Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 12)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

گاڑی آ کر ایئرپورٹ پورٹ کے پارکنگ میں رکی تھی ۔۔۔ جسکی اگلی سیٹ پر مان کے ساتھ اسکا بڑا بھائی غنی بیٹھا تھا جبکہ پچھلی سیٹ پر وہ دونوں بہنیں روباب اور حجاب بیٹھی تھیں ،،،، جن میں بہن ہونے کے علاوہ دیورانی جیٹھانی کا بھی رشتہ تھا ۔۔۔۔

ان دونوں کی شادی ایک ساتھ ایک ہی گھر میں ہوئی تھی ۔۔۔۔بس فرق صرف اتنا تھا کہ مان کی شادی یہاں پسند سے ہوئی تھی ،،،، وہی غنی کی اسکے گھر والوں کی مرضی سے ۔۔۔

لیکن اسکا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی سے پیار نہیں کرتا تھا ،،،، بھلے ہی انکی ارینج میرج ہوئی تھی لیکن وہ پسند روباب کو بچپن سے ہی کرتا تھا ۔۔۔

بس مان کے مقابلے میں وہ تھوڑا کم گو ہونے کے ساتھ سنجیدہ طبیعت کا حامل بھی تھا ،،،،، اس لیے کبھی اظہار نہیں کر پایا ،،،، لیکن پھر بھی اوپر والے نے اسکی خاموش محبت کو اسکی زندگی کا حاصل بنا کر اسکی جھولی میں ڈال دیا ۔۔۔۔

اور آج وہ لوگ اپنی شادی کے ڈیڑھ ماہ بعد اکٹھے ہی ہنی مون پر جا رہے تھے ۔۔۔۔جانا تو ان لوگوں نے شادی کے فورا بعد ہی تھا لیکن آفس میں کام کا برڈن زیادہ ہونے کی وجہ سے غنی کو ٹائم نہیں مل پا رہا تھا ۔۔۔۔

اس نے تو مان کو بولا تھا کہ وہ اور حجاب چلے جائیں ،،،، یہ لوگ بعد میں انہیں جوائن کر لیں گے ،،،،، جس کیلئے وہ مان بھی گیا تھا لیکن اسکے بہت سمجھانے پر بھی حجاب نہیں مانی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ بچپن سے لے کر اب تک وہ کبھی روباب سے الگ نہیں ہوئی تھی دوسرا کچھ طبیعت کے معاملے میں بھی وہ ڈرپوک سی تھی جس کی وجہ سے اس نے اسکے ساتھ اکیلے جانے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔

اور اسکے ڈر کو سمجھتے ہوئے مان کو بھی مانتے ہی بنی تھی ،،،،،، اور غنی کے فری ہوتے ہی پورے ایک ماہ کی چھٹیوں پر وہ وادی سوات گھومنے جا رہے تھے ۔۔۔۔

یہاں پر انکا ذاتی ایک کاٹیج تھا ۔۔۔۔جو غنی نے مان کو خرید کر گفٹ کیا تھا کیونکہ اسے گھومنے پھرنے کا بہت شوق تھا اور اسکی سب سے پسندیدہ جگہ وادی سوات تھی یہاں وہ اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے چلا جاتا تھا ۔۔۔۔

اور اب اسی کی خواہش پر وہ لوگ سوات جا رہے تھے ۔۔۔۔غنی تو پہلے بھی ایک دو بار جا چکا تھا ۔۔۔لیکن روباب اور حجاب کا یہ پہلا ایکسپرینس تھا ۔۔۔

جس کیلئے روباب تو بہت ایکسائٹڈ تھی لیکن حجاب اپنی ڈرپوک نیچر کی وجہ سے اب بھی سہمی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کیونکہ یہ لوگ سوات بائی ایئر جا رہے تھے تو اسے جہاز میں بیٹھنے سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔

اس نے تو بائی روڈ جانے کی ضد کی تھی لیکن پھر اتنا لمبا سفر اور روباب کے سمجھانے پر کے کچھ نہیں ہوگا ہم سب ساتھ میں ہی ہونگے وہ مان گئی ۔۔۔

لیکن اب جیسے جیسے جہاز میں بیٹھنے کا وقت قریب آ رہا تھا اسکا نازک سا دل سینے میں اچھل کر حلق کو آ رہا تھا ۔۔۔۔

اب بھی پلین کے اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے روباب کا ہاتھ سختی سے پکڑ رکھا تھا ۔۔۔لیکن یہ زیادہ دیر تک نا ہو سکا ،،،،، کیونکہ ان دونوں کی سیٹس روباب اور غنی کی سیٹس سے الگ تھی ۔۔۔۔

تو وہ اسے دلاسہ دیتی اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی ،،،،، جس کے جاتے ہی مان نے اسکا ہاتھ نرمی سے تھامتے ہوئے اسے ونڈو والی سیٹ پر بیٹھاتے خود ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

اور ساتھ ساتھ نرمی سے اسکے ہاتھ کو سہلا بھی رہا تھا تاکہ وہ ریلکس فیل کرے ۔۔۔۔جس سے کافی حد تک اسکا ڈر کم بھی ہوا تھا ۔۔۔

لیکن پھر جب سیٹس بیلٹ باندھنے کی اناؤنسمنٹ ہوئی کیونکہ پلین اڑان بھرنے والا تھا ،،،،، تو اسکے دل میں بیٹھا ڈر دوبارہ ابھر آیا جس کے چلتے اس نے مان کے ہاتھ پر اپنی گرفت سخت کی تھی ۔۔۔۔

جان مان ریلکس رہیں کچھ نہیں ہوگا میں ہوں نا آپکے ساتھ پھر گھبرانے کی کیا بات ہے ،،،، کیا آپکو مجھ پر یقین نہیں ،،،،،ایک ہاتھ اسکے کندھے پر ٹکاتے اور دوسرے سے اسکے نرم نازک روئی جیسے گال کو سہلاتے ہوئے پیار سے پوچھا تھا ۔۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے آپ پر پورا یقین ہے اور میں ڈرنا بھی نہیں چاہتی لیکن پتا نہیں کیوں ڈر خود با خود لگی جا رہا ۔۔۔۔

اور دل بھی زور زور سے دھڑک رہا ہے ،،،،، بہت زیادہ گھبراہٹ بھی ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔

اپنے خوبصورت نشیلے نینوں میں لبا لب آنسو بھر کر اپنی کیفیت بیان کی تھی ۔۔۔۔

اور ان سب کے دوران وہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ مان کے اس کے قریب آنا اور پیار سے چھونا بھی محسوس نہیں کر پائی ۔۔۔

جبکہ اسکے اتنی معصومیت سے جواب دینے پر مان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا ،،،، جس کی وجہ سے وہ آس پاس کا ہوش بھلائے پوری شدت سے اسکی نم ہوئی پلکوں کو باری باری ہونٹوں سے چھو گیا ۔۔۔

اسکی اس بے باکی پر وہ ہوش میں آئی تھی اور آس پاس کا خیال کرتے ہوئے اسے خود سے دور کرنا چاہا لیکن اسکی گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے خود کو چھڑوا نہیں پائی ۔۔۔

کیا کر رہے ہیں مان ہم پبلک پلیس میں ہیں دور ہٹیں ،،،، وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی منمنا کر بولی ،،،،، جبکہ چہرہ شرم کی وجہ سے خون جھلکا رہا تھا ۔۔۔۔

پبلک پلیس ہے تو پھر کیا ہوا بیوی تو میری اپنی ہے اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے اور کیا نہیں ،،،، ویسے بھی آپکو گھبراہٹ ہو رہی تھی نا بس اسی کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔

اس نے بات مکمل کرتے لب دبا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔

مان آپ دن با دن بے شرم ہوتے جا رہے ہیں ،،،،، آپکو فرق نہیں پڑتا ہوگا لیکن مجھے ضرور پڑتا ہے اور اب نہیں ہو رہی گھبراہٹ مجھے پلیز پیچھے ہو جائیں ،،،، ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی ۔۔۔

اپنی کسی بات کا اس پر اثر نا ہوتے دیکھ اینڈ میں دھمکی لگائی ۔۔۔۔

جو کارآمد بھی ثابت ہوئی ،،،،، ٹھیک ہے بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے ایک تو مدد کرو اوپر سے ناراض ہونے کی دھمکیاں بھی سنو ،،،،،

وہ منہ میں بڑبڑاتے ہوئے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا جبکہ مان کے ایسے منہ پھلانے پر وہ دھیرے سے مسکرائی تھی ۔۔۔

مان نے چاہت بھری نظروں سے اپنی زندگی کو دیکھا تھا جو اب ریلکس بیٹھی مسکرا رہی تھی ،،،،، اور یہی تو وہ چاہتا تھا ،،،، اسکا بس چلتا تو وہ ڈر کو کبھی اسکے قریب بھی نا جانے دیتا ۔۔۔۔

اور اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ ایک دن اسے اتنا بہادر ضرور بنا دے گا کہ وہ کھل کر اپنی زندگی جئے گی بنا کسی خوف و ڈر کے ۔۔۔

*********

وہ لوگ جب سوات پہنچے تو تقریبا شام ہو چکی تھی اور ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی سوات کی ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے انکا استقبال کیا تھا ۔۔۔۔

جسے محسوس کرتے ہوئے روباب نے ایک لمبا سانس کھینچا اور پھر کھل کر مسکرائی تھی ۔۔۔۔ان دونوں بھائیوں نے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی تقریبا سارے انتظامات مکمل کر رکھے تھے ۔۔۔

اسی لیے انکے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں گاڑی موجود تھی ۔۔۔۔جس میں بیٹھتے ہی وہ لوگ گھر کیلئے روانہ ہوئے تھے ۔۔۔

روباب اور حجاب وادی سوات کے خوبصورت اور دلکش نظاروں کو مہبوت ہو کر دیکھ رہی تھیں ،،،،،، سوات کی بل کھاتی سڑکیں اور سبز و شاداب اونچے پہاڑ یہاں آنکھوں کو ٹھنڈک بخش رہے تھے ۔۔۔۔

وہی سڑکوں کے اطراف میں بنی گہری گھاٹیاں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دل میں انجانا سا خوف بھی پیدا کر رہی تھیں ۔۔۔

جنہیں دیکھتے حجاب تو ڈر کر فورا سے پیچھے ہو کر بیٹھ گئی ،،،،، لیکن روباب دلچسپ نگاہوں سے دیکھتی ان خوبصورت مناظر میں کھو چکی تھی ۔۔۔۔

انہیں گھر پہنچتے پہنچتے تقریبا رات کے آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔۔کھانا وہ لوگ راستے میں ہی رک کر ایک ہوٹل سے کھا چکے تھے ۔۔۔ اب بس گھر پہنچ کر آرام کرنے کی جلدی تھی کیونکہ سفر کی تھکاوٹ سے ان سب کا بہت برا حال تھا ۔۔۔۔

گاڑی اونچے نیچے پتھریلے راستوں سے گزرتے ہوئے ایک چھوٹے مگر خوبصورت گھر کے سامنے آ کر رکی تھی۔۔۔۔

جو مکمل طور پر لکڑی سے بنا ہوا تھا ،،،،، مختلف نقش و نگار سے مزین یہ دو منزلہ کاٹج دیکھنے میں جتنا باہر سے خوبصورت تھا اندر سے اس سے کہیں ذیادہ دلکش تھا ۔۔۔۔

گھر میں اینٹر ہوتے ہی ایک چھوٹا سا ہال تھا ،،،،، جسے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ،،،،، سامنے ایک بیڈروم تھا اور اسکی دائیں طرف اوپن کچن جو اٹلین طرز پر بنا ہوا تھا ،،،،، جس کے بالکل ساتھ ہی لکڑی کی سیڑھیاں تھی ،،،، جو اوپر جاتی تھیں ۔۔۔۔۔

اوپر بھی ایک کمرہ تھا ،،،،،، گھر بالکل صاف ستھرا اور شفاف تھا کیونکہ مان نے گھر کی حفاظت کیلئے ایک کل وقتی ملازم رکھا تھا جو پیچھے اسکا مکمل دھیان رکھتا تھا ۔۔۔۔

روباب اور حجاب کو یہ پیارا سا گھر بہت پسند آیا تھا ،،،،، اور وہ دونوں بھائی تو انکی خوشی میں ہی خوش تھے ۔۔۔۔

غنی تو انہیں شب خیر کہتا ہال سے منسلک روم کی طرف بڑھ گیا تھا تاکہ فریش ہو کر اپنی تھکاوٹ اتار سکے ،،،،،،جس کے پیچھے روباب بھی چلی گئی تاکہ اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ دے سکے ۔۔۔۔

پیچھے بس وہ دونوں ہی رہ گئے تھے ،،،،، جب مان نے اسے مخاطب کیا تھا ،،،، تو پھر کیا خیال ہے جان مان ہم بھی اپنے روم میں چلیں جس پر اس نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

اس پہلے کہ روم میں جانے کیلئے وہ اپنے قدم بڑھاتی مان نے ایک جھٹکے سے اسے اپنی گود میں اٹھایا تھا جبکہ اسکی اس حرکت پر حجاب کی آنکھیں تحقیر سے پھیل گئی تھیں ۔۔۔۔

کیا کر رہے ہیں مان کوئی دیکھ لے گا نیچے اتارے مجھے ،،،، جبکہ وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ،،،،، اور اسے ایسے اپنی گود میں اٹھائے ہوئے کمرے میں لا کر ایک پیر سے دروازہ اوٹو لوک کرتے ہوئے آرام سے بیڈ پر اتارا تھا ۔۔۔۔

اور اسکے دونوں طرف اپنے ہاتھ ٹکائے اسکے بھاگنے کے تمام راستے بند کرتا ،،،،، غور سے اسکا معصوم چہرہ دیکھنے لگا جو شرم سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔

حجاب نے ایک پل کیلئے اپنی نظریں اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا اور اسے خود کو ایسے تکتے پا کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی ۔۔۔

جنہیں مان نے مسکراتے ہوئے اپنے لبوں سے چھو لیا ،،،،، وہ اسکے ارادوں سے گھبراتی ہوئی پیچھے کو کھسکتی بچنے کی کوشش کرتی راہ فرار تلاش کر رہی تھی ۔۔۔۔

لیکن مان کے مضبوط حصار کے سامنے اسکی یہ معصوم کوششیں بالکل بیکار تھی ،،،،، مان نے اس پر جھکتے ہوئے اپنے دہکتے لب اسکی صراحی دار گردن پر رکھے تھے ،،،، جس پر وہ جی جان سے لرزی تھی ۔۔۔۔

اور اپنے ہاتھوں سے اسکے کندھوں کو تھاما تھا ،،،،، جیسے جیسے اسکی شدتیں بھرتی جا رہی تھیں ،،،،، حجاب کی گرفت بھی اس پر مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔

اسکی گردن کو اپنے لمس سے بھگا کر جب وہ چہرے کی طرف آیا ،،،،، اس سے پہلے کہ وہ اسکی سانسوں کو اپنے قبضے میں لیتا حجاب نے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا ۔۔۔۔

اور اپنی سانسیں بحال کرنے لگی جو کہ اسکی ذرا سی قربت پر رک رک کر آ رہی تھیں ،،،،،

جان مان !!

کیا ہوا ؟؟ مان نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اسے پچکارتے پوچھا تھا ،،،،، جس پر حجاب نے اسے گھوری سے نوازا ۔۔۔۔

کیا ہوا مجھے کیوں ایسے گھور رہی ہو میں نے کیا کیا ،،،، آپکو نہیں پتا کہ آپ نے کیا کیا ۔۔۔۔

نہیں اس نے نفی میں سر ہلایا ،،،،، مان آپکو پتا ہے نا میں تھکی ہوئی ہوں ابھی ہم اتنا لمبا سفر کر کے آ رہے ہیں اور مجھے سونا ہے لیکن آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں ،،،،، اس نے منہ بناتے ہوئے اس سے اسی کی شکایت لگائی تھی ۔۔۔

میں جذب کر لوں ساری تھکاوٹیں تیری

تو ایک بار میرے بازوؤں میں آ تو سہی

اس کے شکایت کرنے پر مان نے گمبھیر سرگوشی کرتے اس کی گال پر شدت بھرا بھوسہ دیا تھا ۔۔۔۔مان پلیز !! جبکہ اسے دوبارہ پٹری سے اترتے دیکھ حجاب نے اسے التجائی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔

جس پر وہ مسکرایا اور خود بیڈ پر سہی سے لیٹتے ہوئے اسکا سر اپنے سینے پر منتقل کرتے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا تھا ،،،،،جس سے وہ سکون محسوس کرتی جلد ہی نیند کی گہری وادیوں میں اتر گئی ۔۔۔۔

جبکہ اسے سکون سے سوتے دیکھ وہ اسے اپنے سینے میں بھنچتے ہوئے خود بھی سکون سے آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔۔۔

**********

غنی فریش ہو کر جب تک باہر آیا تب تک روباب سوٹ کیس سے کپڑے نکال کر ڈریسنگ میں سیٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔

اور اسے آتے دیکھ خود کپڑے لے کر فریش ہونے چلی گئی ،،،،، اور جب دس منٹ بعد باہر آئی تو غنی کمرے کی مین لائٹ بجھائے زیرو پاور کا بلب جلائے ،،،،، خود بیڈ پر نیم دراز ہو چکا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اس نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں جس کی وجہ سے وہ جاگ رہا یا سو گیا تھا روباب کیلئے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا ۔۔۔۔

وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے بیڈ کے قریب آ گئی ایک نظر سوتے ہوئے غنی پر ڈال کر خود بھی ایک طرف لیٹ کر کنفرٹ منہ تک اوڑھ لیا ۔۔۔۔

ابھی اسے لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اسے اپنی کمر پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا ،،،، اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی غنی نے اس کی کمر کو اپنی مضبوط گرفت میں لے کر ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔۔

جس سے سیدھا وہ اسکے کشادہ سینے سے آ لگی تھی ،،،،، ایک پل اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے وہ اس کے لبوں پر جھکتا اسکی دھیمی چلتی سانسوں کو اپنی گرفت میں لے گیا تھا ۔۔۔۔

روباب نے اسکے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسے پیچھے کرنا چاہا ،،،،، لیکن کامیاب نہیں ہو سکی ،،،، الٹا اس کے عمل کی شدت میں اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔

تھک کر اس نے اپنی کوشش روک دی ،،،،، کچھ دیر بعد وہ خود ہی اپنے آپ کو پوری طرح سیراب کرتے ہوئے دھیرے سے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔

اور ایک نظر اسکی شدت سے سرخ ہوئے اسکے گلاب کی پتیوں جیسے خوبصورت لبوں کو دیکھا جس پر ہلکا کٹ لگا تھا ۔۔۔

اور پھر اسکی آنکھوں میں جن میں ہلکی سی نمی کے ساتھ شکایت بھی درج تھی ،،،،، جسے دیکھتے اس نے باری باری اسکی دونوں آنکھوں پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔۔

پھر اسکا سر اپنے سینے سے لگاتے دونوں پر کنفرٹ درست کرتے ہوئے خود بھی آنکھیں موند گیا ۔۔۔

ویسے تو ان دونوں کے درمیان سب کچھ نارمل تھا لیکن غنی چاہ کر بھی ابھی تک اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پایا تھا ۔۔۔۔

لیکن ہر بار اسکے قریب جاتے ہوئے اپنے عمل سے ضرور بتاتا تھا وہ اس کیلئے کتنی اہم ہے ،،،،، لیکن شاید وہ اس سے اظہار چاہتی تھی جو کہ اسکی آنکھوں میں بھی نظر آتا تھا ۔۔۔۔

پر بہت جلد ہی وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کرنے والا تھا ،،،،،، کہ وہ اسے کتنا چاہتا ہے ،،،،، جس کیلئے اس نے بہت کچھ پلین بھی کر رکھا تھا۔۔۔۔

بس وہ سہی وقت کا انتظار کر رہا تھا جو کہ بہت جلد آنے والا تھا ۔۔۔۔۔

**********

آج کا سورج بہت سی امیدیں لے کر طلوع ہوا تھا ،،،،، جس کی صبح تو بہت خوش گوار تھی لیکن اسکا اختتام کیسا ہونا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

دادا سائیں نے فجر کی نماز با جماعت ادا کرتے ہوئے وہاں موجود مولوی صاحب اور تمام نمازیوں سے اپنے پوتے کیلئے خاص دعا کروائی تھی ۔۔۔۔

حویلی میں بھی آج ہر طرف گہما گہمی کا ماحول تھا ،،،،، کیونکہ آج کا دن ضارب کیلئے کتنا اہم تھا یہ سب ہی جانتے تھے ۔۔۔۔

اماں سائیں نے آج عظمی اور نجمہ بیگم سے بول کر ناشتہ وقت سے پہلے ہی تیار کر وا لیا تھا ۔۔۔۔خود وہ ہاتھ میں تسبیح پکڑے مختلف وظائف پڑھنے میں مصروف تھیں ۔۔۔

زارون ، ابرش ، ابیہا ، اور زرمینے سمیت ارمغان اور موسی شاہ بھی آج گھر پر ہی موجود تھے ،،،،، جبکہ واسم اپنا ناشتہ مکمل کرتے ہوئے ضروری میٹنگ کا بولتے آفس کیلئے روانہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

صبح کے سات بجتے ہی پولنگ اسٹیشن میں ووٹنگ شروع ہو چکی تھی ،،،،، ہر طرف گہما گہمی کا ماحول تھا ،،،،، ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد نے اپنا اپنا ووٹ ڈالنے کیلئے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا تھا ۔۔۔

اور کسی بھی بدمزگی سے بچنے کیلئے ،،،،، الیکشن کمیشن آفیسرز کی درخواست پر اسٹیشنز پر پولیس کے ساتھ ساتھ آرمی کو بھی تعینات کیا گیا تھا ۔۔۔۔

سردار ضارب شاہ نے وہاں اپنے قریبی پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا جس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے ہلکی پھلکی گفتگو کر کے حویلی کی طرف روانہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔

یہاں اسکے اپنے اسکا انتظار کر رہے تھے ،،،،، اسے اپنے آپ پر پورا یقین تھا کہ آج وہ ہی جیتے گا اور وہ اپنی ہر خوشی انکے درمیان رہ کر ہی منانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *