Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 13)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

واسم شاہ کی گاڑی شاہ انڈسٹری کے سامنے آ کر رکی تھی ،،،،،، اسکا پی اے جو باہر ہی اسکا انتظار کر رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اس کیلئے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔۔

جب وہ اپنی مسمرائز کر دینے والی پرسنیلٹی کے ساتھ باہر نکلا ،،،،، اپنی آنکھوں کے ہم رنگ بلیو ٹیکسڈو میں ملبوس آج اسکی چھاپ ہی نرالی تھی ،،،، کہ دیکھنے والی ہر آنکھ کو مہبوت کرتا جا رہا تھا ۔۔۔۔

وہ جہاں سے گزرتا جا رہا تھا سٹاف میمبرز اٹھ کر اپنے اس مغرور مگر شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والے مالک کو سلام کر رہے تھے ۔۔۔

جس کا وہ بنا رکے سر ہلا کر جواب دیتا اپنے کیبن کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ اندر داخل ہوتا اسے دروازے کے سائڈ میں معروف کھڑی نظر آئی تھی ،،،،، جس نے پہلے دن کی ہی طرح کالی چادر سے اپنے آپ کو بالکل کور کر رکھا تھا ۔۔۔اسے دیکھ وہ ایک پل کیلئے رک گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ اس نے اسے آتے اور اپنے پاس رکتے دیکھ فورا سلام کیا تھا ،،،، جسکا سر ہلا کر اسے جواب دیتے وہ اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔

پیچھے اسکا پی اے بھی ساتھ چلا گیا ،،،،، وہ دل میں دعا کرتی کہ کل جو کچھ بھی ہوا تھا اسکی وجہ سے وہ اسے نوکری سے نا نکال دے دھیمے قدم اٹھاتی انکے پیچھے ہی اندر داخل ہو گئی ۔۔۔۔

جب وہ اندر داخل ہوئی تو واسم اپنی چیئر پر بیٹھا اپنے پی اے کو کچھ ضروری ہدایات دے رہا تھا پھر اپنے سامنے پڑی فائل پر سائن کرتے ہوئے اس کے ہاتھ میں پکڑائی ،،،،، جسے لیتے ہی وہ باہر چلا گیا ۔۔۔۔

اس کے جانے کے بعد وہ اب اسکی طرف متوجہ ہوا تھا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے جب بولا تو اسکا لہجہ سپاٹ تھا ۔۔۔۔

مس حسن کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ کل آپ نے وہ بیوقوفانہ حرکت کیونکر انجام دی ۔۔۔۔

سر میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے ،،،،، وہ میں نے ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی سے پوچھا تو انہوں نے بولا تھا کہ آپ کے روم میں چلی جاؤں ۔۔۔۔۔

میں بس اسی لیے آئی تھی ۔۔۔۔ اتنا کہتے ہی وہ خاموش ہو گئی ۔۔۔

واسم غور سے اسکی جھکی نظریں اور چہرہ دیکھ رہا تھا ،،،،، مس حسن میں اس بارے میں بات نہیں کر رہا ،،،،،، اسکے بعد کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔

میں نے آپکو تھوڑی دیر ویٹ کرنے کا بولا تھا ،،،،،، ناکہ سارا دن ،،،،،، پھر کیا سوچ کر آپ بیوقوفوں کی طرح ویٹنگ روم بیٹھی رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔

و ،،،،، وہ سر میں نے ،،،،، سوچا کہ ،،،،، کہیں میرے دوبارہ ڈسٹرب کرنے کی وجہ سے آپ غصہ ہو کر مجھے جاب سے نا ،،،،، نکال دیں بس اسی لیے ،،،،،، وہ رک رک کر بولتی آخری جملہ کہیں منہ میں ہی منمنا گئی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ وہ اس بیوقوف لڑکی کی بات سن کر حیرت سے سے اسکا چہرہ تکنے لگا ،،،،، جس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے کو بےتاب تھے ،،،،،، جنہیں دیکھ کر وہ تھوڑا نرم پڑا تھا ۔۔۔۔۔ البتہ چہرے کے تاثرات اب بھی سپاٹ ہی رکھے تھے ۔۔۔۔

مس حسن اگر مجھے آپکو جاب سے نکالنا ہی ہوتا تو کبھی بھی آپکو نوکری نا دیتا ،،،،، اینی ویز جو ہو گیا اسے بھول جائیں اور اپنے کام پر فوکس کریں ۔۔۔۔

اور ایک بات میں آپکو کلیر لی بتادوں ،،،،، مجھے آلسی اور وقت کی قدر نا کرنے والے اور خاص طور جھوٹ بول کر بہانے بنانے والے لوگ سخت نا پسند ہیں ۔۔۔۔

اس لیے اس بات کا پورا دھیان رکھیے گا ،،،،، اور ہر صبح میرے آفس پہنچنے سے پہلے آپ کا یہاں موجود ہونا لازمی ہے ۔۔۔۔۔

اس کے علاوہ آپکو یہاں کیا کام کرنا ہے ،،،، یہ آپکو میرا پی اے سمجھا دے گا ،،،، اب آپ جا سکتی ہیں ۔۔۔۔۔اپنی بات مکمل کرتے اسے جانے کا بولا تھا ۔۔۔۔

اس کی ساری باتوں کو غور سے سنتے ہوئے ،،،،، وہ سر ہلا کر اٹھتے جانے لگی کہ کچھ یاد آنے پر پھر واپس اسکی طرف مڑی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اس کو رکتے دیکھ واسم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ،،،،، و ،،،، وہ سر تھینک یو تشکر بھری نظروں سے دیکھتے مسکرا کر اسکا شکریہ ادا کیا تھا ۔۔۔

جس پر اس نے صرف سر ہلانے پر ہی اتفاق کیا تھا ،،،،، پھر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا ،،،،،، جسے دیکھتے وہ مسکراتی باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔

***********

ضارب جب حویلی پہنچا تو سب لوگ لاؤنج میں ہی اکٹھے بیٹھے خوش گیپیوں میں مصروف تھے ۔۔۔۔

وہ سب کو مشترکہ سلام کرتا ہوا ،،،،، دادا سائیں کی طرف بڑھ گیا جنہوں نے اسے آتے دیکھ اپنی بازو واں کی تھیں ۔۔۔۔

جن میں سماتے ہوئے وہ ان سے پیار لیتا ساتھ ہی براجمان ہو گیا ۔۔۔۔جبکہ ابرش جو اس کے آنے سے پہلے حیدر شاہ کے ساتھ جڑ کر بیٹھی تھی ،،،، اسے آتے دیکھ فاصلہ بنا گئی ۔۔۔۔

جبکہ ابیہا ، زارون سمیت زرمینے نے اسے بیسٹ وشز دی تھیں اور ساتھ ساتھ اسکے جیتنے کے بعد اس سے ٹریٹ کی بھی ڈیمانڈز جاری تھیں ۔۔۔۔

جس پر اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے انہیں گرین سگنل دیا تھا ۔۔۔۔جس پر ان تینوں نے یاہو کا نعرہ لگایا ۔۔۔۔

جبکہ سب بڑے اپنے بچوں کو ایسے ہنستے مسکراتے دیکھ خوش ہو رہے تھے ۔۔۔

**********

صبح کے سات بجے سے جو مسلسل ووٹنگ جاری تھی اسے شام کے پانچ بجتے ہی روک دیا گیا تھا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی ووٹوں کی گنتی بھی شروع کر دی گئی تھی ۔۔۔

اس دوران پنجاب کے مختلف علاقوں سے میڈیا کے نمائندے ٹی وی پر ایک ایک منٹ کی اپڈیٹس عوام تک پہنچا رہے تھے ۔۔۔۔۔

ویسے تو آرمی تعینات ہونے کی وجہ زیادہ جگہوں پر فضاء پرسکون ہی رہی تھی ،،،،، لیکن دو چار جگہوں پر دو مخالف پارٹیز کے کارکن آپس میں بھڑنے کی وجہ سے بدمزگی ہوگئی ۔۔۔۔ جن میں کچھ افراد زخمی بھی ہو گئے تھے ۔۔۔جسکی وجہ سے پولنگ کچھ وقت کیلئے منقطع کرتے ہوئے روک دی گئی تھی ۔۔۔۔

اور پھر حالات دوبارہ قابو میں آتے دیکھ شروع کی گئی ،،،، جو ابھی تک جاری تھی ،،،،، جسکا ٹائم شام کے سات بجے تک تھا ۔۔۔۔

جبکہ ضارب شاہ جس حلقے میں کھڑا تھا وہاں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے شروع ہو چکے تھے ،،،،، جن کے مطابق فلحال دونوں امیدواروں کے ووٹوں میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں تھا ۔۔۔۔

مطلب مقابلہ جو تھا فلحال برابر کا چل رہا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ اپوزیشن نے بھی الیکشن کمپین میں اپنی جان لگا دی تھی ،،،، اور کچھ ضارب شاہ کے خلاف کی جانے والی سازش اور پھر آئی پی پی سے علیحدگی نے بھی اسکی ساکھ پر تھوڑا بہت اثر ڈالا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن ابھی بھی وہ دوسرے امیدوار سے دو ہزار ووٹوں کی لیڈ پر چل رہا تھا ،،،،، پر ابھی یہ صرف کچھ ہی پولنگ اسٹیشنز کے اپڈیٹس تھے ،،،،، آخری حتمی اور سرکاری نتائج ابھی آنا باقی تھے ۔۔۔۔۔۔

*********

ضارب شاہ کے پریس کانفرنس میں آئی پی پی سے علیحدگی کے علان کے بعد آئی پی پی کے صدر چوہدری وجاہت حسین نے ہنگامی طور پر پارٹی کا اجلاس بلایا تھا ۔۔۔۔۔

جس میں انہوں نے خاص طور پر ضارب شاہ کو بلایا تھا ،،،،،، لیکن اس نے جانے سے انکار کرتے ہوئے ،،،،، صاف جواب بھیج دیا تھا ،،،،،،کہ وہ اب یا پھر آگے مستقبل میں ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا ۔۔۔۔

اس لیے اسے منانے یا پھر پریشرائز کرنے کا بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ،،،،، اس کے علاوہ الیکشن کمپین میں پارٹی کا جو بھی خرچہ ہوا تھا ۔۔۔

اسکا چیک بھی وہ انہیں بھیج چکا تھا ۔۔۔۔جسے انہوں نے لینے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔۔وہ صرف ایک بار اس سے پرسنلی ملنا چاہتے تھے ،،،،، لیکن فلحال وقت کی قلت ہونے کی وجہ سے ضارب نے انہیں الیکشن کے بعد کا وقت دیا تھا ۔۔۔۔

جسے انہوں مال غنیمت سمجھتے ہوئے قبول کر لیا تھا ۔۔۔۔انکے لیے یہی بہت تھا کہ ضارب شاہ نے زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت انکا مان رکھتے ہوئے ملنے سے انکار نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ سارا معاملہ جاننے کے بعد وہ لیاقت احمد پر سخت برہم ہوئے تھے ،،،، کہ کم از کم ضارب کے ساتھ کچھ بھی بات کرنے سے پہلے وہ ان سے ایک بار مشورہ کر لیتے تو انہیں آج ان نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ،،،،، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔

انکی ساری امیدیں مستقبل میں ہونے والی ضارب کے ساتھ میٹنگ پر ٹکی تھی ۔۔۔۔جن میں انہیں امید تھی کہ وہ اسے واپس انکے ساتھ جڑنے پر منا لیں گے ۔۔۔۔جبکہ ضارب کیا فیصلہ کرتا ہے یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا ۔۔۔۔

**********

حویلی کے تمام افراد کے ساتھ ساتھ پورے گاؤں کی نظریں بھی ٹی وی پر ٹکی تھیں یہاں ابھی کچھ دیر میں ہی الیکشن کمیشن آفیسرز حتمی اور سرکاری نتائج اناؤنس کرنے والے تھے ۔۔۔۔

گاؤں کے ہر افراد کے دل سے اپنے سردار کے جیتنے کی دعا نکل رہی تھی ۔۔۔۔اب تک جو نتائج سامنے آئے تھے ان کے حساب سے تو ضارب جیت چکا تھا ۔۔۔۔جسکی وجہ سے ضارب شاہ کو مبارکباد کی کالز بھی آنا شروع ہو چکی تھیں۔۔۔

جس میں سب سے پہلے نمبر چوہدری وجاہت حسین کا تھا ،،،،، جن سے نارملی بات کرتے ہوئے اس نے مبارک باد کووصول کیا تھا ۔۔۔،

لیکن ابھی حتمی اعلان نا ہونے کی وجہ سے کوئی بھی آتش بازی اور شور شرابے سے فلحال ضارب نے منع کیا تھا ،،،، کیونکہ وہ وقت سے پہلے کوئی بھی اقدام اٹھانے والے کو سراسر احمق سمجھتا تھا ۔۔۔۔

اور پھر وہ وقت بھی آ ہی گیا جب ضارب شاہ کے جیتنے کا سرکاری اعلان کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔حویلی کے ساتھ ساتھ پورے گاؤں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی ۔۔۔۔

ہر طرف مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے مبارکبادیں دی جا رہی تھیں ،،،،،اور ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کا بھی سلسلہ جا رہی تھا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *