Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 98)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 98)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
یونی سے چھٹی پر وہ اپنی فرینڈز کے ساتھ ہنستی مسکراتی ہوئی ،،، گیٹ تک آئی تھی ۔۔۔
سب سے ملنے اور خدا حافظ بولنے کے بعد اس نے نظریں اپنی گاڑی کی طرف اٹھائی تھیں ۔۔۔
جو ایک بار اٹھانے کے بعد وہ جھکانا بھول گئی ۔۔۔
جہاں اپنی مسہور کر دینے والی پرسنیلٹی کے ساتھ شہیر خان گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس آنکھوں پر بلیک ہی سن گلاسز لگائے ۔۔۔تاشے کی دھڑکنوں کو بری طرح منتشر کر گیا ۔۔۔
اور وہ مہبوت نگاہوں سے اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھتے ہوئے آس پاس کا ہوش بھولا گئی ۔۔۔
جس نے عادت کے مطابق اب بھی اپنا چہرہ تھوڑا جھکا رکھا تھا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف خان جو ضارب شاہ کی باتوں کو یاد کرتے ہوئے گہری سوچوں میں گم تھا ۔۔۔
اپنے چہرے پر کسی کی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کرتے چہرہ اٹھا کر سامنے دیکھنے لگا ۔۔۔
جہاں تاشے ٹکٹکی باندھے اسے ہی محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
سورج کی کرنوں میں چمکتی اسکی سنہری رنگت شہیر خان کی نظریں بےاختیار ہوتیں اسکے چہرے کے معصوم نقوش میں الجھنے لگیں ۔۔جنہیں محسوس کرتے اسکا چہرہ خود با خود ہی سرخ ہونے لگا تھا ۔۔۔اور وہ بمشکل ہی اپنی نظروں کا زاویہ بدلتی لبوں پر آئی شرمیلی مسکراہٹ کو چھپانے کیلئے چہرہ جھکا گئی ۔۔۔
اسکے چہرے پر پھیلے سنہرے رنگوں کو دیکھ کر جہاں وہ مہبوت ہوا تھا وہیں مسکرا کر سر جھکانے پر کچھ ہوش میں بھی آیا ۔۔۔
یکدم ہی اسکے کانوں میں ضارب شاہ الفاظ گونجے تھے ۔۔۔
ہم نے تاشے کیلئے لڑکا پسند کر لیا ہے ۔۔۔
گھر کی عورتوں کے معاملے میں ہم کسی بھی نئے بندے پر زیادہ اعتبار نہیں کرتے ۔۔۔
اور وہ کیا کر رہا تھا خود پر کیے گئے ضارب شاہ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے انکے گھر کی عزت پر نگاہ ۔۔۔
نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
وہ اپنے سائیں کے اعتبار کو کبھی نہیں توڑ سکتا تھا ۔۔۔چاہے اس کو بچانے کیلئے خود ہی کیوں نا مکمل ٹوٹ جاتا ۔۔۔
اس نے فورا نظروں کا زاویہ بدلتے بےاختیار ہوئے دل کو سختی سے ڈپٹتے ہوئے ،،، خاموشی سے پیچھے ہوتے تاشے کیلئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا ۔۔۔
جبکہ اسکے پل میں بدلتے تاثرات کو دیکھتے ہوئے تاشے کو ایک بار پھر افسوس نے گھیرہ تھا ۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے دھیمے قدم لیتی اسکے قریب آئی تھی ۔۔۔
جو سپاٹ چہرے کے ساتھ اس سے مکمل بیگانگی برتتے ہوئے اس کیلئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر کھڑا تھا ۔۔۔
جب تاشے بنا کچھ کہے ہی وہ دروازہ بند کرتے اسکے تھوڑا اور قریب ہوئی تھی ۔۔۔
جس سے شہیر خان کے مخصوص کلون کی خوشبو اسکی سانسوں میں سمائی تھی ۔۔۔
تاشے کے لب خود با خود مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت پر شہیر خان نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
آپ نے گاڑی کا دروازہ کیوں بند ۔۔۔۔
کیونکہ میں آپ کے ساتھ پیچھے نہیں بلکہ آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا پسند کروں گی ۔۔۔
خان کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ مسکرا کر بولتی ۔۔۔دروازہ کھول کر اگلی سیٹ پر براجمان بھی ہو گئی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ حیرت زدہ سا ابھی بھی اپنی جگہ پر سٹل کھڑا تھا ۔۔۔
کیا ہوا شہیر آپ ایسے کیوں کھڑے ہیں ؟؟؟
تاشے نے اسے ہی جگہ پر سٹل جمے دیکھ نرمی سے سوال کیا ۔۔۔
وہ تاشے بی بی ۔۔
ایک منٹ تاشے بی بی نہیں صرف تاشے ،،، میں نے آپکو پہلے بھی بولا تھا ۔۔۔
تاشے نے اسے ایک بار پھر درمیان میں ٹوکتے اسکی تصیح کی تھی ۔۔۔
اور میں نے بھی بدلے میں آپ سے کچھ کہا تھا ۔۔۔آپ میرے سردار سائیں کے خاندان سے ہیں میرے لیے نہایت قابل احترام ۔۔آپکو نام سے بلا کر گستاخی کا مستحق نہیں ہو سکتا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔”
پلیز تاشے بی بی ۔۔میں بحث نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔
اور آپ پلیز آگے سے اتر کر پیچھے آ جائیں ۔۔۔یوں آپکا میرے برابر بیٹھنا مناسب نہیں لگتا ۔۔
تاشے نے کچھ کہنا جب خان نے اسکی بات درمیان میں کاٹتے اسے پیچھے بیٹھنے کا بولا تھا ۔۔۔
میں پہلی بار تو نہیں بیٹھ رہی آپکے برابر ۔۔۔تاشے نے اسے پچھلی بات یاد دلانی چاہی جب اس نے زبردستی اپنے ساتھ بیٹھایا تھا ۔۔۔
جس پر پہلے وہ چونکا اسے یکدم ہی تاشے کے ساتھ اپنی وہ ملاقات یاد آئی جب اس نے تاشے کی ہیلپ کی تھی ۔۔۔
تب میں اور اب میں بہت فرق ہے ۔۔۔
کیوں کیا فرق ہے تب میں اور اب میں ۔۔۔میں تو ابھی بھی وہی تاشے ہوں ۔۔۔پتا نہیں آپ کیوں یوں میرے ساتھ ایسا بیہیو ۔۔۔
تاشے بی بی پلیز ۔۔۔
شہیر خان نے اسکی باتوں سے عاجز آ کر التجا کی تھی ۔۔۔کیونکہ وہ پہلے ہی دل و دماغ کی جنگ میں جھنجھلاہٹ کا شکار تھا ۔۔۔
مزید بحث میں نہیں پڑنا چاہتا تھا ۔۔۔
کیا مناسب لگتا ہے اور کیا نہیں میں اچھے سے جانتی ہوں ۔۔۔ویسے بھی آپ کوئی ڈرائیور نہیں ہے ۔۔جو میں پیچھے بیٹھ جاؤں ۔۔۔
تاشے نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے اپنی ہی کہی ۔۔۔
لیکن پھر بھی ۔۔۔
شہیر خان آپ آ رہے ہیں ۔۔۔یا پھر میں کوئی اور سواری دیکھ لوں ۔۔۔
اسے بات مانتے نا دیکھتے اس بار ذرا سختی سے بولی ۔۔۔
جس پر شہیر نے اپنے لب بھینچے تھے ۔۔۔
اور پھر خاموشی سے دوسری طرف سے آ کر چپ چاپ گاڑی سٹارٹ کی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
شہیر مجھے بھوک لگی ہے ؟؟؟؟
راستہ یونہی خاموشی سے کٹ رہا تھا ۔۔۔جب تاشے نے اسے ایک بار پھر مخاطب کیا تھا ۔۔۔
کیونکہ خان کی یہ مسلسل خاموشی اسے بالکل ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
جس پر کچھ چونک کر خان نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
جی بس تھوڑی دیر ہم حویلی پہنچ جائیں گے ۔۔۔
شہیر خان میں کوئی بچی نہیں ہوں جسے آپ بہلا رہے ہیں ۔۔۔یونی سے حویلی کا سفر تقریبا دو گھنٹوں پر محیط ہے ۔۔۔
جبکہ ابھی تو صرف پندرہ منٹ ہوئے ہیں ۔۔۔
میں اتنی دیر انتظار نہیں کر سکتی ۔۔۔میں نے تقریبا صبح سے کچھ نہیں کھایا اور اب مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔جسکی وجہ سے چکر بھی آ رہے ہیں ۔۔۔
اس نے معصوم چہرہ بناتے طبیعت خرابی کا بہانہ بنایا ۔۔۔
ہاں یہ سچ تھا کہ اس نے ناشتہ صبح سب کے ساتھ کا ہی کیا ہوا تھا ۔۔لیکن یہاں بات صرف شہیر خان کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے کی تھی ۔۔۔
جسکا موقع اسے بڑی دیر بعد ملا تھا ۔۔۔وہ اسکے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
اپنے دل کا حال بیان کرنا چاہتی تھی ۔۔۔کہ وہ اسکے بارے میں کیا سوچتی ہے ۔۔۔اسکا یوں خود کو نظر انداز کرنا اسے کتنا برا لگتا ہے ۔۔۔
لیکن اس سے پہلے اس بیگانگی کی دیوار کو گرانا ضروری تھا جسے شہیر خان نے بلاوجہ ہی دونوں کے درمیان حائل کر دیا تھا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف وہ اسکی طبیعت خرابی کا سنتے ہی پریشان ہو چکا تھا ۔۔۔
آپ ٹھیک تو ہیں نا ؟؟؟ اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلیں ۔۔۔
ساری باتوں کو پس و پشت ڈالتے فکرمندی سے گویا ہوا ۔۔۔
جس پر کچھ ہڑبڑائی تھی ۔۔۔
نہیں ،،، نہیں بس بھوک ہی لگی ہے ۔۔۔کچھ کھا لوں گی تو ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔
آر یو شیور ۔۔۔”
جی ،،، جی ۔۔۔
اسکے دوبارہ پوچھنے پر تاشے نے فورا سر ہلایا تھا ۔۔۔
تبھی شہیر خان نے گاڑی ایک بیکری کے سامنے روکی تھی ۔۔۔اور اسے ویٹ کرنے کا بولتے گاڑی سے اتر کر تیز قدموں سے اسکے اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔
جبکہ اسکی چوڑی پشت کو دیکھتے اور اسے خود کیلئے پریشان ہوتے دیکھ تاشے کے لبوں پر ایک حسین مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔
چند لمحوں بعد ہی وہ اسے باہر آتے دکھائی دیا تھا ۔۔۔
جسے دیکھتے ہی وہ فورا سیدھی ہوئی تھی ۔۔۔شہیر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی مختلف شاپر اسکے ہاتھ میں تھمائے تھے ۔۔۔جن میں مختلف کھانے کی چیزیں موجود تھیں ۔۔۔
چپس ،، برگر ،، پیٹیز ،، کپ کیکس کولڈ ڈرنک اور ساتھ میں چاکلیٹس بھی تھیں ۔۔۔جبکہ اتنی ساری چیزوں کو دیکھتے تاشے نے اپنے سرمئی نینا بڑے کرتے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آپکو کھانے میں کیا پسند آئے گا ۔۔۔بس اسی لیے ۔۔۔
نرمی سے کہتے ہوئے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی تھی ۔۔۔
اسکے جواب پر مسکراتے ہوئے تاشے نے برگر کی ایک بائٹ لی تھی ۔۔۔جبکہ باقی سبھی چیزیں وہ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر رکھ چکی تھی ۔۔۔
آپ نہیں لینگے ؟؟؟
خان کو خاموشی سے ڈرائیو کرتے دیکھ اس نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔
جسکا اس نے بنا اسکی طرف دیکھے ۔۔۔ایک حرفی جواب دیا تھا۔۔۔
لیکن مجھے اکیلے کھانے کی عادت نہیں ۔۔اور ایسے اچھا بھی تو نہیں لگتا ۔۔۔
یہ لیں ۔۔۔
تاشے نے ہاتھ میں پکڑا ہوا برگر جس کی اس نے ایک بائٹ لی ہوئی تھی دوسری طرف سے اسکے لبوں کے قریب کیا تھا ۔۔۔
خان نے خاموش نظروں سے پہلے برگر اور پھر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
پلیز ۔۔۔
اسکے چہرے پر نظر آتی معصومیت کو دیکھتے نا چاہتے ہوئے بھی اس نے بائٹ لے لی ۔۔۔
جس سے ایک حسین مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔
اور لے لیں ۔۔۔
نہیں بس آپ کھائیں ۔۔۔
نرمی سے کہتے توجہ ڈرائیونگ پر مبذول کی ،،، ورنہ پہلو میں بیٹھے وجود کی مہکتی خوشبو اور معصوم باتوں سے سینے میں دھڑکتا دل بےقابو ہوا جا رہا تھا ،،، بلیک گلاسز کے پیچھے چھپے شربتی نین محبوب کے دید کے مزید پیاسے ۔۔۔
تاشے نے مسکراتے ہوئے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک نظر برگر کی طرف یہاں سے ابھی شہیر نے بائٹ لی تھی ۔۔۔
پھر بہت محبت سے وہاں ہونٹ رکھتے بائٹ لی ۔۔۔ جو پہلو میں لاپرواہ بنے بیٹھے شہیر خان کی نظروں سے مخفی نا رہ سکی ۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت پر شہیر خان کا دل ایک بار زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔اس نے سٹیرنگ پر پکڑ مظبوط کرتے کار کی سپیڈ اور تیز تھی ۔۔۔
جس پر وہ کچھ سہمی ۔۔۔
شہیر ۔۔۔”
سیٹ بیلٹ باندھ لیں ۔۔۔
یکدم ہی اسکا لہجہ سپاٹ سا ہو گیا ۔۔۔جسے تاشے نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔
جبکہ اسکے چہرے کی سختی کو دیکھتے اسکی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اسے دوبارہ مخاطب کرے ۔۔۔
باقی کا راستہ خاموشی سے ہی کٹا تھا ۔۔۔
گاڑی آ کر سیدھا پورچ میں رکی تھی ۔۔۔اور اس سے پہلے وہ گاڑی سے باہر نکلتا تاشے اسکے ہاتھ پر اپنا نازک ہاتھ رکھتے روکا ۔۔۔
شہیر نے اسکے لمس پر اپنے ہاتھ پر رکھے اسکے کو دیکھا ۔۔
تاشے کو اپنی کا احساس ہوا ۔۔اس نے فورا اپنا ہاتھ پیچھے کیا ۔۔۔وہ ،،، میں وہ کچھ کہتی کہتی رک کر اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔
شہیر نے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
وہ ،،، وہ میں آپ سے کچھ کہنا ،،،آئی مین مجھے آپ سے ،،، کچھ ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔
تاشے کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ شہیر خان سے اپنے دل کی بات کیسے کرے ۔۔۔
لیکن وہ یہ ہاتھ آیا موقع گنوانا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔البتہ اپنی محبت کا اظہار کرتے اسکا چہرہ سرخ جب آنکھیں شرم سے جھک چکی تھیں ۔۔۔
جی ۔۔۔”
تاشے کو خاموش ہوتے دیکھ خان نے سوالیہ اسکی طرف دیکھا ۔۔۔
میں کہنا چاہ رہی تھی کہ ،،،
کہ ،،،،
کہ میں آپ سے محب ،،،، پلیز تاشے بی بی ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتی وہ غصے سے اسے ٹوک گیا تھا ۔۔۔اور فورا گاڑی سے نکلتے ۔۔۔
اسکی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔۔
لیکن پہلے آپ میری بات تو سن لیں ۔۔۔گاڑی سے باہر نکلتے وہ دوبارہ بولی تھی ۔۔۔جب شہیر نے ہاتھ سے اشارے سے اسے خاموش کروایا ۔۔۔
آپ سے درخواست ہے کہ میرے ضبط کو اور نا آزمائیں ۔۔۔گاڑی کا دروازہ زور سے بند کرتے وہ دبے دبے غصے سے بولا ۔۔۔
جس پر وہ ڈر کر اچھلی تھی ۔۔۔
اچھی لڑکیوں کو یہ سب حرکتیں زیب نہیں دیتیں ۔۔۔اس لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا سیکھیں ۔۔۔
درشتگی سے کہتے ہوئے وہ بنا اسکی طرف دیکھے دوبارہ گاڑی میں بیٹھتا حویلی سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
پیچھے وہ اسکے لفظوں کے وار میں کھوئی خود کو شرمندگی کے اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگی ۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ کر بہنا شروع ہو گئے تھے ۔۔۔وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر لبوں سے نکلنے والی آواز کو دباتی ۔۔نفی میں سر ہلاتے اندر کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
السلام وعلیکم ۔۔”
حویلی میں سب لوگ اس وقت لاؤنج میں بیٹھے شام کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔۔جب زارون اور زرمینے نے اندر داخل ہوتے بلند آواز میں سب کو سلام کیا تھا ۔۔۔
جہاں ان دونوں کو اتنے دنوں بعد اپنے سامنے دونوں کو ایک ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ کے گھر بڑے آسودگی سے مسکرائے تھے ۔۔۔
وہیں اتنے دنوں بعد اپنی جان سے پیاری دوست اور لالا کو دیکھ کر ابرش ابیہا خوشی سے چیخ اٹھیں تھیں ،،، اور بھاگ کر زرمینے کو اپنے گلے سے لگایا ۔۔۔
جس پر اس نے بھی مسکراتے ہوئے انہیں اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔
جبکہ انکی حرکت پر تمام گھر والوں کی جان ہتھیلی پر آ گئی تھی۔۔۔لڑکیوں احتیاط سے ۔۔۔
اماں سائیں کی کڑک آواز لاؤنج میں گونجی تھی ۔۔۔
جسے سن کر وہ تینوں ہوش میں آئی تھیں ۔۔۔اور اپنی لاپرواہی کا احساس ہوتے زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔۔
سوری ۔۔۔
بےحد معصوم انداز میں بولتے ابرش ابیہا نے انکی طرف دیکھا ۔۔۔
کتنی دفعہ ہم نے بتایا ہے کہ احتیاط سے چلا کرو ۔۔۔ایسی حالت میں زیادہ اچھل کود آپ لوگوں کیلئے ٹھیک نہیں لیکن آپ لوگ ہو کہ سنتی ہی نہیں ۔۔۔
انکی معصومیت سے امپریس ہوئے بغیر وہ اب بھی برہمی سے ہی گویا ہوئیں تھیں ۔۔۔
کیونکہ وہ ایک بار زرمینے کے مسکیرج کی صورت جو نقصان اٹھا چکیں اس چیز نے انہیں مزید محتاط کر دیا تھا ۔۔۔
اور وقتا فوقتا ابرش ابیہا کو بھی تیز چلنے یا بھاگنے سے منع کرتی رہتی تھیں ۔۔۔
اچھا سوری نا دادو دوبارہ نہیں ہوگا ۔۔۔
انہوں معصوم شکل بناتے معافی تھی ۔۔۔جس پر وہ مانی تھیں یا نہیں البتہ ہنکارا ضرور بھر دیا تھا ۔۔۔
جبکہ ضارب نے ابرش کی معصوم شکل کی طرف نفی میں سر ہلایا کہ یہ کبھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ سکتی ۔۔۔
البتہ اسکے برعکس واسم نے ابیہا کو صرف سپاٹ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
اچھا چڑیلوں صرف اپنی دوست سے ہی ملنا تھا کیا ۔۔۔بھائی سے نہیں ۔۔۔میں بھی تو اسکے ساتھ اتنے دنوں بعد ہی گھر واپس آیا ہوں ۔۔۔
زارون نے ماحول میں پھیلے تناو کو کم کرنے کیلئے ہلکے پھلکے لہجے میں شکوہ کیا ۔۔۔
جس پر ان دونوں نے ہی اسے زبان چڑھائی تھی ۔۔۔
بڑی کوئی بہادری کا کام کر کے آئے ہو ۔۔۔جو تم سے بھی ملیں ۔۔۔
ویسے بھی ہم لوگ آپ سے ناراض ہیں ۔۔۔آپ نے ہماری دوست کو اتنا رلایا اور بعد سب کو بتائے بنا کڈنیپ کر کے لے گئے ۔۔۔
ابیہا کے بعد ابرش نے بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے صاف اس سے ملنے انکار کیا تھا ۔۔۔
ارے کڈنیپ کر کے لے کر گیا تھا ۔۔۔لیکن اسکے فوائد بھی تو چیک کرو ۔۔۔زارون نے زرمینے کے لبوں پر سجی مسکراہٹ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
جس پر دونوں نے ہی مسکراتے ہوئے اسے سلیوٹ کیا تھا ۔۔۔انکی حرکت پر یہاں مسکراتے ہوئے زارون نے انہیں سینے سے لگایا وہی زرمینے سرخ پڑتے شرمائی تھی ۔۔۔
ان دونوں سے فارغ ہو کر وہ باری باری سب سے ملے تھے ۔۔۔
نجمہ بیگم تو اتنے عرصے بعد اپنی بیٹی کو یوں خوش اور مطمئن دیکھ رب کا شکر ادا کرتے نہیں تھک رہی تھیں ۔۔۔
جب زرمینے ضارب شاہ کے قریب آ رکی تھی ۔۔۔اور وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا مسکرایا ۔۔۔
خوش ہے ہماری گڑیا ۔۔۔
اسے اپنے ساتھ لگاتے بہت محبت سے سوال کیا ۔۔۔
جس پر اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔آپ کیسے ہیں ؟؟؟ ہم بھی الحمداللہ بالکل ٹھیک ۔۔۔
اسکے سر پر ہاتھ رکھتے نرمی سے جواب دیا تھا ۔۔۔
زرمینے کے پیچھے ہوتے ہی زارون ضارب سے ملنے کیلئے آگے بڑھا تھا ۔۔۔جب اس نے ہاتھ کے اشارے سے گلے لگنے سے روکا ۔۔۔
لالا ۔۔۔”
زارون نے پریشان نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔یار کیا ہوا ؟؟؟
میں بتاتا ہوں تمہیں کیا ہوا ؟؟؟
واسم نے اچانک سے اٹھتے بھاری ہاتھ کا مکا اسکے منہ پر مارا ۔۔۔جس سے وہاں موجود لڑکیوں کی چیخیں گونج اٹھی تھیں ۔۔۔
جبکہ باقی گھر کے بڑوں سمیت ضارب شاہ سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ارے لالا یار ۔۔۔”
میرے اس معصوم ہینڈسم چہرے کا کیا قصور ہے ۔۔۔کیونکہ اسکا نقشہ بگاڑنے پر تلے ہیں ؟؟؟
واسم کو رکتے نا دیکھ دونوں ہاتھوں سے تھام کر اپنے شکنجے میں جکڑتا مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔
چھوڑو مجھے ذلیل انسان ابھی بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔
یہ ایک سپاہی کی پکڑ ہے ۔۔۔جس سے انسان اسکی مرضی کے بنا نہیں نکل سکتا ۔۔۔اور میرا ابھی مزید مار کھانے کا کوئی موڈ نہیں ۔۔۔
واسم کو شکنجے سے نکلنے کی جدو جہد کرتے دیکھ وہ اپنی پکڑ مزید سخت کرتے شرارتی لہجے میں بولا ۔۔۔
جیسی تمہاری کرتوتے ہیں ۔۔۔تمہیں تو کوئی چپڑاسی نا رکھے پتا نہیں آرمی والوں نے کیسے سلیکٹ کر لیا ۔۔۔
اسکی بات پر طنزیہ بولتے ہوئے ۔۔۔ساتھ ہی اپنی ٹانگ کا وار اسکے گھٹنے پر کیا ۔۔۔جس پر وہ تڑپ کر تھوڑا سا جھکا ،،،، جسکے بعد لمحہ لگا تھا واسم شاہ کو اسکی قید سے آزاد ہونے میں ۔۔۔
بیٹا توں جتنا مرضی بڑا افسر بن جائے میرے سامنے بچہ ہی رہے گا ۔۔۔
اسکی گدی پر دو ہاتھ جڑتے وہ جتاتے بولا ۔۔۔
زارون شاہ نے اسکی بات منہ بنایا ۔۔۔اور ساتھ اپنی گردن سہلانے لگا ۔۔۔
جبکہ اسکی درگت بنتے دیکھ ابرش ابیہا سمیت جو پہلے اس اچانک رونما ہونے والی افتاد پر پریشان کھڑی تھی اب قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں ۔۔۔
جس پر زارون شاہ نے ان تینوں کو ہی گھورا تھا ۔۔۔جسکا اثر لیے بنا انہوں نے مزید دانت نکالے ۔۔۔
لالا یار ۔۔۔
زارون نے دوہائی دی ۔۔۔جس پر واسم بھی نرمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔اور آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔
اس بار تو میں نے تمہاری کم دھلائی کی ہے اگر تم نے آئندہ کوئی ایسی ویسی حرکت انجام دی ۔۔۔یا پھر تمہاری وجہ سے زر کی آنکھوں میں آنسو آئے تو مجھ سے برا کوئی نا ہوگا ۔۔۔
اسے پیار کرتے ہوئے ساتھ وارننگ بھی دی تھی ۔۔
جسے اس نے سر جھکا کر قبول کیا ۔۔۔
البتہ اسکی بات پر زرمینے نے چونک کر واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔اور ساتھ ہی فورا آنکھوں میں آنسو بھی اتر آئے تھے ۔۔۔
جنہیں وہ پلک جھپک کر چھپانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔جو اسکی زیرک نگاہوں سے مخفی نا رہ سکے ۔۔۔
ادھر آو میرے پاس ۔۔۔اسے اشارے اپنے پاس بلاتے اپنے ازلی سپاٹ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
جس نے زرمینے کی حیرت میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔
تم سے ہی کہہ رہا ہوں ۔۔۔
اسے اپنی جگہ پر سٹل جما دیکھ کر وہ اس بار تھوڑا رعب سے بولا ۔۔۔
جی ۔۔۔
جس پر وہ فورا اسکے حکم کی تکمیل کرتی دھیمے قدموں سے اسکے قریب آ کر رکی تھی ۔۔۔
آئندہ یہ تم سے کوئی بھی بدتمیزی کرے ۔۔۔یا کوئی تکلیف پہنچائے تو سب سے پہلے تم مجھے بتاؤ گی ۔۔۔باقی میں خود ہی اسے دیکھ لوں گا ٹھیک ہے ۔۔۔نرمی سے کہتے تصدیق کرنی چاہی ۔۔۔
جبکہ اسکو خود سے اتنے پیار سے بات کرتے دیکھ وہ ابھی تک حیران نظروں سے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
گڑیا میں کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔ساتھ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔
ہوش میں آتے وہ نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر سر ہلا گئی ۔۔۔
خوش رہو ۔۔۔
اسکے سر پر ہاتھ رکھتے بڑے بھائی کا مان بخشا ،،، جس پر بےساختہ ہی زرمینے کی آنکھوں سے آنسو چھلکے تھے ۔۔۔جسے دیکھتے واسم نے نرمی سے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔
جبکہ اس گلیشیر کو پگلتے دیکھ تمام گھر والے آسودگی سے مسکرائے تھے ۔۔۔
ابیہا نے چاہت بھری نظروں سے اپنے ڈریگن کو دیکھا جس نے پتا نہیں کیوں اس سے ناراض ہو کر بات چیت بند کی ہوئی تھی ۔۔۔
کیا کر رہے ہیں لالا یہ میڈم تو پہلے ہی میرے ہاتھ نہیں آتی ۔۔۔اب آپکا سپورٹ پاتے تو اور شیر ہو جائے گی ۔۔۔
اپنی زندگی کو روتے دیکھ زارون سے برداشت نہیں ہوا تھا چاہے وہ آنسو جس بھی وجہ سے آئے تھے ۔۔۔اس لیے اسکا دھیان بھٹکانے کیلئے بیچارگی سے بولا ۔۔۔
جس پر واسم سمیت زرمینے نے بھی پہلے اسے گھورا لیکن پھر اسکی رونی صورت دیکھتے دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے تھے ۔۔۔
ضارب لالا دیکھ لیں آپ کے ہوتے ہوئے آپکے بھائی کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔۔۔
ان دونوں کو ہنستے دیکھ زارون نے ضارب کو بھی درمیان میں گھسیٹا۔۔۔
جی نہیں وہ آپکا ساتھ نہیں دینگے ۔۔۔کیونکہ وہ بھی صرف میرے ہی لالا ہیں ۔۔۔
زارون کو زبان چڑھاتے ضارب کی طرف دیکھتی ایک مان سے بولی تھی ۔۔۔
جس پر اس نے مسکرا کر زرمینے کی طرف دیکھتے سر ہلایا ۔۔۔
جبکہ ضارب کو مسکراتے دیکھ زارون فورا آگے بڑھ کر اسکے سینے کا حصہ بنا تھا ۔۔۔
معاف کر دیں اب اپنے بھائی کو ۔۔۔غلطی ہو گئی مجھ سے جو آپکی بات پر دھیان نہیں دیا ۔۔۔جسکے نتیجے میں بھاری نقصان بھی اٹھا چکا ہوں ۔۔۔
ضارب جو اسے خود سے دور کرنے والا تھا ۔۔۔اسکی بات پر رک کر اسکے چہرے کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
پلیز ۔۔۔”
زارون نے نم آنکھوں کے ساتھ التجا کی ۔۔۔
اور بھلا ضارب شاہ جس نے ہمیشہ زارون شاہ کو بھائی کم اور اپنے بچے کی طرح پیار زیادہ دیا تھا ۔۔۔
اسے کیسے دھتکار دیتا ۔۔۔
اس نے فورا سے نفی میں سر ہلاتے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔۔۔
زارون شاہ کے لبوں پر حسین مسکراہٹ بکھری ۔۔۔
جہاں سب انکے پیار کو دیکھتے خوبصورتی سے مسکرائے تھے ۔۔۔وہی حیدر شاہ نے چمن کے پھولوں کو ہنستے مسکراتے دیکھ اپنے رب کا شکر ادا کیا اور انہیں ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھنے کی دعا کی تھی ۔۔
