Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 50)

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

ماضی

وہ ہاسپٹل کے کوریڈور میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ نظریں سامنے لیبر روم کے دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں جہاں اسکی زندگی ایک اور زندگی کو اس دنیا میں لانے والی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اسکی حالت کو دیکھتے ارمغان شاہ کو پریشانی کے ساتھ اب ہنسی بھی آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے مان ہر لڑکی کو اس تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے ایسے ہی تو نہیں اللہ تعالٰی نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ دی ۔۔۔۔

وہ سب تو ٹھیک ہے لالا ،،،،، لیکن مجھ سے انکی یہ تکلیف نہیں دیکھی جا رہی وہ بہت زیادہ رو رہی تھی ۔۔۔۔۔

اور میں کتنا بےبس ہوں ان کیلئے کچھ نہیں کر پا رہا ۔۔۔۔

اگر میرے بس میں ہوتا تو انکی تکلیف میں اپنے اوپر لے لیتا ۔۔۔۔۔

مان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ساری باتوں کو پس و پشت ڈالتے اندر چلا جاتا حجاب کے پاس ۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات کو سنتے ارمغان شاہ نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بدلے اس نے اپنے بڑے بھائی کو گھورا ۔۔۔۔

تو پہلے یہ کارنامہ انجام ہی نہیں دینا تھا ،،،،،، اپنی عادت کے برخلاف ہنستے ہوئے معنی خیزی سے جتا کر بولے ۔۔۔۔

غلطی ہو گئی مجھ سے “

وہ جو روانی میں کچھ بولنے جا رہا تھا اپنی بات کا احساس ہوتے ہی لب سختی سے بھینچ گیا جبکہ چہرے کے خدوخال میں تیزی سے سرخی دوڑ گئی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے ارمغان شاہ نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔

اب کی بار تو مان کے ساتھ روباب نے بھی اسے گھورا تھا ۔۔۔۔۔

ایسے کیا گھور رہی ہیں بیگم میں نے کچھ غلط بولا ہے کیا ،،،،، ایک آنکھ دبا کر شرارت سے گویا ہوئے ۔۔۔۔

کچھ شرم کر لیں ،،،،، انکے کندھے پر تھپڑ مارتے مسکراہٹ چھپا کر بولی ۔۔۔۔۔

آپ نے وہ محاورہ نہیں سنا

جس نے کی شرم اسکے پھوٹے کرم

اور اگر میں شرم میں ہی رہ جاتا تھا تو جنت آپکے قدموں کے نیچے کیسے آتی ۔۔۔۔۔

اسکے کان کے قریب جھکتے گھمبیرتا سے بولے ۔۔۔۔۔

جو خود بھی اس خوبصورت مراحل سے گزر رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ انکی بات پر وہ سرخ پڑتی جا کر اماں سائیں کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی تھی ،،،،، جو ہاتھ میں تسبیح لیے وظائف پڑھ رہی تھیں ۔۔۔۔

ارمغان شاہ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

تبھی ایک نرس سفید کمبل میں ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سرخ و سفید رنگ کا بچہ لے کر کمرے سے باہر آئی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے وہاں موجود تمام افراد اسکی طرف بڑھے ۔۔۔۔

مبارک ہو شاہ صاحب پوتا ہوا ہے ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ سے مخاطب ہوتے مسکرا کر بولی تھی ۔۔۔۔۔

جسے مسکرا کر اپنی گود میں لیتے انہوں نے جیب سے نوٹوں کی گڈیاں نکال کر وارتے ایک اسکی طرف بڑھائی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ باقی ملازموں کے ہاتھ میں دیتے مٹھائی لا کر پورے ہاسپٹل میں بانٹنے کا حکم دیا تھا ۔۔۔۔

میری بیوی “

مان کو اب بھی حجاب کی ہی فکر تھی ۔۔۔۔

جی وہ بالکل ٹھیک ہیں ابھی کچھ ہی دیر میں ہم انہیں دوسرے روم میں شفٹ کر دیں گے پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے سکھ کا سانس لیتے اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔

ارمغان شاہ نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا ۔۔۔۔

بہت بہت مبارک ہو یار تم بابا بن گئے ،،،،، آپکو بھی بہت مبارک ہو ۔۔۔۔

گہرا مسکراتے محبت سے بولا ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ نے بچے کی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے اسے یمان کی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔۔۔

اپنے وجود کے حصے کو گود میں لیتے ایک الگ سا احساس یمان شاہ کے رگ و جان میں دوڑ گیا تھا بےساختہ ہی اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ نے اسکے احساسات سمجھتے اسکی پیٹھ تھپتھپائی تھی ۔۔۔۔۔

مان نے ذرا سا جھکتے بچے کے پھولے ہوئے گال پر لب رکھے تھے ۔۔۔۔

جس پر اس نے منہ بھسورا شاید اسے اسکا یہ عمل پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔

مان نے یہ دیکھتے مسکرا کر دوسرے گال پر بھی پیار کیا تھا ،،،،،، جس سے بچے نے رونے کی تیاری پکڑتے نچلہ لب باہر نکالا تھا ۔۔۔۔۔

بابا سائیں یہ کتنا پیارا ہے ماشاءاللہ

وہ ہنستے ہوئے پیار سے بولا ،،،،، ماشاءاللہ بالکل ہمارے بیٹے پر گیا ہے ۔۔۔۔۔

آپ بھی چھوٹے ہوتے بالکل ایسے ہی تھے ،،،،، بس ایک چیز کا فرق ہے ۔۔۔۔

اور وہ کیا ؟؟؟؟

حیدر شاہ نے مسکراتے اسکے بلائی لب کے قریب چمکتے تل کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔

اللہ نظر بد سے بچائے اماں سائیں آگے بڑھ کر بچے کے چہرے پر پھونک مارتے محبت سے گویا ہوئیں ۔۔۔۔۔

آمین ،،،،، سب نے دل سے بولا ۔۔۔۔۔

اور اس کے بعد باری باری گود میں لیتے پیار کرنے لگے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

چھوٹے سے بچے کی رونے کی باریک سی آواز سنتے اس نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔

جو سیدھی مان کے وجیہہ چہرے پر پڑیں جو اسے ہوش میں آتے دیکھ کر اسکے قریب چلا آیا تھا ۔۔۔۔

مان “

دھیرے سے پکارا ۔۔۔۔

حکم جان مان ۔۔۔۔

اسکا ہاتھ لبوں سے لگاتے محبت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

میں نے بچے کے رونے کی آواز سنی ؟؟؟؟

مان کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ،،،،، ہمارا بیٹا رو رہا تھا ،،،،، شاید اسے بھی اپنے بابا کی طرح اپنی ماما کی یاد آ رہی تھی جو کہ ہوش میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔۔۔۔۔

ہمارا بیٹا “

نم آنکھوں کے ساتھ بولی ۔۔۔۔

جنہیں محبت سے چھوتے اس نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

کہاں ہے ؟؟؟؟؟

ادھر ہے ،،،،،، ارمغان شاہ کے ساتھ روباب اندر داخل ہوتے بولی تھی حیدر شاہ کے ہاتھ میں سفید کمبل میں چھوٹی سی جان کو دیکھتے اسکے لبوں پر حسین مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

مان نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا جو کہ اب اٹھنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔۔

حیدر شاہ نے آگے بڑھ کر اسکو پیار کرتے اسکا ننھا سا شہزادہ اسکی گود میں تھمایا تھا ۔۔۔۔۔

حجاب نے اسے تھوڑا اوپر اٹھاتے جھک کر پیشانی پر پیار کیا تھا جس سے وہ مسکرایا ۔۔۔۔۔

ارے یہ میرے پیار کرنے پر کیسے منہ بھسور رہا تھا اب دیکھو کیسے مسکرا رہا ہے ۔۔۔۔۔

جسے سن کر وہاں موجود سبھی افراد مسکرائے تھے ۔۔۔۔۔

مان یہ کتنا پیارا ہے ۔۔۔۔

وہ خوشی سے نم آواز میں بولی ۔۔۔۔۔

میرا بیٹا ہے نا بالکل اپنے باپ پر گیا ہے ۔۔۔۔

وہ گردن اکڑا کر شرارت سے بولا ۔۔۔۔۔

نہیں یہ میرا بیٹا ہے مجھ پر گیا ہے ۔۔۔۔ وہ گھورتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

نہیں تو تم بابا سائیں سے پوچھ لو ۔۔۔۔مجھ پر گیا ہے میں بھی بچپن میں بالکل ایسا ہی تھا ۔۔۔۔

جس پر حجاب نے رونے والی شکل بناتے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

حیدر شاہ نے انکو لڑتے دیکھ کر مسکرا کر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

دونوں پر گیا ہے ۔۔۔۔۔

انہوں نے مسکرا کر بات ختم کرنی چاہی ۔۔۔۔۔

لیکن “

مان نے کچھ کہنا چاہا جب حجاب کی گود میں موجود اس ننھی سی جان نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔

اور اسکی بالکل اپنی جیسی گہری سبز آنکھوں کو دیکھتے حجاب نے اسے زبان چڑھائی ۔۔۔۔۔

دیکھا مجھ پر گیا ہے ۔۔۔۔۔

مان نے ہتھیار ڈالتے سر جھکایا جس پر وہ مسکرائی ۔۔۔۔۔

سب کچھ مکمل تھا بس کمی تھی تو موسی شاہ جو آج بھی انکی خوشیوں میں شامل نہیں ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

اپنے بھائی کیلئے دروازے کی طرف بار بار اٹھتی حجاب کی نظر اسکی اداسی مان کے ساتھ وہاں موجود سبھی افراد سے چھپی ہوئی نہیں تھی ۔۔۔۔۔

لیکن اس معاملے میں وہ سب مجبور تھے ،،،،، کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ بچپن سے ہی ان سب سے الگ رہتے تھے ،،،،،، بہت اہم مواقع پر بھی برائے نام ہی شامل ہوتے ۔۔۔۔۔

اور حیدر شاہ ان پر سختی کر کے خود سے متنفر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے زیادہ ٹائم انکی زیادتی پر بھی خاموش رہ جاتے ۔۔۔۔۔

حجاب کی اداسی کو دیکھتے ہوئے مان نے کتنی بار انکا فون بھی ملایا ،،،،، بیل بھی جا رہی تھی لیکن شاید انہوں نے دیکھا نہیں یا پھر دیکھ کر بھی اٹھانا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال

تاشے تجھے کیا ضرورت تھی ان پاگلوں کی باتوں میں آ کر اتنی دیر وہاں رکنے کی ۔۔۔۔۔

اوپر سے گاڑی کو بھی آج ہی خراب ہونا تھا ۔۔۔۔۔ میں تو بہت لیٹ ہو گئی ۔۔۔۔

بھائی تو بہت غصہ کریں گے ۔۔۔۔۔

اللہ جی پلیز آج بچا لیجئے ،،،،، آئندہ میرے بڑوں کی بھی توبہ جو میں انکی باتوں میں آ گئی ۔۔۔۔۔

پلیزززز “

وہ خود سے بڑبڑاتی ہوئی تیز قدموں سے اپنے گھر کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

ویسے تو یہ لاہور کا پوش علاقہ تھا ،،،،،، یہاں کوئی ڈر خطرے کی بات نہیں تھی ۔۔۔۔۔

لیکن اس کے بھائی کو لڑکیوں کا اتنی دیر گھر سے باہر رہنا بالکل پسند نہیں تھا ،،،،، اور وہ اس پر عمل بھی کرتی تھی ،،،،، لیکن آج ایک فرینڈ کی برتھڈے تھی جسے منانے کیلئے اکیڈمی سے اسکی سہیلیاں زبردستی اسے اپنے ساتھ لے گئی تھی ۔۔۔۔

جہاں اسے جلدی جلدی کرتے بھی کافی زیادہ ٹائم لگ گیا ،،،،، اوپر سے راستے میں آتے ہوئے اسکی گاڑی بھی خراب ہو گئی ۔۔۔۔۔

شام کے چھ بجے ہر طرف اندھیرا چھاتے دیکھ کر اسے اپنے بھائی کے ہاتھوں اپنی شامت صاف دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ اپنے دھیان میں ہی جا رہی تھی ،،،،،، جب سٹریٹ کی نکر پر کھڑے دو آوارہ لڑکے اسے اکیلی دیکھ کر پیچھا کرنے لگے ۔۔۔۔۔

ویسے تو وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں تھی ،،،،، لیکن ایک تو اندھیرہ سیکنڈ سڑک بالکل سنسان دیکھ کر تھوڑا دل گھبرانے لگا تھا ۔۔۔۔۔اس نے اپنی رفتار کچھ اور تیز کر لی ۔۔۔۔

بےساختہ اسے اپنے بھائی کی باتیں یاد آنے لگی ،،،،، جو کہتا تھا کہ یہ دنیا حیوانوں سے بھری پڑی ہے ،،،،، جو ہر وقت اسی تاک میں رہتے ہیں کوئی معصوم لڑکی انکے ہاتھ لگے اور وہ اسے دبوچ لیں ۔۔۔۔۔

اور میری گڑیا بہت معصوم ہے ،،،،، جسے میں ہر سرد و گرم سے بچانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔

وہ اسے ہمیشہ وقت پر گھر آنے کی تلقین کرتا تھا ۔۔۔۔

اسے رفتار تیز کرتے دیکھ وہ بھی اپنے قدموں میں تیزی لے آئے تھے ۔۔۔۔

جسے محسوس کر کے اس نے اب دوڑنا شروع کر دیا تھا ،،،،، اور جلد بازی میں موڑ مڑتے وہ سامنے سےآتی گاڑیوں کو دیکھ نہیں سکی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن اس سے پہلے کہ وہ گاڑی سے ٹکراتی ڈرائیور نے یکدم بریک لگائی تھی ۔۔۔۔

فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر خان فورا باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔

اور وہ جس طرح بھاگ کر آ رہی تھی کافی حد معاملہ بھی سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کر پیچھے آتے لڑکوں کی طرف دیکھا جو اتنے بڑے لوگوں کی گاڑیاں دیکھتے ہی واپسی کیلئے دوڑ لگا چکے تھے ۔۔۔۔

آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟؟

اسکے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھتے نرمی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

زرتاشے نے اپنی آنسوؤں سے بھری بڑی بڑی آنکھیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جس کے چہرے سے فکرمندی ظاہر ہو رہی تھی ۔۔۔۔

یہ آنکھیں ” خان کا دل ایک بار زوروں سے دھڑکا ۔۔۔۔

پھر ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔

جبکہ ایک لڑکی کا معاملہ دیکھ کر ضارب دروازہ کھول کر باہر آ گیا تھا ،،،،،، جس کے اترتے ہی گارڈز نے چاروں طرف گھیرا بنایا تھا اور خان بھی ہاتھ باندھ کر پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔۔

آپ یہاں اس وقت اکیلی کیا کر رہی تھی ؟؟؟؟؟

معاملہ وہ کافی حد تک سمجھ چکا تھا اس لیے نرمی سے بولا ۔۔۔۔۔

وہ ،،،،، وہ میں ،،،،، اتنے سارے گارڈز کو گن سمیت کھڑے دیکھ کر اسکے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔

ہمیں اپنا بڑا بھائی ہی سمجھیں ،،،،، اسکی گھبراہٹ کو دیکھتے مسکرا کر بولا تھا ۔۔۔۔۔

جس سے اسے کچھ حوصلہ ہوا ۔۔۔۔۔

وہ میں اپنے گھر جا رہی تھی کہ راستے میں میری گاڑی خراب ہو گئی ،،،،، گھر زیادہ دور نہیں تھا اس لیے میں نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ لیکن راستے میں یہ غنڈے پیچھے لگ گئے ۔۔۔۔

آخری بات کرتے اسکی آواز بھرا گئی تھی ۔۔۔۔

تو گڑیا آپکو گھر سے کسی کو فون کر کے بلا لینا چاہیے تھا ،،،،، ایسے اس وقت اکیلے باہر نکلنا کسی بھی لڑکی کیلئے سیو نہیں ہے ،،،، اسکی بات پر وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔

بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔۔۔۔۔ آئندہ اس بات کا خیال رکھیے گا ۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔۔

آپکا گھر کدھر ہے آئیں ہم آپکو چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔۔

اس کی بات پر زرتاشے نے حیرت سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ،،،،، بیشک وہ اس سے انجان بالکل نہیں تھی بلکہ کون نہیں جانتا تھا ضارب شاہ کو ،،،،، اتنے بڑے اور مشہور سیاست دان اتنا نرم لہجہ اسکا حیران ہونا تو بنتا تھا ۔۔۔۔

نہیں زیادہ دور نہیں ہے میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔

لیکن “

وہ آپ سب کو دیکھ کر میرے بھائی پریشان ہو جائیں گے ۔۔۔۔

ضارب کچھ کہتا اس سے پہلے اس نے اپنی اصل مجبوری بتائی تھی ۔۔۔۔

جسے سمجھ کر اس نے سر ہلایا ،،،،، ٹھیک ہے لیکن ہم آپکو اکیلے بھی نہیں جانے دے سکتے یہ ہمارے خاص آدمی ہیں ،،،،،، خان کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔

آپکو باحفاظت گھر تک چھوڑ کر آئیں گے ،،،،، لیکن ” بس آگے ہم ایک لفظ نہیں سنے گے ۔۔۔۔۔

ہم پر بھروسہ کریں آپکو کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔۔

جس پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی سر ہلا گئی ۔۔۔۔

سر “

ضارب اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے گاڑی میں بیٹھنے لگا جب اس نے پکارا ۔۔۔۔

میری فرینڈز ٹھیک کہتی تھیں آپ سچ میں بہت اچھے ہیں تھینک یو سو مچ ۔۔۔۔

وہ مسکرا کر نہایت معصومیت سے بولی ۔۔۔۔

ضارب کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔۔۔

شکریہ کی ضرورت نہیں یہ تو ہمارا فرض تھا ،،،،، ویسے بھی بہنیں بھائیوں کو شکریہ ادا نہیں کرتی ۔۔۔۔۔

جس پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔

سر آپکا آٹو گراف مل سکتا ہے ،،،،، میری فرینڈز بہت خوش ہوگی جب میں انہیں دکھاو گی ۔۔۔۔۔وہ سب آپکی بہت بڑی فین ہیں ۔۔۔۔۔

ایک شرط پر “

زرتاشے نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔

آپ ہمیں سر نہیں بلکہ لالا کہہ کر بلائیں گی ۔۔۔۔۔

جی لالا ۔۔۔۔۔

مسکرا کر بولی ۔۔۔۔۔

اب تاشے کے پاس تو کوئی چیز نہیں تھی جس پر ضارب آٹو گراف دیتا تو خان نے اپنی جیب سے رومال نکال کر دیا اور ساتھ میں پین بھی ۔۔۔۔

جس پر اپنا نام لکھ کر ضارب نے اسکی طرف بڑھایا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتے گاڑی میں براجمان ہو گیا ۔۔۔۔۔

تاشے نے خوش ہو کر وہ رومال سینے سے لگایا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ ضارب کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی تھی جسے وہ مسکراتی نظروں سے دور جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جب خان نے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔

چلیں محترمہ میں آپکو گھر تک ڈراپ کر دوں ۔۔۔۔

جس پر وہ ہوش میں آئی اور سر ہلاتے ہوئے ایک طرف چل پڑی ،،،،، جبکہ پیچھے پیچھے سر جھکا کر اسکے قدموں پر اپنے قدم رکھتا خان چل رہا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرش لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی پر کارٹون مووی دیکھ رہی تھی جب تھکا ہارا سا ضارب اندر داخل ہوا ۔۔۔۔

اور اسے ٹی وی میں مگن دیکھ کر بلند آواز میں سلام کیا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام “

آپ کب آئے حیرت سے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔۔

تبھی جب ہماری چھوٹی سی بیگم کارٹون دیکھنے میں مگن تھیں ۔۔۔۔۔

اسکے قریب ہی براجمان ہوتے اسکی پیشانی پر پیار کرتا مسکرا کر بولا ۔۔۔۔۔

بس بور ہو رہی تھی تو سوچا مووی دیکھ لوں ۔۔۔۔

اسکی بات پر وہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔۔۔

چلیں اب ہم آ گئے ہیں تو آپکو بور نہیں ہونے دینے گے ،،،،، اسے اپنے حصار لیتا معنی خیز لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔

جبکہ یوں کھلے عام اسکے محبت کے مظاہروں پر وہ کسمسائی تھی ۔۔۔۔۔

سائیں کیا کر رہیں ہیں ہم اپنے کمرے میں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔

تو پھر “

یہ پورا گھر ہمارا ہے ہم جہاں چاہیں اپنی بیوی سے پیار کر سکتے ہیں ،،،،، کسی کو کوئی اعتراض “

وہ آئی برو اچکا کر بولا ۔۔۔۔۔

لیکن ایسے اچھا بھی تو نہیں لگتا وہ اسکے حصار سے نکل کر اٹھنے لگی جب ضارب نے کھینچ کر اسے اپنی گود میں بٹھایا ۔۔۔۔۔

سائیں گھر میں ملازم “

اس سے پہلے وہ مکمل کرتی ضارب اسکی بولتی بند کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

ہمیں فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسکی سانسوں کو آزادی دیتے مسکرا کر بولا ۔۔۔۔۔

ابرش نے شرم سے سرخ پڑتے اسے گھورا اور پھر آس پاس دیکھنے لگی یہ تو شکر تھا کہ کوئی ملازم فلحال وہاں موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ معصوم نہیں جانتی تھی کہ اسکا شوہر سب ملازموں کو پہلے ہی اشارے سے وہاں سے روانہ کر چکا تھا ،،،،، تاکہ اسکی پرائیویسی ڈسٹرب نا ہو ۔۔۔۔۔

ہو گئی تسلی کوئی نہیں ہے ،،،،، اب چلیں جیسے ہم نے آپ کو پیار کیا ہے ویسے آپ بھی کریں ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی ڈیمانڈ پر ابرش کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں ۔۔۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہیں سائیں “

فلحال نہیں ہے لیکن کوئی آ بھی سکتا ہے ۔۔۔۔۔

ابرش “

اب کہ ضارب غصے سے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ کچھ سہمی ۔۔۔۔۔

پھر ایک نظر آس پاس دیکھنے کے بعد اسکی مرضی کا فعل انجام دینے لگی ۔۔۔۔۔

اسکے محتاط انداز کو دیکھتے ضارب کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔۔۔

کوئی نہیں آئے گا ریلکس رہیں ۔۔۔۔۔

اسکی ناک کے ساتھ ناک جوڑتے اسکی سانسوں کو ان ہیل کرتا گھمبیرتا سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

آپ ،،،،، اتنی جلدی کیسے آ گئے ؟؟؟؟؟

کیوں آپکو ہمارا آنا اچھا نہیں لگا ؟؟؟؟؟

سوال کے بدلے سوال ۔۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں ہے بس ایسے ہی ،،،،،، اسکی سرخ خمار بھری نظروں کو دیکھتی منمنائی ۔۔۔۔۔

کچھ نہیں کام جلدی ختم ہو گیا اور کچھ طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی تو بس اسی لیے چلے آئے ۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے آپکو ؟؟؟؟؟

اسکی طبیعت خرابی کا سنتی اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھتے پریشانی سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

ریلکس ،،،،، کچھ نہیں ہوا بس ہلکا سا سر میں درد ہو رہا تھا ،،،،، اب ہم بالکل ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔

اسے پریشان ہوتے دیکھ کر نرمی سے بولا ۔۔۔۔۔

آپکو اپنا دھیان رکھنا چاہیے نا ،،،،، ایسے بنا آرام کیے ہر وقت کام کریں گے تو سر درد ہوگا ہی نا ،،،،، اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے نم لہجےمیں گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

چلیں اٹھیں کمرے میں چل کر آرام کریں ۔۔۔۔۔

وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے لگی جب ضارب نے اسے دوبارہ کھینچ کر اپنی گود میں بٹھایا تھا ۔۔۔۔۔۔

ہمارا دل نہیں چاہ رہا بس آپ ہمارے پاس بیٹھ جائیںے ،،،،، اچھا میں ابھی آپ کیلئے اچھی سی کافی بنا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔۔

جو میں نے واسم لالا کیلئے بنانا سیکھی ہے ۔۔۔۔۔اس سے آپکا سر درد بھی ٹھیک ہو جائے گا اور پھر ہم ساتھ میں ڈھیر ساری باتیں بھی کریں گے ۔۔۔۔۔

اسکی معصومیت کو دیکھتے ضارب نے نا چاہتے ہوئے بھی ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

اور وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے وہ نفی میں سر ہلاتا ٹی وی کی طرف متوجہ جس پر کوئی کارٹون مووی چل رہی تھی ۔۔۔۔۔

باربی “

پھر ریموٹ اٹھا کر چینل چینج کیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناظرین آپکو بتاتے چلیں کہ پاکستان کے مشہور بزنس ٹائکون واسم شاہ نے کی ایک معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی ۔۔۔۔۔

اور اپنی حوس پوری کرنے کے بعد پھر اسے مو*ت کے گھاٹ اتار دیا ۔۔۔۔

ہمیں ہمارے ذرائع سے پتا چلا ہے ،،،،، جہاں اس لڑکی کی تشدد زدہ لا*ش پائی گئی ہے وہ واسم شاہ کے پی اے کا گھر ہے ۔۔۔۔۔

جہاں اسے پچھلے کئی دنوں سے یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔

اور سننے میں یہ بھی آیا ہے ،،،،، کہ یہ لڑکی واسم شاہ سے محبت کرتی تھی ،،،، جسے شادی کا جھانسا دے کر انہوں نے اپنے جال میں پھسنایا تھا ۔۔۔۔

ساتھ ہی سکرین پر واسم اور معروف کی ہاسپٹل والی ویڈیو چلائی گئی تھی ۔۔۔۔۔

ان کے رشتے کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

رپورٹر ابھی اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی ،،،،، جب ضارب شاہ نے یہ سب سنتے پاس رکھا کرسٹل کا واز اٹھا کر ایل وی ڈی پر دے مارا ۔۔۔۔۔

اور وہ ایک زور دار دھماکے کے ساتھ بند ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ جس کی آواز سن کر کچن سے ضارب کیلئے کافی لے کر آتی ابرش ڈر کر چیخی اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی ٹرے زمین بوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

کافی کا مگ زمین پر گرتے کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔۔۔۔۔ جبکہ گرم کافی کہ چھینٹے اس کے پاؤں پر گر کر اسے جھلسا گئے ۔۔۔۔۔

جس پر وہ سسکی ۔۔۔

ضارب شاہ نے پلٹ کر اپنی لہو رنگ ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا ،،،،، پھر نظر انداز کرتے خان سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔۔

جو زرتاشے کو اسکے گھر چھوڑ کر ابھی ابھی ہی شاہ مینشن میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔

اور دھماکے کی آواز سنتے ہی دوڑ کر اسکے پاس آتا صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

واسم شاہ کو فون لگاووو ۔۔۔۔۔

جس پر فورا عمل کرتے اس نے کال ملائی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ ضارب کو اتنے غصے میں اپنے بھائی کا نام لیتے دیکھ کر ابرش کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *