Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 96)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 96)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
تاشے اپنا چہرہ اپنی دونوں ہتھیلیوں پر ٹکائے معصوم نظروں سے سامنے بیٹھیں ابرش ابیہا کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جو کیریوں ( کچے آم ) پر تیز مصالحہ لگا کر انہیں چٹخارے لے لے کر کھا رہی تھیں ۔۔۔
جبکہ ان دونوں کو کھاتے دیکھ تاشے کا معصوم دل ایسے ہی گھبرائے جا رہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں کیوں ایسا منہ بنا کر بیٹھی ہو۔۔۔
اسے خاموشی سے خود کو تکتے دیکھ ابیہا نے سوال کیا ۔۔۔ساتھ ہی کیری کی ایک کاش منہ میں رکھی تھی ۔۔۔اور زور سے آنکھیں بند کی ۔۔۔
بیا یار یہ تم لوگ کیسے کھا رہی ہو ۔۔۔میری تو صرف دیکھ کر ہی حالت خراب ہوئی جا رہی ہے ۔۔۔
کیا مطلب کیسے کھا رہے ہیں ۔۔۔ بھئی اپنے منہ سے کھا رہے ہیں ۔۔۔جو ایک عدد اللہ تعالٰی نے تمہیں بھی عطا کیا ہے ۔۔۔
اسکی بات پر اب کہ ابرش نے جواب دیا۔۔۔جس پر تاشے نے منہ بنایا ۔۔البتہ ابیہا نے سن کر قہقہہ لگایا ۔۔۔
میں اس وجہ سے نہیں بول رہی ۔۔۔کہیں تم لوگوں کی طبیعت خراب نا ہو جائے ۔۔۔
اب اسے افسوس ہو رہا تھا کہ کیوں ان دونوں کی بلیک میلنگ پر اس نے یہ کیریاں انہیں لا کر دی ۔۔۔
آم کی نئی فصل آنے پر اماں سائیں نے خاص طور پر کھیتوں سے کچے آم منگوائے تھے ۔۔۔
جس میں دوسری سبزیاں ایڈ کر کے گھر کیلئے مکس اچار بنایا جانا تھا ۔۔۔
جنہیں دیکھتے ان دونوں کے منہ میں پانی آ گیا تھا ۔۔۔کیونکہ جیسی ان کی حالت تھی ۔۔۔آجکل ویسے ہی چٹ پٹی چیزیں کھانے کا بہت دل کر رہا تھا ۔۔۔
لیکن واسم اور ضارب نے ان دونوں پر بہت پابندیاں لگا رکھی تھیں ۔۔۔کیونکہ انکی صحت کو لے کر وہ دونوں ہی کوئی رسک نہیں لینا چاہتے تھے ۔۔۔یہاں تک دونوں ٹائم کا کھانا بھی اپنی نگرانی میں کھلواتے ۔۔۔
اور باقی دن بھر عظمی اور روباب انکا خیال رکھتیں تھیں ۔۔۔اور جب انہوں نے کیری ان سے کھانے کیلئے مانگی تو انہوں نے صاف منع کر دیا تھا دینے سے ۔۔۔کیونکہ ضارب واسم کی طرح وہ بھی نہیں چاہتیں تھیں کہ انکی طبیعت خراب ہو ۔۔۔
ابرش ابیہا نے بہت ضد کی لیکن انکی نا ہاں میں نہیں بدل پائیں ۔۔۔ جسکے چلتے ان دونوں نے ہی ان سے بات چیت بند کی ہوئی تھی ۔۔۔
اور جب انہیں کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو ۔۔انہوں نے تاشے کو بلیک میل کیا ۔۔کہ وہ اپنی بہنوں کیلئے اتنا بھی نہیں کر سکتی ۔۔
جس کی وجہ سے مجبوری میں تاشے کو ان دونوں کی بات ماننی پڑی ۔۔۔اور سب سے چھپ کر انہیں کیریاں لا کر دی ۔۔۔جو وہ دونوں اس وقت حویلی کے پچھلے لان میں سب سے چھپا کر کھا رہی تھیں ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا یار ۔۔۔کتنے دن سے کچھ کھٹا اور چٹپٹا کھانے کا دل کر رہا تھا ۔۔۔
لیکن تمہارے لالا کی وجہ سے ،،، ابیہا نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے دوبارہ ایک پیس اٹھا کر منہ میں ڈالا ۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے یار لیکن اتنا تیز مصالحہ کہیں تم لوگوں کا گلا نا خراب ہو جائے ۔۔۔پھر تو سب کو پتا چل جائے گا ۔۔۔اور لالا سے جو ڈانٹ پڑے گی وہ الگ ۔۔۔
زرتاشے نے انہیں آنے والے وقت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہا ۔۔۔جس پر ان دونوں نے ہی منہ بنایا تھا ۔۔۔
دیکھو تاشے اگر تم یہ کھانے میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکتی تو ایسی باتیں کر کے دل بھی خراب مت کرو ۔۔۔
ابیہا کی بات پر ابرش نے بھی سر ہلایا تھا ۔۔۔
قسم سے مجھے زرمینے کی بہت یاد آ رہی ہے ۔۔۔وہ اگر ادھر ہوتی ۔۔۔تو نا صرف ہمیں کیریاں لا کر دیتی بلکہ ہمارے ساتھ انہیں بھرپور طریقے سے انجوائے بھی کرتی ۔۔۔
اس نے زرمینے کو یاد کرتے ایک آہ بھری تھی ۔۔۔
ویسے تمہارے لالا کا بھی کچھ پتا نہیں چلتا ۔۔۔پہلے بیوی کو ناراض کر لیتا ہے ۔۔پھر اسے منانے کیلئے یہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا ہے ۔۔۔
یہ تو ضارب لالا نے سب کو بتا دیا کہ زرمینے کو زارون لے کر گیا ہے ۔۔ورنہ جیسے رات و رات اس نے حویلی سے لڑکی غائب کی تھی ۔۔۔چھوٹی ماں کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔۔۔پہلے ہی وہ ماموں جان زرمینے کی وجہ سے کتنی پریشان تھی ۔۔۔اوپر سے یہ سب ۔۔۔
ابیہا نجمہ بیگم کی حالت کے بارے میں سوچتی افسوس سے بولی ۔۔
کیا مطلب ہے تمہارے لالا ۔۔وہ آپ کے کچھ نہیں لگتے ۔۔۔اور ویسے بھی مجھے لگتا ہے لالا نے زرمینے کو یہاں سے لے جا کر اچھا ہی کیا ۔۔۔ورنہ یہاں رہتے بات بننے کی بجائے بگڑ بھی سکتی تھی ۔۔۔اب اکیلے وہ اچھے سے ایک دوسرے کی بات سمجھ سکیں گے ۔۔۔
اور مجھے اپنے لالا پر پورا یقین ہے زر کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ۔۔انہوں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ہوگا ۔۔۔کیونکہ جتنی وہ اس سے محبت کرتے ہیں ہو ہی نہیں سکتا کہ جان بوجھ اسے تکلیف دیں ۔۔۔
اچھا ہی ہے دونوں کے درمیان تمام غلط فہمیاں بھی دور ہو جائیں گی ۔۔۔
ابیہا کی بات پر ابرش زارون کی سائڈ لیتی سمجھداری سے بولی ۔۔۔
جس پر ان دونوں نے ہی متفق ہوتے سر ہلایا تھا ۔۔۔
ویسے بھی مجھے اپنے بھائی کے ٹیلینٹ پر پورا یقین ہے ۔۔۔ زرمینے کی ساری شکایتوں کو دور کرتے بہت جلد ہمیں دوبارہ پھوپھو بننے کی خوشخبری سنائے گا ۔۔۔
ابیہا کیری کے پیس پر مصالحہ لگا کر منہ میں رکھتی ایک آنکھ دبا کر زومعنی انداز میں گویا ہوئی تھی ۔۔۔
جس پر ابرش تو قہقہہ لگا کر ہنسی تھی البتہ ابیہا کے منہ سے اتنی بےباک بات سنتے تاشے شرم سے لال پیلی ہو گئی تھی ۔۔۔
جسے دیکھتے ان دونوں نے ہی قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔
شرم کرو تم دونوں کچھ ۔۔۔
لڑکی تم نے سنا نہیں کیا۔۔۔
تاشے کے شرمانے پر ابیہا نے بڑے سیریس انداز میں اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔
کیا ۔۔۔
یہی کہ “
جس نے کی شرم ،،،، اسکے پھوٹے کرم
ابیہا کے جملے کو مکمل کرتے ابرش نے آنکھ دبائی ۔۔۔
جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔
زرمینے کا چھوڑو ۔۔۔اس کا تو جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔۔۔تم اپنا سوچو ۔۔اگر لالا لوگوں کو تمہاری اس حرکت کا پتا چل گیا تو تمہارا کیا ہو گا ۔۔۔
تاشے نے ان دونوں کو خود کو چھیڑتے دیکھ ڈرانا چاہا ۔۔۔
کیا ہوگا کچھ بھی نہیں ۔۔۔
دل میں ڈرنے کے باوجود تاشے کے سامنے بہادر بنتے دونوں نے ہی ناک سے مکھی اڑائی تھی ۔۔۔
تاشے نے انکی بات پر داد میں آئی برو اٹھائی ۔۔۔
تم لوگوں کو ڈر نہیں لگتا لالا ۔۔۔
ابھی وہ اپنا جملہ مکمل کرتی کہ اسکی نظر ابیہا ابرش کے پیچھے اٹھی تھی ۔۔۔
جہاں ضارب اور واسم دونوں ہی ان کی طرف چلے آ رہے تھے ۔۔۔
جنہیں دیکھتے ہی اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔۔
نہیں بھئی ہمیں ڈر کیوں لگے گا وہ کوئی ڈرنے والی چیزیں تھوڑی ہیں ۔۔۔
ہاں ناں اور تمہیں بھی زیادہ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
میرے جو ڈریگن ہیں وہ صرف اوپر اوپر سے ہی آنکھیں دکھاتے ہیں ورنہ غصہ وصہ انکے بس کی بات نہیں ۔۔۔
اپنے پیچھے سر پر کھڑے واسم سے انجان ابیہا نے بات کو مذاق کا رنگ دیا ۔۔۔
واسم نے اسکی لاپرواہی اور ہمت پر داد میں آئی برو اچکائی ۔۔۔
البتہ ڈریگن بولائے جانے پر چہرے کا رنگ غصے سے بدلنے لگا تھا ۔۔۔
جسے دیکھتے ہوئے تاشے کا ننھا سا دل سہما اور اس نے نفی میں سر ہلاتے انہیں مزید کہنے سے روکنا چاہا ۔۔۔
لیکن ڈر کی وجہ سے اسکے منہ سے الفاظ نکلنے سے انکاری ہو گئے ۔۔۔
بالکل سائیں بھی ایسے ہی ہیں ۔۔۔اور انہیں ہینڈل کرنا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔۔۔
ابیہا کی بات پر چوڑے ہوتے ابرش نے مزید شیخی بگاڑی ۔۔۔
ابرش ۔۔۔
ابھی اسکی بات پر تاشے کچھ کہہ کر اسے خاموش کرواتی ،، جب فضاء میں ضارب شاہ کی آواز گونجی تھی ۔۔۔
اچھا سچ میں ایسا ہی ہے کیا ؟؟؟ بھئی ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ ہماری بیوی اتنی ٹیلینٹڈ ہیں ،،، جو ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے ہینڈل کر سکتی ہیں ۔۔۔
ضارب شاہ کے لہجے میں گہرا طنز بول رہا تھا ۔۔۔
جسے سنتے ابرش کے سینے میں دھڑکتے دل نے سہمتے ہوئے رفتار تیز پکڑی ۔۔اسکے چہرے پر سجی شوخی بھری سمائل سمٹی اور اسکی جگہ ڈر نے لے لی ۔۔۔ ہاتھ میں پکڑا کیری کا پیس جو وہ منہ میں رکھنے والی تھی ہاتھ سے چھوٹ کر اسکی گود میں گرا تھا ۔۔۔
اور اس نے اپنی آنکھوں کو بڑا کرتے ہوئے سامنے بیٹھی تاشے کی طرف دیکھا جسکے چہرے کا رنگ بالکل بھی اس سے مختلف نہیں تھا اور پھر ساتھ بیٹھی ابیہا کی طرف جس نے اسے ڈرتے دیکھ آنکھوں سے تسلی دینی چاہی جب واسم کی آواز سنتے اسکی خود کی سانسیں خشک ہوئی تھیں ۔۔۔
کیا کر رہی ہو تم لوگ یہاں ؟؟؟؟
اور اسکا لہجہ حد سے زیادہ سرد اور برفیلا تھا ۔۔۔جس نے ابرش اور تاشے کے ساتھ ابیہا کے ہاتھ پاؤں پھولا دیئے تھے ۔۔۔
وہ کرنٹ کھا کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔
اور پھر یکدم رخ بدلتے ہوئے ایسے کھڑی ہوئی تھیں کہ جس سے ٹیبل پر رکھی ہوئی چیز نظر نا آئے ۔۔۔
لیکن ان سب کے دوران وہ چہرہ صاف کرنا بھول گئیں تھیں۔۔۔ انکے ہونٹوں پر اب مصالحہ لگا ہوا تھا ۔۔۔جبکہ اتنی کھٹائی اور مصالحہ کھانے پر ناک ہونٹ سرخ ہونے کے ساتھ آنکھوں سمیت ان سے پانی بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔
کچھ بھی ،،، تو نہیں ،،،
ابیہا نے خود کو نارمل ظاہر کرتے جواب دیا پر اپنے لہجے کو اٹکنے سے نا روک سکی ۔۔۔
اچھا ۔۔۔”
لگ تو نہیں رہا ۔۔۔
واسم نے اسکے جھوٹ بولنے پر تیکھے چتونوں سے گھورا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔”
کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ آپ لوگ کیا کر رہی تھیں ۔۔۔
واسم کو غصہ ہوتے دیکھ ابرش نے بات سنبھالنے کیلئے ضارب کو مخاطب کرنا چاہا جب اس نے ابرش کی بات درمیان میں کاٹتے اسے خاموش کروایا ۔۔۔
جی آئی ۔۔۔
مجھے ماما بلا رہی ہیں ۔۔۔میں ابھی آتی ہوں ۔۔۔
معاملے کو گرم ہوتا دیکھ ضارب واسم کی ڈانٹ سے بچنے کیلئے تاشے بہانہ بنا کر فورا وہاں سے رفو چکر ہوئی تھی ۔۔۔
جبکہ اسکی بیوفائی پر دونوں نے ہی دل میں اسے صلواتیں سنائی تھیں ۔۔۔جو ایسے وقت میں بہنوں کو اکیلا چھوڑ کر بھاگی تھی ۔۔۔
پھر ایک بیچارگی بھری نظر ان دونوں کی طرف ۔۔۔
جن کے چہرے سے غصہ صاف جھلک رہا تھا ،،،، اور اس سے پہلے وہ انہیں ڈانٹتے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بعد بنا وقت ضائع کیے ابیہا ضارب جبکہ ابرش واسم کے سینے کا حصہ بنی تھی ۔۔۔
لالا بچا لیں ۔۔۔”
انکے سینے میں اپنا چہرہ چھپاتے نرمی سے التجا کی تھی ۔۔۔کیونکہ وہ ان دونوں کی کمزوری سے اچھے سے واقف تھیں ۔۔۔وہ انہیں شوہر بن کر تو ڈانٹ سکتے تھے لیکن بھائی بن کر نہیں ۔۔۔
جبکہ انکی حرکت پر دونوں نے حیران ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا لیکن پھر اپنے سینے لگیں اپنی بہنوں کو دیکھتے نفی میں سر ہلاتے مسکرائے ۔۔۔اور ساتھ انکی ذہانت پر دونوں کو دل میں سراہا بھی ۔۔۔
گڑیا آپکو پتا ہے نا یہ سب چیزیں آپکی صحت کیلئے بالکل بھی اچھی نہیں ۔۔۔
ضارب نے نرمی سے ابیہا کے گرد حصار کھینچتے پیار سے سمجھانا چاہا ۔۔۔
جانتی ہوں لالا ۔۔۔”
لیکن میرا دل کر رہا تھا ،،، بس اسی لیے ۔۔۔
ابیہا نے سر اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھتے وجہ بتائی ۔۔۔
پھر بھی ڈاکٹر نے آپ دونوں کو ایسی چیزیں کھانے سے منع کیا ہے ۔۔۔اس سے صرف آپکو ہی نہیں بلکہ بےبی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔۔۔
نرمی سے بولتے ہوئے ایک نظر واسم کے سینے لگی اپنی باربی کو دیکھا ۔۔۔جو اسکے ڈر کی وجہ سے واسم کے پیار کرنے کے باوجود چہرہ نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔
جس سے گھنی مونچھوں تلے دبے اسکے لب دھیرے سے مسکرائے تھے ۔۔۔
جی لالا ہم آئندہ احتیاط کرینگے ۔۔۔
ابیہا کے جواب دینے پر جہاں ضارب مسکرایا تھا ۔۔۔وہی واسم نے اسے سپاٹ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
جنکی تپش سے اسے اپنا آپ جلتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
لیکن اس نے بلانخواستہ اسکی طرف دیکھنے سے پرہیز ہی کیا تھا ۔۔۔
جب ضارب اسے یونہی اپنے حصار میں لیے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
جسکے جاتے ہی ابرش نے سکھ کا سانس لیتے اسکے سینے سے اپنا چہرہ اٹھایا ۔۔۔
پھر مسکراتے ہوئے واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔
جس نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔سوری ۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھتے معصومیت سے بولی ۔۔۔
جس پر واسم نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے میں بھینچا اور پیشانی پر پیار کرتے ہوئے ساتھ لے کر اندر کی طرف بڑھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
آج معمول سے ہٹ کر واسم شاہ آفس سے جلدی گھر واپس آ گیا تھا ،،، اور اسکے بالکل ساتھ ہی ضارب شاہ کی گاڑی حویلی میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔
جو کہ صبح سے ہی ڈیرے پر گیا ہوا تھا ۔۔۔اور گاؤں والوں کے مسئلے مسائل سنتے اور انہیں سلجھاتے تقریبا یہ ٹائم آ گیا تھا ۔۔۔اور ان سب کے دوران وہ دوپہر کا کھانا بھی گول کر چکا تھا ۔۔۔
حالانکہ خان نے کتنی بار اسے کھانے کا پوچھا تھا ۔۔۔
لیکن جب وہ کام میں مصروف ہوتا تھا تو ایسے ہی کھانے پینے کا ہوش بھولا دیتا تھا ۔۔۔
اور ویسے بھی آجکل زیادہ تر وہ ابرش کے ساتھ بیٹھ کر ہی ناشتہ یا کھانا کھاتا تھا ۔۔۔
گاڑیوں سے نکل کر وہ دونوں ایک ساتھ ہی حویلی کے اندر داخل ہوئے ۔۔۔جنکی وجاہت کو دیکھ کر لاؤنج میں ہی بیٹھیں عظمی اور روباب نے دل میں ماشاءاللہ بولا تھا ۔۔۔
السلام وعلیکم ۔۔۔
دونوں نے قریب پہنچتے بلند آواز میں سلام کیا ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔”
آج میرے بیٹے بہت جلد واپس آ گئے ۔۔۔
انکے سلام کا جواب دیتے روباب بہت محبت سے گویا ہوئیں ۔۔۔
ہاں بس کام جلدی ختم ہو گیا تو چلے آئے۔۔۔
ضارب نے روباب کے سر پر پیار کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا ۔۔۔
اچھا آپ لوگ بیٹھے میں آپ کیلئے پانی لے کر آتی ہوں ۔۔۔
نہیں بڑی ماں ہم پہلے فریش ہو جائیں پھر سیدھا چائے پیے گئے ۔۔۔عظمی بیگم کو روکتے ہوئے وہ انہیں بھی اپنے ساتھ لگا کر پیار کرتا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
جس کے جاتے ہی واسم نے آگے بڑھ کر اپنی ماما کو سینے سے لگایا تھا ۔۔۔جبکہ اسکے قریب آتے ہی عظمی بیگم پیچھے ہو کر بیٹھ گئیں تھیں ۔۔۔
اور نرم نگاہوں سے اسکی طرف دیکھنے لگیں ۔۔۔جو روباب سے لاڈ جتا رہا تھا ۔۔۔
تھک گیا میرا بچہ ؟؟؟
روباب نے اسکی پیشانی پر پیار کرتے محبت سے پوچھا ۔۔۔
جی بس آج طبیعت کچھ بوجھل سی ہے ۔۔۔
کیا ہوا بخار ہے کیا ؟؟؟ اسکے ماتھے پر ہاتھ پشت رکھتے فکرمندی سے گویا ہوئیں ۔۔۔
نہیں بخار نہیں بس ہلکا سا سر درد ہے ۔۔۔
انہیں پریشان ہوتے دیکھ نرمی سے تسلی دی ۔۔۔جبکہ سر درد کا سنتے ہی ۔۔۔عظمی بیگم فورا اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئیں تھیں ۔۔۔
اور جب تک وہ چائے وغیرہ بنا کر لائیں ضارب بھی فریش ہو کر وہیں آ گیا تھا ۔۔۔
جسے چائے سرو کرتے ہوئے عظمی نے خاموشی سے بلیک کافی کا کپ واسم کی طرف بڑھایا تھا ۔۔
جسے واسم نے چند پل دیکھنے کے بعد خاموشی سے تھام کر ہونٹوں سے لگایا ۔۔۔
بڑی ماں باقی سب گھر والے کدھر ہیں ؟؟؟
چائے کا پہلا سپ لیتے ہوئے ضارب نے باقی سب کے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔
بابا اور سائیں کسی ضروری کام سے باہر گئے ہیں ۔۔جبکہ اماں سائیں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو وہ اس وقت آرام کر رہی ہیں ۔۔۔نجمہ اپنے کمرے میں ہیں ۔۔۔
اور رہ گئیں آپ لوگوں کی بیگمات تو انکی ہم دونوں سے ناراضگی چل رہی ہے ۔۔۔وہ شاید باہر لان میں ہونگی تاشے کے ساتھ ۔۔۔
عظمی نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔
جبکہ ابرش ابیہا کے ذکر پر روباب بھی انکے بچپنے کو یاد کرتے مسکرائیں تھیں ۔۔۔
ناراضگی کیسی ناراضگی ۔۔۔
اس بار سوال واسم کی طرف سے آیا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں بیٹا دونوں ضد کر رہی تھیں کہ انہیں کیریاں کھانی ہیں ۔۔۔جو ہم نے نہیں دی تو بس اسی لیے ۔۔۔
روباب نے مختصر لفظوں میں ساری بات بتائی ۔۔۔
جس پر سر ہلاتے ہوئے ضارب نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔۔
کہاں جا رہیں ہیں ؟؟؟
کچھ نہیں بڑی ماں ہم ذرا اپنی بیگم کو دیکھ لیں ۔۔۔کیونکہ انکی اتنی خاموشی ہمیں ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔۔۔
مسکرا کر کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
رکو میں بھی آتا ہوں ۔۔۔تبھی واسم بھی کافی ٹیبل پر رکھتے اسکے ساتھ چلنے کو تیار ہوا ۔۔۔
لیکن جب باہر لان میں وہ انہیں کہیں نظر نہیں آئیں تو وہ انہیں ڈھونڈتے ہوئے حویلی کے پچھلے حصے میں آئے تھے ۔۔۔
جہاں وہ لوگ تاشے سے بات کرتے ہوئے کچھ کھانے میں مصروف تھیں ۔۔۔
اور قریب پہنچتے انکے کانوں سے دونوں کے آخری جملے ٹکرائے تھے جس پر وہ دونوں ہی ان کی خوش فہمیوں اور گوہر افشانیوں پر عش عش کر اٹھے تھے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
ابرش کو اپنے کمرے میں جانے سے ابھی تک ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔حالانکہ شام سے لے کر ابھی تک ضارب نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔۔
اور سب کے درمیان بیٹھے ہوئے ابرش نے اسکے تاثرات بھی جانچے تھے ۔۔۔
جس سے اسے اسکا موڈ تو ٹھیک ہی لگا تھا ۔۔۔لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ شام میں بولے گئے اپنے الفاظ یاد کرتی تو دل بری طرح سے گھبرانا شروع ہو جاتا ۔۔۔
اور ہو نہیں سکتا تھا ضارب شاہ اسے اسکے لفظوں کی اتنی جلدی معافی دے دیتا ۔۔۔اسے بہت بھاری قیمت چکانی پڑتی ۔۔۔جسکے بارے میں سوچ کر ہی اسکی سانسیں خشک ہونے لگی تھیں ۔۔۔
شام سے لیکر اب تک وہ ہزار بار اپنی زبان کو کوس چکی تھی ۔۔۔جس سے وہ الفاظ نکلے تھے ۔۔۔لیکن چاہنے کے باوجود بھی وہ انہیں واپس نہیں ڈال سکتی تھی۔۔۔
اسی لیے ضارب کے ڈر سے وہ رات کھانے کے بعد اپنے کمرے میں جانے کی بجائے ۔۔دادا سائیں کے ساتھ انکے کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔۔
جہاں ان دونوں دادا پوتی نے بہت دنوں کے بعد ڈھیر ساری باتیں کی تھیں اور ساتھ میں اپنا فیورٹ شطرنج کا گیم کھیلا تھا ۔۔۔
جس میں ہمیشہ کی طرح آج بھی ابرش ہی ہاری تھی ۔۔۔
گھڑی کی سوئی کو گیارہ کا ہندسہ پار کرتے دیکھ اماں سائیں نے ہی ان دادا پوتی کو وقت کا احساس دلایا تھا ۔۔۔
جس پر دونوں ہی مسکرائے تھے ۔۔۔
پھر ابرش انہیں شب خیر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
لیکن انکے کمرے سے نکلنے کے بعد اپنے کمرے میں جانے کا سوچتے ہی اسکی جان سولی پر اٹکی تھی ۔۔۔
جب اسکے دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندھا تھا ۔۔جس سے اسکے لب خوبصورتی سے مسکرائے تھے ۔۔۔
وہ بنا آواز کیے راہداریوں سے گزرتی ہوئی تیز قدموں سے موسی شاہ کے پورشن کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔اور ساتھ میں ہاتھ میں چھپائی ہوئی چیز جو وہ آتے ہوئے کچن سے اٹھا کر لائی تھی ۔۔۔اسکا ایک پیس نکال کر منہ میں ڈالا ۔۔۔
اور اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر زرمینے کے کمرے میں داخل ہوتی ۔۔۔اندھیرے میں کسی نے اسے کمر سے تھامتے ہوئے اوپر اٹھا کر کندھے پر ڈالا تھا ۔۔۔
اور خاموشی سے پلٹتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔۔۔
جبکہ اپنی اتنی احتیاط کے باوجود پکڑے جانے پر ابرش رونے والی ہو گئی ۔۔۔
ضارب جو اسے شام سے ہی خود سے چھپتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کھانے کے بعد اس سے بات کر کے نرمی سے سمجھانا چاہتا ۔۔۔لیکن جب انتظار کرتے کرتے رات کے گیارہ بج گئے اور وہ کمرے میں نا آئی تو ۔۔اس کی لاپرواہی پر غصہ ہوتے اسے دیکھنے کیلئے نیچے آیا ۔۔۔
جب سیڑھیوں سے اترتے دوسری منزل پر اسے ایک سفید آنچل راہداری کے پیچھے گم ہوتا دکھائی دیا ۔۔۔
اور راستے کو دیکھ کر اسکی سوچ کا تعین کرتے ہوئے غصے سے مٹھیاں بھینچتے تیز قدموں سے اسکے پیچھے آیا اور بنا ایک لمحہ بھی ضائع کیے اسے کچھ بولنے کا موقع دیئے بنا کندھے پر ڈال کر تیز قدموں سے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
ضارب نے اسے کمرے میں لا کر دروازہ بند کرتے نیچے اتار کر دیوار کے ساتھ پن کیا تھا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔”
بہت قریب سے اسکا غصے سے سرخ ہوا چہرہ دیکھنے کے بعد ابرش نے ڈرتے ہوئے اسے پکارا ۔۔۔جب ضارب نے اسکے لبوں پر جھکتے اسے خاموش کروایا تھا۔۔۔
لیکن منہ میں گھلتے تیز مصالحے اور کھٹائی کے ذائقے پر چند لمحوں میں ہی پیچھے ہو گیا ۔۔۔
اور تیز نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔جو آنکھیں بند کر کے گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔۔
کیا کھا رہی تھیں آپ ؟؟؟؟
اسکے پاس دیوار پر زور سے ہاتھ مارتے غصے سے چلایا ۔۔۔
جس سے ابرش نے ڈر کر اپنی جگہ سے اچھلتے ہوئے فورا اپنی بند آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔
ہم کچھ پوچھ رہیں ہیں ؟؟؟؟
وہ ،،،وہ،، سائیں ،،،، وہ جواب تو دینا چاہتی تھی لیکن ڈر کی وجہ سے الفاظ منہ سے نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔
وہ اپنے دائیں ہاتھ کو ڈوپٹے کی اوڑھ میں چھپاتے ہوئے اسے سہمی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
لیکن ضارب کی تیز نگاہوں سے اسکی یہ حرکت مخفی نا رہ سکی ۔۔۔اس نے فورا ابرش کا ہاتھ تھامتے اسکی نازک چھوٹی سی بند ہتھیلی کھولی تھی ۔۔۔
جس میں ایک پیپر کے اندر کھٹی املی ریپ کی ہوئی تھی ۔۔۔اور اس پر مصالحہ لگا ہوا تھا ۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد ضارب نے اسے تیز نظروں سے گھورا تھا ۔۔۔
اور پھر یکدم اسکا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہو گیا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔
ابرش نے اس کی ناراضگی کا خیال کرتے فورا اسے پکارا ۔۔۔
جسے وہ ان سنا کرتے جا کر بستر پر براجمان ہو گیا تھا ۔۔۔اور ساتھ ہی کمرے میں جلتی ہوئی تمام لائٹس کو بھی بند کر دیا ۔۔
ضارب کی بےاعتنائی پر ابرش کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔کافی دیر وہ یونہی دیوار سے لگی آنسو بہاتی رہی ۔۔۔
لیکن اس ظالم کو ذرا رحم نا آیا ۔۔۔آخر تھک ہار کر وہ خود ہی خاموش ہوتی ،،،، دھیمے قدموں سے چل کر بیڈ کے قریب آئی تھی ۔۔۔
اور ملگجے سے اندھیرے میں بیڈ پر موجود دشمن جان کو دیکھا جو اسکی طرف پشت کیے ۔۔۔بےحس و حرکت پڑا تھا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔”
ابرش نے وہاں کھڑے کھڑے ہی اسے نم لہجے میں پکارا ۔۔۔
لیکن جواب ندارد ۔۔۔”
پھر ہمت کرتے ہوئے وہ بیڈ پر آئی اور اپنی صبیح پیشانی اسکی چوڑی پشت پر ٹکا کر بےآواز رونے لگی ۔۔۔
اپنی شرٹ کو بھیگتے اور کمرے میں گونجتی اسکی دھیمی سسکیوں کو سنتے اس نے دھیرے سے کروٹ بدلی۔۔۔
البتہ لبوں سے کچھ نہیں کہا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔”
اسکو خاموش نظروں سے خود تکتے دیکھ ابرش نے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا ۔۔۔
سوری ۔۔۔”
جبکہ لبوں سے صرف یہ دو الفاظ نکلے تھے ۔۔۔
کیا فائدہ ہر بار سوری بولنے کا جب آپ نے ایک ہی غلطی بار بار دوہرانی ہوتی ہے ۔۔۔
اب تو ہمیں ایسا لگنے لگا ہے جیسے آپکی نظروں میں ہماری بات کی کوئی ویلیو ہی نہیں ۔۔۔
کیونکہ اگر سچ میں آپکی نظر میں ہماری بات کا کوئی مان ہوتا تو آپ یوں اسے نظر انداز نا کرتیں ۔۔۔
وہ اٹھ کر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھتا سپاٹ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
فورا ہی ابرش نے اسکی نفی کی تھی ۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔
تو پھر کیسی ہے ؟؟؟
ضارب نے دوبدو سوال کیا ۔۔۔
جس پر ابرش نے نظریں اٹھا کر اسکے تاثرات کو جانچا ۔۔۔کہ کہیں وہ غصے میں تو نہیں ۔۔۔لیکن چہرہ سپاٹ ہونے کی وجہ سے کچھ خاص اندازہ نہیں لگا پائی ۔۔۔
میں کوشش تو کرتی ہوں ۔۔۔
اس کے لہجے میں نرمی کا عنصر محسوس کرکے اس بار نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔
ہاں ہر بار نئی نئی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کو کھا کر ۔۔۔
وہ بھی اسی کے لہجے میں جتاتے طنزیہ بولا ۔۔۔
ایک بھولی بسری سی مسکراہٹ نے ابرش کے ہونٹوں کا احاطہ کیا ۔۔
جس پر ضارب نے اسے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔
آپ بھی تو مجھے نہیں سمجھتے ۔۔۔وہ فورا آنکھوں کو لبا لب پانیوں سے بھرتے پرشکوہ لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔
نہیں دل کرتا میرا ایسی پھیکی اور بےزائقہ چیزوں کو کھانے کا ۔۔جو آپ دن رات مجھے ڈائٹ کے نام پر کھلاتے ہیں ۔۔۔
دودھ کی سمیل سے میرا دل خراب ہونے لگتا ہے ۔۔۔جو صبح شام آپ مجھے زبردستی پلاتے ہیں ۔۔۔
سائیں میں ماں بننے والی ہوں خدانخواستہ کسی بیماری کی مریض نہیں ۔۔۔جو آپ نے مجھ پر اتنی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں ۔۔۔
دل اکتا گیا ہے میرا ان سب چیزوں سے ۔۔۔لیکن پھر بھی اپنے من کو مار کر آپکی خاطر سب برداشت کر رہی ہوں ۔۔۔
لیکن آپ پھر بھی خوش نہیں ہوتے ۔۔۔
جب وہ بولنے پر آئی تو بولتی ہی چلی گئی ۔۔۔جبکہ ان سب کے دوران ضارب اسے خاموش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ہم یہ سب آپکی اور اپنے بچے کی اچھی صحت کیلئے کر رہے ہیں ۔۔۔
تو میں کہاں منع کر رہی ہوں ۔۔۔لیکن اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ میں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کھا سکتی ۔۔۔
بہت بار میرا مختلف چیزیں کھانے کا دل کرتا ہے ۔۔۔کبھی گول گپے تو کبھی آئسکریم کی کریونگ ہوتی ہے ۔۔۔
لیکن آپ کے غصے سے ڈرتے ہوئے اپنی ہر خواہش کو دل میں دبا جاتی ہوں کبھی اظہار نہیں کرتی ۔۔۔
کیا میں ایک انسان نہیں ہوں ۔۔۔ میری اپنی کوئی زندگی نہیں ۔۔۔یا صرف آپکی بیوی اور آپکے بچے کی ہونے والی ماں ہوں بس ۔۔۔ایک کٹ پتلی ہوں جو بس آپکے اشاروں پر چلتی رہے ۔۔۔
بات کرتے کرتے آخر میں ابرش کا لہجہ بھرا گیا تھا ۔۔۔اور وہ غصے سے رخ موڑتی بیڈ سے اٹھنے لگی ۔۔۔
جب ضارب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔اور وہ سیدھا اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔
اپنے لہجے پر غور کریں ؟؟؟؟
ضارب نے اسکی اونچی آواز کا اسے احساس کروایا ۔۔۔
پہلے آپ اپنے رویے پر غور کریں ۔۔۔
ابرش نے بھی بدلے میں دوبدو جتایا ۔۔۔
ہم نے کبھی منع نہیں کیا ۔۔۔آپکو کسی چیز سے ۔۔۔اور نا ہی یہ بولا کہ اپنی خواہشات کو دل میں دبائیں ۔۔۔
لیکن کبھی نرم رویہ بھی تو اختیار نہیں کیا ۔۔۔کبھی دوستانہ لہجہ اپناتے ایسا احساس نہیں دلایا ۔۔۔کہ اپنی دل کی بات کھل کر آپکے سامنے رکھ سکوں ۔۔۔
ایک اور شکوہ ۔۔۔
ضارب نے چند پل کیلئے اس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔پھر اسے سینے سے لگاتے نرمی سے پیٹھ سہلانے لگا ۔۔۔
ہمیں نہیں پتا ۔۔۔ہماری کونسی بات آپکو بری لگی یا پھر آپکو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔کہ آپکی ذات اور آپکی بات ہمارے لیے اہم نہیں ۔۔۔
ہم نے تو ہمیشہ کوشش کی ہے کہ آپکو خود سے مانوس کر سکیں ۔۔۔لیکن شاید کامیاب نا ہو سکے ۔۔۔
ہم مانتے ہیں کہ کبھی کبھی ہم بہت ہارش ہو جاتے ہیں ۔۔۔اور ظاہر سی بات جس سے آپ ہرٹ بھی ہوتی ہونگی ۔۔۔لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمارے لیے اہم نہیں یا پھر آپکی بات کی ویلیو نہیں ہماری نظر میں ۔۔۔
اور آپ پر کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے کی پابندیاں بھی صرف اسی لیے لگائیں تاکہ آپکو اور بچے کو کوئی تکلیف نا پہنچے ۔۔۔
لیکن اگر آپکو اچھا نہیں لگتا تو آئندہ نہیں بولیں گے ۔۔۔
ضارب نے نرمی سے کہتے جیسے بات ختم کی تھی ۔۔۔
جس پر ابرش نے اپنا سر اٹھایا ۔۔۔
اب آپ میری بات کو غلط رنگ دے رہیں ۔۔۔
ہم صرف بات ختم کر رہے ہیں ۔۔۔ویسے بھی آپ اپنے منہ سے اقرار کر چکی ہیں ۔۔۔آپکا دل اکتا چکا ہے ان سب چیزوں سے جبکہ آپ میں اور اپنے بچے میں ہماری سانسیں بسی ہوئیں ہیں ۔۔۔
آپ دونوں کی حفاظت اور تندرستی کا خیال رکھنا ۔۔۔ہماری اولین ترجیح ۔۔۔
لیکن یہ زندگی آپکی ہے ۔۔۔ جسے آپ اپنی مرضی سے جینا پسند کرینگی نا کہ ہماری ۔۔۔۔ظاہر سی بات ہے آپ کوئی کٹ پتلی تو نہیں جو ہمارے اشاروں پر چلتی رہیں ۔۔۔
سادہ سے لفظوں میں بولتے ابرش کی باتیں اسے لٹائیں ۔۔۔
سائیں ۔۔”
بس اب ہم کوئی بحث نہیں کرنا چاہتے ۔۔۔تو بہتر یہی ہوگا کہ آپ سو جائیں اور ہمیں بھی سونے دیں ۔۔۔
بلکہ ہم کیوں کہہ رہے ہیں سو جائیں جو جی میں آتا ہے وہ کریں ۔۔۔کم از کم بعد میں ہم پر یہ الزام تو نہیں آئے گا کہ ہم نے آپکو کٹ پتلی بنا کر رکھا ہوا ہے ۔۔۔
اسے اپنے حصار سے آزاد کرتے ضارب نے کروٹ بدلی ۔۔۔
جبکہ اسکی باتوں کو سنتے ابرش کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ۔۔۔
اس نے غصے سے اسکی چوڑی پشت کو گھورا ۔۔۔اور پھر جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی ضارب نے کوئی حرکت نہیں کی تو اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ابرش نے زبردستی اسکا رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔
کیا بدتمیزی ہے یہ ؟؟؟
ابرش کی حرکت پر وہ دبے دبے غصے سے چلایا ۔۔۔
جس پر وہ چند لمحوں کیلئے سہمی ۔۔۔لیکن پھر اسکی باتوں کو یاد کرتے غصے سے آنکھیں دکھائیں ۔۔۔
سمجھتے کیا ہیں آپ خود کو ،،،، ہر وقت صرف غصہ ناک پر سجائے رکھتے ہیں ۔۔۔میری بات کو سمجھنے کی بجائے اس سے اپنی مطلب کی بات نکالتے ساس کی طرح طعنے مارنا شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔
ابرش ۔۔۔”
ضارب نے تنبیہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
کیا ابرش ۔۔۔سہی تو کہہ رہی ہوں ۔۔۔منہ پھولانے میں تو آپ نے پانچ سال کے معصوم بچے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔۔
ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ایسے روٹھتے ہیں جیسے کسی نے آپ کے ہاتھ سے سگریٹ چھین کر خود پینی شروع کر دی ہو ۔۔۔
میں بات کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن آپ اسکا مطلب کچھ اور ہی نکال لیتے ہیں ۔۔۔
ضارب کے غصے کو نظر انداز کرتی تیزی سے بولتی جا رہی تھی ۔۔۔جب ضارب نے اسکی گردن کے پیچھے ہاتھ رکھتے اسے خود پر جھکایا ۔۔۔اور اسکے ہونٹوں پر قفل لگاتے انہیں اپنے تیز دانتوں کی زد میں لایا ۔۔۔
جبکہ اسکی بےرحمانہ گرفت پر وہ سسک اٹھی تھی۔۔۔نیلے سمندر سے پانی بہنا شروع ہو گیا ۔۔۔
جسے محسوس کر کے وہ نرمی سے پیچھے ہوا ۔۔۔اور اسکے نچلے ہونٹ پر آئے کٹ کو دیکھتے ۔۔۔اسے نرمی سے سہلاتے لبوں سے چھوا ۔۔۔
آپکی زبان کچھ زیادہ ہی نہیں چلنے لگ گئی ۔۔۔
اسے اپنی سانسوں کے قریب کرتے مسکراتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔ابرش نے نم پلکیں اٹھا کر شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔
آپ بند کر دیں ۔۔۔
آپکو تو میں ویسے ہی برداشت نہیں ہوتی ۔۔۔میری کوئی بات آپکو اچھی نہیں لگتی ،،،، ہر بات میں سو سو کیڑے نکالتے ہیں ۔۔۔
بہت برے ہیں آپ ،،، ہمیشہ مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں ،،، میں کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی ۔۔۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔
نم لہجے میں بولتے اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
جب اس نے اپنی گرفت مظبوط کرتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا ۔۔۔
آپ ہمیشہ مجبور کرتیں ہیں ہمیں ورنہ ہم نے تو ہمیشہ محبت ہی لٹائی ہے آپ پر۔۔۔ اور ہمارے کس عمل سے آپکو ایسا لگا کے ہم آپکو پسند نہیں کرتے ؟؟؟؟
اسکی ستواں ناک سے اپنی تیکھی ناک سہلاتے ہوئے لو دیتی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
کوئی ایک ہو تو بتاؤں ۔۔۔اپنی چھوٹی سی رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی ناک چڑھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
جس میں چمکتا لونگ ضارب کی نگاہ کا مرکز بنا ہوا تھا ۔۔۔
آپ سننا چاہیں گی ہمیں آپ کی کون کون سی چیز پسند ہے ۔۔۔یکدم ہی اسکا لہجہ گھمبیر اور جذبات سے بھاری ہو گیا تھا ۔۔۔
ابرش نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا اور ان میں نظر آتے جذبات کو دیکھ کر نفی میں سر ہلانا چاہا ۔۔۔جب ضارب نے نرمی سے جھکتے اسکے ناک میں پہنی نوز پن پر لب رکھے ۔۔۔
آپکی یہ نوز پن ۔۔یہاں آ کر ہمیشہ ہماری نظریں ٹھہر سی جاتیں ہیں ۔۔۔آپکی یہ گہری نیلی سمندر جیسی آنکھیں جن کی گہرائی میں ہمیں اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔
باری باری نرمی سے چھوتے اسے کسمسانے پر مجبور کیا ۔۔۔ابرش نے بمشکل تیز ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتے اسکی شرٹ پر پکڑ مظبوط کی ۔۔۔
آپکے یہ گلاب کی پتیوں جیسے ہونٹ جنہیں دیکھ کر ہی ہمارے اندر ایک تشنگی سی جاگ اٹھتی ہے ۔۔۔
جسکا جام ہمارے لیے ایسا ہے جیسے آب حیات ۔۔۔
اسے تکیے پر منتقل کرتے لبوں کو نرمی سے چھوا ۔۔۔اسکی گھمبیر سرگوشیوں پر ابرش کا معصوم چہرہ سرخ ہو کر تپ اٹھا تھا ۔۔۔البتہ ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ سجی تھی ۔۔۔
آپکی شوخ چنچل ادائیں اور معصوم باتیں جن میں ہماری زندگی کے رنگ بسے ہیں ۔۔۔اور سب سے بڑھ کر ۔۔۔وہ اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے ایک پل کیلئے رکا ۔۔۔ابرش نے اسکے خاموش ہوتے جھکی پلکیں اٹھائیں ۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر آپکا میچنگ کرنے کا انداز جس نے ہمیں آپ کا دیوانہ بنایا ہے ۔۔۔سنجیدگی سے کہتے ہوئے نچلہ لب دانتوں تلے دبایا ۔۔۔
اور وہ جو اسکے لفظوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔حیرت بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔لیکن اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھتے چند پل لگے تھے اسے ساری بات سمجھنے میں ۔۔۔
جہاں وہ اسکی بات پر شرم سے سرخ ہوئی تھی وہی اپنا مذاق بنائے جانے پر غصے سے گھورنے لگی ۔۔۔
جسے دیکھتے کمرے میں ضارب شاہ کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا ۔۔۔
سائیں ۔۔۔”
ابرش نے اسکے سینے پر دو ہاتھ جڑتے اسکے نام کو دانتوں تلے چبایا ۔۔۔
کیا ہوا سائیں کی جان ؟؟؟؟
ضارب اسکے سرخ چہرے کو دیکھتے مسکرا کر شرارت سے گویا ہوا۔۔۔
جس پر چند پل کیلئے ابرش نے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
آپ میری سمجھ سے پرے ہیں ۔۔۔ہار مان کر سر تکیے پر دوبارہ گرایا ۔۔۔جسے دیکھتے وہ مکمل اس پر گھنے سائے کی طرح چھایا تھا ۔۔۔
اچھا لیکن شام میں تو کوئی کہہ رہا تھا ہمیں ہینڈل کرنا انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔۔۔
وہ تو میں ایسے ہی بول رہی تھی ۔۔۔تاشے کے سامنے نمبر بنانے کیلئے ۔۔۔
ابرش نے منہ بناتے اسکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلنا شروع کیا ۔۔۔
ورنہ مجھ سے تو گھر کے چھوٹے چھوٹے کام ہینڈل نہیں ہوتے ۔۔۔آپ کہاں سے ہونگے جو مجھ سے بھی اتنے بڑے ہیں ۔۔۔
بڑی عمر کا طعنہ دے رہی ہیں ہمیں ؟؟؟؟ ابرش کی بات پر ضارب نے مصنوعی گھورتے سوال کیا ۔۔۔
نا سائیں میری یہ مجال ۔۔۔
یہ کام تو صرف آپ پر ہی جچتے ہیں ۔۔۔
سیریس انداز میں بولتے شرارت سے لب دبایا ۔۔۔ٹھہریں ابھی بتاتے ہیں آپکو کہ ہم پر کیا جچتا ہے اور کیا نہیں ۔۔۔
مصنوعی غصے سے کہتے شریر پن سے اسکی نازک گردن میں دانت گاڑے ۔۔
جبکہ اسکے کچھ کسمساتے اور گدگداتے لمس پر کمرے میں ابرش کی کھلکھلاہٹیں گونج اٹھیں تھیں ۔۔۔
