکھی تو لگ گئی ۔۔۔اس نے مسکرا کر جیسے ان تینوں کو منانا چاہا تھا ۔۔۔جو تھوڑی تگ و دو کے بعد مان بھی گئے تھے ۔۔۔
اس کے بعد اس نے گھر جانے کی رٹ لگا لی جبکہ ڈاکٹرز نے اسے ایک دن اور ہاسپٹل میں گزارنے کی تجویز دی تھی لیکن اس نے یہ کہتے ہوئے کہ اب ہم بالکل ٹھیک ہیں رکنے سے انکار کر دیا تھا ۔۔
اور دادا سائیں کو اس کی بات مانتے ہیں بنی تھی وہ جانتے تھے اس نے بول دیا ہے تو اب وہ نہیں رکے گا ۔۔۔
کیونکہ اسے بچپن سے ہی ہاسپٹل اور اس میں موجود دوائیوں کی سمیل سے خار تھی ۔۔۔وہ لوگ ہاسپٹل سے سیدھے حویلی کیلئے نکلے تھے ۔۔۔
راستے میں اسے خان نے شہر کے حالات کے بارے میں بتایا تھا جس پر اس نے ایک ویڈیو کے ذریعے پیغام پہنچایا تھا کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہے اور یہ حملہ اسکے کسی پرانے دشمن نے کیا ہے وہ خود ہی اس سے نمٹ لے گا ۔۔۔ ان سے یہ دھرنا وغیرہ روکنے کی اپیل بھی کی تھی ،،، اور انکے اتنے پیار اور محبت پر انکا شکریہ بھی ادا کیا تھا ۔۔۔
جسے دیکھتے ہی عوام میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی اور ایک دو گھنٹوں میں ہی شہر کی فضا پھر سے پرسکون ہو گئی تھی ۔۔۔جس پر پنجاب حکومت نے سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔۔ ضارب شاہ کو پرسنلی فون کر کے انکا شکریہ ادا کیا اور ساتھ حال احوال بھی پوچھا تھا ۔۔۔
*******************
کیسے بچ گیا وہ !!! کتنا اچھا موقع تھا اسے راستے سے ہٹانے کا تم نے وہ ضائع کر دیا ۔۔۔اس نے غرا کر کہاں تھا ۔۔
جبکہ اس کے سامنے کھڑا شخص تھر تھر کانپ رہا تھا ۔۔۔شاید وہ اس درندے کی دردنگی سے واقف تھا ۔۔۔اس لیے روتے ہوئے اسکے قدموں میں گرا تھا ۔۔۔
پلیز سر مجھے معاف کر دیں ۔۔میں نے اپنی پوری کوشش تھی ۔۔لیکن جب میں نے اسکا نشانہ لے لیا تو اس نے اپنی پوزیشن چینج کر لی ۔۔
اور جو گولی اس کے سینے پر لگنی تھی وہ بازو پر لگ گئی ۔۔۔اس نے روتے ہوئے بتایا تھا ۔۔۔
پلیز مجھے ایک موقع اور دے دیں ،،، اس بار وہ نہیں بچے گا ۔۔۔
ہنننننننن اتنا ہی آسان ہوتا اسے مارنا تو میں کب کا اسے ختم کر چکا ہوتا ۔۔تم ابھی جانتے نہیں ہو اسے وہ سردار ضارب شاہ ہے ،،، اوپر سے جتنا نرم خو اور رحم دل دکھتا ہے اندر سے وہ مجھ سے بھی بڑا درندہ ہے ۔۔
وہ اپنے دشمنوں کو دوسرا موقع نہیں دیتا ۔۔خود پر وار کرنے کا ۔۔۔ابھی تک اس نے تمہیں ڈھونڈنے کیلئے اپنے کئے بندے لگا دیئے ہونگے ۔۔۔
اگر میں نے تمہیں زندہ چھوڑ دیا تو میں خود بھی برباد ہو جاؤں گا ۔۔۔اس نے کہتے ہوئے سفاکیت سے اس کے سر کا نشانہ لیا تھا ۔۔۔
گولی اسکے دماغ کو چیرتی ہوئی دوسری طرف سے نکل گئی تھی ۔۔وہ ایک جھٹکے سے زمین پر گرا تھا ۔۔ خس کم جہاں پاک وہ زہر خند سا مسکرایا تھا ۔۔۔
اسے ایسے غائب کرو جیسے روئے زمین پر یہ کبھی پیدا ہی نا ہوا ہو ۔۔۔اپنے دوسرے آدمیوں کو حکم دیتے ہوئے اس لاش کو ٹھکانے لگانے کا بولا تھا ۔۔۔
*******************
اسے جیسے ہی پتا چلا کہ ضارب پر حملہ ہوا ہے ۔۔۔اس نے واپسی کیلئے ارجنٹ فلائٹ بک کروائی تھی ۔۔۔کیونکہ وہاں زارون سے سب کچھ اکیلے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
جو کے دو گھنٹے بعد کی ملی تھی ۔۔۔اس لیے اسے واپس آتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی ۔۔۔تقریبا رات کے سات بجے اس نے لاہور ایئرپورٹ پر قدم رکھے تھے ۔۔۔
اسکے پہنچنے سے پہلے ہی اسکی گاڑی ایئرپورٹ کے پارکنگ میں کھڑی تھی ۔۔اپنے پی اے کو اس نے وہی سے روانہ کر دیا تھا جبکہ خود اس کا رخ ہسپتال کی جانب تھا ۔۔۔
لیکن آدھے راستے میں ہی اسے زارون کا میسج ملا کہ ضارب ضد کر کے ڈسچارج لے کر حویلی جا چکا ہے تو اس نے راستے میں کہیں رکنے کے بجائے حویلی جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
راستہ سنسان ہونے کی وجہ سے جہاں اکا دکا ہی گاڑیاں رواں تھیں اس نے گاڑی کی سپیڈ کافی تیز کر رکھی تھی ۔۔۔تاکہ جلد از جلد حویلی پہنچ سکے ۔۔۔
وہ اپنے دھیان میں گاڑی چلا رہا تھا جب اسکے سامنے ایکدم سے کوئی وجود آیا تھا ۔۔۔
اس نے فورا بریک لگائی لیکن سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے پھر بھی سامنے والے سے ٹکرا گئی تھی ۔۔وہ وجود سڑک پر اوندھے منہ گرا تھا ۔۔۔ وہ جو پہلے ہی پریشان تھا اس نئی افتاد پر بھونچا کر رہ گیا ۔۔۔ساتھ ہی اسکا ازلی غصہ عود کر آیا تھا ۔۔۔
وہ گاڑی سے باہر نکلا اور بنا کچھ دیکھے ہی بولنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔یہ کون بدتمیز ہے جو راستہ دیکھ کر نہیں چل سکتے ،،، مرنے کیلئے میری ہی گاڑی ملی تھی ۔۔۔
محترمہ اب اٹھیں گی بھی یا ساری رات ایسے ہی سجدے میں پڑے رہنے کا ارادہ ہے ۔۔۔ وہ اسکے کپڑوں سے پتا لگا چکا تھا کہ سامنے صنف مخالف ہے اس لیے اپنے لہجے میں تھوڑی لچک لاتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔جبکہ دوسری طرف جواب صرف خاموشی تھی ۔۔۔
اس کی مسلسل خاموشی اور کوئی حرکت نا کرنے پر اب اسے کوفت کے ساتھ تشویش بھی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔ہیلو محترمہ وہ تھوڑا اور اسکے قریب ہو کر اونچی آواز میں بولا تھا ۔۔۔ ” پر جواب ندارد “
اب اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا اس نے ایک ہاتھ سے اسکے کندھے کو زور سے ہلایا تھا اور کوئی حرکت نا کرنے پر اسکا رخ پلٹا تھا ۔۔۔۔
