Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 100)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

تاشے کو رخصت کرنے کے بعد ان سب کو حویلی پہنچنے میں کافی رات ہو گئی تھی ۔۔۔

جسکے نتیجے میں سب لوگ آتے ہی اپنے اپنے کمروں کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔

لیکن سب کی تھکاوٹ کا احساس کرتے روباب اور عظمی آتے ہی کچن میں گھس چکی تھیں ۔۔۔تاکہ چائے وغیرہ کا انتظام کر کے سب کے کمروں میں پہنچا سکیں ۔۔۔

ابرش کی جیسی حالت تھی اور گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے اس سے تو ویسے بھی وہ لوگ کوئی کام نہیں کرواتے تھے البتہ ابیہا اور زرمینے نے انکی ہیلپ کروانی چاہی ۔۔۔جنہیں نرمی سے سمجھاتے ہوئے انہوں نے انکے کمروں میں بھیج دیا تھا ۔۔۔

کہ جا کر اپنے اپنے شوہروں کو دیکھیں انہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ۔۔۔

ماشاءاللہ عظمی آج آپ بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔چائے کپوں میں انڈیلتے ہوئے روباب نے بےساختہ ہی انکی تعریف کی تھی ۔۔۔

جس پر کچھ چونک کر انہوں نے روباب کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر ایک نظر اپنے لباس کی طرف ۔۔۔

براونش ڈیپ ریڈ کلر کا جوڑا ،،،، تاشے کی بارات کیلئے روباب نے ہی انہیں گفٹ کیا تھا ۔۔۔جسے دیکھتے ہی پہلی نظر میں انہوں نے لینے سے انکار کیا تھا کیونکہ وہ اتنے تیز کلر نہیں پہنتی تھی ۔۔۔

لیکن پھر روباب کے اسرار پر کہ انکی خواہش ہے کہ وہ یہ رنگ پہنے ۔۔۔کیونکہ وہ خود بالکل سیم سوٹ پہننے والی ہیں ،،،، انہیں مجبوری میں انکا مان رکھنا پڑا تھا ۔۔۔

بہت شکریہ آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔

شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے بدلے میں انکی بھی تعریف کی ۔۔۔روباب کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ کھلی ۔۔۔

فارمیلٹی نبھا رہی ہیں ؟؟؟؟

شوخ انداز میں سوال کیا ۔۔۔جس پر وہ کچھ بوکھلائی ۔۔۔نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں ۔۔۔

میں نے تو سچے دل سے آپکی تعریف کی ہے ۔۔۔

جبکہ انکے ہڑبڑا جانے پر روباب نے لطف اندوز ہوتے قہقہہ لگایا ۔۔۔

میں جانتی ہوں ۔۔۔

انکے ہاتھ پر دباؤ دیتے ہوئے ۔۔۔اس بار نرمی سے بولیں ۔۔۔جس پر وہ محض سر ہلا کر رہ گئیں ۔۔۔

حیدر شاہ کے کمرے میں چائے ،،،، ابرش کے کمرے میں دودھ اور واسم کے کمرے میں کافی بھجوانے کے بعد خود وہ دونوں اپنے اپنے چائے کے کپ لے کر ڈائنگ ٹیبل پر آ کر بیٹھیں تھیں ۔۔۔

جبکہ ارمغان کیلئے کافی روباب بعد میں بنا کر لیجانے والی تھیں جو اس وقت ایک بہت امپورٹنٹ کال پر مصروف تھے ۔۔۔

عظمی ایک بات کہوں ؟؟؟؟

عظمی کو خاموشی سے چائے پیتے دیکھ روباب نے انہیں نرمی سے مخاطب کیا تھا ۔۔۔

جی ۔۔۔

آپ ہمیشہ ایسے ہی برائٹ کلر پہنا کریں ۔۔۔آپ پر کافی سوٹ کرتے ہیں ۔۔۔

جسے سن کر ایک تلخ مسکراہٹ نے انکے لبوں کا احاطہ کیا ۔۔۔

کیا کروں گی میں اتنا سج دھج کر ؟؟؟؟ بےساختگی میں یہ سوال انکے منہ سے نکلا۔۔۔

انکے لہجے کے خالی پن کو روباب نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔

عظمی ۔۔۔

روباب کے پکارنے پر وہ کچھ ہوش میں آئیں ۔۔۔

میرا مطلب تھا کہ اس عمر میں اتنا ہار سنگھار اچھا بھی تو نہیں لگتا ۔۔۔لوگ بوڑھی گھوڑی لال لگام بولیں گے ۔۔۔

روباب کو سیریس ہوتے دیکھ انہوں نے بات کو مذاق کا رنگ دیا ۔۔۔

جس پر روباب بھی دھیرے سے مسکرائیں تھیں ۔۔۔

اب ایسی بات بھی نہیں ہے ۔۔۔آپ تو کہیں سے بھی بوڑھی نہیں لگتیں ۔۔۔بلکہ بہت حسین اور جوان ہیں ابھی بھی ۔۔۔

اور میں بھی تو ہوں عمر میں آپ سے ایک دو سال بڑی ہی ہوں گی ۔۔۔دیکھیں میں بھی تو پہنتی ہوں ۔۔۔یہ رنگ یہ ہار سنگھار تو سہاگن کی نشانی ہوتے ہیں ۔۔۔

آپکی بات الگ ہے ۔۔۔

کیوں میری بات کیوں الگ ہے ؟؟؟؟

عظمی کی بات پر انہوں مسکرا کر سوال کیا ۔۔۔جس کے جواب میں وہ کچھ نہیں بولیں تھیں ۔۔۔بس خاموش سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔اور چائے کا آخری سپ لے کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑیں ہوئیں ۔۔۔

رات کافی ہو گئی ۔۔۔میرے خیال سے اب ہمیں بھی آرام کرنا چاہیے مسکرا کر بولتے ۔۔۔انکے ہاتھ سے خالی کپ لے کر ٹرے میں رکھا ۔۔۔

اور وہاں سے جانے لگیں جب روباب نے انکا ہاتھ تھام کا روکا ۔۔۔اور اٹھ کر انکے مقابل آئیں ۔۔۔

عظمی یہ دنیا بہت ظالم ہے ۔۔۔اگر آپ یہ سمجھتیں ہیں کہ یوں خاموش رہ کر ،،،، اپنے سارے فرض نبھاتے ہوئے کسی کو اپنی طرف مائل کر لیں گی تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔۔۔

دوسرا انسان آپکی قدر کبھی نہیں کرے گا ،،، جب تک آپ خود کی قدر نہیں کرینگی ۔۔۔

دوسروں کو اپنے ہونے کا احساس نہیں دلائے گیں ،،،، اپنے حق کیلئے آواز نہیں اٹھائیں گی ۔۔۔

دوسروں کیلئے جینے کی بجائے خود اپنے لیے جینا سیکھیں ۔۔۔خود سے پیار کریں ۔۔۔

تبھی دوسروں کو بھی آپکا احساس ہوگا۔۔۔ورنہ ایسے خاموش رہنے سے تو آپکا حق آپکو کبھی نہیں ملے گا ۔۔۔

انکے ہاتھ پر نرمی سے دباؤ دیتے پیار سے سمجھایا ۔۔۔جس پر انہوں نے حیران نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

جبکہ انکے برعکس روباب کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔۔۔

آپکو پتا ہے ہمارا جو رشتہ ہے دنیا اسے کس نام سے بلاتی ہے ؟؟؟؟

سوتن ۔۔۔

عظمی کے خاموش رہنے پر انہوں نے خود ہی بات آگے بڑھائی ۔۔۔

جنکی آپس میں کبھی نہیں بنتی ۔۔۔

یہاں تک کئی عورتیں جو اس رشتے سے وابستہ ہوتیں ہیں ایک دوسرے کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتیں ۔۔۔

میں یہ نہیں کہوں گی کہ میں کوئی فرشتہ ہوں ،،،، جسے آپکے اپنے شوہر کی زندگی میں ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔

تو یہ سفید جھوٹ ہوگا ۔۔۔

عظمی جو انکی بات بہت دھیان سے سن رہی تھیں چونک کر انکی طرف دیکھنے لگیں ۔۔۔

فرق پڑتا ہے بہت فرق پڑتا ہے ۔۔۔

عظمی غنی میری پہلی اور آخری محبت ہیں ،،،، میرے لیے انہیں کسی کے ساتھ بانٹنا بالکل بھی آسان نہیں ۔۔۔

اور جب مجھے آپ دونوں کی شادی کے بارے میں پتا چلا تھا ۔۔۔بہت تکلیف ہوئی تھی ،،،، بہت دل دکھا تھا میرا ۔۔۔

بات کرتے کرتے یکدم سے انکی آنکھیں بھیگی تھیں ۔۔۔

جسے دیکھتے عظمی کو شرمندگی نے گھیرہ ہاتھ میں پکڑی ٹرے کو ٹیبل پر رکھتے انہوں نے آگے بڑھ کر انہیں اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔

آئی ایم سوری ،،،ایم رئیلی رئیلی سوری ۔۔۔میری وجہ سے آپکو اتنی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے ۔۔۔

پر یقین جانے سائیں آج بھی صرف آپکے ہی ہیں ۔۔۔ہمارا رشتہ ۔۔۔

جانتی ہوں میں سب آپکو بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔اور نا ہی معافی مانگنے کی ۔۔۔نرمی سے الگ ہو کر انکی بات کو درمیان میں کاٹتے مسکرا کر بولیں ۔۔۔کیونکہ ان سب میں آپکی کوئی غلطی نہیں ہے ۔۔۔نا ہی غنی کی بلکہ کسی کی بھی نہیں ۔۔۔ سارا کھیل تو قسمت کا ہے جس نے ہمیں اس ڈور میں باندھا ہے ۔۔۔

ہم چاہیں یا نا چاہیں ہر حال میں اس رشتے کو نبھانا ہی ہے ۔۔۔تو اچھا نہیں لڑنے جھگڑنے کی بجائے پیار سے سمجھوتا کرتے ہوئے اس بدنام زمانہ رشتے کو دنیا کیلئے ایک مثال بنا دیں ۔۔۔کہ اگر عورت چاہے تو تھوڑا سا کمپرومائز کر کے اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے ۔۔۔

بیشک ،،، ان شاءاللہ ہم کر کے دکھائیں گے ۔۔۔۔

انکی بات پر عظمی بھی دھیرے سے نم آنکھوں کے ساتھ مسکرائیں تھیں ۔۔۔

عظمی میں چاہتی ہوں آپ غنی کے ساتھ اپنا رشتہ مکمل کر لیں ۔۔۔

روباب کی بات پر انکے ہونٹوں کی مسکراہٹ سمٹی تھی ،،،، جبکہ ہاتھوں کی گرفت بھی جس میں انہوںنے روباب کے ہاتھوں کو تھام رکھا تھا چھوٹ گئی ۔۔۔

یہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔

کیوں ممکن نہیں ہے ؟؟؟

انکے جواب کے بدلے سوال آیا تھا ۔۔۔

ایک تو یہ کہ اب ان سب چیزوں کا وقت گزر چکا ہے ۔۔۔دوسرا جس انسان نے ساری زندگی ساتھ رہتے ہوئے بھی مجھے قبول نہیں کیا ،،،وہ اس عمر میں آ کر کیا ہی میرا احساس کرینگے ۔۔۔اور ویسے بھی وہ آپ سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔

آپ انکی پہلی اور آخری محبت ہیں ،،،، اور میں زبردستی آپ دونوں کے درمیان میں آ کر آپکا رشتہ خراب نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔

میں جہاں ہوں جیسی ہوں اپنی جگہ بہت خوش ہوں ۔۔۔اور باقی کی زندگی بھی ایسے ہی گزارنا چاہتی ہوں ۔۔۔

باقی آپ جہاں کہیں گی جیسے کہیں گی آپکے ساتھ کھڑی ہونے کو تیار ہوں ۔۔۔لیکن معاف کیجئے گا آپکی یہ بات نہیں مان سکتی ۔۔۔

لیکن ایسے تو زندگی نہیں چلتی ۔۔۔

انکی بات کے جواب میں وہ فکرمندی سے گویا ہوئیں ۔۔۔

آج تک چلتی آئی ہے نا باقی کی بھی ایسے ہی گزر جائے گی ۔۔۔اور میری فکر نا کریں ۔۔۔عورت ہونے کے ناطے میں کسی کی بھی بیوی نہیں بن سکی تو کیا ہوا ۔۔۔

ایک ماں تو ہوں ،،،، اور یہی چیز میرے اس ادھورے وجود کو مکمل کرتی ہے ۔۔۔

یہی میری زندگی ہے ۔۔۔اور میں بہت خوش ہوں ۔۔۔اس لیے آپ بھی پریشان ہونا چھوڑ دیں ۔۔۔میرے دل میں نا آپ کیلئے کوئی گلا ہے نا سائیں کیلئے ۔۔۔

مجھے وہی ملا ہے جو میرے رب نے میرے نصیب میں لکھا تھا ۔۔۔ہمم

مسکرا کر کہتے ان کے ہاتھوں پر دباؤ دیا تھا ۔۔۔

نہیں عظمی آپ یہاں غلط ہیں ۔۔۔

اللہ تعالٰی نے آپ کے نصیب میں یہ نہیں لکھا تھا ،،، بلکہ انہوں نے آپکے نصیب میں غنی کا ساتھ لکھا تھا ۔۔۔

ان پر آپکا حق لکھا تھا ۔۔۔جسے ادا نا کر کے انہوں نے آپکے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔۔۔آپکو تنہائی کی سزا سناتے ظلم کیا ہے ۔۔۔

اور یقین مانیں اس کیلئے وہی صرف رب کی بارگاہ میں گنہگار نہیں ہوئے بلکہ آپ کی ذات کے بھی ہوئے ہیں ۔۔۔

کیونکہ آپ نے اپنا حق طلب نا کر کے ناصرف خود پر ظلم کیا بلکہ خاموشی سے انکی ناانصافی کو برداشت کرتے انہیں مزید بڑھاوا دیا ۔۔۔

اور قیامت کے دن صرف حق تلفی کرنے والے کی ہی پکڑ نہیں ہوگی بلکہ خاموشی کے ساتھ اسے برداشت کرنے والے کی بھی ہوگی ۔۔۔

کیونکہ میرے رب کی نظر میں خاموشی سے ظلم سہنے والا بھی اتنا ہی گنہگار ہوتا ہے جتنا کرنے والا ۔۔۔

روباب کی باتوں پر عظمی نے پریشان نگاہوں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

ابھی بھی وقت ہے آپ اپنی یہ غلطی سدھار سکتیں ہیں ۔۔۔اور یہ خیال دل سے نکال دیں کہ آپ کے غنی کی زندگی میں شامل ہونے سے آپ ہم دونوں کے درمیان آ جائیں گی ۔۔۔

بالکل نہیں ۔۔۔

غنی کی زندگی میں میری جگہ الگ ہے اور آپکی الگ ۔۔۔

جتنے وہ میرے ہیں اتنے ہی آپکے بھی ۔۔۔ان پر جتنا حق میرا ہے اتنا ہی آپکا بھی حق ہے ۔۔۔

جو اس رب نے آپکو دیا ہے ۔۔۔

اس لیے تمام غلط باتوں اور خیالوں کو اپنے دل سے نکال دیں ۔۔۔

اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر زندگی کی ایک نئی شروعات کریں ۔۔۔یقین جانے آپکی زندگی سنور جائے گی ۔۔۔

یہ سب باتیں میں آپکو ایک دوست اور بڑی بہن ہونے کے ناطے سمجھا رہی ہوں ۔۔۔

جن پر عمل کرنا ہے یا نہیں فیصلہ تو آپکا ہی ہوگا ۔۔۔لیکن اگر میری بات مانتے ۔۔۔پچھلی باتوں کو دل سے نکال کر غنی کے ساتھ نئی شروعات کرینگی تو مجھ سے زیادہ خوشی کسی کو نہیں ہوگی ۔۔۔

میں جانتی ہوں غنی نے جو آپکے ساتھ کیا اسے بھولنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ۔۔۔

ایک بار میری بات پر غور ضرور کیجئے گا ۔۔۔

نرمی سے انکے گال کو تھپتھپاتے ہوئے مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں تھیں ۔۔۔

جبکہ پیچھے ان کیلئے مختلف سوچوں کے دروازے کھول گئیں ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

آپ کدھر ؟؟؟؟

روباب جو سونے کیلئے لیٹنے لگیں تھیں ۔۔۔ارمغان کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ سوال کیا ۔۔۔

کیا مطلب بیگم کدھر ۔۔۔آئی تھنک یہ میرا ہی کمرہ ہے ۔۔۔

روباب کے سوال پر انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

بالکل اس میں کوئی شک نہیں یہ آپکا ہی کمرہ ہے اور اس میں رہنے والے بھی آپ کے ہی ہیں ۔۔۔

بات کرتے کرتے وہ انکے قریب آ گئیں تھیں ۔۔۔

جس پر نرمی سے انہیں اپنے حصار میں لیتے انہوں نے مسکرا کر انکی پیشانی پر پیار کیا تھا ۔۔۔

لیکن شاید آپ بھول رہے ہیں اس کمرے کے علاوہ بھی اس گھر میں آپکا ایک اور کمرہ ہے جس میں رہنے والے وجود کو بھی آپکے ساتھ اور پیار کی ضرورت ہے ۔۔۔

روباب کی بات پر ارمغان نے مسکراتی نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

جی میں جانتا ہوں ۔۔۔

تو پھر آپ ادھر کیا کر رہے ہیں ؟؟؟

انکے کوٹ کے بٹنوں سے کھیلتے ہوئے نروٹھے پن سے سوال کیا تھا ۔۔۔

کیا مطلب کیا کر رہا ہوں ،،،، اپنی بیگم سے پیار کرنے کیلئے آیا ہوں ۔۔۔انکی ناک نرمی سے چھوتے وہ بھی انہی کے لہجے میں بولے تھے ۔۔۔

غنی۔۔”

روباب نے ناراضگی سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

جس پر وہ گہرا سانس کھینچ کر انہیں یونہی اپنے حصار میں لیتے بیڈ پر آ کر براجمان ہوئے تھے ۔۔۔

پتا نہیں روباب لاکھ کوششوں کے باوجود بھی میں اپنے اندر اتنی ہمت جمع نہیں کر پا رہا ،،،، کہ جس سے میں عظمی کا سامنا کر سکوں ۔۔۔

وہ کیا سوچیں گی میرے بارے میں ۔۔۔کہ جس شخص نے ساری زندگی انہیں قبول نہیں کیا ۔۔۔انہیں بیوی ہونے کا حق نہیں دیا ۔۔۔

اور اب اچانک سے ۔۔۔

آپ سمجھ رہی ہیں نا میں کیا کہنا چاہتا ہوں ؟؟؟؟

انکے لہجے سے بےبسی جھلک رہی تھی ۔۔۔

جس پر مسکراتے ہوئے روباب نے انکے دونوں ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔جی میں سمجھ رہی ہوں ۔۔۔

میں جانتی ہوں یہ بہت مشکل ہے ۔۔۔عظمی کے ساتھ بہت ناانصافی ہوئی ہے ۔۔۔ظاہر سی بات ہے وہ جواب تو مانگے گی ہی ۔۔۔

لیکن غنی آپکو ہمت کرنی ہوگی ۔۔۔اپنے اس رشتے کو سنوارنے کیلئے ،،،، ان کی ناراضگی بھی سہنی پڑے ۔۔۔تو ہار مت مانیے گا ۔۔۔

کیونکہ میں جانتی ہوں عورت جتنی بھی ناراض کیوں نا ہو جائے اگر مرد مظبوط ارادے اور پیار جتانے والا ہو تو اسے منا ہی لیتا ہے ۔۔۔

اور عظمی تو ہیں بھی بہت نرم دل اور معصوم اگر آپ پیار سے اپنا یقین اور اعتماد سونپے گے تو وہ پل نہیں لگائیں گی آپکا ہاتھ تھامنے میں ۔۔۔

نرمی سے انکی ہمت بندھاتے مسکرا کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔جو محبت بھری نظروں سے انکے خوبصورت چہرے کی طرف ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔

کیا ہوا ؟؟؟ کیا دیکھ رہے ہیں ؟؟؟

انہیں خاموشی سے خود کو تکتے دیکھ سوال کیا ۔۔۔

دیکھ رہا ہوں کتنی اعلی ظرف ہیں آپ ،،،، کتنی آسانی سے اپنا حق کسی اور کی جھولی میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں ۔۔۔

میں اعلی ظرف نہیں ہوں غنی ۔۔۔بس اپنے رب کی پکڑ سے ڈرتی ہوں ۔۔۔

اسکی لاٹھی بےآواز ہوتی ہے ۔۔۔

اور میں اپنا حق کسی کو نہیں دے رہی عظمی کا جو حق بنتا ہے وہی انہیں دلانے کی کوشش کر رہی ہوں ۔۔۔

تاکہ قیامت کے دن رب کی بارگاہ میں ہم گنہگار نا ٹھہرائیں جائے ۔۔۔

اسلام میں بیوی کے حقوق شوہر پر فرض کیے گئے ہیں جسے ادا نا کرنے والے بہت سخت سزاؤں کے مستحق ہونگے ۔۔۔

انکے لہجے میں صاف خوف خدا جھلک رہا تھا ۔۔۔

جس پر ارمغان بھی شرمندہ ہوئے تھے ۔۔۔

اچھا ایک بات تو بتائیں ؟؟؟

جی ۔۔۔

اسلام میں کیا صرف بیوی کے حقوق ہی شوہر پر فرض کیے گئے ہیں ۔۔۔بیوی پر شوہر کا کوئی حقوق فرض نہیں کیا گیا ۔۔۔

انکی بات سمجھتے ہوئے اینڈ میں جان بوجھ کر روباب کا دھیان بھٹکانے کیلئے تاکہ وہ کم از کم خود کو ان سب کا ذمہ دار نا سمجھیں شرارت سے سوال کیا ۔۔۔

جس پر نظریں اٹھا انہوں نے انکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔اور انکی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھتے خوبصورتی سے مسکرائیں ۔۔۔

جی کیے گئے ہیں ۔۔۔اور یہ بیوی اپنے حقوق بہت احسن طریقے سے ادا بھی کر چکی ہے ۔۔۔

اچھا جی ایسا ہی ہے کیا ؟؟؟

انکے گرد اپنا حصار تنگ کرتے شرارت سے گویا ہوئے ۔۔۔

ہاں جی ۔۔۔بالکل ایسا ہی ہے ۔۔۔

اور اب آپ بھی جائیں اور ایک اچھے شوہر کی طرح اپنا فرض نبھائیں ۔۔۔

انکا حصار توڑ کر کھڑی ہوتے انہیں بھی اٹھایا ۔۔۔جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے انہیں گود میں اٹھایا تھا ۔۔۔

غنی ۔۔۔”

روباب نے حیران نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

کچھ نہیں کر رہا بیگم ۔۔۔صرف اچھے شوہر ہونے کا فرض نبھا رہا ہوں ۔۔۔

انہیں بیڈ پر لٹاتے نرمی سے پہلے انکی پیشانی اور پھر لبوں کو چھوا ۔۔۔جس پر وہ سرخ ہوئیں ۔۔۔

پھر پیچھے ہوتے ہوئے ۔۔۔انہیں انکی رات میں لی جانے والی میڈیسن نکال کر دی ۔۔۔

جسے دیکھتے ہی روباب نے منہ بنایا تھا ۔۔۔میں اب بالکل ٹھیک ہو گئیں ہوں ۔۔۔

جی میں جانتا ہوں آپ بالکل ٹھیک ہو گئیں ہیں ۔۔۔لیکن کورس تو مکمل کرنا ہی ہوگا نا ۔۔۔

غنی مجھ سے یہ کڑوی دوائیں اور نہیں کھائی جاتیں نا۔۔۔ انکے ہاتھ میں موجود ٹیبلٹس کو دیکھتے بچوں کی طرح التجا کی ۔۔۔

سوری غنی کی جان ،،،، صحت پر نو کمپرومائز ۔۔۔دوٹوک کہتے ٹیبلٹس انکے ہونٹوں کے قریب کی ۔۔۔

جس پر مجبوری میں انہیں اپنا منہ کھولنا پڑا تھا ۔۔۔

انہیں دوائی کھلانے کے بعد ایک بار پھر جھک کر انکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔

چلیں اب آپ آرام کریں ۔۔۔

کمفرٹر ان پر درست کرتے ہوئے نرمی سے چہرہ تھپتھپایا ۔۔۔جس پر وہ مسکراتیں ہوئیں لیٹ گئیں تھیں ۔۔۔

جائیں اب آپ ۔۔۔

انہیں خود کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے پاکر وہ جانے پر زور دیتیں ہوئیں بولیں ۔۔۔

جا رہا ہوں بیگم دھکے دے کر تو مت نکالیں روم سے ۔۔۔انکی بات کے جواب میں وہ منہ بنا کر بیچارگی سے بولے ۔۔۔

میں نے کب دھکا دیا ۔۔۔

جبکہ انکی بات پر روباب کا حیرت سے منہ کھل گیا تھا ۔۔۔

ابھی بھی کوئی کسر باقی ہے ۔۔۔

انکے حیران ہونے پر غنی نے مزید تنگ کیا ۔۔۔دیکھ لیجیے گا بیگم اللہ تعالٰی آپ سے اسکا الگ سے حساب لینگے ۔۔۔

نہیں جی اللہ تعالٰی کو پتا ہے ۔۔۔میں جو بھی کر رہی ہوں اپنے شوہر کی بھلائی کیلئے کر رہی ہوں ۔۔۔وہ مجھے اس بات پر سزا نہیں دینگے ۔۔۔

اچھا ایسی بات ہے کیا ؟؟؟

انکی بات پر وہ حیران ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگے ۔۔۔

جی بالکل ایسا ہی ہے ۔۔۔اور اب آپ جا سکتے ہیں ۔۔۔اللہ تعالٰی معاف کرے کیا زمانہ آگیا بیوی شوہر کو کمرے سے نکل جانے کا بول رہی ہے ۔۔۔

غنی ۔۔۔”

انکی بات پر اب کے روباب نے دانت پیسے تھے ۔۔۔

جس پر قہقہہ لگاتے ہوئے انہوں نے انکے نرم گال کو چھوا تھا ۔۔۔

اپنا خیال رکھیے گا پھر نرمی سے چہرہ تھپتھپاتے ہوئے ،،،، ایک نظر انہیں دیکھنے کے بعد کمرے سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔

اور پیچھے وہ انکی شرارت پر مسکراتیں نفی میں سر ہلاتے ہوئے تکیہ درست کرتیں لیٹ گئیں تھیں ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

عظمی ابھی تک روباب کے لفظوں کے بارے میں سوچتے ہوئے پریشان سی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی ہوئی اپنی چوڑیاں اتار رہی تھیں ۔۔۔

ڈوپٹہ لاپرواہی سے بیڈ پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔

خوبصورت کمر سے تھوڑے نیچے تک آتے بالوں کو کھول کر کمر پر ڈالا ہوا تھا ۔۔۔شاید ذہنی تناؤ کو کم کرنے کیلئے شاور لینے کی تیاری تھی ۔۔۔

لیکن اسکے باوجود بھی دھیان کے سبھی دھاگے ارمغان شاہ سے جڑے ہوئے تھے۔۔۔ کیا تھی انکی زندگی ۔۔۔پچھلے گزر چکے سالوں میں ارمغان شاہ کی زندگی میں انکا کردار کیا رہا تھا ۔۔۔

صرف ضرورت کی حد تک ہی تو وہ دونوں ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے تھے ۔۔۔انکا خیال نہیں پڑتا تھا کہ ایک دو بار کے علاوہ انکے درمیان ازدواجی زندگی کے بارے میں کوئی بات بھی ہوئی ہو ۔۔۔وہ بھی شادی کی شروعاتی دنوں میں ۔۔۔

اور ارمغان شاہ کے جواب کے بعد کہ انہیں اس رشتے میں کوئی انٹرسٹ نہیں عظمی خود با خود ہی اپنے قدم پیچھے ہٹا چکیں تھیں ۔۔۔

اور آج اتنے سالوں بعد روباب کا یہ کہنا کہ وہ ارمغان کے ساتھ اپنا رشتہ مکمل کر لیں ۔۔۔آخر کس بنا پر ۔۔۔پہلے تو پھر بھی کچھ امید کی جا سکتی تھی لیکن اب انکی موجودگی میں ۔۔۔

عظمی کو بےساختہ ارمغان کی شام والی حرکت یاد آئی تھی ۔۔۔جس پر خود با خود انکا ہاتھ اپنے دائیں گال پر آیا تھا ۔۔۔

ارمغان کا دو بار انکا ہاتھ تھامنا ۔۔۔

وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہے تھے اب ؟؟؟؟ ان سے کیا چاہتے تھے ؟؟؟؟ کیا روباب کے کہنے پر ؟؟؟؟

ایسے بہت سے سوال تھے جنکا جواب انکے پاس نہیں تھا ۔۔۔وہ اپنی انہی لایعنی سوچوں میں گم پریشانی سے بیٹھی ہوئیں تھیں جب ارمغان دروازہ ناک کیے بنا دھیرے سے کھول کر اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔

جنکے قدموں کی چاپ سن کر انہوں نے پلٹ کر حیرت سے دروازے کی طرف دیکھا ۔۔۔

جہاں وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ کھڑے انہیں ہی گہری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

جنہیں دیکھتے ہی وہ فورا اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھیں ۔۔۔

سائیں ،،،، آپ ،،،، یہاں ؟؟؟؟

چاہنے کے باوجود بھی وہ اپنے لہجے کی لڑکھڑاہٹ اور اس میں چھپی حیرت کو نہیں چھپا پائی تھیں ۔۔۔

جسکا جواب دیئے بنا ہی انہوں نے مسکرا کر پلٹتے ہوئے دروازے کو لاک کیا۔۔

جبکہ انکی حرکت پر عظمی کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا ،،،، اور ساتھ تنہائی کا احساس ہوتے انکا دل زوروں سے دھڑکا ۔۔۔

ایسا نہیں تھا ،،،، کہ وہ پہلی بار انکے ساتھ اکیلے روم میں موجود تھیں ۔۔۔سالوں انہوں نے انکے ساتھ ایک ہی کمرے میں تنہا گزارے تھے ۔۔۔لیکن آج انکی نظروں میں جو بدلاو تھا ۔۔۔

عظمی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔ارمغان کے پلٹنے سے پہلے ہی انہوں نے تیز قدموں سے بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے ڈوپٹہ اٹھا کر خود پر اچھے سے پھیلایا ۔۔۔

جبکہ انکی حرکت پر ارمغان نے رخ موڑ کر بمشکل ابھرنے والی مسکراہٹ کو روکا ۔۔۔

پھر سنجیدہ تاثرات چہرے پر سجائے بھاری قدم لیتے انکے قریب آ کر رکے تھے ۔۔۔

تب تک عظمی بھی خود کو کمپوز کر چکیں تھیں ۔۔۔اس لیے انکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے دوبارہ سوال کیا ۔۔۔

آپکو کوئی کام تھا مجھ سے ؟؟؟؟

کیوں بنا کام کے میں آپکے روم میں نہیں آ سکتا ؟؟؟؟

انکے سوال کے بدلے سنجیدگی سے سوال کیا ۔۔۔جبکہ نظریں انکے چہرے کے تاثرات جانچنے میں مصروف تھیں ۔۔۔

نہیں ۔۔۔”

ایک حرفی جواب ۔۔۔

وجہ جان سکتا ہوں ؟؟؟؟

جی ،،،، کیونکہ ہمارے رشتے میں ایسی کوئی بےتکلفی نہیں جو آپ بنا کام کے مجھ سے مخاطب بھی ہو ،،،، یقینا یہاں تک آپکو آپکی کوئی ضرورت ہی کھینچ کر لائی ہے ۔۔۔

ارمغان شاہ کے کچھ بولنے سے ہی انہوں نے دونوں کے مابین رشتے کا ادراک کرواتے حد بندی کا اعلان کیا تھا ۔۔۔

جبکہ انکا لہجہ سادہ ہونے کے باوجود ارمغان کو تیر کی طرح چبا ۔۔۔

کہنا کیا چاہتیں ہیں آپ ؟؟؟؟

انکے جواب پر ارمغان کا لہجہ خود با خود سرد و سپاٹ ہو گیا تھا ۔۔۔

سائیں میں کچھ نہیں کہنا چاہتی ۔۔۔اگر آپکو کوئی کام ہے بتا دیں ۔۔۔میں کر دیتی ہوں ۔۔۔اگر نہیں ہے تو پھر آپ چلیں جائیں ۔۔۔کیونکہ مجھے ایک ضروری کام ہے ۔۔۔

انکے لہجے کی سختی کو محسوس کرتے وہ عاجزی سے ہی بولیں تھیں ۔۔۔

کونسا ایسا کام ہے جو آپ میری موجودگی میں نہیں کر سکتیں ؟؟؟

قدم انکی طرف بڑھاتے ہوئے وہ انکے قریب آ کر بھاری لہجے میں گویا ہوئے جس پر بےساختہ ہی عظمی نے بھی قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔

لیکن ارمغان نے انہیں بازو سے تھام کر روکتے اپنے قریب کیا تھا ۔۔۔

بولیں کونسا ایسا ضروری کام ہے جو آپ میری موجودگی میں نہیں کر سکتیں ؟؟؟

انکے چہرے کی اڑی ہوئی رنگت کو دیکھتے ضروری پر خاصا زور دیا تھا ۔۔۔

و ،،،،، وہ ،،،، شاور ،،،، لینا تھا ۔۔۔

انکی قربت پر صرف انکی رنگت ہی نہیں اڑی لہجہ بھی اٹکنے لگا ۔۔۔

ارمغان نے لب بھینچ کر مسکراہٹ کو روکا ۔۔۔

شاور اتنی رات میں ؟؟؟؟

انکا لہجہ حیرت سے بھرپور تھا ۔۔۔

جی ،،، وہ میری ،،، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔

ابھی تو کچھ ہوا بھی نہیں ابھی سے طبیعت خراب ہو گئی ؟؟؟

انکی بات کے ساتھ لہجہ بھی خاصا زومعنی تھا ۔۔۔

جس پر عظمی نے حیرت سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔

اب وہ اتنی بچی بھی نہیں تھیں کہ انکی باتوں کا مطلب نا سمجھتیں ۔۔۔

لیکن ظاہر یہی کروایا کہ انہیں بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔

جی ۔۔۔”

کچھ نہیں ،،، کیا ہوا طبیعت کو ؟؟؟

انہیں مزید اپنے قریب کرتے ہوئے اگلا سوال کیا ۔۔۔

جبکہ انکی سانسوں کی تپش سے عظمی کو اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

انکے لگائے گئے کلون کی خوشبو سانسوں میں گھلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔

جس سے انکے نقوش میں سرخیاں گھلنے لگیں ۔۔۔

سائیں ،،،،، یہ آپ ،،،، کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟

انہیں اپنے چہرے کے اتنے قریب دیکھتے وہ بہت احتیاط سے بولیں ۔۔۔ کیونکہ وہ اگر ذرا سا بھی ہلتیں تو انکے لب ارمغان کے لبوں سے ٹکراتے ،،، انکی آواز بھی سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی ۔۔۔

جسے ارمغان نے بمشکل ہی سنا ۔۔۔

کیا کر رہا ہوں میں ؟؟؟؟

انکی سانسوں کے مزید قریب ہوتے انجان بننے کی کوشش کی ۔۔۔

جبکہ ارمغان کے بولنے پر انکے لب ہلکے سے عظمی کے لبوں سے ٹکرائے ،،،، اور اس سے پہلے وہ انکی سانسوں پر قابض ہوتے عظمی نے انکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ،،،، دونوں کے درمیان فاصلہ قائم کرتے انکا حصار توڑ کر نفی میں سر ہلاتے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے ۔۔۔

اور ساتھ انکی آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو چکے تھے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *