Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 72)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 72)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
زارون کی دھمکی نے زر کے کانوں سے دھوئیں نکال دیئے تھے ۔۔۔۔
تبھی وہ بےبس سی خاموشی اختیار کر گئی ۔۔۔۔زارون کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلی ۔۔۔۔وہ کچھ اور شیر ہوا تھا ۔۔۔۔
تبھی تو کمر پر رکھے ہاتھ کو شریر پن سے حرکت دینے لگا ۔۔۔۔
اسکی کھردری انگلیوں کا لمس کمر پر رینگتے محسوس کر کے زر کی جان لبوں پر آئی تھی ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر روکنا چاہا ۔۔۔۔لیکن کامیاب نا ہو سکی ۔۔۔۔ابھی وہ لبوں سے اسے کچھ کہتی ۔۔۔۔
جب عظمی اور نجمہ بیگم کے ساتھ اماں سائیں سٹیج پر آئی تھیں ۔۔۔۔۔
مجبوری میں اسے خاموشی اختیار کرنی پڑی ۔۔۔۔جبکہ ان کو آتے دیکھ زارون بھی سیدھا ہوا تھا ۔۔۔۔
اماں سائیں نے قریب آتے سب سے پہلے ان دونوں پر پیسے وارے تھے ۔۔۔۔جنہیں ملازم کے حوالے کرنے کے بعد ،،،، باری باری دونوں کی پیشانی پر پیار کرتے صدا خوش رہنے کی دعا دی ۔۔۔۔
اور پھر دونوں کے چہرے پر ہلدی لگائی تھی ۔۔۔۔
ارے بیوٹیفل اولڈ لیڈی ۔۔۔۔آپکا پوتا تو پہلے سے ہی بہت ہینڈسم ہے ۔۔۔۔اسے ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
آپ یہ میرے حصے کا بھی اپنی پوتی کو لگائیں ۔۔۔۔کہیں ایسا نا ہو میرے سامنے اسکا رنگ روپ پھیکا پڑ جائے ۔۔۔۔۔
اماں سائیں کو مخاطب کرتے ایک نظر پہلو میں بیٹھی اپنی محبت کو دیکھتے شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔
ہمم یہ منہ اور مسور کی دال ۔۔۔۔لگتا شاید کبھی آئینہ نہیں دیکھا ۔۔۔۔ورنہ ایسی غلط فہمیوں میں مبتلا نا ہوتے ۔۔۔۔
زر نے استہزائیہ ہنستے طنز کے تیر چلائے ۔۔۔۔آخر وہ کیوں پیچھے رہتی ۔۔۔۔
الحمدللہ دیکھا ہے ۔۔۔۔ماشاءاللہ سے وہ بھی نظر اتارتا ہے ۔۔۔۔وہ کالر کھڑے کرتا فخر سے بولا ۔۔۔۔
ہننہہ جناب کی خوش فہمیاں خود اپنے منہ میاں مٹھو ۔۔۔۔
اس بات پر زر استہزائیہ بولی ۔۔۔۔
جسے سٹیج پر ان کے قریب آتی ابیہا اور تاشے نے بھی سنا ۔۔۔۔دونوں قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں ۔۔۔۔
دیکھیں اماں سائیں اپنی پوتی کی زبان ۔۔۔۔زرا لحاظ اسے شوہر کا یا اسکی عزت کا کیسے پٹر پٹر زبان چلا رہی ہے ۔۔۔۔
اب کہ اس نے منہ بناتے اماں سائیں سے شکایت لگائی تھی ۔۔۔۔
وہ جو انکی نوک جھونک سے محظوظ ہو رہی تھیں ۔۔۔۔زارون کی شکایت پر زر کو پیار سے سمجھانے لگیں ۔۔۔۔
بری بات ہے بیٹا شوہر کو ایسے نہیں بولتے ۔۔۔۔۔
اور شوہر چاہے جو مرضی کرے ۔۔۔۔اماں سائیں یہ کہاں کا انصاف ہے ۔۔۔۔
وہ بھی دوبدو بولی ۔۔۔۔
اب کے اماں سائیں نے زارون کو آنکھیں دکھائی ۔۔۔۔کیونکہ شروعات اس نے ہی کی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے شرارت سے ایک آنکھ دبائی تھی ۔۔۔۔۔
شریر “اماں سائیں نے مسکرا کر اسکے سر چپت لگائی ۔۔۔۔اور پھر پیچھے ہٹ گئیں ۔۔۔۔
اسکے بعد باری باری سب نے انہیں ہلدی لگائی تھی ۔۔۔۔
بڑوں کے فارغ ہونے کے بعد اب بچوں کی باری تھی ۔۔۔۔جب ابیہا اپنے دونوں ہاتھوں میں اچھے سے ہلدی بھر کے انکے قریب آئی ۔۔۔۔
جبکہ ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔
دور ایک کزن کے ساتھ کھڑے واسم نے اسکے حسین چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔جبکہ اسکی آنکھوں اور ہونٹوں پر شرارت رقصہ دیکھ کر اسکے لب بھی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس زارون کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی تھیں ۔۔۔۔
بیا پلیز یار یہ نہیں کرنا ۔۔۔۔
کیوں بھئی تم ہماری دلہن کو باتیں سناو اور ہم تم سے بدلہ نا لیں ۔۔۔۔یہ کہاں پر لکھا ہے ۔۔۔۔اتنا کہتے اس نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے چہرے کے قریب کیے ۔۔۔
جب اس نے واسم کو آواز دی تھی ۔۔۔۔
لالا یار اپنی بیوی سے بچائیں مجھے ۔۔۔جبکہ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ابیہا نے اپنے دونوں پر لگی ہلدی اسکے پورے چہرے پر مل دی تھی ۔۔۔۔
جو اسکی آنکھوں کے ساتھ ناک اور منہ کے اندر بھی چلی گئی تھی ۔۔۔۔
ابیہا سمیت وہاں موجود تمام جنگ جنریشن نے اسکی حالت پر قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔
اور پھر سب نے مل کر تقریبا اسے ہلدی میں نہلا دیا تھا۔۔۔۔جبکہ وہ بیچارہ نا نا کرتے ہی رہ گیا ۔۔۔۔لیکن اسکی ایک نا سنی گئی ۔۔۔۔
جہاں تک کہ واسم نے بھی اسکی التجاوں پر کان نہیں دھرے تھے ۔۔۔۔اگر اس نے اس سب میں حصہ نہیں لیا تھا تو کسی کو روکا بھی نہیں ۔۔۔۔
کیونکہ اسکے مطابق جیسے وہ سب کو تنگ کرتا تھا اب اسکا بھی حق بنتا تھا کہ اسکی درگت بنائی جائے ۔۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟؟
ابرش کے ساتھ لان میں داخل ہوتا ضارب زارون کی حالت دیکھ کر غصے بولا ۔۔۔۔۔
جس سے یکدم ہی وہاں سکوت چھا گیا تھا ۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
دیکھ لیں لالا ۔۔۔۔آپ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ان سب نے کیا حالت کی ہے آپکے بھائی کی ۔۔۔۔۔
زارون نے ضارب کو دیکھتے شکل کچھ اور معصوم بنائی تھی ۔۔۔۔۔
ہم کیا پوچھ رہیں ہیں ۔۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا تھا ؟؟؟؟ سب کو خاموش پاتے اس نے دوبارہ اپنا سوال دوہرایا ۔۔۔۔جبکہ لہجے میں پہلے سے زیادہ سختی در آئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس ساتھ کھڑی ابرش نے زارون کا چہرہ دیکھتے جو مکمل ہلدی سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔۔بمشکل خود قہقہہ لگانے سے روکا ۔۔۔۔
کچھ نہیں لالا ہم تو بس مذاق کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
ابیہا ضارب کے غصے کو دیکھتے تھوڑا قریب آتے منمنا کر بولی ۔۔۔۔۔
جس پر ضارب نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔۔۔
یہ کونسا طریقہ ہے مذاق کرنے کا ۔۔۔۔کیا حالت بنا دی ہے ۔۔۔۔آپ نے انکی ۔۔۔۔ضارب نے ابیہا کے ساتھ وہاں موجود باقی کزنز کو بھی جھاڑ پلائی تھی ۔۔۔۔
سب نے شرمندگی سے چہرہ جھکایا ۔۔۔۔جبکہ کسی کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ ضارب شاہ کے آگے زبان چلا سکے ۔۔۔۔
رسم کرنی ہے تو انسانوں کی طرح کرو ۔۔۔۔اب ہمیں کوئی بدتمیزی کرتے ہوئے نظر نا آئے ۔۔۔۔ان سب کو اچھے سے ڈانٹنے کے بعد خود وہ دادا سائیں کے طرف بڑھ گیا جو اشارے سے اسے اپنے پاس بلا رہے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے منظر سے ہٹتے ہی سب نے اپنی کب کی رکی ہوئی سانسیں بحال کی تھیں ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
ہلدی کی رسم مکمل ہونے کے بعد کھانے کا دور چلا تھا ۔۔۔۔اور اسکے بعد ان دونوں کی مہندی کی رسم ادا کی جانی تھی ۔۔۔۔
اس وقت سٹیج پر زرمینے کے ساتھ ابرش ، ابیہا ، سمیت تاشے بیٹھی کھانے کے لوازمات سے لطف اندوز ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
زارون ابھی ابھی اٹھ کر اندر اپنی حالت سدھارنے گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ انہیں سٹیج پر کھانا دینے کی ڈیوٹی خان کی لگائی گئی تھی ۔۔۔۔
جسے وہ مکمل نظریں جھکائے سر انجام دے رہا تھا ۔۔۔۔
خان لالا “
جب ابرش نے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
جی بی بی سائیں ۔۔۔۔” ادب سے بولا ۔۔۔۔۔
خان لالا آپ گول گپے تو لائے ہی نہیں ۔۔۔۔میں نے دادا سائیں سے خاص فرمائش کر کے آج کے مینیو میں رکھوائے تھے ۔۔۔۔۔
ایک نظر ٹیبل پر سجے لوازمات کو دیکھتے نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔۔
جی بی بی سائیں ۔۔۔۔۔مجھے سردار سائیں نے سختی سے منع کیا ہے کہ آپکو کوئی ایسی چیز کھانے کو نا دی جائے جس سے آپکی طبیعت خراب ہونے کا ڈر ہو ۔۔۔۔
وہ اب بھی نظر جھکا کر بولا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر ابرش نے منہ بنایا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن مجھے تو بس وہی کھانے ہیں ۔۔۔۔آپ مجھے لا کر دیں ۔۔۔۔ابرش ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔
لیکن بی بی وہ سردار سائیں ۔۔۔۔آپکو کچھ نہیں کہیں گے آپ لے کر آئیں ۔۔۔۔
جس پر وہ سر ہلا کر پلٹنے لگا ۔۔۔۔
خان لالا ہم سب کیلئے بھی لایئے گا ہم نے بھی کھانے ہیں ۔۔۔۔ابیہا خان کو مخاطب کرتی زر اور تاشے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
جس پر ان دونوں نے فورا سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
گول گپوں کا نام سنتے ہی ان سب کے منہ میں پانی آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
اب وہ بیچارہ کیا کہتا خاموشی سے سر ہلاتے پلٹ گیا ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ ویٹرز کے ساتھ ان سب کیلئے گول گپے لے کر حاضر تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے وہ ایسے خوش ہوئی تھیں ۔۔۔۔جیسے کوئی ہفت کلیم ہاتھ لگ گئی ہو ۔۔۔۔۔
اور باقی سب چھوڑ کر ان پر ٹوٹ پڑی تھیں ۔۔۔۔۔
چلو ابرش اور زرمینے کی تو حالت ہی ایسی تھی کہ ان دنوں میں ویسے ہی انکا ایسی چٹ پٹی چیزیں کھانے کا دل کرتا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن ابیہا بھی ان دونوں کے مقابلے پر کھا رہی تھی ۔۔۔۔جبکہ اسکے برعکس تاشے کی بس ہو چکی تھی کیونکہ اس سے زیادہ تیکھی چیزیں کھائی نہیں جاتی تھیں ۔۔۔۔جبکہ گول گپوں کا پانی بہت زیادہ سپائسی تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ ان سب کو حد سے زیادہ گول گپے کھاتے دیکھ کر خان کو اب پریشانی لاحق ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
جو کب سے اسے سب سے نظریں بچا کر دیکھتی تاشے محسوس کر چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جب سے شاہ حویلی آئی تھی ۔۔۔۔ناجانے کیوں لیکن اسے دیکھنے کی خواہش دل میں ابھر رہی تھی ۔۔۔۔۔
جس دن سے خان نے اسکی ہیلپ کی تھی ۔۔۔وہ کافی حد تک اس سے متاثر ہو چکی تھی ۔۔۔۔اوپر سے اس کا نظریں جھکا کر ہر لڑکی سے احترام سے بات کرنا اسکے دل کو بھا گیا تھا ۔۔۔۔
یہ محبت تھی یا نہیں لیکن ایک پسندیدگی کا جذبہ ضرور اسکے دل میں ابھر رہا تھا ۔۔۔جس سے وہ فلحال خود بھی انجان تھی ۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
دوسری طرف ضارب جو کزنز کے حلقے میں کھڑا ان سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔اسکی اچانک نظر سٹیج کی طرف اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
اور پھر جھکنا بھول گئی ۔۔۔۔
زر ابیہا کے ساتھ ابرش کو ندیدو کی طرح گول گپے کھاتے دیکھ وہ پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔
اور جلدی سے سب سے اکسیوز کرتا انکی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
قریب آ کر ایک نظر پریشان سے کھڑے خان کو دیکھا پھر ان لوگوں جو سب کچھ فراموش کیے گول گپے کھانے میں مصروف تھیں ۔۔۔۔
انہیں بچوں کی طرح جلدی جلدی کھاتے دیکھ کر چند پل کیلئے تو مہبوت ہوا ۔۔۔۔۔لیکن پھر ابرش اور انکی طبیعت کا خیال آتے ۔۔۔۔
ضارب نے پاس کھڑے خان کو غصے سے دیکھا ۔۔۔جو پریشانی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھا ۔۔۔۔اور پھر سٹیج کے اوپر چڑھتے ابرش کا منہ طرف جاتا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔
جبکہ ضارب جہاں دیکھ کر ابرش کا رنگ بدلہ تھا ۔۔۔۔
سائیں “
یہ کیا کھا رہی ہیں ۔۔۔۔آپ پتا بھی ہے یہ آپکی صحت کیلئے کتنی ان ہیلتھی فوڈ ہے ۔۔۔۔گول گپا اسکے ہاتھ سے لے کر پلیٹ میں واپس رکھتے غصے بولا ۔۔۔۔
ابرش نے منہ بناتے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اور زرمینے آپکی طبیعت تو پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔اوپر یہ سب کھا رہی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ لالا ۔۔۔۔
اس سے آگے اس سے بات نہیں بن پائی تھی ۔۔۔۔۔
لالا کیا بتاؤں کتنے مزے کہ گول گپے ہیں ۔۔۔۔میں تو کہتی ہوں آپ بھی ٹرائی کریں بڑا مزہ آئے گا ۔۔۔۔
ان دونوں کو چپ ہوتے دیکھ ابیہا بولی تھی ۔۔۔۔۔
یس بہت مزے کے ہیں ۔۔۔۔جنہیں کھانے کے بعد جلد گلا بھی خراب ہو جاتا ہے ۔۔۔۔
اس سے پہلے ضارب اسے کچھ کہتا جب پیچھے سے سٹیج پر آتے واسم نے طنز کیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے منہ بنایا ۔۔۔۔جبکہ ابرش نے پلیٹ میں بچے گول گپوں کو دیکھتے لبوں پر زبان پھیری تھی ۔۔۔۔
پلیز سائیں کھانے دے نا مجھے بہت دل کر رہا ہے ۔۔۔۔
ابرش نے معصوم شکل بناتے فرمائش کی تھی ۔۔۔۔۔ جس پر ضارب اسے آنکھیں دکھائی ۔۔۔۔۔
آپ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ کھا چکی ہیں ۔۔۔۔جبکہ یہ سب ہمارے ہونے والے بےبی کیلئے بالکل بھی اچھا نہیں ہے ۔۔۔۔
لیکن “
بس کہہ دیا نا چلیں ہمارے ساتھ ۔۔۔۔اسے غصے سے ڈانٹے ہوئے وہ اسکا ہاتھ تھام کر سٹیج سے نیچے اترا تھا ۔۔۔۔۔
جب اسکے جاتے ہی واسم ابیہا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔جس کے ہاتھ میں اب بھی پلیٹ پکڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
واسم نے آنکھوں سے ہی اسے رکھنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔۔جس پر اس نے نفی کی ۔۔۔۔۔
نہیں میرا دل کر رہا ۔۔۔۔سم ایک بار ٹرائی تو کریں پلیز ۔۔۔۔ایک گول گپا ہاتھ میں لیتے ہوئے وہ اسکی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔اور واسم کے نا نا کرنے کے باوجود اسکے منہ میں ڈالا تھا ۔۔۔۔
جس کے منہ میں جاتے ہی واسم نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں جبکہ ساتھ ہی زبردست قسم کا پھندا اسکے گلے میں لگا تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ کھانسنے لگا ۔۔۔۔۔
ابیہا کے تو اسے دیکھتے ہاتھ پیر ہی پھول گئے ۔۔۔ پریشان تو زر اور تاشے بھی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔وہ فورا پانی کا گلاس اٹھا کر اسکے لبوں سے لگا گئی ۔۔۔۔۔
جبکہ ان سب دوران وہ کافی قریب آ گئے تھے ۔۔۔۔ جسکا ان دونوں کو ہی احساس نہیں تھا ۔۔۔۔۔آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟؟ واسم کی پیٹھ رب کرتے پریشانی سے گویا ہوئی ۔۔۔۔
جس پر واسم نے اسے گھوری سے نوازا ۔۔۔۔کیسے کھا رہی تھی یہ تم پتا بھی ہے اس سے تمہاری صحت پر کتنے برے اثرات پڑ سکتے ہیں ۔۔۔۔
اسکے ڈانٹنے پر ابیہا نے منہ بنایا ۔۔۔۔جبکہ زر اور تاشے مسکرائی تھیں۔۔۔کیونکہ اسکے غصے میں بھی ابیہا کیلئے فکرمندی جھلک رہی تھی ۔۔۔۔۔
تاشے نے مہبوت نگاہوں سے واسم اور ضارب کو دیکھتے ابرش ابیہا کی قسمت پر رشک کیا تھا ۔۔۔۔۔
تبھی زارون بھی وہاں آیا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا لالا ؟؟؟؟
واسم کے سرخ چہرے کو دیکھتے سوال کیا ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں میری فکر چھوڑو اور اپنی بیوی کو دیکھو جو یہ الٹی سیدھی چیزیں کھا کر تمہاری فرسٹ نائٹ خراب کرنے کا پلین بنا رہی ہے ۔۔۔۔
ابیہا کا ہاتھ تھام کر لاپرواہی سے کہتے سٹیج سے نیچے اتر گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بےباکی پر سٹیج پر موجود زر اور تاشے کے ساتھ زارون خود بھی مکمل سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
میں آتی ہوں ۔۔۔۔
سٹپٹا کر کہتے ہوئے تاشے فورا وہاں سے بھاگی ۔۔۔۔۔
جسکے جاتے ہی زارون نے ٹیبل پر پڑے گول گپوں کو ایک نظر دیکھتے زرمینے کو لو دیتی نگاہوں سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
