Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 98)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

تاشے ۔۔۔”

دروازہ ہلکا سا ناک کرتے رومان تاشے کے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔لیکن پھر خالی کمرہ دیکھتے ہوئے واپس جانے لگا ۔۔۔

جب وہ واشروم کا دروازہ کھولتے کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔

جسکے ستے ہوئے چہرے کو دیکھتے وہ پریشان ہوتا فورا اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔

کیا ہوا گڑیا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ؟؟؟

اسکی پیشانی اور نازک چہرے کو نرمی سے چھوتے فکرمندی سے گویا ہوا تھا ۔۔۔

جس پر تاشے نے اپنے سرمئی نینا اٹھائے تھے جن میں مسلسل رونے کی وجہ سے سرخ ڈورے تیر رہے تھے ۔۔۔

ادھر آو میرے ساتھ ۔۔۔

اسکی مسلسل خاموشی پر وہ اسے تھام کر بیڈ پر لے آیا تھا ۔۔۔

اب بتاؤ مجھے کیا ہوا ؟؟؟ میری گڑیا اتنی خاموش کیوں ہے ؟؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟؟

جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

پھر تمہاری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہو رہی ہیں ۔۔۔تم روئی ہو نا ۔۔۔بتاؤ مجھے کس نے ڈانٹا میری گڑیا کو ۔۔۔

رومان کے لہجے میں اس کیلئے فکر کے ساتھ اب ہلکا غصہ بھی چھلکنے لگا تھا ۔۔۔

نہیں بھائی مجھے کسی نے نہیں ڈانٹا ۔۔۔یہاں تو سب لوگ بہت اچھے ہیں ۔۔۔مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔۔

بس آپ پاس نہیں تھے نا ۔۔۔تو آپکی یاد آ رہی تھی اور ساتھ میں ماما کی بھی ۔۔۔

بس اسی لیے تھوڑا ۔۔۔

اسکے غصے کو دیکھ وہ زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتی اپنا سر اسکے کندھے پر ٹکا گئی ۔۔۔

رومان نے فورا اسکے گرد اپنا حصار بنایا ۔۔۔

ارے پاگل تم نے مجھے ڈرا ہی دیا ۔۔۔میں سمجھا میری گڑیا کو کسی نے میری عدم موجودگی میں ڈانٹا ہے ۔۔۔

میں نے بھی بہت مس کیا اپنی گڑیا کو ۔۔۔اسکے سر پر بوسہ دیتے مسکرا کر گویا ہوا ۔۔۔

تاشے نے اسکے سینے میں چہرہ چھپاتے اسکی شرٹ پر پکڑ مظبوط کی اور اپنے امڈ آنے والے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔جو رومان کے پیار جتانے پر شہیر خان کے لفظوں کو یاد کرتے اسکی آنکھوں سے بہنے کو بےتاب تھے ۔۔۔

اور پڑھائی کیسی چل رہی ہے ؟؟؟

اسے خاموش اپنے سینے لگے دیکھ بالوں کو سہلاتے نرمی سے سوال کیا ۔۔۔

اچھی چل رہی ہے ۔۔۔

خود کو کمپوز کرتے ہوئے اب کے اس نے بھی ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا ۔۔۔

ہمم گڈ ۔۔۔

ویسے گڑیا میں تم سے ایک ضروری بات کرنے کیلئے آیا تھا ۔۔۔ ایک معاملے میں تمہاری رائے لینے تھی ۔۔۔لیکن مجھے تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔پھر کبھی سہی ۔۔۔

نہیں ،،، نہیں بھائی میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔

آپ کریں جو بھی بات کرنی تھی ۔۔۔اپنے بھائی کی محبت کو دیکھتے خود کو سنبھالتے ہوئے وہ فورا سیدھی ہوئی تھی ۔۔۔

لیکن تمہاری طبیعت ۔۔۔

ارے ارے کچھ نہیں ہوا میری طبیعت کو میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔

وہ اسکی بات درمیان میں کاٹتے مسکرا کر بولی ۔۔

لیکن ۔۔”

اب بتا بھی دیں کیوں اتنا سسپنس پھیلا رہے ہیں ؟؟؟

رومان کے بات ٹالنے پر اب کے اس نے منہ بنایا ۔۔۔جس پر وہ دھیرے سے مسکرایا تھا ۔۔۔

ایکچلی نا وہ میں ۔۔۔

رومان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ تاشے سے اسکی شادی کی بات سے کیسے کرے ۔۔۔

جی ۔۔۔

تاشے نے منتظر نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

رومان نے بہت نرمی کے ساتھ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔

میری گڑیا کو پتا ہے نا کہ اسکا بھائی اس سے کتنی محبت کرتا ہے ؟؟؟ رومان نے اصل بات پر آنے سے پہلے تمہید باندھنے کی کوشش کی ۔۔۔

جی ۔۔۔یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ۔۔۔

میرے بھائی اسکے دنیا کے سب سے بیسٹ بھائی ہیں ۔۔۔اسکے ہاتھوں پر دباؤ دیتے بہت پیار سے بولی۔۔۔

تو اگر تمہیں کبھی اپنے اس بھائی کو چھوڑ کر جانا پڑ جائے ۔۔۔

ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ وہ اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتے خاموش کروا چکی تھی ۔۔۔

اللہ نا کرے میں کبھی اپنے بھائی سے جدا ہوں ۔۔۔

بات کرنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں پانی بھی اتر آیا تھا ۔۔۔

جس پر نفی میں سر ہلاتے رومان نے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔

ارے پاگل یہ تو دنیا کی رسم ہے ہر بیٹی کو ایک نا ایک دن اپنے اپنوں کو چھوڑ کر جانا پڑتا ہے ۔۔۔

جس پر چونک کر تاشے نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

اب بھی نہیں سمجھی ؟؟؟ ارے پاگل میں تمہاری شادی کی بات کر رہا تھا ۔۔۔مجھے اپنی گڑیا کو دلہن بنا کر رخصت بھی تو کرنا ہے ۔۔۔

اسکے سر پر چپت لگاتے نرمی سے مسکرایا ۔۔۔

جبکہ شادی کے نام پر تاشے کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا تھا ۔۔۔تمہارے لیے ایک رشتہ آیا ہے ۔۔۔لڑکا امیر اور خاندانی ہونے کے ساتھ ساتھ ویل ایجوکیٹڈ اور خاصہ تعمیز دار بھی ہے اور اس کے ساتھ کافی ہینڈسم بھی ہے ۔۔۔اسکے تاثرات پر دھیان دیئے بنا وہ شرارتی لہجے میں بولا ۔۔۔

مجھے تو یہ رشتہ کافی مناسب لگا اس لیے میں نے بابا سے بھی بات کر لی ۔۔۔اور انکی رائے بھی یہی ہے ۔۔۔

اب تم بتاؤ ۔۔۔تمہاری کیا رائے ہے ۔۔۔بات کے آخر میں رومان نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

اور اسکی اڑی رنگت کو دیکھ کر یکدم ہی پریشان ہو گیا ۔۔۔

تاشے ۔۔۔”

اسکے چہرے کو تھامتے پریشانی سے اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔

ہنہہہ۔۔۔

تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے ۔۔۔نہیں بھائی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔اپنے چہرے پر رکھے اسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے تسلی دینی چاہی ۔۔۔

تو پھر کیا ہوا ۔۔۔میرے رشتے والی بات سن کر پریشان ہو ۔۔۔لیکن رومان کو یقین نا آیا وہ اب بھی فکرمند نگاہوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ۔۔بس ویسے ہی ۔۔۔اب وہ اسے کیا بتاتی ۔۔۔ابھی تو اسکے ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑے اس نے ٹھیک سے اکٹھے نہیں کیے۔۔۔

شہیر خان نے جو اسکی تذلیل کی تھی ۔۔۔ اسکی نسوانیت کی جو توہین ہوئی ۔۔۔ابھی تو وہ زخم تازہ تھا جس سے ابھی تک اسکے جذبات اور احساسات سےخون بہہ رہا تھا ۔۔۔

ایسے میں وہ کسی اور کے بارے میں کیسے ۔۔۔

میں سمجھ سکتا ہوں گڑیا ہر لڑکی کیلئے اپنوں کو چھوڑ کر جانا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔لیکن یہ تو دنیا کی ریت ہے نا جسے ہر حال میں نبھانا ہی ہوگا ۔۔۔

وہ سمجھا شاید اسکے دور جانے کے خیال سے پریشان ہو رہی ہے اس لیے پیار سے سمجھانے لگا ۔۔۔

جس سے تاشے کے آنسو بےاختیار ہوتے بہنے لگے تھے ۔۔۔

لیکن مجھے اپنے بھائی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا ۔۔۔اسکے کندھے پر سر ٹکاتے ہوئے نم لہجے میں بولی ۔۔۔پلیز آپ اس رشتے کیلئے منع کر دیں ۔۔۔

میں بھی اپنی گڑیا کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔لیکن بیٹیوں سے جتنی مرضی محبت کر لی جائے ایک نا ایک دن انہیں رخصت کرنا ہی پڑتا ہے ۔۔۔

اور ویسے بھی یہ رشتہ بہت اچھا ہے جسے میں کسی بھی حال میں گنوانا نہیں چاہتا ۔۔۔

کیونکہ وہ لڑکا بہت ہی سلجھا ہوا زمانے کی اونچ نیچ کو جاننے والا سمجھدار انسان ہے ،،،، اور میں اپنی گڑیا کیلئے ہمیشہ سے ایسا ہی لڑکا چاہتا تھا ۔۔۔

جو میری گڑیا کو سنبھال سکے ۔۔۔اسے دنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنا سکھائے ۔۔۔جو ہر قدم پر اسکی حوصلہ افزائی کرتے کبھی ڈگمگانے نا دے ۔۔۔اور ہر مصیبت میں تمہاری ڈھال بن کر آگے کھڑا ہو ۔۔۔

شہیر خان کی پرسنیلٹی اسکی سمجھداری سے تو وہ پہلے ہی مرعوب تھا لیکن اس خاندان سے اسکی عقیدت کو دیکھتے رومان کو پورا یقین تھا وہ اسکی بہن کو بالکل رانیوں کی طرح رکھے گا ۔۔۔

اس لیے اس نے تاشے کے سامنے بھی اسکی تعریف کی تھی ۔۔۔

اب تم بتاؤ گڑیا تمہاری کیا رائے ہے ؟؟؟

بات کے آخر میں رومان نے پھر نرمی سے پوچھا ۔۔۔

تاشے نے اپنے بھائی کے چہرے پر سجی مسکراہٹ کو دیکھا ۔۔۔اور پھر اپنی محبت کو جسکے اظہار سے پہلے ہی شہیر خان نے اسے بےدردی سے اپنے پاؤں تلے روندا تھا ۔۔۔

اسکے کردار کو نشانہ بنایا تھا ۔۔۔

اور پھر یکدم ہی وہ ایک نتیجہ پر پہنچی تھی ۔۔۔اپنی ٹوٹی پھوٹی محبت کی کرچیوں کو اپنے اندر ہی دفن کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔

دیکھو گڑیا کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔۔۔ویسے تو تم نے پہلے بھی اسے دیکھا ہوا ہے ۔۔لیکن اگر دوبارہ ملنا چاہو تو میں شہ ۔۔۔

نہیں بھائی اسکی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔آپکو یہ رشتہ پسند ہے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔

اسکی بات مکمل سننے سے پہلے ہی اس نے ہامی بھر دی تھی ۔۔۔

جس پر خوش ہوتے رومان نے اسکی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے صدا خوش رہنے کی دعا دی تھی ۔۔۔

جسے سن کر تاشے کے دل سے ایک ہوک سی اٹھی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

ارمغان شاہ واسم سے آفس کے کچھ ضروری معاملات ڈسکس کرنے کے بعد جب کمرے میں آئے تو روباب لیٹنے کی تیاری کر رہی تھیں ۔۔۔

انہیں کمرے میں داخل ہوتا دیکھ دو لمحوں کیلئے ٹھہریں ۔۔۔لیکن پھر اگنور کرتے ہوئے تکیہ درست کرتیں بیڈ پر بیٹھ کر ہاتھوں میں موسچرائزر لگانے لگیں ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف انکی ناراضگی کو محسوس کرتے ارمغان شاہ کے لب دھیرے سے مسکرائے تھے ۔۔۔

اور وہ دروازہ بند کر کے بھاری قدم لیتے انکے قریب آ کر بیڈ پر براجمان ہوئے ۔۔۔

ابھی تک ناراض ہیں ؟؟؟

انکے نرم ہاتھوں کو تھامتے ہوئے بہت محبت سے بولے ۔۔۔

جس پر بنا کوئی جواب دیئے روباب نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا ۔۔۔لیکن انکی گرفت مظبوط ہونے کی وجہ سے کامیاب نا ہو سکیں ۔۔۔

روباب ۔۔۔”

یار میں نے جان بوجھ کر آپکو نہیں ڈانٹا وہ بس غصے میں ۔۔۔

میں آپ سے اس وجہ سے ناراض نہیں ۔۔۔

انکی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ انہیں ٹوک گئیں تھیں ۔۔۔

اچھا تو پھر کس وجہ سے ناراض ہیں میری بیگم ۔۔۔انکے تھوڑا اور قریب ہوتے شرارت سے بولے ۔۔۔

آپکو پتا ہے ؟؟؟

انکے یوں قریب آنے پر وہ تھوڑا گھبرائیں ضرور لیکن پھر خود کو کمپوز کرتے سپاٹ لہجے میں بولیں ۔۔۔

اگر آپ عظمی سے شادی والی بات پر ناراض ہیں تو میں پہلے بھی آپکو بتا چکا ہوں ۔۔۔یہ شادی کن حالات میں ہوئی تھی ۔۔۔اس میں میرا کوئی قصور یا عمل دخل نہیں تھا ۔۔۔

بیشک آپکے بعد عظمی میری زندگی میں رہی ضرور ہیں لیکن اس دل پر حکومت آج بھی آپکی ہی ہے ۔۔۔میری محبت اب بھی آپ ہی ہیں ۔۔۔

انہیں نرمی سے اپنے حصار میں لیتے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہا ۔۔۔

یہی تو غلط کیا آپ نے ۔۔۔

اپنے گرد بندھے انکے حصار کو کھولتے وہ پیچھے ہوئیں تھیں ۔۔۔

مطلب ۔۔۔”

انکے فاصلہ بنانے والی حرکت ناگوار گزرنے کے باوجود انکی طبیعت کا خیال کرتے اب بھی نرمی سے بولے ۔۔۔

مطلب کہ غلط کیا آپ نے عظمی کے ساتھ ۔۔۔آپکو انہیں انکا حق دینا چاہیے تھا ۔۔۔انکے حصے کی محبت انہیں دینا چاہیے تھی ۔۔۔

غنی وہ آپکی بیوی ہیں ۔۔۔حق ہے انکا آپ پر ،،،، جنہوں نے بنا کسی غرض کے آپکے بچوں کو سنبھالا ۔۔۔انہیں سگی ماں جتنی محبت دی ،،، انکی اچھی پرورش کی ۔۔۔

اور بدلے میں انہیں کیا ملا کچھ بھی نہیں ۔۔۔شوہر کی محبت کے دو لمحے بھی نصیب نہیں ہوئے ۔۔۔تو آپ خود بتائیں یہ ناانصافی نہیں انکے ساتھ ۔۔۔

آپکی محبت آپکا مسئلہ تھی عظمی کا نہیں ۔۔۔ جب آپ انہیں انکا حق نہیں دے سکتے تھے تو آپکو ان سے شادی بھی نہیں کرنی چاہیے تھے ۔۔۔کیوں اپنے مفاد کیلئے آپ نے ایک معصوم عورت کی زندگی برباد کی ۔۔۔غنی آپ اتنے خودغرض کیسے بن گئے ۔۔۔کہ عورت کے جذبات کو اسکے احساسات کو اپنی خودغرضی کی بھینٹ چڑھا دیا ۔۔۔

ایک لڑکی نے اپنی شادی کے حوالے سے کچھ خواب سجائے ہوتے ہیں ۔۔۔ اسکی کچھ خواہشات ہوتیں ہیں ۔۔۔جو وہ چاہتی ہے کہ اسکا شوہر پورا کرے ۔۔۔لیکن آپ نے تو ۔۔۔

اپنی بات ادھوری چھوڑ کر وہ انہیں افسوس بھری نظروں سے دیکھنے لگیں ۔۔۔

دیکھیں روباب میں جانتا ہوں کہ یہاں مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔۔۔لیکن میں نے یہ سب جان بھوج کر نہیں کیا ۔۔۔

میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تھا اس وقت ۔۔۔اس وقت جو حالات تھے آپ سے جدائی نے میرے اندر ایک عجیب سی خلش پیدا کر دی تھی ۔۔۔

یکدم سے ہی میری روشنیوں بھری زندگی اندھیروں میں چلی گئی تھی ۔۔۔تو آپ خود بتائیں ایک انسان جو اندر سے خود ٹوٹا ہوا ہو ۔۔۔وہ دوسروں کو خوشیاں کیسے دے سکتا ہے ۔۔۔

جو خود غموں کے پہاڑ تلے دبا ہو۔۔۔وہ کسی کے چہرے کی خوشی کیسے بن سکتا ہے ۔۔۔

مانتی ہوں میں آپکی سب باتیں ٹھیک ہیں کہ اس وقت حالات آپکے ہاتھ میں نہیں تھے ۔۔۔لیکن بعد میں تو آپ انکے ساتھ اپنا رشتہ ٹھیک کر سکتے تھے ۔۔۔انہیں انکا حق دے سکتے تھے ۔۔۔

ارمغان کی بات کے جواب میں اب بھی افسوس سے ہی بولیں تھیں ۔۔۔

میں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔

دیر ہو چکی تھی مطلب ؟؟؟؟

روباب نے انکی طرف سوالیہ دیکھا ۔۔۔

مطلب کے عظمی کو تب میری ضرورت نہیں رہی تھی ۔۔۔وہ بچوں کو ہی اپنی زندگی مانتے نئی شروعات کرتے آگے بڑھ چکیں تھیں۔۔۔

یہاں تک کہ مجھ سے مخاطب ہونا بھی چھوڑ چکیں تھیں سو اس لیے ۔۔۔۔

سو اس لیے آپ نے بھی انکی طرف قدم بڑھانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔واہ

بات کی تہہ تک پہنچتے وہ استہزائیہ مسکرائیں ۔۔

روباب یہ آپ کیا فضول بحث لے کر چل پڑی ہیں ۔۔۔ ارمغان کو روباب کے بات کرنے کا انداز پسند نہیں آیا تھا اس لیے غصے سے جھڑک دیا ۔۔۔

لیکن پھر انکی آنکھوں میں اترتی نمی کو دیکھتے ہوئے نرم پڑتے انہیں اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔

دیکھیں روباب میں مانتا ہوں عظمی کو انکا حق نا دے کر میں نے انکے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔۔۔

لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا ہے ۔۔۔سو اس بحث کا بھی کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔

کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔آپ اب بھی انہیں انکا حق دے سکتے ہیں ۔۔۔

روباب انکے کندھے سے سر اٹھا کر امید بھری نظروں دیکھا ۔۔۔

کیسی باتیں کر رہی ہیں میں اب کیسے ۔۔۔

کیا مطلب کیسے ؟؟؟؟

بالکل ویسے ہی جیسے آپ میرے قریب آتے ہیں ۔۔۔

غنی عظمی کے اندر کا ادھورا پن انکے چہرے سے جھلکتا ہے ۔۔۔جسے وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر چھپانے کی کوشش کرتیں ہیں ۔۔

جسے دیکھ کر مجھے اپنا آپ گنہگار لگنے لگتا ہے ۔۔۔

پلیز انکے چہرے کی اداسی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔آپ ان کے ساتھ اپنا رشتہ نارمل کر لیں ۔۔۔

انکے لہجے میں التجا سی تھی ۔۔۔

روباب پہلے بات الگ تھی ۔۔۔اب آپ کے ہوتے ہوئے ۔۔۔آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ۔۔۔ بالفرض میں کوشش کر بھی لوں اور اگر عظمی نے منع کر دیا تو پھر ؟؟؟؟

ہو نہیں سکتا ۔۔۔

یہ بات آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں ؟؟؟؟

کیونکہ میں ایک عورت ہوں ۔۔۔دوسری عورت کے احساسات اور جذبات کو بہتر سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔

آپ کیلئے عظمی کی محبت انکی آنکھوں سے جھلکتی ہے ۔۔۔

اور ایک عورت جس مرد کو ایک بار اپنے دل میں بسا لے اسکی ہر غلطی ہر زیادتی کے باوجود بھی دل سے کبھی نہیں نکالتی اور نا ہی اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو کبھی دھتکارتی ہے ۔۔۔

جس پر انہوں نے گہرا سانس کھینچتے سر ہلایا تھا ۔۔۔

اچھا میں کوشش کروں گا ۔۔۔

انکے مسلسل اسرار پر انہوں نے ہار مانتے ہتھیار ڈالے تھے ۔۔۔ویسے آپ دنیا کی واحد عورت ہونگی جو اپنے شوہر کو خود دوسری عورت کے پاس بھیجنے پر اتنا زور دے رہی ہیں ۔۔۔

انکے مان جانے پر جہاں ایک سکون سا انکے اندر اترا وہی انکی بات پر نفی میں سر ہلاتیں خوبصورتی سے مسکرائیں ۔۔۔

جسے نرمی سے جھکتے ارمغان نے ہونٹوں سے چنا ۔۔۔

جبکہ اس اچانک افتاد پر روباب کی سانسیں انکے سینے میں اٹکی تھی۔۔۔

انکے چہرے پر پھیلتے قوس قزح کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرا کر مزید انکے قریب ہوئے تھے ۔۔۔

غنی پلیز ۔۔۔

روباب نے انکے سینے پر ہاتھ رکھتے انہیں روکنے کی اپنی سی کوشش کی ۔۔۔

آج نہیں روباب ۔۔۔آپ کے لمس آپکی محبت کیلئے میں برسوں ترسا ہوں ۔۔۔

یہاں تک کے آپکے مل جانے پر بھی آپکی طبیعت کی وجہ سے آپکو وقت دیا ،،، لیکن اب نہیں ۔۔۔

انکی تمام گریز اور مزاحمتوں کے باوجود بھی وہ انہیں اپنے حصار میں لے کر ان پر اپنی محبت نچھاور کرنے لگے تھے ۔۔۔

جبکہ اتنے سالوں بعد انکے لمس کو پاتے ،،، ایک جھجھک سی ہونے کے باوجود وہ انکے حصار میں سکون محسوس کر رہی تھیں ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°

واسم جب اپنے کمرے میں داخل ہوا تو پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

اس نے اپنی نظریں چاروں طرف دوڑائی لیکن اندھیرے میں کچھ خاص سجھائی نا دیا ۔۔۔

البتہ اندر داخل ہوتے ایئر فریشنر کے ساتھ کمرے میں پھیلی موتیے کے پھولوں کی خوشبو نے اسے چوکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔

ابھی وہ آگے بڑھ کر لائٹ آن کرتا جب آئینے کے سامنے کھڑی ابیہا نے ماچس کی تیلی کو ہلکے ہاتھ سے آنچ دیتے جلایا ۔۔۔

جس سے آئینے میں اسکا عکس ہلکا سا واضح ہوا ۔۔۔

واسم شاہ نے سپاٹ نظروں سے اسکی تیاری کو جانچا ۔۔۔جس نے پیور وائٹ کلر کا سمپل مگر خوبصورت لہنگا زیب تن کیا ہوا تھا ۔۔۔

جسکے بازو بالکل نا ہونے کے برابر تھے ۔۔۔

خوبصورت بالوں کو بائیں طرف سے ہلکا پن اپ کر کے دائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا جنکے آخر میں ہلکے لوز کرل ڈالے گئے تھے ۔۔۔

جبکہ بائیں کندھے پر ڈوپٹہ لاپرواہی سے جھول رہا تھا ۔۔۔

جیولری کے نام پر وائٹ ڈائمنڈ کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس کانوں کی زینت بنائے ہوئے تھے۔۔۔

سنہری آنکھوں میں گہری کاجل کی دھار ۔۔جبکہ ہونٹوں پر بس پنک لپ لوز لگائے ۔۔ہاتھوں میں بھر بھر کر سفید کانچ کی چوڑیاں پہنے وہ اسکا امتحان لینے کے در پر کھڑی تھی ۔۔۔

ابیہا نے اسے خود کو تکتے دیکھ ایک ادا سے مسکراتے ٹیبل پر سیٹ کی گئی کینڈلز کو جلانا شروع کیا ۔۔۔

اندھیرے میں دھیمی دھیمی روشنی سی پھیلنی شروع ہوئی۔۔۔جس نے کمرے کا ماحول مزید فسوں خیز بنایا ۔۔۔

ڈریسنگ پر رکھی تمام کینڈلز جلانے کے بعد وہ دھیمے قدم اٹھاتی اسکے قریب آئی تھی ۔۔۔

کمرے میں گونجتی اسکی چوڑیوں کے ساتھ پاؤں میں پہنی پائل کی چھنک نے واسم شاہ کے دل میں ہلچل مچا دی تھی ۔۔۔البتہ اس نے چہرے سے ظاہر نا ہونے دیا ۔۔۔

ابیہا نے اسکے قریب آتے چند پل کیلئے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔جسکا چہرہ بالکل سپاٹ ہر احساس سے عاری تھا ۔۔۔

جسے دیکھ کر اسے اپنی تیاری رائیگاں جاتی محسوس ہوئی ۔۔۔لیکن وہ اتنی جلدی ہار بھی نہیں مان سکتی تھی اس لیے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے وہ اس کے قریب ہوئی تھی ۔۔۔

جس نے اسکے چھونے سے پہلے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا ۔۔۔

پھر سائڈ ہو کر نکلنا چاہا جب ابیہا نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے روکا اور ساتھ ہی ریموٹ سے کمرے میں ایک طرف رکھے میوزک پلیئر کو آن کرتے اسکی طرف نروٹھے پن سے دیکھا ۔۔۔

نینا نوں روانا اے ،،، وے توں ترلے پوانا اے

دھیمے میوزک کے ساتھ کمرے میں مس پوجا کی آواز گونجی تھی ۔۔۔

جس کے ساتھ ہی ابیہا نے بھی اسکے قریب ہوتے لب کشائی تھی ۔۔۔

نینا نوں روانا اے ،،، وے توں ترلے پوانا اے

مینو جتھے جتھے جاندا اے توں مل

انا کا تا سونیا پیار وی نہیں کردا ،،، جنا میرا توڑنا اے دل

ابیہا کے سنہری کانچ میں اسکے عکس کے ساتھ ڈھیروں شکوے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔

انا کا تا سونیا پیار وی نہیں کردا ،،، جنا میرا توڑنا اے دل

وے جنا میرا توڑنا اے دل ۔۔۔

واسم کے پہنے کوٹ کے بٹنوں سے کھیلتے ہوئے جیسے اپنے دل کا حال سنا رہی

تھی ۔۔۔

جبکہ اسکے شکوے شکایتوں کو سنتے جہاں واسم کی آنکھوں میں خمار اترا تھا وہی لفظ دوہرانے کے چکر میں چہرے پر اترتی سرخی کو دیکھتے ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی جسے بمشکل ہی لب بھینچ کر روکتے ،،، اسکے ہاتھوں کو سائڈ کرتے رخ موڑا ۔۔۔

جب وہ غصے سے گھورتے ہوئے اسکے آگے آئی اور اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر کھینچتے ہوئے بیڈ پر بٹھایا اور خود اسکی گود میں بیٹھتے بازو گردن میں باندھے ۔۔۔

ایڈی کیری دس چنا ہوئی غلطی

جیڑا توں پیار نال بول دا وی نہیں

اسکی پیشانی کے ساتھ ہلکے سے پیشانی ٹکراتے ناراضگی کی وجہ جاننی چاہی ۔۔۔

جس کے بدلے واسم نے اسے گھورا تھا ۔۔۔

میں کیتے غصے ہو جاں تیرے نال وے

مینوں توں منان لئی ڈول دا وی نہیں

واسم کو غصے سے گھورتے دیکھ ناراضگی سے اسکی طرف دیکھتے ایک اور شکوہ کیا ۔۔۔جب واسم نے اسے گود سے اٹھا کر ایک سائڈ کرنا چاہا ۔۔۔

لیکن وہ اسکے کندھوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹاتے اوپر آئی تھی ۔۔۔

ہائے ایدا نا توں کر

کیتے جاواں نا میں مر

تیرے بنا اے گزارا مشکل

اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتے سانسوں کے قریب ہوئی تھی ۔۔۔

اسکے کھلے ہوئے بالوں نے بکھر کر دونوں کے چہروں کو چھپایا ۔۔۔جنکی مہکتی خوشبو واسم کو اپنی سانسوں میں گھلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔

اینا کا تا سونیا پیار وی نہیں کردا وے جنا میرا توڑنا اے دل

وے جنا میرا توڑنا اے دل

کمرے مس پوجا کی آواز پھر سے گونجی ۔۔۔لیکن اس بار ابیہا لبوں سے کچھ نہیں بولی بس خاموشی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔۔

واسم نے اسکی آنکھوں میں نظر آتی طلب محبت اور شکووں کو دیکھتے اپنی ناراضگی کو بھول کر اسے اپنے قریب کرنا چاہا جب ایک بار پھر اسے ابیہا کا تاشے اور ابرش کے سامنے اپنا مذاق بنانا یاد آیا ۔۔۔

اور بس ساری خماری پل میں ہوا ہوئی تھی ۔۔۔اور اسکی جگہ غصے اور طیش نے لے لی ۔۔۔۔

وہ پل میں اسے اپنے اوپر سے ہٹاتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

ابیہا نے پلٹ کر سیدھے ہوتے ایسی تذلیل پر سرخ چہرے کے ساتھ اسکی پشت کو دیکھا پھر غصے سے گھورتے ہوئے تیز قدموں سے اسکی طرف بڑھتے راستے میں حائل ہو گئی ۔۔۔

تمہاری پروبلم کیا ہے آخر ؟؟؟ کیا چاہتی ہو ؟؟؟

جتنا وہ خود کو کنٹرول کرتے اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اتنا ہی وہ اسکے قریب آتی اسکے صبر کو آزمانے پر تلی ہوئی تھی ۔۔۔

آپ ،،،، آپ ہیں میری پروبلم ۔۔۔آخر آپکے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟؟؟

کیوں اگنور کر رہے ہیں مجھے ،،،، جب بھی قریب آنے یا بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔۔۔سائیڈ سے ہو کر نکل جاتے ہیں ۔۔۔

آخر مجھے بتاتے کیوں نہیں مجھ سے ایسی کونسی غلطی سرزرد ہوئی ہے جو مجھے ایسی سزا دے رہے ہیں ۔۔۔

غصے سے بولتے بولتے آخر میں اسکا لہجہ بھرا گیا تھا ۔۔۔

میں تمہارے کسی بھی سوال کا جوابدہ نہیں ہوں ۔۔۔تمہارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ میرا راستہ چھوڑ دو ۔۔۔

آپ ہیں میرے جوابدہ ،،،، بیوی ہوں میں آپکی ،،،، مکمل حق رکھتی ہوں جواب طلب کرنے کا ۔۔۔

اور کیوں چھوڑ دوں میں آپ کا راستہ ،،،، نہیں چھوڑوں گی ،،،، کیا کر لیں گے ۔۔۔

بات کرتے ساتھ اسکے سینے پر غصے سے دونوں ہاتھ مارتے پیچھے کی طرف دھکیلا ۔۔۔

جبکہ اسکی جرت پر واسم نے غصے سے پاگل ہوتے اسے بالوں سے دبوچ کر اپنے قریب کیا تھا ۔۔۔

تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ،،، تمہاری جرت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ؟؟؟ مجھے دھکا دینے کی ؟؟؟

اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بےانتہا قریب کیے وہ پوری قوت سے دھاڑا ۔۔۔جس پر وہ پورے وجود سمیت کانپی تھی ۔۔۔

جبکہ بالوں پر اسکی گرفت مظبوط ہونے سے تکلیف کی وجہ سے سنہری نینا بھیگے ۔۔۔

سم ۔۔۔

اسے غصے میں آپے سے باہر ہوتے دیکھ نم لہجے میں پکار گئی ۔۔۔

جس کا اس پر کچھ خاص اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔البتہ آنکھوں میں اترے آنسوؤں کو دیکھتے بالوں پر موجود اپنی گرفت ہلکی ضرور کی تھی ۔۔۔

اپنی حد میں رہنا سیکھو ،،،، آئندہ ایسی حرکت انجام دینے سے پہلے ہزار بار سوچنا ،،، ورنہ اسکے انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی ۔۔۔

درشتگی سے وارننگ دیتے اسکی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھتے اسکے بالوں کو چھوڑ کر سائڈ سے ہو کر نکلنے لگا ۔۔۔

جب ابیہا نے اسکا ہاتھ تھام کر دوبارہ اسے روکا تھا ۔۔۔

واسم نے پلٹ کر غصے سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

آخر ایسی کونسی غلطی ہو گئی ہے مجھ سے جو آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں ؟؟؟؟

اب اسکے لہجے میں نمی کے ساتھ بےبسی بھی اتر آئی تھی ۔۔۔اور وہ اسکا ہاتھ تھامیں ہوئے ہی شدت سے روتے زمین پر اسکے قدموں میں بیٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔کیونکہ اسکے قدموں میں مزید کھڑے رہنے کی قوت ختم ہو گئی تھی ۔۔۔

جبکہ اسے اپنے قدموں میں بیٹھا اور شدت سے روتا دیکھ وہ نرم پڑا تھا ،،،

غلطی تو تم سے ہوئی ہے ،،،، ایسی غلطی جس نے واسم شاہ کی انا کو بری طرح ٹھیس پہنچائی ہے ،،،، جس کی وجہ سے تم اس سزا کی حقدار ٹھہرائی گئی ہو ۔۔۔

اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نرمی سے صاف کرتے سپاٹ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔

جبکہ اسکی عجیب و غریب باتوں اور رویے پر ابیہا نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

لان میں بیٹھ کر اپنے بولے گئے الفاظ یاد کرو ۔۔۔

زمین پر پڑا اسکا ریشمی ڈوپٹہ اٹھا کر دوبارہ اسکے کندھے پر ڈالتے جو اسکے زمین پر بیٹھنے کے دوران کندھے سے پھسل کر نیچے گر گیا تھا ،،، اسکی غلطی کا ادراک کروانا چاہا ۔۔۔

اسکی بات پر ابیہا نے کچھ الجھی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

جب اسکے دماغ میں جھماکا سا ہوا تھا ۔۔۔

اور اسے تاشے اور ابرش کے سامنے اپنی مذاق میں کہی گئی بات یاد آئی تھی ۔۔۔تو کیا واسم اس وجہ سے ایسا سلوک کر رہا تھا ۔۔۔

واسم ۔۔۔وہ سب تو میں نے مذاق میں ۔۔۔

میری ذات مذاق ہے تمہارے لیے ،،،، جو دوسروں کے سامنے اسکا تماشا بناتی پھر رہی تھی ۔۔۔

ابیہا کی بات پوری ہونے سے پہلے درمیان میں کاٹتا ایک بار پھر غصے سے بولا ۔۔۔

میرا یقین کریں سم ،،، میرا ارادہ آپکی ذات یا پھر آپکا مذاق بنانے کا نہیں تھا ،،، وہ تو میں رینڈملی ۔۔۔بس آپ کی نیچر کے بارے میں بتا رہی تھی ۔۔۔کہ آپ بالکل بھی ویسے نہیں جیسا سب سوچتے ہیں ۔۔۔

واسم کو خود کو غلط سمجھتے دیکھ ابیہا نے صفائی دینی چاہی ۔۔۔

دوسرا کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیا نہیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔

لیکن میں تمہیں کبھی یہ اجازت نہیں دوں گا کہ دوسروں کے درمیان بیٹھ کر تم میری ذات کا یوں مذاق بناتے اسے ڈسکس کرو ۔۔۔

جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے کچھ کہنا ،،،، جب واسم نے اسکے لبوں پر انگلی رکھتے اسے خاموش کروایا تھا ۔۔۔میں زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔بس جو بولا ہے اس پر آئندہ عمل کرنا ۔۔۔سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اسے گود میں اٹھایا اور بیڈ پر تکیے کے سہارے بٹھاتے ،،،، سائڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا جسکا نازک وجود زیادہ رونے کی وجہ سے اب بھی ہچکیاں لے رہا تھا ۔۔۔

ابیہا نے ایک نظر اسکے ہاتھ میں موجود پانی کے گلاس کو دیکھا اور پھر نظر اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف ۔۔۔

پھر اسے اگنور کرتے ہوئے رخ موڑ کر بیڈ پر لیٹتی دوبارہ شدت سے رونے لگی ۔۔۔

جس پر واسم نے غصے سے اسکی طرف دیکھا ۔۔لیکن پھر اسکی نظر ابیہا کی بیک پر پڑی تھی ۔۔۔ابیہا نے جو کرتی پہن رکھی تھی اسکا پچھلا گلا کافی گہرا تھا ۔۔۔جسے ڈوریوں کے ساتھ باندھنے کے باوجود بھی اسکی دودھیا کمر کافی حد تک واضح ہو رہی تھی ۔۔۔

جسے دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں دوبارہ خمار اترنے لگا ۔۔۔

واسم نے ایک نظر پورے اسکے وجود پر دوڑائی ،،،، جس نے اسے منانے کیلئے خاص تیاری کر رکھی تھی ۔۔۔

بےساختہ ہی اسکے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ آئی ۔۔۔

اور پھر پانی کا گلاس سائڈ ٹیبل پر واپس رکھتے بیڈ پر براجمان ہوا ۔۔۔لیکن نظریں ابھی بھی ابیہا کی کمر پر بندھی ڈوریوں میں الجھی ہوئیں تھیں ۔۔۔

جبکہ اسکے بیڈ پر بیٹھنے کو محسوس کرنے کے باوجود اسکی پوزیشن میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔اور نا ہی رونے میں کوئی کمی ۔۔۔

واسم نے ایک نظر اسکے ہچکیاں کھاتے وجود کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر نفی میں سر ہلاتے یکدم ہی بیک پر بندھی ڈوری کا ایک سرا پکڑ کر زور سے کھینچا ۔۔۔

جسکے بعد باقی کی ڈوریاں ایک دوسرے سے جڑی ہونے کی وجہ سے خود با خود کھلتی چلی گئیں ۔۔۔

جبکہ اپنی کمر پر کھلتی ڈوریوں کو محسوس کر کے ابیہا نے یکدم ہی اپنا رخ بدلہ ۔۔۔

جسکا چہرہ رونے کی وجہ سے پہلے ہی سرخ تھا اب واسم کی کاروائی پر خون چھلکانے لگا ۔۔۔

وہ اپنا رونا دھونا سب بھول کر واسم کو غصے سے گھورنے لگی ۔۔۔

کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔

مجھے منانے کیلئے تیار ہوئی تھی نا پھر ؟؟؟ جبکہ اسکے گھورنے پر وہ آئی برو اچکاتا سوالیہ دیکھنے لگا ۔۔۔

ہاں ہوئی تھی ۔۔۔لیکن اب میرا منانے کا کوئی موڈ نہیں ۔۔۔اس لیے سامنے سے ہٹیں مجھے چینج کرنے جانا ۔۔۔

اور نا ہٹوں تو پھر ؟؟؟

اسکے غصے سے بولنے پر وہ مزید اسکے قریب ہوتا تقریبا اس پر جھک آیا تھا ۔۔۔

دیکھیں واسم میں پہلے ہی آپکی بہت زیادتیاں برداشت کر چکی ہوں ۔۔۔اور اب اگر آپ نے میرے ساتھ کوئی زبردستی کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔

اسکے یوں قریب چلے آنے پر دل تو زوروں سے دھڑک رہا تھا اور ساتھ میں تھوڑا ڈر بھی لگ رہا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی خود کو سنبھالتے ہوئے مظبوط لہجے میں بولی ۔۔۔

واسم نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جسکا کاجل رونے کی وجہ سے مکمل بکھر چکا تھا ۔۔۔

پھر جھک کر نرمی سے انہیں باری باری ہونٹوں سے چھوا ۔۔۔

جس پر وہ لرزی تھی ۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے کوئی شکایت کر رہا تھا کہ میں اس سے پیار نہیں کرتا ۔۔۔اب جب پیار کر رہا ہوں تو اسے زبردستی کا نام دیا جا رہا ہے ۔۔۔دس از ناٹ فیئر مسز ۔۔۔

یہ کہاں کا انصاف ہوا ۔۔۔

بلکہ یہ تو ناانصافی ہوئی نا میرے ساتھ ۔۔۔

واسم نے ہلکا سا شکوہ کرتے اسے اپنی باتوں میں لینا چاہا ۔۔۔

جس کے بدلے ابیہا نے اسے گھورا ۔۔۔

آپ جتنی مرضی کوشش کر لیں ۔۔۔لیکن اب میں آپکی باتوں میں نہیں آنے والی ۔۔۔

کیونکہ اتنی بڑی میری غلطی نہیں تھی جتنی آپ نے مجھے سزا دی اور رولایا ۔۔۔

اس لیے سوچیے گا بھی مت کہ میں آپکو ایسے ہی معاف کر دوں گی ۔۔۔

میں اپنی ذات پر کسی کی انگلی بھی برداشت نہیں کرتا تو سوچو اپنی ذات کا مذاق بنایا جانا کیسے برداشت کرتا ۔۔۔

تو اسکا مطلب کیا آپ پر میرا کوئی حق نہیں ؟؟؟

اسے دوبارہ غصے میں آتا دیکھ وہ ایک بار پھر نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔

جس پر اس نے نرم نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

سارے حق تمہارے ہی ہیں ۔۔۔لیکن یوں سب کے درمیان میری ذات کو موزوں بنا کر اسے یوں ڈسکس کرنے کی اجازت میں تمہیں بھی نہیں دیتا ابیہا واسم شاہ ۔۔۔

دوٹوک انداز میں کہتے وہ اسکے قریب ہوا تھا ۔۔۔

لیکن ۔۔۔”

ابیہا نے کچھ کہنا چاہا جب اس سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں پر جھکتا اسے خاموش کروا چکا تھا ۔۔۔

بس اب میں مزید کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔اور نا ہی اب مجھے تمہاری کوئی آواز آئے ۔۔۔

کیونکہ اتنے دن تم سے دور رہ کر میں نے صرف تم کو ہی نہیں بلکہ خود کو بھی سزا دی ہے ۔۔۔

اور اب ان خوبصورت لمحات میں کسی نئی بحث میں پڑ کر انہیں خراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔

سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اسکا ڈوپٹہ کندھے سے ہٹایا اور شرٹ کو سرکاتے نرمی سے وہاں اپنے دہکتے لب رکھے ۔۔۔

ابیہا کی دوبارہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اسے روکتی یا پھر کچھ کہتی ۔۔۔

جسکا فائدہ اٹھا کر وہ من مانیوں پر اتر آیا ۔۔۔

جنہیں لب بھینچ کر وہ بمشکل ہی برداشت کر رہی تھی ۔۔۔ جبکہ اسکی فرمانبرداری کو دیکھ کر اسے نرمی سے خود میں سماتا سانسوں کے قریب ہوا اور اسکی بکھری سانسوں اور بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے چہرے پر پھونک ماری ۔۔۔

جس پر ابیہا نے اپنی نم پلکیں اٹھائیں اور اسے شرارتی نظروں سے خود تکتے دیکھ ناراضگی سے چہرہ پھیر گئی ۔۔۔

جس پر واسم نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔

بہت برے ہیں ہمیشہ صرف اپنی منمانی کرنی ہوتی ۔۔۔میری ذات کی تو کوئی ویلیو ہی نہیں ۔۔۔

ابیہا نے غصے سے گھورتے اسکے سینے پر نازک ہاتھوں کے مکے برسائے تھے ۔۔۔

جسے بہت محبت سے تھامتے واسم نے بیڈ کراون سے لگایا ۔۔۔

کس نے کہاں تمہاری کوئی ویلیو نہیں ۔۔۔تم تو میری روح کا سکون ہو ۔۔۔واسم شاہ کی جان و جنون ہو ۔۔۔

اسکی ٹھوڑی پر پیار کرتے شدت جذبات سے گویا ہوا ۔۔۔

ہاں تبھی ہر آئے روز نئے بہانے ڈھونڈ کر مجھ پر اپنا غصہ نکالتے ہیں ۔۔۔اس کے منہ سے محبت بھرے الفاظ سننے کے باوجود نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔

بس ایسا ہی ہوں میں ۔۔۔

بدلے میں اپنے ہمیشہ کے بولے گئے الفاظ دوہرائے ۔۔۔

جس پر ابیہا نے اسے گھورا ۔۔۔

جبکہ واسم شاہ قہقہہ لگاتے ہوئے مزید اس پر شدتوں سے جھکا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *