Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 05)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

وہ جب تک حویلی پہنچا رات کے بارہ بج چکے تھے ۔۔۔ حویلی کی اندرونی بتیاں تقریبا ساری ہی بند کر دی گئی تھی ۔۔

اس نے سیدھا کمرے میں جانے کی بجائے کچن کا رخ کیا تاکہ پانی پی سکے اپنے فون کی لائٹ جلائے وہ کچن کے اندر داخل ہوا کہ بے دھیانی میں کچن سے نکلتی ابیہا کے ساتھ ٹکرا گیا ۔۔۔

جس کے ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا جو وہ ضارب کیلئے لے کر جا رہی تھی ۔۔۔ ٹکرانے کی وجہ سے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا ۔۔۔جس کے کچھ چھینٹے ابیہا کے پاؤں اور کچھ واسم کے سفید کپڑوں کو داغدار کر گئے ۔۔۔کیونکہ اس میں ہلدی ملی ہوئی تھی ۔۔۔

” وٹ دا ” سوری سوری میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ۔۔حالانکہ غلطی دونوں کی ہی تھی اور گرم دودھ گرنے سے اسے اپنے پاؤں پر بھی جلن ہو رہی تھی ۔۔۔لیکن واسم کے غصے سے ڈرتے ہوئے فورا سے پہلے معذرت کی تھی ۔۔۔

اس نے لب بھینچ کر بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا ۔۔کیونکہ وہ پہلے ہی بہت ذلیل ہو کر آیا تھا اوپر سے یہ سب دیکھتے اس کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا ۔۔۔

لیکن وہ اپنا غصہ کم از کم ابیہا پر نہیں اتارنا چاہتا تھا اس لیے بنا کچھ کہے ہی پلٹ گیا ۔۔۔آپ کو کچھ چاہیے تھا کیا ؟؟ اگر بھوک لگی ہے تو میں کھانا گرم کر دوں ۔۔۔

اس کے بنا کچھ کہے پلٹنے پر اس کا خیال کرتے ہوئے ابیہا نے اس سے کھانے کا پوچھا تھا ۔۔۔جس پر وہ صرف ایک پل کیلئے رکا پھر بنا پلٹے اور بنا کوئی جواب دیئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔

جبکہ اس کے جواب نا دینے پر ابیہا نے پیچھے سے اس پر دو حرف بھیجے تھے ۔۔۔بیا تجھے بھی بلا کیا ضرورت تھی اس کھڑوس کے منہ لگنے کی پتا نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے ۔۔

یہ بندہ بالکل بھی ہمدردی کے لائق نہیں ہے ۔۔۔وہ منہ میں بڑبڑاتے ہوئے واپس اندر چلی گئی تاکہ ضارب کیلئے دوبارہ دودھ گرم کر سکے ۔۔۔

************

صبح ناشتے کی ٹیبل پر گھر کے سبھی افراد جمع تھے ۔۔۔بڑی ماں نے اپنے ہاتھوں سے ضارب کیلئے سپیشل ناشتہ تیار کیا تھا جس کے ساتھ ضارب سے زیادہ زارون نے انصاف کیا تھا ۔۔۔

سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جب اس نے آ کر سب کو مشترکہ سلام کیا تھا اور دادا سائیں کے آگے پیار لینے کیلئے جھکا ۔۔۔

جنہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔ان سے پیار لے کر وہ اپنے بابا ارمغان شاہ سے ملتے ضارب کی طرف بڑھا اور فارمل ہو کر اسکا حال احوال پوچھا تھا ۔۔۔جس کا اس نے فارملی ہی جواب دیا تھا ۔۔۔

ان سب سے فارغ ہو کر اپنی گڑیا کے پاس آیا تھا جو اسے آتا دیکھ کر ہی اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی اور مسکراتے ہوئے اسکے گلے کا ہار بنی تھی ۔۔۔

واو لالا آپ کب آئے اور مجھے بتایا بھی نہیں وہ مسکرا کر بولتے اینڈ میں منہ بنا گئی ۔۔۔گڑیا میں رات میں آیا تھا اس وقت ٹائم زیادہ ہو گیا تھا اس لیے آپکو جگانا مناسب نہیں سمجھا واسم نے ہلکے سے مسکراتے اسے نرم لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔۔

جس پر اس نے بھی مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔۔ چڑیل اب مل لیا نا بھائی سے اب تھوڑی دور ہو جاو مجھے بھی ملنا ہے ۔۔۔کیونکہ یہ صرف تمہارے ہی نہیں میرے بھی لالا ہیں ۔۔۔ہر وقت قبضہ جمائے رکھتی ہو ان پر ۔۔۔

اسے ایک سائڈ کرتے ہوئے زارون واسم کے گلے ملتا بولا تھا جبکہ اسکے ابرش کو چڑیل بولنے پر واسم نے اسے گھوری سے نوازا تھا جس سے ڈرتے اس نے فورا کانوں کو ہاتھ لگایا تھا ۔۔جبکہ اسکے ایسا کرنے پر وہ دونوں مسکرائے تھے ۔۔۔

************

ناشتے کے بعد واسم تو فورا آفس چلا گیا ۔۔۔کیونکہ آج اسکی دو تین بہت اہم میٹنگز تھیں ساتھ اس نے کچھ انٹرویوز بھی لینے تھے ۔۔۔

ویسے تو ضارب بھی واپس جانا چاہتا تھا کیونکہ اب الیکشن بالکل قریب تھے ،،،انکی الیکشن کمپین تو مکمل ہو چکی تھی لیکن ایسے بہت سے کام تھے جس کیلئے اسکا وہاں موجود ہونا ضروری تھا ۔۔

پھر بھی ابیہا نے ضد کر کے اسے شام تک روک لیا تھا ۔۔ابرش اور زرمینے کالج چلی گئی تھی کیونکہ انکے ایگزیمز قریب تھے ۔۔۔

امتحان تو ابیہا کے بھی تھے لیکن ضارب کیلئے اس نے چھٹی کر لی تھی جس کے دیکھا دیکھی زارون نے بھی چھٹی کرنی چاہی لیکن اس کے تعلیمی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اسے بالکل بھی اجازت نہیں ملی تھی ۔۔۔

کیونکہ پچھلے دو سالوں سے وہ ایک ہی کلاس میں بار بار فیل ہو رہا تھا ۔۔جس کیلئے سب بڑوں سے اسے ڈانٹ بھی پڑتی تھی اور اس کیلئے سپیشل ٹیوٹر کا انتظام بھی کیا گیا تھا ۔۔۔

لیکن وہ ایسی ڈھیٹ ہڈی تھا کہ پاس ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔اب تو بابا سائیں ( ارمغان شاہ) نے اسے دھمکی بھی لگائی تھی کہ اگر وہ اس بار بھی پاس نہیں ہوا تو وہ اسکی پڑھائی چھڑوا کر موسی شاہ کی نگرانی میں اس سے کھیتوں میں کام کروائیں گے ۔۔۔

جسے سنتے اس نے کانوں کو ہاتھ لگائے تھے اور وعدہ کیا تھا وہ اس بار ضرور پاس ہوگا ۔۔۔بس وہ اس سے کھیتوں میں کام کروانے کی بات نا کریں جس پر انہوں نے اسکے رزلٹ کے بعد نظرثانی کا بولا تھا ۔۔۔

اس نے مدد طلب نظروں سے دادا سائیں اور موسی شاہ کی طرف دیکھا جنہوں نے بھی صاف اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے کہ وہ اس معاملے میں اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔۔ جبکہ اس کی پتلی ہوئی حالت پر باقی گھر کے افراد نے بمشکل اپنے قہقہے روکے تھے ۔۔۔

وہ منہ بناتا یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوا تھا لیکن جاتے ہوئے ضارب اور ابیہا کو شکایتی نظروں سے دیکھنا نہیں بولا،،، کیونکہ ان دونوں نے ایک بار بھی اسکی حمایت نہیں کی تھی کیا ہو جاتا اگر وہ ایک دن یونی نا جاتا تو ۔۔۔

***********

انہیں کالج سے آتے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی ۔۔۔کیونکہ ایگزیمز کی وجہ سے آج کل ایکسٹرا کلاسز ہو رہی تھیں ۔۔۔ابرش تو آتے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی آرام کرنے کیونکہ وہ بہت زیادہ تھک چکی تھی ۔۔۔

جبکہ زر نے کچن کا رخ کیا تھا کیونکہ اسے بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی اس نے کالج یونیفارم چینج کرنے کا تکلف بھی نہیں کیا ،،، حالانکہ انہوں نے لنچ ٹائم میں کینٹین سے کچھ ہلکا پھلکا لے کر کھا لیا تھا ۔۔

لیکن زر بھوک کی بہت کچی تھی اس لیے ہمہ وقت کچھ نا کچھ کھاتی رہتی تھی ۔۔۔اب بھی ہر کام کو پس و پشت ڈالتے ہوئے اس نے اپنی بھوک مٹانے کا سوچا تھا ۔۔۔

جبکہ زارون اسکی واپسی کا سنتے ہوئے اس کے کمرے میں گیا تھا اسے کچھ ضروری کام تھا اس سے لیکن وہ وہاں ہوتی تو اسے ملتی ۔۔۔اس کے بعد وہ اسے پوری حویلی میں ڈھونڈ چکا تھا اور اسے وہ ملی بھی تو کہاں کچن میں ،،،، وہ کیسے بھول گیا کہ یہ لڑکی کھانے کی کتنی بڑی شوقین ہے ۔۔۔

اس وقت بھی وہ بریانی کے ساتھ انصاف کر رہی تھی ۔۔۔جو دوپہر کے کھانے میں ابیہا نے سپیشلی ضارب کیلئے اپنے ہاتھوں سے تیار کی تھی ۔۔۔ساتھ ہی ٹیبل پر ایک پلیٹ میں کباب اور کولڈ ڈرنک کا گلاس رکھا ہوا تھا ۔۔۔

زارون کی رگ ظرافت پھڑکی وہ چہرے پر شرارتی مسکراہٹ لیے اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔

اس نے پاس جا کر ہلکے سے ٹیبل بجایا ۔۔زر نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور اسے اگنور کرتے ہوئے پھر سے کھانے میں مصروف ہو گئی ۔۔۔وہ اپنی اس بےعزتی پر صبر کے گھونٹ ہی بھر کر رہ گیا ۔۔۔

یار بندہ پوچھ ہی لیتا ہے ہو سکتا ہے تمہاری طرح کسی اور کو بھی بھوک لگی ہو ۔۔۔ وہ دوستانہ انداز اپناتے اس کے پاس بیٹھتے سامنے پڑے سپونز میں سے ایک چمچ اٹھاتے بےتکلفی سے اس کی پلیٹ سے ہی کھانا شروع کر چکا تھا ۔۔۔

اگر اتنی ہی بھوک لگی ہے تو وہ رہا سامنے فریج جس میں ڈھیر سارا کھانا پڑا ہے گرم کر کے کھا لیں نہیں تو گھر میں اتنے سارے ملازم ہیں کسی سے بھی کہہ دیں وہ آپکو کھانا گرم کر دے گے ،،، اپنی پلیٹ اسکی پہنچ سے دور کرتے ہوئے اسے ٹکا سا جواب دیا تھا ۔۔۔

اور اگر میں کہوں کے میں تمہارے ساتھ بیٹھ کر تمہارے ہاتھ کا بنا کھانا کھانا چاہتا ہوں تو ،،، وہ ذومعنی انداز اپناتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولا ۔۔۔

اسکی بات زر کے سر پر سے گزر گئی ۔۔۔مطلب اس نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔مطلب کہ صرف کھانے پر ہی زور رکھا ہوا ہے ۔۔کچھ کھانا بنانا بھی سیکھ لو ،،، کل کو اگلے گھر بھی جانا ہے ۔۔۔

کھا کھا کر اتنی موٹی ہو گئی ہو اوپر سے کام کاج بھی کچھ نہیں آتا ۔۔۔کون بیاہ کر کے لے کر جائے گا ایسی پھوہڑ اور موٹی لڑکی کو ۔۔۔وہ بالکل کسی سیانی بوڑھی اماں کی طرح بولا تھا ۔۔۔

اسکی بات پر زرمینے کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔۔اس نے ایک نظر اپنے متناسب سراپے کی طرف دیکھا آخر وہ کہاں سے موٹی تھی ،،، ہاں یہ سچ تھا کہ اسے کھانا بنانا نہیں آتا تھا ۔۔لیکن یہ کوئی اتنی بھی بڑی بات نہیں تھی وہ سیکھ لیتی ۔۔

جبکہ اس کو اپنا جائزہ لیتا دیکھ زارون نے اپنا نچلہ لب دانتوں تلے دبایا تھا ،،، جب اس نے اسکی طرف دیکھا اور اسے مسکراہٹ دباتے دیکھ اس کے تلووں پر لگی اور سر پر بجی ۔۔۔مطلب وہ اسے پاگل بنا رہا تھا ۔۔۔

اچھا اور آپکا اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔چلیں مجھے تو پھر بھی کوئی نا کوئی لے ہی جائے گا ،،،لیکن جیسی آپکی حرکتیں ہیں نا کسی میراثی نے بھی آپکو اپنی بیٹی نہیں دینی ۔۔۔اپنی بات مکمل کرتی ایک ہاتھ میں بریانی کی پلیٹ اور دوسرے میں کولڈ ڈرنک اٹھاتی یہ جا وہ جا ۔۔۔

وہ اسے کس بات کا طعنہ دے کر گئی تھی وہ اچھے سے سمجھ چکا تھا ،،، پیچھے اسکے گلے کو اپنے ہاتھوں سے دبانے کی خواہش کو شدت سے اپنے دل میں دباتے کچھ سوچ کر پر اسرار سا مسکرایا تھا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *